Lams e Junooniyat by Areesha Khan NovelR50533 Lams e Junooniyat (Episode 31)
Rate this Novel
Lams e Junooniyat (Episode 31)
Lams e Junooniyat by Areesha Khan
“سر آتش آج شام ساتھ سے آٹھ بجے تک قریشی پروڈکشن کے اونر سے میٹنگ ہے جو آپ کی خواہش کے مطابق آپ کے ساتھ والے مینشن پر رکھی گئی ہے”
آتش درانی اس وقت اپنے کمرے میں موجود سگریٹ نوشی میں مصروف تھا جب وہ دروازہ ناک کر کے اندر آکر اپنی بات مکمل کرنے لگی وہ بڑے غور سے اسے دیکھ رہا تھا تعبیر کا انداز پہلے سے الگ تھا شاید اس نے اس جاب کو قبول کر ہی لیا تھا
“کینسل کردو!!!”
وہ لاپرواہی سے کہتا ہوا صوفے کی پشت سے ٹیک لگائے کش لینے لگا جبکہ تعبیر اس غصیلے شخص کی عجیب بات پر نا سمجھی سے اسے دیکھنے لگی
“سر؟؟ بٹ انہیں آنے میں صرف دس منٹ باقی ہیں آپ نے ہی کہا تھا ان کے آنے سے دس منٹ پہلے میں آپ کو انفارم کروں”
تعبیر نے گھمبیر لہجے میں کہا جس پر آتش آنکھیں کھولتے ہوئے اسے گھورنے لگا ایک پل کے لیے تعبیر اس کی نیلی آنکھوں کو بڑے غور سے دیکھنے لگی مگر اگلے ہی پل وہ نظریں چرا گئی
“تم سے جتنا کہا ہے اتنا کرو میرا کسی سے بھی کیسی بھی میٹنگ کرنے کا کوئی موڈ نہیں!!!”
وہ سرد لہجے میں کہتا ہوا واپس آنکھیں بند کر گیا جبکہ تعبیر نے اس بدمزاج شخص کو مزید کچھ کہنا مناسب نہیں سمجھا اور وہ ہاتھ میں لئے ٹیبلیٹ پر آج کی میٹنگ کینسل کرنے لگی
آتش نے ایک نظر آنکھیں کھول کر اسے دیکھا جو سامنے کھڑی ہوئی اپنے کام میں مصروف تھی خود پر اس کی نظریں محسوس کرتے ہوئے اسے دیکھنے لگی جس پر آتش نے جلدی سے آنکھیں بند کرلیں
“ڈن سر!!!”
تعبیر نے مختصر سا کہا اور واپس جانے لگی
“رکو!!!”
اس کا لہجہ اب بھی سخت تھا جس پر تعبیر مڑ کر اسے دیکھنے لگی
“چیک کر کے بتاؤ کل میری شوٹنگ کا وقت کتنا ہے؟؟”
“اوکے سر”
اس کے پوچھنے پر وہ ٹیبلیٹ میں نظریں مرکوز کیے کچھ ڈھونڈنے لگی
“سر کل صبح گیارہ بجے سے شام پانچ بجے تک”
تعبیر نے اسے آگاہ کیا جس پر اس نے اثبات میں سر ہلایا
“ٹھیک۔۔۔ اور فوٹو شوٹ؟؟”
“سر کل رات نو بجے سے بارہ بجے تک ان ڈیزائر گارڈن میں”
تعبیر نے چہرے پر آتے بالوں کو ہاتھ سے ہٹاتے ہوئے کہا جبکہ آتش کی نظر اس کی گردن پر مرکوز تھی
“کینسل کردو!!!”
آتش نے حکم دینے والے انداز میں کہا جس پر وہ حیرت سے اسے دیکھنے لگی
“سر اگر یہ ڈیل کینسل ہوجاتی ہے تو آپ کو ڈھائی کروڑ روپے کا نقصان ہو سکتا ہے”
تعبیر نے حیرانی والے انداز میں کہا جس پر وہ اسے دیکھنے لگا
“میں نے تم سے جو کہا ہے وہ کرو میں اپنے موڈ پر چلتے ہوئے فائدہ اور نقصان نہیں دیکھتا۔۔۔ اور ویسے بھی کل شام میرے مینشن پر پارٹی ہے ان بیکار فوٹو شوٹس کے چکر میں میں اپنی پارٹی کینسل نہیں کر سکتا”
آتش درانی نے ایک انداز سے کہا تعبیر نے اس کی باتوں سے اس کے بات کرنے کے انداز سے یہ اندازہ لگایا تھا کہ واقعی وہ کوئی عام شخص تو نہ تھا وہ بہت مخصوص قسم کی سوچ کا مالک تھا
“اوکے سر”
تعبیر نے اثبات میں سر ہلایا اور خاموش کھڑی ہوگئی جیسے کچھ کہنا چاہ رہی ہو آتش نے اسے وہاں کھڑا پا کر سوالیہ نظروں سے دیکھا
“سر میرا ٹائم ختم ہوگیا اب مجھے گھر جانا ہے”
وہ نہیں سمجھ پارہا تھا اس نے اجازت مانگی تھی یا اپنا ارادہ بتایا تھا اس کی بات پر آتش کے چہرے کے تاثرات سخت ہوئے وہ ٹانگ پر ٹانگ رکھے بیٹھا اپنی پیشانی پر شکن لئے غور سے دیکھنے لگا جس پر تعبیر تھوڑا نروس ہوئی
“ہو آر یو؟؟”
آتش کے سوال پر وہ نا سمجھی سے اسے دیکھنے لگی
“کون ہو تم؟؟”
وہ اس بار اونچی آواز میں پوچھنے لگا جس پر وہ تھوڑا ڈری تھی
“تت تعبیر علی”
اس خوفزدہ ہو کر مختصر سا جواب دیا
“مگر اس وقت تم یہاں میری غلامی میں ہو یعنی صرف ایک نوکر اور میں تمہارا مالک، تو اس لحاظ سے تم میرے حکم پر چلو گی نہ کے اپنی مرضی سے”
وہ غصے سے کہتا ہوا اٹھ کر اس کے سامنے آ کھڑا ہوا جس پر وہ ایبرو کا زاویہ بنائے اسے دیکھنے لگی آخر کیا تھا وہ شخص وہ اسے سمجھ ہی نہیں پا رہی تھی
“فلوقت تو میں کسی بحث کے موڈ میں نہیں ہوں تو اب تم گھر جا سکتی ہو میرا ڈرائیور تمہیں چھوڑ آئے گا لیکن یاد رہے تم میری اسسٹنٹ ہو فل ٹائم نہ صحیح مگر جب تک میرے تمام کاموں سے فارغ نہ ہوجاؤ تمہیں گھر جانے کی پرمیشن بلکل بھی نہیں ہے”
وہ خاموش کھڑی اس مغرور شخص کی باتیں سن رہی تھی جبکہ وہ اپنی مخصوص انداز میں اسے سمجھاتا ہوا جانے کا اشارہ کرنے لگا
“اوکے سر نیکسٹ ٹائم خیال رکھوں گی”
وہ نہیں چاہتی تھی کہ جاب کے علاوہ وہ اس شخص سے کسی اور طرح پیش آئے اس لئے ہاں میں ہاں ملاتی ہوئی وہاں سے چلی گئی جبکہ وہ کھڑا پھر سے اسے روکنے کے لیے کوئی نئی بات سوچ رہا تھا
“تعبیر علی”
اس کے کمرے سے باہر آتے ہی آتش نے رعب دار آواز میں اسے پکارا اس بار وہ غصے سے مٹھیاں بینچے کھڑی ضبط کرنے کی کوشش میں تھی
“جی؟؟”
وہ بامشکل پلٹتی ہوئی اس کے کمرے میں آئی جہاں وہ کھڑا سگریٹ کی کش لگا رہا تھا وہ چلتا ہوا اس بار اس کے بلکل قریب آ کھڑا ہوا آتش کی نگاہیں اس کے چہرے کے نقوش پر سے گردن پر آ ٹھہریں
“کل سے تم اس طرح کے کپڑے نہیں پہنو گی میں نے ڈیزائنر سے بات کی ہے گھر سے یہاں آکر تم پہلے کپڑے تبدیل کروگی اور پھر میرے سامنے آؤ گی”
آتش درانی حکم پر حکم دیا جارہا تھا آخر وہ کس قدر عجیب انسان تھا کیا وہ واقعی خود کو کسی سلطنت کا شہزادہ سمجھتا تھا وہ ایبرو کا زاویہ بنائے اس بار اسے گھورنے لگی
“وہ کیا ہے نہ ان کپڑوں میں تم ایک مجبور بے بس لاچار لڑکی لگ رہی ہو اب غلام تو تم ہو ہی لیکن یہ بات صرف تمہارے اور میرے درمیان رہے گی سب کے سامنے تم آتش درانی کی اسسٹنٹ کی حیثیت سے پیش آؤ گی تو تمہارا آؤٹ فٹ بھی میچور گرل کی طرح ہونا چاہیے نہ”
وہ اسے آنکھوں ہی آنکھوں میں کچھ جتاتے ہوئے ایک ایک لفظ کو چباتے ہوئے ادا کرنے لگا تعبیر نے غصے سے آنکھیں مینچ لیں
“اب تم جا سکتی ہو اور یاد رہے کل وقت پر آنا کیونکہ کل گیارہ بجے میری شوٹنگ ہے اس سے دو گھنٹے پہلے تم مجھے یہاں حاضر چاہئے ہو، وہ کیا ہے نہ اگر کوئی کام میرے دیئے گئے وقت کے مطابق نہ ہو تو مجھے بہت غصہ آتا ہے!!!”
اس نے بھرم والے انداز میں کہا جبکہ آخری جملے پر وہ تعبیر کو خوفزدہ کرنے کی کوشش میں تھا جو بنا کچھ کہے اسے گھوری سے نوازتے ہوئے وہاں سے چلی گئی تھی جبکہ وہ یک طرفہ مسکراہٹ لئے اسے جاتا دیکھ رہا تھا
☆★☆★☆★☆
“صبح سے شام ہوگئی اور تم مجھے اب کال کر رہی ہو؟؟ صاف صاف کیوں نہیں کہتیں کہ تمہارا سارا دھیان میرے بجائے اس دو ٹکے کے نمونے پر ہے”
وہ جو بامشکل اپنے بخار میں تپتے وجود کو زحمت دے کر اسے فون کر چکی تھی اب اس کے تلخ لہجے پر اپنے آنسوؤں پر قابو نہ پا سکی
“آئیز۔۔۔؟؟ تم رو رہی ہو؟؟”
وہ اس کی مدھم سی سسکیوں پر تڑپ اٹھا تھا ائیزل نے اپنی چھوٹی سی سرخ ناک کو رگڑتے ہوئے اپنی سسکیوں پر قابو کیا
“آئیز۔۔۔ میری جان۔۔۔ بتاؤ مجھے کیا ہوا ہے کیا کسی نے کچھ کہا ہے میری جان کو۔۔۔؟”
اس بات اس کا لہجہ توقع سے زیادہ نرم تھا
“ضوریز بہت بڑا مسئلہ ہوگیا ہے”
ائیزل کی آواز سے ہی لگ رہا تھا اس کی حالت ٹھیک نہیں تھی
“ائیزل ہوا کیا ہے بتاؤ تو پلیززز۔۔۔”
ضوریز کو اب تجسّس ہورہا تھا
“ضوریز کیا ہم کل مل سکتے ہیں؟؟ تمہارے گھر پر؟؟”
ائیزل نے دھیمی سی آواز میں پوچھا
“تم حکم کرو ہم آج ہی مل لیتے ہیں” ضوریز نے بے صبری سے کہا
“نہیں آج نہیں، کل، ہم کل ملیں گے مجھے تمہیں بہت ضروری بات بتانی ہے”
ائیزل نے ارادہ کرتے ہوئے کہا
“ٹھیک ہے ائیزل جیسا تم کہو مگر فلحال مجھے تمہاری طبیعت کچھ ٹھیک نہیں لگ رہی کیا ہوا ہے تمہیں؟؟ کیا تمہیں بخار ہے؟؟”
اس نے پھر سے فکرمندی سے پوچھا
“ہاں شاید۔۔۔” اس کا سر چکرا رہا تھا اس لیے اس سے ٹھیک سے بات بھی نہیں کی جارہی تھی تبھی حریم اس کے لئے سوپ بنا کر لائی
“ائیزل اٹھو میڈیسن لے لو اور یہ سوپ بھی پی لو”
“ائیزل تم کچھ کھاؤ اور میڈیسن لو ہم کل مل کر بات کریں گے ٹھیک ہے؟؟”
حریم کی آواز سن کر ضوریز کو تھوڑی تسلی ہوئی اور اس نے اپنی بات مکمل کر کے فون بند کردیا
“حریم میرا بلکل بھی دل نہیں کر رہا”
ائیزل نے اپنی سرخ آنکھوں کو رگڑتے ہوئے بیزاری سے بولا جس پر حریم اسے سختی سے دیکھنے لگی
“کیا ہوگیا اب ایسے کیوں گھور رہی ہو؟؟ کیا کچا جاؤ گی مجھے؟؟”
ائیزل نے اس کی نظروں کو نوٹ کرتے ہوئے کہا جس پر وہ اس کے پاس آ بیٹھی
“تم نہ بلکل بھی اپنا خیال نہیں رکھ رہیں، دیکھو ائیزل جو ہونا تھا وہ ہوگیا ہے اب آگے کا سوچنا ہے اگر تم اپنی طبیعت پر غور نہیں کرو گی تو آگے کیسے سب کچھ ہینڈل کر پاؤ گی؟؟ اور ویسے بھی اب تو ضوریز بھائی بھی ساتھ ہیں نہ تمہارے”
حریم نے نرمی سے اسے سمجھایا جس پر ائیزل خاموش ہوگئی
“چلو شاباش اب یہ جلدی سے ختم کرو اور پھر میڈیسن بھی تو لینی ہے نہ”
حریم نے بڑی مشکل سے بہلا پھسلا کر اسے سوپ ہلایا اور دوائی کھلا کر سلا دیا اور وہیں اس کے سرہانے بیٹھ گئی کچھ ہی دیر میں ائیزل سو چکی تھی اور اس کے بخار کی شدت بھی اب کم تھی
☆★☆★☆★☆
وہ صبح سے اٹھ کر گھر کے کاموں میں مصروف ہوچکی تھی پہلے اس نے سب کے لئے ناشتہ بنایا پھر گھر کے دیگر دوسرے کام کئے اور اب وہ فریش ہوکر اپنے گیلے بالوں کو سکھانے میں مصروف تھی
جب اس کی نظر سامنے لگی گھڑی میں گئی جہاں گیارہ سے اوپر وقت ہوچکا تھا تعبیر کو اب اپنی لاپرواہی پر شدید افسوس ہورہا تھا وہ آخر کس طرح اپنی جاب کو بھول سکتی تھی اسے وہاں گیارہ بجے سے دو گھنٹے پہلے پہنچنا تھا
“افففف تعبیر کسی دن وہ غصیلہ کھڑوس شخص تنز کر کر کے تمہاری جان ہی نہ لے لے” وہ منہ ہی منہ میں بڑبڑاتی ہوئی جلدی سے ایک نیا سوٹ نکال کر پہننے لگی اور اپنے بالوں کو مکمل سکھا کر اس نے جلدی سے جاب پر جانے کی تیاری کی
اپنے بابا کو خدا حافظ کہہ کر وہ جلدی جلدی گھر سے نکلی تو سامنے ہی ایک بڑی سی عالیشان گاڑی کو کھڑا پایا اسے شک ہوا تھا شاید یہ آتش درانی نے بھیجی ہو مگر اپنا وہم سمجھ کر اس نے قدم آگے بڑھا دیئے
تب ہی گاڑی کا ڈرائیور نکل کر اس کی جانب آیا اور اپنا موبائل اس کی جانب بڑھانے لگا جسے وہ نا سمجھی سے دیکھنے لگی
“کال پر سر آتش درانی ہیں”
اب اسے سمجھ آگیا تھا اس کا اندازہ بلکل ٹھیک تھا اس نے موبائل لے کر کان پر لگایا تبھی کسی کی رعب دار آواز اس کے سماعتوں سے ٹکرائی
“ابھی اور اسی وقت گاڑی میں بیٹھ کر مینشن پہنچو فاسٹ۔۔۔!!!”
وہ اسے اپنا حکم سناتا ہوا اسے بولنے کا موقع دیئے بنا فون بند کر گیا جبکہ آتش سمجھ چکی تھی وہ غصے میں تھا اس لیے موبائل واپس ڈرائیور کو دے کر گاڑی میں آ بیٹھی
کچھ ہی دیر بعد وہ لوگ اے ڈی کے مینشن پر موجود تھے ڈرائیور نے کار کا دروازہ کھولا تو تعبیر اپنا پرس اور موبائل لئے اندر کی جانب بڑھ گئی
☆★☆★☆★☆
“تمہارے ایک بات کیوں سمجھ نہیں آتی؟؟ میں تم سے کتنی بار کہوں کہ میں تمہارے اس گھٹیا بیٹے جمال کو اپنی بیٹی نہیں دے سکتا لگتا ہے تمہیں اس طرح سمجھ نہیں آئے گا مجھے کورٹ کا سہارا لینا ہی پڑے گا”
افتخار صاحب اس کی گٹھیا اور بے مقصد باتوں پر جھنجھلا اٹھے جس پر دوسری جانب سے صرف قہقہہ سنائی دیا جو انہیں مزید تجسس میں مبتلا کر گیا
“آاہ۔۔۔ افتخار علی تم بلکل ویسے ہی ہو جیسے کئی سال پہلے ہوا کرتے تھے کیا یہ بات بھول گئے تعبیر کے پیدا ہوتے ہی ہمارے خاندان کے رواج کے مطابق اس کا رشتہ جمال علی سے طے پایا تھا تو اب وہ اس ہی کی دلہن بنے گی”
دوسری طرف سے رعب دار آواز میں یہ جملات سنائی دیئے جس پر انہوں نے غصے سے مٹھیاں بھینچ لیں
“تمہیں جو سمجھنا ہے سمجھو مگر ایک بات یاد رکھنا کم از کم جب تک میں زندہ ہوں میں اپنی بیٹی کی زندگی برباد نہیں ہونے دوں گا”
وہ اسے ارادہ بتاتے ہوئے دل میں عہد کرنے لگے
“یہ تو ایک سنگین مسئلہ ہے۔۔۔ چلو کوئی نہ اس کا بھی حل ڈھونڈ نکال ہی لیں گے ہم اگر صمدی ہی صمدی کے کام آتا ہے”
معنی خیزی سے کہتا ہوا وہ فون بند کر گیا جبکہ افتخار صاحب ایک بار پھر پریشانی کی زد میں آ چکے تھے
☆★☆★☆★☆
جب وہ مینشن کے اندر آئی تو سامنے کچھ ملازم سر جھکائے کھڑے تھے جیسے شاید کچھ ہوا ہو تعبیر نے نا سمجھی سے ان ملازموں کو دیکھ رہا تھی تھی جن کے چہروں پر خوف نمایاں تھا
ابھی وہ یہی کھڑی صورتحال کو پھانپنے کی کوشش کر رہی تھی جب آتش درانی کے کمرے سے توڑ پھوڑ کی آوازیں آنے لگیں وہ یک دم چونکی سب کے سب نوکر کھڑے تھر تھر کانپ رہے تھے
تعبیر کی نظر اس کے کمرے کے بند دروازے پر گئی جو دھڑام کی آواز سے کھلا اور ایک ملازم بڑی بے دردی سے باہر آ گرا جس کے ہاتھ جڑے ہوئے تھے قمیص جگہ جگہ سے پھٹی ہوئی تھی حالت نا قابلِ یقین تھی
“صاحب جی مجھے معاف کردیں خدا کا واسطہ مجھے بخش دیں۔۔۔”
وہ مسلسل گڑگڑاتے ہوئے بے بسی سے زمین پر پڑا اپنی زندگی کی بھیک مانگ رہا تھا اس کی ایسی حالت پر جہاں سب ملازم اپنے انجام کا سوچ کر کانپنے لگے وہیں تعبیر کو اس بے س لاچار غربت کے مارے آدمی پر ترس آنے لگا
“معاف کروں ہاں؟؟”
وہ جو اب تک ترس کھائی ہوئی نگاہوں سے اس ملازم کو دیکھ رہی تھی اس بپھرے ہوئے شیر کے اچانک کمرے باہر آنے پر خوفگی سے اس سر پھرے انسان کو دیکھنے لگی جو اس وقت صرف ٹی شرٹ اور ٹراؤزر میں ملبوس تھا جس سے اس کی ورزشی جسامت صاف واضح دکھائی دے رہی تھی
“کیسے معاف کردوں ہاں؟؟ جو غلطی تم نے کی ہے وہ ناقابلِ معافی ہے سمجھے۔۔۔اب دفع ہوجاؤ یہاں سے اور ایک آئیندہ کے بعد اپنی یہ منحوس صورت میرے سامنے نہ لانا”
وہ دونوں ہاتھوں سے اس کے گریبان کو جھنجھوڑتے ہوئے اسے دور دھکیلتا ہوا ایک نظر نیچے کی جانب کھڑی تعبیر پر ڈال کر اندر چلا گیا جبکہ اس کی نظروں سے ہی تعبیر کو خود آرہا تھا اسے سمجھ نہیں آرہا رہا تھا وہ اس شخص کے سامنے کیسے جائے گی
“تمہیں اندر آنے کے لئے اسپیشلی انویٹیشن دینا پڑے گا؟؟”
وہ پلٹ کر واپس باہر آیا اور تعبیر سے مخاطب ہوتے ہوئے باقاعدہ غررانے لگا جس پر وہ ہوش کی دنیا میں آتے کے ساتھ ہی اوپر کی جانب چل دی جب وہ کمرے میں آئی تو وہ سامنے صوفے پر ٹانگ پر ٹانگ رکھے بیٹھا اسے ہی گھور رہا تھا
“سس سوری سر میں لیٹ ہوگئی”
تعبیر نے مختصر سے الفاظ کہے اور نظریں جھکا گئی جبکہ آتش درانی مسلسل اس ہی کا جائزہ لے رہا تھا لائٹ پنک کلر کی شلوار قمیض سر پر دوپٹہ ہینڈ بیگ لئے وہ آج بھی بہت سادہ سی لگ رہی تھی جبکہ بال دوپٹے کے اندر آزاد تھے
“لیٹ؟؟ اسے تم لیٹ کہتی ہو؟؟”
وہ بغور اسے گھورتے ہوئے گھمبیر لہجے میں مخاطب ہوا جس پر تعبیر اسے دیکھنے لگی
“تم جانتی بھی تھیں کہ آج گیارہ بجے میری شوٹنگ ہے اور تم اب آرہی ہو؟؟ جبکہ میں نے تمہیں اس سے بھی دو گھنٹے پہلے کا وقت دیا تھا”
اس کا لہجہ اب بھی ویسا ہی تھا
“سو سوری سر میں مصروف تھی تو وقت کا پتا ہی نہیں چلا!!!” تعبیر اس کی نظروں سے گھبراتے ہوئے بار بار اپنا ڈوپٹہ صحیح کر رہی تھی آتش نے اسے آنکھیں چھوٹی کرتے ہوئے دیکھا
“مصروف؟؟ تعبیر علی اب تک تو تمہیں اچھے سے سمجھ لینا چاہیے کہ تمہاری ساری مصرفیات صرف میرے کاموں کی وجہ سے ہونی چاہیے”
وہ ذومعنی الفاظ کہتا ہوا اسے حیرت سے دیکھنے پر مجبور کر گیا
“میں کچھ سمجھی نہیں۔۔۔”
تعبیر نا سمجھی سے اسے دیکھنے لگی جس پر وہ ایک اسٹائل سے کھڑا ہوکر اس کی جانب آیا اور بلکل سامنے آ رکا
“مطلب صاف ہے۔۔۔ میں چاہتا ہوں آج سے تم صرف میرے کام میں مصروف رہو۔۔۔ میں چاہتا ہوں تم صرف میرے بارے میں سوچو۔۔۔”
آتش نے لہجے میں خماری لائے اپنی نظریں اس کی نازک سی گردن پر مرکوز کرتے ہوئے کہا جبکہ تعبیر کو اس کے یہ معنی خیزی سے کہے گئے الفاظوں کا مطلب بلکل سمجھ نہ آیا تھا جس پر وہ ایبرو کا زاویہ بنائے اسے دیکھنے لگی
“میرا مطلب۔۔۔ میرے کام کے بارے میں سوچو!!!”
اپنی بات درست کرتا ہوا وہ اپنے جذبات پر قابو پاتے ہوئے دوسری جانب رخ کر گیا تعبیر کو وہ شخص بلکل سمجھ نہیں آتا تھا آخر کس قدر عجیب شخصیت کا مالک تھا وہ کبھی کچھ تو کچھ ہوتا تھا
“سر نیکسٹ ٹائم ایسا نہیں ہوگا۔۔۔”
تعبیر نے دھیمے لہجے میں تلافی کرنا چاہی
“نیکسٹ ٹائم ایسا میں ہونے بھی نہیں دوں گا”
آتش نے ایک نظر ائبرو اچکائے اس کی جانب دیکھا جس پر وہ اسے دیکھنے لگی
“کل سے تم۔۔۔ میرے اٹھنے سے پہلے میرے مینشن پر موجود ہوؤں گی۔۔۔ میرے اٹھنے سے پہلے میرا پہننے والا اگلا ڈریس، میرا بریک فاسٹ، میری شوٹ وغیرہ کے جھنجھٹ تم خود سنبھالا کرو گی”
وہ حیرانگی سے سامنے کھڑے وجود کو دیکھی جارہی تھی جو شوہروں کی طرح اس پر حکم صادر کئے جارہا تھا تعبیر کو وہ اس وقت زہر لگ تھا
“کل سے تم روز خود مجھے میرے روم میں اٹھانے آیا کرو گی ورنہ اپنی شوٹ مس یا لیٹ ہونے کا سارا حساب میں تم سے لوں گا”
ایک اور بار اس نے لہجے میں سختی لائے سامنے کھڑی لڑکی کو ڈرایا
“اور یاد رہے کل اگر تم وقت پر نہ آئیں تو میں تمہیں یہاں پرمننٹ رکھ لوں گا۔۔۔ اور پھر ایسا نہ ہو اس دن کے بعد سے تم مجھے نہیں بلکہ میں خود تمہیں اٹھانے آؤں۔۔۔”
وہ معنی خیزی سے کہتا ہوا یک طرفہ مسکرا کر اس کی آنکھوں میں جھانکنے لگا جو خاموش کھڑی سخت تاثرات لئے اسے گھور رہی تھی
“اب سارا وقت یہیں کھڑے رہ کر گزار دینا ہے؟؟ جاکے چینج کرو اپنا حلیہ درست کرو آدھا گھنٹہ ہے تمہارے پاس!!! ناؤ گو!!!”
وہ حکمیہ انداز میں کہتا ہوا خود وارڈروب کی جانب چل دیا جبکہ وہ خاموشی سے اپنا ڈوپٹہ ٹھیک کرتی ہوئی نیچے کی جانب چل دی
☆★☆★☆★☆
“حریم جی مجھے نہیں پتا مجھے آپ سے آج ہی ملنا ہے دل کر رہا ہے میرا پلیززز مان جائیں”
وہ معصومیت بھرا میسج لکھتا ہوا دل پر ہاتھ رکھے اسے یاد کرنے لگا جبکہ دوسری جانب وہ اس کا میسج پڑھ کر بوکھلا اٹھی
“کیا ہوگیا ہے شاویز میں یونیورسٹی میں ہوں یہاں سے نہیں آ سکتی۔۔۔”
وہ اس وقت ڈانسنگ کلاسز میں بیزی تھی مگر ساتھ ہی شاویز سے میسج پر بات بھی کر رہی تھی جبکہ اس کا میسج پڑھ کر شاویز کے چہرے کا زاویہ بگڑا
“مگر مجھے آج ہی ملنا تھا۔۔۔”
اس کے پاس ایک اور بار شاویز کا میسج ریسیو ہوا جس میں میسج کے آگے سیڈ ایموجی بھی تھے جسے دیکھ کر بے ساختہ حریم کے چہرے پر مسکراہٹ بکھرنے لگی
“اچھا اور وہ کیسے؟؟”
اس نے اپنا میسج سینڈ کیا پھر کافی دیر تک روپلائے نہ آنے کے بعد وہ اپنی باقی کی کلاسز میں مصروف ہوگئی اب بھی اس کے دو لیکچر باقی تھے جب شاویز کی کال آنے لگی
اس نے بڑی مشکل سے کال ریسیو کی کیونکہ وہ اس وقت لیکچر میں بیزی تھی اور سب سے پیچھے بیٹھنے کے باعث اسے کال ریسیو کرنے کا موقع مل گیا تھا
“کہو شاویز کیا ہوا؟؟”
اس نے سرگوشی نما انداز میں کہا
“حریم جی لیکچر ختم ہوتے ہی باہر آجائیں میں آپ کا ویٹ کر رہا ہوں”
شاویز نے سادہ سے لہجے میں کہا جس پر وہ حیران ہوئی
“کیا باہر؟؟ مگر ابھی؟؟ میرا مطلب۔۔۔”
ابھی آگے وہ کچھ کہتی جب حوریہ کی نظر حریم پر گئی شک تو اسے پہلے ہی تھا مگر اب اسے کنفرم ہونے لگا تھا کہ حریم اور شاویز کے درمیان کچھ تھا وہ سیٹ سے اٹھی
“سر کیا آپ حریم کو آگے والی سیٹ پر بٹھا دیں گے یہ کب سے موبائل پر لگی پڑھی ہے اس کی بک بک کے چکر میں مجھے لیکچر سمجھنے میں مشکل ہورہی ہے”
وہ ایک ادا سے اپنے بالوں کو پیچھے کرتے ہوئے کہنے لگی جس پر سب لوگ حریم کی جانب متوجہ ہوئے جس نے جلدی سے کان پر سے فون ہٹا کر اپنے بیگ میں ڈال لیا
“مس حریم آپ لیکچر کے دوران موبائل یوز کر رہی ہیں؟؟ آپ کو ایسا کرنے کی اجازت کس نے دی ہے؟؟” پروفیسر کے سخت لہجے پر جہاں وہ ڈری تھی وہیں حوریہ فاتحانہ انداز سے اسے دیکھ رہی تھی
“سو سوری سر وہ میری فرینڈ کی طبیعت ٹھیک نہیں تو اس ہی کی کال تھی۔۔۔”
وہ کھڑے ہوتے ہوئے شرمندہ سے انداز میں کہنے لگی
“تو آپ موبائل سائلنٹ کیوں نہیں کر دیتیں؟؟ یا پھر آپ کلاس سے باہر چلے جائیں تاکہ آپکی وجہ سے باقی کے اسٹوڈینٹس ڈسٹرب نہ ہوں”
پروفیسر اس کی اچھی خاصی انسلٹ کر چکے تھے جس پر وہ شرمندہ سے انداز میں ایک نظر حوریہ ہر ڈال کر اپنا بیگ لئے باہر چلی گئی
“اور نہیں تو کیا نہ خود پڑھتے ہیں نہ دوسروں کو پڑھنے دیتے ہیں انپڑھ جاہل لوگ”
حوریہ اپنے بال ٹھیک کرتے ہوئے ایک اسٹائل سے اپنی سیٹ پر بیٹھ کر بڑبڑائی تھی
“اس حوریہ کی بچی کو آخر مجھ سے مسئلہ کیا ہے؟؟ جب دیکھو کوئی نہ کوئی الٹی حرکت کر کے ہی دم لیتی ہے یہ پتا نہیں کب گزریں گے یہ چار سال اور کب جان چھوٹے گی اس حوریہ نامی بلا سے میری”
وہ باقاعدہ تیز آواز میں بڑبڑاتی ہوئی یونیورسٹی سے باہر نکل آئی جہاں شاویز کھڑا اس ہی کے انتظار میں تھا
“حریم جی؟؟ کیا ہوا ہے اتنی غصے میں کیوں ہیں آپ؟؟”
شاویز اس کے چہرے کے تاثرات دیکھ کر سمجھ چکا تھا یقیناً اس نے ایسے ہی کال نہیں کاٹی تھی حریم بنا کچھ کہے بائیک پر آ بیٹھی تو اس نے ڈرائیو اسٹارٹ کی
“حریم جی پلیززز کچھ تو بتائیں ہوا کیا آخر؟؟”
کافی دیر بعد وہ لوگ ایک ریسٹورنٹ پر رکے تھے شاویز اسے بیٹھنے کا اشارہ کرتے ہوئے خود سامنے والی کرسی پر آ بیٹھا جبکہ حریم کا موڈ اب بہت زیادہ خراب ہوچکا تھا
“ہونا کیا ہے آخر؟؟ یہ حوریہ کی بچی ہر جگہ اپنا نمبر بڑھانے کا موقع ہاتھ سے جانے نہیں دیتی سب کے سامنے اس نے میری انسلٹ کی ہے”
شاویز کی توقع سے کئی زیادہ وہ غصے میں تھی جبھی تو بھڑک کر کہنے لگی جبکہ شاویز نظریں اس کی سرخ ناک پر جمائے اسے دیکھنے لگا
“تو آخر اس نے ایسا کیوں کیا؟؟”
شاویز کے معصومانہ سوال پر حریم اسے گھورنے لگی
“تمہاری وجہ سے۔۔۔”
شاویز نے نا سمجھی سے اسے دیکھا
“میری وجہ سے؟؟ مگر کیوں میں نے کیا کیا حریم جی؟؟”
اس نے انتہائی معصومیت سے کہا جس پر حریم ایبرو اچکائے اسے دیکھنے لگی
“وہ تمہارے ساتھ دوستی کرنا چاہتی تھی جبھی مجھ سے جلتی ہے، جل ککڑی کہیں کی”
وہ ناک کے نتھنے پھلائے غصے سے کہنے لگی جس پر شاویز کے چہرے پر مسکراہٹ بکھرنے لگی تبھی اس نے آرڈر دیا اور پر سے اس کی جانب متوجہ ہوا
“کیا ہوا ایسے کیوں دیکھ رہے ہو؟؟”
اسے اپنی طرف مسکراتے ہوئے دیکھ کر وہ جو غصے میں تھی آنکھیں چھوٹی کئے پوچھنے لگی
“کچھ نہیں بس دیکھ رہا تھا آپ غصے میں بھی کتنی کیوٹ لگتی ہو بلکل ڈول جیسی”
شاویز کے منہ سے بے ساختہ یہ الفاظ نکلے جس پر حریم نے بلش کیا تھا
☆★☆★☆★☆
“کیا اس کے ساتھ کوئی ڈوپٹہ نہیں ہے؟؟”
وہ اس وقت بلکل ایک سیکریٹری ٹائپ آؤٹ فٹ زیب تن کئے شیشے کے سامنے کھڑی ان کپڑوں کا جائزہ لے رہی تھی اس کی بات پر سامنے کھڑی ڈیزائنر مسکرائی
“سوری میم اس طرح کے آؤٹ فٹس کے ساتھ کوئی بھی ڈوپٹہ وغیرہ نہیں ہوتا اور نہ ہی سوٹ کرے گا۔۔۔ ویسے بھی آپ اس سوٹ میں بہت پیاری لگ رہی ہیں”
اس لڑکی نے تعبیر کو سرتا پیر دیکھ کر مسکراتے ہوئے کہا مگر اس کے چہرے پر تو پریشانی والے تاثرات تھے
“وہ سب تو ٹھیک ہے لیکن میں بنا ڈوپٹے کے کیسے کسی کے بھی سامنے جا سکتی ہوں۔۔۔!!!”
تعبیر نے ایک نظر خود پر ڈال کر معصومیت سے کہا جبکہ باہر کھڑا آتش اس کے الفاظ سن چکا تھا
وہ ایک جھٹکے سے دروازہ کھول کر اندر آیا جس پر وہ دونوں ہی چونکیں آتش نے آتے کے ساتھ ہی ڈیزائنر گرل کو اشارے سے وہاں سے بھیج دیا جبکہ اب صرف وہ دونوں ہی وہاں موجود تھے
آتش نے اسے سرتا پیر دیکھا اسکائے بلو کلر کی پینٹ ساتھ ہم رنگ کوٹ جس کے اندر وائٹ کلر کی شرٹ تھی کھلے بالوں کے ساتھ ہلکا سا میک اپ کئے ایک ہاتھ میں گھڑی جبکہ دوسرے ہاتھ میں بریسلیٹ تھا پیروں میں اونچی ہیل وہ کہیں سے بھی پہلی والی تعبیر نہیں لگ رہی تھی بلاشبہ وہ آتش درانی کے دل کو بھا رہی تھی
“ہممم تو ریڈی ہو گئیں تم!!!”
وہ اپنی نیلی آنکھوں سے اپنے مخصوص انداز میں دیکھتے ہوئے اس سے مخاطب ہوا جو اب تک چہرے پر پریشانی لئے کھڑی تھی جس پر آتش نے سوالیہ نظروں سے اسے دیکھا وہ سن چکا تھا اس کی پریشانی کی وجہ مگر انجان بننے لگا
“وہ۔۔۔ سر میں ان کپڑوں میں آپ کے ساتھ باہر نہیں جا سکتی۔۔۔”
اس نے کتراتے ہوئے کہا جس پر وہ آتش کی پیشانی پر شکن نمودار ہوئی
“کیا مطلب میرے ساتھ نہیں جا سکتیں؟؟”
پورے جملے میں اس نے صرف یہی بات نوٹ کی تھی جس پر تعبیر اسے دیکھنے لگی
“سر میرے کہنے کا مطلب ہے کہ۔۔۔ میں ان کپڑوں میں کہیں بھی نہیں جا سکتی نہ کسی کے سامنے آ سکتی ہوں۔۔۔کیونکہ اس کے ساتھ کوئی ڈوپٹہ نہیں جس سے۔۔۔ میں خود کو کوور کر سکوں۔۔۔”
ایک پل کے لیے آتش کو اس کی بات اچھی لگی تھی مگر جیسا کہ اسے ہمیشہ صرف اپنے مطلب کی بات پر غور کرنے کی عادت ہوچکی تھی اس نے تعبیر کی ایک اور بات پکڑی
“ہمم یعنی تم ڈوپٹے کے بنا کسی کے بھی سامنے نہیں آ سکتیں!!!”
آتش نے سر ہلاتے ہوئے کہا جس پر اس نے اثبات میں سر ہلایا
“مگر میرے سامنے تو آچکی ہو۔۔۔ پھر میں کیا سمجھوں۔۔۔”
وہ شرارتی لہجے میں کہتا ہوا اسے اچھا خاصا شرمندہ کر چکا تھا وہ کنفیوز سے انداز میں کھڑی آتش درانی کو دیکھ رہی تھی واقعی وہ اس وقت اس کے سامنے ہی تو کھڑی تھی اس نے جلدی سے دونوں ہاتھوں سے اپنے لمبے بالوں کو آگے کیا اس کے اس عمل کی اسپیڈ پر آتش نے بامشکل اپنی مسکراہٹ چھپائی
“سوری سر بٹ میں آپ کے سامنے نہیں آئی آپ خود یہاں آئے ہیں!!!”
تعبیر نے اسے یاد کراتے ہوئے کہا جس پر وہ اسے دیکھنے لگا
“اٹس اوکے سوری کی کوئی ضرورت نہیں”
وہ ایک بار پھر اپنے مطلب کی بات پر بڑی ڈھیٹائی سے کہتا ہوا اسے حیران کر گیا تھا
جبکہ اب وہ سامنے ہینگ ہوئے آؤٹ فٹرز میں سے اسکاف ڈھونڈ رہا تھا آتش نے ریڈ کلر کا اسکاف نکالا جو درمیانے سائز کا دکھتا تھا جس میں وائٹ ڈورز بنے ہوئے تھے
“یہ لو اسے ٹھیک سے سیٹ کرلو آئی ہوپ اب تمہیں کوئی پرابلم نہیں ہوگی”
آتش نے اسکاف اس کی جانب بڑھایا جس پر وہ اسے تھام کر جیسے کے سامنے اپنے گلے میں وہ اسکاف سیٹ کرنے لگی جو واقعی اس کے ایسے سوٹ پر بہت میچ کر رہا تھا تعبیر نے شکریہ ادا کرنے کے بجائے اسے نگاہوں سے اشارہ کیا جس پر وہ اسے دیکھنے لگا
“پینڈینٹ کہاں ہے تمہارا؟؟”
ابھی وہ لوگ باہر کی جانب بڑھتے جب آتش کی نظر اس کے نازک سے گلے پر گئی جہاں ہمیشہ رہنے والا پینڈینٹ آج موجود نہ تھا
“وہ آپکے کہنے پر انہوں نے مجھے دوسری جیولری دی تھی تو اس لیے میں نے یہ واچ اور یہ بریسلیٹ پہنا ہے بس۔۔۔”
اس نے مختصر سا کہا اور خاموش ہوگئی جب آتش نے ہاتھ بڑھایا
“مجھے وہ پینڈینٹ دو۔۔۔”
آتش نے نرمی سے کہا جس پر وہ سوالیہ نظروں سے دیکھنے لگی
“سنا نہیں تم نے؟؟ وہ پینڈینٹ دو مجھے!!!”
اس بار اس کا لہجہ تھوڑا سخت تھا
جس پر وہ ایک نظر سامنے کھڑے وجود کو دیکھ کر اپنے ہینڈ بیگ سے اپنا وہ نازک سا پینڈینٹ نکال کر اسے تھمایا جسے وہ بڑی غور سے دیکھنے لگا
“ہلنا بلکل بھی مت!!!”
وہ اسے عجیب سے الفاظ کہتا ہوا اس کے پشت پر آکھڑا ہوا تعبیر سمجھ نہیں پارہی تھی وہ کیا کہنا چاہ رہا تھا تبھی آتش نے اس پینڈینٹ کو تعبیر کے گلے میں پہنایا اور اس کے بالوں کو چھوئے بنا اس کے سامنے آکھڑا ہوا
“انہیں ٹھیک کرلو!!!”
اسے پتا تھا اگر وہ مزید اس کے قریب جاتا تو یقیناً اس چھوٹی سی لڑکی کو اس کی یہ حرکت سخت ناگوار گزرتی اس لئے اس کے بالوں کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہنے لگا جس پر تعبیر نے بالوں کو درست کیا
“آج کے بعد مجھے یہ پینڈینٹ تمہارے گلے میں موجود چاہئے اسے تب تک مت اتارنا جب تک میں نہ کہوں”
وہ ذومعنی الفاظ کہتا ہوا وہاں سے چلا گیا جبکہ وہ وہیں کھڑی کھڑی اس کی حرکتوں پر حیران تھی
جاری ہے
