Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 53

مغرور محبت 53
رائٹر ۔۔۔۔۔۔انابیہ شاہ
Episode no 53

غازیان گہری سانس خارج کرکے کمرے میں داخل ہوا پورا کمرہ خالی تھا ہانم کا وجود کہی بھی

نہیں تھا بے ساختہ اس کی نگاہوں نے ہانم کو ڈھونڈا باتھروم کی لائیٹس جل رہی تھی یقیناً وہ

باتھروم میں تھی وہ جو کب سے سونے کی کوشش کررہی تھی لیکن نیند نہ آنے کی وجہ سے

واشروم فریش ہونے گئی تھی رونے کی وجہ سے سر میں درد ہوگیا تھا آنکھیں لال سرخ ہورہی

تھی وہ باہر آئی تو آنکھیں خوف کے مارے پھیلی جس کے ڈر سے وہ جلدی سونے کی

کوشش کررہی تھی جس کے ڈر کی وجہ سے وہ واشروم فریش ہونے تک نہیں جارہی تھی وہ

سامنے ہی اپنا پاؤں پاؤں پر رکھ کر اپنی گرین آنکھوں سے ہانم کی جانب ہی دیکھ رہا تھا جن

آنکھوں میں ہانم نے اب تک نرمی دیکھی تھی آج اس کی آنکھوں میں صرف غصہ تھا غصہ کی

باعث آنکھیں لال ہورہی تھی اس نے اپنی انگلی کے اشارہ سے اس کو قریب آنے کا اشارہ کیا ہانم

کی غلٹی ابھر کر معدوم ہوئی اور ڈر کر نفی میں سر ہلایا آنکھیں نمکین پانی سے بھرنے لگی تھی

جو غازیان کے غصہ کا گیراف بڑھانے کا باعث بنی تھی ہانم ادھر آؤ وہ سنجیدگی سے بولا تو اس نے

ایک بار پھر نفی میں سر ہلایا اور کپکپاتی آواز میں بولی سو۔۔۔سوری غا۔۔۔۔غازی جی اب۔۔۔نہی۔۔۔

نہیں کرو گی۔۔۔پلی۔۔۔پلیز معاف کردے آنکھوں سے آنسوں گالوں پر بہہ نکلے تھے تمھیں انسانوں

کی زبان سمجھ نہیں آتی ھے ہانم ادھر او اگر میں وہاں اگیا نہ تو تمھارا حشر کردو گا وہ اس

کو تنبیہہ انگلی اٹھا کر اس کو وارن کرنے والے انداز میں بولا غازی جی پلیز کردے نہ معاف اللّٰہ

کی قسم دوبارہ نہیں کرو گی خوف کے مارے اس سے ہلا بھی نہیں جارہا تھا یعنی تمھیں ایک دفعہ

کی بات سمجھ نہیں آتی اس نے اپنا پیر نیچے کرکے کھڑا ہونے لگا اچھا۔۔۔اچھا آرہی ہوں وہ

کپکپاتی ہوئی آواز میں بولی آنسوں روکنے کا نام نہیں لے رہے تھے وہ واپس جیسے بیٹھا تھا ویسے

ہی بیٹھا وہ ابھی بھی وہی کھڑی تھی اور مسلسل رورہی تھی جو اس کے غصہ کو مزید ہوا

دے رے تھے ہانم تم پانچ سیکنڈ میں یہاں میرے سامنے آکر کھڑی نہیں ہوئی نہ تو جو حشر میں

تمھارا کرو گا وہ تمھاری سوچ ھے اس نے اپنی گرجدار آواز میں کہاں تو اس نے ایک ہچکی لی

اور مرے مرے قدموں سے چل کر اس کے سامنے کھڑی ہوگئی سر جھکا ہوا تھا اور انسوں ابھی

بھی تواتر جاری تھے اب جو میں تم سے پوچھوں گا اس کا جواب مجھے ٹھیک ٹھیک

چاہئیے ورنہ تمھاری سوچ ھے میں اس ٹائم کیا کر گزرو گا اس نے اثبات میں سر ہلایا گردن نہیں

ہلانی ھے ہانم اللہ نے زبان دی ھے۔نہ جو سب کے سامنے خوب چلتی ھے اس کو میرے سامنے

چلانے کی بھی زحمت دو بولو سچ میں جواب دو گی ابھی وہ ایک بار پھر انتہائی روعب سے بولا

ہا۔۔ہاں دوگی ٹھیک مجھے جواب ہاں اور نہیں میں چاہئے سمجھ آئی ج۔۔جی ہسپتال میں کیا

تم نے مجھ سے جھوٹ کہاں تھا کہ تم فائزہ کے گھر جارہی ہوں وہ چاہتا تھا کہ وہ خود اپنے منہ

سے قبول کرے کے وہ جھوٹ بول رہی تھی اس نے نم آنکھوں سے اس کی جانب دیکھا جواب دو

وہ اپنی پوری قوت سے ڈھاڑا تھا ہا۔۔۔ہاں تمھیں شروع دن سے سب معلوم تھا کہ داؤد کسی کو

پسند کرتا ھے اور شادی کرنا کا خواہشمند ھے ہاں کی نہ اس نے ایک بات پھر سوال کیا غازی جی

اب نہیں ہوگا میں وعدہ کرتی ہوں رونے کی وجہ سے آواز کافی بھاری ہورہی تھی میں نے جو

سوال پوچھا ھے اس کا جواب چاہیے مجھے فضول کی بکواس نہیں سننی مجھے تمھارے منہ

سے ہاں معلو۔۔م تھا۔۔۔ مجھے اس نے اپنے جبڑے ضبط سے بھینچے تمھیں پتہ ھے نہ مجھے

جھوٹ سے سخت نفرت ھے اس لئے میں نے تمھارے ساتھ زندگی شروع کرنے سے پہلے سارا

سچ تمھیں بتا دیا تھا اور امید کی تھی کہ تم۔بھی مجھ سے جھوٹ نہیں بولو گی اور کتنے

جھوٹ بولے ھے تم نے مجھ سے کالج کا بول کر کہی اور بھی گئی ہوں تم ہانم نے بے ساختہ سر

اٹھایا اور روتے ہوئے نفی میں سر کو جنبش دی ایسا۔۔نہی ۔۔۔۔نہیں ھے غازی جی پلیز نہ اب کبھی

نہیں کرو گی ہانم میں سوچ رہا ہوں تم یہاں رہ کر مزید بگڑو گی تمھیں لیکر میں اسلام آباد

شفٹ ہوجاتا ہوں یہی تمھاری سزا ھے نہیں نہیں میں کہی نہیں جاؤ گی آپ اس کے علاؤہ جو سزا

دے گے مجھے منظور ہوگی میں یہاں سے کہی نہیں جاؤ گی وہ بول کر آنکھوں پر ہاتھ رکھ کر

ہچکیوں سے رونے لگی غازیان ایک بار پھر پھگل رہا تھا اس کے آنسوں سے اس سے برداشت نہیں

ہوتے تھے اس کا رونا ہانم درانی میں نے تمھیں مارا ھے جو اس طریقے سے رورہی ہوں وہ اپنے

پورے جہاو جلال سے بولا اس نے خوف سے سر کو نہیں میں جنبیش دی کیوں رورہی ہوں مر گیا

ہوں میں اللہ نہ کرے اس کے منہ سے بے ساختہ نکلا میں نہیں جاؤ گی غازی جی کہی بھی آپ

جو سزا دے گے مجھے منظورِ ہوگی ٹھیک ھے پھر کان پکڑو اور ہزار اٹھک بیٹھک لگاؤ پھر سوچوں

گا کیا کرنا ھے اتنی ساری لگاؤ وہ اپنی آنکھیں بڑی کرکے بولی ہانم کان پکڑو اور شروع ہوجاو

اس نے بہت ہی مسکین سی شکل بنا کر اس کی جانب دیکھا کیا پتہ اس کو تھوڑا رحم اجائے

غازیان نے اپنا چہرہ دوسر طرف پھیرہ ہانم نے اپنے کان پکڑے اور لگانا شروع کی سو ہوتے ہی

وہ نیچے کو گیری کھڑی ہوں ہانم ابھی سو ہی ہوئی ھے نو سو ابھی باقی ھے میری ٹانگوں میں

درد ہورہا ھے غازی جی اور نہیں لگا پاؤ گی اچھا ٹانگوں میں درد ہورہا ھے اس کا کیا ہانم جو

میرے دل میں درد ہورہا ھے شرم نہیں آئی تمھیں مجھ سے جھوٹ بولتے ہوئے بولو اس

نے شرمندگی سے سر جھکایا مجھے نہ امید نہیں تھی تم سے کہ تم۔ مجھ سے جھوٹ بولوں گی

قسم سے دل بھی نہیں چاہ رہا ھے تم سے بات کرنے کا دل چاہ رہا ھے تمھیں اس وقت تمھارے

ماں باپ کے گھر چھوڑ آؤ لیکن میں ایسا ہر گز نہیں کرو گا کیونکہ بہت غیر مند ہوں اپنی بیوی

کو اپنے گھر میں رکھتا ہوں میں لیکن اس سے دوری بنائے رکھوں گا غازی جی پلیز ایسے نہیں

بولے میں وعدہ کرتی ہوں آئیندہ آپ کو شکایت کا موقع نہیں دو گی ہانم اس کی بات سن کر تڑپ

کر بولی پتہ ھے ہانم مجھے زندگی میں دو بار دکھ ہوا ھے ایک بار جب میرے باپ میرے ہیرو نے

میری آنکھوں کی سامنے میری ماں کا قتل کیا تھا میرے ان کانوں نے ان کا کنفیشن سنا تھا کہ وہ

میرے دادا دادی کے قاتل ھے اور ایک آج جب صبح تم نے مجھ سے جھوٹ بولا تھا کہ تم فائزہ

کہ گھر جارہی ہوں ہانم مجھے کہی نہ کہی ایک امید تھی تم سے کہ تم۔مجھ سے ایک بار ہی

صحیح لیکن شئیر کرو گی لیکن تم نے مجھے ایک دفعہ بتانے کی بھی ضرورت محسوس نہیں کریں

تمھارے لئے میں اتنا غیر تھا کہ تم نے مجھے ایک بار بھی نہیں بتایا شوہر ہوں نہ میں تمھارا لیکن

افسوس یار تم نے کبھی سمجھا ہی نہیں غازیان کا غصہ کی جگہ اس کے دکھ نے لے لی تھی ہانم

سانس روکے اس کی باتیں سن رہی تھی تمھیں پتہ ھے میں نے کالج کے باہر دیکھا تھا اور وہی

تمھیں اپنا دل دے دیا تھا پتہ ہی نہیں چلا جس کو میں اٹریکشن سمجھا تھا وہ میری محبت تھی

میں جانتا ہوں مجھے اظہار نہیں آتا لیکن ہاں غازیان درانی تم سے بول رہا ھے تم سے بے حد

محبت کی ھے میں نے اور کرتا رہوں گا لیکن اب بات نہیں کرو گا چاہے کچھ بھی ہو جائے یہئ

تمھاری سزا ھے وہ اٹھ کر جانے لگا تو ہانم ایک دم ہوش کی دنیا میں لوٹی غازی جی میں نے

اتنی بڑی غلطی بھی نہیں کریں ھے جتنی بڑی آپ سزا دے رہے ھے وہ روکا ضرور تھا اس کی

پکار پر لیکن مڑا نہیں تھا میں آپ سے معافی مانگ رہی ہوں نہ پلیز معاف کردے آئیندہ میں

کبھی کوئی جھوٹ نہیں بولوں گی پلیز کردے معاف اس نے ایک آس سے کہاں کبھی نہیں وہ

صرف اتنا بول کر وہاں سے چلا گیا تھا وہ جانتا تھا وہ روئے گی لیکن وہ اس بار چاہتا تھا کہ وہ

روئے کیونکہ وہ نہیں چاہتا تھا کہ وہ اگلی بار بھی اس سے جھوٹ بولے وہ اور اس کی سوچ

کے متعلق گھٹنوں کے بل بیٹھ کر ہچکیوں سے روئی تھی ۔۔۔
°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°
چلو زین چلتے ھے زرنش نے میرر میں اپنا دوپٹہ ٹھیک کرتے ہوئے کہاں وہ سیٹ بیلٹ اتار کر اترنے

لگی تو نظر زین پر پڑی تو وہ اپنے ناخن دانتوں سے چبا رہا تھا اور آنکھیں ہنوز گیٹ پر تھی کیا

ہوا ھے اور یہ ہاتھ منہ سے نکالو جراثیم ہوتے ھے اس نے اس کا ہاتھ نیچے کرتے ہوئے کہاں یار

زرنش میری پھٹ رہی ھے قسم سے اگر ایک بار بابا یہ مما کے ہتھے چڑھا نہ تو خوب پھینٹی

لگنی ھے تو اندر جانا ھے کے نہیں یہ پھر گاڑی موڑو غازی کے اپارٹمنٹ میں نہیں جاسکتے تو

میرے والے میں چلتے ھے بابا نے مجھے ایک گفٹ کیا تھا ہم وہاں چلتے ھے نہیں یار زر اگر ہم ابھی

اندر جائے تو کیا پتہ مما بابا تمھیں دیکھ کر مجھے چھوڑ دے لیکن اگر میں ابھی گھر نہیں

گیا تو غازی بھائی کتے کی طرح مارے گے اس لئے مما سے ہی مار کھا لیتا ہوں باقی جو ہوگا دیکھا

جائے اللّٰہ کا نام لیکر چلتے ھے ہاں چلو وہ دونوں گاڑی سے اترے اور گھر کی طرف بڑھے زین نے

بیل بجائی تھوڑی دیر بعد گارڈ نے دروازہ کھولا جی صاحب کس سے ملنا ھے وہ نیا تھا زین کو

نہیں جانتا تھا ابے تو کون ھے اور جو یہاں ہوتے تھے وہ کہاں ھے جی صاحب ہم ابھی نیا آیا ھے

آپ یہ بتاؤ کس سے ملنا ھے زین کی تیوری چڑھی مطلب اسی کے گھر میں وہ کھڑا ہوکر بول

رہا ھے کس سے ملنا ھے میرا گھر ھے بیٹا جی اس گھر کا بیٹا ہوں میں زین العابدین اس نے کالر

کھڑے کرتے ہوئے فخر سے بتایا نہیں صاحب کا تو کوئی بیٹا نہیں ھے بس ان کا ایک بیٹی ھے جس

کی شادی آج ہوگئی تم کون ھے کہی تم چور تو نہیں ھے ابے او وہ اس کا گیربان پکڑتا اس سے

پہلے زرنش بیچ میں آئی آپ اندر جائے اور بتائے کے اپ کا بیٹا زین اور آپ کی بہو زرنش آئے ھے

جائے آپ جلدی سے اندر اس نے زین کا ہاتھ پکڑ کر اس کو روکا اور اندر گارڈ کو اطلاع کرنے

بھیجا کر یہ کیا تھا زرنش اس نے کڑے تیوروں سے پوچھا یار کچھہ نہیں تھا تمھارے پیرینٹس

ابھی ویسے ہی ناراض ھے اگر ابھی تم یہ سب مار پیٹ کرو گے تو وہ اور مزید تم سے خفا ہو جائے

یار زرنش ایک بات پوچھوں اس نے تفتیشی انداز میں کہاں ہاں پوچھوں یار تم جھوٹ نہیں بولنا

ہمم نہیں بولو گی جس رات میری اور تمہاری شادی ہوئی تھی اور میں تمھیں چھوڑ کر چلا گیا

تھا اس رات کیا تم کسی لڑکی سے بدل گئی تھی مطلب اس نے کنفیوز ہوکر پوچھا مطلب یہ کے

جس زرنش کو میں جانتا تھا اس میں اتنی سی بلکل اتنی سی بھی عقل نہیں تھی تو پھر

تمھارے میں کسیے آگئی آئی ایم ویری کنفیوز چپ کرجاو اور جیسا کہاں ھے ویسا ہی کرنا

دیکھنا یہ آئیڈیا کتنا مفید ثابت ہوگا اور بلکہ ابھی ایک دم مسکینوں جیسی شکل بناؤ اور

آیسے ایکٹ کرو تم ایک دم روڈ پر آگئے ہوں کھانے تک کے پیسے نہیں ھے یہ کپڑے بھی غازی

کے مانگ کر پہنے ھے مجھے بھی غازی کی بیوی کے مانگ کر پہنائے ھے ایسا کرو پھر ایک دفعہ تم

گھر میں انٹر ہوجاو اس کے بعد پیر پکڑ کر معافی بھی مانگ لینا ہاں یار اس آئیڈیا کے بارے میں

سوچا جا سکتا ھے اس نے سوچنے والے انداز میں اثبات میں سر ہلایا وہ گارڈ آیک دم سے نمودار ہوا

جی صاحب آپکو اندر بلایا ھے اس نے ایک نظر زرنش کو دیکھا اور اس کا ہاتھ تھام کر اندر داخل

ہوا اس نے اپنا پہلا قدم لاونج میں رکھا اور ایک اڑتی ہوئی فیلائینگ چپل آئی وہ تو بر وقت نیچے

کی جانب جھک گیا ورنہ وہ سیدھا منہ پر سلامی دیتی ان دونوں نے سامنے دیکھا تو

صدیقی صاحب کے ہاتھ میں بیلٹ تھی اور فوزیہ بیگم کے ہاتھ میں چپل زرنش اور زین نے خوف

سے ایک دوسرے کو دیکھا بھاگ زرنش بھاگ حملہ ہوگیا ھے وہ اندر کی جانب ہی زرنش کا

ہاتھ پکڑ کر بھاگا صدیقی صاحب پکڑے اس کو یہاں سے فوزیہ بیگم اس کا راستہ روکتے ہوئے

بولی ارے مما بات تو سنو آج تو بچ جا یہ وقت ھے گھر آنے کا اور کہاں تھا تو اتنے دن انہوں نے

ایک چپل اس کی کمر پر رسید کرتے ہوئے کہاں اس نے زرنش کا ہاتھ چھوڑا اور زینے کی۔سائیڈ

بھاگا ارے میری بات تو سنے یار بیوی کے سامنے تو نہ مارے وہ زینے پر چڑھ کر بولا صدیقی

صاحب آپ کو مارنے کے لئے دیا تھا یہ بیلٹ ہاتھ میں لپیٹنے کے لئے نہیں کیا کررہے ھے صدیقی

صاحب زرنش کو ساتھ دیکھ کر ایک دم روک گئے تھے انہوں نے آنکھوں کے اشارے سے زرنش کی

موجودگی کا احساس ان کو دلایا جو خوف سے ایک کونے میں کھڑی اس دنگل کو ہوتے دیکھ رہی

تھی ان کی نگاہ بھی سامنے اٹھی تو سرعت سے ہاتھ میں پکڑی چپل زمین پر پھینکیں اور اس

کو دیکھ کر جبرآ مسکرائی اور ایک گھوری سے زین کو۔نوازہ۔جو اوپر کھڑا نیچے کی کاروائی

دیکھ رہا تھا وہ دونوں زرنش کے قریب ہوئے تو وہ ڈر کر پیچھے کی جانب ہوئی اس کو یہ سب

دیکھ زین کا وہ۔غصہ والا روپ یاد آرہا تھا وہ لوگ نفی میں گردن ہلا کر مزید قریب ہوئے تو وہ

لاشعوری طور پر دو قدم۔پیچھے ہوئی فوزیہ بیگم نے اپنی اوپر کھڑی اولاد کو دکھ سے دیکھا

اور زرنش کی طرف دیکھ پیار سے بولی بیٹا ڈرو مت تمھیں کچھ نہیں بولے گے ہم تو بس اس سے

ناراض تھے ابھی واچ مین نے آکر بتایا کہ۔یہ آیا ھے اور ساتھ ہماری بہو بھی آئی ھے میں

سمجھیں یہ بچنے کے لئے جھوٹ بول رہا ہوگا لیکن ہمیں نہیں معلوم تھا کہ یہ سچ بول رہا ھے

سوری بیٹا اگر آپ کو لگ گئی ہو تو ان کا نرم رویہ۔ دیکھ وہ تھوڑی ٹھیک ہوئی تھی صدیقی

صاحب بھی قریب آئے اور اس کے سر پر ہاتھ رکھا آپ تو ہمارے گھر کی بیٹی ھے بلکل میری

روحہ کی طرح آپ پر تھوڑی ہاتھ اٹھائے گے ہم دیکھا فوزیہ آپ نے آج جب روحہ کی رخصتی

ہورہی تھی میں اداس ہورہا تھا اللہ نے مجھے آج کے آج ہی ایک اور بیٹی سے نواز دیا زرنش کی

آنکھیں پل میں بھیگی تھی اس کی آنکھیں نم ہوتی دیکھ فوزیہ بیگم نے اس کو اپنے سینے سے

لگایا ارے بیٹا روتے نہیں ھے او تم یہاں بیٹھوں اور اپنا ہی گھر سمجھو اور تم وہ زین کی طرف

کڑے تیورو سے مڑی نیچے آکر اس کے ساتھ بیٹھوں نظر اتارنی ھے تم۔دونوں کی ساتھ میں

پہلے بتائے مارے گی تو نہیں اس نے اپنی آنکھیں گھماتے ہوئے پوچھا اگر میں اوپر اگئ نہ ابھی کہ

ابھی تماری سانسیں چھین لو گی وہ غصہ سے بول کر کچن کی طرف لال مرچیں لینے گئی اور

وہ بھی نیچے آیا اور گھوم کر زرنش کے برابر میں بیٹھا صدیقی صاحب اس کی طرف ہی دیکھ رہے

تھے اس کی نظر پڑی تو اس نے اپنے دانتوں کی نمائش کریں انہوں نے غصہ سے اس کو گھورا اور

چبا چبا کر بولے تم یہ مت سمجھنا کہ تمھیں اتنی آسانی سے چھوڑ دیا اج ہماری بیٹی کا پہلا

دن ھے اس لئے تمھاری جان بخشی ہوگئی ھے اس کا ہر گز مطلب یہ نہیں ھے کہ تمھیں تمھاری

غلطی کے لئے معاف کردیا جائے گا انہوں نے اس کو دانت نکالتے دیکھ بری طریقہ سے جھڑکا وہ

منہ بنا کر رہ گیا اتنے میں فوزیہ بیگم ہاتھ میں مرچیں تھامی کچن سے برآمد ہوئی اور دونوں کے

سر پر سے گھمائی اور واپس کچن میں۔چلی گئی صدیقی صاحب نے اپنی جیب سے چند ہزار کے

نوٹ نکالے اور ان کے سر سے وار کر باہر واچ مین کو دینے گئے زین تم تو بول رہے تھے کہ یہ لوگ

مجھے بھی مارے گے یہ تو کتنے اچھے ھے میری جان یہ تو ابھی شروعات ھے نہ یہ سب کے ساتھ

ایسا ہی کرتے ھے ابھی یہ تمھیں اتنی عزت دے رہے ھے اس کے بعد تمھیں اور مجھے لات مار کر

گھر سے نکالے گے ابھی دیکھنا وہ سرگوشی نما انداز میں بولا پاگل تم۔کسی اور کو بنانا زرنش تم۔

نہیں آپ بولو اس ۔نے ایک دم اپنی ٹون چینج کرکے کہاں سوری وہ منہ سے نکل گیا کافی دیر

سے نوٹ کررہا ہوں اب نہیں سنو تمھارے منہ سے میں وہ کافی روڈ ہوگیا تھا ایک دم۔سے اہانت

کے احساس سے اس کا چہرہ سرخ ہوا سوری وہ نگاہیں نیچے کرکے بولی اٹس اوکے وہ بول کر باہر

کی طرف دیکھنے لگا جہاں سے صدیقی صاحب آرہے تھے اس نے اپنا موڈ واپس سے ٹھیک کیا وہ

ان دونوں کے سامنے والے صوفے پر بیٹھے تھے وہ اپنی خوشی بیان نہیں کرسکتے تھے کے وہ کتنا

خوش تھا زین کو دیکھ کر لیکن۔ وہ اس سے ناراض تھے اس لئے وہ۔کوئی ایکسپریشن نہیں

دے رہے تھے تھوڑی دیر بعد ہاتھ میں چائے کی ٹرے تھامے وہ کچن سے آئی اور سامنے میز پر

رکھی اور بیٹا کیا نام ھے تمھارا وہ اس کو چائے کا کب تھماتی ہوئی بولی میرا نام زرنش ھے کوئی

نہیں اس کا نام زرنش ھے زین نے اپنی ٹانگ اڑانا ضروری سمجھا زرنش نے نا۔سمجھی سے اس کی

جانب دیکھا تو پھر تم بتادو کیا نام ھے اس کا فوزیہ بیگم نے غصہ سے کہاں یار ایک تو مومی

ڈارلنگ آپ غصہ بہت کرتی ھے اور آپکی ٹوپا بیٹی کہاں ھے دیکھ نہیں رہی ھے اس کو چھوڑو

تم نام بتاؤ کیا نام ھے ہماری بیٹی کا اس نے آئی برو اٹھائی آپ کی بیٹی کا نام ھے زرنش زین

العابدین فاروق صدیقی یہ نام ھے آپکی بیٹی کا اس نے حق جتاتے ہوئے کہاں زرنش کے چہرے پر

ایک ہلکی سی مسکراہٹ آئی ویسے یہ کوئی وقت تھا گھر آنے کا صدیقی صاحب نے گھڑی کی طرف

دیکھتے ہوئے پوچھا جب گھر نہیں ہوگا تو بیٹا تو باپ کے گھر ہی ائے گا مطلب فوزیہ بیگم نے

ناسمجھی سے پوچھا یار مما کیا بتاو میں آپ کو کھانے تک کے پیسے نہیں ھے میرے پاس دوپہر

سے کچھ نہیں کھایا ھے میں نے اور میری معصوم بیوی نے جو صرف شکل سے ہی معصوم

ھے زرنش نے اس کو گھورا آپ کو پتہ ھے ایسے کھڑا کیا تھا مکان مالک نے اور پیچھے سے لات

مار کر گھر سے بے دخل کردیا یہ جو آپ کپڑے دیکھ رہے ھے صدیقی صاحب آپ کیا سمجھ رہے

ھے آپ کی اولاد نے برینڈیڈ کپڑے پہنے ہوئے ھے نہیں یار یہ کپڑے غازی بھائی کے ھے اور یہ جو

آپ کو لگ رہا ھے میری بیوی نے بھی کوئی برینڈیڈ سوٹ زیب تن کی ہوا ھے آپ کی سراسر

غلط فہمی ھے یہ بھی مانگا ہوا سوٹ ھے غازی

بھائی کی بیوی ہانم بھابھی کا ھے مجھے انتہائی دکھ سے کہنا پڑ رہا ھے آپ کا بیٹا بلکل روڈ پر

آگیا ھے اس نے اپنے نا دیکھنے والے آنسوں صاف کرتے ہوئے کہاں زرنش تو غش کھانے کے در پر

تھی اس کی اتنی اچھی اداکاری پر فوزیہ بیگم پریشان نگاہوں سے اس کی جانب دیکھ رہی تھی

لیکن صدیقی صاحب کا چہرے کا ایک دم سپاٹ تھا یہ کپڑے تم نے غازی سے مانگا ھے جی بابا

اس نے آواز کو حد درجہ غمگین بناتے ہوئے کہاں وہ کھڑے ہوئے غازیان ہمیشہ فورمل ڈریس پہنتا

ھے اور یہ پینٹ شرٹ نہیں پہناتا ھے پھٹی ہوئی جینس سے تو اس کو کافی چیڑ ھے تو یہ تو اس

کی ہو۔نہیں سکتی ھے تمھاری بیوی کے ایکسپریشن بتا رہے ھے یہ سوٹ بھی اس کا ہی

ھے اور ہانم بیٹی کی ہائیٹ زرنش بیٹی سے کافی چھوٹی ھے پھر بھی کپڑے بکل ٹھیک آئے ھے

فوزیہ بیگم یہ تعاجب کی بات نہیں ھے زین ان کی بات سن کر خجل سا ہوا ایک بات یاد رکھنا

میں تمھارا باپ ہوں تم۔میرے نہیں رات زیادہ ہوگی ھے اپنے کمرے میں جاکر سوجاؤ صبح بات

ہوگی تمھارے بارے میں وہ بول کر اپنے کمرے کی جانب بڑھے یار میں روحہ کے کمرے میں چلا

جاؤ مما میرا والا تو گندا ہورہا ہوگا ان کے جاتے ہی زین فوزیہ بیگم کی طرف مڑا تمھارا کمرہ ہر

ہفتہ صاف کرتی تھی میں صاف ھے تمھارا کمرہ اس وقت اپنے کمرے میں ہی جاؤ آئی لو یو مما

وہ بول کر زبردستی ان کے گلے لگا اور اوپر کی طرف بھاگا اس کا کچھ نہیں ہوسکتا ھے وہ

مسکرائی تھی وہ خوش تھی بلکہ وہ بہت خوش تھی اپنے بیٹے کو دیکھ انہوں نے مسکرا کر زرنش

کو دیکھا اور اس کو بھی اوپر جانے کا۔بول اپنے کمرے کی جانب بڑھی ۔۔۔

°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°
داؤد کافی دیر سے روم میں بیٹھا روحہ کا انتظار کررہا تھا جو پتہ نہیں کیا واش روم میں کررہی

تھی کافی دیر انتظار کرنے کے بعد وہ ہمت کرکے اٹھا اور واش روم کا دروازہ نوک کیا مس روحہ

آپ ٹھیک ھے اگر آپ ٹھیک نہیں ھے تو کیا میں زویا کو بلاؤ اس نے با آواز کہاں لیکن جواب نادر

تھا اب اس کو ٹینشن ہونے لگی تھی کیونکہ اس کو بھی کمرے میں آئے وقت ہوگیا تھا اور وہ اس

سے پہلے کی واش روم۔میں گئی ہوئی تھی اس نے دروازہ ایک بار پھر نوک کیا مس۔روحہ آپ

ٹھیک ھے کیا آپ کو میری اواز۔ارہی ھے لیکن اس کو۔اواز۔اتی کیسے وہ اندر موجود ہوتی تو اس

کی آواز سنتی اس نے تیز آواز میں کہاں روحہ تم۔میری آواز سن سکتی ہوں وہ باہر کا دروازہ

کھول کر کمرے میں داخل ہوئی اور سامنے داؤد کو دروزے کے ساتھ لگے بات کرتے دیکھ حیرت

سے اس کی طرف بڑھی اور کندھے پر ہاتھ رکھ کر خود بھی کان دروازے سے لگایا کون ھے داؤد

اندر وہ تو بھنچکا کر رہ گیا تھا آپ یہاں مطلب کیسے اندر وہ شدید بھکلائے ہوئے انداز میں بولا

ہاں اپن یہاں اندر کون ھے اگر آپ یہاں ھے تو اندر کون ھے اس نے دروازہ کھولا تھا وہاں کوئی نہیں

تھا مس روحہ آپ کہاں تھی میں کافی دیر سے کمرے میں تھا اور میں سمجھا آپ واش روم میں

ہوگی ارے یار اپن تیرا انتظار کرتی رہی کمرے سے باہر نکلی تو سامنے گیلری تھی اپن کو وہ اچھی

لگی اس لئے اپن اس کو دیکھ رہی تھی ویسے داؤد یار اپن کو ایک بات سمجھ نہیں آئی وہ بیڈ

پر بیٹھتے ہوئے بولی کیا بات وہ بھی سامنے صوفے پر بیٹھتے ہوئے بولا یار تیرا اور میرا صرف

نکاح ہوا تھا یہ رخصتی کا ٹنٹا ابھی کائے کو رکھا ابھی اپن صحیح سے تیار تھوڑی تھی رخصتی

کے لیے یار دراصل میں نے گھر میں کسی کو نہیں بتایا تھا تمھارے بارے میں صرف بھابھی جانتی

تھی اور تمھاری شرط تھی کہ کل کے کل نکاح کرنا ھے تو میں نے سوچا تھا کہ ابھی تم سے نکاح

کر لیتا ہوں اور یہ بات میرے اور بھابھی کے درمیان رہے گی اور جب میں سب کو تمھارے

بارے میں بتادوں گا تو سب کے سامنے ایک نکاح اور کر لو گا لیکن پتہ نہیں کیسے گرین مونسٹر

کو پتہ چل گیا اور انہوں نے میری اور معصوم سی بھابھی کی واٹ لگادی اچھا تو یہ ہوا

یہ گرین مونسٹر کون ھے یار وہ میرے بڑے بھائی غازیان بھائی اچھا وہ ابے داؤد یار اپن کی

سفیدی کی چمکار نہیں دیکھی سب دیکھ گئے میرے کو وہ اپنے کمرے میں تھی ابھی بتایا نہ کہ

اس بات کا علم۔ان کو تھا یہ پھر مجھے اور ہم یہ جھوٹ بول کر آئے تھے کہ بھابھی کی دوست سے

آج کے نوٹس لینے جارہے ھے اس لئے اس سب میں بھابھی بھی ملوث ہوگئی تو انہوں نے ان کو بھی

خوب ڈانٹا اور کمرے میں بھیج دیا یار روحہ مجھے اچھا نہیں لگ رہا ھے میری وجہ سے

بھابھی بھی پیس رہی ھے میری تو خیر ھے لیکن یار بھابھی ابے تو اتنا نہیں سوچ داؤد وہ بہت

اچھی ھے اور بہت معصوم ھے تیرا بھائی کچھ نہیں بولے گا اس کو ہاں یار اللہ کرے ایسا ہی ہوں

چل اب تو بھی سوجا اور اپن بھی سوجاتی ھے اور اس معملہ کو کل نپٹ لے گے ہاں ابھی تو میرا

دماغ بھی کام نہیں کررہا ھے اس سب میں سونا ہی بہتر ھے وہ بول کر اپنی جگہ پر لیٹا روحہ نے

ایک نظر اس کو دیکھا اور اپنے موبائل پر آئی نوٹیفیکیشن کو لیکن وہ اس کو آنگنور کرکے اس

کے برابر میں داراز ہوئی اور سب چیزے پشت پوشت ڈال کر آنکھیں موندے لی ۔۔

جاری ھے ❤️