Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 18

مغرور محبت18
رائیٹر ۔۔۔۔۔ انابیہ شاہ
Episode no 18
پارکینگ ایریہ میں بائیک کھڑی کرکے جیسی بائیک سے اتری گارڈ بھاگتا ہوا اس کے پاس آیا اے

تم نے کیا کرا ھے مڑا اس کو ہٹاؤ یہاں سے گارڈ نے طیش سے کہاں روحہ جو اسٹائل سے اپنی بائیک

سے اتر رہی تھی جلدی سے اتری اور اچھنبے سے پوچھا کیوں بہی لالا اپن یہاں سے اپنی شبنم

کو کائے کو ہٹائے تیری ڈیوٹی وہاں ھے نہ تو یہاں کائے کو دماغ کی بجاریلا ھے اپن کا پہلا دن ھے

جوب کا دماغ کی نہ۔ہٹا ویسی ہی اپن کی۔ماتاری نے اپن کی بجادی ھے وہ تو اپن کے باپو اچھا ھے

اس نے اپن کو بچا لیا دیکھ لڑکی ہمارا دماغ خراب نہیں کر اپنا گھر کی رام لیلا کسی اور کو

جاکر سنا اور یہاں سے ہٹاؤ یہ ہسپتال کا گیٹ ھے یہاں ایمبولینس آتی ھے مسلہ ہوتا ھے جلدی کرو اس ٹین

ڈبے کو ہٹاو یہاں پارکینگ نہیں ہوسکتی ھے روحہ تو اپنی بائیک بعقول اس کی شبنم کو ٹین

ڈبا سن کر ہتھے سے ہی اکھڑی اوئے لالا تم اپنے کی شبنم کو ٹین ڈبا نہیں بول سکتا دیکھوں اپن

تم کو پیار سے بول رہا ھے کہ یہاں سے ہٹاؤ ورنہ ہم تمھارا بائیک پولیس والوں کو ضبط کروادے گا

کائے کو کروائے گا روحہ بھی آستین چڑھا کر دو دو ہاتھ کرنے میدان میں اتری کیوں کے یہاں گاڑی

کھڑی کرنا منع ھے اتنا بات نہیں آتا ھے تم کو سمجھ کہاں لکھا ھے یہاں پارکینگ ایچ نہیں

کرسکتی اپن وہ دیکھوں اتنا بڑا بورڈ تم کو دیکھتا نہیں ھے گارڈ نے بھرم ہوتے ہوئے بورڈ کی

طرف اشارہ کیا روحہ نے سر اٹھا کر دیکھا تو وہاں بڑے بڑے الفاظوں میں کندھاں ہوا تھا یہاں

پارکنگ کرنا منع ھے روحہ نے تھوڑی سی زبان دانتوں تلے دبائی اور پوری بتیسی کی نمائش کی

اور جو آستین چڑھائی تو وہ بھی نیچے کی وہ نہ لالا اپن کو دیکھا نہیں لیکن غلطی اپن کی

نہیں ھے غلطی اس بورڈ کی ھے ابھی وہ کچھ اور بولتی گارڈ نے ہاتھ اٹھایا اس کو بس یہاں

سے ہٹاؤ اور جاؤ تمھارا جوب کا پہلا دن ھے اللہ کامیاب کرے اور بول کر واپس گیٹ کی طرف

گئے جہاں ان کی کرسی رکھی ہوئی تھی اپنی کرسی سنبھالی روحہ ان کی دعا سن کر

مسکرائی اور دل میں قبول ھے بول کر پارکنگ صیحح جگہ کرکے قدم ہسپتال میں بڑھایا انٹر

ہوکر جانچتی نگاہوں سے ادھر ادھر دیکھا اور ریسیپشن کی جانب بڑھی روحہ کی ڈریسنگ

ایسی تھی ریسیپشن پر بیٹھی لڑکی خود ہی کھڑی ہوگئی آسلام علیکم میم کین آئی ہیلپ یو

ہاں میرے کو ڈاکٹر احسن سے ملنے کا ھے تیرے کو معلوم ھے کہاں کو ملے گے یہ ریسیپشن نے

حیرت سے اس کو دیکھا ڈریسنگ سے کوئی نہیں بول سکتا تھا کہ اتنی خوبصورت لڑکی کی آتنی

گندی لینگویج پھر بھی خود کو کمپوز کرکے بولی میم آپ نے ان سے ملنے کا۔وقت لیا تھا ابے اپن

روحہ ھے وہ جو کسی ڈاکٹر کی اسیسٹنٹ کی جوب کے لئے بولایا ھے اپن وہی ھے ایک سیکنڈ

میم میں چیک کرے بتاتی ہوں تقریباً دس سیکنڈ بات اس نے روحہ کی طرف دیکھا آپ روحہ

فاروق صدیقی ھے اس نے حیرت سے پوچھا ہاں اپن وہی ھے میم آپ سیکنڈ فلور پر چلی جائے

ڈاکٹر داؤد اور ڈاکٹر احسن آپ کو اوپر مل جائے گے وہ ابھی اوپریشن تھیٹر میں ھے آپ ویٹینگ

ایریا میں انتظار کرلئے گا کیا یہ۔میم کیوں بول رہی ھے اپن کا نام روحہ ھے کائے کو اتنا فورمل

ہورہی ھے دیکھ تو ٹینشن نہ لے تو اپن کو اچھی لگی ھے کیونکہ تونے اپن کو میم بولا ھے آج سے

ہم دونوں دوست ھے چل ہاتھ ملا آرے ملانا زبردستی آگے ہوکر اس سے ہاتھ ملایا چل اب یہ

بتا تیرا نام کیا ھے جی ریسیپشنیسٹ کی حیرت سے بھری آواز نکلی آرے کائے کو ڈر رہی ھے اب

اپن اور تو دوست ھے اور جو روحہ کے دوست ہوتے ھے وہ ڈرتے نہیں ھے بلکہ ڈراتے ھے چل

شاباش نام بول اب اپنا میرے کو اوپر بھی جانا ھے اس نے چھت کی طرف اشارہ کر کے بولا میرا

نام ایمان ھے آرے ماں صدقے بڑا پیارا نام ھے اس نے بڑی بوڑھی عورتوں کی طرح اس کی بلائے لی

چل اب اپن چلتی ھے بریک ہوا کرے گا تو اپن دونوں ملے گے اور خوب بات چیت کرے گے

دوست ٹھیک ھے اور گال پر چٹکی کاٹ کر اوپر کی طرف بڑھی ۔۔۔۔۔
!!!!!!!!!!!!!!!!!!!!!!!!!!
بھابھی آپ کا پاؤں تو اب ٹھیک ھے نہ زویا جو اپنا بیگ میں کچھ رکھ رہی تھی فورآ سیٹ سے

گردن نکال کر آگے ہوئی کیوں بھابھی کے پاؤں میں کیا ہوا ھے یہ لوگ ہانم کو کالج چھوڑ کر

یونی کے لئے نکل رہے تھے ایان ڈرائیونگ سیٹ پر تھا ہانم پیسنجر سیٹ پر اور زویا پیچھے بیٹھی

ہوئی تھی ایان ابھی کل کے بارے میں کچھ بتاتا ہانم فورا بولی نہیں کچھ نہیں بس زرہ سا پاؤں

میں کٹ لگ گیا تھا ایان کو اس بات کی توقع نہیں تھی کہ وہ یہ بات چھپائے گی آپ کو دیہان

سے چلنا چاہیے تھا نہ دیکھے آپ کو لگ گئی درد تو نہیں ہورہا ھے زویا نے اپنا چشمہ ٹھیک

کرکے فکرمندی سے کہاں تو بیک میرر سے ایان نے اس کی فکرمند چہرہ تکا نہیں زویا اب ٹھیک ھے

میرا پاؤں چلے ٹھیک ھے بھابھی خیال رکھا کرے آپ میری پہلی دوست ھے لڑکیوں میں ورنہ اس

گھماڑ انسان نے مجھے کوئی دوست ہی نہیں بنانے دی ویسے بھابھی میرے پاس ایک آئی ڈیا

ھے ہانم نے گردن پیچھے موڑی کیسا آئی ڈیا آپ جب کالج سے اور میں اور ایان یونی سے اجائے

گے تو آپ میرے گھر آنا میں آپ کو اپنا گھر دیکھاو گی اور ہم دونوں بہت ساری باتیں بھی

کرے گے ہانم پوری مڑی اور آپ کو مہندی لگانی آتی ھے نہ ہاں زویا نے اثبات میں سر ہلایا جب

میں آجاؤ گی نہ تو پھر وہاں آؤ گی تو آپ میرے دونوں ہاتھوں پر مہندی لگادینا ہانم نے اپنی

دونوں شفاف ہتھیلیاں اس کے سامنے کی یہ پھر آپ اجانا ہم باتیں بھی کرے گے اور آپ میرے

مہندی بھی لگادینا بھابھی لیکن میں کل آگئی تھی اس لیے آج آپ آنا ایان ان دونوں کی باتوں

سے بلکل پک چکا تھا جو ایک بار جو شروع ہوئی تھی ختم کی نہیں ہورہی تھی اس نے گاڑی کو

ایک دم بریک لگایا ہانم جو ابھی مہندی کے بارے میں بتانے لگی تھی بریک لگنے سے ایان کی طرف

متوجہ ہوئی گاڑی میں کیا آپ دونوں ہی موجود ھے مجھ بیچارے پر بھی تھوڑی نظر ثانی کرنا

اپ خواتین پسند کرے گی بلکل بھی نہیں گرلز ٹوک میں تم کیا بات کرو گے زویا نے اپنی عادت

سے مجبور چشمہ ٹھیک کرتے ہوئے کہاں او بہن میں تم سے نہیں اپنی ایک لوتی پیاری سی

بھابھی سے بات کر رہا تھا کیوں میں نے تمھارے پیسہ چوراہے ھے جو تم مجھ سے بات نہیں کررہے

یہ بات نہ یاد رکھوں آج میں نے ہی تمھارا اسیمینٹ کپملیٹ کرواؤ گی اس نے اترا کر کہاں

ہانم ان دونوں کی نوک جھونک پر مسکرا رہی تھیں وہ تو مجھے پتہ تھا میری ایک ہی تو کرائم

پارٹنر ھے وہ نہیں ہیلپ کرے گی تو کیا مدثر کرے گا ایان نے جب اس کو اسیمینٹ کے لئے

راضی دیکھا تو تھوڑا مکھن لگانا شروع کیا کہی مکر ہی نہ جائے اس کا تو خود رونا ختم نہیں

ہوتا اور زویا تو میری سب سے اچھی دوست ھے وہی میری ہلیپ کرتی ھے ویسے دوست سے یاد

ایا بھابھی ایان نے زویا کو جواب دیکر ہانم کی طرف متوجہ ہوا آپ کی کوئی دوست

نہیں ھے زویا ابھی جو اس کو کچھ جواب دیتی ایان کو ہانم کی طرف متوجہ ہوتے دیکھ خاموش

ہوگئی میری ایک دوست ھے لیکن آپ کیوں پوچھ رہے ھے اس نے اچھنبے سے پوچھا وہ اس

لیے بھابھی میں نے سنا ھے بہن ہی اپنے بھائی کی شادی اپنی بیسٹ فرینڈ کے ساتھ کرواتی ھے

زویا نے آنکھیں چھوٹی کرکے اس کو گھورا پہلے سمیسٹر تو کمپلیٹ کرلو پھر شادی کی بات

کرلینا آرے جاؤ زوئی چوئی میں بھابھی سے بات کررہا ھوں اور یہ بڑی سیریس ٹوک ھے تو بھابھی

بتائیں کیا وہ ااچھی ھے اور کیا سینگل ھے جی بھائی سینگل ھے وہ اور پیاری بھی بہت ںے تو

میرا نمبر دینا اس کو باقی میں دیکھ لو گا زویا کو پتہ نہیں کیوں یہ سب باتیں بہت بری لگ رہی

تھی اس لئیے پیچھے ہوکر گاڑی سے باہر دیکھنے لگی ہانم کچھ جواب دیتی اتنے میں گاڑی روکی

لے بھابھی آپ کی منزل تو آگئی آپ چلے اور میری بات اپنی اس دوست سے ضرور کرنا ہانم

ہنستی ہوئی زویا اور ایان کو خدا حافظ کرتی ہوئی کالج میں انٹر ہوگئی ایان نے بیک میرر سے

دیکھا تو زویا کی آنکھیں بند تھی اس نے بھی بینا ریسپانس کرے گاڑی یونیورسٹی کی طرف گامزن کرلی ۔
💕💕💕💕💕💕💕
جیسی گاڑی دارنی انڈیسٹری کی بڑی سی عمارت کے سامنے روکی گارڈ بھاگتا ہوا ان کے قریب آیا

اور دروازہ کھولا غازیان اپنا کوٹ صیحح کرتا ہوا گاڑی سے باہر نکلا اور ایک شان سے چلتا ہوا افس

میں داخل ہوا اور لفٹ کے پاس روک کر اس کا ویٹ کرنے لگا وہ ایک منٹ بھی نہیں روکا زرنش

کے لئے اور نہ ہی اپنی گاڑی میں اس کو لایا تھا اور زرنش بھی اپنی گاڑی سے نکل کر تقریباً

بھاگتے ہوئے غازیان کے پاس آئی ابھی وہ لفٹ میں انٹر ہوتا وہ بھی جلدی سے انٹر ہوئی اور اپنا

پھولا ہوا سانس ہموار کرنے لگی غازی بےبی یہ تو کوئی بات نہیں ہوئی تم مجھے پیچھے چھوڑ کر

آگئے اور مجھے اپنی گاڑی میں بھی لیکر نہیں آئے یہ تو کوئی بات نہیں ہوئی غازیان نے لب بھینچے

ہوئےتھے ایک سرد نگاہ اس پر ڈالی اور لفٹ سے نکل کر اپنے روم کی جانب بڑھا زرنش کو غصہ تو

بہت آیا لیکن ہمشہ کی ڈھیٹ اس کے پیچھے لپکی جیسی وہ لفٹ سے باہر نکلتی باہر سے آتے

ہوئے زین سے ٹکرائی وہ نیچے زمین دوز ہوتی اس سے پہلے زین نے اس کو کمر سے تھاما

زرنش کا منہ کھولا کا کھولا رہ گیا یہ کیا حرکت ھے چھوڑو مجھے وہ خود کو اس کی سخت

گرفت سے چھڑانے لگی میں زندہ نہیں چھوڑو گی تم کو اسٹوپیڈ انسان دیکھے اگر میں نے ابھی

آپ کو چھوڑا تو آپ کو لگ جائے گی پہلے آپ سنبھال جائے پھر میں آپ کو چھوڑ دیتا ہوں اس

نے رسانیت سے جواب دیا میں نے کہاں چھوڑو مجھے ورنہ میں تمھارا خون پی جاؤ گی اوکے

بول کر چھوڑ دیا اب وہ اپنی کمر پکڑ کے بیٹھی ہوئی تھی کیا حرکت ھے یہ وہ نیچے بیٹھے

بیٹھے ہی چلائی میں نے تو بولا تھا گر چھوڑو گا تو لگے گی میں تمھارا سر پھاڑدوگی سمجھتے کیا

ہو دو ٹکے کے انسان میں نے تو کچھ نہیں کیا آپ نے ہی بولا تھا چھوڑ دو تو چھوڑ دیا اس میں

غصہ ہونے کی کیا بات ھے زین نے بھی دوبدو جواب دیا زرنش طیش میں کھڑی ہوئی اور ایک

زناٹے دار تھپڑ اس کے منہ پر رسید کیا اپنی حد میں رہوں دو ٹکے کے انسان زیادہ زبان چلانے کی

ضرورت نہیں ھے اس نے ضبط سے آنکھیں میچی اور اس کو بازوؤں سے تھام کر دیوار کے ساتھ

پین کیا چہرہ اہانت سے سرخ پڑگیا تھا میں نے تمھاری ہیلپ کی تھی تھپڑ کس خوشی میں مارا

وہ اس حملے کے لئے بلکل ریڈی نہیں تھی چھوڑو مجھے تم جانتے نہیں ہوں مجھے کون ہوں میں

زرنش نے اپنا آپ اس سے چھڑاتے ہوئے کہاں لیکن وہ اتنے مظبوط جسامت والے شخص سے اپنا آپ

کیسے چھڑواتی چھ فٹ سے نکلتا قد کسرتی بدن سفید رنگت کھڑی مغرور ناک چہرہ پر ہلکی

بیرڈ وہ دیکھنے میں واقع بلاشبہ حسین مرد تھا چھوڑو مجھے جنگلی انسان لیکن اس کے دوبارہ

جھٹکے سے ایک دم سہم کر اس کی طرف دیکھا اس وقت کوریڈور میں کوئی نہیں ھے اگر

میں نےابھی تمھارا گلہ دبا دیا نہ تو کسی کو کچھ نہیں پتہ چلے گا کے کس نے تم کو مارا ھے وہ

دیکھ رہی ہوں کیمرہ وہ بھی بند ھے تو پھر کیا خیال ھے کردو ایسا وہ اس کی بات سن کر بہت

زیادہ گھبرا گئی تھی اور اوپر سے اس کی اتنی سخت گرفت وہ تو صیحح سے ہل بھی نہیں

پارہی تھی پھر بھی ہمت کرکے بولی نام کیکیا ھے تمھارا ابھی غازی بےبی سے بول کر یہاں سے

تم کو چلتا کرتی ہوں میرے آگے بولو گے زبان نہ کاٹ دو تمھاری وہ زہر خندہ لحجہ میں بولی اس

نے جب غازیان کا نام سنا تو تھوڑا ٹھنڈہ پڑا کون ھے آپ غازیان سر کی اس نے ضبط سے پوچھا

ورنہ اس کا بس نہیں چل رہا تھا اس چٹھنک بھر کی لڑکی کا قتل کردے میں تم کو بتانے کی

روادار نہیں ہوں لیکن تم پھر بھی سنو میں اس کمپنی کے مالک کی گرلفرینڈ ہوں اس سے زیادہ

بھی تعارف دو تم کو یہاں سب مجھے جانتے ھے ایک آواز کی دیر ھے گارڈ تمھیں کتے کی موت

مارے گے اس ںے آئی برو اچکائی تو آپ ان کی گرلفرینڈ ھے یہ سننے کی دیر تھی ایک جھٹکے

سے چھوڑا اور قہقہہ لگایا تم گرلفرینڈ ھے ان کی ویسے تم جیسی لڑکیوں کی یہی پوزیشن رہتی

ھے ساری زندگی اسی لائق ہوتی ہوں کہ کسی بھی مرد کی گرلفرینڈ بن جاؤ اس نے تمسکرانہ

انداز میں کہاں ویسے میں نے کل کی نیوز دیکھی تھی اس میں بتارہے تھےکے درانی گروپ آف

انڈسٹری کے مالک غازیان درانی نے کوئی ہاں تھوڑی سوچنے کی اداکاری کی ارے ہاں یاد ایا

ہانیہ مالک سے شادی کرلی اور غالباً آپ بھی درانی گروپ آف انڈسٹری کے مالک غازیان درانی

کی ہی بات کررہی ھے بہت افسوس ہوا جان کر کے آپ کے بوائے فرینڈ نے شادی چچچچچ زین نے

تمسکرانہ لحجہ میں آدھی ادھری بات کی کہاں اور لفٹ کا بٹن دبایا ابھی جو اس نے سامنے والے

کا چہرہ لال کیا تھا اب خود کا چہرہ اہانت کے احساس سے سرخ ہورہا تھا میں تم کو چھوڑو گی

نہیں تم جو کوئی بھی ہوں اگر تم کو یہاں سے دھکے مارکر نہیں نکل وایا تو میرا نام بھی زرنش

عالم نہیں جسٹ ویٹ آیند واچ اس نے چیخ کر کہاں زین نے دل جلادینے والی مسکراہٹ پاس کی

جس کو دیکھ کر وہ مزید سیخ پاہ ہوئی اور پیر پٹخ کر غازیان کی آفس کی جانب بڑھ گئی ۔۔۔
جاری ھے ❤️