No Download Link
Rate this Novel
Episode 33
مغرور محبت 33
رائٹر ۔۔۔انابیہ شاہ
Episode no 33
ہال بہت خوبصورت تھا ہر جگہ گلاب کے پھول سے سجاوٹ کروائی تھی ایان اور مدثر نے آیان
بلیک کلر کے تھیری پیس میں آج اپنی پرسینیلٹی سے ہٹ کر کچھ زیادہ ہی ڈیشینگ لگ رہا تھا
داؤد بھی مہرون کلر کےتھیری پیس میں محفلِ میں غضب ڈھا رہا تھا ایان اور داؤد مین
انٹریس میں کھڑے سب کا ویلکم کررہے تھے ایان میمو جان کہاں ھے داؤد نے اپنے برابر ۔میں کھڑے
ایان سے سرگوشی نما انداز میں پوچھا وہ اندر برائڈل روم میں بھابھی کے ساتھ ھے اچھا اور
زوئی وہ بھی مہمانوں کو اندر دیکھ رہی ھے اس نے موبائل میں کمیرہ اون کرتے کہاں آئے بھائی
ایک سیلفی لیتے ھے ایان انسان کی طرح کھڑے رہوں داؤد نے ایان کو جھڑکا تو وہ منہ بنا کر
کمیرہ اپنی طرف کرلیا زین ہال میں داخل ہوا تو سامنے ہی تین سال بعد اپنے دونوں بھائیوں کو
دیکھا تو بے ساختہ آنکھوں میں نمی سی چمکی جس کو انگلیوں کے پوروں سے صاف کرکے وہ
مسکراتا ہوا ان دونوں کے قریب گیا اور پیچھے سے ایان کے گلے میں ہاتھ ڈالا اور چھوٹے کیسا
ھے میں ٹھیک بول کر ایک دم جھٹکا کھ کر اس کی طرف مڑا بھائی آپ وہ اتنی زور سے چیخا
تھا قریب کھڑے لوگوں نے باقاعدہ مڑ کر دیکھا تھا داؤد بھی اس کے چیخنے پر دو قدم گھبرا کر
پیچھے ہوا لیکن جب سامنے زین کو دیکھا تو ایک دم گڑبڑا کر اس کے قریب ہوا ایان خوشی کے
مارے اس کے گلے سے لگا بھائی کہاں تھے یار آپ آپ کو بلکل ہمارا خیال نہیں ھے پھپھو کہاں ھے
دی بھی آئی ھے کیا اس نے اس کے گلے لگتے ہی نم سے لحجہ میں کہاں کوئی نہیں ھے میں ہی آیا ہوں
اور تو نہیں ملے گا کتے بول کر داؤد کے گلے لگا اس کی آنکھ کے کونے سے خوشی کے مارے
آنسوں نکلا یار کہاں تھے آپ آپ کو بلکل خیال نہیں تھا ہمارا وہ اس سے الگ ہوکر بولا گڑیا اور
پھوپھو اور پھوپھا کہاں ھے وہ بھی ائے ھے کیا آرے بدھوں ابھی تو کہاں ھے کہ وہ نہیں آئے ھے
ابھی ناراض ھے مجھ سے مان جائے جلد اس نے اس کے کندھے پر ہاتھ رکھ کر کہاں ایان نے
پیچھے سے اس کو ہگ کیا یار آپ کہاں تھے بہی یاد آرہے تھے آپ ابے میرا بچہ ابے تم سب کو نہیں
پتہ میں کیسے تھا بس بزنس کی وجہ سے گیا تھا نہ ایسا کیسا بزنس آپ کو ہم۔یاد ہی نہیں تھے
داؤد نے بھی خفا ہوتے ہوئے کہاں پیچھے سے کسی نے اس کی کنپٹی پر تھپڑ مارا وہ پیچھے
گھما تو پیچھے میمونہ بیگم اس کو کڑے تیوروں سے گھور رہی تھی میمو جان کیسی ھے وہ ان
کے گلے لگنے لگا تو انہوں نے ایک کھینچ کر تھپڑ اس کے بازو پر مارا پیچھے ہوں نہ ہنجار انسان
کہاں تھا تو آرے میری بات تو سنو وہ ایک دم ان کے ایسے ریکشن پر گڑبڑایا شرم نہیں ھے تجھ
میں یار میمو جان سب دیکھ رہے ھے اس نے ارد گیرد دیکھتے ہوئے کہاں یار لگائے میمو جان ان کو
ایان نے بھی ان کا ساتھ دیا اوئے میں چھوڑو گا نہیں ان کے تھپڑ سے بچتے ہوئے وہ ایان پر غرایا
آرے میمو جان معاف کردے ان کو داؤد بیچ میں آکر بولا یار بیوٹیفل لیڈی معاف کردے نہ اپنے بچہ
کو کیا اب بچہ کی جان لے گی کہاں تھا تو یار میں بزنس کے سلسلے میں گیا تھا نہ باہر قریب
آجاؤ اس نے دور سے کھڑے ہی پوچھا ادھر اء وہ مخموریت سے بولی تو وہ مسکراتے ہوئے ان کے
گلے لگا میری جان۔کہاں تھا تو اتنا یاد کیا زرہ یاد نہیں آئی نہ تجھے میمو جان یار آپ کو میں
انسٹاگرام پر دیکھتا تھا اتنا یاد آتی تھی آپ مجھے اور سب سے زیادہ آپ کے ہاتھوں کی
میتھی آلو وہ سب سے زیادہ چل بس کام ہی کرواو مجھ سے سارے میرے خوبصورت سے نیلز
خراب کروا دیتے ہوں تم سب انہوں نے اس کو جھڑکتے ہوئے کہاں تو وہ ہنس کر ان سے پیچھے
ہوا میمو جان زوئی کہاں ہماری چشمش اس نے ہال کے اندر جھانکتے ہوئے کہاں وہ ہانم کے ساتھ
برائڈل روم۔میں ھے ویسے آپ بڑے بھیا سے ملے ایان نے اس کے گلے میں ہاتھ ڈالتے ہوئے کہاں سب
سے پہلے ان سے ہی۔ملا تھا ویسے یار یہ ڈیکوریشن بڑی ٹائیٹ ہوئی ھے پتہ ھے کس عظیم
شخص نے کی ھے ایان نے اپنے کالر اٹھاتے ہوئے کہاں یار میمو جان زوئی کہاں ھے میں اس سے
تو مل لو وہ بول کر اندر کی جانب بڑھا اور پیچھے وہ اپنا کالر ہی پکڑ کے رہ گیا بھائی یہ
غلط بات ھے ایان بول کر احتجاج اس کے پیچھے گیا داؤد اور میمونہ بیگم نے پیچھے سے قہقہ
لگایا اچھا داؤد غازی کہاں ھے ابھی تک کیوں نہیں آیا انہوں نے پریشانی سے داؤد سے پوچھا
میمو جان صبح سے پتہ نہیں کہاں ھے بھائی میرے پاس دوپہر میں بس ایک دفعہ کال آئی
تھی بھابھی کا پوچھنے کے لئے کے کون گیا ھے چھوڑنے اور لینے کون جانا ھے لیکن پتہ نہیں
خود بھائی کہاں ھے ٹینشن ہورہی ھے میمو جان سارے مہمان آگئے ھے اور ان کے بزنس سرکل میں
سے کتنوں نے مجھ سے پوچھ لیا ھے کہاں ھے وہ تم فون ٹرائے کرو کہاں ھے وہ میں کرتا ہوں
میں زرہ اندر دیکھوں مہمانوں کو اور زوئی کو بھی زین کو دیکھ کر پکا پتہ ھے تو رورہی ہوگی
میں دیکھتی ہوں اندر جی آپ دیکھے میں بھی آتا ہوں بھائی کو فون کر کے ہاں دیکھوں وہ
جلدی سے بول کر عجلت میں اندر کی طرف بڑھی اور وہ بھی غازیان کو فون لگانے کی کوشش کرنے لگا۔۔۔
°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°
وہ کمرے سے نیچے آئی تو ہر طرف گہرے سناٹے کا راز تھا کہی بھی کوئی نظر نہیں آرہا تھا
پریشانی سے دو دو زینے اتر کر کچن میں جھانک کر دیکھا وہاں بھی کوئی نہیں تھا باپو ماتاری
سب کہاں ہوں باپو وہ ایک پھر آواز دی لیکن جواب نادر پیچھے موڑتی اس سے پہلے پورا
لاونج روشنی میں نہا گیا ہپی بھرڈے تو یو صدیقی صاحب اور فوزیہ بیگم اس کو گلے لگاتے
ہوئے کہاں پورا گھر میں بلونز بلونز ہورہے تھے ابے اپن کی سالگرہ ھے آج سالہ اپن کو تو یاد ہی نہیں
ھے بول کر صدیقی صاحب کے گلے لگی میری جان بہت بہت مبارک ہوں تمھیں آج کا دن میری
جان میرا بچہ اللّٰہ تم کو بہت ساری خوشیاں دے بہت سارا خوش رکھے میرے بچےکو اللّٰہ باپو
ایسی بات نہ کر بہوش ہوجائے گی اپن بول کر قہقہہ لگایا انسان بنو روحہ آیسے نہیں بولتے
فوزیہ بیگم نے فورا ٹوکہ اپن کو یہ آج ایچ بھی نہیں چھوڑے گی بول کر فوزیہ بیگم کے گلے لگی
مبارک ہوں تمھیں اج کا دن میرا بچہ میری جان آرے ماتاری تو نے کیک بنایا وہ بول کر کیک کی
طرف بڑھی وہ انگلی مارتی فوزیہ بیگم سرعت سے آگے بڑھی اور اس کے ہاتھ پر ہاتھ مارا گندی
پہلے کیک کٹ کرو اس کے بعد کھاؤ ارے یار باپو اپن اج کے دن پیدا ہوئی تھی دیکھ یاد تیری آئٹم
کیسے کررہی ھے یہ میرے ہاتھ سے مار کھائے گی یہ لڑکی آج کے دن بھی صدیقی صاحب باپو
دیکھ یار بہی آج نہیں فوزیہ جی آج میری جان کا دن ھے آج نہ کرو پلیز بس چلو آؤ کیک کٹ
کرتے ھے ہیپی برتھڈے ٹو یو ھیپی برتھڈے ٹو یو ڈیر روحہ صدیقی صاحب نے اس کے سر پر ہاتھ
رکھا اللّٰہ تم کو بہت ساری خوشیاں دے اور اگلے سال اپنے گھر میں اپنے شوہر کے ساتھ اپنی
سالگرہ منانا نصیب کرے بول کر اس کے ماتھے پر عقیدت بھرا بوسا دیا فوزیہ بیگم کی آنکھیں
بے ساختہ دم نم ہوئی اگلے سال یہ اپنے گھر کی ہوجاے گی کیسے رہے گے ہم دونوں باپ بیٹی نے
جب ان کا لحجہ نم دیکھا تو الگ ہوکر ان کی طرف مڑے وہ اپنی آنکھوں کی نمی صاف کررہی
تھی آرے ماتاری کائے کو رورہی ھے اپن تیرے کو بھی دیگی کیک صدیقی صاحب نے بے ساختہ
قہقہ لگایا یہ کبھی نہیں سدھر سکتی ھے چلے کیک کھاتے ھے بول کر کھانے کی میز کی طرف بڑھے ۔۔۔
°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°
غازیان جلدی جلدی ہال میں داخل ہوا سب مہمان اچکے تھے وہ خود بلو پینٹ کوٹ پہنے ٹائی لگائے
اپنی روب دار پرسنیلٹی کے ساتھ اسٹیچ کی طرف بڑھا جہاں زین ایان داؤد اور زویا پیکچر بنانے
میں مصروف تھے زویا نے سامنے سے غازیان کو آتے دیکھا تو ان سب کو بھی اس کی طرف
متوجہ کی بھائی آگئے سب نے سامنے دیکھا تو سب کے منہ سے بے ساختہ ماشاءاللہ نکلا وہ لگ
ہی بہت خوبصورت رہا تھا وجہہ چہرے پر آج بھی گہری سنجیدگی تھی ہونٹ بھنچے ہوئے
تھے بال ترتیب سے جیل سے بنے ہوئے تھے وہ اج پوری محفل کو مات دینے کے لیے کافی تھا وہ قریب آیا تو
سب سرعت سے اسٹیچ سے اتر کے اس کے قریب آئے زین بھاگ کر اس کے گلے لگا اللہ میرا ویر کتنا
سوہنا لگ رہا ھے زین بتمیزی نہیں سب کمیرہ ہمارے ہی طرف ھے انسان بن کر پیچھے ہوں اس
نے اپنی بھاری آواز میں کہاں تو وہ شرافت کا مظاہرہ کرتے ہوئے عزت سے پیچھے ہوگیا بھائی
کہاں تھے اپ داود نے اس کی ٹائی ٹھیک کرتے ہوئے کہاں زرہ کام میں پھس گیا تھا زویا بھی
قریب ائی اور اس کے چہرے پر سے پسینہ صاف کیا کہاں تھے اپ کب سے انتظار کررہے تھے اپ کا
ہاں نہ بھائی میمو جان بھی کب سے آپ کو پوچھ رہی تھی ایان نے بھی پریشانی سے کہاں
دیکھ نہیں رہی میمو جان کہاں ھے ایک ضروری کام۔میں پھس گیا تھا ہانم کہاں ھے لیکر آگئے اس
کو جی بھائی اگئے ھے بھابھی آپ اسٹیج پر جائے سب دلہن کا بھی پوچھ رہے ھے میں جاکر
اسٹیج پر لیکر آتی ھوں زویا نے بول کر قدم
برائڈل روم کی طرف بڑھایا پیچھے وہ بھی اثبات میں سر ہلا کر آسٹیج کی جانب بڑھا
پیچھے وہ تینوں بھی اس کے ساتھ ہی کھڑے ہوئے وہ چاروں تھیری پیس سوٹ میں بلکل الگ ہی لگ رہے تھے ایان نے اپنا
فون کا کیمرہ کھولا اسمایل پلیز سب نے کمیرے کی طرف دیکھا ایان کے برابر میں زین تھا اس
کے برابر میں غازیان پھر داؤد تھا زین نے غازیان کے گلے میں ہاتھ ڈالا تو داؤد بھی ڈالنے لگا لیکن
ایک دم جھجک کر ہاتھ پیچھے کیا غازیان نے اس کی طرف دیکھا تو اس نے اپنا چہرہ نیچے کرلیا
وہ اس کے قریب ہوا اور اس کے گلے میں ہاتھ ڈالا اور اپنے پاس کرکے ایان کے فون کی طرف
مسکراتے ہوئے دیکھا اس نے دو تین پیکچر کلیک کی اتنے میں ہال کی ساری لائیٹس ایک دم اف
ہوگئی اور ایک سپورٹ لائٹ سامنے سے سہج سہج کے قدم اٹھاتی بلو میکسی میں آتی ہانم پر
روکی جو زویا کا ہاتھ تھامے مسکراتے ہوئے آنکھیں نیچے کرے اسٹیج کی جانب بڑھ رہی
تھی غازیان نے سامنے دیکھا تو ایک دم اس کو اپنا دل رکتا ہوا محسوس ہوا وہ بینا پلک
جھپکائے سامنے دیکھ رہا تھا ہانم نے بھی ایک نگاہ اٹھا کر سامنے دیکھا تو دل بے اختیار دھڑکا
اور چہرے پر گلال بیکھر کر پھیلا وہ اسٹیج کے قریب آئے تو وہ تینوں بھی سائیڈ پر ہوئے زویا نے
ہانم کا حنائی والا ہاتھ تھام کر غازیان کے پھیلائے ہوئے ہاتھ میں دیا اور خود بھی وہی روک گئی
غازیان نے اس کا ملائم ہاتھ تھام کر اپنے ساتھ صوفے پر بیٹھایا ہانم سے شرم کے مارے چہرہ
بھی نہیں اٹھایا جارہا تھا سب ایک دم کیمرہ لیکر ان دونوں کو فوکس کرنے لگے داؤد نے ماتھے پر
بل ڈالے ان سب کو دیکھا غازیان نے بھی غصہ سے ان کیمرے والوں کی طرف دیکھا ایان اور زین داؤد تینوں ایک
ساتھ اسٹیج سے نیچے اتر کر ان کی جانب بڑھے اور دو منٹ میں سب کو ہٹایا وہ سب ہٹے تو
غازیان مسکراتا ہوا ہانم کے کان کے قریب جھکا اچھی لگ رہی ہوں وہ مسکراتی ہوئی اپنی
معصوم آنکھوں سے غازیان کی طرف دیکھا دونوں کی آنکھیں ایک دوسرے سے ٹکرائی تو
دونوں کے دل ایک ساتھ دھڑکے تو غازیان نے سائیڈ سمائل دی اور ہانم نے شرم سے آنکھیں
نیچے کی سرپرائز چائیے تمھیں اس نے سرگوشی نما انداز میں کہاں تو ہانم نے مسکراتے ہوئے اثبات
میں سر ہلایا آنکھیں اٹھا کر سامنے دیکھوں ہانم اسنے ناسمجھی سے غازیان کی طرف دیکھا اس
کے بعد سامنے دیکھا اس نے آنکھیں بند کرکے کھولی اور جب سین نہیں بدلہ تو شوکڈ کی کیفیت میں کھڑی ہوئی اور دونوں ہاتھ منہ پر
رکھے وہ کھڑی ہوئی تو نیچے وہ سارے جو میمونہ بیگم کے ساتھ پیکچر کلیک کررہے تھے ان سب نے
بھی ہانم کی طرف حیرت سے دیکھا غازیان نے مسکراتا ہوئے سینے پر ہاتھ باندھ کر پیچھے صوفے سے ٹیک لگایا ۔۔۔۔
جاری ھے ❤️
……………………..
تو سوچے ایسا کون ھے سامنے جس کو دیکھ کر ہانم اتنا شوکڈ ہوگئی..
