No Download Link
Rate this Novel
Episode 31
مغرور محبت 31
رائٹر ۔۔۔۔انابیہ شاہ
Episode no 31
بہی میمو جان اب بتانا اسٹارٹ کرے کے آپ کی کتنی فرینڈز آئے گی داؤد نے کاپی پر مہمان لسٹ
بناتے ہوئے پوچھا میری زیادہ نہیں ھے بس کچھ ہی ھے انہوں نے لاپرواہی سے کہاں داؤد صوفے
پر بیٹھا ہوا تھا اس کے برابر میں زویا داؤد کی کتاب میں جھانک رہی تھی ہانم سر پر دوپٹہ
آوڑھے نماز کے اسٹائل میں بیٹھی ان سب کی مزہ مزہ کی باتیں انجوائے کررہی تھی اور غازیان ایک
دم سنجیدہ سا موبائیل میں مصروف تھا اور میمونہ بیگم سینگل صوفے پر تھوڑی کے نیچے
ہاتھ رکھ کر بیٹھی اپنے بچوں کو مسکراتے اور خوش ہوتے دیکھ رہی تھی اور ایان ان کے
قدموں کے قریب بیٹھا چپس کھانے میں مگن تھا ایک سیکنڈ پہلے ایک کام کرتے ھے میمو جان کے
جتنے بھی مہمان ھے ان کے نام لکھتے ھے اس کے بعد ہمارے یعنی میرے اور زوئی کے پھر غازی
بھائی پھر داؤد بھائی پھر بھابھی کے ایان نے ہاتھ اٹھا کر ایکسیڈیڈ ہوتے ہوئے کہاں کاینڈ فور
یور انفورمیشن ایان جی داؤد بھائی نے ابھی مما سے ہی پوچھا ھے کہ ان کے مہمان کون کون ھے
تو آپ کا یہاں بولنا بنتا نہیں تھا زویا نے اپنا چشمہ ٹھیک کرکے کہاں غازی بھائی دیکھے ابھی
بھی میں نے بات شروع نہیں کی آپ کی چہتی بہن لڑنا شروع ہوگئی ھے ایان نے فورا شکایت
لگانا ضروری سمجھا ہانم کی بھی گردن میکانکی انداز میں ہاں میں ہلی غازیان نے سب کی طرف
ایک سنجیدہ نظر سے دیکھا اور واپس اپنے موبائیل میں مصروف ہوگیا بھابھی زویا نے جب
ہانم کو اثبات میں سر ہلاتے دیکھا تو صدمے سے بھری آواز اس کے حلق سے برآمد ہوئی سب نے
ایک ساتھ قہقہ لگایا بیٹا دیکھ لے بھابھی بھی اب تو میری ٹیم میں ھے میں آپ سے بات نہیں
کرو گی بھابھی زویا نے خفگی سے کہاں نہیں زویا وہ تو گردن میں درد ہورہا تھا اس لئے بس
ہاں میں سر ہل گیا اس نے جلدی سے معصومیت سے کہاں تو سب نے قہقہہ لگایا غازیان نے بھی زرہ سا سر اٹھا کر ہانم کی
طرف دیکھا اور واپس اپنے فون پر مصروف ہوگیا دیکھا دیکھا ایان بھابھی نے کیا بولا زویا
فورا بولی اچھا اچھا بس کردو تم دونوں میمونہ بیگم بولی ایان جو ابھی اپنے لب کھولتا میمونہ
بیگم کی آواز پر خاموش ہوکر واپس صوفے سے ٹیک لگا کر بیٹھ گیا چلو داؤد تم بتاؤ تمہارے
مہمان کون کون سے ھے زویا تم نوٹ ڈاؤن کرو داؤد کے مہمان نہیں میمو جان میرے زیادہ نہیں
ھے میرے فرینڈز میں ڈاکٹر احسن ڈاکٹر ماہین اور بس اور ہاں ایک مس روحہ بھی ھے اور کوئی
نہیں ھے اووووو مس روحہ اہم اہم ایان نے چھیڑا غازیان نے روحہ کے نام پر اچھنبے سے اس کی
طرف دیکھا لیکن پھر کچھ سوچتے ہوئے خاموش ہوگیا ایان بتمیزی نہیں اس نے تنبیہہ کہاں میمو
جان مس روحہ سمجھ رہی ھے آپ ایسی کوئی بات نہیں ھے ایان بتمیزی نہ کر تو بھائی بتائے نہ
مس روحہ کون زویا بھی اس کے قریب کھسکی زوئی تو بھی کرے گی ابے یار کوئی نہیں ھے وہ
میری اسیسٹنٹ ھے میرے بس یہ تین ہی لوگ ھے میمونہ بیگم نے بہت غور سے اس کے چہرے کو
دیکھا جہاں ایک الگ ہی خوشی تھی روحہ کے نام سے تو مسکرا کر بولی اگر کوئی سین ہوں تو
ضرور بتانا ایک نکمے نے تو ماں کے بغیر شادی کرلی اگر تو نے کی نہ تو بات نہیں کرنی میں نے
ارے یار نہ کرے میمو جان سب نے ایک بار پھر قہقہ لگایا اچھا اچھا بس اب تم۔دنوں بولو کس
کس کو بلوانا ھے داؤد نے ہاتھ اٹھا کر سب کو ایان اور زویا پر متوجہ کیا دنوں ایک ساتھ بولے
بس مدثر وہ میرا دوست ھے زوئی وہ میرا بھی دوست ھے ایان دی اینا کونڈا میمو جان دیکھ
رہی ھے آپ اس کو زوئی نہ بولو میرے بچے کو ایسا اور مدثر تو بیٹا فیمیلی ھے اس کے علاؤہ
کوئی اور نہیں ھے انہوں نے شفقت سے ایان کے بالوں میں ہاتھ چلاکر کہاں نہیں میموجان بس
میری طرف سے یہی ھے اور میری طرف سے بھی یہی ھے چلو تو ٹھیک اب غازی بھائی آپ بتادے
داؤد نے کوپی پر مدثر کا نام ایڈ کرکے غازیان سے پوچھا جو ابھی بھی اپنے۔موبائیل پر مصروف
تھا ہانم نے بھی اپنی معصوم آنکھوں سے اس کی طرف دیکھا میرے بس کچھ بزنس پارٹنر اور
کچھ آفس ورکر ہوگے اور زیادہ نہیں پھر بھی ٹوٹل بندے بتاؤ اور یہ کیا جان چھڑوانے والے
انداز میں بتارہے ہوں میمونہ بیگم نے اس کے عجلت میں بتانے پر چوٹ کی ارے نہیں میں زرہ
آفس کا کام کرہا تھا آج گیا نہیں تو بس میری طرف سے ٹوٹل سب کو ملاکر تقریباً پچاس بندے
تو ہوگے کم از کم اس نے کچھ سوچتے ہوئے کہاں صحیح ھے اب بچی بھابھی تو آپ بتائے داؤد نے
اب کے ہانم سے پوچھا جو غازیان کو دیکھنے میں مگن تھی داؤد کے ایک دم پوچھنے پر گڑبڑا کر
اس کی طرف دیکھا جی بھائی آپ نے کچھ کہاں جی بھابھی میں پوچھ رہا ہوں اب آپ بتائیں آپ
کس کو بلوائے گی غازیان نے فون سائیڈ پر رکھ کر ہانم کی طرف دیکھا بابا ماما تو آئے گے نہیں
ناراض ھے لیکن جلدی مان جائے گے مجھے پتہ ھے اور میری کوئی دوست بھی نہیں ھے بس
فائزہ ھے وہ بھی ناراض ھے آنکھوں میں ایک دم نمی سی جما ہونے لگی اگر وہ آجاتی تو بہت
اچھا لگتا مجھے لیکن وہ نہیں آئے گی اس نے اداسی سے کہاں غازیان نے اس کی آنکھوں میں
نمی دیکھ کر مٹھیاں بھینچی ایان نے بھی فائزہ کے زخر پر ناگواریت سے سر جھٹکا داؤد نے ترحم
بھری نگاہوں سے ہانم کی طرف دیکھا جو اب اپنی آنکھوں کی نمی صاف کرہی تھی زویا نے
اس کے ہاتھ پر ہاتھ رکھا کوئی بات نہیں بھابھی وہ نہیں ھے تو کیا ہوا ہم تو ھے نہ آپ کے پاس
مما داؤد بھائی ایان میں اور سب سے اسپیشل غازی بھائی ان کی کمی پوری ہوجائے گی زویا
سب بولتے ھے یار کے اس کی کمی پوری ہوجائے گی لیکن کبھی بھی اس کی کمی کسی سے بھی
پوری نہیں ہوسکتیں ھے میں جانتی ہوں لیکن کوئی بات نہیں آپ سب تو ھے نہ پھر جب سب
کو غمگین ہوتے دیکھا تو ایک دم خود کو کمپوز کرکے بولی تو سب کے چہرے پر واپس سے وہی
مسکراہٹ آگئی لیکن غازیان نے جو تھوڑی دیر پہلے اس کی آنکھوں میں چمک دیکھی تھی اب
وہ کہی بھی نہیں تھی وہ ہنس تو رہی تھی لیکن اس کی آنکھیں ویران تھی جو اس کی اچھی
نہیں لگ رہی تھی اس نے ایک فیصلہ کیا تھا بیٹھے بیٹھے جیسے اس کو شادی والے دن پائے تکمیل پر پہنچانا تھا ہر حال میں ۔۔۔
°°°°°°°°°°°°°°°°°°°
آخر بات تھی کیا سالا اپن کو جاننے کا تھا لیکن یہ رانا یہ پینٹینگ والا کیا سین ھے جس سے سب
خراب ہو جائے گا سالا بتانے تو دیتا آپن کو اس کی ساری سوچ ابھی تک وہی پر ہی تھی دماغ
ابھی تک رانا کی باتوں میں ہی اٹکا ہوا تھا ایسے کیسے ہو سکتا ھے ایک معمولی سی پینٹنگ اتنی
ضروری اس نے جھٹکے سے بائیک روکی کہی جو میں سوچ رہی ہوں وہ نہ ہوں اگر سلا یہ ہوگیا تو
بڑا مسلہ ہو جائے گا کتا بھونکنے تو دیتا اس ڈی کے کو اس نے غصہ میں اپنے بائیک کی ٹینکی پر
ہاتھ مارا پھر واپس بائیک اسٹارٹ کی اور دس منٹ میں گھر پر پہنچی بائیک پارک کرکے اندر
داخل ہوئی گارڈ آج ابھی بھی سورہا تھا اس کا دماغ گھوما یہ ٹوپا گھر کا حفاظت کرتا ھے
یہ سارا سارا دن سونے آتا ھے سالا ہر وقت تو ہلکٹ سوتا ہوا ملتا ھے اما اٹھو اس کے قریب
گئی اور اس کے کان کے قریب ہوکر چیکی تو وہ ہڑبڑا کر اٹھا اما تم کو یہاں کام کرنا کا پیسہ ملتا
ھے یہ پھر سونے کا وہ باجی جی سالا اپن جب دیکھتی ھے تو سورہا ہوتا ھے اپن کو یہ بات
سمجھ نہیں آرہی نہیں وہ بس ابھی زرہ آنکھ لگ گئی تھی وہ دھیمی سی آواز میں منمنایا بات
سن بے کان۔کھول کے آخر بار چھوڑ رہی ھے تیرے کو اب دیکھا نہ تیرے کو یہاں پر ایسے سوتے ہوئے
بیٹا تیری ایسی چھٹی کرے گی کہ دوبارہ یہ گارڈ کی وردی نہیں پہنے گا سمجھ آئی جی جی باجی
جی دماغ ویسی رانا کی باتوں سے ویسی خراب تھا اوپر سے اس کو سوتے دیکھا تو مزید دماغ
گھوما گھر میں داخل ہوئی تو لاونج میں ہی صدیقی صاحب اور فوزیہ
بیگم بیٹھے کسی بات پر بحس کررہے تھے سلام باپو سلام ماتاری بائیک کی چابی رکھتے ہوئے
کہاں یہ کونسا طریقہ کا ھے سلام۔کرنا کا ہزار بار سمجھایا ھے انسانوں کی طرح سلام کیا کرو
لیکن کیا کرو میں تمھارا فوزیہ بیگم نے فورا ٹوکہ یار نہ کر ویسے ہی بھیجے کی بجی ہوئی ھے
کھانا ھے تو لادے اس نے بے زاریت سے صدیقی صاحب کے برابر میں بیٹھتے ہوئے کہاں کیا ہوا ھے
تمھیں طبیعت ٹھیک ھے تمھاری صدیقی صاحب نے فکرمندی سے اس کے ماتھے پر ہاتھ رکھ کر
کہاں ٹھیک ھے اپن ان کا ہاتھ ہٹاتی وہ اوپر روم کی جانب جانے لگی کھانا نہیں کھاؤ گی فوزیہ
بیگم نے اس کو اوپر جاتے دیکھا تو فورا بولی کھائے گی یار ہاتھ منہ تو دھونے دے اتے ہی
شروع ہوجاتی ھے سلام کر یہ کر وہ کر کیا ہوگیا ھے روحہ صدیقی صاحب ایک دم۔سنجیدہ ہوکر
بولے کیسے بات کرہی ہوں ماں سے یار معاف کردو میرے کو ابھی میرے کو کسی سے بات نہیں کرنے
کا ھے اس نے باقاعدہ ہاتھ جھوڑتے ہوئے کہاں میں زرہ ہاتھ منہ پر پانی مار لو پھر آتی ھے جب
تک تو کھانا لگا بول کر وہ اپنے کمرے کی طرف بڑھی اس کو کیا ہوا ھے فوزیہ بیگم نے اس کے
اتنے روکھے رویہ پر حیران ہوتے ہوئے بولی لگتا ھے میری صبح والی بات سےا بھی بھی ناراض
ھے صدیقی صاحب نے کچھ سوچتے ہوئے کہاں فوزیہ بیگم نے بھی سمجھتے ہوئے گردن اثبات میں ہلا کر کھانا لگانے چلی گئی ۔۔۔۔
°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°
وہ روم میں داخل ہوا تو ہانم جائے نماز لپیٹی کر رکھ رہی تھی بھوک تو نہیں لگ رہی تمھیں
صوفے پر بیٹھتے ہوئے ہانم سے بات کرنے کی گرز سے پوچھا نہیں ابھی تو نہیں لگ رہی لیکن ایسا
لگ رہا ھے کہ بھوک لگ رہی ہوں غازیان نے ناسمجھی سے آئی برو اٹھائی مطلب آرے میں
بول رہی ہوں مجھے پتہ نہیں کیوں ایسا فیل ہورہا ھے کہ مجھے بھوک لگ رہی ھے اگر میں
ابھی کچھ نہیں کھاؤ گی تو مجھے آدھی رات کو بھوک لگے گی اس نے بے چارگی سے کہاں تو
غازیان نے مسکراتے ہوئے سر اثبات میں ہلایا اور انٹر کوم اٹھا کر کھانے کا بولنے لگا اماں بی کھانا
لے کر اوپر آئے ہانم کے لیے ہانم کی بانچھیں کھلی اور ان کو بولے کہ کچھ پھل بھی لے ائے اچھا جی
اور کچھ فروٹ بھی لے ائے جلدی اور کل کالج بھی جانا ھے تمھیں یاد ھے نہ نہیں کل تو میں جا
نہیں سکتی اور وہ کیوں کل تو ولیمہ ھے کل۔کیسے جاؤ گی اس نے ماتھا پیٹتے ہوئے کہاں تو
ولیمہ رات میں ھے صبح کالج آپ جاسکتی ھے آرے میرا ایک ہی ۔ولیمہ ھے آپ کو پتہ ھے ہر
لڑکی کو اس دن کا انتظار ہوتا ھے میری شادی بھی ہوگئی اور مجھے پتہ بھی نہیں چلا لیکن اب
ایک فنکشن ھے اور زویا بھی بھی بول رہی تھی کہ ناشتہ کے بعد ہم دونوں پارلر جائے گے تو پھر
میں کالج کیسے جاو گی اور اگر میں کالج چلی گئی تو پارلر کون جائے گا آپ جائے گے اس نے
دوبدو بینا ڈرے کہاں تو غازیان نے داد دیتی آئی ابرو اٹھائی اتنی حمت کہاں سے آگئی تم میں بہت
بولنا آگیا ھے اس نے کہاں ہانم جو ابھی جو اتنا کھ کر بات کررہی تھی کہ ایک دم گڑبڑائی وہ۔۔۔
زویا بول رہی تھی آپ دل کے اچھے غلط چیز کے علاؤہ غصہ نہیں کرتے اس لئے بس ڈوپٹہ صحیح
کرتے ہوئے بولی تو غازیان نے مسکراتے ہوئے اس کے صاف اور شفاف معصوم چہرے کو دیکھا
کھانا کھ کر سوجانا کل صرف ولیمہ کی وجہ سے تمھیں چھوٹ ملی ھے اس کے بعد تم ریگولر
جاؤ گی ہانم نے سن کر اچھے بچوں کی طرح اثبات میں سر ہلایا ایک بات پوچھوں آپ سے ہانم
نے تھوڑا ڈرتے ڈرتے کہاں ہاں پوچھو آپ مجھے گفٹ دیگے زویا بول رہی تھی کہ آپ مجھے گفٹ
دیگے اچھا یہ بات زویا نے بولی ھے جی جی زویا نے بولا تھا اس نے جلدی جلدی سر اثبات میں
ہلایا چلو تمھیں ایک اچھا سا سرپرائز ملے گا کل رات کو اس کے لئے تیار رہوں ہانم سن کر مسکرائی
اس کی مسکراہٹ بھی اس کی طرح معصوم تھی
جاری ھے ❤️
