Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Lams e Junooniyat (Episode 05)

Lams e Junooniyat by Areesha Khan

“تھنکس اے ڈی… ہمارے لئے وقت نکالا…”

“یہاں آنے کی وجہ ؟؟”

سامنے بیٹھے شخص کی بات کو نظر انداز کرتے ہوئے وہ کش لگاتے ہوئے کہنے لگا جس سامنے بیٹھے شخص نے ضبط کیا

“دراصل ایک نئی پروڈکشن کے بارے میں آپ سے بات کرنی تھی، ہم ایک نئے پروجیکٹ کی تیاری کر رہے ہیں”

وہ اپنی بات مکمل طور پر بتانے لگا

“تو؟؟”

آتش نے بیزاری سے کہا جس پر سامنے بیٹھا شخص اسے عجیب نظروں سے دیکھنے لگا مگر یہ اس کی مجبوری تھی اسے ہر حال میں آتش کو راضی کرنا تھا

“سر ہمارے پاس ایک آفر ہے، سر ہم چاہتے ہیں ہم اپنے نئے پروجیکٹ میں آپ کو کاسٹ کریں”

ایک زور دار قہقہہ لگائے اس نے سگریٹ کو ایش ٹرے میں مسل دیا

“اب تم مجھے آفر کروگے؟؟”

آتش نے مغرورانہ انداز میں کہا جس پر اس نے اپنے پسینے صاف کئے

“سر اگر آپ ہمارے ساتھ کام کرنے کے لیے رضامند ہوجاتے ہیں تو ہم آپ کو ایڈوانس میں بہت زیادہ رقم دیں گے، بس آپ آفر قبول کریں اور ایڈوانس آپکے اکاؤنٹ میں”

اس آدمی کی بات پر آتش نے دو انگلیوں سے اپنی ہلکی براؤن داڑھی کو رگڑا

“اور اگر میں نہ کروں تو؟؟”

“سر دیکھیں نہ ایکٹرز کی کمی ہے اور نہ ہی شہرت کی لیکن اگر آپ آفر قبول کرلیں تو دونوں کا فائدہ ہوگا”

ایک جھٹکے سے اس نے سامنے پڑے ٹیبل پر لات رسید کی جس سے ایش ٹرے نیچے گر کر چورا چورا ہوگئی ساتھ ہی جلی ہوئی سگریٹ کی راخ زمین بوس ہوگئی اس کی نیلی آنکھوں میں خون اتر آیا تھا

“جھوٹ، اگر تم یہ پروجیکٹ میرے ساتھ کرنا چاہتے ہو تو اس کی کچھ وجوہات ہیں نمبر ایک یہ کہ تمہیں دوسرے ایکٹرز کے ساتھ کام کر کے ناکامی کا سامنا کرنا پڑا تھا، نمبر دو تم پچھتا رہے تھے مجھے ریجیکٹ کر کے کیونکہ اگر وہ پروجیکٹ تم میرے ساتھ کرتے تو واقعی تمہیں گوانا نہ پڑھتا نمبر تین تم ایک لالچی انسان ہو اور یہاں تمہیں تمہاری شہرت کی پیاس کھینچ لائی ہے”

آتش نے ایک ایک بات کو کھریدا تھا جس سے سامنے بیٹھے شخص کے حواس باختہ ہوگئے تھے وہ حیران تھا آتش اس کی سوچ سے کئی زیادہ آگے نکلا تھا

“سچ تو یہ ہے کہ تم مجھے آفر کرنے نہیں آئے بلکہ اگر میں تمہیں آفر کروں تو تمہارے لئے کسی غنیمت سے کم نہیں ہوگا”

وہ آتش کی بات پر سر جھکا گیا تھا وہ حیران تھا کہ آخر آتش کو تمام باتوں کا علم کیسے تھا وہ آخر اس بات کی تہہ تک کیسے پہنچا تھا خیر اب جو کچھ بھی تھا سب سچ تھا وہ سچ ہی تو کہہ رہا تھا

“دیکھیں سر…”

وہ دھیمے لہجے سے مخاطب ہوا جس پر آتش نے سوالیہ انداز سے گردن ہلائی

“سر جو کچھ بھی ہوا اس میں میرا کوئی قصور نہیں اس پروڈکشن کے مالک نے جو کچھ بھی کیا وہ اس ان کی ٹیم سے ہوا میں نے کچھ نہیں کیا میں مجبور ہوں مجھے تو یہاں بھیجا گیا ہے ہر حال میں آپ کو راضی کرنے کے لیے میری تو نوکری داؤ پر ہے غازی پروڈکشن کی ٹیم میں میں بھی ہوں لیکن ہوتا وہی ہے جو اونر چاہے”

وہ بے بسی سے کہتا ہوا بار بار نظریں جھکا رہا تھا وہ تو آتش سے نظریں ملانے کے لائق بھی نہ تھا جبکہ آتش کو اس کی گفتگو سن کر یہ اندازہ ہو چکا تھا کہ اس کے گلے میں ڈالا گیا پٹا جس کی ڈور ان کے اونر کے ہاتھ میں ہے

“جاکے کہو اپنے اونر سے کام اسے ہے تو وہ آئے…اور اب تب تک یہاں کا رخ نہ کرنا جب تک تمہارا اونر اپنی غلطی تسلیم کر کے خود میرے سامنے نہ جھک جائے”

آتش کے ہاتھ کا اشارہ ملتے ہی وہ فورن سے کھڑا ہوا اور ایک نظر آتش کو دیکھ کر وہاں سے چلا گیا کیونکہ اس کے لئے اب مزید یہاں رکنا مشکل سے مشکل ہوتا جارہا تھا

آتش اس کے جاتے ہی صوفے سے اٹھا اور ملازمہ کو یہاں کی صفائی کا کہہ کر وہاں سے چلا گیا

☆★☆★☆★☆

“لائٹس کیمرہ ایکشن…”

رائمہ کی بات پر پالر میں موجود سب ہی ہنسنے لگے جبکہ تعبیر نے ہلکی سی مسکراہٹ دی تھی

وہ اس وقت دلہن کے لباس میں ملبوس تھی لال رنگ کے برائڈل ڈریس میں وہ کوئی خوبصورت اپسرا ہی لگ رہی تھی جبکہ میک اپ اس کے معصوم سے چہرے کے حساب سے بے حد ترتیب سے لائٹ سا کیا گیا اور جیولری بھی زیادہ ہیوی نہیں تھی

“واؤ ماشاءاللہ آپی یہ تو ہیروئن لگ رہی ہے پوری کی پوری مجھے لگتا ہے یہ کومپٹیشن آپ ہی جیتیں گی”

رائمہ کی بات پر منہاس مسکرانے لگی

“اچھا اب جلدی کرو وہ لوگ ہمیں پک کرنے آتے ہی ہوں گے”

وہ لوگ آج پہلی بار بیوٹی کومپٹیشن کی تقریب میں آئے تھے وہاں بہت ساری ماڈلز موجود تھیں مگر تعبیر ان سب کی بانسبت بہت زیادہ پیاری لگ رہی تھی

تقریب شروع ہوئی اناؤنسر نے ایک ایک میک اپ آرٹسٹ کا نام اناؤنسڈ کیا بہت سی میک اپ آرٹسٹ مختلف وجوہات کی وجہ سے فیل ہوکر واپس اپنی کرسی پر آ بیٹھی تھیں کسی کی ماڈل کا میک اپ کافی ڈارک تو کسی کی جیولری کافی ہیوی تھی اور کسی کا میک اپ ڈریس سے بلکل الگ تھا تو کسی کے میک اپ میں فنیشنگ نہیں تھی

اناؤنسر نے اب تیسرے نمبر پر ایک آرٹسٹ کو اسٹیج ہر بلایا اور ایوارڈ دیا پھر دوسرے نمبر پر ایک میک اپ آرٹسٹ کو بلایا اور جیک دیا اور اب پہلے نمبر کی باری تھی منہاس دل ہی دل میں دعا کر رہی تھی مگر تب ہی اناؤنسر نے اس کا نام پکارا وہ حیرت سے تعبیر اور رائمہ کو دیکھنے لگی

“واؤ آپی ہم جیت گئے” وہ خوشی سے جھومنے لگی تھی جب منہاس نے تعبیر کی طرف ہاتھ بڑھایا جسے تعبیر تھام گئی وہ دونوں اسٹیج پر گئے تھے جہاں انہیں ایوارڈ کے ساتھ ساتھ چیک بھی ملا تھا اور منہاس کو بیسٹ میک اپ آرٹسٹ سلیکٹ کیا تھا

اب سے وہ انڈسٹری میں کام کرنے والے ماڈلز اور ایکٹرز کا میک اپ کیا کرے گی اسے اتنی بڑی کامیابی ملی تھی تعبیر کی فوٹو شوٹ کی جارہی تھی ہر اینگل سے سب کی نظریں تعبیر پر تھیں وہ چاند کی طرح چمک رہی تھی

“تعبیر میرے خیال سے تم اپنا ڈریس یہیں پر چینج کرلو میں تمہارا ڈریس لائی ہوں، بہت رات ہوگئی تم اس طرح دلہن کے بیس میں گھر کیسے جاؤ گی؟؟”

رائمہ کی بات پر تعبیر نے اثبات میں سر ہلایا اور اس کے بتائے گئے روم کی طرف چلی گئی

وہاں بھی سے رومز تھے اسے اس جگہ پر بہت سے رومز دیکھ کر کچھ عجیب سا محسوس ہورہا تھا

“کس میں جاؤں…کس میں…”

وہ کشمکش میں مبتلا ادھر اُدھر دیکھ رہی تھی جب ایک دروازہ کھلا نظر آیا اور اس طرف بڑھی مگر اندر جانے سے پہلے ہی جب اس کی نظر اندر کے منظر پر پڑی تو وہ شرم سے پانی پانی ہوگئی

ایک ڈائریکٹر کسی ایکٹر کے ساتھ بڑی بے باکی سے بیٹھا ہوا گپے لگا رہا تھا جب سامنے کھڑی لڑکی پر نظر گئی تو وہ دونوں دور ہوکر بیٹھے تعبیر نے اچانک سے اپنا رخ بدلا اور دوسری طرف چلی گئی

☆★☆★☆★☆

آج ان کا لیکچر کافی دیر تک چلا تھا شاویز لیکچر سننے میں مصروف تھا مگر تب ہی لیکچرر نے کسی پر غصہ کیا جس پر وہ پیچھے کو دیکھنے لگا کیونکہ وہ سب سے پہلی بینچ پر تھا جبھی اسے پلٹ کر دیکھنا پڑا

“آپ دونوں کب سے باتیں کی جارہی ہیں؟؟ اگر آپ لوگوں کو لیکچر اٹینڈ نہیں کرنا تو کئینڈلی کلاس سے باہر چلی جائیں پوری کلاس کو ڈسٹرب نہ کریں”

لیکچرر کی بات پر شاویز کی نظریں سب سے پیچھے والی سیٹ پر گئی جہاں دو لڑکیاں بیٹھی ہوئی تھیں جن میں سے ایک حریم بھی تھی

” وہ…”

“حریم…آپ فورن سے کلاس سے چلی جائیں اور ساتھ آپ بھی”

انہوں نے دونوں کو اشارہ کرتے ہوئے کہا جس پر حریم کی نظر شاویز پر گئی وہ اسے ہی دیکھ رہا تھا

“نیکسٹ ایسا نہیں ہوگا، پلیزز سوری اباؤٹ دز”

حریم کے معصومانہ انداز پر انہوں نے کچھ سوچا

“دین آپ یہاں فرسٹ بینچ پر آکر بیٹھیں”

شاویز نہ سمجھیں سے سامنے کھڑے لیکچرار کو دیکھنے لگا جو حریم کو اس کے ساتھ بیٹھنے کا حکم دے چکے تھے

وہ چلتی ہوئی اپنا بیگ اٹھا کر شاویز کی سیٹ کے قریب آئی شاویز نے اپنا بیگ اٹھایا اور دور ہوکر بیٹھ گیا جبکہ وہ جگہ ملتے ہی اسکی سیٹ پر بیٹھ گئی اب وہ دونوں ہی لیکچر سننے میں مصروف ہوگئے

لیکچر ختم ہوتے ہی شاویز اپنی کتابوں میں مصروف ہوگیا جب حریم کی بات پر اس کی طرف متوجہ ہوا

“تھنکس…”

“کس لئے؟؟”

“مجھے اپنی بینچ پر جگہ دینے کے لیے”

شاویز کے سوال پر وہ مسکراتے ہوئے کہنے لگی

“کوئی بات نہیں…”

شاویز نے بھی ہلکی سی مسکراہٹ پاس کی

“ویسے تم اس دن تو لیکچر میں نہیں تھیں؟؟ تو کیا تم میری ہی کلاس میں ہو؟؟”

“ہاں دراصل اس وقت میں ایکسٹرا کلاس میں بیزی تھی”

“ایکسٹرا کلاس؟؟”

شاویز نے سوالیہ نظروں سے اسے دیکھا

“ہاں ایکسٹرا کلاس… کیونکہ کل کا لیکچر کافی لیٹ ہوا تھا اس لئے میری ایکسٹرا کلاس کا وقت ہوگیا تھا تو میں وہاں چلی گئی تھی، میں ڈانسنگ میں انٹرسٹڈ ہوں تو بس اس ہی وجہ سے میں وہاں پریکٹس میں بیزی تھی”

حریم نے مکمل بات بتاتے ہوئے کہا جس پر شاویز تھوڑا سا حیران ہوا

“اوہ اچھا… گڈ”

“جی…ویسے بریک ٹائم ہوگیا ہے کینٹین چلیں؟؟”

اس کے سوال پر وہ اثبات میں سر ہلاتا ہوا اس کے ساتھ کینٹین چلا گیا

“ویسے آپ نے بتایا نہیں آپ کہاں رہتے ہیں آئی مین ڈیفینس کے کونسے ایریا میں”

حریم کے سوال پر کچھ پل کے لیے وہ خاموش سا ہوگیا تھا

“آ…وہ… میں ڈیفینس کا رہنے والا نہیں ہوں… ایک غریب گھرانے میں رہنے والا شخص ہوں میں”

شاویز کی بھی پر وہ تھوڑی شرمندہ ہوئی تھی مگر جلد ہی سمبھل گئی

“گریٹ… تو کیا آپ جاب بھی کرتے ہیں؟؟”

“نہیں لیکن آپ اتنے سوال کیوں پوچھ رہی ہو؟؟”

“بس ایسی…”

شاویز نے اس کی بات پر سر ہلاتے ہوئے آرڈر دیا جبکہ وہ اسے ہی دیکھ رہی تھی دونوں نے اپنے حصے کا برگر ختم کیا اور واپس اپنے نیکسٹ کلاس اٹینڈ کرنے چلے گئے

☆★☆★☆★☆

“ہائے…”

وہ اس وقت اپنے روم میں موجود تھی جب اسے کھڑکی کی طرف سے کسی کی مردانہ آواز سنائی دی وہ چونکی مگر جب پلٹ کر کھڑکی کی جانب دیکھا تو جو اس کے چاروں تباک روشن ہوگئے ہوں

“تت تم یہاں؟؟”

وہ اپنے روم میں آج اکیلی تھی کیونکہ حریم اپنی کلاس فیلو کے گھر گئی تھی کسی پروجیکٹ کو ڈسکس کرنے وہ آج پہلی بار کتابیں نکال کر انہیں عجیب نظروں سے دیکھ رہی تھی لیکن شاید قدرت کو بھی یہ منظور نہ تھا کہ وہ پڑھائی کرے

“اہمم پہچان لیا… گریٹ”

وہ بڑے آرام سے کھڑکی سے اندر چھلانگ لگاتا ہوا سامنے صوفے پر آ بیٹھا جبکہ آئیزل ایک دم سے اچھل کر دروازے کی طرف بھاگی اور دروازے کو لاک کر گئی

“تم یہاں کیا کر رہے ہو؟؟”

وہ سوالیہ نظروں سے اسے گھورنے لگی ہمیشہ کی بانسبت آج وہ تھوڑے ڈھنگ کے حلیے میں تھا

“تم سے ملنے کا دل کیا تو سوچا آجاؤں…”

وہ بڑے آرام سے کہتا ہوا سگریٹ جلانے لگا مگر اسے خود کی طرف گھورتا پا کر پھر رکا

“ایسا بلکل بھی مت سوچنا… میں تو احسان چکانے آیا تھا”

اپنی بات کو بڑے آرام سے دوسرا رنگ دے کر وہ ا

کش لگانے لگا جس پر ائیزل نے اس کے لبوں سے سگریٹ نکالا اور چلتی ہوئی کھڑکی کی طرف گئی اور ہاتھ بڑھا کر سگریٹ نیچے پھینک دیا جبکہ وہ اس کی ایسی حرکت پر اسے ہی دیکھ رہا تھا

“مجھے پتا ہے تم اس کا حساب مانگو گے، لیکن یہاں سگریٹ پینا الاؤ نہیں ہے اگر بانو آنٹی کو ذرا سی بھی بو آئی نہ مجھے کٹہرے میں لا کھڑا کر دینا ہے انہوں نے”

وہ تمام باتیں بھلائے اسے سمجھانے والے انداز میں کہنے لگی جس پر وہ مسکرایا

“اوہ اچھا مجھے نہیں پتا تھا… خیر سوری نیکسٹ ٹائم باہر ہی پی کر آؤں گا”

وہ بڑے آرام سے کہتا ہوا اسے گھورنے پر مجبور کر گیا

“تم…پہلے تو تم یہ بتاؤ کہ تم یہاں کیوں آئے ہو؟؟”

وہ دھیمے لیکن سخت لہجے میں کہنے لگی جس پر وہ صوفے کی پشت سے ٹیک لگائے آرام سے بیٹھ گیا اور اسے بھی بیٹھنے کا اشارہ کرنے لگا جس پر ائیزل نے اسے مزید گھورا

“چلو پھر میں بتا ہی دیتا ہوں، دراصل آج صبح تم نے میرا صرف ایک سگریٹ ضائع کیا تھا لیکن پوری ڈبی میرے حوالے کردی تھی اور میں پی بھی گیا”

آخری الفاظ پر وہ ڈھٹائی سے زور دینے لگا

“تو؟؟”

“تو یہ کہ میڈم مجھے تمہارا یہ احسان اتارنا ہے، اب سمجھ نہیں آرہا کیسے اتاروں، اگر سگریٹ کے بدلے سگریٹ ہی دیتا تو فائدہ کیونکہ وہ تو تمہاری سائڈ ڈور میں الریڈی اتنے پڑے ہوئے ہیں”

ضوریز نے اس کے پیچھے نظریں کرتے ہوئے کہا جس پر ائیزل حیرت سے پیچھے دیکھنے لگی واقعی اس کی دراز کھلی پڑی تھی جس میں سے سگریٹ کی ڈبیاں جھانک رہی تھیں

“پھر میں نے سوچا کوئی تحفہ دے دوں لیکن میڈم کو یہ لگنا تھا کہ میں انہیں پرپوز کر رہا ہوں اس لئے سوچا مل کر پوچھ لوں کہ کیا کرنا چاہیے”

اس نے آخری جملہ اپنے ہونٹوں پر انگلی پھیرتے ہوئے کہا جس پر ائیزل نے دانت بینچے

“تم اٹھو اور جاؤ یہاں سے مجھے کچھ نہیں چاہئے اور تم یہاں آئے کیسے تمہیں کس نے بتایا میں یہاں رہتی ہوں؟؟”

اس کے سوال پر ضوریز نے جیب سے ایک کارڈ نکالا اور اسے کی طرف بڑھایا

“آج صبح جب تم میری باہوں میں قید تھیں وہیں شاید تمہارا یہ کارڈ گر گیا تھا جسے فالو کرتے ہوئے میں اس ہاسٹل تک آیا”

وہ اسے پوری بات بنانے لگا

“ہوگیا؟؟ جہاں سے آئے تھے وہیں سے واپسی بھی جاؤ اور دوبارا ایسی کوئی گھٹیا حرکت نہ کرنا اور مجھے کچھ بھی نہیں چاہیے تم سے “

وہ اسے حکم سناتی ہوئی مڑنے لگی تھی جب ایک جھٹکے سے وہ صوفے پر سے اٹھا اور اسے اپنی طرف کھینچنے لگا جس سے وہ اچانک اس کے سینے سے لگی

“سنو میڈم ہمیشہ تمہاری نہیں چلے گی، اور میں یہاں سے تب تک نہیں جاؤں گا جب تک تمہارا احسان نہ اتار دوں”

وہ اسے اپنے قریب کئے سخت لہجے سے کہنے لگا

“میں تمہارا منہ توڑ دوں گی ہٹو پیچھے”

وہ اتنی بری طرح چینخی تھی کہ باہر سے گزرتی بانو آنٹی نے اس کی یہ آواز سن لی تھی

“ائیزل؟؟ لڑکی کیا ہوا ہے؟؟ ٹھیک تو ہو تم؟؟”

اب وہ پچھتا رہی تھی

“اوففف انہیں بھی اس ہی وقت آنا تھا”

وہ پریشانی سے کہتی ہوئی کوئی بہانا سوچنے لگی

“ائیزل؟؟”

“جج جی آنٹی… دراصل میں مووی دیکھ رہی تھی …”

“دروازہ کھولو”

اس بار اس کی ٹھیک والی ہوا نکلی وہ بانو آنٹی کی نیچر سے واقف تھی وہ بہت ہی کوئی کریدنے والی خاتون تھی جو ہر بات کو کرید کر اصل جڑ تک پہنچنے کا ہنر جانتی تھیں

“تت تم جاؤ یہاں سے…”

“نہیں میں تو نہیں جاؤں گا”

ضوریز نے ڈھٹائی سے کہا لیکن اس وقت اسے کچھ بھی کس کے ضوریز کو آنٹی سے چھپانا تھا ائیزل نے ایک جھٹکے سے اسے دور کیا اور ہاتھ پکڑتی ہوئی اسے واشروم تک لے گئی جبکہ وہ اس کی پریشانی دیکھ کر کافی لطف اندوز ہورہا تھا

“جب تک میں نہ کہوں باہر مت آنا “

وہ انگلی سے وارن کرتی ہوئی بنا اس کی بات سنے باہر سے لاک کر گئی

“ارے لڑکی کیوں چینخ رہی ہیں ہاں؟؟”

بانو آنٹی نے ہمیشہ کی طرح آج بھی اسے غصہ سے پوچھا

“وہ… بتایا تو تھا مووی دیکھ رہی تھی”

ائیزل نے آنکھیں چھوٹی کرتے ہوئے کہا

“ہاں مگر کدھر دیکھ رہی تھیں ٹی وی تو بند ہے؟؟”

آنٹی نے پورے کمرے پر نظر ماری جیسے جائزہ لے رہی ہوں

“ہاں تو موبائل پر دیکھ رہی تھی نہ اب اپنے آکر مجھے ڈسٹرب کر دیا”

ائیزل نے منہ بناتے ہوئے کہا

“لڑکی کبھی پڑھ بھی لیا کرو، امتحانات آنے والے ہیں لیکن تمہیں تو کوئی فکر ہی نہیں، باپ ہے کہ بچپن سے جو چھوڑ کر گیا ہے پلٹ کر ایک بار بھی نہیں پوچھا اور بیٹی، انتہا کی لا پرواہ”

ائیزل نے بامشکل خود پر کنٹرول کیا وہ بانو آنٹی کو اس لئے سخت نہ پسند کرتی تھی کیونکہ وہ ہمیشہ اس کے ڈیڈ اور اس کے بارے میں ایسا ہی کہتی تھیں جبکہ بانو آنٹی خود بھی ائیزل کو بیزار نظروں سے دیکھتی تھیں

“پڑھ بھی لینا کچھ ایسا نہ ہو باپ اچانک یہاں آجائے اور اپنی بیٹی کے رزلٹ کارڈ دیکھ کر اسے اٹیک نہ اجائے”

ائیزل کی اب برداشت سے باہر ہوچکا تھا اس نے غصے سے آنٹی کو باہر دھکیلا اور دروازہ بند کر گئی جبکہ یہ ساری گفتگو ضوریز سن چکا تھا اور کافی حیران بھی تھا

“ارے ارے… عجیب سرپھری لڑکی ہے بھئی کسی کی نہیں سنتی”

جبکہ ائیزل دروازے سے ٹیک لگائے آنکھوں میں آئے آنسوؤں کو صاف کرنے لگی

“کہیں کا نہیں چھوڑا آپ نے مجھے ڈیڈ”

وہ دل ہی دل میں اپنے باپ سے شکایت کر رہی تھی وہ ایک پل میں اتنی زیادہ اداس ہوگئی تھی

“اوہ تیری… میں نے تو اسے واش…”

وہ سر پر ہاتھ رکھتی ہوئی واش روم کی طرف دیکھنے لگی

“مر ہی نہ جائے کہیں”

وہ بھاگتے ہوئے واش روم کی طرف بڑھی لیکن یہ کیا اندر تو اندھیرا تھا اور اس گہرے اندھیرے میں اسے ضوریز کہیں دکھائی نہیں دے رہا تھا

“کہیں سچ میں تو نہیں مر گیا؟؟”

☆★☆★☆★☆

“توبہ توبہ استغفار پتا نہیں کیسے کیسے لوگ ہیں یہاں، اللّٰہ پاک بچائے رکھنا پتا نہیں کیا کیا ہوتا ہوگا یہاں”

وہ بڑبڑاتی ہوئی دوسرے رومز کی جانب بڑی تھی

وہ موبائل پر مصروف چلتا ہوا اپنی وینٹی سے باہر آچکا تھا وہ دوسری جانب جارہا تھا جب بے دھیانی میں کسی سے ٹکرایا

“آااہ…”

وہ ابھی نیچے گرنے ہی لگی تھی جب آتش نے اسے کمر سے تھاما ویسے تو وہ خود سے ٹکرانے والے وجود پر بھڑکنے والا ہی تھا لیکن اس کے معصوم چہرے کو دیکھتے ہوئے وہ اسے تھام گیا تھا

آتش کی نیلی خوبصورت آنکھیں اس کی ہلکی براؤن بڑی بڑی آنکھوں سے ٹکرائی تھیں وہ ایک پل کے لیے گم سا ہوگیا تھا اس کے سراپے خیز وجود میں مگر وہ ڈری سہمی ہوئی سی اب تک کانپ رہی تھی وہ آتش کو اپنی طرف متوجہ دیکھ کر ڈر رہی تھی

اس نے آتش کے سینے پر ہاتھ رکھتے ہوئے اسے خود سے دور کیا اور خود کو سنبھالتی ہوئی کھڑی ہوئی آتش اس کے چہرے کا اڑتا ہوا رنگ دیکھ چکا تھا وہ سمجھ چکا تھا وہ یہاں نئی ماڈل ہوگی اس لئے وہ ایسے ڈری ہوگی جبکہ تعبیر کو سامنے کھڑا شخص کسی شہزادے سے کم نہ لگ رہا تھا لیکن وہ اس بات سے بہت اچھی طرح واقف تھی کہ وہ یقیناً کوئی ایکٹر ہوگا اور ایسے لوگ اچھے نہیں ہوتے ہیں

جاری ہے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *