No Download Link
Rate this Novel
Episode 9
مغرور محبت
رائیٹر ۔۔۔۔۔انابیہ شاہ
Episode no 9
گاڑی درانی مینشن میں انٹر ہوئی وہ گاڑی سے اترا اور اس کی سائیڈ کا دروازہ کھولا اور ہانم کے
اترنے کا انتظار کرنے لگا لیکن وہ ہنوز سر نیچے جھکائے رونے میں مصروف تھی غازیان نے ناگواریت
سے اس کی سو سو کو دیکھا نیچے اترو مجھے آفس جانا ھے امپورٹینٹ میٹنگ ھے لیکن
اس نے کوئی ریسپانس نہیں دیا ہانم مجھے لیٹ ہورہا ھے آواز آرہی ھے تمھیں تھوڑا غصہ میں
کہاں لیکن وہ ٹس سے مس نہیں ہوئی پانچ منٹ تک اس کو دیکھا اور بازو سے درشتگی کے ساتھ
پکڑا اور اپنے روم کی جانب بڑھا اور کمرے میں لاکر ایک جھٹکے سے چھوڑا وہ بیڈ پر اوندھے منہ گیری اور انگشت شہادت آٹھا کر تنبیہہ کہاں
ایک بات اپنے اس دماغ میں بیٹھالو ہانم تم اب کہی نہیں جاؤ گی
سمجھ آئی میں تمھیں لیکر گیا تھا لیکن تمھارے باپ نے تمھیں ایکسیپٹ نہیں کیا میں جانتا ہوں
ان سب کا زمیدار بھی میں ہوں لیکن اب تم میرے نام کے ساتھ منسلک ہوں اور میں اپنی نام
سے جڑے لوگوں کو دربدر کی ٹھوکر کھانے نہیں چھوڑتا اس لئے اب یہی تمھارا گھر ہے ایان اور
داؤد اور میں ہی تمھاری فیملی ھے اور کل سے تم اپنے کالج بھی جاؤں گی سب کچھ روٹین کے
حساب سے ہوگا اور ایک بات اور اب تمہارا ایک بھی آنسوں گیرا تو تمہاری جان لے لو گا آنسو
صاف کرو ہانم نے ڈبڈبائی آنکھوں سے اس ستمگر کی جانب دیکھا اور غم غصہ کی زیادتی
سے چیخی کیوں کیا آپ نے ایسا کیوں میرا استمعال کیا بتائیں بابا آپکی وجہ سے مجھے
ایکسیپٹ نہیں کررہے ھے رونے کی وجہ سے آواز کافی بھاری ہورہی تھی آپ نے مجھے کیڈنیپ
کیا اور بابا سمجھ رہے ھے کہ میں آپکے ساتھ
بھاگی ہوں اس نے اپنی آستین سے ناک صاف کی
غازیان نے ناگواریت سے اس کی جانب دیکھا کتنی گندی ہو تم کم از کم رومال یوز کیا کرو آپ
نے کیوں کیا ایسا اس نے اس کی بات کو سرے سے نظر انداز کیا اور اپنی بات جاری رکھی اس
نے بے حد بے بسی سے کہاں اور منہ ہاتھ میں چھپا کر رونے لگی غازیان خاموشی سے اس کی
جانب دیکھتا رہا پانچ منٹ تک کمرے میں خاموشی رہی اس نے سرد سانس خارج کی اور
اپنی گرین آنکھوں سے اس کی جانب دیکھ کر مخاطب ہوا میں نے کب تمھیں کیڈنیپ کیا ہانم
بتاؤ اس نے اچھنبے سے اس کی جانب دیکھا ہانم کو اس کی دماغی حالت پر شک ہوا ہاں بتاؤ
میں نے کب تمھیں کیڈنیپ کیا تم خود ہماری گاڑی میں آکر بیٹھی تھی تم وہ لڑکی تھوڑی تھی
جس کو میں نے کیڈنیپ کرنا تھا غازیان کووہ شکل سے بہت معصوم لگ رہی تھی اس لئے اس
کو اپنی ہی باتوں میں الجھا دیا پتہ نہیں کیوں تم میری گاڑی میں بیٹھی بول کر اس کے سامنے
کاوچ پر بیٹھا زمانے بھر کی بے وقوف رونا دھونا بھول کر غازیان کی طرف متوجہ ہوئی لیکن پھر
آپ نے مجھ سے نکاح کیوں کیا پھر اب میں کیا کرتا تم خود بتاؤ یار میرے پاس تو کوئی آپشن
نہیں تھا نہ سارے مہمان آگئے تھے اور تم کو پتہ ھے جس سے میری شادی ہونی تھی اس سے بھی
نہیں ہوئی وہ اپنا دکھ بھول کر بے حد ہمدردی سے بولی کیوں نہیں ہوئی آپکی شادی ان سے تم
جو میری گاڑی میں آکر بیٹھ گئی تھی تو وہ لوگ جو گاڑی میں تھے مجھ کو اتار دیتے لیکن انہوں
نے تو ایک رومال رکھ دیا تھا منہ پر اور زبردستی لے آئے تھے اور اپنے بھی تو تھپڑ مارا تھا اور کہاں
شرافت سے نکاح کرو میں کیا کرتی پھر آپ بتائے اس نے معصومیت سے آنکھیں پٹپٹا کر بولا
مجھے نہیں پتا تمھاری وجہ سے میرا نکاح بھی نہیں ہوا لیکن اب میں تم سے دستبردار نہیں
ہوسکتا اب تم میرے نام سے منسلک ہوں میں یہی چاہتا تھا تم کو تمھارے ماما بابا کے یہاں
چھوڑ دوگا لیکن ان لوگوں نے تم کو ایکسیپٹ نہیں کیا اور نکال دیا اب میں اتنا بھی بے حس
نہیں ہوں تم کو وہاں چھوڑ کر اجاتا اس لئے ساتھ لے آیا اب تم خود بتاؤ میں کیا کرو ہانم بلکل چپ
ہو کر اس کو سن رہی تھی اچھا ساری غلطی کیا میری ھے اس نے بے حد دکھ سے پوچھا غازیان
کے موبائل پر میسج ٹون ہوئی تو اس نے میسیج کھولا تو میسیج پڑھ کر ایک دم سنجیدہ ہوگیا
اور ہانم کی طرف دیکھا جو اب بے حد دکھ سے اس کی طرف دیکھ رہی تھی دیکھوں تھوڑی
غلطی میری بھی ھے تو تمھاری بھی ھے اس لئے اب تمھیں یہی رہنا پڑے گا کالج جاتی ہوں نہ تم
کل سے اسٹارٹ کردینا وہ کھڑا ہوا میں اب آفس جارہا ھوں تم گھر دیکھ لینا یہی تمھارا روم ھے
تھوڑی دیر میں ایان اجائے گا اس سے باتیں وغیرہ کر لینا دل ہلکا ہو جائے گا میں چلتا ہوں
صدا کی پڑھائی چور ہانم کو تو سن کر پتنگے لگے کے کل سے واپس کالج اون میری ماما بولتی ھے
کہ لڑکیاں شادی کے بعد نہیں پڑھتی جو اس کو سمجھ آیا جلدی جلدی بول دیا غازیان کا رخ باہر
کی جانب تھا اس کی بات سن کر ایک شاندار مسکراہٹ چہرے پر آئی آج اس کی گرین آنکھیں
بھی مسکرائی تھی اس کی بات سن کر اپنی مسکراہٹ روک کر اس کی جانب پلٹا لیکن میرا
ایک الگ اصول ھے ہانم تمھیں کالج کنٹنیو کرنا پڑے گا ہر حال میں ایان کی پروگریس بھی میں
خود دیکھتا ہوں تمھاری بھی خود دیکھوں گا سمجھ آئی جب اس کی طرف سے کوئی
ریسپانس نہ دیکھا تو دوبارہ اپنی بات پر زور دیا میری بات آئی تمھیں سمجھ اس نے تھوڑی
اونچی آواز میں پوچھا تو ہانم نے بے ساختہ اثبات میں گردن ہلائی شام تک تمھاری ساری
بکس اجائے گی کمرے میں دل نہ لگے تو گھر دیکھ لینا ایک بار پھر بول رہا ہوں ٹھیک ھے وہ
جانے لگا تو ہانم نے بے ساختہ پوچھا آپکا نام کیا ھے اس۔نے تھوڑا جھجکتے ہوئے کہاں غازیان
درانی لیکن تم میرا نام نہیں لوگی بہت بڑا ہوں تم سے پھر کیا کہوں اپکو اس نے تھوڑا خفا ہوتے
ہوئے کہاں غازی بول سکتی ہوں میں چلتا ہوں اب اللّٰہ حافظ ۔۔۔۔۔
°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°
وہ دونوں کینٹین میں بیٹھے ہوئےتھے اور آیان آپنی دکھڑے رورہا تھا مجھے نہیں پتہ میری یہ
والی اسئمنٹ تو بنائے گا مدثر اگر تو نے نہیں بنائی تو میں اس کرسی سے خود کر اپنی جان
دےدو گا ابے کیا پاگل ہوگیا ھے تیری ہڈی تک نہیں ٹوٹے گی لیکن مجھے نہیں پتہ۔میری
اسئمنٹ تم بناؤ گے ورنہ۔میں تجھے اپنی جائیداد سے آگ کردو گا جا جا کردے مینو فرق نہیں پڑتا
دیکھ بھائی نہی ھے غازیان بھائی کی ابھی شادی ہوئی ھے بھابھی کو میری ضرورت ھے ان
کے ساتھ مجھے تھوڑا ٹائم اسپینڈ کرنے کا ھے دیکھ مان جا اس نے بے حد عاجزی سے کہاں ابے
تو ایک کام کر اپنی زویا سے اپنی اسئمنٹ تیار کروالے ابے اس سے ہی کرواتا لیکن سر حیدر
پڑھاتے ھے وہ سبجیکٹ اور سر حیدر کی بیٹی ھے زویا حیدر تو خود بتا وہ پکڑ نہیں لے گے اپنی
بیٹی کی ہینڈ رائیٹنگ اور میں اس چمش کو نہیں بولوگا بہت نخرہ ھے اس کے اس کو بولو تو
ایک لمبا لیکچر دیگی ایان نے جھنجلاتے ہوئے کہاں وہ دیکھ آرہی ھے ایک بار بول کر چیک کر
کیا پتہ کام بن جائے رائیٹنگ چینج کرکے بنادے اور تو اپنی پروبلم بتادیو تم دونوں کب سدھروں
گے اب تو بابا بھی بولتے ھے تم دونوں سے دور رہو خاص کر اس نوٹنکی سے یہ لو آج کے لیکچر
کے نوٹس اور ہٹو کب سے کھڑی ہوئی ھوں ایان۔کی سائیڈ پر بیٹھی پانچ فٹ ہائیٹ متناسب
سراپہ صاف شفاف چہرا اور چہرے پر ایک چشمہ جو ہمہ وقت ناک پر ٹکائے رکھنا مدثر نے ایان کو
آنکھوں ہی آنکھوں میں اشارہ کیا کہ بول وہ زوئی ہممم غازیان بھائی نے نکاح کرلیا ھے ہاں
میں نے کل ٹی وی پر دیکھا تھا ویسے تو۔بڑا چھوٹی بہن بولتے ھے اور اکیلے اکیلے شادی کرلی
ابے تو میں کونسا تھا داؤد بھائی تھے بس نکاح میں میرے ساتھ تو خود پرائے دھن والا سلوک
ہوا ھے آرے ہاں میں وہ بات تو بھول ہی گئی ماتھے پر ہاتھ مارا ایان تم سے پوچھنا تھا یار
پولیس والوں نے تم۔کو۔مارا تو نہیں ھے میں نے سنا ھے وہ لوگ ناخن تک نکال دیتے ھے آرے نہیں
بہی کسی نے کچھ نہیں کیا یار زوئی بات تو سنو ہاں بولو میں سن رہی ھوں یار بھائی کی ابھی
شادی ہوئی ھے نہ تو بھابھی کو میری ضرورت ھے مطلب میں ان کے ساتھ ٹائم اسپینڈ کرو گا ان
کے ساتھ رہوں گا تو ان کو فیمیلی کی کمی کم۔محسوس ہوگی زویا نے اس کو بغور تکہ اور پھر
اپنا عینک ٹھیک کیا تجربہ کہتا ھے میرا ایان تم سے یہ اسئمنٹ بن نہیں رہی ھے تم صرف بہانہ
گھڑ رہے ہوں بھابھی کے ویسے واپسی پر میں بھی تمھارے ساتھ چلوگی ان سے ملنے میں نہیں
لیکر جاتا تم کیسی دوست ہوں میری ایک اسئیمنٹ نہیں بناسکتی مدثر بھی نہیں بنا رہا
کوئی میری مدد نہیں کررہا ھے سر حیدر مجھے چھوڑے گے نہیں نی تو مجھے ایک بات بتا زوئی
چوئی تیرا باپ اتنا ہٹلر کیوں ھے سب کی پیچھے کیوں پڑا رہتا ھے اے تمیز سے بابا ھے وہ میرے
استاد کو اتنا ہی اسٹریکٹ ہونا چاہئے اپنی عینک کو اوپر کیا تو بنا رہی ھے میری اسئمنٹ کے نہیں
اچھا بہی دو بنا دو گی ویسے میرا تجربہ کہتا ھے چپ کرجاو دونوں ایک ساتھ چیکے۔۔۔
°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°
بار بار سرفراز کی کا کلز سے جھنجھلا کر کوئی رات نو بجے کے قریب وہ ریسٹورنٹ سے نکل کر
ڈی کےمینشن کی طرف بڑھی تھی سامنے سے خوبصورت دیکھنے والی عمارت اندر کتنے گھنونے
راز چھپائے ہوئے تھی یہی بات باہر کی دنیا کو علم تک نہ تھا وہ مین گیٹ کی طرف بڑھی تو
گارڈ نے اس کو دیکھ کر سرعت سے بڑا دروازہ کھولا بائیک کو ایکسلیریٹر دیا اور تیزی سے
دروازہ عبور کرگئی بائیک کو لاک کرکے نیچے اتری تو ڈی کے کا خاص آدمی بھاگتا ہوا اس کے قریب
آیا اور بہت عزت کے ساتھ اس کو اندر لیکر گیا اور ایک صوفے پر بیٹھایا اور کوئی دس مِنٹ کے
بعد ساٹھ سال کا آدمی پینٹ کوٹ پہنے ہوئے بال سالیکے سے بنائے ہوئے روحہ کے سامنے والے
صوفے پر بیٹھا اس شخص کو دیکھ کر کوئی یہ نہیں بول سکتا تھا کہ وہ ساٹھ سال کا ھے وہ
اپنی عمر سے کم ہی لگتا تھا روحہ نےاس کی جانب بے تاسر نگاہوں سے دیکھا کائے کو بلایا
ھےاپن کو تیرے بھیجے میں یہ بات کائے کو فیٹ نہیں ہوریلی اپن تیرے واسطے کام ایچ نہیں کرنا
چاہتی پھر بے فضول تیرا چمچا میرے کو فون کیوں کریلا ھے میں صرف ایک بار موقع دیتی ھے
تو نے اپن پر بھروسہ نہیں کرا اور مال کسی اور سے ڈیلیور کروایا ڈی کے۔نہ اس کی بات بہت
تحمل سے سنی دیکھوں روحہ میں جانتا ہوں تم غصہ ہوں اوئے آپ بول روحہ نے آنکھیں دیکھائی
ڈی کے نے ضبط سے مٹھیاں بھینچی اگر چہ یہ لڑکی کام کی نہیں ہوتی تو کب کا مار کر پھیک
وا دیتا اس نے گہری سانس خارج کی روحہ میں جانتا ہوں میں نے غلط کیا اپ پر یقین نہیں کیا
آپ خود بتاؤ میں جب۔ بھی آپ سےمال کی ڈیلوری کرواتا ہوں وہاں ریٹ پڑجاتی ھے پتہ
نہیں کون ایگل کر کے پولیس کو خبر کر دیتا ھے بندے کو تھوڑا شک تو ہوسکتا ھے اچھا تو تیرا یہ
والا ۔مال پہنچ گیا صحیح سلامت تو میرے پاس کائے کو اریلا ھے مال ڈیلور ہونے سے پہلے ہی
پولیس آگئی تھی اس لئے سارا نقصان میرا ہوا سامنے والی پارٹی کا بلکل بھی نہیں ہوا میں تم
سے ریکوسٹ کرتا ہوں پلیز اپنے کام پر واپس آجاؤ دیکھ سیٹ اپن کے کچھ رول ہوگے اگر چہ
تو مانے گا تو اپن تیرے ساتھ کام کرنے کے بارے میں سوچے گی اگر نہیں تو میں چلی اس نے
اٹھتے ہوئے کہاں نہیں نہیں جیسے آپ بولے گی ویسا ہی ہوگا تو ٹھیک ھے وہ واپس بیٹھ گئی
دیکھ سیٹ میرے ایک ڈیلور کی رقم پچیس لاکھ ہوگی میرے کو فرق نہیں پڑتا تیرا مال کتنے کا
ھے اور ایک بات تیرے مال کی ڈیلوری کے بعد مال پولیس کے ہتھے چڑھے تو میرے کو نہیں
بولے گا سمجھ آئی اگر منظور ھے تو بتا پچیس لاکھ زیادہ ھے تیرے کو میرا شرط قبول ھے تو
بتا میرے سامنے ادکاری نہ کر دیکھو روحہ میرے ہر مال کی ڈیلوری کے بعد پولیس ریٹ ماررہی ھے
مجھے یہ بات سمجھ نہیں آرہی ایک تو درانی کپمنی کا مالک بھی میرے کام میں آڑے لگا رہا ہے
وہ غازیان درانی روحہ نے اچھنبے سے پوچھا ہاں وہی اس نے اس کی بات کی تائید کی سالا بڑا ہی
ایڑا بندہ ھے میرے کو بھی پتہ ھے میرے ریسٹورنٹ پر بھی نظر ھے سالے کی تو یہ بتا
تیرے کو میری شرط منظور ھے ہاں منظور ھے ااچھا ساری ڈیٹیل دے کینٹینر میں کیا ھے اس
بار ہم لوگ لڑکیاں اسمگل کررہے ساری انفورمیشن دے اس سے ساری انفورمیشن لیکر وہ اس کو اللّٰہ حافظ کرکے نکل گئی ۔۔۔
جاری ھے ❤️
