No Download Link
Rate this Novel
Episode 17
مغرور محبت 17
رائیٹر ۔۔۔۔انابیہ شاہ
Episode no 17
باپو اپن تیرے کو بتارہی ھے یہ جو تیری آئٹم ھے یہ آپن کی سگی ماں نہیں ھے تو لکھ لے یار دیکھ
کون اپنی سگی بیٹی کے ساتھ ایسے کرتا ھے وہ دھواں دھواں ہوتی لاونج میں بیٹھے اخبار پڑھتے
صدیقی صاحب کے سر پر سوار ہوئی انہوں نے ہڑبڑا کر اخبار نیچے کیا اور اپنی بیٹی کی طرف
دیکھا جو گھٹنوں تک آتی فراق اور نیچے کیپری پہنی ہ اور بال پیچھے کو کر کے کھولے ہوئے تھے
او آگے سے پیاری سی بالوں میں فرنچ بنائی ہوئی تھی اور نفاست کے ساتھ پیارا سا میک
کیپ کیا ہوا تھا انہوں نے دل ہی دل میں اس کی نظر اتاری اور کھڑے ہوکر جیپ سے چند ہزار کے
نوٹ نکال کر اس کے سر پر سے وارے کتنا پیارا لگ رہا ھے میرا بچہ یار باپو نہ کر میرا دماغ کی
پہلے ہی بجی ہوئی ھے دیکھ یار تیری آئٹم نے اپنے کو کیا پہنادیا ھے پیچھے سے فوزیہ بیگم کی
انٹری ہیل والی جوتی کے ساتھ ہوئی روحہ یہ بھی پہنوں تمھارے کپڑوں کے ساتھ میچ ہورہی
ھے وہ جو پہلے ہی اس فراق اور کیپری سے جھنجلارہی تھی ہیل والی سینڈیل دیکھ کر تو
پوری ہی ہل گئی کیا ہوگیا ھے ماتاری تیرا دماغ کو میں جوب پر جاریلی ھے اپنے باپو کے ولیمہ
میں نہیں تو کیا کرنا چاہتی ھے روحہ تمھاری پہلی جوب ھے ایسے نہیں بولتے ایسے بولوں مما
آپ کیوں ایسا کررہی ھے میں جوب پر جارہی ھوں ایسے کرکے تمیز کے دائرہ میں بولوں باپو وہ
جو اپنی۔زوجہ کی بات سن رہے تھے روحہ کے پکارنے پر اس کی طرف مڑے یار اپنے گھر میں
تمیز کا دائرہ کہاں ھے اپن کو وہاں کھڑے ہوکر اپنی ماتاری کو سمجھانے کا ھے کہ اپن کیا بولنا
چاہ رہی ھے کیا پتہ اس کو سمجھ اجائے پتہ نہیں کیا بناکر بھیجنا چاہ رہی ھے اس نے قدرے
جھنجلا کر کہاں تو صدیقی صاحب نے اپنی ہنسی چھپائی باپو تو ہنس رہا ھے یار اپن کی
یہاں واٹ لگ گئی ھے میرے کو کچھ سمجھ نہیں آرہا ھے یار میں تیرے کو بتارہی ھے اس
ڈاکٹر نے اپنے کے ہلیہ کی وجہ سے مجھے جوب سے نکالا نہ تو میں بتارہلی ھے اپن کچھ بھی نہیں
کرے گی میں جارہی ھے میرے جوتے کہاں ھے میرے سے یہ اونچی منزلہ نہیں پہنے جائے گی
نہیں روحہ یہی پہنوں یہ میچ ہورہی ھے اور پیاری لگے گی میری پیاری بیٹی نہیں ہوں انہوں
نے ضبط سے کہاں میں تیری نہ پیاری نہ ایسی نہ ویسی کیسی بھی بیٹی نہیں ھے اپن کو جانے کا
ھے یار دیر ہورہی ھے باپو اس نے عاجزی سے فاروق صدیقی کی طرف دیکھا اچھا جو تمھیں اچھا
لگے وہ پہن لو اور جاؤ جوب کے پہلے ہی دن لیٹ نہیں ہوتے اس کو اجازت ملی تو پہلے اپنے باپ
کےگلے لگی اور زبردستی فوزیہ بیگم سے چمٹ کر اور ایک پپپی دے کر بائیک کی چابی اٹھا کر باہر کی طرف بھاگی ۔۔۔۔
💕💕💕💕💕💕💕
ہانم تھوڑا ہچکچا کر ناشتہ کررہی تھی کیونکہ وہ باخوبی میمونہ بیگم کی نظریں خود پر محسوس
کرسکتی تھی وہ دونوں ہاتھ ٹیبل پر رکھے اس کو بہت غور سے دیکھ رہی تھی ہانم ایان کے برابر
والی کرسی پر بیٹھی ہوئی تھی اور ناشتہ بہت خاموشی سے ہورہا تھا کیونکہ جہاں غازیان ہوں
وہاں کوئی انسان بن کر نہ رہے یہ تو نا ممکن ھے بہو بیگم چلو مجھے یہ بتاؤ ان کی آواز نے ڈائینگ
ٹیبل کی خاموشی کو توڑا تو سب نے ان کی جانب دیکھا تمھارا نام کیا ھے آرے مما بتایا تو
تھا زویا بولنے لگی تو انہوں نے ہاتھ کے اشارے سے اس کو روک دیا تو بہو بیگم نام بتاؤ اپنا
میر۔۔۔۔ا ن۔۔نام ہانیہ ھے اور پیار سے سب ہانم بولتے ھے اس نے تھوڑا گھبراتے ہوئے کہاں ہمم نام
بہت پیارا ھے لیکن نہ تو میں تمھیں ہانم بولو گی نہ ہانیہ میں تمھیں بہو بیگم بولو گی تمھیں
کوئی اعتراض ھے اس نے جھٹ سے نفی میں سر ہلایا دیٹس مائی گرل ویسے یہ جو دوپٹہ تم نے
سر پر لیا ہوا ھے یہ ان بھائیوں میں سے کس نے کہاں ھے ایسا کرنے کو انہوں نے تینوں کو
جانچتی نگاہوں سے دیکھ کر بولا تو ایان جو کب سے خاموشی کا لبادہ اوڑھے بیٹھا تھا فورا بولا
میمو جان میں بتاتا ہوں کل پتہ ھے کیا ہوا تھا میمو جان کل خادم بھائی مینشن کے اندر پیزہ
دینے آئے تھے اور بھابھی یہاں بیٹھی ہوئی تھی جہاں زویا بیٹھی تھی وہاں اشارہ کرکے بتایا
جیسی خادم بھائی نے انٹری ماری داؤد بھائی بھاگ کر گئے ان سے سامان لینے اور غازیان بھائی
نے بیچاری ہانم بھابھی کو ڈانٹہ کے بغیر دوپٹہ کے کمرے سے باہر قدم مت رکھنا اس لئے بیچاری
ایسے بیٹھی ھے اور ہاتھ میں دیکھے چادر بھی ھے ہانیہ نے بھرپور مسکراہٹ سے ایان کی طرف
دیکھا تو ایان نے بھی جوابآ مسکرا کر اس کی جانب دیکھا اور داؤد اور غازیان نے غصہ سے اس
کو گھورا داؤد نے نیچے سے اس کے پیر پر پیر مارا اہ بیچارہ کراہ کر کھڑا ہوا کیا ہوا ایان بھائی
ن۔۔۔۔نہیں نہیں بھابھی کچھ نہیں بس سچ بولنے کا تو زمانہ ہی نہیں ھے اس نے زبردستی کی
مسکراہٹ سجاکر داؤد کو بولا میمونہ بیگم غازیان کی طرف مڑی غازیان یہ کیا بات ہوئی
اتنی ریسٹیرکشنز انہوں نے کڑے تیوروں سے پوچھا تو ہانم کے چہرے پر دو دن بعد بھولے
بھٹکے پیاری سی مسکراہٹ نمودار ہوئی میمو جان دیکھے ہانم گھر کی بہو ھے اور مما ان سب
چیزوں کو لیکر تھوڑی ٹچی تھی اس نے اپنے طور پر بات سنبھال کر کہاں کیونکہ وہ جانتا تھا
فرحت بیگم کے زخر پر وہ خاموش ہو جائے گی اور ایسا ہی ہوا ہمم جیسا تمھیں ٹھیک لگے ابھی
آگے وہ لب کشائی کرتی اندر دندناتی ہوئی زرنش داخل ہوئی اس کو دیکھ کر غازیان کے چہرے پر
جہاں مسکراہٹ آئی وہی داؤد ایان میمونہ بیگم اور زویا کے چہرے پر بے زاری اور ہانم اس آفت
کو ہونقوں کی طرح دیکھ رہی تھی کہ یہ باجی کون ھے ہیلو ایوری ون مجھے تو آپ سب جانتے
ہی ہوگے میں دا موسٹ پریٹسٹ گرل ان دا وارلڈ ہوں بول کر اپنے بال جھٹکے اس نے سب کو
موجود دیکھ کر انٹری گیٹ پر کھڑے ہوکر اپنا تعارف کروانا ضروری سمجھا اور ادھر ادھر
دیکھنے لگی جب اپنی مطلوبہ چیز مل گئی تو بھاگ کر غازیان کے گلے لگی یقیناً وہ مطلوبہ چیز
غازیان درانی ہی تھا ہانم کی آنکھیں اور منہ دونوں ایک ساتھ کھولے وہ غازیان سےمل کر
میمونہ بیگم کی طرف بڑھی ہائے انسٹا کوئین زبردستی ان کے بھی گلے ملی انہوں نے برا سا منہ
بنایا لیکن جب وہ مل کر سامنے آئی تو زبردستی مسکرائی پھر وہ داؤد کی طرف بڑھی جیسے وہ
اس کے گلے لگتی داؤد نے ہاتھ آگے بڑھا دیا جس کو اس نے ایک ادا سے تھاما پھر آیان کے گلے لگی
اور ہانم کو دیکھ کر ایک دم ٹھٹکی تم کون ہوں آئی تھینک میں نے تمھیں کہی دیکھا ھے اپنے
دماغ کی جگہ پر ہاتھ رکھ کر سوچنے لگی آرے تم تو وہی ہوں غازیان بےبی یہ وہی لڑکی ھے
جو اپنے گھر سے بھاگی تھی مطلب کالج سے ہانم نے بے ساختہ اپنا سر اٹھا کر اس کی طرف دیکھا
ایان داؤد میمونہ بیگم زویا سب نے اس کی طرف دیکھا ایان اور داؤد نے ضبط سے مٹھیاں بھینچی
غازیان نے سپاٹ چہرے سے اس کی طرف دیکھا اور اپنی سرد آواز میں بولا ہاں یہ وہ ہی لڑکی ھے زرنش جو اپنے کالج سے میری
گاڑی میں بیٹھی تھی اور مجھ سے نکاح کیا تھا اور میری زوجیت میں آئی تھی یعنی یہ ہانیہ درانی ھے میمونہ بیگم نے فخر سے
اپنے بیٹے کی طرف دیکھا ہانم کی آنکھوں میں نمی چمکنے لگی تو اپنا چہرہ نیچے جھکا لیا اور
یہ اس گھر کی عزت اور داؤد درانی کی بھابھی ھے داؤد نے بول کر ہانم کی طرف دیکھا جس کا
چہرہ ہنوز جھکا ہوا تھا ایان نے اس کے ہاتھ پر اپنا ہاتھ رکھا اور یہ ایان درانی کی چھوٹی بہن
ھے یعنی اس گھر کی روشنی اور زویا تھوڑا سا قریب ہوئی یہ زویا حیدر زمان کی بیسٹ فرینڈ ھے یعنی میری دوست بننے کے لئے لوگ ترستے
ھے اور یہ میری دوست ھے ہانم نے اس بار سراٹھاکر زویا کی طرف دیکھا جو مسکرا کر اس کی جانب دیکھ رہی تھی
تو اس کے چہرے پر بھی خود بخود مسکراہٹ نمودار ہوگئی ویسے زرنش ڈارلنگ سب جو ہانم
کی طرف متوجہ تھے میمونہ بیگم کی آواز سے ان کی طرف موڑے اس سے زیادہ اور تو کوئی
اینٹرو نہیں ہوگا میری بڑی بہو کا زرنش گھر سے سوچ کر آئی تھی ہانم کی انسلٹ کا لیکن یہاں تو
بازی ہی پلٹ گئی وہ غصہ سے سرخ پڑچکی تھی غازیان نے اس کی طرف دیکھا اور اپنے کوٹ کے
بٹن بند کرکے کھڑا ہوا ایان ہانم کو دیہان سے اس کے کالج ڈراپ کردینا اور واپسی بھی تم ہی اس
کو پیک کرو گے میں رات کو لیٹ ہوجاو گا کھانا وقت پر کھالینا تم تینوں داؤد ایان اور ہانم کی
طرف انگلی اٹھا جیسے سن کر تینوں نے اچھے بچوں کی طرح اثبات میں سر ہلایا میمونہ بیگم کے آگے سر جھکایا تو انہوں نے پیار سے اس کے سر پر
ہاتھ پھیرا ممیو جان میں چلتا ہوں دعا کرنا بہت امپورٹینٹ پروجکٹ ھے چلو زرنش بول کر لمبے
لمبے ڈھنگ بھرتا ہوا ڈائینگ ایریا سے نکلتا چلا گیا ہانم ایان کی جانب جھکی ایان بھائی ایان جو
میمونہ بیگم سے مخاطب ہونے لگا تھا ہانم کے بلانے پر اس کی جانب متوجہ ہوا جی بھابھی
بولے ایان بھی اس کی طرح رازدانہ انداز میں جھکا بھائی یہ کون۔تھی ہانم نے اپنی طور پر
بہت آہستہ پوچھا تھا لیکن اس کی آواز آتنی تیز تھی کہ میمونہ بیگم کے کانو میں بھی گئی تھی
اس کے اچانک پوچھنے پر وہ کچھ اور ہی سوچ بیٹھی اور سوچ کر مسکرائی بھابھی یہ ایان جو
ابھی رازدانہ انداز میں جھکا ہوا تھا ایک دم سیدھا ہوا اس کا تو بچہ بچہ کو پتا ھے چل میرا
بچہ زوئی چوئی تو بتا کون ھے یہ ایان بتمیزی نہیں اس نے تنبیہہ کہاں نہ بتاؤ میں بتاتا ہوں یہ
تھی خوبصورت چڑیل جو ہمارے بھائی کی زندگی میں چمٹ گئی ھے ہانم کو ایسا نام سن کر
بے ساختہ ہنسی آئی ایان داود نے آنکھیں دیکھائی لیکن لب مسکراہٹ میں ڈھلے ہوئے تھے بھابھی یہ
بھائی کے بزنس پارٹنر کی بیٹی ھے زرنش عالم ھے بھائی کے ساتھ یونی میں بھی تھی اور اب یہ
نیو پروجیکٹ بھائی کے ساتھ کررہی ھے ویسے تم سب نے ٹائم دیکھا ھے میمونہ بیگم نے اس
سب کی توجہ ٹائم پر مبذول کروائی تو سب ایک ساتھ اٹھے یار دیر ہوگئی بھابھی کو چھوڑ کر
یونی بھی جانا ھے چلے میمو جان میں آکر آپ سے ملو گا وہ ان سے گلے ملا اور باہر کی طرف
دوڑا ہانم ہونق بنی اس کو دیکھ رہی تھی ابھی تو اچھا بھلا بات کررہا تھا اچانک کیا ہوا ایان
مینشن کے گیٹ پر جاکر پیچھے مڑ کر دیکھا تو زویا اپنا سامنا سمیٹ رہی تھی اور ہانم بیٹھ کر
ایان کی طرف دیکھ رہی تھی آرے بھابھی گیٹ فاسٹ یار ہم الریڈی لیٹ ہوگئے ھے ہانم کے قریب
آکر اس کا ہاتھ پکڑا اور باہر کی طرف دوڑ لگائی اوئے ایان کے بچے روکو میں بھی ہوں وہ بھی
پیچھے بھاگی ان سب کی اتنی تیزی پر میمونہ بیگم اور داؤد نے پیچھے سے قہقہ لگایا اور وہ
کھڑی ہوئی چلو میں بھی چلتی ھوں حیدر صاحب گھر پر ہی ھے ہانم جب کالج سے اجایے تو
زمان ہاؤس چھوڑ دینا جی میمو جان جیسا آپ کہے وہ بھی ان کے ساتھ ہی باہر نکلا ۔۔
جاری ھے ❤️
