Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Lams e Junooniyat (Episode 27)

Lams e Junooniyat by Areesha Khan

وہ چائے ختم کرتا ہوا کپ واپس ٹیبل پر رکھنے لگا جبکہ اس کی نظریں تعبیر کی نظروں کی منتظر تھیں مگر تعبیر نے تو قسم کھائی ہوئی تھی اسے نظر انداز کرنے کی آتش سمجھ چکا تھا وہ یہ سب جان بوجھ کر کر رہی ہے آتش نے جان بوجھ وہ کپ رکھنے کے بجائے اپنے برینڈڈ ڈریس پر گرا گیا

“اوہ سو سوری…”

البتہ بچی ہوئی چائے تھوڑی ہی صحیح مگر اس کے برینڈڈ ڈریس کو خراب کر گئی تھی آتش کے کھڑے ہوتے ہی تعبیر اور شاویز بوکھلاتے ہوئے کھڑے ہوئے

“شاویز…”

افتخار صاحب کی بات پر شاویز جلدی سے آگے آیا

“سر آئیں میں آپ کو واش بیسن کی طرف لے چلوں…”

وہ آگے بڑھنے لگا جب آتش نے اسے اشارے سے روکا

“نو تھینک میں خود کر لیتا ہوں…”

وہ باہر لگے واش بیسن کی طرف چلا گیا جبکہ تعبیر جلدی سے کپ اور ٹرے لئے کچن چلی گئی شاویز وہیں بیٹھ گیا

کیونکہ کچن کے باہر ہی تو واش بیسن لگا ہوا تھا وہ اندر برتن دھو رہی تھی جب اسے محسوس ہوا جیسے اس کے پیچھے کوئی ہوا وہ اچانک سے گھبراتے ہوئے پلٹی تو نظر آتش درانی پر گئی جو آنکھوں میں عجیب سا غصہ لئے اسے گھور رہا تھا

وہ پیچھے ہوتی چلی گئی جب کیبنیٹ سے جا لگی تو وہ ایک ہاتھ کیبنیٹ پر ٹکائے اس کا راستہ روکنے لگا تعبیر کا دل زوروں سے دھڑک رہا تھا اس کی دھڑکنیں بے ترتیب ہونے لگی تھیں

“کیا کر رہے ہیں آپ دور ہٹیں…”

وہ ڈرتے ہوئے کہنے لگی کیونکہ اس بار نہ تو وہ آتش کا گھر تھا نہ ہی اس کا اپارٹمنٹ اور نہ کوئی ہوٹیل بلکہ وہ تعبیر کا گھر تھا جہاں ان دونوں کے علاوہ دو اور لوگ بھی موجود تھے جو اگر یہ دیکھ لیتے تو شاید اس کی عزت باقی نہ رہتی

“کیوں کر رہی ہو ایسا؟؟”

وہ سخت مگر دھیمے لہجے میں کہنے لگا تعبیر کے لیے اس کی یہ قربت چبن کا باعث بن رہی تھی وہ نہ سمجھی سے اسے دیکھنے لگی

“میں نے کہا نہ دور ہٹیں کوئی دیکھ لے گا”

اسے ڈر تھا اس وقت اس بد تمیز شخص کی یہ حرکت اگر کسی نے بھی دیکھ لی تو ان کے گھر قیامت کا سماں ہوگا

“نہیں ہٹوں گا دور، جو دیکھتا ہے دیکھتا رہے… مجھے ڈر نہیں نہ پرواہ ہے کسی کی”

وہ سخت لہجے میں کہتا ہوا اس کے مزید قریب ہوا تعبیر کا اب دل سینے سے باہر آنے کو تھا وہ آنکھیں مینچے کھڑی تھی

“آنکھیں کھولو اپنی…”

وہ کان میں سرگوشی کرنے لگا جس سے تعبیر کے کان پر اس کے لبوں کا لمس محسوس ہوا وہ سہم سی گئی

“میں نے کہا آنکھیں کھولو… یہ جو تم مجھ سے نظریں چراتی ہو نہ… تمہاری یہ حرکت مجھے تمہارے مزید قریب لانے پر مجبور کر رہی ہے…”

اس کی مدھم سی سانسوں کو محسوس کرتا ہوا وہ اس کے قریب تر قریب ہونے لگا کچھ پل کے لیے آتش درانی کی دھڑکنیں بھی عروج پر پہنچ چکی تھیں مگر کچھ سوچتے ہوئے وہ اس سے دور ہوا

“یعنی تم نے فیصلہ کرلیا تم وہی کروگی جو تمہارا دل کرے گا؟؟ سیریسلی؟؟”

اس کے تشویشناک انداز پر وہ آنکھیں کھولے اسے دیکھنے لگی

“چلو جیسی تمہاری مرضی… اب دیکھتی رہو تمہیں اس چھوٹی سی حرکت کی کتنی بڑی قیمت چکانی پڑے گی…”

وہ معنی خیزی سے کہتا ہوا مخصوص یک طرفہ مسکراہٹ لئے وہاں سے چلا گیا مگر اسے خوف زدہ کر گیا تھا تعبیر کو کچھ غلط ہونے کا احساس ہوا تھا

“کہاں گیا وہ؟؟”

افتخار صاحب کی بات پر شاویز نے باہر کی جانب جاکر دیکھا جو اس وقت کسی سے کال پر مصروف تھا

“بابا جان وہ تو کال پر بیزی ہیں…”

شاویز کی بات پر انہوں نے اثبات میں سر ہلایا

“ظاہر سی بات ہے اتنے بڑے اسٹار ہیں نجانے ان کا ایک ایک لمحہ کتنا قیمتی ہوتا ہوگا”

شاویز کی بات مکمل ہوئی ہی تھی جب آتش اندر آیا

“شاویز تمہارا باس تمہیں کال کرے گا… تم کل سے اپنی جاب واپس جوائن کرو گے… اینڈ سوری انکل میں آپ کی بیٹی کی جاب واپس نہیں دلا سکتا کیونکہ جہاں وہ کام کر رہی تھی اس جگہ کا باس اس لائق نہیں کے کوئی بھی شریف لڑکی وہاں کام کرے…”

آتش کی بات پر جہاں شاویز شاکڈ ہوا وہیں افتخار صاحب اس کا بہت شکریہ ادا کرنے لگے جس پر وہ خدا حافظ کر کے واپس جانے لگا جبکہ تعبیر جو کے باہر کھڑی اس کی تمام باتیں سن چکی تھی اس کے باہر آنے پر اچانک سے دور ہوئی مگر وہ معنی خیزی سے مسکراتا ہوا واپس پلٹا اور اس کا یہی پلٹنا تعبیر کے لئے تجسس کا باعث بن گیا

“ویسے سر میں آپ کی بہت عزت کرتا ہوں اس لئے ایک مشورہ دوں گا کہ آپ مس تعبیر علی کو بنا کسی جانچ پڑتال کے کسی غیر شخص کے آفس میں کام نہ کرنے دیں… میں جانتا ہوں صرف شاویز کا جاب کرنا کوئی خاص فائدے مند ثابت نہیں ہوگا مگر تعبیر اگر کہیں کام کریں تو بہتر ہے پہلے اس جگہ کی ٹھیک سے معلومات حاصل کرلیں…”

آتش نے انتہائی احترام سے اپنے الفاظ ادا کیے جس پر افتخار صاحب کافی حیران مگر خوش ہوئے

“بہت شکریہ آپ نے ہمارے لئے اتنا سوچا… مگر تعبیر فلحال پالر میں جاب کر رہی ہے…”

“اچھا یہ تو ٹھیک ہے پھر… خیر میں چلتا ہوں آپ کا کافی وقت لے لیا ہے… خیال رکھئے گا اپنا اور ہاں مجھے اگر تعبیر علی کے لحاظ سے کوئی جاب مناسب لگی میں آپ کو ضرور انفارم کروں گا”

وہ ان کی دعائیں لئے چلا تو گیا تھا مگر تعبیر کو مزید مشکل میں ڈال گیا تھا

“دیکھا آپی میں نے کہا تھا نہ… وہ بہت اچھے ہیں…”

شاویز نے مسکراتے ہوئے کہا آخر اس کی جاب بھی واپس اسے مل چکی تھی جبکہ تعبیر خاموش سی کھڑی اس کی آخری فاتحانہ مسکراہٹ کے بارے میں سوچ رہی تھی

☆★☆★☆★☆

“ائیزل… میں میکرونی بنا رہی ہوں… تم کھاؤ گی؟؟”

وہ بالوں کا جوڑا کرتی ہوئی فریج سے سامان نکالنے لگی جب ائیزل وہاں آئی اب اس کی طبیعت پہلے سے کافی بہتر لگ رہی تھی

“میں بنادوں؟؟”

ائیزل اس کی ہیلپ کرنے کے غرض سے قریب آئی

“نہیں تم آرام کرو…میں بتادوں گی “

حریم نے فکرمندی سے کہا جس پر وہ مسکرائی

“میں اب کافی بہتر ہوں تم پریشان نہ ہوؤں اور ہاں میں تمہیں بتانا بھول گئی تمہارے فرینڈ کا میسج آیا ہے، تم چیک کرلو ہو سکتا ہے کوئی اہم بات ہو”

وہ نرم لہجے میں کہتی ہوئی اپنے بے تاثر چہرے کے ساتھ کچن میں سبزیاں کاٹنے میں مصروف ہوگئی جبکہ حریم فرینڈ کا سن کر تھوڑا مسکرائی تھی کیونکہ اس کے پاس صرف ایک ہی لڑکے کا نمبر تھا وہ تھا شاویز

“اچھا اگر تمہیں میری ہیلپ چاہئے تو بتانا اوکے؟؟”

حریم کی بات پر ائیزل نے اثبات میں سر ہلایا حریم تیز قدموں سے چلتی ہوئی اپنے کمرے کی جانب گئی اس نے بنا تاخیر کئے فون اٹھایا لاک اوپن کیا اور میسج چیک کرنے لگی جس میں واقعی شاویز کا ہی مسیج چمک رہا تھا

“اسلام و علیکم حریم جی… کیسی ہیں آپ؟؟”

شاویز کے ادا کئے گئے الفاظوں میں سے اسے اپنا نام جو اکثر شاویز انتہائی نرمی سے لیتا تھا وہ اسے اچھا لگنے لگا تھا وہ بلش کرنے لگی

“وعلیکم السلام میں ٹھیک ہوں الحمدللہ بابا جان کیسے ہیں؟؟ اور تم؟؟”

دوسری طرف شاویز جو اپنے آفس میں بیٹھا کمپیوٹر پر مصروف تھا حریم کا رپلائی آتے ہی دل ہی دل میں خوشی سے پاگل ہونے لگا

“شکر الحمد اللہ بابا جان بلکل ٹھیک اور میں بھی ٹھیک ہوں کیا آج شام آپ فری ہوں گی؟؟”

شاویز نے میسج سینڈ کیا دوسری طرف جو بار بار موبائل اسکرین پر نظر جمائے اس کے پیغام کا انتظار کر رہی تھی اب میسج پڑھ کر کچھ لکھنے لگی

“ہاں میں فری ہوں… مگر کیوں؟؟”

اس نے وجہ پوچھی جسے پڑھ کر شاویز کچھ دیر تو مسکراتا رہا پھر دوبارہ سے میسج لکھنے لگا

“وہ بابا جان نے آپ کو گھر بلایا تھا… اگر آپ کو اعتراض نہ ہو تو…”

شاویز کا میسج پڑھ کر وہ تھوڑی سی گھبرائی مگر اس نے حامی بھر لی تھی کہ وہ وہاں جائے گی

“ضرور… میں شام کو فری ہوکر بتاتی ہوں تم مجھے لوکیشن سینڈ کردینا…”

وہ موبائل رکھتی ہوئی اپنے بالوں کو جوڑے سے آزاد کرنے لگی

“لوکیشن کی بلکل ضرورت نہیں میں آپ کو لینے آجاؤں گا…”

موبائل کے رنگ ہونے پر اس نے میسج پڑھا تو بے ساختہ مسکرا دی جبکہ دوسری طرف شاویز آج جلدی جلدی کام ختم کرنے کی کوششوں میں مصروف ہوگیا

☆★☆★☆★☆

“ارے یار اب اس کو کیا ہوگیا؟؟ کب سے کال پر کال کئے جارہا ہوں اوپر سے اس میڈم کے نخرے ہی ختم نہیں ہوتے”

وہ جو کب سے اسے کالز کیے جارہا تھا اب غصے سے گاڑی دوڑائے اس کے گھر کے باہر آرہا مگر وہ تو اب بھی کال نہیں اٹھا رہی تھی

اس نے گاڑی سے اتر کر گیٹ کی بیل بجائی جس حریم جو شاویز کا ویٹ کر رہی تھی بھاگتی ہوئی گیٹ کھولنے آئی مگر جب گیٹ کھولا تو چونک گئی وہ اپنے لمبے بالوں کی پونی بنائے آنکھوں پر چشمہ لگائے اپنے مخصوص پھٹیچر حلیے میں ملبوس کھڑا اسے دیکھ رہا تھا

“آپ؟؟ آپ یہاں کیا کر رہے ہیں؟؟”

وہ جو اپنے گول مٹول گالوں پر بلوشن لگائے مسکراتی ہوئی دروازہ کھولنے آئی تھی اب آنکھیں بڑی کئے اسے پریشانی سے دیکھنے لگی

“ہاں وہ مجھے ائیزل…”

ضوریز نے اسے سرتا پیر دیکھا البتہ وہ کم عمر ضرور تھی مگر وہ ہر طرح سے بلکل پرفیکٹ لڑکی لگتی تھی ایک ایسی لڑکی جو ماں باپ کے بنا بھی اپنی شخصیت کو سنوار کر رکھے

“سوچئے گا بھی نہیں…”

ابھی اس کی بات ادھوری تھی جب وہ جلدی سے بول پڑی تو وہ خاموش ہوا اور سوالیہ نظروں سے اسے دیکھنے لگا جو اس وقت بہت پریشان لگ رہی تھی

“آپ جانتے نہیں وہ آپ کا نام تک سن کر کتنا غصہ ہو جاتی ہے اس وقت وہ کچن میں کوکنگ کر رہی ہے اگر آپ اس کے سامنے گئے تو آپ نہیں جانتے وہ آپکے اوپر گرم گرم میکرونی کا پورا باؤل الٹا دے گی…”

کچھ پل کے لئے تو ضوریز کو لگا وہ اس کے ان سرخ گالوں کو کھینچ کر اسے گلے لگا لے وہ آج بھی کتنی میٹھی اور معصومانہ باتیں کرتی تھی مگر وہ اس وقت کسی اور مقصد سے آیا تھا

“میں جانتا ہوں وہ ایسا ہی کرے گی مگر آپ پریشان نہ ہو کیا مجھے اجازت ہے مجھے اس سے ملنا ہے؟؟ کیا میں اندر آسکتا ہوں؟؟ پلیزز؟؟”

ضوریز نے التجائی انداز میں کہا جس پر حریم کو اس بچارے پر رحم آنے لگا

“اففف ٹھیک ہے میں ایک کام سے باہر جارہی ہوں تو پلیززز اگر وہ کوئی بھی الٹی سیدھی حرکت کرے تو پلیززز اسے سنبھال لئے گا اور برداشت بھی کرلئے گا”

وہ اپنی بات مکمل کر کر اسے معصومیت سے دیکھنے لگی جس پر بے ساختہ ضوریز کے لبوں پر مسکراہٹ آئی

“ڈونٹ وری ڈول… ال مینج…”

ضوریز نے مسکراتے ہوئے کہا اور اندر کی جانب بڑھ گیا تب ہی شاویز کی بائیک وہاں رکی تو وہ حریم جلدی سے باہر جانے لگی مگر پیچھے سے آتی رعب دار آواز پر چونک کر مڑی

“رکو!!! یہ کون ہے؟؟”

ضوریز کو جانچتی نظروں سے اسے دیکھ رہا تھا کیونکہ دروازہ آدھا بند تھا اس لئے شاویز اندر ہونے والی صورتحال سے بے خبر تھا مگر حریم کو ضوریز کا ایسے سوال کرنا کچھ عجیب سا لگا تھا

“یہ میرا کلاس میٹ ہے شاویز…”

حریم نے پلٹ کر پیچھے کھڑے ضوریز کو کہا جس پر وہ ایک انگلی سے لبوں کو کھجاتے ہوئے اسے دیکھنے لگا مگر نجانے کیوں حریم کو اس کا انداز کچھ سخت لگ رہا تھا

“اوکے بٹ تم اس کے ساتھ بائیک کر پاؤ گی؟؟ کہاں؟؟”

ضوریز نے ایک اور سوال کیا جس پر حریم کو لگا یہ اس کا وہم ہے یا واقعی وہ اس کی پرسنل باتوں میں انٹرفئر کر رہا تھا

“جی…ان کے ڈیڈ کی طبیعت ٹھیک نہیں اور تعبیر آپی سے بھی ملنا ہے وہ لوگ بہت برے وقت سے گزرے ہیں تو بس اس لئے جارہی ہوں کچھ ہی دیر میں واپس آجاؤں گی…”

حریم اپنی بات مکمل کر کے چلی گئی جبکہ ضوریز افتخار صاحب کی طبیعت سے واقف ہی تھا لیکن اسے حریم کا کسی لڑکے کے ساتھ جانا اسے ناقابلِ قبول تھا مگر حالات ہی ایسے تھے اسے سب کچھ فیس کرنا پڑ رہا تھا وہ اپنا غصہ ضبط کئے اندر کی جانب آیا پورا گھر سناٹے میں تھا

جبکہ حریم چلتی ہوئی شاویز کی جانب گئی جو بائیک پر بیٹھے اس ہی کا انتظار کر رہا تھا

“حریم جی…”

شاویز نے اسے سرتا پیر دیکھا وہ شاکنگ پنک کلر کی چیک والی لانگ قمیض ساتھ ہم رنگ پاجامہ، بالوں کی اونچی پونی پاؤں میں چھوٹی ہیل والی سینڈل پہنے بالوں پر سرخی لگائے دوپٹہ گلے میں ڈالے پنک لبوں سے مسکراتی ہوئی اسے بہت پیاری لگ رہی تھی وہ اسے دیکھ کر پلٹ جھپکانا تک بھول گیا تھا

“چلیں؟؟”

ہوش تو تب آیا جب حریم کی آواز سماعتوں سے ٹکرائی

“جج جی چلیں…”

وہ اسے کے پیچھے بیٹھ گئی جبکہ اس بار اس نے شاویز کے کندھے پر ہاتھ رکھا تھا شاویز کے لئے یہ لمحہ بہت خوشگوار تھا

☆★☆★☆★☆

چشمے کی ایک سائٹ اسٹک کو لبوں میں دبائے وہ ادھر اُدھر ٹہل رہا تھا حریم کے بتانے کے مطابق ائیزل کچن میں موجود تھی وہ پورے اپارٹمنٹ پر نظر دوڑائے کچن ڈھونڈنے لگا مگر اسے کچھ عجیب سی آوازیں آنے لگیں جیسے کوئی زور زور سے کسی چیز کو ٹھوک رہا ہو

وہ چلتا ہوا سامنے کچن کی جانب گیا جب اندر آیا تو سامنے نظر پڑی وہ ہاتھ میں چھری لئے سامنے رکھی سبزیوں کو غصے سے کاٹ رہی تھی جبکہ اس کا منہ مسلسل چل رہا تھا جسے سن کر ضوریز کے لبوں پر مسکراہٹ آئی الفاظ کچھ یوں تھے

“ریز درانی کاش تم میرے سامنے ہوتے تو ان گاجر مولی کے بجائے میں تمہیں کاٹ رہی ہوتی ٹھیک اس ہی طرح… پہلے تمہاری زبان کاٹتی جو بہت چلتی ہے… پھر تمہارے دونوں ہاتھ جن سے تم مجھے چھونے کی کوشش کرتے ہو، پھر تمہارے دونوں پاؤں جن سے چل کر تم مجھ سے دور جاتے ہو…”

وہ مسلسل بڑبڑاتی ہوئی اپنا سارا غصہ بےجان سبزیوں پر نکال رہی تھی بے ضوریز نے اس کے ادا کئے گئے الفاظوں پر بڑی مشکل سے اپنی ہنسی کنٹرول کی اور دبے قدموں سے چلتا ہوا اس کے پیچھے جانے لگا کیونکہ اس کا رخ دوسری طرف تھا تو وہ اس کی موجودگی سے بے خبر تھی

“پھر تمہاری دونوں آنکھیں نکالتی جن سے تم مجھے مسلسل تاڑتے ہو…اور آخری میں تمہاری گردن کاٹ دیتی تاکہ تم اس فانی دنیا سے جلد سے جلد رخصت ہوجاتے نہ ہوتے تم نہ ہی اتنے جھوٹ بولتے مجھ سے…بس ایک بار سامنے آجاؤ میرے دو نمبر آدمی کہیں کے پھر دیکھو کیا کرتی ہوں میں”

اس نے غصے سے کہا تب ہی پیچھے سے ضوریز نے اس پر باہوں کا حصار بنایا وہ اچانک سے چونک گئی تھی مگر وہ اس کی قربت محسوس کر چکی تھی وہ اسے پہچان چکی تھی

“لو میں آگیا… مگر سامنے نہیں پیچھے اب کرو جو کرنا ہے مائے ڈار… ویسے کونسا جھوٹ ڈارلنگ…”

ضوریز نے خمار بھرے لہجے میں کہا جس پر کچھ دیر کے لیے ائیزل کا دل کیا وہ ایسے ہی اس کے پاس رہے مگر جب اسے کچھ دنوں پہلے والا منظر یاد آیا وہ مزاحمت کرتی ہوئی اسے دور ہٹانے لگی جو مظبوطی سے چپکتا ہوا اسے زہر سے کم نہ لگ رہا تھا

“یو باسٹرڈ… تمہاری ہمت کیسے ہوئی مجھے ہاتھ لگانے کی؟؟ اور تم میرے گھر میں کس کی اجازت سے آئے ہو؟؟”

وہ اسے پیچھے دھکیلتی ہوئی خود کو آزاد کرتے ہوئے چینخنے لگی جس پر وہ ایبرو اچکائے اپنے مخصوص انداز میں اسے دیکھنے لگا

“ہیئی ہیئی ریلیکس… کول…کام ڈاؤن… بھلہ ایسے کون ویلکم کرتا ہے اپنے بندے کا؟؟”

وہ حیران کن انداز میں مخاطب ہوا

“ویلکم؟؟ مائے فٹ… نکلو یہاں سے ابھی اس ہی وقت…”

وہ غصے سے چھری اس کی جانب بڑھاتی ہوئی اسے گھورنے لگی جو اس کے اس انداز پر کمینگی سے مسکرا رہا تھا

“نہ گیا تو؟؟”

لبوں پر مسکراہٹ لئے وہ پوچھنے لگا

“جان لے لوں گی تمہاری…”

ائیزل نے چھری اس کی گردن کی جانب بڑھائی جس پر ضوریز کے قدم اس کی جانب بڑھنے لگے وہ سلیپ سے ٹکرائی

“اور کتنی بار جان لو گی؟؟ میری بدتمیز قاتل حسینہ…”

وہ معنی خیزی سے کہتا ہوا اس پر جھکنے لگا اچانک سے اس کے ہاتھ سے چھری زمین پر جا گری وہ ٹکٹکی باندھے اس کی کالی آنکھوں میں دیکھنے لگی نجانے ایسا کیا تھا اس کی ان گہری سیاہ آنکھوں میں وہ اس کے سحر میں جکڑتی چلی جاتی تھی مگر اس بار اسے سنبھلنا تھا

“دور ہٹو… فورن یہاں سے اپنی شکل گم کرو…”

وہ اسے دور دھکیلتی ہوئی حیران ہونے پر مجبور کر گئی وہ ناسمجھی سے اسے دیکھنے لگا

“میں یہاں س لئے تھوڑی آیا ہوں کہ دور ہٹا جائے یا شکل گم کی جائے… میں تم سے ملنے آیا ہوں… کب سے کالز کر رہا ہوں جواب کیوں نہیں دیتی ہو تم؟؟”

اس نے ائیزل کے موڈ کو بھانپتے ہوئے دھیمے لہجے میں کہا جس پر وہ اسے ایبرو اچکائے دیکھنے لگی

“بھلہ میں کیوں جواب دینے لگی تمہیں… ہو کون تم؟؟ جاؤ کام کرو اپنا ٹائم ویسٹ نا کرو”

ائیزل بے فکری سے کہتی ہوئی اسے غصہ ہونے پر مجبور کر گئی وہ جیسے ہی پلٹی ایک جھٹکے سے ضوریز نے اسے کھینچ کر خود کے قریب کیا اس اچانک والے عمل پر وہ اس کے سینے سے جا ٹکرائی ضوریز کی گرفت اس کی کمر پر مظبوط تھی

“مسئلہ کیا ہے تمہارا؟؟ کیا روز روز تمہیں مناؤں ؟؟ آخر چاہتی کیا ہو تم صاف صاف کیوں نہیں کہتیں؟؟”

وہ سرد لہجے سے کہتا ہوا اس کی آنکھوں میں آنکھیں گاڑنے لگا جس پر وہ مزاحمت کر کے اپنا آپ آزاد کرانے لگی مگر ناکام رہی

“یہ تم بتاؤ تمہارے ساتھ کیا مسئلہ ہے؟؟ آخر تم کیا چاہتے ہو مجھ سے؟؟ اور تمہیں کس نے کہا ہے کہ روز روز مناؤ مجھے؟؟”

ائیزل نے اس کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر اپنے الفاظ کہے جس پر وہ اسے دیکھنے لگا

“میرا مسئلہ تم ہو… اور میں تمہیں چاہتا ہوں تم سے کچھ نہیں چاہتا…”

وہ سخت لہجے میں کہنے لگا ائیزل کو اپنی کمر پر اس کی گرفت اب تکلیف دے رہی تھی

“مگر میں تمہیں نہیں چاہتی… وقت برباد نہ کرو میرا جاؤ یہاں سے”

ایک بار پھر سے وہ مزاحمت کرنے لگی

“کل تک تو تم مجھے ہی چاہتی تھیں نہ اب کیا ہوا؟؟ اور یہ وقت وقت کی بات نہ کرو میرا وقت تمہارے وقت سے زیادہ قیمتی ہے”

ایک بار پھر وہ سرد لہجے میں کہنے لگا ائیزل کا دل کیا وہ اس کے منہ پر تھپڑ لگا ہی دے مگر اس بار پوری جان سے اس نے ضوریز کو دور دھکیلا

“ہاں تو جاؤ نہ پھر یہاں سے… اس ہی کے پاس جاؤ… بہت قیمتی وقت ہے نہ تمہارا تو میرے ساتھ برباد نہ کرو اس کے پاس جاؤ…”

آخر کار دل کی بات زبان پر آ ہی گئی تھی وہ ناسمجھی سے اسے دیکھنے لگا

“کس کے پاس جاؤں؟؟ کس کی بات کر رہی ہو ائیززز؟؟”

اس نے آنکھیں گھماتے ہوئے سوال کیا جس پر وہ اسے خفا خفا انداز میں دیکھنے لگی

“وہی جس کے ساتھ اس دن تم اس بڑی سی بلڈنگ میں گئے تھے اور اس واچ مین نے تمہیں باس کہا تھا”

ائیزل نے چہرے پر سخت تاثرات لئے سرد لہجے میں کہا

“کونسی بلڈنگ؟؟ کون واچ مین؟؟ کیا کہہ رہی ہو تم ائیزل؟؟”

اسے لگا تھا ائیزل پاگلوں والی بات کر رہی ہے

“بنو مت!!! جس دن تم نے دوسرے شہر جانے کا میسج کیا تھا اس ہی دن میں نے تمہیں یونیک کیفے کے سامنے بنی بلڈنگ میں جاتے دیکھا تھا تب نہ تو تمہارا یہ حلیہ تھا نہ تمہارے پاس ایسی کار تھی بلکہ تمہارے ساتھ ایک لڑکی بھی تھی”

ضوریز کو یقین نہیں آرہا تھا آخر اسے یہ سب کیسے پتا چلا تھا

“اوہ!!! اچھا وہ؟؟ تم بھی نہ پاگل ہی ہو”

ضوریز نے یک طرفہ مسکراہٹ اچھالی اور سامنے والے سلیپ پر جا بیٹھا جس پر وہ اسے آنکھیں چھوٹی کئے گھورنے لگی

“پاگل میں پہلے تھی مگر اب نہیں، اب مزید تم مجھے پاگل نہیں بنا سکتے… نجانے تم نے کتنے جھوٹ بولے ہوں گے مجھ سے…”

اس کے چہرے پر مزید سخت تاثرات نمایاں ہونے لگے ضوریز کو لگا تھا جیسے اب سارا کھیل ختم ہونے والا ہو مگر اسے ہارنا نہیں تھا

“جھوٹ؟؟ کونسا جھوٹ؟؟ یار میں یہی تو بتانے کے لیے تمہیں کالز کر رہا تھا کہ میں واپس کراچی آگیا ہوں اور مل کر تمہیں اس دن والا واقعہ بتانے والا تھا”

ضوریز نے اسے یقین دلاتے ہوئے کہا جس پر وہ نا سمجھی سے اسے دیکھنے لگی

“بس کردو ریز مزید جھوٹ نہیں بولو… مجھے حقیقت جاننی ہے آخر کون تھی وہ لڑکی تمہارا کیا تعلق ہے اس سے اور وہ واچ مین تمہیں باس کیوں بول رہا تھا؟؟ تمہارا اس میٹنگ میں کیا کام تھا؟؟ تم تو سب کچھ چھوڑ آئے تھے نہ؟؟”

اس نے ایک ہی سانس میں اتنے سوال کئے جس پر ضوریز چلتا ہوا کچن سے باہر آیا

“کیا ہوا؟؟ اب کوئی جواب نہیں تمہارے پاس؟؟ کیونکہ مسٹر ضوریز تمہاری جھوٹی کہانی ختم ہوئی اب مجھے سچ جاننا ہے… تم دھوکا دے رہے تھے نہ مجھے اور اب یہاں کیا لینے آئے ہو؟؟”

وہ غصے سے چلاتی ہوئی اس کے پیچھے آئے جبکہ ضوریز بے یقینی سے اسے دیکھ رہا تھا

“تم نے مجھ سے پیار کیا ہے نہیں یہ سب ٹائم پاس تھا نہ؟؟ تم نے مجھ سے جھوٹی محبت…”

آگے وہ کچھ کہتی جب وہ پلٹا اس کی گہری کالی آنکھیں اب لال ہو چکی تھی

“بس!!! بس بہت ہوا!!! مانتا ہوں میں بہت غیر ذمیدار شخص ہوں تم مجھ پر شک کر سکتی ہو لیکن تم میری کی کوئی محبت کو جھوٹا نہیں کہہ سکتیں ائیزل!!!”

وہ دھاڑا تھا جس سے کچھ پل کے لیے ائیزل وہیں کھڑی ساخت سی اسے دیکھنے لگی

“مانتا ہوں میں نے اس دن تمہیں وہ سین نہیں بتایا لیکن پرسو رات جب میں واپس آیا تھا تب سے آج صبح تک میں نے تمہیں کالز میں کالز کیں مگر تم نے میری ایک بھی کال ریسیو نہ کی تو اس کا کیا مطلب سمجھوں میں؟؟ چلو مان لیا میں دھوکے باز جھوٹا فریبی ہوں تو تم تو وفا دار ہو نہ؟؟ تم نے تو سچی محبت کی ہے نہ تو تم تو کال ریسیو کرتیں ایک بار صرف ایک بار مجھ سے بات تو کرتیں…”

وہ کہیں سے بھی کچھ دیر پہلے والا ضوریز نہیں لگ رہا تھا اس کی گردن کی نسیں اُبھرنے لگی تھیں آنکھیں لال تھیں چہرے کے تاثرات اتنے سخت تھے کہ ائیزل کو اس سے خوف آرہا تھا اس کی آواز ائیزل کے لئے سہنا مشکل ہورہی تھی

“تم نے بنا جانے مجھے جھوٹا کہہ دیا میری دل سے کی ہوئی محبت کو تم نے جھوٹا کہہ دیا ایک بار بھی جاننے کی کوشش کی کہ وہ سب کیا تھا؟؟”

وہ اس سے بھی زیادہ چینخا تھا ائیزل کو اپنا وجود کانپتا ہوا محسوس ہورہا تھا

“یار جس دن میرا اسلامآباد کا ٹرپ تھا اس دن ایک دوست کی بہت امپورٹینڈ میٹنگ تھی جس میں اس کے بھائی کی شرکت لازمی تھی مگر اس کا بھائی دو دن پہلے ہی ملک سے باہر چلا گیا تھا تو اس نے مجھ سے ہیلپ مانگی تھی… کہ میں وہاں اس کا پارٹنر بن کر جاؤں اور وہ لڑکی… وہ اس ہی کی اسسٹنٹ تھی جس نے مجھے اس افس تک پہنچایا تھا بس اتنا ہی تھا”

ضوریز کا لہجہ اب بھی سخت تھا جب ائیزل بے یقینی سے اسے دیکھنے لگی آخر وہ اس کے بارے میں کتنا غلط سوچ رہی تھی مگر وہ تو ایسا نہیں تھا وہ تو اسے یہ سب بتانا چاہتا تھا نہ

“میں نے اس دن تمہیں اس لئے نہیں بتایا کیونکہ میٹنگ کے ختم ہوتے ہی مجھے وہاں سے دوسرے شہر کے لئے نکلنا تھا میرے پاس میرا کچھ بھی نہ تھا وہ سوٹ وہ کار وہ اسسٹنٹ وہ ڈرائیونگ وہ سب اس ہی کے تھے میں نے صرف ایکٹنگ کی تھی… سوچا تھا واپسی آکر تمہیں ایک ایک بات بتاؤں گا مگر تم…”

وہ ماتھا رگڑتے ہوئے آنکھیں مینچ گیا

“ضوریز…”

“پلیز!!! تمہیں مجھ پر ٹرسٹ ہے ہی نہیں تو بہتر ہو گا میں یہاں سے چلا جاؤں…”

وہ اس کے قریب آنے ہی لگی تھی جب ضوریز نے اسے ہاتھ کے اشارے سے روکا

“نہیں ریز وہ بات نہیں ہے…”

ائیزل کو اب بہت شرمندگی محسوس ہورہی تھی

“بات جو بھی ہے سچ تو یہ ہے کہ تمہیں مجھ پر اب بھروسہ ہے ہی نہیں… فائدہ میرا یہاں رکنے کا”

وہ واپس مڑ کر باہر کو جانے لگا ائیزل کی آنکھوں سے بے ساختہ آنسوں جاری ہوگئے وہ بھاگتی ہوئی اس کے پیچھے گئی جو مین گیٹ کے قریب پہنچ ہی چکا تھا

“ریز پلیززز رک جاؤ پلیززز”

اس کی پکار کو نظر انداز کرتا ہوا وہ ابھی گیٹ کھولنے ہی لگا تھا جب ائیزل اس کی پشت سے جا لگی کچھ دیر کے لئے وہ بلکل ساخت سا ہوگیا ائیزل کے بہتے آنسؤوں کو اپنی شرٹ پر محسوس کرتا ہوا پلٹا ایک نظر سامنے کھڑی ائیزل پر گئی جس کا پورا چہرہ آنسوؤں سے تر ہوچکا تھا

“ائیززز…”

ضوریز نے آگے بڑھ کر اس کے آنسؤوں کو اپنی شہادت کی انگلی سے صاف کیا

“ریز… پلیززز مت جاؤ… ڈیڈ میری شادی کسی انجان شخص سے کروا دیں گے پلیزز مجھے اکیلا نہ چھوڑو پلیز”

وہ اس کے سینے سے لگ کر رونے لگی تھی ضوریز نے اس کے گرد باہوں کا حصار بنایا

☆★☆★☆★☆

وہ لوگ کچھ دور ہی آئے تھے جب حریم نے دیکھا ان کی بائیک ایک آئس کریم پالر کے سامنے رکی تھی وہ ناسمجھی سے اسے دیکھنے لگی شاویز پیچھے کی جانب دیکھنے لگا

“کیا ہم یہاں اترنے والے ہیں شاویز ؟؟”

حریم نے نرمی سے پوچھا

“جی ہاں حریم جی”

اس سے بھی کئی زیادہ نرمی سے شاویز نے کہا جس پر وہ بائیک سے اتری اسے لگا شاویز گھر والوں کے لیے آئس کریم لینے والا ہوگا مگر یہاں تو سین ہی کچھ اور تھا

“چلیں…”

شاویز نے اسے چلنے کا اشارہ کیا

“میں بھی ؟؟”

وہ حیران کن انداز میں پوچھنے لگی

“جی ہاں… ایکچلی بابا جان کو میں نے ساتھ بجے کا ٹائم دیا تھا اور میرا کام آج جلدی ختم ہوگیا تھا تو سوچا کیوں نہ کچھ دیر ہم ساتھ…”

آگے وہ بنا کچھ کہے چلنے لگا جس پر وہ نظریں جھکائے اس کی بات پر بلش کرتی ہوئی اندر کی جانب بڑھ گئی

شاویز نے کرسی کھینچ کر اسے بیٹھنے کا اشارہ کیا جس پر وہ اپنا بیگ اور موبائل ٹیبل پر رکھ کر بیٹھ گئی جبکہ سامنے والی چیئر پر شاویز آ بیٹھا کیونکہ آگے پچھے بہت کم لوگ مگر سب کے سب کپلز تھے تو وہاں کے انتظامیہ نے مین لائٹس آف کر کے مختلف رنگوں کی لائٹس آن کی جو رقص کرتی ہوئی ماحول کو مزید خوشگوار بنا رہی تھیں

شاویز نے ایک نظر سامنے بیٹھی حریم کو دیکھا جو اس ہی کی جانب متوجہ تھی مگر اب جلدی سے نظریں جھکائے بلش کرنے لگی تھی

“سر آرڈر پلیززز…”

ویٹر کی بات پر شاویز نے حریم کو اشارہ کیا جس نے اسٹابری فلیور کی آئس کریم آرڈر کی جبکہ شاویز نے بھی وہی آرڈر کی اب ان کے درمیان خاموشی تھی جبکہ باقی کے کپلز آپس میں اپنی باتوں میں مصروف دکھائی دے رہے تھے

“حریم جی…”

“بابا جان کی طبیعت کیسی ہے…؟؟”

ابھی وہ آگے کچھ کہتا جب وہ اس کی بات کاٹ کر اپنی بات مکمل کرنے لگی شاویز اچانک خاموش ہوا

“جی الحمدللہ ٹھیک ہیں وہ…”

شاویز نے مختصر سا جواب دیا

“اور تعبیر آپی وہ کیسی ہیں؟؟”

“وہ بھی ٹھیک ہیں”

حریم اس کے ارادے بھانپ چکی تھی جبھی دماغ پر زور ڈال کر مزید سوالات کرنے کی کوششوں میں تھی جبکہ دوسری طرف شاویز سمجھ چکا تھا وہ اچانک سے کیوں بول پڑی تھی

“موسم کتنا حسین ہے نہ…”

شاویز نے کچھ کہنے کے لیے لبوں کو کھولا ہی تھا جب وہ پھر سے بول پڑی

“آپ سے کم…آپ زیادہ حسین ہیں”

مگر وہ بھی شاویز علی تھا باتوں باتوں میں کچھ اشارہ دے گیا تھا جس پر وہ اڈے دیکھنے لگی پھر نظریں جھکا گئی

“حریم جی میں جانتا ہوں آپ جواب نہیں دینا چاہ رہیں مگر مجھے آپ کے جواب کا انتظار بہت بے چین کر رہا ہے… کیا ایسا نہیں ہوسکتا ہم اصل موضوع کو چھیڑ کر تمام سوالوں کا حل تلاش کرلیں؟؟”

شاویز نے سنجیدگی سے کہا حریم نے اس کی جانب دیکھا وہ بلکل سنجیدہ تھا

“کک کونسی بات؟؟ کونسا حل…”

وہ صاف مکرتے ہوئے پوچھنے لگی

“آپ جانتی ہیں میں کس بارے میں بات کر رہا ہوں…”

شاویز کے کہتے ہی ویٹر ان کی آئس کریم لا کر ٹیبل پر رکھنے لگا

“انجوائے ٹوگیدر سر…”

“تھینکیو…”

ویٹر کی بات پر شاویز نے مسکراتے ہوئے کہا جبکہ ویٹر کے جاتے ہی وہ حریم کی جانب متوجہ ہوگیا تھا جو ہتھیلی رگڑتے ہوئے اسے دیکھ رہی تھی

“میں جاننا چاہتا ہوں آپ میرے لئے کیا محسوس کرتی ہیں؟؟… حوریا کا میرے قریب رہنا آپ کو کیوں برا لگتا ہے…”

شاویز کے سوال پر وہ معصومیت سے بھرپور انداز میں اسے دیکھنے لگی

“کیونکہ میں تم سے دوستی کرنا چاہتی تھی یہ تم بھی جانتے ہو…”

اس نے معصومیت سے کہا

“حریم جی یہ جیلسی دوستی میں اتنی حد تک نہیں بڑھتی…وجہ کچھ اور ہے اور میں وہ وجہ جاننا چاہتا ہوں… جبکہ میں اس بات کا اظہار کر چکا ہوں کہ میرے دل میں آپ کے لئے فیلنگز کچھ اور ہی ہیں”

حریم ٹکٹکی باندھے اسے دیکھنے لگی شاویز آج پکا ارادہ کر کے آیا تھا کہ وہ اس سے اغلوا کر ہی رہے گا

جاری ہے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *