Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Lams e Junooniyat (Last Episode)Part 3

Lams e Junooniyat by Areesha Khan

(کچھ سالوں بعد)

“اوئے سن شیطان کی اولاد۔۔۔ موبائل دو میرا ادھر فٹافٹ سے!!! ورنہ میں بتا رہی ہوں میں جان سے مار دوں گی دو ادھر!!!”

وہ بھاگتی ہوئی سیڑھیاں عبور کرتے ہوئے راہداری تک آ پہنچی اب اس کا سانس صحیح والا پھول گیا تھا مگر وہ شرارتی بچہ اپنی شرارتوں کو برقرار رکھتے ہوئے ائیزل کو منہ چڑانے لگا

“ہیں؟؟ مجھے منہ چڑا رہے ہو تم ہاں؟؟ رکو ابھی بتاتی ہوں میں تمہیں بدتمیز انسان!!!”

ائیزل جیسے ہی پھر سے اس کے پیچھے بھاگنے لگی وہ ہبڑ تبڑ میں الٹے پاؤں بھاگتا ہوا ضوریز کے اسٹڈی روم میں جا پہنچا

ضوریز جو اس وقت ایک امپورٹینڈ کام میں مصروف تھا اپنے شرارتی لاڈلے فرزند کو اپنی گود میں کسی پناہ گاروں کی طرح پناہ لیتا دیکھ کر پوری طرح سے اس کی جانب متوجہ ہوا

“آریز؟؟ کیا ہوا بیٹا؟؟”

ضوریز نے اسے یوں خود سے چپکتا دیکھ کر سوال کیا جس پر وہ اسے بامشکل اپنی ہنسی دباتے ہوئے چپ رہنے کا اشارہ کر رہا تھا

“پھر سے کوئی شرارت کی ہے؟؟ موم کیوں غصے میں ہیں؟؟”

باہر سے ائیزل کی چینخ سن کر ضوریز نے آریز کے کان میں سرگوشی کی جس پر وہ اثبات میں سر ہلانے لگا

“افففو لڑکے تم بھی نہ۔۔۔ اب دیکھو وہ سارا الزام تمہارے اس بچارے باپ کو دے گی دیکھ لینا!!!”

ضوریز اس کے گال کھینچا ہوا آہستگی سے کہنے لگا جس پر آریز منہ پر ہاتھ رکھ کر ہنسنے لگا

“اوہ۔۔۔ تو یہاں بیٹھ کر باپ بیٹے پلاننگ کر رہے ہیں؟؟ اور چڑھاؤ سر۔۔۔ دیکھنا ایک دن تمہیں بھی ایسا مزہ چکھائے گا یہ کہ دیکھتے رہ جاؤ گے تم مسٹر ضوریز درانی”

ائیزل صوفے کے پاس آکھڑی ہوئی اور اچھا خاصا غصہ ہونے لگی جس پر ضوریز نے آریز کو اپنی ایک ٹانگ پر کیا اور ائیزل کا ہاتھ کھینچ کر اسے دوسری ٹانگ پر گرایا جس پر وہ ہونق بنی ضوریز کی چھچھوری حرکت دیکھ رہی تھی

“تم کبھی نہ سدھرنا چھچھورے انسان۔۔۔ یہ سب تمہاری ہی ڈھیل کا نتیجہ ہے جو یہ اتنا شرارتی ہوتا جارہا ہے!! چھوڑو میرا ہاتھ اور یہ تم۔۔۔!!”

ائیزل اپنی ہی دھن میں بڑبڑا رہی تھی جب ضوریز نے اچانک سے ائیزل کے گال پر لب رکھے وہ اچھل کر دور ہونے لگی مگر ضوریز نے یہ بھی نہ ہونے دیا جبکہ اس کی اس حرکت پر جہاں ائیزل کے گال غصے سے لال ہو چکے تھے وہیں آریز میں پر ہاتھ رکھے ہنسی دبانے کی کوشش کر رہا تھا

“یو!!! بوڑھے ہوگئے لیکن ٹھرکپن کم نہ ہوا تمہارا!! چھوڑو مجھے!!”

ائیزل نے پھاڑ کھانے والے انداز میں کہتے ہوئے اپنا ہاتھ چھڑانا چاہا

“ارے بوڑھا کب ہوا میں؟؟ صرف دو بچوں میں بڑھا کون ہوتا ہے بھلہ؟؟ ابھی تو چار پانچ اور آئیں گے اس دنیا میں تب مانوں گا میں بوڑھا ہوگیا ابھی عمر ہی کیا ہے میری صرف تیس سال!!! کیوں ریز!!!”

ضوریز کی گوہر افشائی سن کر آئیزل کا منہ کھلا کا کھلا رہ گیا جبکہ آخری والے الفاظ پر ضوریز نے آریز کی ہتھیلی پر ہاتھ مارا جس پر ائیزل مزید ان دونوں کو گھورنے لگی

“چپ کروا تم!! اور تم کیا دانت نکال رہے ہو؟؟ جاکے ہوم ورک کرو اپنا!!!”

ائیزل کے آنکھیں دکھانے پر آریز معصوم سی شکل لے کر ضوریز کی گود سے اتر کا اسٹڈی روم سے باہر چلا گیا اس کے جاتے ہی ضوریز نے ائیزل کو اپنی گود میں بڑے آرام سے بیٹھا کر گرد باہیں پھیلائیں

“کیوں اتنا غصہ کرتی ہو مائے ڈارلنگ۔۔۔ تمہیں پتا ہے نہ غصہ کرنے سے تمہاری یہ چھوٹی سی ناک کتنی ریڈ ہوجاتی ہے۔۔۔ اور پھر بلکل بندریا جیسی لگتی ہو تم!!”

ضوریز نے اس کا رخ اپنی جانب کر کے اس کی ناک دبائی جس پر ائیزل دانت بیچتے ہوئے رخ موڑ گئی

“خیر یہ میرا بڑا والا ڈون کہاں ہے؟؟”

کچھ یاد آنے پر ضوریز نے بڑی سنجیدگی سے ائیزل سے پوچھ جس پر وہ منہ بناتے ہوئے اسے گھورنے لگی

“ہوگا یہیں کہیں۔۔۔ پھر کوئی نہ کوئی نیا کارنامہ سر انجام دے رہا ہوگا۔۔۔ اولاد جو تمہاری ہے!!!”

“آف کورز مائے ڈارلنگ۔۔۔”

ائیزل کی بات پر ضوریز نے ایک انداز سے اپنے بڑھتے ہوئے بندھے بالوں کے اوپر ہاتھ پھیرتے ہوئے بڑے فخر سے سے دیکھا جس پر ائیزل نے اس کے بندھے ہوئے بالوں کو بکھرا کر باہر کی جانب دوڑ لگانا چاہی مگر ضوریز نے اسے کھینچ کر دوبارا خود پر گرا لیا اور اب وہ پھر سے اس کے عنابی ہونٹوں پر گستاخیاں کر رہا تھا

☆★☆★☆★☆

“اٹھاؤ اپنے یہ تھرڈ کلاس ڈبے اور چلتے بنو اور نیکسٹ یہاں کہیں بھی نظر نہ آنا سمجھے ورنہ تمہیں اس دنیائے فانی سے ہمیشہ ہمیشہ کے لیے آق کردوں گا!!!”

وہ سال ساتھ کا بچہ بڑے ٹشن سے اپنے مخصوص حلیے میں گھر کے سامنے کھڑا خود سے ڈبل ٹبل عمر کے شخص کو دھمکی دے رہا تھا جس پر وہ شخص ہنسنے لگا

“ہاہاہاہا یہ دیکھو اس چھوٹے سے بچے کو ہاہاہاہا مجھے سلیم کلّو کو ڈرا رہا ہے جیسے میں اس سے ڈر جاؤں گا ہاہاہاہا بیٹا تمہارا جب ادھر اتا پتا بھی نہ تھا نہ تب سے میں یہ کباڑیے کا کام کر رہا ہوں اور تم دو بالش کے ہو کر سلیم کلّو کباڑیے والے کو آنکھیں دکھا رہے ہو؟؟”

وہ شخص مذاق مذاق میں سامنے کھڑے بچے کو اچھا خاصا غصہ دلا چکا تھا اس نے گھر کے اندر گیٹ کی جانب اشارہ کر کے کچھ مانگا جس پر پانچ سال کے آریز نے ہاکی اس کی جانب اچھالا جسے تبریز نے ایک ہاتھ سے کینچ کرلیا

اپنی انگلیوں میں موجود مخصوص قسم کی شیر کے سانچے والی انگوٹھیوں کو ایک اسٹائل سے ٹھیک کرتا ہوا گلے میں پہنی چیل کے لاکٹ والی چین کو انگلی سے ہلاتا ہوا وہ اس شخص کے گرد ہاکی لئے گھومنے لگا

سب لوگ اپنے گھروں کے باہر کھڑے تبریز کے ری ایکشن کا انتظار کر رہے تھے اور کچھ لوگ تو گھروں کی چھتوں پر چڑھ کر نیچے کی جانب جھانک رہے تھے سب کو بے صبری سے انتظار تھا کہ کب وہ پنگے باز لڑکا پھر سے لڑائی جھگڑا کر کے روڈ بلاک کروائے

“یعنی تمہیں میں دو بالش کا لگتا ہوں؟؟ ہمم یہ تو بڑا سنجیدہ مسئلہ ہے اس کا تو کچھ کرنا پڑے گا۔۔۔ کیا کہتے ہو آپ سب؟؟ حل نکالوں اس کا؟؟ کیا کیا جائے اب؟؟”

تبریز ہاتھ میں ہاکی لے کر تمام لوگوں سے اونچی آواز میں مخاطب ہوا جس پر سب نے مارو مارو کے نعرے لگانا شروع کر دیئے پھر کیا ہونا تھا تبریز نے ایک زور دار ہاکی اس آدمی کے تلوؤں پر ماری جس سے وہ کرراتے ہوئے زمین پر جا گرا بس پھر سب لوگ ”کِلّ ہِمّ“ کے نعرے لگا رہے تھے اور یہ شور سن کر ضوریز اور ائیزل بھاگتے ہوئے باہر آئے

“تبریز کیا کر رہے ہو؟؟ چھوڑو اسے مر جائے گا وہ!! یہ کہا طریقہ ہے بیٹا؟؟”

ائیزل نے بامشکل اس جنونی لڑکے کے ہاتھ سے ہاکی چھین کر اسے بازوؤں سے جکڑا جبکہ ضوریز نے ایک نظر زمین پر گرے اس آدمی کو کاٹ دار نگاہوں سے گھورا پھر بڑے متفخر انداز میں اپنے بیٹے کو دیکھا جو اب تک اس شخص کو گھور رہا تھا

“اور یہ سب کیا تماشا لگایا ہوا ہے آپ لوگوں نے؟؟ وہ ایک چھوٹا بچہ ہے بجائے اسے روکنے کے آپ لوگ اس کا ساتھ دے رہے ہیں؟؟ شرم آنی چاہیے آپ لوگوں کو۔۔۔ اور تم۔۔۔ کلو کباڑیے والے چلو شاباش ابھی اٹھو یہاں سے اور چلتے بنو ورنہ لگے گا ایک اور منہ پر سارے دانت ٹوٹ جائیں گے۔۔۔”

ائیزل سب پر بھڑک اٹھی جبکہ کلو کباڑیے والا جلدی سے اٹھ کر اپنا ٹھیلہ بھگاتا ہوا وہاں سے نو دو گیارہ ہوگیا اور سب کے سب اس کی اس حرکت پر ہنستے رہ گئے

“ڈیڈ غلطی اس کی تھی وہ نسرین آنٹی سے بحث کر رہا تھا مجھے غصہ آگیا۔۔۔”

تبریز نے ضوریز کو اپنی جانب متوجہ دیکھ کر نظریں جھکائے صفائی دی جس پر ضوریز آگے بڑھ کر ایڑھی کے بل بیٹھا

“آپ نے بلکل ٹھیک کیا مائے لٹل ڈون۔۔۔ آئی ایم سو پراؤڈ آف یو مائے سن۔۔۔”

ضوریز نے اس کے جیل سے سیٹ ہوئے بالوں کو اپنی انگلیوں سے ٹھیک کرتے ہوئے کہا جس پر وہ یک طرفہ مسکرایا مگر یہ منظر دیکھ کر ائیزل جل بھن گئی

“بن کرو یہ ڈرامے بازیاں اور چلو اندر تم لوگوں کو تو میں بتاتی ہوں ذرا اندر ملو!! اور تم کیا کھڑے دانت نکال رہے ہو؟؟ تم بھی کچھ کم نہیں چلو اندر!!!”

ائیزل دانت بیستے ہوئے ضوریز اور تبریز کو گھورا جبکہ آخری والے جملے پر اس نے گیٹ کے اندر چھپے آریز کا ہاتھ پکڑ کر کھنچتے ہوئے کہا اور اندر کی جانب بڑھ گئی

“ہم سب کا ہیرو کون؟؟ تبریز ڈون تبریز ڈون!!”

سب لوگوں نے نعرہ لگایا جس پر تبریز نے ایک انداز سے اپنے ہاتھ کو چوم کر سب کو بائے بائے کیا اور اپنے ڈیڈ کے ساتھ اندر چلا گیا

“بتاؤ کیا سزا دوں میں تم دونوں بلکہ تم تینوں کو۔۔۔ ابا جو ملا ہوا ہے ہر غلط کام میں اپنے ان شیطانوں کو سپورٹ کرتا ہے تبھی تو اتنا بگڑ رہے ہیں یہ لوگ۔۔۔ غنڈے کہیں کے۔۔۔”

ائیزل نے کہتے کے ساتھ ہی تبریز کی انگلیوں سے انگوٹھیاں اور گلے سے لاکٹ کھینچا جس پر وہ معصوم سی شکل بنائے اپنے ڈیڈ کو دیکھنے لگا جو اسے آنکھوں سے خاموش رہنے کا اشارہ کر رہا تھا

“خبردار جو آئندہ کے بعد یہ غنڈے موالی والا حلیہ بنایا تو۔۔۔ باپ کی عادت تو ٹھیک کر نہیں پائی میں اب بیٹے کو بھی اس حلیے میں برداشت کرنا پڑھ رہا ہے۔۔۔”

ائیزل کے کہنے پر تبریز نے سر جھکا لیا

“افف ڈارلنگ جانے دو بچہ ہے ہو جائے گا ٹھیک بڑے ہوکر۔۔۔”

ضوریز نے ہمیشہ کی طرح اس کی حمایت کی جس پر ائیزل نے اسے گھوری سے نوازا

“تم تو اتنے بڑے گھوڑے ہوکر ٹھیک ہوئے نہیں یہ کیا ٹھیک ہوگا؟؟ بلکل تم پر گیا ہے یہ پورا کا پورا ضوریز ہے تبریز تو ہے ہی نہیں مگر خبردار جو آریز کو اپنی طرح بنانے کا سوچا تو!!”

وہ انگلی سے وارن کرتی ہوئی آنکھیں ڈرانے لگی

“موم موم۔۔۔ میں آپ پر گیا ہوں نہ میں نہیں جاؤں گا ڈیڈ اور برو پر۔۔۔ پرومس۔۔۔”

آریز نے اپنی ناراض سی کیوٹ سی موم کا ہاتھ پکڑ کر بڑی معصومیت سے کہا جس پر ائیزل نے اس کے بکھرے ہوئے بالوں کو ہاتھوں سے ٹھیک کرتے ہوئے اس کے پھولے پھولے گالوں کو کھینچا

“اچھا نہ بس ڈارلنگ۔۔۔ خیر آج شام ہمیں ڈیڈ کے پرسنل ہاؤس جانا تھا یاد ہے نہ؟؟ آج تبرش کی برتھڈے ہے۔۔۔”

ضوریز کے یاد دلانے پر تبریز اور آریز کے چہرے پر ایک خوبصورت سی مسکراہٹ بکھری

تبریز بنا بنایا ضوریز تھا اور پھر اس کے مخصوص قسم کے شوق اور حرکتیں سب ضوریز کے جیسی تھیں وہ ہر ایک کو بڑے آرام سے اپنے مخصوص انداز میں ڈیل کرتا تھا اور پھر اس کی آنکھیں بھی ضوریز کی آنکھوں کی طرح گہری کالی چمک دار تھیں

جبکہ اس کے برعکس آریز تھوڑا ڈرپوک شرمیلا مگر شرارتی تھی وہ ضوریز کے ہر الٹے کرتوت میں اس کا پورا پورا ساتھ دیا کرتا تھا مگر اس کی آنکھیں ائیزل کی طرح سر سبز کتھائی رنگ کی تھیں تبریز نے تو بال بھی بڑھانے چاہے تھے مگر ائیزل نے اس کے بڑھتے بالوں کو پکڑ کر کاٹ دیا تھا

“واؤ!!! یعنی آج تو بہت مزہ آنے والا ہے یاہوو!!!”

وہ دونوں بچے یک آواز ہوکر پورے گھر میں دوڑنے لگے جس پر ضوریز مسکراتا ہوا ائیزل کو باہوں سے تھام کر سینے سے لگا گیا

☆★☆★☆★☆

پر طرف چہل پہل کا سماں تھا وجاہت صاحب کے پرسنل ہاؤس کو بڑے پیمانے پر سجایا جارہا تھا سب ملازم کاموں میں مصروف تھے جبکہ وجاہت صاحب کاظم صاحب کے ساتھ مل کر اپنے بزنس کے کاموں میں مصروف تھے

ان چند سالوں میں کافی کچھ بدل گیا تھا آتش انڈسٹری چھوڑ کر اپنے ڈیڈ کا بزنس جوئن کر چکا تھا مگر اب تک ایوارڈ شو میں سب سے فرنٹ سیٹ پر وہ انوائٹڈ ہوتا تھا اب تک اسے اپنے پرانے پروجیکٹس پر ایورڈز ملا کرتے تھے جنہیں کبھی وہ خود ریسیو کرتا تھا یا پھر کبھی بزنس میٹنگز کے سلسلے میں دوسرے ملک جانے کی وجہ سے اپنے مینیجر کو بھیج دیا کرتا تھا

“تابش۔۔۔ بیٹا کم ہیئر۔۔۔”

آتش کے ایک آواز دینے پر تابش دوڑتا ہوا اس کے اسٹڈی روم میں بھاگا جہاں آتش اپنے لیپ ٹاپ میں مصروف کچھ کام کر رہا تھا

“جی ڈیڈ۔۔۔”

تابش کے آتے ہی آتش نے لیپ ٹاپ پر سے نظریں ہٹائیں

“تابش بیٹا میں نے کل ایک فائل سیو کروا تھی آپ سے۔۔۔ وہ مجھے مل نہیں رہی اور وہ مجھے ابھی ای میل کرنی ہے پلیززز ڈھونڈ کر دے دو تاکہ رات تک ان سب کاموں سے فارغ ہوجاؤں۔۔۔”

آتش نے لیپ ٹاپ اس کی جانب بڑھاتے ہوئے کہا

“شور ڈیڈ آپ ٹینشن فری ہو جائیں میں کردوں گا یہ کام بٹ ڈیڈ آپ پلیززز روم میں جاکے ان دونوں کو سنبھال لیں انہوں نے موم کا سر کھایا ہوا ہے وہ شام کے فنکشن کے لیے آپ ہی کے ساتھ شاپنگ پر جانا چاہتی ہیں۔۔۔”

تابش کے بتانے پر آتش کے چہرے پر مسکراہٹ بکھرنے لگی جبکہ تابش لیپ ٹاپ لئے اپنے کاؤچ پر جا بیٹھا

“اچھا تو یہ بات ہے۔۔۔ خیر چلو آپ یہ کام کردو میں ذرا ان دونوں شہزادیوں کو دیکھ لوں کہیں اپ کی موم مجھ سے ہی ناراض نہ ہوجائیں۔۔۔”

آتش کے کہنے پر تابش مسکرانے لگا جس پر آتش اپنا کوٹ اور موبائل لئے باہر چلا گیا

آتش اور تعبیر کی شادی کے ایک سال بعد اللّٰہ پاک نے انہیں نعمت سے نوازا تھا جس کا نام انہوں نے دونوں کے نام کو ملا کر تابش رکھا تھا جو اب آٹھ سال کا ہو چکا تھا مگر کافی زیادہ ذہین سمجھدار اور سلجھا ہوا بچہ تھا

پھر کچھ ہی وقت بعد اللّٰہ پاک نے انہیں رحمت سے نوازا جس کا نام انہوں نے تبرش رکھا تھا جو تعبیر کی طرح معصوم سی پیاری سی تھی اور اس کا لہجہ بلکل تعبیر کی طرح میٹھا تھا وہ بآسانی سب کے دلوں کو بھا جاتی تھی اور سب سے زیادہ متاثر کن بات اس میں یہ تھی کہ وہ بہت کم عمر سے ہی نماز پڑھا کرتی تھی

تبرش اور تابش کی آنکھوں کا رنگ تعبیر کے جیسا ہلکا براؤن تھا اس کی آج سالگرہ کا دن تھا وہ آج سات سال کی ہو چکی تھی اکثر سب لوگ مذاق میں تبریز اور تبرش کو ہم عمر ہونے پر ٹوئن کہا کرتے تھے جبکہ وہ صرف کزن تھے اور بہت اچھے دوست بھی تھے

“ڈیڈی میں آپ سے ناراض ہوں۔۔۔ ڈیڈی ڈونٹ ٹیل می ڈیٹ کہ آپ آج بھی بیزی ہیں۔۔۔”

وہ جیسے ہی بچوں کے روم میں آیا عقب پر رکھے کاؤچ سے چھلانگ لگا کر وہ جس طرح اس کی پیٹھ پر لٹک کر اپنی ناراضگی کا اظہار کر رہی تھی آتش نے جلدی سے اپنے کانوں پر ہاتھ رکھا

“اففف لٹل ڈول پلیززز ڈیڈی کو تنگ نہ کرو ڈیڈ بیزی تھے نہ میری جان اب فری ہوگئے ہیں چلو اترو نیچے شاباش۔۔۔”

آتش نے اسے بہلا پھسلا کر منانا چاہا جس پر عرش نور نے چھلانگ لگا کر بیڈ پر کود ماری تو آتش نے سکھ کا سانس لیا

“اب آپ فری ہو گئے ہیں نہ تو مجھے اور دی کو شوپنگ پر لے کر چلیں شاباش جلدی سے۔۔۔”

عرش نور کے گرما گرم حکم پر آتش نے سر جھکا کر حامی بھری تو وہ مغرورانہ انداز میں مسکرانے لگی

وہ عرش نور تھی اپنے نام کی طرح بے حد خوبصورت مگر آتش کی طرح نیلی آنکھوں والی نکچڑی پنگے باز نخریلی شہزادی۔۔۔ وہ پوری کی پوری بنی بنائی آتش تھی جو وہ ابھی حال ہی میں چار سال کی ہوئی تھی وہ نہ صرف آتش کی طرح تھیکے نقوش کی مالک تھی بلکہ اس کی اکڑ اس کا غصہ اور جنونیت تو پوچھو ہی مت

اگر کچھ وہ ناراض ہوجاتی تھی تو تعبیر اسے مناتے مناتے تھک جاتی تھی مگر عرش نور صرف آتش کی سنتی اور مانتی تھی وہ سب کی لاڈلی تھی اور اس ہی وجہ سے سب کے دلوں پر راج کرتی تھی آتش اس کے ہر ناز نخرے اٹھایا کرتا تھا تبھی وہ اچھی خاصی ضدی بھی ہو چکی تھی

“اچھا ادھر آؤ ذرا مجھے یہ بتاؤ کیا کیا لینا ہے آپ نے؟؟”

آتش نے اس کے گول گپوں جیسے گالوں کو چوم کر اسے گود میں بٹھاتے ہوئے اس کی خواہشات جاننا چاہی جس پر عرش نور کی پرکشش چمکدار نیلی آنکھیں مزید چمک اٹھیں

“ڈیڈ مجھے چاہئے ایک فیری وہ بھی پنک کلر کی۔۔۔ اور پیاری سی سینڈل اور میری جیولری بھی اور ہاں کراؤن بھی۔۔۔ بٹ نیل پولش نہ بھولیئے گا وہ بھی لوں گی میں”

عرش نور بڑے آرام سے اپنے کنگ کی گود میں بیٹھی کسی پرنسز کی طرح اپنی فرمائشیں بنا رہی تھی جس پر آتش کے چہرے کی مسکراہٹ مزید گہری ہونے لگی

“نیل پولش بھی؟؟ ہممم ڈن وہ تو سب ٹھیک ہے بٹ یہ کراؤن کیوں؟؟”

آتش نے متعجب ہوکر سوال کیا جس پر وہ اپنی بڑی بڑی نیلی آنکھوں سے اپنے ڈیڈ کو دیکھنے لگی

“ڈیڈ یو ڈونٹ نو؟؟ پرنسز ہمیشہ کراؤن پہن کر رکھتی ہیں”

عرش نور نے انتہائی تفصیلی انداز میں کہا جس پر آتش نے ہونٹوں کی گول شیب بنائی

“اوہ۔۔۔”

“جی ہاں ڈیڈ۔۔۔”

عرش نور نے اثبات میں سر ہلایا

“چلو ڈن پھر تبرش کے ساتھ ساتھ آپ کا بھی کراؤن لیں گے بس؟؟”

آتش نے اس کی فرمائش کو مدنظر رکھتے ہوئے حامی بھری جس پر وہ مسکرا اٹھی اور آتش کے گالوں پر بوسہ دینے لگی

“ییہہہ۔۔۔ میرے ڈیڈ میرے کنگ ہیں دنیا کے سب سے اچھے ڈیڈ ہیں۔۔۔”

عرش نور کی بات پر آتش نے اس کی پیشانی پر اپنے لب رکھے تبھی تعبیر وہاں آئی

“عرش نور بیٹا ڈیڈ کو تنگ نہ کرو میں چل رہی ہوں نہ ساتھ۔۔۔ ہم شوپنگ کر لیتے ہیں جا کر۔۔۔”

تعبیر جیسے ہی کمرے میں آئی عرش نور نے ایبرو اچکائے اسے دیکھا

“سوری موم نہ آپ کے ساتھ اور نہ ہی حریم اپو کے ساتھ۔۔۔ مجھے شوپنگ پر جانا ہے صرف اپنے ڈیڈ کے ساتھ”

وہ اپنا حکم سناتے ہوئے اپنے ڈیڈ کے گلے لگ گئی جس پر تعبیر نے آتش کو گھورا جو اسے آنکھ مارتے ہوئے مسکرا رہا تھا

“اچھا بیٹا عرش نور ہماری برتھڈے گرل تبرش کہاں ہے؟؟ جاؤ اسے کہو ریڈی ہوجائے ہم شوپنگ کے لیے جارہے ہیں۔۔۔”

آتش کی بات پر وہ جلدی جلدی اثبات میں سر ہلائے اس کی گود سے اچھل کر باہر کی جانب بھاگی جبکہ آتش اٹھ کر تعبیر کی طرف آیا

“کیا اب تک ناراض ہو میری جان؟؟”

آتش نے اسے بازوؤں سے تھام کر قریب کیا جس پر تعبیر نے خفگی سے نظریں جھکا دیں

“آپ کو میری ناراضگی کی پرواہ ہی کب ہے؟؟ آپ کو تو بس اپنے کاموں کی پرواہ ہے۔۔۔”

تعبیر کے دل کی بات آخر زبان پر آ ہی گئی تھی کتنی اچھی لگ رہی تھی وہ ایسے ناراض ہوتے ہوئے ہمیشہ کی طرح معصوم جس پر آتش کو اب بے انتہا پیار آنے لگا اس نے مسکراتے ہوئے تعبیر کےے چہرے کا رخ اپنی جانب کر کے اس کی بڑی بڑی جھیل جیسی آنکھوں میں اپنے لئے ڈھیر سارا پیار دیکھا

“اور اگر میں یہ کہوں کہ میں نے آؤٹ آف کنٹری جانے کا پلان کینسل کردیا پھر؟؟”

آتش نے چاہت سے چور لہجے میں کہتے ہوئے اسے مسکراتی نظروں سے دیکھا جبکہ وہ تو حیران کن انداز میں اس کے کہے گئے الفاظوں پر اسے دیکھ رہی تھی

“کک کیا مطلب کینسل کردیا؟؟ کیا آپ۔۔۔ آتش آپ واقعی نہیں جارہے؟؟”

تعبیر کی تو خوشی کی کوئی انتہا ہی نہ رہی آتش نے ہاں میں سر ہلاتے ہوئے اسے اپنی باہوں کے گھیرے میں لیا تعبیر مسکراتے ہوئے اس کے سینے سے آ لگی

“بھلہ بازیگر کیسے اپنی سینوریٹا کو ناراض کر کے جا سکتا ہے۔۔۔ بچوں کے ایگزیمس ہوجائیں پھر ہم سب کچھ ٹائم کے لئے آؤٹ آف کنٹری چلیں گے۔۔۔ ایسے میں وہاں اپنی ایک دو میٹنگز بھی اٹینڈ کرلوں گا اور بچے ہماری پسندیدہ جگہ پر گھوم پھر بھی لیں گے۔۔۔ یہ خیال کیسا ہے؟؟”

آتش نے اپنی خواہش ظاہر کر کے جیسے اس کی رضامندی مانگی تھی جس پر تعبیر نے سر اٹھا کر اس کی آنکھوں میں دیکھا

“جیسا آپ کہیں آتش۔۔۔”

وہ گہری سانس لیتے ہوئے اس کے سینے پر سر ٹکا گئی تھی وقت کے ساتھ ساتھ ان کے درمیان پیار بھی بے انتہا بڑھ گیا تھا یہی وجہ تھی کہ وہ لوگ چاہ کر بھی ایک دوسرے سے ایک پل کے لیے لئے بھی دور نہیں جا سکتے تھے

“ماشاءاللہ ماشاءاللہ مومی ڈیڈی لوکنگ سے رومانٹک۔۔۔”

عرش نور کی آواز پر جیسے ہی تعبیر دور ہونے لگی آتش نے اس کے گرد گرفت مضبوط کر کے اس کے اس ارادے کو ناکام بنا دیا

کمرے کے دروازے پر کھڑے وہ تینوں بچے اپنے والدین کو ساتھ ہنستا مسکراتا دیکھ کر دل سے خوشی محسوس کر رہے تھے عرش نور دوڑتی ہوئی اندر کو آئی اور آتش کی گود میں آنے کے لیے اپنی جگہ بنانے لگی جبکہ تبرش تعبیر کے پاس آکھڑی ہوئی اور تابش دور سے کھڑا انہیں مسکراتے ہوئے دیکھ رہا تھا

“عرش نور۔۔۔ کتنی بار کہا ہے ڈور نوک کر کے آیا کرو۔۔۔”

تعبیر نے مصنوعی غصہ کرتے ہوئے کہا جس پر عرش نور نے ناک چڑائی

“نو نو موم آپ نے کہا تھا صرف ہمارے روم کا ڈور نوک کر کے آیا کرو اور یہ روم تو ہمارا ہے کہ آپکا اور ڈیڈی کا تھوڑی۔۔۔ ہے نہ ڈیڈی؟؟”

عرش نے آنکھ مارتے ہوئے کہا جس پر تعبیر آتش سے تھوڑا فاصلے پر ہوئی اور موقع غنیمت جان کر عرش نور آتش کے گلے لگ گئی

“جی ہاں ڈیڈ کی پرنسز۔۔۔”

آتش نے اس کے رخساروں کو کئی بار چومتے ہوئے کہا جس پر وہ بلش کر گئی

“ڈیڈ میں بھی تو ہوں۔۔۔”

تبرش جو کب سے یہ سب منظر دیکھ رہی تھی اب معصومیت سے کہنے لگی جس پر آتش مسکرانے لگا

“آف کورز مائے پرنسز آپ تو ڈیڈ کی سب سے اچھی بیٹی ہو بلکل مما کی طرح پریٹی سینوریٹا۔۔۔”

آتش نے عرش نور کو گود سے اتار کر تبرش کو باہوں میں بھر کر اس کے ماتھے پر لب رکھے جس پر وہ مسکراتے ہوئے اپنے ڈیڈ کے گالوں پر بوسہ دینے لگی

“ڈیڈ میں کیا سوتیلہ ہوں؟؟”

تابش جو بہت سادگی پسند تھا جو اپنی خواہشات کا اظہار تعبیر کے علاؤہ اور کسی سے نہیں کرتا تھا آج پہلی بار سنجیدگی سے کہتا ہوا سب کو ہنسنے پر مجبور کر گیا آتش نے تبرش کو گود سے اتار کر تابش کی جانب قدم بڑھائے

“ارے نہیں بڈی تم تو میرے پرنس ہو۔۔۔ “

آتش کے باہیں پھیلانے پر وہ شدت سے اپنے ڈیڈ کے گلے لگ گیا جس پر تعبیر مسکرانے لگی اور تبھی وہ دونوں شہزادیاں بھی آتش کے پیروں سے لپٹ گئیں

“ارے نہیں بڈی تم تو میرے پرنس ہو۔۔۔ “

آتش کے باہیں پھیلانے پر وہ شدت سے اپنے ڈیڈ کے گلے لگ گیا جس پر تعبیر مسکرانے لگی اور تبھی وہ دونوں شہزادیاں بھی آتش کے پیروں سے لپٹ گئیں

“تم وہاں کیوں کھڑی ہو؟؟ ہم ہیئر سینوریٹا۔۔۔”

آتش نے اسے پیچھے کھڑے دیکھ کر کہا جس پر وہ اس کے قریب آئی تبھی آتش نے اپنے پورے ہوش و حواس میں اپنے بچوں کے سامنے بڑی بے شرمی سے اس کے نرم رخساروں پر اپنے لب رکھ دیئے جسے وہ دیکھتی ہی رہ گئی

“ڈیڈی اگر آپ کو رومانس ہوچکا ہو تو اب ہم چلیں؟؟”

عرش نور نے اپنے ڈیڈ کی حرکت پر ماتھے پر ہاتھ مارتے ہوئے کہا جس پر سب ہنس پڑے

☆★☆★☆★☆

“ہیپی برتھڈے ٹو یو۔۔۔ ہیپی برتھڈے ٹو یو۔۔۔ ہیپی برتھڈے ڈیئر پرنسز تبرش ہیپی برتھڈے ٹو یو۔۔۔”

سب کی تالیوں میں تبرش کا کیک کاٹا گیا تبرش نے کیک کا پیس اٹھا کر پہلے اپنے جان سے پیارے ڈیڈ کی جانب بڑھایا پھر اپنی موم اور پھر اپنے بڑے بھائی تابش کی جانب۔۔۔ جبکہ عرش نور کو تو کیک کھلانے کی ضرورت محسوس ہی نہ ہوئی کیوں وہ بڑے آرام سے خود ہی کھانے میں مصروف تھی

“ویسے۔۔۔ میں سوچ رہا ہوں کیوں نہ ہم بھی صارم کی برتھڈے میں سب کو انوائیٹ کریں۔۔۔”

شاویز کی بات پر حریم نے مسکراتے ہوئے اثبات میں سر ہلایا شاویز اور حریم کے ہاں بیٹے کی پیدائش ہوئی تھی جو اب ماشاءاللہ سے پانچ سال کا ہو چکا تھا

دیکھا جائے تو ان سب کے بچے ایک دوسرے کے کم عمر ہی لگتے تھے تابش سب سے بڑا تھا پھر تبرش اور تبریز اور پھر آریز، صارم اور عرش نور۔۔۔ تبھی تبرش کی تبریز سے گہری دوستی تھی اسی طرح آریز، صارم اور عرش نور کی آپس میں کافی بنتی تھی

مگر تابش کا ہم عمر کوئی نہ تھا تو وہ زیادہ تر خاموش رہا کرتا تھا وہ زیادہ وقت اپنی اسٹڈیز اور اپنے ڈیڈ کے بزنس کے چھوٹے موٹے کاموں کو سمجھنے میں مصروف رہتا تھا اکثر آتش کو باہر جانا پڑھ جاتا تھا تو اپنے دادا جان اور اپنے چاچا جان کے ساتھ بزنس کے معمالات کو سمجھنے اور سیکھنے کی کوشش کیا کرتا تھا

“اففف ماشاءاللہ ماشاءاللہ سینوریٹا اور بازیگر تم دونوں تو بلکل بھی نہیں بدلے قسم سے آج بھی وہی نیو کپل لگ رہے ہو۔۔۔ اللّٰہ پاک بری نظر سے بچائے”

“آمین”

رائمہ کے تعریف کر کے دعا دینے پر آتش اور تعبیر دونوں نے ہم آواز ہوکر آمین کہا

“ویسے میں سوچ رہا تھا بلیک بیوٹی تم بھی اپنا کچھ انتظام کر ہی لو۔۔۔”

عقب میں کھڑے شاویز نے رائمہ کو چھیڑتے ہوئے کہا جس پر وہ اسے گھورنے لگی

“جسٹ شٹ اپ چوزے تمہارے کہنے کا کیا مطلب ہے ہاں؟؟”

رائمہ نے اسے آنکھیں دکھائیں

“اوہ ہیلو میں کوئی چوزہ نہیں ہوں سمجھیں نہ۔۔۔ اور یہ میرے کہنے کا مطلب یہ ہے کب تک ہمارے سروں پر بیٹھی رہو گی بھئی اپنا بوریا بستر گول کرو اور شادی وادی کر کے نکلو اس ملک سے ویسے بھی ہمارے ملک میں بندریائیں زیادہ پسند نہیں کی جاتیں تم انڈیا چلی جانا وہاں تمہاری برادری کے لوگ ملیں گے”

شاویز کے کہنے کی دیر تھی رائمہ ہونق بنی اس کے منہ سے نکلے الفاظوں پر اسے دیکھ رہی تھی جبکہ باقی سب کی دبی دبی ہنسی نکل رہی تھی

“میں کیوں جانے لگی یہاں سے؟؟ جاؤگے تو تم اب۔۔۔”

رائمہ نے اسے انگلی دکھاتے ہوئے کہا جس پر شاویز اسے گھورنے لگا

“کیا مطلب؟؟ میں کہاں جاؤں گا؟؟ میں نے کہاں جانا ہے؟؟”

شاویز نے حیرت سے کہا

“افففو ڈیڈ آپ نہ گدھے کے گدھے ہی رہیے گا۔۔۔”

“گدھا نہیں چوزہ”

صارم کے کہنے کی دیر تھی کہ سب لوگ زور زور سے ہنسنے لگے جبکہ رہی صحیح کسر رائمہ نے پوری کر دی تھی اب شاویز بے یقینی کی کیفیت میں سب کو ہنستا دیکھ کر اپنے بیٹے کو گھور رہا تھا جو اب صحیح معنوں میں پچھتا رہا تھا

“آئی مین۔۔۔ آپ کو موم نے کہا تھا نہ ہم کچھ ٹائم کے لئے آؤٹ پر جائیں گے۔۔۔ بس وہیں کی بات کر رہی تھیں رائمہ آپو۔۔۔”

صارم نے بامشکل بات کو سنبھالتے ہوئے کہا جس پر رائمہ نے اس کے گالوں کو کھینچا

“بلکل ماں پر گیا ہے”

شاویز نے منہ بناتے ہوئے کہا تبھی سب ایک بار پھر سے زور زور سے ہنسنے لگے تھے

“خیر شاویز واقع ٹھیک کہہ رہا ہے۔۔۔ باضل تجھے اب شادی کر لینی چاہیے یار دس سال ہوچکے ہیں ہم سب کی شادیوں کو اور تب سے اب تک تو ایسے ہی بیٹھا ہوا ہے سیکھ کچھ ارتضیٰ سے۔۔۔ ہماری شادی کو ایک سال بھی نہ ہوا تھا اور اس نے ہنی سے شادی کرلی تھی اور اب دوسرے کنٹری میں سیٹل بھی ہوگیا مگر تو وہیں کا وہیں ہے۔۔۔ کبھی آئینے میں شکل دیکھی ہے؟؟ بوڑھا لگتا ہے تو تجھے تو تیرے بچے ڈیڈ کے بجائے دادا کہیں گے”

ضوریز نے ہر بار کی طرح اس بار بھی باضل کی ٹانگ کھینچتے ہوئے یک طرفہ مسکراہٹ اچھالی

“ہمم ہاں خود تو جیسے بڑے جوان لگ رہے ہو۔۔۔ ٹھرکی بڈھے کہیں کے۔۔۔”

ائیزل نے منہ بناتے ہوئے ضوریز کی جوانی کا مذاق اڑایا جس پر باضل اونچا اونچا ہنسنے لگا ضوریز نے باضل کو گھورا

“شٹ اپ ائیزل سب دیکھ رہے ہیں۔۔۔”

ضوریز نے ائیزل کو آنکھیں دکھائیں

“صحیح تو کہہ رہی ہے میری بہو۔۔۔ دو نمبر آدمی!!!”

وجاہت صاحب نے ہمیشہ کی طرح اپنی بہو کا ساتھ دیا جس پر ائیزل اتراتے ہوئے فاتحانہ مسکراہٹ اچھالنے لگی جبکہ ضوریز کے لیے اب بہتر تھا کہ وہ خاموش رہے

☆★☆★☆★☆

“افففو موم آپ کیوں ٹینشن لے رہی ہیں ڈیڈ مینج کر لیں گے اب اتنا تو کر ہی سکتے ہیں نہ وہ آپ کے لئے۔۔۔”

تعبیر جیسے ہی اٹھ کر کچن میں جانے لگی تبرش اور عرش نور نے اس کا ہاتھ پکڑ کر روکا جس پر وہ چہرے پر پریشان کے تاثرات لئے انہیں دیکھنے لگے

“افففو تعبیر بھابھی بچیاں صحیح تو کہہ رہی ہیں۔۔۔ آپ کیوں پریشان ہو رہی ہیں؟؟ اب دیکھیں نہ آپ بھی تو آتش بھائی کے لئے اتنا سب کچھ کرتی ہیں تو اب انکا بھی کچھ حق بنتا ہے نہ کہ آپ کے لئے کچھ کریں اپنے پیار کو پروف کرنے کے لیے۔۔۔”

ائیزل نے کہتے کے ساتھ ہی حریم کو آنکھ ماری جو مسکرا رہی تھی

“بلکل ٹھیک کہہ رہی ہے ائیزل۔۔۔ آپ نہ بھائی کو ذرا رعب میں رکھیں ایسا نہ ہو کہ وہ کہیں اور دل دے بیٹھیں۔۔۔ بھئی یہ تو آپ بھی جانتی ہیں نہ وہ اب تک کتنے زیادہ ینگ لگتے ہیں آج بھی ان کی فینز مرتی ہیں ان پر”

بچی کچی کسر حریم نے پوری کردی تھی جبکہ اب وہ بچاری معصوم سی تعبیر ان دونوں کو چہرے پر اداسی لئے دیکھ رہی تھی

“جی نہیں۔۔۔ ایسا بلکل بھی نہیں ہے۔۔۔ آتش میرے بجائے کسی کو دیکھتے بھی نہیں ہیں دل دینا تو بہت دور کی بات ہے۔۔۔ اور ائیزل انہیں اپنا پیار پروف کرنے کی کوئی ضرورت نہیں میں ان پر خود سے بھی زیادہ بھروسہ کرتی ہوں۔۔۔ میرے آتش بہت اچھے ہیں۔۔۔”

تعبیر ان دونوں کی باتوں پر کافی زیادہ سنجیدگی ہوگئی تھی جبکہ آتش جو ان کی باتیں سن کر کچن سے باہر آ کر ان دونوں کی طبیعت صاف کرنے کے ارادے رکھتا تھا تعبیر کی بات سن کر وہیں کھڑا مسکرانے لگا مگر اس کا اداس چہرہ وہ باخوبی دیکھ سکتا تھا

“آااہ۔۔۔ بڑے بھیا۔۔۔ یہ کیا کیا۔۔۔ تمہارا قورمہ جل رہا ہے جلدی آو ادھر۔۔۔” ضوریز کی آواز پر وہ ہڑبڑاتا ہوا چولہے کے پاس آیا

“دیکھا؟؟ جلا دیا نہ؟؟ بھابھی کو دیکھنے کے چکر میں”

ضوریز نے اپنے مخصوص انداز میں کہا جس پر آتش نے اسے گھورا

“چپ چاپ اپنے قیمے پر دھیان دو جو اب تک نہیں گلا۔۔۔”

آتش کے مصنوعی غصے سے کہنے پر ضوریز نے منہ بسورا ساتھ کھڑا شاویز جو اس وقت سویٹ ڈش بنانے میں مصروف تھا مسکرانے لگا

آج سنڈے تھا جس پر وجاہت صاحب اور کاظم صاحب نے تینوں لڑکیوں کو کچن میں جانے سے منع کیا تھا یعنی آج کا سارا دن انہیں آرام کرنا تھا اور آج رات کا کھانا ان تینوں کے شوہروں کو بنانا تھا اور ابھی کچن میں یہی سب چل رہا تھا جبکہ تینوں خواتین ٹی وی لاؤنچ میں مزے سے بیٹھی گپ شپ کر رہی تھیں مگر تعبیر کافی پریشان تھی

“ارے آپی آپ یہاں کیوں آئیں؟؟”

تعبیر کے آتے ہی شاویز بول پڑا جس پر آتش نے بڑی عجلت سے رخ پلٹ کر اس کی جانب دیکھا جس کا چہرہ اترا ہوا لگ رہا تھا اور وہ سمجھ چکا تھا کہ یہ سب یقیناً ان دونوں بلیوں کی باتوں کا نتیجہ تھا

“وہ۔۔۔ میں پوچھنے آئی تھی کوئی کام تو نہیں آپ لوگوں کو؟؟ اگر کوئی کام ہے تو بتادیں۔۔۔ میں کردوں گی”

تعبیر سنجیدگی سے کہتے ہوئے آتش کو مکمل نظر انداز کر رہی تھی جو کہ آتش بخوبی محسوس کر چکا تھا

“ارے بھابھی جی آپ کیوں پریشان ہورہی ہیں؟؟ لگتا ہے آپ کو بڑے بھیا سے کچھ زیادہ ہی پیار ہے۔۔۔ اور پھر بڑے بھیا بھی تو ہانڈی چھوڑ کر بار بار باہر کو جھانکا جھانکی کر رہے تھے۔۔۔ ہائے۔۔۔ رہا نہیں جاتا کیا کریں تڑپ ہی ایسی ہے۔۔۔!!”

ضوریز نے آور ایکٹنگ کی ٹانگ توڑ کر ایک انداز سے جھومتے ہوئے کہا جس پر آتش نے اسے گھورا جبکہ تعبیر شرم سے نظریں جھکا گئی وہ بچاری تو مسکرا بھی نہیں پارہی تھی

“آپی آپ اندر جائیں ہم لوگ سب سنبھال لیں گے۔۔۔”

شاویز نے اسے یوں کھڑے کھڑے دیکھ کر کہا

“جی جی بھابھی یہ ٹھیک کہہ رہا ہے آپ جائیں ہم ہیں نہ دیکھیں ہم نے سب کچھ کتنی اچھی طرح سے مینج کرلیا!!!”

ضوریز شاویز کی بات سے اتفاق کرتا ہوا مسکرانے لگا جس پر تعبیر نے ایک نظر باورچی خانے کی حالت کو دیکھ کر اثبات میں سر ہلایا جبکہ دل میں وہ یہی سوچ رہی تھی کہ جتنا پھیلاوا ان لوگوں نے کیا تھا وہ اس بچاری کو ہی ملازمہ سے کہہ کر صاف کروانا پڑے گا

“آہ۔۔۔”

ابھی وہ واپسی کے لیے مڑی ہی تھی جب اچان سے آتش کی چینخ نکلی

“آتش۔۔۔ کیا ہوا۔۔۔ دکھائیں مجھے۔۔۔”

تعبیر بھاگتے ہوئے اس کے قریب آئی اور اس کا ہاتھ پکڑا آتش نے سیلٹ بناتے ہوئے بے دھیانی میں چھری اپنی انگلی پر چلا لی تھی جہاں سے بڑی تیزی سے خون رسنے لگا تھا

“ارےےے بڑے بھیا۔۔۔ یہ کیا کردیا۔۔۔ کہا بھی تھا دھیان بھابھی سے ہٹا کر کاموں پر لگاؤ۔۔۔ اب کٹ گیا نہ ہاتھ۔۔۔ شاویز اس کیبنیٹ سے فرسٹ ایڈ باکس نکال کر دو جلدی۔۔۔”

ضوریز اپنی ہی دھن میں کہتا ہوا ایک بار پھر آتش کو گھورنے پر مجبور کر گیا تھا جبکہ شاویز نے فرسٹ ایڈ باکس نکال کر تعبیر کی طرف بڑھایا جسے تھام کر تعبیر نے جلدی سے آتش کے زخم پر اوینٹمینٹ لگایا

“آپ پلیززز یہ سب کام چھوڑیں اور روم میں جاکے آرام کریں یہ میں مینج کرلوں گی۔۔۔”

تعبیر آتش کی نظروں میں دیکھے بنا کہنے لگی جبکہ آتش کی نظریں مسلسل تعبیر پر تھیں

“میں کرلوں گا ڈونٹ وری۔۔۔”

آتش نے نرمی سے کہتے ہوئے اس کے ہاتھ پر ہاتھ رکھا جس پر تعبیر نے جلدی سے اپنا ہاتھ پیچھے کیا اور کچن سے نکل گئی

کھانا تیار ہو چکا تھا آتش، ضوریز اور شاویز ایک لائن میں کھڑے تھے ڈائننگ ٹیبل پر تمام لوگ براجمان تھے سب کو وجاہت صاحب کے فیصلے کا انتظار تھا کیونکہ آج کے جج وجاہت صاحب اور کاظم صاحب تھے جو کہ ان تینوں شوہروں کے کھانوں کو ٹیسٹ کر کے بتانے والے تھے کہ کون تھا آج کا ونر

“ہمم نمک کم ہے۔۔۔”

شاویز کی اسپیشل چکن بریانی کا نوالہ کھانے کے بعد وجاہت صاحب نے بھرم دکھاتے ہوئے کہا

“میٹھا بھی کم ہے۔۔۔”

شاویز کی بنی سویٹ ڈش کو چک کر کاظم صاحب نے اپنی رائے دی جس پر وہ منہ بسور گیا

“مرچی تیز ہے۔۔۔”

وجاہت صاحب نے ضوریز کے ہاتھوں سے بنے بھنے ہوئے قیمے کو پراٹھے سے کھا کر اپنی رائے دی جس پر وہ انہیں ایبرو اچکائے دیکھنے لگا

“میٹھا زیادہ ہے۔۔۔”

ضوریز کی سویٹ ڈش کو چک کر رہی سہی کسر کاظم صاحب نے پوری کردی جس پر وہ پوری طرح سے سب کو گھورتا ہوا بنا کسی کی اجازت لئے اپنی کرسی پر آ بیٹھا تو اب باری تھی آتش درانی کے ہاتھوں سے بنے چکن قورمے کی

“ہممم پرفیکٹ۔۔۔”

وجاہت صاحب نے پہلا نوالہ لیتے ہوئے ہی خوش دلی سے کہا جس پر سب لوگ مسکرانے لگے مگر ضوریز کا منہ مزید پھول گیا جبکہ آتش کا تو آدھے سے زیادہ دھیان اپنی خفا بیوی پر تھا جو گردن جھکائے بیٹھی تھی

“آتش نے سویٹ ڈش بھی بلکل پرفیکٹ بنائی ہے بھئی۔۔۔”

کاظم صاحب نے آتش کے ہاتھوں سے بنی سویٹ ڈش کو چکتے ہوئے کہا جس پر آتش بہم سا مسکرایا

“ہاں ہاں مسٹر وجاہت درانی صاحب کہہ دیں آپ کا ووٹ اس بار بھی آپ کے چہیتے بیٹے بازیگر کو جاتا ہے۔۔۔ ویسے بھی میں تو پیدا ہونے کے بعد سے آپ آنکھوں میں کھٹک رہا ہوں۔۔۔ جاؤ بھئی مجھے نہیں کھیلنا یہ سب ائیزل میرے قورمے والی ڈش پاس کرو مجھے بھوک لگ رہی ہے۔۔۔”

ضوریز نے چہرے کے عجیب و غریب زاویئے بناتے ہوئے کہا جس پر سب کی دبی دبی ہنسی گونجنے لگی جبکہ سب سے زیادہ بچے ہنس رہے تھے

“ہاں تو آج کے اس کومپیٹیشن کے ونر ہیں آتش درانی۔۔۔”

وجاہت صاحب کے فائنل فیصلے کو سن کر تبرش اور عرش نور کرسی سے اٹھ کر اپنے ڈیڈی سے جا لگیں جس پر آتش نے ایڑی کے بل بیٹھ کر ان دونوں شہزادیوں کے رخساروں کو باری باری چومہ

“ہمیں پتا تھا ڈیڈی ونر آپ ہی ہوں گے لب یو شو مچ۔۔۔”

عرش نور نے کہتے کے ساتھ ہی آتش کو زور دار جھپپی دے کر اس کے رخساروں کو چومہ

“ہاں تو بھئی آتش درانی کیا گفٹ لینا پسند کریں گے آپ؟؟”

وجاہت صاحب نے مسکراتے ہوئے کہا جس پر وہ واپس اپنی پوزیشن پر کھڑا ہوا

“گفٹ وغیرہ نہیں ڈیڈ بس میری نماز کا وقت ہورہا ہے تو میں سوچ رہا تھا نماز پڑھ لوں۔۔۔”

آتش کے کہنے پر وہ بہم سا مسکرائے

“بلکل پڑھو۔۔۔ لیکن مولوی صاحب بھی تو یہ کہتے ہیں نہ کہ جب بھوک زوروں شور سے لگ رہی ہو تو پیٹ بھر کر ہی نماز پڑھنے کے لئے کھڑے ہوا کرو۔۔۔ تاکہ دورانِ نماز پیٹ خالی ہونے پر بھوک محسوس نہ ہو نہ کھانے کی طلب ہو۔۔۔”

وجاہت صاحب کی بات پر وہ اثبات میں سر ہلاتے ہوئے کرسی پر بیٹھ گیا

☆★☆★☆★☆

آسمان پر کالے بادلوں کا راج تھا موسم کے تیور چڑھے ہوئے تھے یقیناً بارش ہونے والی تھی وہ جب نماز پڑھنے میں مصروف تھی تب وہ کمرے میں آیا تعبیر سلام پھیر کر دعا کے لئے ہاتھ اٹھانے لگی وہ اس بات سے بے خبر تھی آتش اسے دیکھ رہا تھا وہ ہاتھ اٹھائے گڑگڑا کر رونے لگی آتش جائے نماز بچھا کر اس کے پیچھے کچھ فاصلے پر براجمان ہوا

وہ بہت حیران تھا ان کی شادی کے اتنے سالوں میں وہ کبھی اتنا نہ روئی تھی مگر آج وہ کس قدر بنا کچھ کہے مسلسل ہاتھوں کے پیالے میں منہ چھپائے رونے میں مصروف تھی۔۔۔ وہ سمجھ چکا تھا وہ کیوں رو رہی تھی

آتش نماز شروع کر چکا تھا مگر آنکھوں سے بے ساختہ آنسوں بہنے لگے وہ جیسے ہی جائے نماز سے اٹھ کر پلٹی برابر میں کچھ پیچھے کی جانب کھڑے آتش پر نظر گئی جو پوری نماز آنسوں بہاتے ہوئے ادا کر رہا تھا تعبیر نے اپنے آنسوؤں کو صاف کر کے جائے نماز جگہ پر رکھی اور کمرے سے باہر نکل گئی

“آتش ہر طرح سے صرف میرے ہیں۔۔۔”

وہ چھت پر آنکھیں بند کئے کھڑی ٹھنڈی ہواؤں سے لطف اندوز ہورہی تھی جب پیچھے سے کسی نے اس کے بازوؤں پر ہاتھ رکھا یہ لمس وہ بھلہ کیسے بھول سکتی تھی۔۔۔

“آتش آخری سانس تک صرف اپنی تعبیر کا رہے گا۔۔۔ یہ وعدہ میں نے پہلے بھی کیا تھا اب بھی کر رہا ہوں۔۔۔”

آتش اس کے کان میں سرگوشی کرتے ہوئے کان کی لو کو لبوں سے چھونے لگا تعبیر نے گہری سانس لیتے ہوئے رخ بدلا ہاں وہ اس سے دو قدم دور ہونے لگی تھی جب آتش نے اس کا ہاتھ پکڑ کر اسے اپنے بے حد قریب کیا

“آخر کیوں دھیان دیتی ہو تم لوگوں کی باتوں پر؟؟ یہ جان کر بھی کہ وہ لوگ مذاق کر رہے تھے اور میں صرف تمہارا ہوں۔۔۔ بھلہ کیوں خود کو بے وجہ کی تکلیف میں مبتلا کر کے رکھتی ہو؟؟”

آتش نے سنجیدگی سے کہتے ہوئے اس کے رخساروں کو ہاتھوں کے پیالے میں بھرا جس پر تعبیر کی آنکھیں پھر سے بھیگنے لگیں آتش جھک کر اس کے بہتے اشکوں پر اپنے دہکتے لبوں سے جذب کر کے مہر ثبت کی

“تمہارے آنسوں بے مول نہیں ہیں۔۔۔ انہیں یوں بات بات پر ضائع نہ کیا کرو۔۔۔”

آتش کی گرم جھلستی سانسوں کی تپش محسوس کرتے ہوئے وہ مکمل جھینپ سی گئی تھی اپنی دونوں مٹھیوں سے آتش کی شرٹ کو دبوچے کھڑی وہ بامشکل سانس لے رہی تھی

“کیا تمہیں خود پر اپنے پیار پر بھروسہ نہیں؟؟ بھلہ تمہارے سحر سے نکل کر کہیں اور جا سکتا ہوں میں؟؟ میرے تمام جذبات تمام شدتیں صرف تمہارے لئے ہیں تعبیر۔۔۔ میری عشق کی اکلوتی حقدار ہو تم۔۔۔ میرے وجود کی اکلوتی وارث ہو تم۔۔۔ تم سے جدا ہو کر میں زیادہ دیر تک زندہ نہیں رہ سکوں گا یہ تم بھی جانتی ہو۔۔۔”

آتش نے اس کی سبز آنکھوں میں دیکھتے ہوئے جس شدت سے کہا تھا اتنی ہی شدت سے بادلوں کے گرجتے ہی بارش شروع ہو چکی تھی وہ سچ ہی تو کہہ رہا تھا وہ بھلہ اس کے بنا کیسے جی سکتا تھا وہ چاہ کر بھی اس سے دور نہ جا سکا تھا بھلہ کیسے وہ خود کو سنبھالتا

“آاتش۔۔۔ مجھے بھروسہ ہے آپ پر۔۔۔ لیکن میں۔۔۔ میں اپنے رب سے اب بھی ہر دعا میں صرف آپ کا ساتھ مانگتی ہوں۔۔۔ میں جانتی ہوں آپ صرف میرے ہیں اور ہمیشہ میرے رہیں گے۔۔۔ میں چاہ کر بھی آپ پر کبھی شک نہیں کر سکتی۔۔۔ دل و جان سے یقین کرتی ہوں میں آپ پر۔۔۔پلیززز مجھے یا میرے عشق کو غلط نہ سمجھئے گا”

تعبیر نے کہتے کے ساتھ ہی اس کے سینے پر سر ٹکایا بارش اپنے عروج پر تھی وہ دونوں بھیگ چکے تھے انہیں ساتھ بھیگنا پسند تھا

آج ایک بار پھر ان کا عشق بڑھنے لگا تھا شاید اللّٰہ پاک نے ان کے تمام گناہوں کو بخش کر انہیں صراط مستقیم کا راستہ دکھایا تھا تبھی تو وہ لوگ اپنی زندگیوں میں بلکل مطمئن تھے۔۔۔

آتش کو تعبیر سے عشق ہونا اس کے لئے رونا تڑپنا تعبیر سے جدائی برداشت کرنا یہی سے تو آتش کے ایمان میں پختگی آنا شروع ہوئی تھی ورنہ وہ جن اندھیروں میں گھرا ہوا تھا شاید وہ کالے بادل اس کی زندگی سے کبھی نہ چھٹتے بے شک آتش کو اپنے رب کے قریب آنے کا موقع تعبیر سے عشق کے ذریعے ہی ملا تھا

تعبیر چاہتی تو اسے یوں ہی چھوڑ سکتی تھی مگر اس نے آتش کو نیک راستے پر گامزن ہونے کے درس دیئے اسے سمجھایا شراب حرام کیوں ہے اس کے یوں بے سکون رہنے کی وجہ کیا ہے اگر وہ چاہتی تو دوبارا اسے کبھی نہ اپناتی یا پھر محض اس سے نکاح کا رشتہ رکھتی

مگر تعبیر نے آتش کو مکمل طور پر سدھارنا چاہا اور وہ کامیاب بھی ہوگئی اور اب وہ دونوں ساتھ مل کر اپنے بچوں کی تربیت بھی اسلام کی بنیاد پر کر رہے تھے

ضروری نہیں آپ کو سب کچھ پہلے سے مکمل ملے کیا کبھی کبھی کچھ ادھورا ملنے کا مقصد یہ بھی ہوتا ہے کہ اسے پورا آپ کریں یہ موقع ہوتا ہے آپ کے اور اس شخص دونوں کے لیے یہ ہدایت کا راستہ ہوتا ہے گناہوں کی معافی کا راستہ

آخر کیوں سب مکمل چاہتے ہیں؟؟ ہمیشہ کچھ بھی مکمل نہیں ملتا اگر زندگی آپ کو کچھ دے رہی ہے تو اسے قبول کریں اسے اپنائیں اسے سکھائیں سمجھائیں کیسے اللّٰہ پاک کے قریب ہونا ہے کیسے اپنے داغ دار ماضی کو اپنا حال اور اپنا مستقبل بنانے سے روکنا ہے

”اور میں کیسے کہوں برا اس عشق کو؟؟

یہ عشق ہی تو تھا جو مجھے ربّ تک لے آیا”

وہ تعبیر کے ماتھے کو چومتے ہوئے اسے اپنی باہوں میں قید کر گیا تھا رب ان کے پاک رشتے کو دیکھ کر یقیناً مسکرا رہا تھا۔۔۔۔

ختم شدہ

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *