Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 2

مغرور محبت 2
رائیٹر ۔۔۔۔انابیہ شاہ
Episode no 2
ایان پوری رات سے لاک اپ میں تھا غازیان درانی نے اس کی بیل نہیں کروائی تھی وہ چاہتا تو

آسانی سے اس کی بیل کروادیتا لیکن اس بار وہ باقاعدہ اس خاور مالک سے نپٹنا چاہتا تھا اس

کی طرف سے اس کے کچھ حصاب بھی نکلتے تھے اور تھوڑی سزا وہ ایان کو بھی دینا چاہتا

تھا کہ آیندہ وہ کسی کے مسلہ میں نہ پڑے ویسے اس کے لئے سزا تجویز کی ہوئی تھی وہ اپنی

ریسٹ واچ باندھ کر اپنی گاڑی میں بیٹھ کر آفس کے لئے نکل گیا داؤد ڈائنگ پر اس کا ویٹ کرہا تھا

لیکن نہ اس کے سلام کا جواب دیا نہ کچھ کہاں سیدھا آفس کے لئے چلا گیا اس کو پکا یقین ہوگیا

تھا یہ گرین مونسٹر ان دونوں کی کتے والی کرنے کا ارادہ رکھتا ھے جس سے اس کے ماتھے پر ابھی

سے ہی پسینے آرہے تھے اور اللہ سے خیر کی دعا مانگ کر واپس چئیر پر بیٹھ گیا ابھی اسے ایک

لڑکی کو بھی اغوا کروانا تھا جو اس کے بھائی کا حکم تھا اور وہ تو کسی قیمت ٹال نہیں سکتے

تھے غازیان درانی سیدھا آفس گیا تھا جہاں اس کا وکیل ویٹ کرہا تھا وہ جیسی آفس میں انٹر

ہوا جو چےموگیاں ہورہی تھی ایک دم ماحول میں سناٹہ چاہ گیا اور سب کے سلام کا جواب سر

کی ہلکی جنبش سے دیتا ہوا اپنے روم کی طرف چلا گیا وہ آفس میں انٹر ہوا تو افتخار صاحب

فورا کھڑے ہوگئے جس کو اس نے ہاتھ کے اشارے سے واپس بیٹھنے کا اشارہ کیا سر یہ کیس بہت

ایزی ھے ایان سر کو آسانی سے بیل مل سکتی ھے لیکن اپ نے مجھے روک دیا کیوں غازیان نے

اس کی بات غور سےسنی اور اپنی گرین آنکھوں سے اس کی طرف دیکھا اس کی آنکھوں میں

ایسا کچھ تھا افتخار صاحب فورا چپ ہو گئے انٹر کوم سے اپنی سیکٹریری کو اندر روم میں

بلوایا عروبہ دروازہ نوک کرتے ہوئے اندر آئی یس سر آپ نے بلوایا ہممم اپنی سرد اواز میں بولنا

شروع کیا ساڑھے تین بجے نیوز پر یہ ہیڈ لائین چلنی چاہیے ایس پی خاور مالک کی بیٹی نے

بھاگ کر درانی گروپس آف انڈیسٹری کے مالک غازیان درانی سے شادی کر لی ھے جس کی وجہ

سے خاور مالک نے غازیان درانی کے بھائی کو جھوٹے ڈرگز کے کیس میں اریسٹ کرلیا ھے یہ

بول کر افتخارِ صاحب کی طرف موڑا اور آپ تین بجے آیان کی بیل کروائے گے اور وہ گھر ساڑھے

تین بجے تک پہنچ جانا چاہیے اور اب آپ دونوں یہاں سے جاسکتے ھے اور خود اب ایک فائیل میں سر دیکر بیٹھ گیا


ماما میں جارہی ھوں کالج اپنا خیال رکھیے گا وہ بول کر جیسی نکلنے لگی روبینہ بیگم نے اس

کا ماتھے پر اپنے لب رکھے ان آج دل بہت گھبرا رہا تھا آج مت جاؤ ہانم میرا دل بہت گھبراہ رہا

ھے آج تم چھٹی کرلو نہیں ماما آج جانا ضروری ھے آج بہت اہم کلاس ھے اور میں نے فائزہ کو

بھی بول دیا ھے وہ بھی ائے گی اگر میں نے چھٹی کرلی تو مسلہ ہو جائے گا اس نے کتابیں

بیگ میں رکھتے ہوئے کہاں چلے میں اب جارہی ھوں اللہ حفظہ اور ٹائم سے ڈرائیور انکل کو بھیج

دینا ماما فی امان اللہ انہوں نے بھی اس کو اپنی دعاؤں میں رخصت کیا لیکن آج ان کا دل بہت

گھبراہ رہا تھا انہیں ایسا محسوس ہورہا تھا کہ کچھ برا ہونے والا ھے لیکن اپنا وہم سمجھ کر

جھٹک دیا مائیں کتنی انمول ہوتی ھے نہ انہیں پہلے سے ہی پتہ چل جاتا ھے کہ ان کی اولاد کے

ساتھ کچھ برا ہونے والا ھے ان کو فورا محسوس ہوجاتا ھے کہ آج میری اولاد محفوظ نہیں ھے

مائیں واقع بہت انمول ہوتی ھے۔۔جس کی قدر کرنی چاہیے اگر ایک بار یہ چلی گئی تو واپس
لوٹ کر نہیں آتی ھے چاہیے ہم کتنا ہی ترپتے رہے

یاللہ ہماری ماؤں کی عمریں دراز کر
ہمیں ان کے بغیر جینا نہیں آتا ھے ❤️
…………………………
وہ کالج کے پاس پہنچی تو دو عکابی نگاہیں اس پر مرکوز تھی اور وہ سیدھا اپنے ڈیپارٹمنٹ میں

گئی اور خاموشی سے اپنی بینچ پر بیٹھ گئی وہاں آکر فون پر بیل ہوئی تو سامنے سکرین پر

فائزہ کا نام جگمگا رہا تھا وہ سننے کے لئے وہ کلاس روم سے باہر آگئی کہاں ہوں اتنا وقت

ہوگیاھے تم آئی نہیں ہانیہ نے کال پیک کرتے ہی اسٹارٹ ہوچکی تھی آرے آرے سانس تو لو لڑکی

یار میں نہیں آرہی ھوں امی کی طبیعت اچانک خراب ہوگی ھے جس وجہ سے میں نہیں آرہی

ھوں تم نوٹس مجھے سینڈ کردینا مگر فائزہ تم نے کہاں تھا کہ تم آؤ گی اس نے تھوڑا پریشان

ہوتے ہوئے کہاں آئی نو یار میں نے کہاں تھا لیکن اینڈ ٹائم پر ماما کی طبیعت خراب ہوگئی اب

میں کیا کرو اچھا تم آنٹی کا خیال رکھو کلاس شروع ہونے والی ھے میں جارہی ھوں اللہ حفظہ

اس نے بجھے لحبے میں کہاں اور فون بند کردیا اس نے بھی الودائی کلمات بول کر فون رکھ دیا

ہانیہ کنفیوز سی خاموش سی کلاس لے رہی تھی کے اچانک پیون آیا اور اس کے ڈرائیور کے آنے کی

اطلاع دی اس کو حیرانی تو ہوئی لیکن صبح ماما کا سوچ کر سمجھ گئی انہوں نے ہی لینے

بھیجا ہوگا اور اچھا بھی تھا آج فائزہ بھی نہیں آئی تھی تو وہ خوشی خوشی کالج کے باہر آگئی

سامنے ہی اس کی گاڑی کھڑی تھی جاکر بیٹھ گئی لیکن یہ گاڑی اس کی نہیں تھی اگر وہ

پیچھے کی سائیڈ تھوڑا غور کرتی تو پہچان جاتی لیکن ہمیشہ کی بے وقوف جا کر بیٹھ گئی

اندر سامنے والی سیٹھ پر ایک باوردی ڈرائیور میسینجر سیٹھ پر داؤد اور برابر والی سیٹھ پر

ایک لڑکی بیٹھی ہوئی تھی ہانم نے جیسی ان سب کو دیکھا تو فورا اترنے لگی لیکن اس لڑکی

نے موقع کا فائیدہ اٹھاتے ہوئے اس کے چہرہ پر کلوروفارم رکھ دیا جس سے چند ہی منٹ میں وہ

ہواس کھو کر اس لڑکی کے کندھے پر گیر گئی داؤد نے افسوس سے اس لڑکی کی طرف دیکھا

جو چہرے سے انتہائی معصوم لگ رہی تھی لیکن در افسوس اب وہ غازیان کے انڈر ہوگی اس کو

کچھ نہیں پتا تھا کہ اس لڑکی کے ساتھ غازیان کیا کرنے والا ھے بس ایک حکم تھا کہ وہ اس کو

لیکر درانی مینشن پہنچے ابھی بارہ بج رہا تھا وہ لوگ سیدھا درانی مینشن پہنچے اور ہانم کو دو

لڑکیاں بیس مینٹ میں چھوڑ کر چلی گئ اور داؤد اندر مینشن میں چلا گیا جہاں لاونج میں

غازیان درانی اپنی روب دار پرسنیلٹی کے ساتھ

صوفے پر براجمان تھا داؤد نے اسے دیکھا تو آداب سے سلام کیا اسلام علیکم بھائی لڑکی بیس

مینٹ میں ھے اب بتائیے کیا کرنا ھے ابھی وقت کیا ہورہا ھے بھائی ایک بج رہا ھے اماں بی کو

بیس مینٹ میں بھیجوں اور اپنے برابر سے لال کلر کا دوپٹہ اٹھا کر داؤد کے ہاتھ میں دیا اور یہ

بھی دے دینا اس کو پہنا کر باہر یہاں لے آئے باقی میں ان کو بتا چکا ہوں کیا کرنا ھے انہوں نے اس

کو تیار کرنے کو کہوں اور۔بول کر اپنے کمرے میں خود بھی ریڈی ہونے چلا گیا لیکن تیار کیو ہونا

ھے داؤد ابھی بھی الجھا ہوا تھا لیکن کچن کی طرف چلاگیا جہاں اماں بی ملازموں کو جھڑکے

لگارہی تھی وہ آواز دیکر کچن میں داخل ہوا اماں بی امابی ہاں میں یہاں ہوں داؤد بیٹا انہوں نے

کچن سے ہی آواز لگائی اماں بی یہ بھائی نے دی ھے اس لڑکی کے لیے اس کو تیار کرکے لے آئے

آرے اس کو لڑکی کیوں بول رہے ھوں داؤد نے اچھنبے سے ان کی طرف دیکھا آرے اماں بی اس

کو لڑکی نہ بولوں تو کیا بولو آپی تو بولنے سے رہا مجھ سے کافی چھوٹی ھے تقریباً انیس سال

کی ھے آرے تو آپی کیوں بول رہے ھوں بھابھی بولو کیا مطلب اماں بی داؤد نے تھوڑا حیران ہوتے

ہوئے پوچھا مطلب یہ کے ابھی اس بچی کا نکاح اپنے غازیان بیٹے سے ہورہا ھے داؤد تو بلکل

سناٹے میں آگیا تھا اس کا دل تو چاہا کہ غازیان سے پوچھے لیکن اس کے لئے بہت ہمت چاہیے تھی

جو اس میں تو نہ تھی لیکن اس کو بہت دکھ ہورہا تھا اس کے لئے لیکن ایک پل کے لئے اس

لڑکی کا معصوم چہرہ اس کی آنکھوں میں گھوما تو اپنے بھائی کے لئے اچھا بھی لگا کہ اس کی

زندگی میں کچھ خوشحالی آئے گی اور تھوڑا بہت ہی صحیح لیکن کیا پتہ اس لڑکی کی وجہ

سے وہ چینج ہوجائے لیکن خاور مالک کا سوچ کے اس لڑکی پر پھر ترس آرہا تھا
=×=×=×=×==×=×=×=×
اماں بی بیس مینٹ میں آئی تو ان کا استقبال اندھیرے نے کیا ہانیہ ایک کونے میں کرسی پر سر

جھکا کر بہوش تھی انہوں نے ساتھ آئی ملازما سے لائٹ اون کروائی اور پانی کا جگ بھی مانگ

وایا ملازما نے لائٹ اون کی تو پورا بیس مینٹ روشنی میں نہا گیا وہ قریب گئی تو ہانیہ کا سر

ڈھلکا ہوا تھا ان کو بے حد اس پر ترس آیا لیکن وہ بھی کچھ نہیں کرسکتی تھی انہوں نے پانی

اس کے چہرے پر مارا تو وہ ہڑبڑا کر اٹھی تو سامنے ایک شفیق سی عورت کو اپنے سامنے پایا

دس سیکنڈ تک تو اس کو سمجھ ہی نہیں آیا جیسے جیسے اس کو یاد آنے لگا کہ وہ ایک غلط

گاڑی میں بیٹھی تھی اس کے بعد ایک لڑکی نے اس کے چہرے پر رومال رکھ دیا تھا جس کے بعد

اس کو کچھ یاد نہیں تھا اس نے سہمے ہوئے لحجہ میں سامنے کھڑی عورت کی طرف دیکھا

اور استفار کیا م۔م۔میں کہ۔۔کہا ہوں آپ ک۔۔کون ھے اس نے کپکپاتے ہوئے پوچھا تو اماں بی نے اس

کی طرف ترحم بھری نگاہوں سے دیکھا
اور پیار سے اس کے قریب ہوئی ڈرو مت بیٹآ

تمھیں کوئی کچھ نہیں کہے گا اگر تم خاموشی
سے غازیان بیٹے سے نکاح کرلو ن۔نہیں نہیں مج۔۔

مجھے اپ۔۔ن۔۔۔اپنے گھ۔۔گھر ج۔۔جانا ھے پ۔۔۔لی۔۔پلیز مج۔۔۔مجھے می۔۔۔۔میرے گھ۔۔۔گھر ج۔۔۔۔جانے

د۔۔دے ا۔۔نٹ۔۔۔انٹی می۔۔۔۔میرے بابا بہ۔۔بہت غ۔۔۔غصہ و۔۔والے ھ۔۔۔ھے م۔۔ی میرے بابا پ۔۔۔پو۔۔

پولیس م۔۔میں ھے آپ س۔سب ک۔کو نہیں چھ۔۔۔چوڑے گے اگر میں ٹائم س۔۔۔سے گھ۔۔۔گھر نہ۔۔۔نہیں پہ۔۔پہنچی ت۔۔تو پیچھے سے غازیان درانی

بیس مینٹ میں ہی آرہا تھا اس کی بات سن کر اس کی تیوری چڑھی اور لمبے لمبے ڈھنگ بھرتا

ہوا اس کے پاس آیا اور ایک زناٹے دار تھپڑ رسید کیا جس کی وجہ سے وہ کرسی سمیت نیچے گری تھی
جاری ھے ❤️