Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Lams e Junooniyat (Episode 36)

Lams e Junooniyat by Areesha Khan

جب وہ پروڈیوسر سے میٹنگ کر کے آیا تو وہ عشاء کی نماز پڑھ رہی تھی وہ کچھ دیر تو اس کا انتظار کرتا رہا مگر اسے دعا کرتا دیکھ کر گارڈن میں جا کھڑا ہوا وہ دعا سے فارغ ہوکر جب باہر آئی تو وہ اس کے پاس آیا

“سر میٹ نے بتایا آپ پروڈیوسر سے میٹنگ کے لئے گئے تھے۔۔۔ بٹ مجھے ساتھ لے کر کیوں نہیں گئے؟؟”

تعبیر کے سوال پر اس نے شہادت کی انگلی سے اپنی بیرڈ کو کھجایا

“آا۔۔۔ ہاں جانا تھا بٹ میں نے وہاں تمہیں لے جانا مناسب نہیں سمجھا ویل اگر تم فری ہو چکی ہو تو کیا ہم باہر چل سکتے ہیں؟؟”

اس نے سنجیدگی سے کہا

“باہر؟؟ مطلب۔۔۔ میرا مطلب کیا کوئی میٹنگ ہے آج؟؟ مگر مجھے تو اس کی انفارمیشن ملی ہی نہیں۔۔۔”

اس نے معصومیت سے کہا

“وہ۔۔۔ دراصل یہ میٹنگ اچانک رکھی گئی ہے تو۔۔۔ کیا تم چل رہی ہو؟؟”

“آف کورز سر یہ میرا کام ہے۔۔۔”

وہ مختصر سا کہہ کر اپنا بیگ اور موبائل لے آئی اب اس کے قدم باہر کی جانب تھے جس پر آتش نے اسے روکا وہ سوالیہ نظروں سے اسے دیکھنے لگی

“ہم کار میں نہیں بوٹ میں جائیں گے۔۔۔”

“بوٹ میں؟؟ اس ٹائم؟؟”

تعبیر نے ایک نظر باہر کی جانب دیکھ کر کہا جس پر اس نے اثبات میں سر ہلایا اب وہ لوگ گلاس وال کو پار کر کے بوٹ کی جانب بڑھ گئے تعبیر نے ایک نظر سمندر پار کے منظر کو دیکھا جہاں چمکتی روشنیاں نظر آرہی تھی یہ منظر رات کے وقت اور بھی زیادہ حسین لگ رہا تھا

“ویسے تم نے مجھ سے یہ سوال نہیں پوچھا کہ یہ سمندر اتنا چھوٹا کیوں ہے۔۔۔”

آتش کے سوال پر وہ ہلکا سا مسکرائی

“سر جب آپ مجھے یہاں لے کر آئے تھے تب مجھے یہ پتا چل چکا تھا کہ یہ مصنوعی سمندر صرف شوٹنگز کے لئے بنایا گیا ہے۔۔۔ کس نے بنایا ہے یہ مجھے نہیں پتا۔۔۔ ورنہ قدرتی سمندر کی نعمت صرف کراچی کو ملی ہے۔۔۔”

اس کے بات پر وہ اش اش کر اٹھا اب وہ اتنی بھی سیدھی نہ تھی جتنا اس نے اسے سمجھ لیا تھا

“ویل۔۔۔ یہ ایک مصنوعی سمندر ہے یہاں عام پبلک کا آنا منع ہے یا یہ بھی کہہ سکتے ہیں کہ اس کا ہر کسی کو نہیں پتا یہ صرف شوٹس وغیرہ کے لئے یوز ہوتا ہے۔۔۔ اینڈ یہ میرے ڈیڈ نے بنوایا تھا کافی پہلے تب یہاں آس پاس کوئی ہوٹیل بھی نہ تھا بٹ اب تو آس پاس کافی ہوٹیلز بن گئے۔۔۔”

اس نے اسے تفصیل سے بتایا جس پر تعبیر حیرت سے اسے دیکھنے لگی

“آپ کے ڈیڈ نے؟؟ سچ میں؟؟”

تعبیر نے حیران کن انداز میں پوچھا جس پر اس نے اثبات میں سر ہلایا

“ویل ہم اس ریسٹورنٹ میں رکنے والے ہیں۔۔۔”

کچھ ہی منٹ میں وہ لوگ سامنے لائن سے بنے ریسٹورانٹ کی جانب پہنچے یہ روشنیاں ادھر ہی سے دکھائی دے رہی تھیں

“بٹ سر یہاں تو کوئی ہے ہی نہیں۔۔۔” تعبیر نے اس ٹیبل پر کسی کو نہ پا کر آتش سے سوال کیا جس پر وہ بڑبڑایا کیونکہ وہ جھوٹ کہہ کر اسے یہاں لایا تھا اب وہ کوئی بہانا سوچ رہا تھا اس نے ایک نظر موبائل پر دیکھا پھر پیشانی رگڑی

“مجھے لگتا ہے وہ پروڈیوسر جس سے آج میٹنگ تھی وہ نہیں آنے والا شاید کوئی ایمرجنسی ہے۔۔۔ ویل اب آ ہی گئے ہیں تو آرڈر دے دیتے ہیں” وہ کہتا ہوا ویٹر کو اشارہ کرنے لگا جس پر ویٹر ان کی جانب آیا

“سلام صاحب۔۔۔ کیسے ہیں آپ۔۔۔ بڑے صاحب کیسے ہیں؟؟ صاحب آپ نے مجھے جاب دے کر مجھ پر بہت بڑا احسان کیا ہے اب میری بہن بھی اچھے کالج میں پڑھ رہی ہے۔۔۔ اور میری اماں وہ تو آپ کو اور بڑے صاحب کو روز دعائیں دیتی ہیں۔۔۔”

آتش کو جس بات کا ڈر تھا وہی ہوا وہ نہیں چاہتا تھا کہ کوئی اس کی تعریف کرے یا اس کا شکریہ ادا کرے خاص طور پر تعبیر کے سامنے مگر اب جبکہ ایسا ہو چکا تھا تو وہ جواباً مسکرایا

“صاحب آپ حکم کریں کیا لیں گے آپ اور میم صاحب آپ بھی۔۔۔” اس عام سی شکل والے لڑکے نے بڑے احترام کے ساتھ پوچھا جس پر آتش نے آرڈر دیا تو وہ اثبات میں سر ہلائے وہاں سے چلا گیا

“سر یہ کس جاب کی بات کر رہا تھا؟؟”

تعبیر کے سوال پر اس نے پیشانی رگڑی

“ایکچلی۔۔۔ یہ علاقہ میرے ڈیڈ کا ہے یہاں اطراف میں جتنی بھی جگہیں ہیں وہ سب میرے ڈیڈ کے انڈر میں ہے تو انہوں نے اپنی مرضی سے یہ ریسٹورنٹ بنوائے تھے جہاں عموماً بزنس مینز، پروڈیوسر ڈائریکٹر، اور باقی کے لوگ آیا کرتے ہیں تو ڈیڈ نے اپنی مرضی سے ہی اسے یہاں جاب دی تھی۔۔۔”

آتش کی بات پر جیسے وہ بے یقینی سے اسے دیکھنے لگی

“کیا ہوا؟؟”

آتش نے اسے یوں مسلسل دیکھتا پا کر سوال کیا

“سر آتش یہ سب۔۔۔ کتنا نا ممکن سا لگ رہا ہے جیسے کوئی خواب۔۔۔ پہلے یہ مصنوعی سمندر پھر یہ فارم ہاؤس اور اب یہ ریسٹورنٹ اور آپکے ڈیڈ کا علاقہ۔۔۔ مطلب کیا یہ سب ممکن ہو سکتا ہے؟؟”

وہ حیران کن انداز میں پوچھنے لگی جس پر وہ ہلکا سا مسکرایا

“آتش درانی کی زندگی میں سب کچھ ممکن ہے۔۔۔ میرے ساتھ رہتے رہتے ایک دن تم زمین پر اترتا چاند بھی دیکھ لو گی۔۔۔”

وہ بغور اسے دیکھتے ہوئے دھیمے چاہت سے چور لہجے میں کہنے لگا جس پر تعبیر نے نظریں جھکائیں وہ بلو کلر کے شوٹ میں ملوث بہت پیاری لگ رہی تھی کچھ ہی دیر میں ان کا آرڈر آ چکا تھا وہ تو لوگ ڈنر میں بزی ہوگئے

ڈنر کے درمیان ان کے بیچ بہت سی باتیں ہوئی تھیں جس میں کبھی آتش تو کبھی تعبیر کے چہرے پر مسکرائی بکھری تھی تبھی بار بار آتش کسی کی کال اگنور کر رہا تھا جسے تعبیر نوٹ کر چکی تھی

رات کے دو بجے کا وقت تھا جب کسی کی گاڑی اس کے فارم ہاؤس کے سامنے آ رکی گارڈز کی مزاحمت کے باوجود بھی وہ زبردستی اندر گھس گئی تھی وہ جو اپنے کمرے میں بیڈ پر اوندھے منہ لیٹا ہوا تعبیر کی کچھ تصویریں دیکھ رہا تھا کمرے کا دروازہ کھولنے والے کی جرآت پر غصے سے اٹھ بیٹھا

مگر جب نظر اندر آتے وجود پر گئی تو جیسے سکتے میں آگیا ہو وہ اپنی مخصوص نازیبا لباس میں ملبوس اونچی ہیل پہنے چلتی ہوئی اس کے بستر پر آ بیٹھی اس کی اس حرکت پر وہ اسے گھورتا رہا گیا

“تم یہاں؟؟ تمہیں اندر آنے کی اجازت کس نے دی؟؟”

وہ سخت لہجے سے کہتا ہوا اسے گھورنے لگا جو پرسکون انداز میں لیٹنے والے انداز میں بیٹھی اسے مسکراتے ہوئے دیکھ رہی تھی

“مجھے تم سے ملنے کے لئے کسی کی اجازت کی ضرورت ہرگز نہیں ہے جانِ من۔۔۔”

وہ ڈارک لپ اسٹک لگائے کہر برسا رہی تھی وہ بار بار اس کے وجود پر سے نظریں ہٹانے کی کوشش میں تھا

“بکواس بند کرو تمہیں میں نے کتنی بار کہا ہے مجھ سے دور رہا کرو۔۔۔ تم کیا چاہتی ہو؟؟ ایک بار پھر ہمارا اسکینڈل بن جائے؟؟”

آتش نے بھڑکنے والے انداز میں کہا

“اففف تمہارا یہ غصہ کسی دن جان لے لے گا میری۔۔۔”

ردا نے اپنی انگلیوں کو اس کی گردن پر پھیرا جس پر وہ ضبط کر گیا

“تمہیں کیا لگتا ہے تم مجھ سے دور بھاگو گے اور میں تمہیں خود سے دور جانے دوں گی؟؟ ہرگز نہیں۔۔۔ ویسے تمہیں کیا ضرور تھی اس عام سی لڑکی کو اپنے ساتھ لانے کی تمہاری شامیں میری محتاج ہیں نہ کہ اس کم ذات کی۔۔۔”

ردا نے آتش کی شرٹ کا پہلا بٹن کھولتے ہوئے کہا جبکہ تعبیر کا ذکر سن کر وہ اس کے چلتے ہوئے ہاتھ کو پکڑ کر مروڑنے لگا

“خبر دار جو اس کے بارے میں کوئی الٹی سیدھی بات کی تم نے!!! میں تمہارا وہ حشر کروں گا کہ تم۔۔۔”

وہ اسے انگلی سے وارن کرنے لگا جبکہ ردا نے اپنی انگلی اس کے لبوں پر رکھ کر بات ادھوری کردی

“شششش۔۔۔ یہ وقت دھمکی دینے کا نہیں ہے۔۔۔ تم جانتے ہو کتنا روئی ہوں تمہارے لئے۔۔۔ کتنا انتظار کیا ہے میں نے تمہارا کتنا یاد کرتی تھی تمہیں میں۔۔۔”

وہ اپنے پورے وزن سے اس کے اوپر جھک چکی تھی وہ بار بار خود پر قابو پانے کی کوشش میں تھا

“کیوں نہیں چھوڑ دیتے یہ غصہ؟؟ کیوں پھر سے ہمارا تعلق پہلے جیسا نہیں ہوسکتا۔۔۔”

وہ اس کے مظبوط سینے پر سر ٹکائے اس کی گردن پر انگلی پھیر رہی تھی جس پر آتش نے ایک گہری سانس لی اور اسے دور دھکیلا

“گیٹ آؤٹ!!!”

وہ دھاڑا تھا۔۔۔جس پر وہ ناگواری سے اسے دیکھنے لگی

“آئی سیڈ گیٹ آؤٹ ردا ریاض!!!”

اسے دیکھتا پا کر وہ پھر سے چینخا تھا مگر اسے ٹس سے مس ہوتا نہ پا کر وہ اس کا ہاتھ پکڑے کمرے سے باہر لے جانے لگا اور زبردست مین گیٹ سے باہر دھکا دیا جس پر وہ گرنے لگی مگر اس کے ڈرائیور نے اسے سنبھالا

“آج کے بعد اگر یہاں کا رخ بھی کیا تو یاد رکھنا اگلی بار نہیں بخشوں گا تمہیں!!!” وہ اسے وارن کرتا ہوا گارڈز سے انہیں باہر کرنے کا کہہ کر واپس اندر چلا گیا جبکہ وہ آنکھوں میں آنسوں لئے ڈرائیور کا ہاتھ جھٹکتی ہوئی کسی کو کال ملانے لگی

“یہ ایسے نہیں مانے گا۔۔۔ ہمیں اب کوئی اور قدم اٹھانا پڑے گا!!!”

وہ مختصر سی بات کر کے گاڑی میں بیٹھ گئی جو اب فارم ہاؤس سے دور جا چکی تھی

“سارا موڈ خراب کردیا!!!”

وہ واپس بستر پر آلیٹا تب ہی تعبیر کا مسکراتا ہوا چہرہ اس کی آنکھوں کے سامنے آیا اچانک اس کے چہرے پر ایک خوبصورت سی مسکراہٹ آئی

“تم مجھے پاگل کردو گی تعبیر۔۔۔”

اپنے بکھرے بالوں میں ہاتھ پھیرتے ہوئے انہیں مزید بکھار کر وہ مسکرایا تھا

☆★☆★☆★☆

جب اس کی آنکھ کھلی تو خود کو ایک عالی شان محل نما کمرے میں پا کر وہ بہت حیران ہوئی اسے کچھ دیر پہلے والا منظر یاد آنے لگا وہ بامشکل اپنے ہمت جمع کرتے ہوئے بیڈ سے اٹھی مگر جب نگاہ کھڑکی پر پڑھتی دھوپ پر گئی تو وہ حیرت زدہ انداز انداز میں آگے پیچھے دیکھنے لگی

“یہ کیا؟؟ کیا مجھے یہاں آئے دوسرا دن ہو چکا ہے؟؟ کیا میں تب سے اب تک بے ہوش تھی۔۔۔ مگر مگر وہ کون تھا۔۔۔ اور مجھے یہاں کیوں لایا ہے۔۔۔”

وہ ڈرتے ڈرتے دروازے کی جانب بڑھی مگر اس کی توقع کے برعکس دروازہ لاک نہیں تھا جب وہ باہر آئی تو اس محل نما گھر کو دیکھ کر وہ حیران کن انداز میں سیڑھیاں اترتی ہوئی نیچے آئی جہاں ملازم ایک قطار بنائے کھڑے جیسے اس کے منتظر تھے

“آپ سب۔۔۔ کون ہیں آپ لوگ؟؟ اور مجھے یہاں کون لایا ہے؟؟”

اس نے بے صبری والے انداز میں سوال کیا

“حریم بی بی۔۔۔ صاحب آپ کا انتظار کر رہے ہیں۔۔۔”

ایک ملازم نے بڑے ادب سے کہا اور بڑے ہال کی جانب اشارہ کرنے لگا جس پر وہ اثبات میں سر ہلائے اس ہال کے اندر جانے لگی

وہ کھڑکی کی جانب رخ کئے کھڑا شاید سگریٹ کی کش لگا رہا تھا حریم اس کی پشت کو دیکھتے ہوئے مزید تجسس میں مبتلا ہوئی مگر کچھ تھا جو اسے دیکھا دیکھا لگ رہا تھا وہ تھے اس شخص کے بڑے بڑے بال بلیک تھری پیس برینڈڈ سوٹ زیب تن کئے وہ کوئی بڑی شخصیت کا مالک لگ رہا تھا

“ویلکم ٹو آور ہوم۔۔۔”

حریم کی موجودگی محسوس کرتے ہوئے اس نے پرجوش انداز میں کہا جبکہ پلٹا وہ اب بھی نہ تھا

“کون ہیں آپ؟؟ اور مجھے یہاں کیوں لائے ہیں میں جاننا چاہتی ہوں۔۔۔”

حریم کے سوال پر اس نے ایک گہری کش لی

“تم یہاں سے بھاگنے کے بجائے مجھ سے یہ سوال کر رہی ہو؟؟”

اس کے سوال پر حریم آنکھیں چھوٹی کئے اس کی سنی سنی آواز پر غور کر رہی تھی

“تو کیا روم کا دروازہ آپ نے مجھے یہاں سے بھگانے کے لیے کھول رکھا تھا؟؟”

حریم کی سوال پر شاید وہ مسکرایا تھا

“میں جانتا تھا تم بہت بہادر ہو اور جب تک تمہیں سب سوالوں کے جواب نہ مل جائیں شاید تم یہاں سے جانے والی نہیں تھیں۔۔۔ ایسا تو ہونا ہی تھا آخر خون کا اثر ہے۔۔۔”

اس کی بات پر وہ ناسمجھی سے اسے دیکھنے لگی جب وہ سگریٹ زمین پر پھینک کر قدموں تلے روند گیا تھا مگر جب وہ پلٹا تو جیسے حریم پر کوئی پہاڑ ٹوٹا تھا ضوریز کو اپنے سامنے کھڑا دیکھ کر وہ پھٹی پھٹی آنکھیں لئے اسے گھور رہی تھی جبکہ وہ مسکراتا ہوا اس کی جانب آکھڑا ہوا

“ضوریز؟؟”

وہ بے یقینی سے اسے مسکراتا دیکھ رہی تھی اس کے دماغ میں عجیب و غریب سوالات جنم لے رہے تھے ابھی وہ کچھ کہتا جب وہ بول پڑی

“آپ کی ہمت کیسے ہوئی مجھے یہاں لے کر آنے کی؟؟ مقصد کیا ہے آپ کا آخر؟؟ پہلے آپ نے ائیزل کے ساتھ غلط کیا اب کیا ارادے ہیں آپ کے؟؟ شرم نہیں آتی آپ کو؟؟”

وہ غصے سے اس پر بھڑک رہی تھی جبکہ باہر کھڑے نوکر ایک دوسرے کو دیکھ رہے تھے آج پہلے بار اس گھر میں ضوریز کے علاؤہ کوئی آواز اتنی بلند ہوئی تھی جبکہ ضوریز بڑی غور سے اس کا غصہ دیکھ رہا تھا

“آپ جانتے ہیں وہ کتنی مشکل سے سنبھلی تھی اس کا کتنا برا ایکسیڈنٹ ہوا تھا۔۔۔ وہ کتنا روئی تھی صرف اور صرف آپ کی وجہ سے۔۔۔”

حریم کی آواز پورے گھر میں گونج رہی تھی ضوریز پرسکون انداز میں کھڑا اس کے اگلے ڈائلاگ کا منتظر تھا جس پر حریم نے افسوس بھری نگاہوں سے اسے دیکھا

“آپ کو دیکھ کر تو بلکل بھی نہیں لگ رہا کہ آپ کو اپنے کئے پر کوئی بچھتاوا ہوا ہوگا۔۔۔”

حریم نے تاسف سے کہا جس پر ضوریز ایک ہاتھ تھوڑی اور دوسرا ہاتھ سینے پر لپیٹے کھڑا اسے دیکھنے لگا

“ہو گیا؟؟”

وہ آنکھیں گھماتے ہوئے سوال کرنے لگا جس پر حریم نے دانت بیچنے ہوئے اسے گھورا

“نہیں میرا مطلب اگر تمہاری بات مکمل ہوگئی بیٹھ کر بات کی جائے؟؟”

“مجھے نہیں بیٹھنا آپ کے ساتھ آپ مجھے یہاں کیوں لائے ہیں؟؟ ایک طرف آپ نے مجھے ان لڑکوں سے بچایا دوسری طرف آپ ہی مجھے یہاں لے آئے۔۔۔ آخر مسئلہ کیا ہے آپ کا؟؟”

وہ ضوریز کو پر سکون انداز میں صوفے پر بیٹھتے دیکھ کر غصے سے چینخی تھی جس پر وہ اسے بھی بیٹھنے کا اشارہ کرنے لگا

“اب میرے اتنے سارے مسئلے ہیں یار کون کون سے بتاؤں۔۔۔” اس نے بچوں والا منہ بناتے ہوئے کہا جس پر حریم کا دل کیا اس کے بال نوچ لے مگر وہ سامنے صوفے پر آ بیٹھی تاکہ یہاں لانے کی وجہ جان سکے

“بات کا آغاز کرنے سے پہلے کچھ میٹھا ہوجائے؟؟”

وہ ملازم کو اشارے سے بلاتا ہوا حریم کو دیکھ کر کہنے لگا

“مجھے میٹھا نہیں پسند۔۔۔”

حریم نے منہ بناتے ہوئے کہا جس پر وہ مسکرایا

“ویل میٹھا تو مجھے بھی نہیں پسند لیکن جانتی ہو ایک بار میری مسز نے مجھے زبردستی عجیب و غریب قسم کا میٹھا کھلا دیا تھا اور مجھے مجبوراً اس کی محبت میں یہ میٹھا نوالہ بھرنا پڑا۔۔۔ چھوٹے دو پلیٹ چھولے کی چاٹ لے آ مصالحہ مار کر۔۔۔”

ضوریز نے بیچارگی سے کہا جبکہ آخری والے الفاظوں پر وہ جیسے کسی لوکل ہوٹل پر بیٹھا آرڈر دینے والے انداز میں مخاطب ہوا جس پر وہ اسے آنکھیں پھاڑے دیکھنے لگی کیا وہ شادی شدہ تھا۔۔۔ وہ کس قسم کا شخص تھا اس کی لینگوئج اس کے حلیے سے بلکل میچ نہیں کر رہی تھی

“آپ نے بتایا نہیں کہ آپ نے مجھے یہاں کیوں بلایا ہے؟؟” وہ اس کی فضول باتوں کو نظر انداز کرتے ہوئے سوال کرنے لگی جس پر وہ اپنی گہری کالی آنکھوں سے اسے دیکھنے لگا

“کیونکہ یہ گھر تمہارا ہے اب تمہیں یہیں رہنا ہے۔۔۔!!!”

وہ بڑے آرام سے کہتا ہوا صوفے کی پشت سے ٹیک لگا گیا جبکہ وہ ناسمجھی سے اس کی بات پر اسے دیکھنے لگی

“کیا مطلب ہے آپ کا؟؟ بھلہ میں کیوں رہنے لگی یہاں اور میرا گھر کہاں سے آگیا یہ؟؟ یہ کیسا مذاق ہے۔۔۔؟؟”

وہ گھورنے لگی جس پر ضوریز نے اپنے بالوں کو ٹھیک کرتے ہوئے اسے دیکھا

“مس حریم یہ گھر آپ ہی کا ہے۔۔۔ اب آپ یہاں رہو نہ رہو یہ آپ کا مسئلہ ہے لیکن میرے پاس اس بات کا پورا پورا ثبوت ہے۔۔۔”

وہ استحقاق سے کہتا ہوا اسے مزید حیران کر رہا تھا

“ثبوت؟؟ کیسا ثبوت؟؟”

“پہلے کچھ مصالحے دار ہوجائے۔۔۔”

وہ ملازم کو آتا دیکھ کر کہنے لگا ملازم نے دو پلیٹ سامنے ٹیبل پر رکھی تو ضوریز نے حریم کو اشارے سے کھانے کا کہا

“مجھے آپ ٹینشن میں ڈال کر خود چھولے کھا رہے ہیں؟؟ کیسے ہیں آپ؟؟”

وہ مصنوعی غصے سے کہنے لگی

“میں تو ایسا ہی ہوں۔۔۔”

ملازم کو اشارہ کرتے ہوئے وہ سنجیدگی سے کہنے لگا جبکہ ملازم کے کیچ اپ لانے پر وہ حیران ہوئی

“آج کل کے لوگوں کو ٹھیک سے کچھ بنانا ہی نہیں آتا کیسے عجیب سے چھولے بنائے ہیں۔۔۔ اب انہیں تو کیچ اپ سے ہی کھانا پڑے گا۔۔۔”

وہ اپنے مخصوص انداز میں کہتا ہوا کیچ اپ پلیٹ میں موجود چاٹ پر ڈالنے لگا جس پر وہ بے یقینی سے اسے دیکھنے لگی جو اب بڑے مزے سے کھانے میں مصروف ہوگیا تھا

“آپ مجھے ایک بات بتائیں۔۔۔ آپ کے ساتھ کوئی مینٹلی ایشو ہے؟؟”

حریم نے بغور اس کی عجیب و غریب حرکتوں کو نوٹ کرتے ہوئے پوچھا جس پر وہ اسے دیکھنے لگا

“پتا نہیں کبھی چیک اپ نہیں کروایا۔۔۔ بائے دا وے جلدی جلدی ختم کرو تمہیں ثبوت دیکھنا ہے کہ نہیں ہاں؟؟”

وہ اپنی بات مکمل کر کے خود کھانے میں مصروف ہوگیا جبکہ وہ سر پکڑے اس کی حرکتوں اور باتوں پر حیران تھی

☆★☆★☆★☆

“یار کیا ہوگیا ہے اس لڑکی کو کہاں غائب ہوگئی ہے یہ۔۔۔”

وہ نجانے کتنی بار کالز کر چکی تھی مگر دوسری جانب سے اب بھی نمبر بند جارہا تھا وہ بیڈ پر بیٹھی حریم کےئے پریشان تھی وہ کل سے یونی سے گھر نہیں آئی تھی

“کیا میں شاویز کو کال کر کے پوچھوں؟؟ شاید اسے کچھ پتا ہو۔۔۔”

وہ کچھ سوچتے ہوئے شاویز کا نمبر ملانے لگی تبھی کاظم صاحب اس کے روم میں آئے اور اسے ایسے بیٹھا دیکھ کر صورتحال سمجھ گئے وہ چلتے ہوئے اس کے پاس آ بیٹھے

“کیا ہوا بیٹا اتنی پریشان کیوں ہو؟؟”

کاظم صاحب نے اس کے سر پر ہاتھ رکھتے ہوئے پیار سے پوچھا جس پر وہ پریشانی والے تاثرات لئے انہیں دیکھنے لگی شاید اس کی آنکھوں میں نمی تھی جو وہ دیکھ چکے تھے

“ڈیڈ وہ کل سے گھر نہیں آئی۔۔۔نہ نمبر ان ہے اس کا”

اس نے بھر آئی آواز میں کہا آخر کیسے نہ پریشان ہوتی کتنے سوالوں کا ساتھ تھا ان کا وہ دونوں دوستوں جیسی نہیں بہنوں جیسی تھیں

“اور ہاں میں تمہیں تو بتانا ہی بھول گیا وہ میں کل جب آفس میں تھا تب میرے پاس ایک رانگ نمبر سے کال آئی تھی شاید حریم کی کسی دوست کا نمبر تھا وہ کہہ رہی تھی وہ کچھ دنوں ہوسٹل میں رہے گی شاید ایک دو دن میں آجائے۔۔۔”

انہوں نے عجیب و غریب بہانا بناتے ہوئے کہا جس پر وہ انہیں دیکھنے لگی

“ڈیڈ کیا مطلب؟؟ اس نے مجھے کیوں کال نہیں کی؟؟ اور وہ وہاں کیوں رہے گی بھلہ؟؟”

وہ حیرت زدہ انداز میں پوچھنے لگی

“اا۔۔۔ وہ۔۔۔ ہاں اس کا موبائل شاید خراب ہوگیا تھا اور اس وقت اس کے پاس میرے آفس کا کارڈ تھا تبھی لین لائن نمبر پر کال کی تھی اس نے۔۔۔ اور ہاں شاید اس کی کسی دوست نے اسے روکا تھا شاید اسائمنٹ وغیرہ میں ہیلپ کے لئے۔۔۔”

کاظم صاحب کی ٹوٹی پھوٹی کہانی پر وہ کچھ خاص یقین نہیں کر پا رہی تھی مگر اثبات میں سر ہلا کر خاموش ہوگئی لیکن جب اس کے ڈیڈ کہہ رہے تھے تو یقیناً سچ ہوگا یہ سوچ کر خاموش ہوگئی

“ڈیڈ وہ کب تک آئے گی؟؟ کچھ بتایا اس نے۔۔۔”

اس نے پھر سے فکرمندی سے سوال کیا

“ہاں وہ کہہ رہی تھی ایک دو دن میں واپس آجائے گی اور تم زیادہ فکر مت کرو اس کی وہ پہلے ہی تمہارا بہت پوچھ رہی تھی کہہ رہی تھی اسے کہئے گا پریشان نہ ہوئے۔۔۔”

انہوں نے بات گھماتے ہوئے پھر سے جھوٹ کہا جس پر وہ اثبات میں سر ہلا کر رہ گئی وہ اسے مزید سمجھا بجھا کر وہاں سے چلے گئے تب ہی اس کی نظر سامنے بنی کھڑکی پر گئی جو آدھی کھلی ہوئی تھی

“یہ کیسے کھلی؟؟ ہوا کا تو کوئی نام و نشان تک نہیں پھر۔۔۔”

وہ جیسے ہی اٹھ کر کھڑکی بند کرنے گئی اس کی نظر قریب رکھے ٹیبل پر گئی جہاں ایک باکس رکھا ہوا تھا

“اب یہ کیا ہے؟؟ کیا ڈیڈ رکھ کر گئے ہیں؟؟ یا حریم؟؟”

وہ سوچتی ہوئی اسے اٹھا کر کھولنے لگی جس میں ایک چھوٹا سا کیلینڈر رکھا ہوا تھا جس پر آج سے تین مہینے بعد آنے والے چوتھے مہینے کی آخری تاریخ پر ٹک لگا ہوا تھا ساتھ ایک چٹ بھی رکھی ہوئی تھی

“بس کچھ وقت اور انتظار۔۔۔”

ایک عجیب و غریب لائن پر وہ سوالیہ نظروں سے اس باکس کو بغور دیکھنے لگی مگر کچھ اور نہ ملا تھا اب وہ اس مسئلے کو سمجھنے کی کوشش کر رہی تھی

☆★☆★☆★☆

آج صبح سے وہ لوگ شوٹ پر تھے شوٹنگ سے فارغ ہوکر آتش کی کچھ میٹنگز تھیں جو وہ اٹینڈ کر کے آ چکا تھا اب شام کا وقت تھا جو اس نے تعبیر کے ساتھ گزارنے کا سوچا تھا بہت مشکل سے اس نے تعبیر کو اپنے ساتھ شوپنگ پر جانے کے لئے تیار کیا تھا

شام کا وقت تھا جب وہ لوگ باہر کی جانب جانے لگے تبھی فارم ہاؤس پر کسی کی کار آ رکی جس میں سے اترتی لڑکی آتش کو زہر لگ رہی تھی وہ چہرے پر سخت تاثرات لئے اسے گھور رہا تھا جبکہ ردا ریاض اپنے مخصوص حلیے میں ملبوس بالوں کو لہراتے ہوئے آتش کی جانب بڑھی

ابھی تعبیر اسے صحیح سے پہچاننے کی کوششوں کرتی وہ آتش کے گلے لگ چکی تھی

“ڈارلنگ کیسے ہو تم؟؟ کہیں جارہے تھے کیا؟؟ مگر تم نے تو مجھے ملنے بلایا تھا۔۔۔ خیر سو سوری میں آتے آتے لیٹ ہوگئی”

وہ بنا اس کی بات سنے اس کا ہاتھ پکڑے اسے اندر کی جانب لے گئی جبکہ وہ شاید تعبیر کی وجہ سے چپ تھا ورنہ کھڑے کھڑے اس کا حشر نشر کر دیتا تعبیر خاموشی سے یہ سارا منظر دیکھ رہی تھی وہ ان کے اندر جانے کے بعد اپنے کمرے چلی گئی

“تمہیں میں نے منع کیا تھا نہ کہ آج کے بعد اپنی شکل مت دکھانا۔۔۔ پھر کیوں آئی ہو یہاں اور کیا ثابت کرنا چاہتی ہو؟؟

ڈرائنگ روم میں آتے ہی ایک جھٹکے سے آتش نے اسے دور دھکیلا جس پر وہ اسے تاسف سے دیکھنے لگی

“آخر مسئلہ کیا ہے تمہارا ہاں؟؟ کیوں میرا صبر آزما رہی ہو ہاں؟؟”

آتش کی تیز آواز تعبیر کی سماعتوں سے جا ٹکرائی تھی مگر یوں ان کے بیچ آنا یا ان کی باتیں سننے کا اس کا کوئی ارادہ نہ تھا وہ خاموشی سے اپنے کمرے میں بیٹھی ہوئی تھی

“کیونکہ پیار کرتی ہوں میں تم سے۔۔۔ اور کس نے کہا کے صبر کرو جو کرنا ہے کرو سامنے ہوں میں تمہارے۔۔۔”

اس نے بڑی ڈھٹائی سے آتش کا گریبان پکڑتے ہوئے کہا جس پر آتش نے اسے دور دھکیلنا چاہا مگر اس کی گرفت مظبوط تھی

“تم بہت اچھے سے جانتی ہو اگر میں کچھ کرنے پر آیا تو وہ دن تمہارا اس دنیا میں آخری دن ہوگا۔۔۔”

آتش نے اس کے دونوں ہاتھوں کو مظبوطی سے پکڑ کر دبوچا جس پر وہ مزاحمت کرنے لگی آتش کا لہجہ انتہائی سخت تھا وہ بولا نہیں باقاعدہ دھاڑا تھا

“میں۔۔۔ میں بہت اچھے سے جانتی ہوں یہ جو تم روز روز اس عام سی لڑکی کے ساتھ کبھی ریسٹورنٹ کبھی شاپنگ تو کبھی کہا کہا جاتے ہو۔۔۔ میٹنگز تو ایک بہانا ہے اصل میں تم اس کے ساتھ وقت گزارنا چاہتے ہو۔۔۔ تمہاری آنسوں میں اس کے لئے جو ہے وہ میں دیکھ سکتی ہوں پریس کو تو تم نے چپ کروا دیا لیکن۔۔۔ مجھ سے کچھ بھی نہیں چھپا سکتے تم آتش”

وہ اس ہی کے انداز میں چینخی تھی جس پر وہ آتش غصے سے گھورنے لگا

“ہاں میں چاہتا ہوں اسے بہت ضروری ہے وہ میرے لئے۔۔۔ لیکن تم جیسی گھٹیا لڑکی کی گندھی زبان سے میں تعبیر کا ذکر سننا بلکل پسند نہیں کروں گا اس لیے آج کے بعد اپنی ناپاک زبان سے اس کا نام تک نہ لے نہ ورنہ۔۔۔”

آتش نے اسے بہت بری طرح سے جھنجھوڑا تھا جس پر وہ تڑپ کر رہ گئی تھی اس کی آنکھوں سے آنسوں نکلنے لگے

“ورنہ کیا ہاں؟؟ جان سے مارو گے تم مجھے؟؟ اگر تم میرے نہیں ہو تو کسی کے بھی نہیں ہو سکتے۔۔۔ سمجھے تم!!!”

اس نے آتش کے ہاتھوں کو جھٹکا تھا آتش اسے آگ اگلتی نظروں سے گھور رہا تھا وہ اپنے حواسوں میں نہیں تھی

“تمہارا ہوؤں گا میں ہاں؟؟ تمہارا؟؟ نجانے کتنوں کے ساتھ تو تم بستر گرم کرچکی ہو اور تم جیسی لڑکی کو میں اپناؤ گا ؟؟ یہ سوچ بھی کیسے لیا تم نے ہاں؟؟”

آتش نے تمسخرانہ انداز میں کہا جس پر وہ جل بھن گئی تھی

“بکواس بند کرو اپنی۔۔۔ تم نے بھی تو مجھے استعمال کیا تھا نہ اپنے بارے میں کیا خیال ہے تمہارا اور تمہیں کیا لگتا ہے؟؟ جس لڑکی کے ساتھ تم فیوچر کے خواب دیکھ رہے ہو وہ پاک ہوگی؟؟ نجانے اسے کس کس نے۔۔۔”

ابھی آگے وہ کچھ کہتی آتش کا ایک زور دار تماچہ اس کے گال کی زینت بنا تھا وہ زمین پر گری بے یقینی سے اسے دیکھ رہی تھی وہ ایڑھی کے بل بیٹھا اس کے بالوں کو مٹھی میں دبوچے خود کے قریب کر گیا اپنی نیلی آنکھوں کو اس کی نم آنکھیں میں گاڑتے ہوئے اسے بے دردی سے جھنجھوڑنے لگا

“جسٹ شٹ یور ماؤنتھ بلڈی بچ۔۔۔ تمہاری ہمت کیسے ہوئی اس کے بارے میں ایسی بکواس کرنے کی ہاں۔۔۔”

وہ کسی شیر کی مانند دھاڑا تھا جس پر ردا ریاض ڈری تھی مگر اس کی گرفت میں کمی نہ آئی تھی

“آج تو یہ بکواس کرلی لیکن آئیندہ اگر اس کے بارے میں ایک بھی الفاظ اپنے منہ سے نکالا تو یاد رکھا۔۔۔ میں اس زبان کو کاٹ پھینکوں گا جو میری تعبیر کے بارے میں غلط کہے گی۔۔۔ سمجھیں تم۔۔۔۔”

آتش نے اس کے بالوں کو ایک جھٹکے سے چھوڑا تھا جس پر وہ کھسک کر دور ہونے لگی مگر تب ہی آتش نے اس کے جبڑے کو مظبوطی سے دبوچا جس پر وہ تڑپ کر رہ گئی تھی مگر آتش کے سر پر تو جیسے خوں سوار تھا نہ

“ایک اور بات!!! اسے چھونا تو دور کی بات اگر کسی نے اسے اس نظر سے دیکھا بھی تو میں اس کا وہ حشر کروں گا کہ وہ موت مانگے گا مگر اسے موت نہیں آئے گی۔۔۔ میں اسے زندہ لاش بنا دوں گا۔۔۔”

آتش کی بات پر وہ سرخ آنکھوں سے اسے دیکھنے لگی جب آتش نے ایک جھٹکے سے اس کا جبڑا چھوڑا اور اٹھ کھڑا ہوا

“وہ صرف میری ہے۔۔۔ تعبیر صرف اور صرف آتش درانی کی ہے!!! اسے چھونے کا اسے دیکھنے کا حق صرف اور صرف میرا ہے!!! وہ میری ملکیت ہے!!! اور اگر میری ملکیت پر کسی نے گندھی نظر ڈالی تو میں اسے زندہ زمین میں ایسے گاڑوں گا کہ سر اس کا زمین کے اوپر جبکہ دھڑ زمین کے اندر ہوگا!!!”

آتش کے لہجے میں ایک عجیب سا جنون تھا ایک ایسا طوفان جو شاید اپنا مقصد پورا کئے بنا تھمنے والا نہ تھا

“اٹھو اور دفع ہوجاؤ یہاں سے!!! اور آئیندہ کے بعد خیال رکھنا!!! ورنہ یہ جو تم دن دہاڑے منہ اٹھا کر کہیں بھی نکل جاتی ہو اس منہ کو کالا کر کے سڑک پر تماشا نہ بنا دیا تو کہنا!!!”

آتش نے اسے بازوں سے پکڑ کر باہر دھکیلا جس پر وہ سرخ آنکھیں لئے اسے دیکھنے لگی

“جارہی ہوں میں۔۔۔ مگر یاد رکھنا تم بہت پچھتاؤ گے۔۔۔ اگر میں برباد ہووں گی تو تمہیں بھی آباد نہیں ہونے دوں گی۔۔۔”

ردا نے انتقام لینے کی ٹھان لی تھی اس کی بات پر آتش کے لبوں پر ایک یک طرفہ تنزیہ مسکراہٹ نمودار ہوئی

“یہ تو وقت بتائے گا کہ کون کس کو برباد کرتا ہے!!!”

آتش کے اشارے پر گارڈز نے ردا ریاض کو بازوؤں سے گھسیٹ کر باہر کی جانب دھکا دیا جس پر وہ زمین پر جا گری کچھ سوچتے ہوئے وہ اٹھی اور سرخ آنسوں کو رگڑتے ہوئے اپنی گاڑی میں جا بیٹھی

وہ اب تک اپنے کمرے میں بیٹھی درود شریف کا ورد کر رہی تھی جب کمرے کا دروازہ کھلا اور آتش اندر آیا وہ جلدی سے گھبراتے ہوئے کھڑی ہوئی آتش کو وہ ڈری ہوئی لگ رہی تھی

“تعبیر؟؟ واٹ ہیپن؟؟ آر یو اوکے؟؟”

وہ اسے گھبراتا دیکھ کر نرمی سے مخاطب ہوا جس پر وہ اسے دیکھنے لگی

“سر۔۔۔ وہ۔۔۔ کیا باہر کوئی لڑائی ہورہی تھی۔۔۔”

وہ بامشکل یہ سوال کر چکی تھی

یہ تو وہ جانتی تھی آتش کو جب غصہ آتا تھا وہ پھر سامنے کھڑے شخص کا لحاظ نہیں کرتا تھا مگر آج تو اس کے سامنے اتنی بڑی ایکٹریس تھی پھر وہ اس پر غصہ کیوں کر رہا تھا

“نہیں کوئی لڑائی نہیں ہوئی تم ڈرو مت ایک مسئلہ تھا بس اسے ہی حل کر رہا تھا۔۔۔ ویل ہم باہر جانے والے تھے۔۔۔ چلیں؟؟”

آتش کو اس کا احساس تھا وہ سمجھ چکا تھا وہ تیز آواز پر ڈرتی تھی اس لئے بہت نرمی سے کہتا ہوا وہ اسے ریلیکس کرنا چاہ رہا تھا

“اا۔۔۔ جج جی۔۔۔”

وہ مختصر سا کہتی ہوئی نظریں جھکا گئی جبکہ آتش اسے اشارہ کرتے ہوئے خود باہر کی جانب چلا گیا وہ لوگ جیسے ہی گاڑی میں بیٹھے آتش کی نظر تعبیر کی گردن میں موجود لاکٹ پر گئی جس سے اس کا کچھ دیر پہلے والا غصہ کہیں غائب ہوگیا تھا

“تعبیر۔۔۔ کیا تم پریشان ہو؟؟”

وہ تعبیر کے چہرے پر پریشان دیکھ کر پوچھنے لگا جس پر اس نے جلدی جلدی نفی میں سر ہلایا

“گڈ تو پھر جلدی سے ایک اسمائل پاس کرو۔۔۔ مجھے تم مسکراتے ہوئے بہت اچھی لگتی ہو۔۔۔ سینوریٹا۔۔۔”

لفظ سینوریٹا پر ناچاہتے ہوئے بھی اس کے چہرے پر ایک دل چھو جانے والے مسکراہٹ بکھرنے لگی تھی جسے وہ نظروں سے دل میں اتار چکا تھا وہ دونوں مسکراتے ہوئے ساتھ بہت اچھے لگ رہے تھے

☆★☆★☆★☆

“یہ؟؟ یہ کیسے ممکن ہو سکتا ہے؟؟ یہ کاغذات نکلی ہیں۔۔۔ یہ دیکھیں یہ کسی حریم درانی کا نام ہے۔۔۔”

حریم نے اس محل نما گھر کے کاغذات کو دیکھتے ہوئے بے یقینی سے کہا جس پر یہ صاف صاف لکھا ہوا تھا کہ یہ گھر حریم کے نام پر تھا وہ ہونقوں کی طرح اس نام کو دیکھ رہی تھی

“ہاں تو یہ تم ہی ہو مس حریم درانی۔۔۔ یہ گھر تمہارے نام پر ابھی سے نہیں بہت سالوں سے ہے۔۔۔ ویسے کوئی اتنا بے خبر کیسے ہو سکتا ہے؟؟ کہ اپنا گھر ہی بھول جائے”

وہ اسے مزید الجھا رہا تھا

“آپ کیا کہہ رہے ہیں ضوریز بھائی میرا نام حریم شاہ ہے میں حریم درانی نہیں ہوں۔۔۔”

اس نے ضوریز کو یقین دلاتے ہوئے کہا جس پر وہ اسے دیکھنے لگا

“تم ہو!!! یہ الگ بات ہے کہ تم سچ نہیں جانتی لیکن تم حریم درانی ہی ہو۔۔۔ وجاہت درانی کی بیٹی!!! ضوریز درانی کی اکلوتی بہن حریم درانی۔۔۔”

وہ اونچی آواز میں بولا تھا جس پر وہ ہکا بکا سی اسے دیکھ رہی تھی

“آپ کا دماغ خراب ہے؟؟ یہ کیا کہہ رہے ہیں آپ؟؟ میں بھلہ آپ کی بہن کب سے ہونے لگی؟؟”

حریم نے گھورتے ہوئے کہا

“دماغ میرا نہیں میرے باپ کا خراب تھا!!! ورنہ آج یہ نوبت نہ آتی کہ اپنی ہی بہن کو میں اپنے رشتے کا یقین دلاؤں۔۔۔”

ضوریز نے گمبھیر لہجے میں کہا جس پر وہ دونوں ہاتھ لپیٹے اسے سختی سے دیکھنے لگی

“اوہ تو کیا یہ کوئی نئی چال ہے آپ کی؟؟ ائیزل کو برباد کر کے سکون نہیں ملا آپ کو؟؟ جو اب میرے پیچھے پڑ کر مجھے زبردستی اپنی بہن قرار دے رہے ہیں؟؟”

اس نے سپاٹ لہجے میں کہا جس پر ضوریز کو غصہ آنے لگا

“ائیزل کو اس معاملے سے دور رکھو یہ صرف تمہارا اور میرا مسئلہ ہے۔۔۔ تم ہی میری بہن ہو کیا نام تھا تمہارے اس زبردستی کے باپ کا؟؟ ہاں شہزاد شاہ۔۔۔ یہ سب اس ہی کی وجہ سے ہوا ہے “

ضوریز نے غصے سے کہا اس کے منہ سے اپنے باپ کا نام سن کر وہ اسے گھورنے لگی

“حد میں رہیں آپ!!! وہ میرے بابا تھے”

اس نے ضبط کرتے ہوئے کہا

“کوئی نہیں تھا وہ تمہارا بابا حقیقت یہ ہے کہ تم وجاہت درانی کی بیٹی ہو ہاں یہ بھی سچ ہے کہ غلطی وجاہت درانی کی بھی ہے جس نے ایک معمولی ملازم کی بات پر یقین کر لیا تھا”

ضوریز کی آواز اب کافی اونچی تھی جس پر وہ آنکھیں پھاڑ پھاڑ کر اسے دیکھنے لگی

“مطلب کیا ہے آپ کا؟؟”

“آج سے کچھ سالوں پہلے جب تم پیدا ہوئی تھیں تب ہماری پیاری موم کی حالت بہت خراب تھی ڈاکٹرز نے کہا تھا ان کی اور تمہاری جان کو خطرہ ہے مگر جب تم پیدا ہوئیں تو سب سے پہلے میں نے تمہیں گود میں لیا تھا میں نہیں بھول سکتا وہ خوشبو وہ نازک سا وجود وہ معصوم سی شکل تم ہی میری بہن ہو!!!”

وہ خاموشی سے کھڑی اس کی باتیں سن رہی تھی جب آخری والے الفاظ پر ضوریز اداس سا ہوا تھا

“کچھ ہی دیر بعد ڈاکٹر نے تمہیں بھی مشین میں رکھ دیا تھا اور سب موم کے پاس چلے گئے تھے مگر میں وہیں باہر کھڑا تمہارے انتظار میں تھا، قسمت نے ایسی پلٹی کھائی کے جتنا میں خوش تھا اس سے کئی زیادہ میں ٹوٹ گیا تھا جب ڈاکٹرز نے بتایا تھا کہ موم کی ڈیتھ ہوگئی اور پھر کچھ ہی دیر بعد پتا چلا کہ تم بھی۔۔۔”

ایک عجیب اداسی تھی اس کے لہجے میں ایک آنسوں تھا جو اس کی آنکھ سے جھلکا تھا وہ بڑی حیرت سے سامنے کھڑے شخص کو دیکھ رہی تھی جو اس کی محبت میں نم آنکھیں لئے خود کو سمیٹ رہا تھا

“مگر مجھے یقین نہیں آیا البتہ میں چھوٹا ضرور تھا لیکن ناسمجھ نہیں تھا۔۔۔ جب ہم واپس آئے تو پتا چلا ہمارے گھر کا ملازم اپنی بیوی کے پاس گاؤں چلا گیا شاید اس کی کوئی اولاد ہوئی تھی مگر جب کچھ وقت بعد جب وہ واپس نہ آیا تب میں نے سب کو کہا کہ اس کی معلومات کرائیں۔۔۔ مگر کسی نے میری نہ سنی سب مجھے بس یہی کہتے تھے کہ اپنی مرحوم بہن کے غم میں پاگل ہو چکا ہے یہ۔۔۔”

وہ جیسے اس کی باتوں میں کھو سی گئی تھی ایک پل کے لیے اسے لگا اسے ضوریز کی بات پر یقین کر لینا چاہیے

“کچھ سالوں بعد میں خود اس کی تلاش میں گاؤں گیا تب پتا چلا کہ تم وہیں تھیں۔۔۔ وہ تمہیں ہم سب سے چرا کر لے گیا تھا بہت بھاری قیمت ادا کر کے اس نے نرس کا منہ بند کیا تھا۔۔۔ میں اس سے بدلہ لینے ہی والا تھا مگر افسوس خدا نے مجھے یہ مہلت نہ دی اور وہ تمہیں یتیم خانے چھوڑ کر مر گیا”

“کہہ دیں آپ جھوٹ بول رہے ہیں۔۔۔”

تمام باتیں سننے کے بعد وہ بے یقینی سے آنسوں بہائے بھری آواز میں کہنے لگی جس پر ضوریز نے اسے دیکھا

“نہیں یہ جھوٹ نہیں ہے۔۔۔ ڈیڈ تو تمہیں بھول بھی چکے تھے شاید لیکن میرا دل کہتا تھا تم بلکل ٹھیک ہو۔۔۔ تب سے اب تک میں نے تم سے دور رہ کر تمہارے حقوق ادا کئے تھے حریم۔۔۔”

ضوریز کے تاثرات ڈھیلے پڑھ چکے تھے وہ اس کے قریب آکر اس کے سر پر ہاتھ رکھ کر اسے دیکھنے لگا حریم کا چہرہ آنسوؤں سے تر ہوچکا تھا

“تم میری بہن ہو حریم۔۔۔ میں بھائی ہوں تمہارا۔۔۔”

وہ باہیں پھیلائے کھڑا اب تک یقین دلا رہا تھا حریم اس کی بات پر یقین کر چکی تھی کیونکہ یہ تو وہ بھی جانتی تھی کہ اس کے مرحوم باپ نے اسے ایڈاپ کیا تھا لیکن اصل حقیقت ایسی ہوگی اسے پتا نہ تھا

“بھائی۔۔۔”

وہ اس کے گلے لگی بہت بری طرح سے رو رہی تھی جبکہ ایک سکون تھا جو ضوریز کی روح میں اتر کر اسے ہر مشکل سے چھٹکارا بخش رہا تھا

جاری ہے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *