No Download Link
Rate this Novel
Episode 7
مغرور محبت 7
رائٹر ۔۔۔۔۔۔انابیہ شاہ
Episode no 7
ایان کیچن کی طرف ایا جہاں داؤد سب کے لئے سپیشل ناشتہ بنارہا تھا وہ بہت ہی اچھا کک تھا
ایسا کہنا صرف غازیان کا تھا جو وہ اس کے منہ پر کہتا تھا لیکن ایان اس کے سامنے آس کو بے
کار شیف کہتا تھا لیکن دل ہی دل میں اس کی
تعریف نہیں کرنی تھی اس لیے خاموش رہا اور بہی بے کار شیف آج آپ کچن میں دیکھ رہے ھے
خیر تو ھے آج کیوں ہمارے معصوم مصالحوں کی شامت آئی ہوئی ھے داؤد چوپنگ کررہا تھا ایک
چہرے پر مسکراہٹ آئی اور اس کو ضبط کرکے پلٹا بھابھی کا آج پہلا دن ھے اپنے سسرال میں
ان کو سپیشل فیل کروانا ھے اس لئے خود ناشتہ بنارہا ہوں چل اب تو آہی گیا ہے تو میری مدد
کروادے نہیں بھائی اکچیلی میں پورا ریڈی شیڈی ھوں یونی جانے کے لئے میرا کپڑے اور
ہیئر اسٹائل خراب ہو جائے گا اور یہ سب آپ ہی کرے میں نے تو بھابھی کے لئے بہت اسپیشل
چیز تیار کر رکھی ھے اس نے تھوڑا اترا کر کہاں اچھا کیا تیار کر رکھا ھے تو نے ھے ایک اچھی
سی چیز آپ کو کیوں بتاؤ اچھا جو مرضی کر مجھے ذرہ یہ نمک پکڑ وا اس نے آنکھیں گھما کر
نمک اس کو پکڑوادیا بھائی آپ کو پتہ ھے صبح میرے ساتھ کیا ہوا ایان شیلف پر چڑھ کر بیٹھا
کیا داؤد نے مصروف انداز میں پوچھا بھائی
صبح میں مدثر کو کال کر رہا تھا تو غلط نمبر
ڈائل ہوگیا آپ یقین نہیں کرے گے سامنے لڑکی تھی اور پتا ھے بلکل ٹپوری لینگویج میں بات کر
رہی تھی میری تو سنی ہی نہیں خود سنا کر بند کردیا فون ایان نے فروٹ باسکٹ سے سیب اٹھا
کر ایک بائیٹ لیکر بتایا ٹپوری لینگویج مطلب داؤد نے واش بیسن میں ہاتھ دھوتے ہوئے پوچھا
یار وہ نہیں ہوتی تیرے کو نہیں پتا میرے کو پتہ ھے ایسی بھائی اور وہ ایک لڑکی بول رہی تھی
میں تو غش کھاتے کھاتے بچا داؤد کی آنکھوں کے سامنے روحہ کا چہرہ لہرایا تو خود ہی ایک
خوبصورت مسکراہٹ چہرے پر آگئی ایان نے مشکوک نگاہوں سے اس کی طرف دیکھا ہنسا
کیوں جارہا ہے بھائی جان اہم اہم ایان نے اس کو چیڑا شٹ اپ تو بول اس طرح سے رہا تھا کہ
مجھے ہنسی آگئی خیر اماں بی اس نے کچن کے دروازے پر کھڑے ہوکر اماں بی کو آواز دی وہ
بھی کسی بوتل کی جن کی طرح حاضر ہوئی اماں بی اوپر جاکر بھائی اور بھابھی کو اٹھا دے
اور ناشتہ کا بول دے جب تک میں ملازم کے ساتھ مل کر ٹیبل سیٹ کرلیتا ہوں وہ بھی سر ہلاکر
اوپر چلی گئی تاکہ غازیان اور ہانم کو اٹھا سکے
چل ایان نیچے اتر اور یہ ٹیبل پر رکھنا اسٹارٹ کر
یار بھائی اتنے سارے ملازم ہے میں ایان درانی کام کرتے ہوئے اچھا لگو گا اس نے تھوڑا غرور سے
بولا ان میں سے ہی کسی کو بول دے میں نے اس دن کیا سمجھایا تھا کہ اپنے سے کم تر کسی کو
نہیں سمجھنا چاہیے چاہے وہ تمھارے ملازم ہی کیوں نہ ہوں اور تو پھر اس لحجہ میں شروع
ہوگیا آرے یار بھائی اس میں غلط کیا بولا
ایان داؤد نے تنبیہ اس کا نام لیا تو وہ خاموش
ہوگیا تو داؤد نے اس کو تھوڑا سمجھانا چاہا دیکھ ایان صاف ستھرا رہنے یا اچھے کپڑے پہننے
سے ہرگز یہ مراد نہیں ہے اور یہ خیال دل میں نہیں آنا چاہئے کہ اپنے سے مالی لحاظ سے کم تر
کسی شخص کے ساتھ نہ بیٹھوں۔ اگر یہ صورت ہو گی تو پھر تکبر ہے۔ ورنہ اچھے کپڑے پہننا اور
صاف ستھرا رہنا، اچھے جوتے پہننا یہ تو اللہ تعالیٰ کے فضلوں کا اظہار ہے۔ اور اگر تکبر ہو گا
تو تب فرمایا کہ ایسے شخص کے لئے پھرجنت کے دروازے بند ہیں۔ اس لئے مومن اور دنیا دار میں
یہی فرق ہے کہ وہ صاف ستھرا رہتا ہے، اچھے کپڑے پہنتا ہے اچھے جوتے پہنتا ہے اپنے گھر کو
سجا کر رکھتا ہے، اس لئے کہ اللہ تعالیٰ کو خوبصورتی پسند ہے یعنی اس کا یہ ظاہری
خوبصورتی کا اظہار بھی اللہ تعالیٰ کی خاطر ہے، اس کی خوشنودی حاصل کرنے کے لئے ہے اور
کیونکہ مومن کا یہ اظہار اللہ تعالیٰ کی خوشنودی حاصل کرنے کے لئے ہے۔ اس لئے غریب
آدمی کے ساتھ مالی لحاظ سے اپنے سے کم بھائی کے ساتھ بیٹھنا اٹھنا اس کا پاس لحاظ رکھنا یہ
بھی اس کے لئے ایسا ہی ہے جیسا کسی مالدار شخص کے ساتھ اٹھنا بیٹھنا اس کا پاس لحاظ
کرنا ہے۔یہ ہے اسلامی تعلیم کہ تم خدا تعالیٰ کے فضلوں اور احسانوں کا اپنے ظاہری رکھ رکھاؤ
سے اظہار بھی کرو لیکن اس کی دی ہوئی تعلیم کے مطابق ان غریبوں کا بھی خیال رکھو جو
تمھیں وقت پر کھانا دیتے ھے وقت سے پہلے تمھارے کپڑے دھوکر رکھتے ھے استری کرتے ھے
ان کا بھی احسان مانا کرو تاکہ ان کا بھی ایک بھائی کی حیثیت سے حق پورا ادا کرو ان کی
بھی عزت کرو ان کو بھی جس نے ہمیں بنایا ھے ایان اٹھ کر اس کو گلے لگا ایم
سوری بھائی آئیندہ خیال رکھوں گا چل اب ایموشنل نہ ہوں ٹیبل سیٹ کروا پھر دونوں نے
مل کر اور ایک ملازم نے ان دونوں کی ہلیپ کی اور جلدی جلدی ناشتہ ٹیبل پر سیٹ کیا
$$$$$$$$$$$$$
صدیقی صاحب کا خود کا ایک ریسٹورنٹ جس کو انہوں نے بہت محنت سے کھڑا کیا ھے جس
کو وہ اور اب ان کی بیٹی روحہ سنبھالتی ھے صدیقی صاحب جب سے حیدرآباد گئے تھے تب
سے روحہ ہی ریسٹورنٹ کا سارا کام اس کے سر آگیا تھا جس سے وہ کافی جھنجلا رہی تھی ابھی
اس نے ریسٹورنٹ میں انٹر ہوئی تو ریسٹورنٹ میں ایک جنگ کا میدان چل رہا تھا دو لڑکوں
میں لڑائی ہورہی تھی ایک لڑکوں کو تین لڑکوں نے پکڑا ہوا تھا ایک کو دو لڑکوں نے پکڑا ہوا تھا
اور سہی گالم گلوچ چل رہی تھی پہلے تو ان سب کو ماتھے پر بل ڈالے دیکھتی رہی پھر ایک دم
چیخی چپ کرجاو سارے کیا پانی پت کا میدان لگائے رکھا ھے تم سب کو لڑنے کے واسطے میرے
ایچ ہوٹل ملا ھے اور تو حماد تو اپنی ایٹم کے ساتھ ائیلا ھے مزہ کر کیا کتے کی طرح لڑ رہا ھے
خالی فوکٹ میں شور ڈالا ہوا ھے روحہ باجی اپکو پتہ ھے نہ یہ میری سیٹ ھے میں روز آتا
ھوں یہاں یہ پتہ نہیں کون ھے میری منگیتر کو بھی چھیڑ رہا ھے اور ہماری سیٹ پر بھی بیٹھ
گیا ھے روحہ کی تیوری چڑھی کیا بے شانڑے تو اپن کے ہوٹل میں لڑکی چھیڑ رہا ھے ایسا کنٹاپ
مارو گی اڑتا ہوا برابر والے پنکچر کی دکان پر گیرے گا روحہ باجی میں نے اس کی منگیتر کو
نہیں چھیڑا میں نے بس اتنا کہاں تھا کہ پہلے میں یہاں بیٹھ گیا ہوں تم کہی اور بیٹھ جاؤ تو اس
کی منگیتر نے تھپڑ مار دیا اس نے ائیبرو اٹھائی کیا بول رہا ھے یہ تیری ایٹم نے اس کو تھپڑ کیوں
مارا اس نے مجھے کندھے پر ٹچ کیا تھا جھوٹ بول رہی ھے یہ میں ایک شریف لڑکا ہوں میرے
گھر میں بھی ماں بہن ھے فضول میں الزام لگا رہی ھے بکواس مت کرو تم نے کیا تھا ٹچ
اےےےے چپ کرو دونوں تو وہاں بیٹھ اور تو یہاں جو کھانا ھے کھاو اور دوسرے لوگوں کو
پریشان مت کرو اور اپنے اپنے گھر جاؤ میرا ہوٹل کھانے پینے کے لئے ھے آکھڑا نہیں ھے کہی اور
جاکر مگز ماری کرو اے چھوٹے ان کا آڈر لے دیتے ھے تو دے نہیں تو نو دو گیارہ کر ان سب کو اور
خود اندر اپنے آفس میں چلی گئی سالا آج کا دن ایچ خراب ھے ساری مصیبت میرے ساتھ ہی
ہوتی ھے ایک تو صدیقی صاحب بھی نہیں آرےلے ھے تھوڑا زندگی میں سکون آئے پتہ نہیں کہی
کوئی ائٹم تو نہیں پھسالی ماتاری زندہ نہیں چھوڑے گی باپو کو بول کر کرسی پر بیٹھی اور
ایک کپ چائے کا بول کر کرسی پر سر رکھ کر آنکھیں موند لی اس وقت وہ بلیک جینز اور
وائیٹ گھٹنے تک آتی شرٹ میں تھی اتنے میں موبائل رنگ ہوا تو تھوڑی سے انکھ کھول کر
دیکھا سامنے سرفراز کا نام جگمگا رہا تھا ڈی کے
کے خاص آدمی کا سر نے تمھیں چار بجے تک
بلوایا ھے اور میں نہ آؤ تو کیا کرے گا تو روحہ سے سیدھے جواب کی کوئی توقع کر ہی نہ لے سر
کو کوئی ارجنٹ کام ھے میں کسی کی نوکر نہیں ھے پہلے ریکوسٹ کر پھر میں سوچے گی کیا کرنا
ھے اپن نے ویسے بھی مشکل ھے صدیقی صاحب کراچی سے باہر ھے سارے کام مجھ اکیلی کو
دیکھنا ھے میں فارغ نہیں ھے جب ٹائم ملے گا تو اجائے گی زیادہ دماغ نہ چاٹ اب فون رکھ بول
کر موبائل ٹیبل پر پٹخنہ کے انداز میں رکھا اتنے میں گیٹ نوک ہوا آجا بہی تجھے کیا موت پڑی
ھے میم چائے ہاں یہ رکھ اور کلٹی ہوں دماغ گھوما ہوا ھے وہ بھی جلدی سے نکلا پتہ نہیں
کس (ڈی کے )کے چکر میں پھسا دیا ھے مجھے اس کی غلام ھے میں جو اس کے ایک دفعہ بلانے
پر دم ہلاتی چلی جائے اپن کا بھی ایک اسٹینڈرڈ ھے بول کر فخریہ کالر جھاڑے اور گھونٹ گھونٹ چائے پینے لگی۔۔
جاری ھے ❤️
