No Download Link
Rate this Novel
Episode 16
مغرور محبت 16
رائٹر ۔۔۔۔۔انابیہ شاہ
Episode no 16
زویا تم نے اپنا اسئمنٹ سمبٹ کروادیا وہ دونوں باپ بیٹی اس ٹائم ڈائینگ ٹیبل پر بیٹھا ہوئے تھے
اور ناشتہ کرنے میں مصروف تھے وہ بلکل تیار بیٹھی ہوئی تھی یونیورسٹی جانے کے لئے جی
بابا میں نے تو اپنا کب کا کروادیا ھے اس نے چائے کا ایک سیپ لیکر رسانیت سے جواب دیا ہممم
شاباش اور ایان نے دے دیا ھے نہہ۔۔۔جی بابا اس نے بھی دے دیا ھے اس نے جلدی سے بات
سنمبھالتے ہوئے کہاں کچھ بھی ہو جائے وہ اس کا دوست تھا وہ۔کبھی بھی اس کا ریکارڈ خراب
نہیں کرنا چاہتی تھی اس نے رات کو ہی سوچ لیا تھا کہ وہ آج اس کے ساتھ مل کر اس کا اسئمنٹ
کمپلیٹ کرنے کا ارادہ رکھتی تھی ایک دم سے ہال کی ساری لائیٹس آف ہوگئی تھی اور دو سپورٹ
لائیٹ زینے کی طرف گئی جہاں پہلے سیڑی پر میمونہ زمان ارف میمو اپنے ہیڈ پر ہاتھ رکھ کر
کھڑی ہوئی تھی دونوں نے ایک دوسرے کی طرف دیکھا اور پر اسرار سا مسکرائے اور زینے
کی طرف دیکھا جہاں بلیک کھلی ٹی شرٹ اور بلیک پینٹ سر پر گول ہیڈ پر ہاتھ رکھا تھا پھر
ایک ادا سے اترنے لگی حیدر صاحب مسکرا کر اپنی چئیر سے اٹھے اور زینے کی طرف گئے جہاں
ان کی زوجہ محترمہ ان کا ہی ویٹ کررہی تھی کہ وہ ان کا ہاتھ پکڑ کر ٹیبل تک لیکر آئے
زویا نے جلدی سے اپنے کوٹ کی پوکیٹ سے موبائل نکالا وہ یہ مومینٹ کیسے چھوڑ سکتی
تھی اور کیمرے کا رخ ان کی طرف کیا زہے نصیب آج تو آپ قیامت ڈھ رہی ھے آج کیا چاروں
شانے چیت کرنے کا ارادہ رکھتی ھے انہوں نے اپنے سینہ پر ہاتھ رکھ کر کہا انہوں نے ایک ادا سے اپنے ہاتھ ان کے ہاتھ میں دیا
بس کرے کتنی تعریف کرے گے میری انہوں نے اپنا ہیڈ سہی کرتے ہوئے کہاں ان کے ہاتھ میں ہاتھ
ڈالے ڈائینگ ٹیبل کی طرف بڑھی ہنی تم اتنے جلدی کیوں اٹھے آج تو یونیورسٹی بھی نہیں
جانا ھے جلدی کیوں اٹھے وہ اس لئے کیونکہ مجھے اپنی اتنی خوبصورت بیوی کو دیکھنا تھا
اور اس کی تعریف کرنی تھی اہمم اہمم زویا نے ان دونوں کو جب خود میں ہی مصروف دیکھا تو
اپنی موجودگی کا احساس دلایا وہ جو بلکل لگ کر کھڑا ہوئے تھے فورا پیچھے ہٹے زوئی تم نے
میری تعریف نہیں کی میں کیسی لگ رہی ھوں ماما یو لوکنگ گورجیس آی نو زوئی ڈرلنگ آی
ایم لوکنگ گورجیس بول کر ہلکہ سا قہقہ لگایا جس میں دونوں باپ بیٹی نے ساتھ دیا ویسے
میں 2022 کی ماڈرن ساس تو لگ رہی ھوں نہ انہوں نے اپنے کپڑے ٹھیک کرتے ہوئے کہاں ماما
ویسے ساس تو آپ کہی سے نہیں لگ رہی ھے آپ تو ابھی بھی 18 کی لگتی ھے اور بابا 20 کے
کیوں بابا صیحح کہاں نے میں نے ہاں ہاں بلکل میں بیس کا نہیں میں اٹھارہ کا ہوں اور آپ کی
ماما سولہ کی تینوں نے بے ساختہ قہقہ لگایا بریک فاسٹ کرلیا ھے تم دونوں نے میمونہ بیگم
نے کچن کی طرف دیکھتے ہوئے کہاں جی جی ماما آپ کے شوہر اور آپکی بیٹی نے بھی کرلیا ھے
چلو اچھی بات ھے مجھے ابھی غازیان کے کان بھی کھینچنے جانا ھے اور اپنی بہو سے بھی ملنا
ھے اپنی زوئی ڈرلنگ بتا رہی ھے بہت پیاری ھے لڑکی ھے اوکے اب دونوں خواتین چلے جائے میں
آج زرہ آرام کرلو جی مرضی ھے حیدر صاحب مسکرا کر وہ زویا کا ہاتھ پکڑ کر درانی مینشن
کی طرف بڑھی اور حیدر صاحب اپنے کمرے کی طرف آرام کرنے کی غرض سے بڑھ گئے ۔۔۔۔
∆∆∆∆∆∆∆∆∆∆∆
کتنا مزہ کا کھانا ھے وہ نیند میں ہی بڑبڑا رہی تھی اتنا بڑا پیزہ یہ میرا ھے غازیان جو ابھی
فریش ہوکر واشروم سے نکلا تھا ہانم کو دونوں ہاتھ بلند کئے کچھ پکڑے منہ کے پاس لیکر جاتے
دیکھا تو واشروم کے گیٹ پر ہی اسٹیل کھڑا ہوکر اس کو دیکھنے لگے گا وہ نیند میں کوئی
خوب دیکھ رہی تھی کتنے مزہ کا پیزہ ھے انو یہ چھوڑ دو یہ میرا ھے میں تم کو کسی صورت
نہیں دوگی غازیان کو اس دماغی حالت پر شک ہواپھر تھوڑا غور سے دیکھا تو وہ نیند میں کسی
خواب کے زیر اثر یہ سب کر رہی تھی یقیناً وہ خواب میں کوئی پیزہ کھ رہی تھی اس کو رات
کو ہی اندازہ ہوگیا تھا کہ یہ لڑکی کھانے سے پیار نہیں عشق کرتی ھے ٹائم کی طرف نگاہ گئی تو
سرعت سے اس کے قریب گیا اور اس کا بازو پکڑ کر ہلایا ہانم اٹھو کالج کے لئے دیر ہو جائے گی
واپس کھسمسا کر کروٹ بدلی مطلب نو رسپانس غازیان نے آئی برو اٹھائی اور برابر میں
سے پانی کا گلاس اٹھایا ہانم میں تین تک کاونٹ کرو گا اپنا یہ پیزہ وغیرہ چھوڑو اور شرافت سے
آٹھوں کالج کے لئے دیر ہو جائے گی لیکن وہ ہنوز سورہی تھی ایک دو ہانم تین اور پورا گلاس ہانم
کے منہ پر کھالی کردیا ہانم ہڑبڑا کر اٹھی اور اپنے قریب دھندلا دھندلا سا غازیان کو ہاتھ میں
گلاس تھامے کھڑا دیکھا ہانم نے اپنی آنکھیں مزید بڑی کر کے کھول کر دیکھنے کی کوشش کی
لیکن نیند کی زیادتی کے باعث وہ واپس بند ہونے لگی لیکن جب دوسرا بھرا ہوا گلاس منہ پر لگا
تو ایک دم آنکھیں کھولیں بلکے کچھ زیادہ ہی کھول گئی یہ۔۔۔یہ کیا حرکت کی ھے اپنے اس نے
منہ پر سے پانی صاف کرتے ہوئے کہاں مسز غازیان زرہ آپ گھڑی کی طرف اپنی نگاہے گھمانا
پسند کرے گی ٹائم دیکھا ھے کالج نہیں جانا ھے ہانم نے نفی میں گردن ہلائی تو غازیان نے آنکھیں
دیکھائی تو اثبات میں سر ہلایا چلو شاباش اٹھو اور جلدی سے فریش ہوکر باہر آؤ اور خود
ڈریسنگ ٹیبل کی طرف گیا اور گھڑی پہننے لگا ہانم میری آواز تمھیں آرہی ھے بیس منٹ ھے
تمھارے پاس جلدی کرو اس کو انگڑائی لیتے دیکھا تو اپنی ازلی ٹون میں واپس آیا ہانم اس
کو واپس اس ٹون میں آتے دیکھا تو ہڑبڑا کر اٹھی اور یونیفارم لیکر واش روم کے اندر گھس گئی
غازیان نے واشروم کے بند دروازے کو دیکھا اور پھر اپنے موبائل کو جہاں زرنش کا میسج آیا ہوا
تھا کہ وہ آدھے گھنٹے میں پہنچ جائے گی غازیان نے اپنا موبائل والٹ جیب میں رکھا اور واش روم
کے دروازے کے قریب ہوکر نوک کیا اوربلند آواز میں بولا ہانم بیس منٹ ھے تمھارے پاس ریڈی
ہوکر نیچے آجانا ڈائینگ ٹیبل پر اس نے اندر سے ہی جواب دیا جی ٹھیک ھے آرہی ہوں غازیان سن
کر مطمئن ہوکر نیچے کی طرف بڑھا جہاں ہمیشہ کی طرح اماں بی ملازموں کو جھڑپے لگا رہی
تھی اور ایان ڈائینگ پر سر رکھ کر اونگ رہا تھا اور داؤد تینوں بھائیوں کے لئے روز کی طرح
کوفی بنا رہا تھا لیکن آج اس میں ایک کپ کا اور اضافہ تھا اور وہ کپ کسی اور کا نہیں ہماری ہانم
کا تھا غازیان ڈائینگ ایریا میں آیا تو ایان کو ڈائنگ پر انوگتے دیکھا ایان انسان بن کر بیٹھو
اس نے اپنی گرجدار آواز میں کہاں تو ایان ڈر کر اچھلا اور سامنے ہی غازیان کو دیکھا تو کھڑے
ہوکر سنمبھل کر سلام کیا اسلام علیکم بھائی میں سو نہیں رہا تھا میں تو بس ابھی وہ اپنا
فقرہ مکمل کرتا اندر آتی میمونہ بیگم نے اس کا فقرہ مکمل کیا میں تو بس چیک کررہا تھا کہ
ڈائینگ ٹیبل ٹھنڈہ ھے کے گرم غازیان نے ان کو دیکھا تو سرشارسا مسکرا کر ان کے قریب گیا
کچن میں داؤد نے بھی ان کی آواز سنی تو کافی کے کپ تھامے کچن سے باہر ایا اسلام علیکم میمو
جان غازیان نے جھک کر ان کو آداب سے سلام کیا یہ لوگ بچپن سے ہی ان کو میمو جان بولتے تھے
انہوں نے نزاکت سے اپنا ہاتھ اس کے ہاتھ میں دیا تو غازیان نے مسکرا کر ان کا ہاتھ تھاما اور جھک
کر اپنے لب رکھے ایان بھی بھاگتا ہوا ان کے قریب آیا اور زور سے ہگ کیا میمو جان آپ کب آئی
اسلام آباد سے مجھے پتہ ہی نہیں چلا لیکن۔مجھے بہت کچھ پتہ چلا ھے اور بول کر غازیان
کا کان پکڑا بدمعاش جس کو میں بول بول کر تھک گئی کہ۔شادی کرلے ماں کے بغیر ہی شادی
کرلی شریر کہی کا ایان زویا ایک ساتھ کھڑے ہوکرغازیان کی شامت کو انجوائے کررہے تھے اگر
اس دنیا میں ایسے کسی کو اس کی شامت لینے کی اجازت تھی تو وہ میمونہ بیگم تھی اس کی
ماما کی بچپن کی دوست جنہوں نے بچپن سے ان تینوں بھائیوں کو سگی ماں سے بڑھ کر پالا تھا
آرے آرے میمو جان پلیز کان تو چھوڑے یار بڑا ہوگیا ہوں میں اور اب تو شادی بھی ہوگئی ھے
میری اب بھی کیا میرے کان۔کھینچے گی غازیان نے ان کے گیرد اپنے مظبوط بازووں کا حصار
باندھتے ہوئے کہاں تو انہوں نے ہلکی سی۔چپت اس کے سر پر لگائی۔میں تو تیرے بچوں کے
سامنے بھی ایسے ہی کان۔کھنچو گی داؤد نے کوفی ٹیبل پر رکھی اور ان کے قریب جھک کر
سلام کیا اور پھر عقیدت سے ان کا ہاتھ چوما کیسی ھے آپ میمو جان کتنا مس کیا ہم لوگوں
نے آپ کو بیچ میں ایان بھی بولا یار میمو جان آپ نے انسٹا پر ایک پیکچر نہیں ڈالی آپ اسلام
آباد گئی اور وہاں کی ایک اپڈیٹ آپ نے اپنے فینز کو نہیں دی سب مجھے ڈی ایم کررہے تھے کہ
مینجر سر میمو جان ہماری سوشل میڈیا کوئین کہاں ھے ہاں دراصل میں زرہ بیزی تھی اپنی بہن
کے ساتھ مجھے زرہ ٹائم نہیں ملا ویسے تم تینوں کیسے ہوں میری تعریف بھی نہیں کی کیسی لگ
رہی ہوں غازیان نے ان کے ہاتھوں کو پکڑا اور سربراہی کرسی پر بیٹھایا آپ بہت پیاری لگ رہی
ھے ہمیشہ کی طرح اور دوبارہ ان کے ہاتھوں کا عقیدت سے بوسہ لیا آپ نہیں جانتی کتنا مس
کیا آپ کو میں نے داؤد بھی ان کے برابر والی کرسی پر بیٹھا اور ان کے ہاتھ پر اپنا ہاتھ رکھا
میں نے بھی آپ کو بہت مس کیا میمو جان بھائی کے نکاح میں اپ بہت یاد آئ تھیں غازیان نے داود
کی جانب دیکھا ایان اور زویا بھی ان۔سب کی طرف ہی متوجہ تھے آپ کے علاوہ ہمارا ھے
کون ماما کے جانے کے بعد اگر آپ نہیں ہوتی تو ہم تو سمجھو جی ہی نہیں پاتے غازیان کی آنکھوں
میں جو چمک تھی ایک دم۔مانند پڑنے لگی اور وہ ان کے قدموں سے اٹھ کر ان کے الٹے سائیڈ والی
کرسی پر بیٹھا اور ایان داؤد کی کرسی کے برابر والی کرسی پر بیٹھا زویا غازیان کے برابر والی
کرسی پر بیٹھی لیکن اگر تمھاری ماں اس دنیا میں نہیں ھے تو کیا ہوا اس کی دوست تو ھے نہ
جو اپنے چارو بچوں سے بہت محبت کرتی ھے انہوں نے چارو کی طرف دیکھ کر محبت پاش
لحجہ۔میں کہاں اور آنکھوں میں بے ساختہ نمی چمکنے لگی اپنی جان سے پیاری دوست کے زیکر
پر جس کو انہوں نے جلدی سے اپنی آنگلیاں پورو سے صاف کیا چلو ڈونٹ امیوشنل میری بہو کہاں ھے
اس کو بلاؤ انہوں نے غازیان کی طرف چہرہ کر کے بولی آرہی ھے وہ کالج کے لئے ریڈی ہورہی ھے
کالج انہوں نے اچھنبے سے کہاں زویا فورا بولی ماما ڈونٹ بی پریکٹیکل ساس اس کی بات سن
کر سب نے قہقہ لگایا خود غازیان نے بھی ہلکہ سا قہقہ لگایا اتنے میں کالج یونیفارم میں بالوں کو
ٹیل پونی میں قید کئے چادر ہاتھ میں لئے وہ زینے سے اترنے لگی تو سب کی نظر اس پر اٹھی
تو میمونہ بیگم نے بے ساختہ ماشاءاللہ کہاں اور اس کے استقبال میں کھڑی ہوئی ہانم نے جب
ایک نہ آشنا چہرہ دیکھا تو تھوڑا گھبرا کر ایان داؤد زویا اور غازیان کی طرف دیکھا وہ خود اس
کے قریب آئی اور اس کی پیشانی پر اپنے لب رکھے اور غازیان کی طرف مڑی یہ کوہ نور کا
ہیرہ کہاں سے دریافت کرلیا میرے مغرور شہزادہ نے ہانم نے غازیان کی طرف دیکھا تو وہ مسکرا
کر ان کے قریب آیا اگر آپ کو یہ کوہ نور کا ہیرہ پسند ایا تو یعنی میری محنت وصول ہوگئی ہانم
ہونقوں کی طرح ان کو دیکھ رہی تھی میمونہ بیگم نے مسکرا کر واپس ہانم کی طرف دیکھا تو
خود کو ہونقوں کی طرح خود کو تک تہ پایا تو مسکرا کر بولی ارے گھبراؤ مت میں غازیان کی
ماں کی بیسٹ فرینڈ ہوں اور تینوں کو بچپن سے میں نے ہی پالا ھے اس رشتہ سے تمھادی ساس
لیکن میں بلکل بھی پریکٹیکل ساس نہیں بنو گی ہم تو بہت چل جوڑی ہوگے ساس اور بہو کی اور
اگر یہ تمھیں زرہ سا بھی تنگ کرے گا تو میرے پاس آجانا میں خود اس کے کان کھینچوں گی
چلو آؤ ناشتہ کرتے ھے پھر تمھیں کالج بھی جانا ہوگا اور ان دونوں نالائقوں کو یونیورسٹی بھی
انہوں نے بول کر اپنے قدم ڈائینگ ٹیبل کی طرف بڑھایا نالائق والی بات پر دونوں نے دبا دبا سا
احتجاج کیا لیکن جب وہ غازیان کی شامت لانے میں وقت نہیں لگاتی تو ان دونوں کے احتجاج کی کیا فکر کرتی۔۔۔۔
جاری ہے ❤️
