No Download Link
Rate this Novel
Episode 56
مغرور محبت 56
رائٹر ۔۔۔۔انابیہ شاہ
Episode no 56
غازیان کی آنکھ کھولی تو ہانم اس کے پہلو میں ہی سورہی تھی اس کو دیکھ اس کے چہرے پر
ایک مسکراہٹ آئی اور وہ بے ساختہ اس کے ماتھے پر ایک عقیدت بھرا بوسہ دیتا ہوا اٹھا اور
برابر میں رکھی گھڑی میں وقت دیکھ کر نگاہ ہانم کی طرف اٹھی اور اس کے کندھے پر ہاتھ
رکھ کر ہانم کو بھی اٹھایا ہانم اٹھو کالج جانا ھے ہانم اس نے ایک بار پھر اس کو پکاراوہ اس کی
آواز سن کر واپس کھسمسا کر سوگئی غازیان نے آنکھیں چھوٹی کرکے اس کو گھورا اور سائیڈ سے
پانی کا گلاس ہاتھ میں اٹھایا ہانم اٹھو ورنہ ابھی تم پر پانی ڈال دو گا فورا اٹھو تمھیں کیا
مزہ آتا ھے روز گیلا ہوکر اٹھنے میں وہ اس کی آواز سن کر خمار زرہ آواز میں بولی غازی جی
تھوڑی دیر سونے دے کوئی تھوڑی دیر نہیں سونا ھے اٹھو وہ اس کی آواز کو نظر انداز کر کے
واپس سوتی بنی ہانم آواز آرہی ھے آنکھیں کھولوں کالج جانا ھے تمھیں غازی جی آج نہیں
جانا چاہتی طبیعت ٹھیک نہیں ھے آور رات بھی دیر سے سوئی تھی پلیز آج نہیں جانا اس نے منت
کرتے ہوئے کہاں ہانم دیکھو میں غصہ کرو گا تو پھر تم روؤں گی اس لئے شرافت سے اٹھو اور
تیار ہوکر کالج کے لئے روانہ ہوجاو ورنہ حشر کردو گا نہیں جانا ھے نہ غازی جی پلیز سونے دے
نہیں جانا ھے مجھے اب نہیں اٹھائے گا پلیز وہ اس کی طرف کروٹ لے کر بولی ہانم میں صرف
پانچ تک گینو گا آپ دس تک کاونٹ کرلے لیکن آج ہانم نہیں اٹھے گی وہ اس کو طیش دلانے والے
انداز میں بولی ہانم اٹھو فورا وہ اب کے غصہ سے ڈھاڑا تو وہ منہ بنا کر اٹھی کیا ھے آپ کو سونے
کیوں نہیں دے رہے ھے رات کو بھی اتنی لیٹ سوئی تھی مجھے سونا ھے نہ ہانم تمھیں پیار کی
زبان کیوں نہیں آتی ھے سمجھ میں غصہ کرو تمھیں اچھا لگے گا وہ اس کو نرمی سے
سمجھانے والے انداز میں گویا ہوا بہی مجھے نہیں جانا ھے نہ مما بولتی ھے شادی کے بعد
لڑکیاں گھر سنمبھالتی ھے آپ کیوں مجھے کالج بھیجنے میں لگے ہوئے ھے تمھیں پتہ ھے میری
دماغ ہورہا ھے بہت خراب اس سے پہلے تمھارا حق میں غلط ثابت ہوں عزت کے دائرے میں اٹھو
اور واش روم جاؤ اور فریش ہوکر کالج کے لئے تیار ہوں فورآ میں آپ سے بات نہیں کروں گی
اس نے نروٹھے پن سے کہاں تم چاہ کیا رہی ہوں مجھے یہ بتاؤ مار کھانی ھے میرے ہاتھوں سے
روز صبح صبح کیوں تماشا لگاتی ہوں کالج جانے میں ہانم حد ہوتی ھے لاپرواہی کی آپ ڈانٹ
کیوں رہے ھے اس کی آنکھیں نمکین پانی سے بھرنے لگی تھی تمھیں۔نہیں پتہ میں کیوں ڈانٹ
رہا ہوں اٹھو فورا وہ ایک بار پھر غصہ سے بولا میں آپ سے کبھی بھی بات نہیں کروگی اگر آج
آپ نے مجھے کالج بھیجا تو نہیں کرنا بات اب اٹھو اور کالج کے لئے تیار ہوں میں نہیں جاؤ گی
وہ ایک بار پھر روتے ہوئے بولی اگر آپ نے بھیجا نہ تو آج میں اتنی دور چلی جاؤ گی اور کبھی
بھی واپس نہیں او گی ساری زندگی بھی آپ مجھے پکارے گے ہانم پھر بھی نہیں آئے گی ہاں
نہیں تو وہ اپنے آنسوں صاف کرتے ہوئے بولی بات سنو لڑکی جہاں جانا ھے چلی جانا مجھے فرق
نہیں پڑتا ھے لیکن جہاں بھی جانا بعد میں جانا ابھی فلحال کالج کے لئے تیار ہوں آپ بہت برے
ھے غازی جی ہاں بہت برا ہوں میں کھڑی ہوں فورآ وہ خود بھی کھڑا ہوا اور ہاتھ پکڑ کر اس کو
بھی کھڑا کیا اور اس کا رخ واشروم کی جانب کیا وہ بھی روتی بسورتی کالج کے لئے تیار ہونے
گئی وہ نفی میں سر ہلاتا ہوا ڈریسنگ روم کی جانب بڑھا اس کی نظر میں کسی بچے کو
سمجھانا آسان تھا لیکن ہانم کو سمجھانا اونٹ کو رکشے میں بیٹھانے کے مترادف ھے ۔۔۔
°°°°°°°°°°°°°°°°°°°
آج پچیس جنوری تھی کل چھبیس روحہ پریشانی کے عالم میں کمرے میں ٹہل لگا رہی
تھی وہ جانتی تھی یہ مشن بہت مشکل ھے اس میں جان کا بھی خطرہ ھے وہ چاہتی تھی کہ
اس مشن پر جانے سے پہلے وہ داؤد کو سب بتا کر جائے وہ کافی دیر سے اس ہی کشمکش میں
تھی کہ وہ یہ بات داؤد کو کیسے بتائے ایک نظر واشروم کے گیٹ کو دیکھا اور دل میں پختہ
یقین کیا کہ وہ داؤد کو سب بتادے گی وہ سب بتانا چاہتی تھی لیکن خود میں ہمت جما نہیں کر
پارہی تھی لیکن آج اس نے سوچ لیا تھا وہ یہ بات داؤد کو بتادے گی کہ وہ ہی گڑیا ھے اور وہ ہی
ایگل ھے اور وہ ہی روحہ ھے وہ اسی کشمکش میں تھی اتنے میں داؤد واشروم سے باہر آیا اور
اس کو کمرے میں ادھر سے ادھر ٹہلتے دیکھ پریشانی سے پوچھا مس روحہ اپ
ٹھیک ھے کوئی پروبلم ھے تو مجھے سے شئیر کرسکتی ھے اس کی آواز سے روحہ نے اس کی
جانب دیکھا اور ایک گہری سانس خارج کرکے خود کو کمپوز کرکے بولی داؤد مجھے تمھیں
کچھ بتانا ھے داؤد نے اچھنبے سے اس کی جانب دیکھا کیا کہاں اپ نے۔مس روحہ میں نے کہاں ھے
مجھے تم کو کچھ بتانا ھے آپ کو پتہ ھے مس روحہ آپ کیسے بات کررہی ھے وہ اس کی طرف
خوشی سے بڑھتا ہوا بولا اور اس کو شانے سے تھام کر پورا گول گول گھما ڈالا آرے آرے میری
بات سنو وہ چکراتے سر کے ساتھ بولی جی بولے وہ مسکراتا ہوا اس کی جانب دیکھتے ہوئے بولا
پلیز داؤد میری بات کو تحمل سے سننا جی جی بولے میں ہمہ تن گوش ہوں آپ کی بات سننے کے
لئے روحہ نے ایک نظر اس کی جانب دیکھا اور ہمت کر کے بولی داود تمھارا جو ہسپتال ھے اس
میں اعضاء اسمگل ہورہےہیں اس کے چہرے کی مسکراہٹ سمٹی اور ماتھے پر بے شمار بل پڑے
اور اس کے قریب ہوا مس روحہ آپ جانتی ھے آپ کیا بول رہی ھے داؤد میں نے کہاں تھا تم سے
میری بات تحمل سے سننا ادھر بیٹھو اس کا ہاتھ پکڑ کر صوفے پر بیٹھایا اور اس کے سامنے خود ۔
گھٹنوں کے بل بیٹھی دیکھ داود مجھے جو تم سمجھتے ہوں میں وہ نہیں ہوں اس نے اس کی
آنکھوں میں دیکھتے ہوئے کہاں کیا مطلب مس روحہ اور یہ آپ اعضاء اسمگل کرنے کی کیا بات
کررہی تھی وہ ابھی بھی پریشان تھا ادھر دیکھ داود اپن جو بات تیرے کو کو بتائے گی تجھے
حیرت بھی ہوگی اور شاید غصہ بھی آئے لیکن میری بات تحمل سے سننا میں روحہ فاروق
صدیقی ہوں میں جانتا ہوں یہ بات یہ آپ کے بابا کا نام ھے اور یہ آپ کا تو اس میں یہ بتانے والی
کیا بات داؤد تو نہیں سمجھ رہا ھے یار میری بات پر ایک دفعہ غور کرو میں روحہ فاروق صدیقی
ہوں زین فاروق صدیقی کی بہن فوزیہ فاروق صدیقی کی بیٹی اس کو اپنا سانس روکتا
محسوس ہوا تھا یعنی میں تمھاری پھپھو کی بیٹی گڑیا ہوں اس نے اپنی بات مکمل کر کے اپنا
سر جھکایا داؤد شوکڈ کی کیفیت میں اس کو کنفیشن سن رہا تھا داؤد میں گڑیا کے ساتھ ساتھ
کچھ اور بھی ہوں میں کوئی عام انسان نہیں ہوں اس نے اپنی نگاہ ایک بار پھر اٹھائی تھی جو
حیران نگاہوں سے اس کی جانب دیکھ رہا تھا میں ایگل ہوں جو مجرموں کا خاتما بہت اطمینان
سے کرتی ھے میں غازیان بھائی کو پہلے سے جانتی ہوں اور جس نے اینڈ مومنٹ پر میری
عزت کی حفاظت کریں تھی وہ کوئی اور نہیں یہی فرشتہ صفت انسان تھے غازیان بھائی اور
میں اور زین ہم تینوں انٹیلیجنس ٹیم کے میمبر ھے اور ہم تینوں ایک بہت ہی بڑا مشن کرنے
جارہے ھے جس میں زندگی کا کچھ پتہ نہیں ھے ہمیں یہ بھی معلوم نہیں ھے کہ ہم زندہ واپس آئے
گے بھی کہ نہیں داؤد میں نے جو تمھیں ابھی بتایا ھے تمھارے ہسپتال سے جسم کے اعضاء
اسمگل ہورہے ھے وہ کوئی اور نہیں ڈاکٹر احسن ریسیپشنیسٹ ایمان اور وہاں کے وارڈ بوائے اس
کام میں ملوث ھے لیکن تم ابھی کچھ نہیں کرنا جب تک ہم اس پارٹی میں جاکر آپنے ملک کے
غداروں کا سر نہ کچل دے داؤد میں جانتی ہوں تمھارے لئے یہ سب بہت شوکنگ ھے لیکن
دیکھوں مجھے نہیں معلوم تھا کہ وہ ابھی اپنا فقرہ مکمل کرتی وہ ایک دم ہوش میں آتے ہی
ڈھاڑا تم تم فوزیہ پھوپھو کی بیٹی ہوں اس خاتون کی بیٹی جو اپنے سگے بھائی کی اولاد کو
دوسروں کے اسرے پر چھوڑ کر چلی گئی تھی داؤد تم حد سے مت بڑھو میری بات سن لو پلیز
ایک بار پھر وہ اس کو کندھوں سے تھام کر واپس صوفے پر بیٹھانے لگی تھی لیکن وہ اس کا
ہاتھ جھٹک کر اس سے غصہ سے گویا ہوا یہ سب کچھ غازیان بھائی جانتے تھے میری بات سنو
داؤد تحمل سے کیا ہوگیا ھے تمھیں وہ پوری طرح سے جھنجلا گئی تھی وہ جانتی تھی اس کا
رئیکشن ایسا ہی ہوگا لیکن اس کا رئیکش اتنا خراب ہوں گا یہ بات اس کے زہن و گمان میں بھی
نہیں تھی داؤد میری بات سنو ایک سیکنڈ وہ اس کے ہاتھ تھام کر تحمل زدہ لحجہ میں بولی اس
نے اس کے ہاتھ جھٹکے میں نے پوچھا ھے روحہ یہ بات غازیان بھائی کو معلوم تھی کہ نہیں بس
یہ بتاؤ مجھے آنکھیں غصہ کی زیادتی سے لال ہورہی تھی ہاں معلوم تھی لیکن داؤد میری بات
سنوں وہ اس کو جھٹکتے ہوئے باہر گیا تھا اور کمرے سے باہر آکر تیز آواز میں غازیان کو پکارہ
تھا وہ جو اپنی ریسٹ واچ باندھ رہا تھا داؤد کی آواز سن کر کمرے سے باہر آیا ہانم بھی جلدی
جلدی چادر ہاتھ میں تھامے کمرے سے باہر آئی ایان نے بھی داؤد کی آواز سنی تو وہ بھی یونی
کے لئے تیار ہوکر نکلا لیکن سامنے ہی غازیان اور داؤد کو آمنے سامنے دیکھ کر ٹھٹکا کیا ہوا ھے
داؤد آواز کیوں دے رہے ہوں بات کرنی ھے آپ سے اس کا غصہ کسی طور پر کم نہیں ہورہا تھا
بولوں آور اپنی ٹون میں بات کرو مجھ سے اس نے آنکھیں میچ کر خود کو کمپوز کیا اور غازیان
سے سوال کیا غازی بھائی آپ روحہ کو جانتے ھے بلکل سچ بولنے گا غازیان نے ایک نظر روحہ کو
دیکھا اور آنکھ کے اشارہ سے کچھ پوچھا اس نے گردن اثبات میں ہلائی ایک نظر ایان اور ہانم کو
دیکھا ایان تم ہانم کو لے کر نکلوں کالج کے لئے اس کو ڈراپ کر کے اپنی یونی چلے جانا جی
بھائی وہ سعادت سے سر ہلاکر ہانم کے ہمراہ مینشن سے نکلا ان کے جاتے ہی غازیان واپس
داؤد کی طرف متوجہ ہوا بولوں کیا بولنا ھے تمھیں بھائی آپ جانتے ھے نہ یہ وہی روحہ ھے
پھوپھو فوزیہ کی بیٹی غازیان نے سر اثبات میں ہلایا تو اس نے غم اور غصہ سے غازیان کی
جانب دیکھ کر بولا بھائی آپ جانتے تھے اس لڑکی کے بارے میں آپ جانتے تھے یہ فوزیہ
پھوپھو کی بیٹی ھے تو آپ نے مجھے کیوں نہیں روکا کیا تم نے مجھے بتایا تھا کہ تم کسی لڑکی
سے شادی کرنا چاہتے ہوں یہ پھر یہ بتاؤ کہ تم کو روحہ نے سامنے سے خود پرپوز کیا تھا بولو کیوں
خاموش ہوں تم اور اگر تمھاری شادی گڑیا سے ہوئی ھے تو بلکل ٹھیک ہوا ھے تمھاری اور اس
کی بچپن میں ہی منگنی ہوگئی تھی وہ تو کچھ حالات ایسے ہوگئے کہ ہم الگ ہوگئے ورنہ یہ سب
تو ہونا ہی تھا اس نے تحمل سے کہاں کے اس کی نزدیک کوئی بڑی بات نہیں تھی بہت اچھے بھائی
بہت اچھے وہ تمسکرانہ انداز میں بولا ایک بات بتائے غازی بھائی آپ نے اتنی آسانی سے معاف
کردیا فوزیہ پھوپھو کو ہاں یک لفظی جواب آپ کو وہ وقت یاد نہیں آیا جب ہمیں ان کی ضرورت
تھی اور وہ ہمیں تنہا چھوڑ کر چلی گئی تھی بھائی داؤد ہمارے ماں باپ اس دنیا میں نہیں
تھے ان کی بھی فیملی تھی وہ ان کو دیکھتی یہ پھر ہمیں آپ یہ سب جان بوجھ کر بول رہے ھے
نہ داود بس اور کوئی بات نہیں بیوی ھے یہ تمھاری عزت کرو اس کی کوئی معمولی لڑکی
نہیں ھے یہ محبت کرتی ھے تم سے ایگل ھے یہ ہمارے ملک کی جانباز سپاہی فخر ھے یہ ہماری
ڈیپارٹمنٹ کی داؤد نے ایک نظر گھوم کر روحہ کو دیکھا جو پریشانی سے ان دونوں کی ہی
جانب دیکھ رہی تھی مجھے اس سے کوئی پروبلم نہیں ھے اور مجھے اندازہ تھا کہ یہ کوئی معمولی
لڑکی نہیں ھے میں جان گیا تھا کہ یہ کچھ تو ھے لیکن بھائی مجھے اتنا سا بھی آندازہ نہیں تھا کہ
فوزیہ پھوپھو کی بیٹی ھے مجھے ملنا ھے ان سے بات کرنی ھے اپنی پھوپھو سے پوچھنا چاہتا ہوں
کیوں گئی تھی وہ ہمیں چھوڑ کر غازی بھائی لیکن مجھے لگتا ھے ہمیں تو وہ یاد تک نہیں
کرتی ہوں گی پھوپھو ترس رہی ھے ہم سب سے ملنے کے لئے ہمارے سینے سے لگنے کے لئے لیکن
داؤد میں روحہ اور زین ہم تینوں انٹیلیجنس ٹیم کے میمبرز ھے اور جس مشن پر ہم ورک کررہے ھے
ابھی اس کے اندر جان کا بھی خطرہ ھے ہماری جانیں بھی جاسکتی ھے ملک کے لئے ہم شہید
ہوسکتے ھے اس لئے اگر مجھے کچھ ہوتا ھے میری ہانم کا خیال رکھنا اگر روحہ کو کچھ ہوتا
ھے تو خود کو سنمبھلنا زین کو کچھ ہوتا ھے زرنش کے سر پر ہاتھ رکھانا اکیلا نہیں چھوڑنا
اس کو بھی میرے بعد تمھیں ہی ان سب کا خیال رکھانا وہ بھائی اس نے بے بسی سے کہاں داؤد بی
بریو بچوں جیسی حرکت نہیں ہمم کب جائے گے آپ لوگ اس میشن کے لئے اس کی آنکھیں نم
ہورہی تھی یہ سوچ ہی جان لیوا تھی کہ ان تینوں میں سے کسی کو کچھ بھی ہوسکتا ھے کل
بہت بڑا دن ھے داؤد جو لوگ ہمارے ملک کو برباد کرنا چاہتے ھے ان سب کی بربادی کا دن ھے کل
اس نے ایک نظر روحہ کو دیکھا اور ایک نظر غازیان کو دیکھ اس کے سینے سے لگا اللہ آپ
سب کو کامیاب کرے ان دونوں نے بے ساختہ کہاں امین
جاری ھے ❤️
…………………………..
