Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 12

مغرور محبت12
رائٹر ۔۔۔۔انابیہ شاہ
Episode no 12

روحہ کمرے میں آئی اور دروازہ بند کرتے ہی اسی کے ساتھ لگ کر نیچے بیٹھ گئی اور سر گھٹنوں

میں رکھ لیا آج فوزیہ بیگم کی بات اس کو اپنا دردناک ماضی یاد کراگئی تھی اس کی آنکھوں

کے سامنے وہ درد ناک سین لہرانے لگا نہیں نہیں میں نے کچھ نہیں کیا ھے بابا ماما کہاں ہوں آپ

پلیز مجھے اس وحشی انسان سے بچاؤ کہاں ھوں صدیقی صاحب آپ کی بیٹی مار رہی ھے

بابا۔۔۔۔۔۔یہ چیکے اس کا پیچھا نہیں چھوڑتی تھی اس نے تڑپ کر اپنے کانو پر ہاتھ رکھ لیا اور سر

نفی میں ہلانے لگی وہ اپنے اپکو وہی محسوس کرنے لگی تھی اور خود سے بڑبڑانے لگی نہ۔۔نہیں

نہیں چھوڑ دو مجھے نہیں بابا ماما صدیقی صاحب بھائی یہ لاسٹ ورڈ بول کر اس نے اپنا

سر دروازے کے ساتھ لگا دیا اور ہچکیوں سے رونے لگی کیوں نہیں وہ دن میری ذندگی سے

ختم ہو جاتا وہ تڑپ رہی تھی وہ آج بھی اپنے بابا ماما کو پکار رہی تھی لیکن آج بھی کوئی

نہیں ایا تھا وہ اکیلی تھی ہاں وہ معصوم اس رات بھی اکیلی تھی اور آج بھی مظبوط روحہ

اکیلی تھی لیکن فرق اتنا تھا اس رات وہ گندی جگہ پر تھی اور اج وہ اپنے گھر کے اپنے کمرے

میں چھپ چھپ کے رورہی تھی کیونکہ وہ یہ نہیں بتانا چاہتی تھی اج بھی یہ وہی معصوم

روحہ ھے جو اپنی ماں کی زرہ سی ڈانٹ پر اپنے باپ کے گلے لگ روتی تھی اور اب وہ چھپ کر

روتی ھے ہاں وہ اب بڑی ہوگئی ھے لیکن اف تک نہیں کرے گی اس بات کو وہ انکار نہیں کرے گی

کہ اس رات اس کے ساتھ کیا ہو تھا لیکن وہ یہ بھی چاہتی ھے کہ وہ رات اس کی زندگی سے

ختم ہو جائے وہ واپس پہلے جیسی روحہ بن جائے لیکن اب مشکل ھے وہ ایسی ہی رہے گی

بتمیز ہڈرام مار دھاڑ کرنے والی سب کی زندگی اجیران کرنے والی اس نے اپنے آنسو صاف کیے اور

واشروم میں گئی خود کو فریش کیا اور باہر آئی تو چہرےپر ایک مسکان تھی وہ مسکرا رہی تھی

لیکن اس کی آنکھیں ویران تھی ہمیشہ کی طرح سرد تاصر تھا ان آنکھوں میں بلیک شرٹ جو

گھٹنوں تک آرہی تھی نیچے وائٹ پینٹ جو گندمی رنگت پر بہت جج رہا تھا خود پر ایک

طائرانہ نگاہ ڈال کر نیچے آئی جہاں صدیقی صاحب اور اس کی ماں شرمندہ سی ہوکر بیٹھی

ہوئی تھی اور کھانے پر اسی کا انتظار کررہی تھی کیا ہوا تم لوگوں نے اسٹارٹ نہیں کیا میں اری

تھی باپو تم تو اسٹارٹ کرتا یار بھوکا ہوگا کرسی کھینچ کر باپ کے برابر والی کرسی پر بیٹھی

فوزیہ بیگم کو یکسر نظر انداز کردیا تھا چل بسم اللہ کرتے ھے کیا بنا ھے ماتاری انہوں نے اٹھ کر

اس کی پلیٹ میں بریانی ڈالی اور خفگی سے بولی مجھے نہیں بولا کرو یہ ماتاری وغیرہ تو کیا

بولے میں باپو کی آئٹم اس نے آنکھ ونک کر کے کہاں اور دونوں باپ بیٹی نے مل کر قہقہ لگایا

لیکن آج بھی اس کی ہنسی میں وہ کھنک نہیں تھی فوزیہ بیگم نے اس کو نم آنکھوں سے دیکھا

اور قریب آکر اس کے ماتھے پر اپنے لب رکھے روحہ نے سکون سے آنکھیں موندی وہ جو اوپر

تڑپ رہی تھی دل جل رہا تھا ان کے یہ عمل سے ایسا لگ رہا تھا دل پر ٹھنڈے پانی کی پھوار پڑی

ہوں اندر تک ایسا محسوس ہورہا تھا کہ کسی نے آگ پر پانی ڈال دیا ہوں سوری آیندہ میں ایسی

بات نہیں کرو گی روحہ پلیز مجھے معاف کردو میری جان اس نے آنکھیں کھولیں تو اس میں

سکون کی ایک لہر دوڑ رہی تھی کیا ہوگیا ماتاری تیرے کو تو اپن کی ماں ھے تیرے کو حق ھے اپن

کو بولنے کا جو سچ ھے وہ ایچ بولا تو نے اپن کو معلوم ھے اپن جب سے وہاں سے آئی ھے اپن کا

طرز گفتگوں خراب ہوگیا ھے اپن کیا کرے وہاں سب ایسے ایچ بات کرتے تھے اپن مانتا ھے اپن

غلطی کردیتی ھے تجھے ستاتی بھی بہت ھے لیکن اپن کے پاس تو ایک ایچ تو ھے تجھے نہیں

ستائے گی تو کس کو ستائے گی اور رہی بات باپو کی وہ تو اپن کا جگر ھے تیرے کو کوئی پروبلم

ھے مجھ سے نہیں میری جان مجھے اپنے بچے سے کوئی پروبلم نہیں ھے دیکھ باپو بھی سیٹ

ھے اور رہی رشتہ کی بات اگر اپن کو کوئی پسند آئے گا تو اپن تیرے کو بتادے گی جب تک چیل

مار اور یہ مزہ کی بریانی کھ لیکن تم کسی ہاسپٹل میں نرس کی جوب نہیں کرو گی تم خود

ایک ڈاکٹر بننے والی تھی آرے ماتاری اپن نرس مطلب ایک ڈاکٹر کے ساتھ رہے گی ہر وقت کیا

بولتے ھے انگریزی میں یار ہاں اسیسٹنٹ ہوگی سمجھا کر یار چل اب کھانا کھ لے اور باپو تو

ٹینشن مت لے سب ٹھیک ھے ہوٹل میں بھی صحیح ھے اب وہ تینوں ہلکی پھلکی باتوں میں کھانا کھ رہے تھے
°°°°°°°°°°°°°°°°°°
ہانم اور زویا نیچے آئے تو داؤد بھی آگیا تھا اور انہیں کے ساتھ بیٹھ کر ہانم اور زویا کا انتظار

کرہا تھا وہ دونوں نیچے آتے ہوئے نظر آئے تو آیان اپنی جگہ سے کھڑا ہوکر سامنے والے صوفے پر

بیٹھ گیا ہانم ڈارک پینک کلر کی فراق جو پیرو تک آرہی تھی اور بالوں کو پونی کی شکل میں

دیکر آگے کی جانب کیا ہوا تھا زویا کا ہاتھ تھامے نیچے آرہی تھی وہ دونوں آکر ان کے سامنے والے

صوفے پر بیٹھ گئی نہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ایان اپنے دونوں ہاتھ کان پر رکھ کر چیخا داؤد جو ہانم کو کچھ

بولنے والا تھا بات منہ میں رہ گئی اور گھبرا کر ایان کی جانب دیکھا اس نے کیا سب نے ہی اس

کی جانب دیکھا اخر ایسا ہوا کیا ھے جو اتنا زور سے چیخا مدثر جو آن دونوں کا انتظار کرتے کرتے

اپنی کتاب منہ پر رکھ کر سو رہا تھا ہڑبڑا کر اٹھا کیا ہوا چیخا کیوں سب کی آنکھوں میں ایک ہی

سوال تھا آخر کو یہ چیخا کیو بھائی اس چھپکلی نے بھابھی کو بھی اپنی سائیڈ کرلیا ھے دیکھے

کیسے بھابھی نے اس کا ہاتھ پکڑا ہوا ھے ہانم نے گھبرا کر ایک دم ہاتھ چھوڑا تو زویا نے زبردستی

واپس پکڑا کیونکہ ہم اب بیسٹ فرینڈ ھے کیوں بھابھی میں نے ٹھیک کہاں نے بول کر اپنا چشمہ

ٹھیک کیا داؤد نے اپنا سر پیٹا اس بات کے لئے اتنا زور سے چیخا تھا مدثر نے اس کی کنپٹی پر تھپڑ

مارا کیا ھے مار کیوں رہا ھے ایک اور مار مدثر میری طرف سے بھی داؤد نے دانت پیس کر کہاں

مدثر مارنے لگا تو ہانم ایک دم بولی نہیں مدثر بھائی مارے مت بھائی مزاق کررہے تھے داؤد نے

اس کی جانب دیکھا اور مسکرا کر بولا بھابھی کیسا دن رہا آپکا ہانم کا رخ ایان والوں کی سمت

تھا اس نے مڑ کر داؤد کو دیکھا اور مسکرا کر بولی اچھا تھا بھائی آپ تو شام کو آنے والے تھے

جلدی آگئے اس نے تھوڑا ہمت کرکے پوچھ لیا ایان اور داؤد ہانم کو بہت اچھے لگے تھے کیونکہ وہ

غازیان کی طرح غصہ نہیں کررہے تھے اس سے پیار سے بات کررہے تھے جی بھابھی میٹنگ تھی

رات کو لیکن کینسیل ہوگی کیونکہ میری جو اسیسٹنٹ تھی ان کی شادی ہوگئی اب مجھے

کون اسیسٹ کرتا اس لئے کل ایک نئی اسیسٹنٹ آئی گی پھر دیکھتے ھے اس میٹینگ کے بارے

میں اس نے تحمل اور مسکرا کر جواب دیا اور زویا گڑیا کیسی ہوں تم داؤد نے شفقت سے

پوچھا تو آیان کہاں چپ رہ سکتا تھا گڑیا نہیں ھے یہ بھائی یہ ایک نمبر کی چڑیل ھے میری

بھابھی کو چھننے کی پلیئنگ کررہی ھے ایان نے بال میں ہاتھ پھیرتے ہوئے کہاں زویا کے تو سر پر

لگی تلو پر بجھی تم نے مجھے چڑیل کیسے کہاں تمھاری ہمت کیسے ہوئی اور برابر میں سے کشن

اٹھا کر کھینچ کر مارا جو ایان کے منہ پر لگا اس نے بھی ہک کری نہ دھک اور وہی اس کو پلٹ کر

مارا جو سیدھا اس کے منہ پر بجھا ایان کے بچہ میں تمھیں چھوڑو گی نہیں وہ جو مارنے کے لئے

اٹھی ہانم گھبرا کر ان دونوں کو دیکھ رہی تھی مدثر تو ان سب کا آدی تھا واپس منہ پر کتاب

رکھ کر آنکھیں موندلی اور داؤد دونوں کو گھور رہا تھا زویا جیسی صوفے سے اٹھنے لگی دونوں

کو غصہ سے ڈانٹا انسان بن جاؤ تم دونوں بھابھی کا فرسٹ ڈے ھے آج ہی بتادو کیا ہوں تم

دونوں زویا نے داؤد کی طرف دیکھا اور خفگی سے بولی بھائی میں چپ تھی نہ کچھ نہیں بولا

تھا میں نے اسی نے مجھے چڑیل کہاں میں نے منہ سے کہاں ھے تم نے مجھے کشن مارا تو میں نے

پلٹ کر مارا اس میں غصہ کرنے والی کیا بات تھی ہانم نے بھی سن کر گردن اثبات میں ہلایا

زویا لاسٹ وارنگ ھے تمھارے لئے اب نہ لڑتا ہوا دیکھوں میں تمھیں زویا نے غصہ میں ایان کو

گھورا جو فخریہ کالر جھاڑ رہا تھا جی بھائی آیندہ خیال رکھوں گی دانت پیس کر بولی اور

ہانم کے برابر والے صوفے پر بیٹھ گئی اور داؤد نے ایان کی جانب دیکھا جو زویا کو دیکھ کر کالر

اٹھا کر دیکھا رہا تھا ایان یہ وارنگ تمھارے لئے

بھی ھے مجھ سے بھی برا کوئی نہیں ہوگا سمجھ آئی وہ بھی انسان بن کر بیٹھا اور واپس ہانم کی طرف مڑا اور بھابھی آپ کونسی

کلاس میں ھے اس نے بات کرنے کی گرز سے پوچھا ایان بھی غور سے ہانم کی طرف دیکھ رہا

تھا میں گریجویشن کے فرسٹ ائیر میں ہوں بھائی اچھا بھابھی میں بھائی سے بات کرتا ہوں

پھر آپ واپس سے اسٹارٹ کرے اپنا کالج لیکن بھائی کیوں ہانم کے منہ سے بے ساختہ نکلا تو

زویا نے بھی اس کی طرف دیکھا ایان کے چہرے پر ایک شرارتی مسکراہٹ آگئی یقیناً وہ پکی پاٹنر

بننے والی تھی ایان کی اس نے دل میں سوچا لیکن سے کیا مراد داؤد نے اچھنبے سے پوچھا

مطلب میری ماما تو بولتی تھی کہ لڑکیوں کو شادی کے بعد گھر کے کام کرنے چاہیے شوہر کی

خدمت کرنی چاہیے اور چوڑیاں پہنی چاہیے اور پاؤں اور ہاتھوں میں مہندی لگانی چاہیے ہانم نے

انگلیوں پر گنواتے ہوئے بتایا پہلے تم سب نے اس کو حیرت سے دیکھا پھر داؤد زویا اور ایان کا چھت پھاڑ

قہقہ نکلا اور مدثر بھی سوتا ہوا ہنسا زویا نے پیار سے اس کے گال پر چٹکی کاٹی اس طرح

سب کے ہنسنے سے ہانم ایک دم سرخ سی ہوگئی اور کنفیوز ہوکر انگلیاں چٹکانے لگی داؤد نے اس

کو کنفیوز ہوتے دیکھا تو خود کو کنٹرول کیا بھابھی لیکن پڑھیں بھی تو ضروری ھے اس نے

سنجیدگی سے کہاں اب ہانم جو تھوڑی ان سب سے کھول کر بات کررہی تھی اب ایک دم کنفیوز

ہوگئی تھی آرے بھابھی کنفیوز کیوں ہوگئی آپ ایان نے شرارت سے کہاں نہ۔۔۔۔نہیں کنفیوز نہیں

ہوگئی بھائی وہ میں تو بس آرے دیکھے بھابھی پڑھائی تو سب کرتے ھے آپ کو کیوں نہیں کرنی

مجھے نہیں اچھا لگتا پڑھنا لیکن میں اپکو بتادیا ھوں غازیان بھائی اس بات کے بہت خلاف ھے وہ

اپکو لازمی پڑھائے گے انہوں نے کہاں ھے کل سے سب روٹین کے حساب سے اسٹارٹ ہوجائے گا

مجھے کل سے واپس کالج جانا۔ھے اس نے بجھے دل سے کہاں زویا میں کمرے میں چلی جاؤ تھک

گئی ہوں تھوڑا جی بھابھی آپ چلی جائے اور میں بھی چلتی ھوں اور کچھ بھی چائیے ہوں

کسی ملازما کو بھیج دینا میں دیدو گی اللہ حفظہ اور آیان مجھے صبح پک کرلینا یار پلیز

بول کر گھر کی طرف بڑھی اور ہانم بھی اپنے کمرے کی طرف چلی گئی چل یار میں بھی نکلتا

ہوں امی انتظار کررہی ھوں گی کل ملتا ھے یونی میں ایان اس کو گیٹ تک چھوڑنے گیا اور داؤد

بھی اپنے روم کی جانب بڑھ گیا جہاں تھوڑی دیر پہلے سب قہقہہ لگارہے تھے وہاں اب بلکل سناٹہ
سا ہوگیا تھا
جاری ھے