Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Lams e Junooniyat (Episode 02)

Lams e Junooniyat by Areesha Khan

جب اس کی آنکھ کھلی تو کسی کو اپنے مقابل پا کر وہ پلٹ کر اسے دیکھنے لگا مگر جب اس کا شک یقین میں بدلہ تو وہ ایک جھٹکے سے اٹھ بیٹھا مگر تب ہی وہ بھی انگڑائی لیتے ہوئے اٹھی

“مورننگ ڈارلنگ…”

فاتحانہ انداز میں کہتی ہوئی وہ مسکراہٹ اچھلنے لگی جس پر اس نے دانت بیچے

“یہ سب تم نے کیا تھا؟؟”

وہ آنکھیں چھوٹی کرتے ہوئے اس سے مخاطب ہوا جس پر وہ اس کے سینے سے آ لگی مگر اسے اس کا لمس محسوس کر کے کوفت ہورہی تھی

“پیچھے ہٹو اور بتاؤ… کیوں کیا تم نے یہ سب؟؟”

وہ ایک جھٹکے سے اسے دور کرتا ہوا اٹھنے لگا جس پر ردا نے اسے روکا

“سنو تو ڈارلنگ کدھر جارہے ہو؟؟”

وہ خمار بھرے لہجے میں کہتی ہوئی اسے مزید غصہ دلا گئی جس پر وہ رکا اور اسے گھورنے لگا

“میں نے منع کیا تھا نہ کہ ایسا کچھ نہ کرنا… پہلے بھی تمہاری ان بے وقوفیوں کی وجہ سے ہمارا اسکینڈل بنا دیا گیا تھا جس پر اٹھتے سوالوں کو بڑی مشکلوں سے میں نے قابو کیا تھا…لیکن ایک بار پھر سے تم…”

وہ ابھی مزید کچھ کہتا جب وہ اس کے لبوں پر انگلی رکھ کر اسے خاموش کرا گیا

“یہ بے وقوفی نہیں محبت ہے میری جان”

وہ مسکراتی ہوئی اسے اس وقت صحیح کا تپا رہی تھی اس نے ایک جھٹکے سے اس کا ہاتھ ہٹایا اور بیڈ سے اٹھا کیونکہ وہ شرٹ لیز تھا جس وجہ سے اس کا مظبوط جسم جو جم کی وجہ سے اب اور بھی زیادہ دلکش لگتا تھا واضح ہونے لگا اس کی سکس پیک ابس ابھری ہوئی نظر آنے لگیں

“ردا پانچ منٹ کے اندر اندر اپنے یہ کپڑے پہنو اور پیچھے کے دروازے سے یہاں سے چلتی بنو”

وہ چہرے پر سخت تاثرات لئے اسے انگلی سے وارن کرتا ہوا اسے اس وقت ستمگر ہی لگ رہا تھا

“اچھا نہ جارہی ہوں…”

وہ جلدی سے اپنے نازیبا کپڑے پہنتی ہوئی بیڈ سے اٹھی جبکہ وہ دوسری طرف رخ کئے کھڑا اس کے جانے کا انتظار کر رہا تھا مگر تب ہی ردا نے اسے پیچھے سے ہگ کیا

“بائے نہیں کہو گے”

بڑی ڈھٹائی سے وہ اس سے چپکی ہوئی کھڑی تھی جس پر اس نے اسے دور دھکیلا

“بات سنو میری ردا ریاض اگر اب تم نے کوئی بھی الٹی سیدھی حرکت کرنے کا سوچا بھی تو مجھ سے برا کوئی نہیں ہوگا…سمجھیں تم”

وہ سرخ آنکھیں لئے دھاڑنے سے انداز میں کہتا ہوا اسے غصے سے دیکھ رہا تھا

“عجیب ستمگری ہے جناب کی، پہلے خود ہی اتنے قریب آئے تھے، نشہ بن کر میری سانسوں میں اترے تھے اور اب خود ہی مجھ سے منہ پھیر رہے ہو، یہ کہاں کا انصاف ہے”

وہ شکایتی لہجے میں کہتی ہوئی دو قدم قریب ہوئی مگر اس نے ہاتھ کے اشارے سے اس کے بڑھتے قدموں کو روک دیا

“گیٹ آؤٹ …”

وہ دروازے کی طرف اشارہ کرتا ہوا اسے گھور رہا تھا جس پر وہ اپنی سینڈلز کو ہاتھ میں اٹھائے جھولتی ہوئی کمرے سے باہر چلی گئی

“آخر کس طرح جان چھڑاؤں اس پاگل عورت سے…”

وہ دونوں ہاتھوں سے بالوں کو جکڑتا ہوا واپس بیڈ پر لیٹ گیا

“کچھ تو کرنا پڑے گا ورنہ فیوچر میں یہ میری کامیابی کی سب سے بڑی رکاوٹ بھی بن سکتی ہے”

خود کلامی کرتا ہوا وہ ہاتھ کی دو انگلیوں سے پیشانی رگڑنے لگا مگر تب ہی اسے یاد آیا آج اس کی فوٹو شوٹ ہے

ایک جھٹکے سے وہ بیڈ سے اٹھتا ہوا وارڈروب تک آیا اپنے لئے آج کا ڈریس سلیکٹ کر کے وہ شاور لینے چلا گیا

☆★☆★☆★☆

وہ اس کے سپاٹ لہجے میں بے حد قریب آکر کہے گئے الفاظوں پر اب تک اسے حیرت سے دیکھ رہی تھی جبکہ وہ اپنے الفاظوں کو اس کے منہ پر احسان بنا کر مارنے کے بعد خود اپنی پوزیشن پر آ بیٹھا

وہ واپسی کے لیے مڑنے لگی جب اس کی آواز پر رکی

“ویسے کیا ہیلپ چاہیے مجھ سے؟؟”

وہ جیب سے لائٹر نکال کر لبوں کے درمیان رکھے ہوئے سگریٹ کو سلگھاتے ہوئے پوچھنے لگا

“کوئی ہیلپ نہیں چاہیے…”

وہ پیر پٹختی ہوئی واپس اپنی گاڑی کی طرف بڑھ گئی جبکہ وہ اپنے کار کا دروازہ ایک جھٹکے سے بند کر کے اب سگریٹ نوشی کرنے میں مصروف تھا

پہلے اس نے اپنا موبائل اٹھایا اور نمبر ملانے لگی جبکہ وہ اب تک اپنی کار کے بند شیشے سے اسے تک رہا تھا آئیزل نے غصے سے موبائل کار کے ڈشبورڈ پر پھینکا اور آستینوں کو مزید چڑھاتی ہوئی وہ کار کا فرنٹ کھول کر چیک کرنے لگی مگر اسے کہاں گاڑی کے سسٹم پتا تھے

پہلے اس نے ایک وائر پر ہاتھ لگایا جو انتہا کا گرم ہورہا تھا جس سے ایک سیکنڈ کے اندر اس نے اپنا ہاتھ پیچھے کھینچا

“ابے گاڑی ہے یا آگ کا شعلہ”

وہ سر کھجاتی ہوئی ادھر اُدھر نظریں دوڑانے لگی جب اس کی نظر اس کھٹارا کار پر گئی وہ بد تمیز شخص اسے کار کے اندر سے تک رہا تھا

“لفنگہ کہیں کا”

چہرے کے عجیب وغریب زاویے بناتے ہوئے اس نے یہ الفاظ کہا جبکہ دور ہونے کی وجہ سے وہ سن تو نہ سکا لیکن اس کی شکل دیکھ کر یک طرفہ مسکرانے لگا

“اوففف یہ گاڑی کا فرنٹ ہے یا پھر فیزکس کا لیکچر… سالا کچھ پلّے ہی نہیں پڑھ رہا”

وہ سر کھجاتی ہوئی سوچنے میں مصروف ہوگئی پھر اللّٰہ اللّٰہ کر کے اس نے ایک ایک وائر کو دیکھا مگر کہیں بھی کوئی مسئلہ نظر نہیں آرہا تھا

تقریباً پندرہ منٹ تک وہ یوں ہی وائرز میں جڑی ہوئی اندر کے سسٹم کو سمجھنے کی کوشش کر رہی تھی مگر ناکام رہی جبکہ وہ شیشہ نیچے کئے اب تک اسے ہی تک رہا تھا جب وہ اپنی پوری کوششیں کر کے تھک گئی تب مجبوری اسے اس لفنگے کے پاس جانا پڑا

وہ اسے اپنی طرف بڑھتا دیکھ کر بے ساختہ مسکرانے لگا گاڑی کے شیشے کے پاس کھڑی ہوئی وہ اسے آنکھیں چھوٹی کر کے دیکھنے لگی جبکہ وہ اسے سوالیہ نظروں سے دیکھتا ہوا کش پہ کش لگا رہا تھا

“کتنے پیسے لوگے؟؟”

وہ ناک سکڑائے سوال کرنے لگی

“کام بتاؤ…”

وہ کش لگا کر دھواں چھوڑتے ہوئے کہنے لگا جس پر وہ اسے اشارے سے اپنی گاڑی کی طرف چلنے کا کہنے لگی وہ ایک جھٹکے سے گاڑی سے باقاعدہ کودنے کے انداز سے نکلتا ہوا باہر آیا اور اس کے پیچھے پیچھے چل دیا

☆★☆★☆★☆

جب اس نے پیچھے مڑ کر بوتل دینے والی شخصیت کو دیکھا تو بینچ پر سے اٹھ کھڑا ہوا البتہ بوتل اب تک اس نے تھامی نہیں تھی وہ سامنے کھڑی لڑکی کو دیکھ رہا تھا

پرنٹڈ لانگ شرٹ بلیو پینٹ کھلے ہوئے سیدھے بال گوری رنگت معصوم سی شکل وہ لڑکی عمر میں کافی چھوٹی لیکن پیاری سی لگ رہی تھی شاویز نے سوالیہ نظروں سے اسے دیکھا جس پر وہ بھی اس ہی انداز میں اسے دیکھنے لگی

“پانی؟؟”

بوتل اب تک اس کے سامنے بڑھائے کھڑی تھی

“نو تھینکس…”

وہ اسے مختصر سا جواب دیتا ہوا وہاں سے جانے لگا مگر وہ اس کے سامنے آئی

“پی لیں کوئی گناہ نہیں ہوجائے گا”

وہ اپنی معصومیت سے بھرپور لہجے میں کہتی ہوئی اسے کوئی ڈول ہی لگ رہی تھی

“تھینکس…”

وہ بوتل اس کے ہاتھ سے لیتا ہوا بینچ پر بیٹھ گیا اور گھونٹ بھرنے لگا جبکہ وہ بھی اس کے مقابل بیٹھی ہوئی اسے ہی دیکھ رہی تھی

“تھنکس اگین…”

شاویز نے اسے خود کے برابر بیٹھے دیکھا تو بوتل کا ڈھکن لگاتا ہوا اسے دینے لگا جسے وہ تھام گئی وہ اٹھ کر وہاں سے جانے لگا جب پھر سے اس نے اسے روکا

“آپ یہاں نیو ایڈمیشن ہیں؟؟”

اس کی میٹھی سی آواز اس کے قدموں کو تھمنے پر مجبور کر گئی شاویز نے پلٹ کر اسے دیکھا اور اثبات میں سر ہلانے لگا

“پھر تو آپ اس ماحول کو برداشت کرنے کی عادت بنالیں، کیونکہ یہاں ہر روز ایک نئی گیم کھیلی جاتی ہے…”

وہ سمجھ چکی تھی شاویز کو دیکھ کر کہ وہ کوئی سیدھا سادہ سا لڑکا تھا اسے اس ماحول کی عادت نہیں تھی جبکہ شاویز اب تک اسے ہی دیکھ رہا تھا

“یہاں کی مینجمنٹ کسی کو کچھ نہیں کہتی؟؟ یہاں کے کوئی رولز نہیں؟؟”

شاویز کے معصومانہ سوال پر وہ لڑکی ہلکہ سا مسکرانے لگی جس سے اس کے گالوں پر لائٹ سے ڈمپل نمایا ہوئے

“شاید آپ پہلی بار ایسے ماحول میں آئے ہیں، دراصل یہ کالج نہیں یونیورسٹی ہے یہاں کے رولز فالو کرنا ہر کسی کے بس کی بات نہیں اور پھر ایسے اسٹوڈینٹس جو ہر دوسرا لیکچر بنک کرنے میں آگے سے آگے رہتے ہیں وہ ایسے رولز فالو کریں گے؟؟ ممکن ہی نہیں”

شاویز اس کے ہلتے لبوں کو دیکھ رہا تھا جن پر ہلکی سی سرخی نمایا تھی

“مگر یہ تو غلط ہے نہ… رولز تو سب کے لئے برابر ہوتے ہیں سب کو فالو کرنا چاہئے، انہیں کوئی سزا نہیں ملتی کیا؟؟”

وہ ایک اور بار اپنے سوال سے اسے مسکرانے کا موقع دے گیا جس پر وہ لڑکی چہرے پر اڑتے ہوئے بالوں کو کان کے پیچھے کرنے لگی

“سزا تو ملتی ہے، ابھی یہ جو سامنے چار پانچ لڑکے بیٹھے اسموکنگ کومپٹیشن کر رہے ہیں انتظامیہ ان سب کو اکھٹے ہی یونی سے دو تین ویکس کے لیے گھر بھیج دے گی”

وہ پر سکون انداز میں کہتی ہوئی اس کے سوالوں کی الجھن سلجھا رہی تھی جبکہ شاویز نے ایک نظر اسے سرتا پیر دیکھا وہ کوئی اس سے ایک دو سال ہی چھوٹی ہوگی مگر باتوں سے وہ کافی تجربہ کار معلوم ہورہی تھی

شاویز نے اثبات میں سر ہلایا اور وہاں سے جانے لگا مگر تب ہی اس کے قدم رکے اس کی میٹھی آواز پر

“ٹیک کیئر، سی یو ٹو مارو”

شاویز نے ایک نظر اسے دیکھا اور چلتا ہوا یونی کے گیٹ سے باہر چلا گیا

☆★☆★☆★☆

“اففف تبّو تم نے اپنا کیا حال بنایا ہوا ہے، کہا بھی تھا کہ تھوڑی فشل کرلو دھوپ کی وجہ سے تمہارا چہرہ سرخ ہوگیا ہے ذرا آئینہ تو دیکھو”

رائمہ نے اس کے چہرے کو بغور دیکھتے ہوئے کہا جس پر تعبیر اسے گھورنے لگی

“کتنی بار کہا ہے مجھے ایسے عجیب و غریب ناموں سے نہ بلایا کرو، اور مجھے نہیں کروانی کوئی فشل میں ایسی ہی ٹھیک ہوں”

ہر بار کی طرح اس بار بھی تعبیر نے اسے ایسے نام لینے پر ٹوکا جس پر رائمہ نے دانتوں کے بیچ انگلی دبائی

“اوففف لڑکی، یہ تمہارا نک نیم رکھا ہے میں نے”

رائمہ کی بات پر تعبیر جو اس وقت سامنے بیٹھی خاتون کو مہندی لگا رہی تھی پھر سے اسے گھورنے لگی

“ایسے عجیب و غریب نک نیم ہی ملے تھے رکھنے کو؟؟”

تعبیر اسے نظر انداز کرتی ہوئی اپنے کام میں مصروف ہوگئی جبکہ وہ سامنے بیٹھی کچھ سوچ رہی تھی

“سوچ لیا، میں نے سوچ لیا، سینوریٹا، ہاں آج سے تمہارا نک نیم سینوریٹا ہے”

اس بار رائمہ کی بات پر تعبیر کے ہونٹوں پر مسکراہٹ آئی

“رائمہ… تم بھی نہ… ایک ہی ہو”

“افگورس”

تعبیر کی بات پر رائمہ نے ایک اسٹائل سے کہا جس پر سامنے بیٹھی خاتون بھی مسکرانے لگیں

“ہوگیا کمپلیٹ، آپ اسٹین فین کے سامنے بیٹھ کر انہیں سکھا لیں…”

تعبیر نے نرمی سے کہا جس پر وہ خاتون دوسری طرف چلیں گئیں

“اچھا ایک بات تو بتاؤ سینوریٹا، تم اپنی اسکن کا خیال کیوں نہیں رکھتیں؟؟ یار اتنی پیاری ہو تم اگر میں اتنی پیاری ہوتی نہ تو میں تو ماڈلنگ کرتی”

وہ شیشے میں نظر آتے اپنے حسن پر تنقیدی نگاہ ڈال کر کہنے لگی جس پر تعبیر نے اس کا رخ اپنی طرف کیا

“رائمہ کتنی بار کہا ہے ایسی باتیں نہ کیا کرو، اللّٰہ پاک نے سب کو خوبصورت بنایا ہے رنگ کم یا زیادہ ہونے سے کوئی کم حسین نہیں ہوجاتا”

وہ آج پھر سے اسے سمجھانے لگی جس پر اس نے ثبات میں سر ہلایا

“اچھا نہ بیٹھو پلیززز تمہارا فشل کردوں”

تعبیر کے لاکھ منع کرنے پر بھی رائمہ نے اس کے چہرے پر فشل کرنا شروع کیا جبکہ وہ اب تک منمنا رہی تھی

“اوففف بابا نہ کرنا تم فضول خرچی، یہ میری طرف سے گفٹ سمجھو”

رائمہ کی بات پر تعبیر نے اسے ایک نظر اسے پھر ایک نظر آئینہ دیکھا جہاں اس کا چمکتا ہوا صاف و شفاف بے داغ چہرہ نظر آرہا تھا

“یہ جو دن بھر تم جابز میں بیزی رہتی ہو نہ، اس سے تمہاری اسکن میں ڈسٹ بیٹھ جاتی ہے اب دیکھو کتنا فریش فریش فیس لگ رہا ہے”

رائمہ نے اس کے گالوں پر ہاتھ پھیرتے ہوئے کہا جس پر تعبیر نے اثبات میں سر ہلایا

“اچھا چلو میں گھر جارہی ہوں…”

وہ آج اسکول سے فارغ ہوکر گھر میں سالن روٹی بنا کر جلدی پالر آگئی تھی

“ابھی؟؟ لیکن ابھی تو صرف ساتھ بجے ہیں”

رائمہ نے اسے حیرت سے دیکھتے ہوئے کہا

“ہاں یار آج بہت امپورٹڈ کام ہے، یہاں سے جانے کے بعد شاویز کا کورس بھی لینے جانا ہے”

تعبیر نے ایک چھوٹا سا اسکاف گلے میں سیٹ کیا اور خود کو چادر سے کوور کرتی ہوئی اپنا ہینڈ بیگ ہینگ کرنے لگی

“واؤ تمہارے بھائی کا ایڈمیشن ہوگیا؟؟فائینلی، وہ تو بہت خوش ہوگا “

“ہاں نہ یار… وہ بہت خوش تھا…اچھا چلو میں چلتی ہوں اب تم خیال رکھنا اپنا اور پلیززز اپنی بڑی آپی کو کہہ دینا کہ تعبیر کو کام تھا اس لئے جلدی چلی گئی “

“ہاں تم بے فکر رہو میں کہہ دوں گی”

وہ جلدی سے پالر سے نکل کر روڈ کی بڑھ گئی

☆★☆★☆★☆

ایک ٹاول کمر سے پیروں تک جبکہ دوسرا بالوں پر لپیٹے وہ اپنے گیلے مظبوط ورزشی جسم کے ساتھ شاور لے کر باہر نکلا سر پر سے ٹاول ہٹا کر وہ ڈریسنگ کے سامنے آکھڑا ہوا سب سے پہلے اس نے اپنے گیلے چمکتے ہوئے چہرے پر بکھرے بالوں کو سکھایا

نیلی راز آنکھیں گھنی پلکیں ہلکے گلابی ہونٹ دودھیا رنگت ہلکی سی بیئرڈ جو اس کے حسن میں مزید اضافے کا باعث بنی تھی ہاتھوں کی ابھری ہوئی نسیں، چوڑا سینہ سکس پیک ابس جو اس کی شخصیت کو مزید متاثر کر رہی تھیں

پہلے وہ بیڈ پر رکھی بلیو کلر کی پینٹ پہننے لگا اب وہ شرٹ لیز شیشے کے سامنے کھڑا ہوا ڈریسنگ پر سے بوڈی اسپرے اٹھا کر جسم پر لگانے لگا پھر بیڈ پر رکھی ہوئی وائٹ شرٹ اٹھا کر پہننے لگا اب صرف کوٹ پہننا باقی تھا جبکہ اپنی وائٹ شرٹ پر پرفیوم کی بوتل الٹنے سے انداز میں لگاتا ہوا وہ ہاتھوں سے بالوں کو سنوارنے لگا

شیشے کے بلکل نزدیک آکر انگلیوں کو داڑھی پر پھیرنے لگا وہ اس وقت دنیا کا سب سے حسین ترین شہزادہ معلوم ہورہا تھا ابھی وہ مزید خود پر غور کرتا جب اس کا موبائل بجنے لگا

“سر جی سب ریڈی ہے بس آپ کا ویٹ ہے”

“فیو منٹس اونلی”

سامنے والے کی سنے بنا وہ کال ڈسکنیکٹ کر کے نیلے رنگ کا کوٹ پہننے لگا اپنے مظبوط قدموں کو آگے بڑھاتا ہوا وہ کمرے سے باہر آیا جہاں ملازم ڈائننگ پر اس کے لئے طرح طرح کی اقسام کے کھانے سجا رہے تھے

وہ سیڑھیاں اترتا ہوا کھانے کی میز کی طرف آیا اپنی مخصوص کرسی پر بیٹھتا ہوا وہ سامنے رکھی بریڈ پر بٹر لگانے لگا جبکہ ملازم سر جھکائے کھڑے اس کے اگلے حکم کے منتظر تھے

“صاحب کچھ چاہئے…؟؟”

ایک ملازم نے دو قدم آگے بڑھاتے ہوئے پوچھا جس پر اس نے کھا جانے والی نظروں سے اسے گھورا تو وہ کانپ کر رہ گیا اس نے صرف ایک بریڈ کھائی تھی جبکہ ٹیبل پر اتنے احتمام سے رکھا گیا کھانا جسے اس نے دیکھا تک نہ تھا

“ڈرائیور سے کہو گاڑی تیار رکھے”

ملازم کو حکم دیتا ہوا وہ سامنے رکھے جوس کے گلاس سے انصاف کرنے لگا ملازم حکم ملتے ہی الٹے پاؤں باہر بھاگا، ایک نظر اپنے سیدھے ہاتھ پر ڈال کر وہ دو انگلیوں سے پیشانی رگڑنے لگا

“واچ روم میں ہی رہ گئی”

ٹشو پیپر سے لبوں کو صاف کرتا ہوا وہ وہاں سے اٹھ کر سیڑھیاں عبور کرتا ہوا روم میں چلا گیا جہاں اس کا موبائل رنگ ہورہا تھا پہلے تو اس نے ڈریسنگ پر رکھی واچ پہنی پھر اپنے شووز بدلے ایک نظر سکرین پر مار کر وہ کال اگنور کرتا ہوا موبائل جیب میں رکھ کر نیچے چلا گیا

☆★☆★☆★☆

“مسئلہ یہ ہے کہ یہ اسٹارٹ…”

ابھی آگے وہ کچھ کہتی جب ہاتھ کے اشارے سے چپ کراتا ہوا وہ خود گاڑی کے فرنٹ پر آکھڑا ہوا دونوں آستینوں کے بٹن کھول کر اسے کُہنی تک چڑھا کر وہ اندر کا جائزہ لینے لگا

جبکہ وہ سامنے کھڑی اس کا جائزہ لے رہی تھی شکل سے تو وہ کم ڈشنگ نہیں تھا لیکن حلیے سے کوئی لچچہ لفنگا ہی ظاہر ہورہا تھا جبکہ اس کے ہاتھ پر نظر آتی ابھری ہوئی نسیں جو اس بات کا ثبوت تھی وہ جم کرتا ہے

ایک انگلی اپنے نچلے ہونٹ پر پھیرتے ہوئے وہ آگے پیچھے دیکھنے لگا جس پر آئیزل کو لگا وہ کچھ تلاش کر رہا ہو…

“کیا مسئلہ ہوا ہے اس میں ؟؟”

کچھ منٹ کے بعد وہ پوچھنے لگی جس پر وہ جو ادھر اُدھر کچھ تلاش کر رہا تھا اب اس کی طرف متوجہ ہوا

“کمال ہے… ابھی کچھ دیر پہلے تم مجھے مسئلہ سمجھا رہی تھی اور اب مسئلہ پوچھ رہی ہو…”

لاپرواہی سے کہتا ہوا وہ اپنی گاڑی کی طرف بڑھا وہ ایک پانی کی بوتل لئے واپس آیا جبکہ وہ اسے ہی دیکھ رہی تھی پہلے تو اس نے بوتل کا ڈھکن کھولا اور وہی کھڑے کھڑے آدھا پانی اپنے منہ میں بھرنے لگا اور پھر باقی کا آدھا بچا ہوا پانی جسے وہ گاڑی کے ایک وائر میں ڈالنے لگا وہ لڑکا آئیزل کی سمجھ سے باہر تھا

“گاڑی اسٹارٹ کرو…”

وہ بنا اسے دیکھے ماتھے پر شکن لیے کہنے لگا جبکہ وہ بنا کچھ کہے گاڑی میں بیٹھ کر گاڑی اسٹارٹ کرنے لگی جو کہ دوسری بار ہی میں اسٹارٹ ہوگئی

“تھینکس…”

وہ بے تاثرات چہرے کے ساتھ کہتی ہوئی ابھی کلچ دباتی جب وہ کھڑکی کے ساتھ جھک کر کھڑا ہوا

“واٹ تھینکس ؟؟”

وہ سوالیہ نظروں سے اسے دیکھنے لگی آخر وہ کیا کہنا چاہ رہا تھا

“پیسے دینے والی تھی نہ تم؟؟”

بے شرمی سے پیسے مانگتا ہوا وہ اسے اس وقت فقیر ہی لگ رہا تھا

آئیزل نے پینٹ کی جیب سے سو کا نوٹ نکال کر اس کے منہ پر مارا جسے تھام کر وہ پہلے بہت غور سے دیکھنے لگا کہ اصلی ہے یہ نقلی آئیزل کا دل کیا اس بھکاری کا منہ ہی توڑ دے

“ٹھیک ہے؟؟”

وہ اسے جتانے سے انداز میں کہتی ابھی آگے بڑھتی جب وہ پھر سے اندر جھانکنے لگا

“زیادہ ہیں…”

اس نے جیب سے وائلٹ نکال کر دس روپے کا نوٹ اس ہی کے انداز میں اس کے منہ پر مارا ائیزل اس کی اس حرکت پر دنگ رہ گئی

“یہ کیا بد تمیزی ہے؟؟”

وہ غصے سے چلّائی

“یہ بد تمیزی نہیں کھلا چھٹا ہے”

اس کی بات پر وہ سوالیہ نظروں سے اسے دیکھنے لگی

“جو پانی تمہاری گاڑی کے وائر نے پیا ہے وہ کوئی عام پانی نہیں بلکہ منرل واٹر تھا پورے سو روپے کی بوتل تھی، جس میں سے آدھا پانی میں نے پیا اور آدھا تمہاری گاڑی کے وائر نے مطلب تمہاری طرف سے بچاس روپے بنے جو میں نے کاٹ لیئے اور باقی کے چالیس روپے جو میری محنت کی دیہاڑی بننلی، ہوگئے پورے نوے روپے…”

وہ اسے ایک ایک پائی کا حساب سمجھاتا ہوا واپسی کے لیے مڑا جب ائیزل نے اسے روکا وہ اس وقت خود کو بنا دماغ کے تصور کر رہی تھی ائیزل نے اس کے پھینکے ہوئے دس روپے کا نوٹ اس کی طرف اڑایا

“یہ بھی رکھلو مجھے نہیں چاہیے…”

اپنی آنکھوں کے سامنے سے گرتا ہوا نوٹ جسے وہ زمین پر گرنے سے پہلے تھام گیا اب واپس اس کی طرف بڑھانے لگا

“چاہیے نہ چاہیے وہ الگ بات ہے لیکن، رکھنا تو پڑے گا، ضوریز دورانی کسی لڑکی کا خالی فوکٹ میں دیا ہوا ایک روپیہ بھی نہیں رکھتا”

وہ نوٹ اسکے منہ پر اڑاتا ہوا واپسی کے لیے بڑھ گیا جبکہ ائیزل کی نظریں اس کی پشت پر ٹہری ہوئی تھیں آخر کون تھا وہ عجیب و غریب انسان وہ دماغ کو جھٹکتی ہوئی گاڑی اسٹارٹ کر کے اپنے راستے بڑھ گئی

جاری ہے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *