Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 21

مغرور محبت 21
رائٹر ۔۔۔۔انابیہ شاہ
Episode no 21
ہانم کالج سے باہر نکلی تو سورج کی روشنی اس کے گلابی چہرے پر پڑی تو اس نے ہاتھ اپنے

چہرے پر رکھا اور ادھر ادھر نگاہ گھمائی تو ایان ناک کی چونچ پر چشمہ ٹکائے اسی کے انتظار

میں گازی کے ساتھ ٹیک لگائے کھڑے ہوا تھا ہانم نے ایان کو

گاڑی سے باہر ہی کھڑا دیکھا تو اپنا دوپٹہ سر پر اچھے سے کاور کرکے اچھی طرح سے آنکھیں

صاف کی وہ کسی کو نہیں دیکھانا چاہتی تھی کہ وہ روئی ھے اور کس کی وجہ سے اور چھوٹے چھوٹے قدم اٹھاتے

ہوئے اس کے قریب ائی بینا ایان کی جانب دیکھے فرنٹ سیٹ کا ڈور کھول کر بیٹھ گئی اور خاموشی سے سر

پیچھے سیٹ سے لگا کر آنکھیں موند لی ایان جو سلام کرنے لگا تھا وہ بھی حیرانی سے اس کو

بیٹھتے دیکھ گاڑی میں بیٹھا زویا بھی بات کرنے لگی لیکن اس کو خاموش اور آنکھیں موندتے

دیکھ خاموش ہوگئی ایان گاڑی میں بیٹھا تو ہانم کو بلکل خاموش اور آنکھیں بند کرے دیکھا تو

اس کو تھوڑی پریشانی ہوئی کیونکہ وہ کالج ہنستے مسکراتے گئی تھی اور

اس کو اچھنبا تو جب ہوا جب بند آنکھوں سے ایک آنسوں ہانم کی ہتھیلی پر گیرا بھابھی آپ ٹھیک ھے ایان نے

نرمی سے بولا تو ہانم نے آنکھیں کھولیں اور ایان کی طرف دیکھا جبرآ مسکرا کر بولی میں ٹھیک

ہوں بھائی بہت تھک گئی ہوں اس لئے بس ہونٹ تو مسکراہٹ میں ڈھلے ہوئے تھے لیکن آنکھیں

چیخ چیخ کر بتارہی تھی کہ ان کو بہت رولا یا گیا ھے اچھا آپ ٹھیک ھے وہ تو دیکھ رہا ھے

بتائے کیا ہوا ھے یہ پھر میں اندر جاکر پوچھوں کے میری بہن کوکس نے رولایا ھے بھابھی آپ کو

بہن بولا نہی مانا ھے میں پورے کالج کی اینٹ سے اینٹ بجادوگا نہیں نہیں بھائی کسی نے کچھ

نہیں بولا ھے تو آپ روئی کیوں ھے بھائی میں روئی نہیں ہوں ایان بھائی آنکھوں میں کچھ

چلاگیا ھے آپ جھوٹ کیوں بول رہی ھے میں ابھی کالج میں پوچھتا ہوں ایان گاڑی سے اترنے

لگا تو ہانم نے گھبراہ کر زویا کی طرف دیکھا تو زویا نے کندھے پر ہاتھ

رکھ کر سر نفی میں ہلایا اور آنکھوں کے اشارے سے خاموش رہنے کا اشارہ کیا اور گاڑی چلانے کا

کہاں تو اس نے آنکھوں سے نفی کی لیکن اس نے اپنے چشمہ کے اندر سے گھورا تو اس نے اثبات

میں سر ہلاکر خاموشی سے گاڑی روڈ پر ڈال کر مینشن کی جانب گامزن ہوگیا ۔۔
°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°
روحہ دیکھے یہ کافی میکر ھے اس سے آرام سے کافی بن جائے گی آپ کا زیادہ تر کام یہی ہوں گا

کافی بنانا یہ پھر فائیل پہچانا یہ پھر ان کی سیٹنگ کرنا وہ کافی بنارہا تھا اور اس کو سمجھا

بھی رہا تھا روحہ اس کے چہرے کو بہت غور سے دیکھ رہی تھی اور اس کو بولتے ہوئے بہت غور

سے سن رہی تھی داؤد نے جب اس کو اپنی جانب

اتنا مہو ہوکر دیکھتے پایا تو آنکھوں کے سامنے چٹکی بجائی کہاں گم ھے روحہ آپ میں آپ کو

کچھ بتارہا ہوں نہیں نہیں اپن کہی گم نہیں ھے بس تیری ایچ بات سن رہی تھی تو بہت ایکسپرٹ

لگتا ھے کافی وغیرہ بنانے میں تو کیا پارٹ ٹائم میں کیا کیفے چلاتا ھے ویسے تو اپن کے باپو کا

بھی ہوٹل ھے لیکن اپن کی جو ماتاری ھے اس کا کہنا ھے اپنے دم پر کچھ کرو اس وجہ سے اپن کو

جوب کرنی پڑرہی ھے اس نے مسکراتے ہوئے اس کو بتایا داؤد اس کی باتیں بڑے مسکرا مسکرا کر

سن رہا تھا ہلقہ سا قہقہ لگایا آرے نہیں میرا کوئی کیفے نہیں ھے بس مجھے شوق ھے کھانا

پکانےکا میں سب سے اچھی کو کنگ کرتا ہوں میرے جو بڑے بھائی ھے وہ بھی کونگ کر لیتے ھے لیکن ایان نہیں کرتا ھے اس کو زرہ پسند نہیں ھے

واہ بہی تیرے کو معلوم ھے اپن کی جو ماتاری ھے ہر وقت آپن کو بولتی رہتی ھے کام سیکھ

کھانا پکانا سیکھ اگلے گھر جانے کا ھے لیکن اپن کو کوئی خاص شوق نہیں ھے بس کر لیتی ہوں تھوڑا بہت روحہ نے

لاپرواہ انداز میں ہنستے ہوئے بتایا چلے کوئی بات نہیں آپ میرے ہاتھ کی کافی ٹرائے کرے اور بتائے

کے کیسی بنی ھے وہ اس کو اتنے آرام سے ہر بات بتارہا تھا اپنی ذاتی زندگی کی بھی بتارہا تھا یہ

لڑکی اس کو اپنے دل کے بہت قریب محسوس ہوئی اور مسکراتے ہوئے کافی کا کپ روحہ کے ہاتھ میں تھمایا وہ ابھی منہ کے قریب لیکر جاتی

اس سے پہلے ایک وارڈ بوائے بھاگتا ہوا آیا سر ایمرجنسی ھے فورا آئے اس نے اپنا کپ شیلف پر

رکھا اور الٹے قدموں بھاگا روحہ بھی اس کے
پیچھے ہی گئی وہ تو آپریشن تھیٹر میں جاچکا

تھا باہر اس پیشینٹ کی فیملی بیٹھی ہوئی رورہی تھی ایک عورت بہت چیک چیک کر رورہی

تھی اور ایک آدمی کے صرف آنسوں لڑیوں کی مانند آنکھوں سے جاری تھی روحہ کے ماتھے پر

بل پڑے ان دونوں کو اس طریقے سے روتے دیکھ لیکن اس کو ترس بھی آیا

آیا تو وہ چھوٹے چھوٹے قدم اٹھا کر اس آدمی آور عورت کے سامنے کھڑی ہوئی اوئے تم لوگ اتنا

کائے کو رو رہے ہوں دعا کر ٹھیک ہو جائے گا کائے کو اتنا واویلا مچارہا ھے اس آدمی نے زخمی

نگاہوں سے اس کی طرف دیکھا اور اپنی نگاہ واپس جھکالی روحہ کو اپنے رویہ کا احساس ہوا

تو اس آدمی کے قدموں کے قریب بیٹھی سب ٹھیک ہو جائے گا تو

ٹینشن نہ لے ایسے رونے سے سب کچھ ٹھیک تھوڑی ہوجا تا ھے تو گھر کا سربراہ ھے اگر تو

ایسے روئے گا تو کیا بنے گا اچھا چل بتا کون ھے کوئی قریبی ھے یہ پھر کوئی اور پریشانی ھے دیکھ پیسوں کا مسلہ ھے مجھے بتا سب ٹھیک ہو

جائے گا اس نے اپنائیت سے اس شخص کے گھٹنے پر ہاتھ رکھ کر کہاں اس شخص نے اپنی لال

آنکھوں کے ساتھ روحہ کی طرف دیکھا پیسے کو مسلہ نہیں ھے بیٹآ اس نے ضبط کی گہرائی سے

کہاں روحہ مزید قریب ہوئی اپن تیری بیٹی
جیسی ھے تو بھی اپن کے باپو کی عمر کا ھے

کوئی مسلہ ھے تو بتا ابھی وہ شخص اپنے لب کھولتا اندر سے داؤد ماسک اتار کر باہر آیا تو

تینوں بے وقت کھڑے ہوئے بچی کے فادر کون ھے میں ہوں صاحب وہ آدمی اپنی آنکھیں صاف کرکے بولا یہ پولیس کیس ھے انکل بچی کے

ساتھ زبردستی ہوئی ھے اور عمر بھی بہت کم ھے پندرہ سال ھے اور کنڈیشن بہت کریٹیکل ھے

آپ لوگ فورا پولیس کو انفورم کرے ہم ایسے کیس نہیں لے سکتے

پولیس انوالو ہوگی صاحب نہیں خدا کے لئے ہماری بچی کچی عزت کی لاج رکھ لو یہ بات

سب کو پتہ چل جائے گی وہ عورت ہاتھ جوڑ کر بولی روحہ نے اس عورت کی طرف دیکھا تو اس

کو ایسا محسوس ہوا کے سامنے آس کی ماں کھڑی ہوئی ہوں ایک وقت تو ایسا ہی تھا اس کے

ماں باپ کے ساتھ بھی اس نے نگاہ پھیر کر داؤد کی طرف دیکھا جو اس کے باپ کے کندھے پر

ہاتھ رکھ کر کچھ سمجھا رہا تھا داؤد روحہ نے پکارا تو وہ اس کی طرف

متوجہ ہوا یہ اپن کی فیمیلی ھے اپن جانتی ھے تو یار اس کا علاج کردے جتنا بھی پیسہ لگے گا

اپن لگائے گی بس تو اس کا علاج کر پولیس کی جھنجھٹ میں نہ پڑ میں تیرے سے درخواست کرتی ہوں روحہ نے بولا تو داؤد نے

پرسوچ نگاہوں سے اس کو دیکھا اور پھر اثبات میں سر ہلاکر اپنے کیبین کی طرف چلا گیا وہ

دونوں آدمی آور عورت نے مشکور نگاہوں سے اس کو دیکھا بہت شکریہ بیٹا تمھارا اللہ تمھارے

نصیب اچھے کرے اس آدمی نے سر پر ہاتھ رکھ کر دعا دی میں نے تیری مدد کی اب تو مجھے

بتائے گا کیا ہوا ھے تیرے ساتھ اور اس بچی کے ساتھ کس نے یہ سب کیا ھے روحہ نے ضبط سے

آنکھیں بند کر کے بولی کسی اور نہ کیا بیٹا جب گھر میں ہی بھیڑیا موجود ہوں باہر جانے کی

ضرورت نہیں پڑتی بول کر وہ آدمی آور عورت بینچ پر بیٹھے تو روحہ اس آدمی کے برابر میں

بیٹھی میرے بھائی کا بیٹا ھے اختر اس کا رشتہ ایا تھا میری کومل کے لئے لیکن وہ کچھ کام

دھندہ نہیں کرتا تھا پر وقت آوارہ گردی کرتا رہتا گلی محلے کی لڑکیوں کے ساتھ بھی یہی سب

کرتا ھے کتنے لڑکیوں کی زندگی وہ اور اس کے آوارہ دوست خراب کرچکے ھے ہمارے محلہ کی

دکان پر رات کو شراب اور جوا کھیلتے ھے وہ چارو ان سب کو دیکھ کر میں نے اس کے رشتہ سے انکار کردیا اس کا

بدلہ لینے کے لئے اس نے میری کومل کے ساتھ یہ سب کیا وہ بول کر ہچکیوں سے رورہا تھا روحہ کے

آنکھوں کے سامنے وہ سب کچھ گھوم رہا تھا ایک وقت میں صدیقی صاحب بھی ایسے ہی لاچار

باپ کی طرح کونے میں بیٹھ کر رو رہے تھے اس کی ماں ایسے پاگل ہورہی تھی اللّٰہ اس نے بولنے

کے لئے لب کھولے تو سوائے اللہ کے منہ سے کچھ نہیں نکلا تو آنکھیں موند لی اور بند آنکھوں کے

ساتھ اس شخص سے سوال کیا چاچا تو اپنی بیٹی کی شادی اس بھیڑئے سے کروادے گا اب

کبھی نہیں میں مرجاؤ گا لیکن اپنی بیٹی کی شادی اس نہ ہنجار انسان سے کبھی نہیں کرواؤ

گا میری بیٹی مجھ پر بوجھ نہیں ھے مجھ میں اتنی طاقت ھے اس کے لئے دو وقت کی روٹی

میں کماسکتا ہوں اس شخص نے عزم سے بولا تو اس کے لب مسکراہٹ میں ڈھلے اور پٹ سے

آنکھیں کھولیں اور چاچی تیرا کیا ارادہ ھے روایتی ماں بنے گی یہ بیٹی کے لئے قربانی دے

گی میں بھی اپنے شوہر کے ساتھ ہوں میری بیٹی مرتی مر جائے لیکن اس اختر کو کبھی اپنی بیٹی

نہیں دو گی تیرے کو پتہ ھے چاچا جب تیری بیٹی کو پتہ چلے گا کہ اس کے ماں اور باپ کا یہ

فیصلہ ھے تو وہ آدھی خود ٹھیک ہو جائے گی باقی کا تم دونوں ٹھیک کردینا ویسے یہ اختر اور

تو رہتا کہاں ھے روحہ نے سرسری سا پوچھا تو وہ عورت اس کو ایڈریس بتانے لگی جس کو سن

کر اس نے اثبات میں سر ہلایا اور ان دونوں کے سامنے کھڑی ہوکر بولی پریشان نہ ہوں تیری

بیٹی ٹھیک ہو جائے گی اور تم دونوں ایسے ہی ثابت قدم رہنا کبھی اس کو اکیلا مت چھوڑنا

باقی اس اختر کو اللہ سزا دیگا تو پریشان نہ ہوں یہ پھر وہ میرا مالک کوئی وسیلہ بنادیگا اس

اختر جیسے بھیڑئے کو ختم کرنے کا چل اپن کی ڈیوٹی ھے اپن چلتی ھے خیال رکھنا تم دونوں اپنا ۔۔
°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°
اسنے ہوڈی اتاری تو سارے ورکر سمیت زرنش کا بھی منہ کھولا اور غازیان نے سب کو کوفت سے

دیکھا اور اس نوٹنکی کو بھی کبھی تو یہ اتنا سیریس ہوجاتا ھے کے اس سے زیادہ کوئی

سیریس نہیں اور کبھی اتنا مسکہرا کے اس سے زیادہ کوئی نہیں چلے بھائی میرا انٹرو تو کروادو بول

کر ٹانگ پر ٹانگ رکھ کر بیٹھ گیا آنکھوں کا منظر سامنے بیٹھی وہ خونخوار بلی تھی جس کے

چہرے کے زاویار خطرناک حد تک خراب تھے
کیوں تم نے اپنی زبان کرائے پر دے دی ھے خود کرو

غازیان کے بری طریقے سے جھٹرکنے پر اس نے منہ بسورا اور اپنا انٹرو اسٹارٹ کیا آپ سب

مجھے تو جانتے ہی ھے کہ میں دوسال پہلے آپ سب کی واٹ لگا کر انگلینڈ چلا گیا تھا زین

انسان بن جاؤ اور بی پروفیشنل غازیان نے اس بار سختی سے کہاں تو وہ ایک دم سیدھا ہوا

تو گائز سیریس ہوجاتے ھے میں اپنی اسٹڈی کمپلیٹ کرنے اور وہاں اپنا بزنس اسٹارٹ کرنے

چلا گیا تھا لیکن مجھے وہاں کچھ زیادہ مزہ نہیں ایا

اور پتہ ھے مجھے وہاں زیادہ مزہ اس لئے بھی نہیں آیا کیونکہ وہاں آپ لوگ جو نہیں تھے خیر

کچھ لوگ مجھے ابھی نہیں جانتے ھے تو میں ان کو اپنا انٹرو دےدیتا ہوں یہ بات خاص زرنش کو

دیکھتے ہوئے جتائی تھی مائے نیم از زین العابدین میں غازیان بھائی کا کزن اور بیسٹ

فرینڈ ہوں زین پرسنل انورمینشن نہی دینی ھے غازیان کے ٹوکنے پر اس نے ایک بار پھر منہ بسورا

اور میں آپ لوگوں کا نیو بوس بھی ہوں مطلب اس کپمنی کا تھرٹی پرسنٹ پارٹنر بول کر

دھپ سے کرسی پر بیٹھا واٹ ربش زرنش ایک دم کھڑی ہوکر چیخی تو غازیان نے اس کی طرف

گردن گھماکر دیکھا غازی یہ کیسے ہوسکتا ھے تمھیں ہمیں بتانا چائے تھا کہ تم پاٹنر بنا رہے ہوں

وہ تو پاٹنر کے روپ میں زین کو دیکھ کر کھول اٹھی تھی میں نے عالم صاحب کو بتادیا تھا کہ

ہماری کمپنی میں ایک اور پاٹنر ایڈ ہورہا ھے تو پھر بھی دونوں کی رائے لی جاتی ھے کہ اس کو

میمبر شیپ دینی ھے کہ نہیں ایسکوزمی مس زرنش آئی تھینک غازیان بھائی فیفٹی پرسنٹ کے ا پاٹنر اور میں تھرٹی

تمھارے فادر بیس پرسنٹ کے تو مطلب غازی بھائی یہ ڈیسیچن لے سکتا ہوں سو پلز بی

کوائیٹ تم سے بات کسی نے نہیں کی ھے میں نے غازیان سے پوچھا ھے وہ ٹھیک ھے بول رہا ھے

بیٹھ جاؤ اور کوئی اور بھی پروبلم ھے تو اپنا فادر سے بات کرلینا زرنش نے جل کر زین کی

طرف اور پیر پٹک کر چئیر پر بیٹھ گئی اور آنکھیں اپنے بلکل سامنے ہی تھی جہاں وہ

کرسی پر ٹیک لگائے دل جلادینے والی مسکراہٹ سے اسی کی

جانب دیکھ رہا تھا عروبہ میٹنگ اسٹارٹ کرو کمرے میں غازیان کی سرد آواز گونجی تو دونوں

نے ایک دوسرے سے نظرے پھیر کر غازیان کی طرف دیکھا ۔۔۔
جاری ھے ❤️