Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 32

مغرور محبت 32
رائٹر ۔۔۔۔۔انابیہ شاہ
Episode no 32

یار مدثر میں کیا پہنوں کرتا پجامہ یہ پھر تھیری پیس اس نے قدرے جھنجلا کر کہاں ابے یار برات

تھوڑی ھے جو تو کرتا پچامہ پہنے گا کوٹ پینٹ پہن ولیمہ ھے اس نے اس کی پریشانی کو حل

کرتے ہوئے کہاں یار لیکن چل تو بھی ٹھیک بول رہا ھے کرتا پجامہ رہنے دیتا ہوں ویسے زوئی

بھی یہی بول رہی تھی ھے کہاں وہ دیکھ نہیں رہی ھے مدثر نے زینے کی۔ طرف دیکھتے ہوئے

کہاں وہ دونوں لاونج میں بیٹھے ہوئے تھے اوئے ایک بات بتا ایان نے تفتیش زدہ انداز میں کہاں

ہاں بول تو زوئی کو پسند تو نہیں کرتا اور اگر کرتا بھی ھے تو نکال دے اپنے دل اور دماغ دونوں

سے میں بتارہا ہوں میری میمو جان کی بیٹی ھے تجھے اتنا مارو گا تیری سوچ ھے تیرے الگ

الگ پیس کرکے کتے کو کھلادو گا سمجھا اس نے فل دھمکانے والے انداز میں کہاں مدثر کا منہ

کھلا اس کو کیا ہوا اچانک ویسے اگر تو اس کے بارے میں سوچتا بھی ھے تو برا نہیں ھے تو

سوچا جاسکتا ھے تیرے بارے میں بھی بس تیرے دو دانت باہر نکالنے پڑے گے میں نے اس کو بددعا

دی ھے کہ جس سے بھی اس کی شادی ہوگی اس لڑکے کے سامنے والے دو دانت باہر ہوگے اور ہم

جو بھی لڑکا دیکھے گے اس کے دانت میں سرجری کے ذریعے باہر نکلواو گا یہ میرا میشن ھے

تو کیا تو راضی ھے میرے دوست اس کے ساتھ شادی کرنے کے لئے ابے ابے بریک مار کہاں گھسا

چلا جارہا ھے بھائی میری ماں میری شادی خاندان سے باہر کبھی نہیں کرے گی اس لئے

میرے دانت کو چھوڑ کوئی اور دیکھ جو زوئی کے لئے صحیح رہے اور ویسے ایان کا چہرے پکڑ

کر ادھر ادھر کرتے ہوئے بولا زوئی کے لئے تو بھی برا نہیں ھے ابے وہ چشمش اور میں پاگل ہوگیا

ھے کیا ہاں تو اور وہ چشمش مدثر نے سنجیدگی سے کہاں ابے کیا پاگل ہوگیا ھے میں اور زوئی

نہیں یار ہم دونوں تو کتے بلیوں کی طرح لڑتے ھے ایان نے اس کی بات کی نفی کی ایان مجھے

پتہ نہیں کیوں ایسا فیل ہوتا ھے زویا تجھے پسند کرتی ھے لیکن تجھے بولتی نہیں ھے مدثر ابھی

بھی سنجیدہ تھا ایان نے اس کے چہرے کی طرف دیکھا جہاں بلکل صرف سنجیدگی کے الاوہ کچھ

نہیں تھا کیا پاگل ہوگیا ھے ایسا ہو ہی نہیں سکتا زویا ہانم کے ساتھ نیچے آرہی تھی ہانم اپنی

چادر لینے روم میں واپس گئی تو زویا زینے پر ہی روک کر اس کا انتظار کرنے لگی اور یار ایک

بات بولو مدثر میں اس کے لئے نہیں ہوں یار اس کے لئے تو کوئی قابل ہی ہوگا تو نے دیکھا نہیں

ہماری زوئی کو کتنی قابل ھے وہ زویا کو اپنے کانوں پر یقین نہیں ہوا کہ یہ ایان بول رہا ھے تو

وہ دو اسٹیپ مزید نیچے ہوئی سب لڑائی ایک طرف لیکن میری زوئی کے لئے تو کوئی بہت قابل

انسان ہوگا جس کو وہ ڈیسرو کرتی ھے مجھے نہیں میں تو ہر سمیسٹر میں دھکا پاس ہوتا ہوں

اور تو نے دیکھا ھے زویا کو ٹوپ کرتی ھے ہمیشہ اتنی قابل ھے وہ زویا کے چہرے پر ایک جاندار

مسکراہٹ تھی میرا انتخاب غلط نہیں ھے زویا نے دل میں اطراف کیا تو اتنا زیادہ سوچتا ھے اس

کے بارے میں مدثر نے متاثر ہوکر بولا ابے نہیں یار وہ میمو جان کی بیٹی ھے میری بچپن کی کرائم

پاٹنر میری بیسٹ فرینڈ اس کے لئے اتنا تو سوچ سکتا ہوں ویسے ایان ایک بات بولو ہاں بول تو

جب اس کو کسی لڑکی کے ساتھ برداشت نہیں کرتا تو اس کی شادی کسی اور سے ہوتے دیکھ

سکتا ھے زویا کے دل نے ایک ہارٹ بیٹ مس کی تھی اور کان اس کے جواب کے منتظر تھے ایان نے

مدثر کی طرف دیکھا اور ہنستے ہوئے نفی میں سر ہلایا پتہ نہیں یہ کیسا جواب ہوا مدثر نے مکہ

جڑتے ہوئے کہاں ابے اوئے مار نہیں چھوڑوں گا نہیں اور یہ زوئی چوئی کہاں رہ گئی ھے بھابھی

اس نے نیچے کھڑے ہوکر آواز لگائی تو زویا جس کا ہاتھ دل کے مقام پر تھا بے ساختہ نیچے ہوئے

اس وقت تک ہانم بھی آگئی تھی ہانم کے ساتھ نیچے آئی کہاں رہ گئے تھے آپ لوگ وہ بس بھائی

میں چادر لینے گئی تھی ہائے زویا کیسی ہوں مدثر نے خوشدلی سے پوچھا میں ٹھیک ھوں تم

کیسے ہوں میں بھی اللہ کا شکر اور بھابھی آپ کیسی ھے میں بھی مدثر بھائی بلکل۔ٹھیک ہوں

اس نے بھی اتنے ہی پرجوش طریقہ سے جواب دیا زوئی یار یہ بتا میمو جان کہاں ھے دیکھ

نہیں رہی ھے ایان نے ادھر ادھر نگاہ گھماتے ہوئے کہاں پتہ ھے ایان کیا کرا انہوں نے زویا نے کمر پر

ہاتھ رکھ کر کہاں کیا ایان نے حیرت سے اس کے تاثر دیکھ کر پوچھا انہوں نے پتہ نہیں کونسے

پارلر میں اپنی بکنگ کروائی ھے اور مجھے تو کانوں کان بھنک تک نہیں پڑنے دی اس کے خفگی

سے کہنے پر سب نے قہقہہ لگایا اب ہنسوں مت ہمیں چھوڑ کر آؤ یار داؤد بھائی بول رہے تھے وہ

جائے گے میں اور یہ تو بھابھی کو خدا حافظ کے لئے روکے تھے ہمیں تو ہال جانا ھے وہاں کی

ڈیکوریشن دیکھنے کے لئے روک ایک سیکنڈ میں آواز دیتا ہوں ان کو وہ آواز دیتا اس سے پہلے

جلدی جلدی زینے سے اترتا ہوا وہ نیچے ایا سوری گائیز تھوڑا لیٹ ہوگیا آسلام علیکم بھائی ہانم نے

مسکراتے ہوئے سلام کیا وعلیکم السلام بھابھی چلے پھر پارلر اس نے بھی مسکرا کر سلام کا

جواب دیا اور نکلنے کا کہاں جی چلے ہم تو کب سے ریڈی ھے ہانم نے کہاں تو سب کی اتنی

ایکسائیٹمنٹ پر قہقہہ لگاکر ہنسے بھابھی ایک بات بتائے داؤد نے ہنستے ہوئے کہاں آپ کیا پہلی

بار پارلر سے تیار ہورہی ھے جی بھائی مما نے کبھی ہونے نہیں دیا ہمیشہ بولتی تھی ہانم آپنی

شادی پر تیار ہونا ابھی تیار نہیں ہوتے پھر روپ نہیں آتا اور آج تو میں آئی برو بھی بنواو گی اس

بغیر سامنے والے کی بات کا مطلب سمجھتے ہوئے معصومیت سے کہاں اس کا

چہرہ خوشی کے مارے دمک رہا تھا صاف اور شفاف چہرے پر آج ایک الگ ہی گلو تھا ایان بھی

مسکراتے ہوئے اس کی ہی طرف دیکھ رہا تھا اور دل میں دعا کررہا تھا اللہ ان کو ہمیشہ ایسا ہی۔

معصوم اور خوش رکھے داؤد نے ہنستے ہوئے اس کے سر پر ہاتھ رکھا اللہ پاک آپکی ایسے ہی ساری

خوشیوں کو برقرار رکھے اور آپ ہمیشہ ایسے ہی ہنستی مسکراتی رہے اور آپ کا سایہ ہمارے سروں

پر بھی ہمیشہ سلامت رہیے ہانم کے ایک بڑے بھائی کی طرح اس کے سر پر رکھ کر اس کو دعا

دی تو اس کی چہرے پر مزید مسکراہٹ پھیلی سب نے مسکراتے ہوئے ایک زبان ہوکر کہاں امین

اب چلے داؤد نے بولا تو زویا آگے بڑھی ہانم بھی آگے بڑھتی اس سے پہلے داود بولا بھابھی چادر

اوڑھ لے اس نے ہچکچاتے ہوئے کہاں تو ہانم نے اپنے ہاتھ میں چادر دیکھ کر پہلے ماتھے پر ہاتھ

مارا یہ تو میں بھول گئی اس نے پہلا کر خود کو کور کیا اور داؤد کے ہمراہ پارلر کے لئے نکلے مدثر

اور ایان بھی ہال کی طرف گئے جہاں انہوں نے ڈیکوریشن والوں کو دیکھنا تھا ۔۔۔

°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°
زرنش اپنے ناخن پر بیٹھ کر نیل پالش لگارہی تھی گیٹ نوک ہوا تو غصہ سے چیخی کس کو

موت پڑگئ ھے کون ھے اس نے ناخنوں پر پھونک
مارتے ہوئے کہاں بی بی جی کوئی آپ سے ملنے ایا

ھے کون ھے اس نے جھنجلا کر کہاں وہ اس وقت نائٹ ڈریس میں ہی تھی رات کو فنکشن تھا اس

لئے ابھی سے تیاریاں کررہی تھی جی کوئی لڑکا ھے بول رہا ھے آپ نے ہی بولایا ھے اس نے تھوڑا

زہین پر زور ڈالا اور کچھ یاد آتے ہی کرسی سے اٹھی اچھا اس کو ڈرائنگ روم میں بٹھاؤ میں

آرہی ہوں خود کو شیشہ میں دیکھا اور باہر نکلنے لگی زین کے کچھ جملے اس کے کان میں گونجے

اچھی لڑکیاں اپنے جسم کی نمائش نہیں کرتی اس نے اپنے سیلولیس بازو پر ہاتھ پھیرہ اور

چئیر پر سے اپر اٹھا کر پہنا اور باہر کی طرف بڑھی وہ ڈرائنگ روم میں داخل ہوئی تو ایک

خوش شکل لڑکا بیٹھا ہوا تھا اس کو دیکھ کر سرعت سے کھڑا ہوا اور اس کے قریب ایا ہائے

سوئیٹ ہارٹ کیسی ہوں اس نے بول کر ہاتھ بڑھایا تو زرنش نے اپنا ملائم ہاتھ اس کے ہاتھ

میں دے دیا جس کو تھام کر اس نے اس کی پشت پر اپنے لب رکھے زرنش نے ناگواریت سے اپنا

ہاتھ اس کے ہاتھ سے کھینچا اپنی حد میں رہوں زیشان احمد آرے کیا ہوگیا ھے زرنش میں تو بس

اچھا اچھا بس بیٹھو اس نے بےزاری سے بول کر اس کو بیٹھنے کا کہاں اوکے وہ ہنس کر صوفے پر

بیٹھا دیکھو تم نے مجھے یونی کے ٹائم پرپوز کیا
تھا لیکن وہ ابھی اپنا فقرہ مکمل کرتی اس نے

اس کا فقرہ مکمل کیا لیکن تم نے مجھے منع کردیا تھا کیونکہ تم غازیان درانی میں انٹر سٹیٹ

تھی اور مجھے پوری یونی کے سامنے انکار کردیا تھا اور جب اس نے کسی اور سے شادی کرلی ھے

تو تمھیں میں یاد آگیا ایسکوزمی کیا مطلب ھے تمھاری بات کا آرے آرے کچھ نہیں وہ ایک دم

ہنسا میں تو بس مزاق کررہا تھا ویسے یہ بتاؤ تم نے مجھے کیوں بولایا ھے میں تم سے کوئی

تیسری بات نہیں کرو گی تم سے سیدھا سیدھا پوچھوں گی کیا تم مجھے میں۔اب بھی

انٹرسٹیٹ ہوں شادی کرو گی مجھ سے اس سنڈے کو اس نے بینا بات گھمائے مدعے کی بات

کی تو وہ سب کچھ ایکسیپٹ کرسکتا تھا لیکن یہ نہیں کیا مطلب تمھاری بات کا شادی وہ بھی

اتنی جلدی ہاں شادی بتاؤ کرو گے یہ پھر وہی یونی تک تھی تمھاری محبت اس ٹائم تو بڑے

دعوے کرے تھے نہیں وہ ہچکچا کر بولا تو کیا مطلب انکار کررہے ہوں نہیں میں بول رہا ہوں وہ

ایک دم گڑبڑا یا اور بات کی تصیح کی مجھے منظور ھے آٹھ کر اس کے قدموں کے قریب بیٹھ

کر اس کے ہاتھ تھامے تم اگر راضی ہوں تو مجھے کوئی اطراز نہیں ھے میں نے تو پہلے بھی کہاں

تھا لیکن تم ہی راضی نہیں تھی میری محبت ابھی اتنی ہی تمھارے لئے ھے میں ابھی بھی تم

سے اتنی ہی محبت کرتا ہوں دیکھوں تمھارے ایک دفعہ بولانے پر آگیا وہ بول کر اس کے ہاتھ پر

جھکتا اس سے پہلے اس نے اپنے ہاتھ کھینچے دیکھو یہ سب ابھی نہیں اور رات کو غازیان کا

ولیمہ ھے تم میرے ساتھ میرے منگیتر کی حیثیت سے جاؤ گے بولو منظور ھے ہاں مجھے

منظور ھے اس نے ہنستے ہوئے کہاں تو ٹھیک ٹائم سے پہنچ جانا اور تیار ہوکر آنا اچھا سا اوکے

زرنش میں تمھیں بتا نہیں سکتا میں کتنا خوش ہوں مجھے میری محبت مل رہی ھے آئی ایم

ویری لکی اس نے مخمور لب ولہجہ میں کہاں تو زرنش نے بے زاریت سے اس کو دیکھا اور کھڑی

ہوئی چائے پی کر جانا مجھے زرہ چینج کرنا ھے
بول کر وہ اپنے روم کی طرف چلی گئی اور

پیچھے سے وہ خود سے ہی گھٹنوں کے بل بیٹھے بیٹھے بڑبڑایا بہت مزہ آنے والا ھے شادی میں خود سے ہی بول کر پراسرار سا مسکرایا ۔۔

°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°
داؤد ہانم والوں کو چھوڑ کر گھر کی طرف ایا اور گاڑی میں۔ ہی بیٹھے بیٹھے روحہ کو کال

لگائی وہ جو ہسپتال سے نکل کر ریسٹورنٹ جارہی تھی کہ داؤد تو تھا نہیں تو اس کی چھٹی

اس کا فون آتا دیکھ بائیک اسٹارٹ کرتے ہوئے روکی اور اس کا فون پک کیا اسلام علیکم مس

روحہ کیسی ھے آپ وعلیکم السلام اپن ٹھیک تو بتا کہاں ھے تو آیا نہیں آج اور کل بھی جلدی چلا

گیا تھا ایمرجنسی کا بول کر سب خیریت ھے اس نے بائیک سے اتر کر کہاں جی جی سب

خیریت ھے وہ میرے بڑے بھائی کا ولیمہ ھے اس کی تیاریوں میں بیزی ہوں آپ کو انوائیٹ کرنا

ھے اگر آپ آجاتی تو مجھے اچھا لگتا میرے کو کائے کو دعوت دے رہا ھے اس نے حیرت سے

پوچھا نہیں مطلب ڈاکٹر احسن ڈاکٹر ماہین اور آپ کو بلایا ھے میرے جو اسٹاف ھے اس لئے آپ

کے بھی انوائیٹ کیا اس نے سمجھتے ہوئے سر ہلایا دیکھ اپن آجاتی لیکن میں باپو کے ہوٹل

جارہی ھے وہاں دیکھے گی کیا چل رہا ھے اور یار ماتاری سے بھی زرہ کل بدمزگی ہوگی ھے اپن

نہیں اپائے گی برا نہیں مانیوں لیکن اپن کی طرف سے اپنے بھائی اور بھابھی کو مبارکباد

دےدیو آپ آتی تو مجھے اچھا لگتا داؤد نے بوجھے ہوئے لحجہ میں کہاں یار تو برا نہ مان اپن

آجاتی لیکن تو اپنی کنڈیشن سمجھ اپن پھر کبھی آئے گی تیرے بھائی بھابھی کے بچوں کے

عقیقہ وغیرہ میں اس نے تھوڑا موڈ ٹھیک کرنے کے لئے کہاں تو داؤد اس کی بات پر ہلکہ سا قہقہ

لگا کر ہنسا چلے کوئی بات نہیں لیکن اپن کو بہت اچھا لگا تو نے اپن کو اس قابل سمجھا نہیں نہیں

ایسی بات نہیں ھے کیا مطلب تو اپن کو قابل نہیں سمجھتا آرے نہیں میرے کہنے کا مطلب ھے

آپ بہت اچھی ھے اور اب تو میری دوست بھی ھے تو دوستوں کو تو بلایا جاتا ہی ھے ہاں یہ تو

ھے چلے پھر بات ہوتی ھے اپنا خیال رکھنا ہاں تو بھی رکھیو خدا حافظ اس نے فون رکھ کر فون

کو دیکھا جہاں فون ڈیسکنیکٹ ہوگیا تھا آئے گی اپن بہت جلد تیرے گھر بھی خود سے بول کر بائیک ریسٹورنٹ کی جانب موڑ لی ۔۔۔

جاری ھے ❤️