Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Lams e Junooniyat (Episode 44)

Lams e Junooniyat by Areesha Khan

”کوئی نصیحت نہ چاہوں میں کوئی صلاح

جو روح نے میری تجھے چن لیا۔۔۔“

وہ گٹھنوں میں منہ دیئے بیٹھی آنسوں بہا رہی تھی کیونکہ آج جو کچھ ہوا تھا وہ اس کے لئے برداشت کرنا نہ قابلِ قبول تھا یہ سچ تھا کہ اپنے ڈیڈ کی لاپرواہی دیکھنے کے بعد ائیزل نے سب سے زیادہ بھروسہ حریم پر کیا تھا

اور پھر اس کے بعد اسے سب سے زیادہ بھروسہ ضوریز پر تھا مگر افسوس اس نے جس پر بھی بھروسہ کیا سب نے اسے دھوکا دیا سب نے جھوٹ بولا، ہاں سب جھوٹے تھے، وہ تڑپ رہی تھی، سسک رہی تھی۔۔۔ آج کے دن لفظ بھروسے پر سے اس کا یقین ہمیشہ کے لیے اٹھ چکا تھا

“کیوں ڈیڈ کیوں۔۔۔ کیوں آپ نے مجھ سے اتنا بڑا سچ چھپایا۔۔۔ آخر کیوں۔۔۔”

وہ جو بہت بہادر تھی کسی چٹان کی مانند مظبوط تھی آج وہ ٹوٹ چکی تھی اسے اس کے اپنوں نے توڑ کر رکھ دیا تھا وہ دونوں ہاتھوں کی انگلیاں بالوں میں پھنسائے مسلسل روئی جارہی تھی

“اور تم حریم۔۔۔ تم پر کتنا بھروسہ کیا تھا میں نے۔۔۔ تمہیں اپنی سگی بہن سے بڑھ کر چاہا تھا۔۔۔ تم نے یہ صلہ دیا میرے یقین میرے بھروسے کا۔۔۔”

آنسوؤں کی برسات جاری تھی بالوں پر انگلیوں کی گرفت اتنی مظبوط تھی جیسے جڑ سے الگ ہونے لگے ہوں

“ضوریز تم۔۔۔ تم سے تو عشق کیا تھا میں نے۔۔۔ اور تم نے اس قدر گھٹیا کھیل کھیلا میرے ساتھ۔۔۔ صرف اپنی بہن کو اپنی نظروں کے سامنے رکھنے کے لیے تم نے میرا استعمال کیا۔۔۔ وہ بھی اتنی بری طرح سے کہ میں جل کر راکھ ہوگئی۔۔۔”

ضوریز کے نام پر جہاں اس کے آنسؤوں نے مزید رفتار پکڑی تھی وہیں دل کی دھڑکنیں تیز ہونے لگی تھیں دل میں ایک عجیب سا درد اٹھا تھا جیسے دل پھٹ جائے گا۔۔۔ وہ بگڑی ہوئی لڑکی کس قدر چاہنے لگی تھی اسے۔۔۔

بے انتہا محبت کرنے لگی تھی اس سے لیکن اس نے۔۔۔ اس نے کیا کیا؟؟ اس لڑکی کو پہلے خوب سنوارا اور پھر۔۔۔ پھر ایک پل میں اسے اجاڑ کر رکھ دیا۔۔۔ اسے۔۔۔ اسے اس قدر توڑ دیا کہ۔۔۔ کہ اسے محبت کے نام تک سے نفرت ہوگئی۔۔۔

وہ لڑکی جو اپنی زندگی تباہ کر بیٹھی تھی۔۔۔ وہ سگریٹوں سے دل لگا بیٹھی تھی۔۔۔ اس دو نمبر آدمی نے پہلے اس ٹوٹ کر بکھرے وجود کو مکمل سمیٹ کر جوڑا۔۔۔ اور پھر ایک لمحے میں اسے پھر سے توڑ دیا۔۔۔ وہ اس بار اس قدر ٹوٹی تھی کہ اب کوئی چاہ کر بھی اسے جوڑ نہیں سکتا تھا۔۔۔

“ارے مانا یہ وہ دونوں ایک دوسرے کا خون تھے۔۔۔ ضوریز اور حریم بھائی بہن تھے۔۔۔ وہ بھی سگے۔۔۔ ان دونوں کے اندر جو خون تھا وہ ایک ہی تھا۔۔۔ خود غرضی ان کے خون میں شامل تھی۔۔۔ وہ دونوں دھوکے باز تھے مگر ڈیڈ آپ بھی۔۔۔؟؟”

اسے لگا رہا تھا اس کا کلیجہ نچ رہا ہو اسے یہ بند کمرہ کسی زندان سے کم نہ لگ رہا تھا بھٹک بھٹک کر اس کی نظریں سامنے ڈریسنگ کی کھلی دراز پر جارہی تھیں جہاں اس کے اس درد کی دوا موجود تھی۔۔۔ سگریٹ۔۔۔ ہاں۔۔۔ وہ ایک بار پھر سے اپنے زخموں کو بھرنے جارہی تھی۔۔۔

وہ آنسوؤں کو بے دردی سے صاف کرتی ہوئی اپنے بکھرے اجڑے حلیے کے ساتھ وہ ڈریسنگ کے سامنے جا کھڑی ہوئی ایک نظر اپنے کھلے بکھرے بالوں پر اپنی بگڑی حالت کو دیکھ کر نظر انداز کرتی ہوئی وہ جھک کر دراز سے سگریٹ کی ڈبی نکالنے لگی

لڑکھڑاتے قدموں کے ساتھ وہ اپنی جگہ پر واپس آ بیٹھی سگریٹ کی ڈبی میں سے ایک سگریٹ نکال کر وہ محویت سے اسے تکنے لگی بہت سی آوازیں سماعتوں سے بازگشت ہونے لگیں

“ائیزل میرے لئے کیا کر سکتی ہو؟؟”

“کچھ بھی”

“کیا تم میرے لئے کچھ چھوڑ سکتی ہو؟؟”

“میں تمہارے لئے پوری دنیا تک چھوڑ سکتی ہوں”

“اگر میں کہوں تو کیا تم سگریٹ چھوڑ دو گی؟؟”

“بتاؤ ائیزل…”

“ٹھیک ہے میں چھوڑ دوں گی لیکن یوں اچانک کوئی وجہ ؟؟”

“کوئی وجہ نہیں بس میں چاہتا ہوں تم یہ سگریٹ وغیرہ چھوڑ دو دیکھو ائیزل کل کو ہمارا رشتہ کسی انجام کو پہنچے گا ہماری بات طے ہوگی ہمارا رشتہ ہوگا اور پھر ہماری شادی ہوگی اور پھر ہمارے چھوٹے چھوٹے…”

ایک بار پھر سے اس کے آنسؤوں نے رفتار پکڑی تھی اس کا پورا وجود کانپ اٹھا تھا اس کی مدھم سی سسکیوں پورے کمرے میں گونج رہی تھی کپکپاتی ہوئی انگلیوں کے درمیان سگریٹ پھنسائے وہ لائٹر ڈھونڈنے لگی جو بآسانی ساتھ والے ٹیبل کی دراز میں پڑا تھا

“آئی ایم سوری ریز۔۔۔ لیکن ایک دھوکا تم نے مجھ سے سچ چھپا کر دیا تھا۔۔۔ اور اب ایک دھوکا میں تم سے کیا ہوا یہ وعدہ توڑ کر دوں گی۔۔۔”

وہ زیرِ لب کہتی ہوئی لائٹر جلا کر سگریٹ سلگا چکی تھی جیسے ہی وہ سگریٹ کو لبوں سے لگانے لگی اچانک سے کھڑکی سے کوئی سایا اندر کو آیا

“مگر میں تمہیں ہرگز یہ وعدہ توڑنے نہیں دوں گا۔۔۔”

ایک جھٹکے سے اس کے ہاتھ سے سگریٹ چھین کر اپنی ہتھیلی میں دبوچ لی جو اس کی ہتھیلی پر مصنوعی زخم چھوڑ گئی ائیزل دھڑکتے دل کے ساتھ سامنے ایڑھی کے بل بیٹھے شخص کو دیکھنے لگی

جس کی گہری کالی آنکھیں مکمل سرخ پڑھ چکی تھیں جن میں سے آنسوں رواں تھے جو اب نظریں جھکائے بیٹھا اپنی ہتھیلی کو گھور رہا تھا ائیزل اسے شاکڈ کی کیفیت میں گھور رہی تھی کیا یہ اس کا وہم تھا یا پھر حقیقت۔۔۔

“ضض ضوریز۔۔۔”

ائیزل اس کے عکس کو چھو کر اطمینان کرنا چاہ رہی تھی وہ صرف اس کا وہم تھا۔۔۔ مگر یہ کیا۔۔۔ ائیزل اس کے چہرے پر ہاتھ پھیرتے ہوئے یک دم دور ہوئی تھی ضوریز اسے خالی نظروں سے دیکھنے لگا تھا

“نن نہیں۔۔۔ یہ میرا وہم ہے۔۔۔ ہاں یہ سچ میں میرا وہم ہے۔۔۔”

وہ نفی میں سر ہلاتے ہوئے دیوار سے پشت لگائے بیٹھی شاید خود کو یقین دلانے کی کوشش کر رہی تھی ضوریز اس کی حالت دیکھ کر اندر ہی اندر تڑپ رہا تھا مگر وہ شاید ظاہر کرنا نہیں جانتا تھا

“تم۔۔۔ تم یہاں نہیں آسکتے نہ۔۔۔ تم تو چلے گئے تھے نہ مجھے چھوڑ کر۔۔۔”

وہ انگلی سے اس کی جانب اشارہ کرتے ہوئے ہچکیوں پر قابو پاتے ہوئے گویا ہوئی ضوریز اس کے قریب آ بیٹھا بہت زیادہ قریب۔۔۔ ضوریز نے دوسری ہتھیلی سے اس کے رخسار کو چھوا

“میں کہیں بھی نہیں گیا تھا تمہیں چھوڑ کر۔۔۔ میں ہمیشہ سے تمہارے پاس تھا ائیزل۔۔۔”

ضوریز نے جس نرمی سے اسے چھوا تھا اتنی ہی نفرت سے ائیزل نے اس کا ہاتھ جھٹکا تھا ضوریز اس کے ہر ردعمل سے واقف تھا اس لئے خاموش رہا

“تم کیوں آئے ہو یہاں ہاں؟؟ اور۔۔۔ اور خبردار جو مجھے چھونے کی کوشش بھی کی تم نے۔۔۔ اگر اب تم نے مجھے چھوا تو میں جلا دوں گی خود کو آگ لگا دوں گی سمجھے تم۔۔۔”

وہ پاگلوں کی طرح چینخی تھی ضوریز سنجیدگی سے اسے دیکھ رہا تھا کتنی بدل گئی تھی وہ پہلے کیا تھا اور اب کیا بنا دیا تھا ضوریز کہ جدائی کے غم نے اسے۔۔۔ ضوریز نے آگے بڑھ کر اس کا ہاتھ تھامنا چاہا مگر وہ پیچھے ہٹی وہ خود کو اس کی قربت سے بچا رہی تھی ضوریز کو یہ جان کر اندر ہی اندر عجیب سا درد ہورہا تھا

“آائیزل۔۔۔”

وہ تڑپ کر اس کے مزید قریب آیا تھا اائیزل کی بھیگی آنکھوں میں اپنے لئے نفرت دیکھ کر وہ ٹوٹ رہا تھا

“آائیزل پلیز۔۔۔ پلیز ایسا نہ کرو۔۔۔ مم میں پیار کرتا ہوں تم سے۔۔۔بے پناہ پیار۔۔۔”

ضوریز اس کے انتہائی قریب تھا وہ دیوار سے چپکی بیٹھی اسے محویت سے تک رہی تھی ضوریز نے سگریٹ مسل کر دور پھینکا تھا وہ دونوں ہاتھوں سے اس کے رخسار کو تھامے اس کی آنکھوں میں جھانک رہا تھا

“ائیزل میں۔۔۔ میں بے انتہا محبت کرتا ہوں تم سے۔۔۔ تم ھو سزا دینا چاہو دے دو میں یہی ہوں۔۔۔ مگر مجھے یوں نفرت سے نہ دیکھو۔۔۔ میں برداشت نہیں کر پارہا تمہاری نفرت”

ضوریز کے ہاتھ کانپ رہے تھے وہ آیا تو اسے چھوٹی سی سزا دینے تھا مگر۔۔۔ وہ یہاں آکر مکمل بکھر چکا تھا اس کی وجہ سے ائیزل اس حال میں تھی ضوریز کی لڑکھڑاتی زبان سے نکلے الفاظوں پر وہ اسے غور سے دیکھنے لگی کیا یہ اس کا وہم تھا یا سچ مچ وہ اس سے یہ سب کہہ رہا تھا

“ضوریز تم نے۔۔۔ تم نے توڑ دیا ہے مجھے۔۔۔ تم نے مجھے برباد کردیا ہے۔۔۔”

ائیزل کے آنسوں اب بھی بہہ رہے تھے ضوریز اس کے چہرے کے قریب اپنا چہرہ کر چکا تھا وہ اس کی ہر سانس محسوس کر سکتا تھا

“ائیزل۔۔۔ میں۔۔۔ میں سمیٹ لوں گا تمہیں۔۔۔ میں سب کچھ پہلے کی طرح کردوں گا۔۔۔ بس یوں نہ دیکھو مجھے۔۔۔ میں پاگل ہو جاؤں گا یار ۔۔۔”

آخری والے الفاظوں پر جس شدت سے اس نے ائیزل کر دیکھا تھا وہ تو اس میں کھو سی گئی تھی

ضوریز نے پیشانی ائیزل کی پیشانی پر ٹکائی تھی اس کی گرم جھلستی سانسیں وہ اپنے چہرے پر محسوس کر کے آنکھیں مینچ گئی تھی ضوریز نے پل بھر میں اس کے لبوں پر اپنے لب رکھے تھے کچھ دیر کی شدت کے بعد اچانک سے ائیزل نے اسے خود سے دور کیا تھا ضوریز نہ سمجھی سے اسے دیکھا

“میں نکاح میں ہوں کسی اور کے۔۔۔ تمہارا کوئی حق نہیں مجھ پہ سمجھے تم۔۔۔”

ائیزل چینخی تھی

“تم پر صرف میرا حق ہے آئیز۔۔۔”

ضوریز گمبھیر لہجے میں کہتا ہوا اس کے پھر سے قریب آنے لگا جب ائیزل نے اسے گریبان سے پکڑا آخر وہ کیا کہنا چاہ رہا تھا ضوریز خاموش سے اسے بس دیکھا جارہا تھا اس کا غصہ جائز تھا

“کیسا حق ہاں؟؟ کس حق کی بات کر رہے ہو تم؟؟ جس حق سے خود دستبردار ہوئے تھے تم۔۔۔ دھوکا دے کر چھوڑ کر چلے گئے تھے تم۔۔۔ عیاشیاں عزیز تھیں نہ تمہیں۔۔۔ میں کتنا روئی کتنا تڑپی مگر تمہیں مجھ پر میری حالت پر ذرا رحم نہ آیا تھا۔۔۔ اور اور تم۔۔۔ تم تو اپنی بہن کی وجہ سے میرے قریب آئے تھے نہ۔۔۔ تم۔۔۔ تم نے اپنی بہن کی وجہ سے میرا استعمال کیا تھا۔۔۔ تم۔۔۔ تم نے۔۔۔ تم نے کھیلا تھا مجھ سے ریز میں کسی اور کی ہوجاؤں گی۔۔۔”

وہ کس قدر تڑپ رہی تھی وہ سسکتی ہوئی اسکا گریبان جھنجھوڑ رہی تھی ضوریز کی آنکھیں مزید سرخ تھیں دونوں جانب اشکوں کی برسات عروج پر تھی ضوریز کا ائیزل کا ایسا کہنا پسند نہ آیا تھا وہ ایک جھٹکے سے اسے بازوؤں سے دبوچ کر خود کے قریب کر چکا تھا

“شٹ اپ۔۔۔ جسٹ شٹ اپ!!!”

وہ پوری شدت سے اسے بازوؤں سے تھام کر اس کی بھیگی آنکھوں میں جھانکنے لگا ائیزل جیسے کچھ پل کے لیے اس کی شدت سے کانپ کر رہ گئی تھی

“تم کل بھی میری تھیں آج بھی میری ہو اور ہمیشہ میری ہی رہو گی۔۔۔ کسی ماں کے لال میں اتنی ہمت نہیں کے ضوریز درانی سے اس کی محبت چھیننے۔۔۔ ایسا کرنا تو دور کی بات اگر کسی نے ایسا سوچا بھی تو میں اس کا وہ حشر کروں گا کہ ساتگ نسلیں یاد رکھیں گی۔۔۔”

ضوریز نے جس جنون سے یہ الفاظ کہے تھے اس کی جنونیت دیکھ کر ائیزل کو لگا تھا جیسے وہ واقعی سب کچھ ٹھیک کردے گا وہ پل بھر میں اس کے سینوں میں سر چھپائے زاروقطار رونے لگی تھی ضوریز اس کے گرد حصار بنا کر اسے خود میں بینچے خاموشی سے آنسوں بہا رہا تھا

نجانے کتنے وقت کا غبار تھا نجانے کتنا درد کتنی تکلیف کتنے زخم تھے اس کے اندر وہ آج پہلی بار اس قدر روئی جارہی تھی ضوریز اسے سینے سے لگائے اس کے آنسؤوں کو اپنے سینے میں جذب کر رہا تھا

“ریز میں برباد ہوگئی۔۔۔ میں کسی اور کی ہونے والی ہوں ریز۔۔۔”

وہ جیسے اسے اپنا محافظ مان کر اسے اپنی تکلیف سے آگاہ کر رہی تھی ضوریز نے ضبط سے آنکھیں مینچیں تھیں

“چپ۔۔۔ بلکل بھی نہیں۔۔۔ آئیز صرف ریز کی ہے۔۔۔ اپنے ریز کی۔۔۔ تمہارے اس دونمبر آدمی کا وعدہ ہے تم سے مائے ڈار۔۔۔ میں تمہیں بہت جلد اپنا بنا لوں گا۔۔۔ اور اس دفعہ ہمیشہ کے لیے۔۔۔ اور پھر ہمیں کوئی الگ نہیں کر پائے گا۔۔۔”

ضوریز نے جس استحقاق سے کہا تھا وہ نہیں جانتی تھی وہ کیا کہہ رہا ہے وہ کیا کرنے والا ہے اس کی بات کا مطلب کیا ہے ان سب باتوں کا اب آخر کیا مقصد ہے۔۔۔ بس وہ اتنا جانتی تھی کہ وہ اسے ایک بار پھر سکون بخشنے کا سبب بن رہا تھا

وہ اس کے سینے سے لگی سکون میں تھی اس کے آنسوں خشک ہو چکے تھے ضوریز کی باہوں کے حصار میں وہ خود کو بلکل محفوظ سمجھ رہی تھی اتنا محفوظ کہ اسے پتا ہی نہیں چلا کب وہ سکون کی نیند سو چکی تھی

ائیزل کا وجود ڈھیلا پڑ چکا تھا ضوریز نے اپنے آنسوؤں کو صاف کرتے ہوئے اسے باہوں میں بھر کر بستر پر لٹایا اور کچھ دور یوں ہی اسے اپنے سینے سے لگائے اس کے ساتھ لیٹا رہا

مگر پھر کچھ سوچتے ہوئے کمرے کا حال ٹھیک کر کے سگریٹ کی ڈبیوں کو ڈزبن رسید کر کے کھڑکی کے جس راستے سے آیا تھا ایک نظر سوئی ہوئی ائیزل کو دیکھ کر وہیں سے واپس چلا گیا

☆★☆★☆★☆

وہ اپنے کمرے میں گلاس وال کے سامنے کھڑا باہر سے آتی کرن کو دیکھ رہا تھا جو اندر داخل ہوچکی تھی وہ سیڑھیاں عبور کرتی ہوئی سیدھا آتش کے کمرے میں آئی جہاں وہ دوسری جانب رخ کئے کھڑا سرد آنکھیں لئے اس کا ہی منتظر تھا

وہ آتے کے ساتھ بڑی بے باکی سے آتش کی پشت پر لپٹ گئی جس پر آتش نے ضبط سے آنکھیں بند کیں اسے اب کرن پر غصہ آرہا تھا وہ سب جانتے بوجھتے ہوئے بھی آتش کی پشت پر اپنی باہیں تنگ کئے کھڑی تھی آتش نے اسے خود سے بڑی نرمی سے دور کیا

“واٹ آ سرپرائز کرن۔۔۔”

آتش نے مسکراتے ہوئے کہا جس پر وہ بھی مسکرائی

“بس۔۔۔ دل کیا تم سے ملنے کا تو آگئی۔۔۔”

کرن نے اسکی گردن میں بانہیں ڈال کر کہا جس پر وہ مسکرایا

“بیٹھنے کا نہیں کہو گے؟؟”

کرن نے مصنوعی غصے سے کہا جس پر آتش کی مسکراہٹ مزید گہری ہوئی

“تم مجھ سے دور ہٹو گی تو بیٹھنے کا کہوں گا نہ۔۔۔”

آتش نے گہری سانس چھوڑتے ہوئے جس انداز سے اسے دیکھا تھا کرن جیسے پگھل کر رہ گئی تھی

“کیا کروں۔۔۔ دل ہی نہیں کر رہا تم سے دور جانے کا۔۔۔”

کرن نے آتش کے مظبوط سینے پر سر ٹکاتے ہوئے آنکھیں بند کی تھیں آتش نے ضبط سے مٹھیاں بھینچیں تھیں وہ جو کچھ کر چکی تھی آتش کو وہ اب پہلے سے کئی زیادہ زہر لگ رہی تھی

کل رات جب وہ آتش کو نشے والا جوس پلا کر اس کے پیچھے پیچھے روم میں آئی تھی تب آتش کو اس کی چال سمجھ آ چکی تھی مگر اس کا سر مکمل چکرا چکا تھا وہ اپنے جسم کو خود سے قابو نہیں کر پارہا تھا لیکن اسے سب یاد تھا

کرن نے دم گھٹنے کا بہانا بنا کر نہ صرف اس کی شرٹ کے بٹن کھولے تھے بلکہ اسے بیڈ پر لٹا کر خود سے لگائے کمرے میں موجود اس لڑکے سے ایسی تصویریں بنوائی تھیں کہ جو بھی دیکھتا وہ یقیناً غلط فہمی کا شکار ہوجاتا

تصویر بنوانے کے بعد کرن نے آتش کے گارڈز کو اس کی طبیعت خراب کا کہہ کر اسے گھر بھجوا دیا تھا اور یہ کام بڑی راز داری سے کیا گیا تھا مگر آتش کو سب کچھ یاد تھا وہ بس سچ جاننا چاہ رہا تھا

کیونکہ اگر یہ سازش اسے اور تعبیر کو الگ کروانے کے لیے کی گئی تھی تو اب تک تعبیر اس کے سامنے سوالات کے ڈھیر جمع کر چکی ہوتی مگر ایسا کچھ بھی نہ تھا لیکن یہ بھی سچ تھا آتش اس کی حالت سے ناواقف تھا

☆★☆★☆★☆

وہ کمرے میں خود کو بند کئے گٹھنوں کے بل بیٹھی مسلسل موبائل اسکرین کو گھور رہی تھی جو کب سے اس کے قدموں میں پڑا تھا جس میں آتش اور کرن کی نازیبا حالت کی کچھ جھلکیاں دکھائی دے رہی تھیں

وہ کہہ تو کچھ بھی نہیں رہی تھی مگر اس کا دل مسلسل اسے ملامت کر رہا تھا اس کے آنسوں کسی لاوے کی مانند اُبھر کر اس کے چہرے کو تر کر چکے تھے وہ دونوں ہاتھوں سے چہرہ تھامے وہ بس تصویر کو تکی جارہی تھی جو کچھ دیر پہلے کسی ان نان نمبر سے اسے ریسیو ہوئی تھیں

کل رات وہ کئی بار آتش کے انتظار میں کمرے سے باہر آکر گارڈز سے اس کا پوچھ چکی تھی مگر جب کچھ پل کے لیے اس کی آنکھ لگی تب آتش اپنے پرسنل گارڈز کے ساتھ خیر حالت میں فارم ہاؤس آ چکا تھا وہ کمرے میں بھی جا چکا تھا لیکن یہ بات اسے صبح ملازم سے پتا چلی تھی

یہ جان کر کہ آتش کل رات نشے کی حالت میں تھا اسے بہت دکھ ہوا تھا جو شخص سب کچھ بھلہ کر توبہ کر کے آگے بڑھ چکا تھا کیا وہی شخص واپس اپنے ماضی کی غلطیوں کو دہرا رہا تھا مگر وہ خاموش تھی وہ صبح سے اس کے سامنے بھی نہیں آئی تھی لیکن موبائل پر آئے میسج کے بعد جیسے وہ کچھ بھی بولنے سننے سے قاصر ہو چکی تھی

“تعبیر۔۔۔ میں تم سے پاک رشتہ بنانا چاہتا ہوں۔۔۔ میں تمہارے لیے ہر طرح سے بدلنے کو تیار ہوں۔۔۔ میں نکاح کرنا چاہتا ہوں۔۔۔”

اس کے کانوں پر آتش کی آواز بازگشت ہوئی تھی آتش کے کئی جملے اس کے سماعتوں سے ٹکرائے تھے اس بند کمرے کے ہر کونے سے اس کی آواز سنائی دے رہی تھی جب وہ رو رہا تھا جب وہ تڑپ رہا تھا وہ ساری تڑپ وہ ساری سسکیاں اسے بے چین کر رہی تھیں

“نہیں یہ جھوٹ ہے۔۔۔ آتش غلط نہیں ہو سکتے۔۔۔”

وہ دونوں ہاتھ کان پر لگائے ان آوازوں کو خود سے دور کرنے کی کوشش میں تھی وہ زیرِ لب گویا ہوئی تھی جب اس کے موبائل پر اس ہی نمبر سے کسی کا وائس نوٹ آیا

“یہ تو ہونا ہی تھا۔۔۔ جس کے ساتھ تم زندگی کے خواب دیکھ رہی تھیں وہ شخص کک رات کسی اور کی باہوں میں مدہوش ہو رہا تھا۔۔۔ بہت افسوس ہورہا ہے مجھے تمہاری حالت پر تعبیر کاش تم میری آفر قبول کر لیتیں تو آج آتش تمہارے ساتھ اتنا بڑا گیم نہ کرتا”

وہ اس تمسخرانہ انداز میں کہے گئے جملوں کو سن کر تڑپ اٹھی تھی یہ آواز حاشر خانزادہ کی تھی یقیناً وہ آج بہت خوش تھا وہ یہی چاہتا تھا کہ وہ آتش کی زندگی سے چلی جائے تاکہ وہ آتش کی غیر موجودگی کا فائدہ اٹھا کر ایک بار پھر تعبیر کو اپنی عیاشیوں کی بھیڈ چڑھائے

“مجھے سچ جاننا ہوگا۔۔۔ ہاں۔۔۔ آتش کو آج میرے ہر ایک سوال کا جواب دینا ہوگا۔۔۔ اگر واقعی وہ قصور وار ہیں تو میں کبھی بھی انہیں معاف نہیں کروں گی۔۔۔ کبھی بھی نہیں۔۔۔”

وہ آنسوؤں کو صاف کرتے ہوئے دل میں عہد کرتی ہوئی آتش کے سامنے جانے کی ہمت جمع کرنے لگی تھی

☆★☆★☆★☆

“تم آؤٹ آف کنٹری جارہی ہو؟؟ مگر کیوں؟؟”

آتش کے سوال پر وہ جوس کا گلاس سائڈ ٹیبل پر رکھ کر اسکی جانب مسکراتی نظروں سے دیکھنے لگی

“کیوں کیا تم نہیں چاہتے میں دوسرے کنٹری جاؤں۔۔۔؟؟”

کرن نے چہرے پر مسکراہٹ لئے جس انداز میں سوال کیا تھا آتش اس کے انداز پر اسے دیکھتا ہی رہ گیا تھا

“بھلہ میں کیا کہہ سکتا ہوں۔۔۔ تمہاری لائف ہے تمہاری مرضی۔۔۔ ایٹ لیسٹ نیکسٹ شوٹ تک تو رک جاتیں۔۔۔ ہم سلیبریشن کرنے والے تھے۔۔۔”

آتش نے مصنوعی اداسی لئے کہا جس پر وہ مسکراتے ہوئے کاؤچ پر اس کے بلکل قریب آ بیٹھی

“تو میں کونسا ہمیشہ کے لیے جارہی ہوں۔۔۔ بس کچھ ہی ہفتوں کی تو بات ہے۔۔۔ لیکن اگر تم کہو تو۔۔۔ میں نہیں جاتی۔۔۔”

کرن نے اس کے سینے پر اپنی لمبے ناخنوں والی انگلیاں پھیرتے ہوئے کہا جس پر آتش تعجب سے اسے دیکھنے لگا

“ایسے کیا دیکھ رہے ہو؟؟”

کرن نے انتہائی نزدیک آکر سوال کیا تھا

“دیکھ رہا ہوں تم کس طرح میری ہر بات کا احترام کرتی ہو۔۔۔ کاش تم مجھے پہلے مل جاتیں۔۔۔ تو میں کل والی اناؤسمینٹ تمہارے نام سے کرتا نہ کہ تعبیر علی کے نام سے۔۔۔”

آتش نے سرور بھرے لہجے میں کہتے ہوئے خماری سے اس کی آنکھوں میں دیکھا جہاں تعبیر کے نام پر جلن دکھائی دے رہی تھی

“تمہیں پتا نہیں کیا نظر آیا تھا اس معمولی اسسٹنٹ میں۔۔۔ جو تم نے اتنی بڑی خبر سب کو سنادی۔۔۔ تھوڑا انتظار ہی کرلیتے۔۔۔ میں اپنے ڈیڈ سے بات کرنے والی تھی تمہارے اور اپنے لئے۔۔۔ مگر خیر۔۔۔”

کرن نے منہ بسورتے ہوئے کہا جس پر آتش محویت سے مسکرایا کرن نے آنکھیں چھوٹی کرتے ہوئے اسے گھورا

“تم ہنس کیوں رہے ہو؟؟”

کرن نے خفگی سے سوال کیا

“ہنس نہیں رہا۔۔۔ بس سوچ رہا ہوں واقعی اگر میں تھوڑا صبر کر لیتا تو تم مجھے مل جاتیں”

آتش نے دوسرے ہاتھ سے اسکے بالوں کو سنوارتے ہوئے کہا جس پر وہ مسکرائی

“میں تمہارے ایک اشارے کی منتظر ہوں۔۔۔ ختم کردو تعبیر سے یہ رشتہ۔۔۔ ہم ساتھ میں بہت خوش رہیں گے۔۔۔”

کرن نے آتش کی کی شرٹ کو مٹھیوں میں دبوچتے ہوئے جس خماری سے کہا تھا اتنی ہی چڑ آتش کو اس سے محسوس ہورہی تھی

“شاید تم صحیح کہہ رہی ہو۔۔۔ لیکن میری ایک شرط ہے۔۔۔”

آتش نے اس کے لبوں کو تکتے ہوئے اسے مکمل اپنے سحر میں جکڑ لیا تھا وہ مکمل اس میں کھو سی گئی تھی

“کیسی شرط؟؟”

وہ کھوئے کھوئے لہجے میں کہتی ہوئی اس کے لبوں کے اس قدر قریب تھی کہ اگر آتش اس کے ہونٹوں پر انگلی رکھ کر اسے نہ روکتا تو وہ اس کے لبوں سے جا لگتے

“کل رات میرے جوس میں ڈرنک تم نے ملائی تھی۔۔۔”

آتش کی مسکراتی نظروں پر جہاں وہ گم سی ہوئی تھی وہیں اس کے نرم لہجے میں پوچھے گئے سوال پر وہ چونک کر ہوش کی دنیا میں واپس آئی تھی اس کے ماتھے پر شکن نمودار ہونے لگیں

“کک کیا ڈرنک؟؟ کیسی ڈرنک۔۔۔”

کرن گھبراتے ہوئے اس سے تھوڑا پیچھے ہونے لگی مگر آتش نے اس کی کمر پر اپنی گرفت مضبوط کر کے اسے اپنے مزید قریب کیا

“تم اچھے سے جانتی ہو میں کس بارے میں بات کر رہا ہوں بے بی۔۔۔”

آتش نے دوسرے ہاتھ کے انگوٹھے سے اس کے لپ لوز سے بھرے لبوں کو چھوا تھا مگر لہجہ اب تک انتہائی نرم تھا

“آا آتش وہ۔۔۔ تم۔۔۔ غلط۔۔۔ سمجھ۔۔۔ رہے ہو۔۔۔ میں نے۔۔۔ کچھ بھی نہیں کیا۔۔۔”

وہ آتش کے غصے سے اچھی طرح واقف تھی وہ سیٹ پر سب کے سامنے پہلے بھی بہت لوگوں کی حالت خراب کر چکا تھا وہ اس کے غصے سے ڈرتی تھی وہ اب بھی بہت گھبرا رہی تھی مگر آتش بلکل پرسکون تھا

“تم نے غلط نہیں کیا۔۔۔ تو پھر کل رات مجھے شرٹ لیز کر کے میرے ساتھ پکچرز بنوانے کی وجوہات جان سکتا ہوں میں؟؟ ڈیئر کرن جابر۔۔۔”

آتش نے نرمی سے اس کے لبوں پر رکھے انگوٹھے کو اس کی گردن میں پھیرا تھا جبکہ کرن کی تو سانسیں اس کے حلق میں اٹک چکی تھیں

“آتش۔۔۔ تم۔۔۔ تم غلط سمجھ رہے ہو مجھے۔۔۔ وہ میں۔۔۔”

وہ جیسے اسے صفائی دینا چاہ رہی تھی

“وہ میں کیا؟؟ اور اتنا ڈر کیوں رہی ہو؟؟ میں نے تو تمہیں اب تک اففف بھی نہیں کہا۔۔۔ میں تو بس وجہ جاننا چاہتا ہوں۔۔۔”

آتش نے بہت آہستگی سے اس کے وجود کو اپنی باہوں میں نیم دراز کیا وہ اب مکمل اس کی گرفت میں تھی

“کیا تم نے وہ پکچرز تعبیر کو دیکھانے کے لیے بنوائی تھیں؟؟ تاکہ ہم الگ ہو جائیں؟؟”

آتش اس کی کاجل سے بھری آنکھوں میں کئی حسرتیں لئے جھانکا تھا وہ نہیں سمجھ پارہی تھی وہ سچ جان کر بھی اتنا پرسکون کیوں تھا۔۔۔

“آتش مجھے معاف کردو۔۔۔ یہ سب میں نے۔۔۔ حا۔۔۔ حاشر کے کہنے پر کیا تھا۔۔۔ اس نے مجھے دھمکی دی تھی۔۔۔ میں بہت ڈر گئی تھی۔۔۔”

کرن کے آنکھیں نم پڑھنے لگی تھیں آتش نے انگلی کے پور سے اس کی آنکھوں میں آئی نمی کو صاف کرتے ہوئے اسے خود سے مزید قریب کیا

“یعنی میں غلط تھا۔۔۔ مجھے لگا یہ سب تم مجھے حاصل کرنے کے لیے کر رہی ہو۔۔۔”

آتش نے اس کے سرخ چہرے پر اپنی جھلستی سانسیں چھوڑتے ہوئے کہا تھا کرن اب تک اس کی نیلی آنکھوں میں گم تھی

وہ دونوں ہی اس بات سے انجان تھے کہ تعبیر سیڑھیاں عبور کر چکی تھی جیسے ہی تعبیر اس آدھے کھلی دروازے سے اندر آنے لگی کرن کی آواز سن کر اس کے قدم وہیں باہر تھم گئے تھے سانسیں اٹکنے لگی تھیں

“آتش ایسا ہی ہے۔۔۔ میں۔۔۔ میں تمہیں کھونا نہیں چاہتی۔۔۔ تمہاری وہ سو کالڈ اسسٹنٹ مجھے زہر لگتی ہے۔۔۔ تم سے محبت کرتی ہوں میں میں تمہیں کھونا نہیں چاہتی تھی اس لئے کل رات۔۔۔ ہمارے درمیان وہ سب۔۔۔”

آگے وہ کچھ کہتی آتش نے اس کے لبوں پر انگلی رکھ کر اسے چپ کرا دیا آدھے کھلے دروازے میں سے سرخ آنکھیں یہ منظر دیکھ چکی تھیں کرن آتش کے اس قدر قریب تھی تعبیر کا دل کٹا جارہا تھا جو کچھ کل رات ان کے درمیان ہوا تھا کیا وہ سب سازش نہیں بلکہ حقیقت تھی۔۔۔ یہ سوچ کر ایک درد کی کپکپاتی لہر اس کے جسم میں دور اٹھی تھی

“تم مطلب تم واقعی مجھے حاصل کرنا چاہتی ہو۔۔۔ تو اتنا کچھ کرنے کی کیا ضرورت تھی۔۔۔ تم مجھ سے ڈائریکٹ آکر بات بھی تو کر سکتی تھیں نہ۔۔۔ کیا میں انکار کر دیتا؟؟”

آتش کا ایک ہاتھ اس کی کمر کے گرد رقص کر رہا تھا جبکہ دوسرے ہاتھ کی انگلیاں اس کے رخساروں کو چھو رہی تھیں وہ محویت سے اسے تک رہی تھی کیا وہ واقعی سچ کہہ رہا تھا کیا واقعی اسے اس کا یہ سب کرنا برا نہیں لگا تھا جو وہ اتنا پرسکون تھا

“کیسے کہتی تمہیں؟؟ تم تو شوٹ پر بھی نہیں آرہے تھے کالز بھی پک نہیں کر رہے تھے۔۔۔ تم تو اس سو کالڈ سینوریٹا کے عشق میں گرفتار ہوکر بیمار تک پڑھ گئے تھے۔۔۔ ایسے میں میں بھلہ کیسے تمہیں اپنی حالت سے آگاہ کرتی۔۔۔”

کرن نے بھوئیں اکھٹی کرتے ہوئے مصنوعی سا غصہ دکھایا جس پر آتش یک طرفہ مسکرایا

“تم بھی یہی سمجھ بیٹھیں؟؟ ریئلی۔۔۔ میں تو تمہیں بہت سمجھدار سمجھ رہا تھا مگر تم۔۔۔ تم کافی انوسیںٹ نکلیں۔۔۔”

آتش نے اس کے لبوں کو تکتے ہوئے جس انداز میں یہ الفاظ کہے تھے کرن اسے دیکھتی رہ گئی تھی جبکہ تعبیر دل کے مقام پر ہاتھ رکھے کھڑی اس کے چلتے تیروں کو برداشت کر رہی تھی

“کیا مطلب آتش۔۔۔ میں سمجھی نہیں۔۔۔”

کرن نے نا سمجھی والے انداز میں کہا جس پر وہ یک طرفہ مسکرایا بلاشبہ وہ مسکراتے ہوئے کسی بھی لڑکی کا دل قابو کر سکتا تھا وہ تھا ہی اتنا حسین۔۔۔ اسے ایک لمحہ نہ لگتا تھا کسی کو اپنے سحر میں جکڑنے میں۔۔۔

“مطلب یہ کہ جو کچھ تعبیر کے مطعلق میں نے کہا اور کیا وہ سب پلان کا حصہ تھا اور کچھ نہیں۔۔۔”

آتش کے الفاظوں پر اسے اپنے کانوں پر یقین نہ آیا تھا وہ بھیگی آنکھیں لئے وہاں کھڑی آتش کے بے پرواہ سے لہجے میں کہے گئے الفاظوں پر حیران تھی

“کک کیا مطلب آتش؟؟”

کرن جیسے کرنٹ کھا کر اس سے دور ہوئی اسے حیرت سے دیکھنے لگی جو اب سائڈ ٹیبل پر رکھی وسکی گلاس میں انڈھیل رہا تھا کرن کے اندر خوشی کی لہر دوڑی تھی

“مطلب یہ کہ مجھے اس تعبیر سے کوئی عشق محبت نہیں ہے۔۔۔ یہ سب میں نے اس سے بدلہ لینے کے لیے کیا تھا یہ سارا ڈرامہ میرے پلان کا حصہ تھا۔۔۔”

تعبیر پھٹی پھٹی آنکھوں سے آتش کو دیکھ رہی تھی جو اسے دیکھنے سے قاصر تھا کیونکہ دروازہ اب بھی آدھا بند تھا

“آتش؟؟ واٹ آ سرپرائز یار؟؟ کیا واقعی؟؟ آئی ایم شاکڈ۔۔۔”

ایک پر اسرار مسکراہٹ لئے وہ اس کے سینے سے جا لگی جس پر آتش فاتحانہ انداز میں مسکراتے ہوئے اس کے گرد باہیں ڈال گیا یہ منظر دیکھ کر تعبیر کے آنسؤوں نے مزید رفتار پکڑی تھی اسے اپنے کانوں پر یقین نہیں آرہا تھا کیا واقعی وہ اس کے گیم میں آ چکی تھی

کیا واقعی وہ اس کے ہاتھوں بیوقوف بن گئی تھی لیکن اس کا کیا جو پوری دنیا ان دونوں کی تصویر اور ساتھ ہی ان کے ایک ہونے کی خبر دیکھ کر تعبیر کی قسم پر اش اش کر اٹھے تھے کیا وہ سب بھی اس کھیل کا حصہ تھا

“اوہ کم آن بیبز۔۔۔ کیا تم جانتی نہیں میں ہوں کون؟؟ آتش درانی نام ہے میرا۔۔۔ آتش درانی۔۔۔ بھلہ کیسے کسی مڈل کلاس لڑکی کی محبت میں مبتلا ہو سکتا ہوں میں؟؟ آتش درانی صرف بدلہ لینا جانتا ہے۔۔۔ یہ پیار محبت یہ سب میرے ٹائپ کے کام نہیں جو میں کر بیٹھوں۔۔۔ اور رہی بیمار ہونے کی بات تو میں کوئی بیمار نہیں تھا یہ بس ایک ڈرامہ تھا اسے اپنی محبت کا یقین دلانے کا۔۔۔ اینڈ یو نو نہ کام ہوجانے کے بعد ٹشو کو کس طرح مسل کر پھینک دیا جاتا ہے۔۔۔ بس یہی انجام اس کا بھی ہوگا”

آتش نے وسکی کا گلاس لبوں سے لگاتے ہوئے کہا جس پر کرن مسکراتے ہوئے مزید اس سے چپک گئی جبکہ تعبیر کے لئے اب وہاں کھڑا رہنا مزید مشکل ہو چکا تھا وہ اپنے بے جان وجود کے ساتھ سیڑھیاں اترتی ہوئی اپنے کمرے میں واپس آئی

“اتنا بڑا دھوکا۔۔۔”

ایک جھٹکے سے دروازہ بند کر کے وہ دروازے سے پشت لگائے بیٹھتی چلی گئی گٹھنوں میں منہ دیئے وہ زاروقطار رو رہی تھی وہ آج خود کی نظروں میں بھی گر چکی تھی اس نے سچے دل سے اسے چاہا تھا مگر آتش نے کیا کیا۔۔۔ محبت کے نام پر اتنا بڑا کھیل کھیلا تھا۔۔۔ بھلہ کوئی اتنا کیسے گر سکتا تھا۔۔۔ جتنا وہ گر چکا تھا۔۔۔

“میں آپ کو کبھی معاف نہیں کروں گی آتش۔۔۔ کبھی بھی نہیں۔۔۔”

کچھ دیر یوں ہی بیٹھی وہ اپنی بربادی کا ماتم مناتی رہی پھر کچھ سوچتے ہوئے آنسوں کو صاف کر کے وارڈروب کی جانب آئی

اپنا سامان پیک کیا اپنا موبائل اٹھایا جہاں کل رات سے گھر سے کافی کالز آ چکی تھیں مگر اس نے اب تک شاویز کی کالز کا کوئی جواب نہ دیا تھا وہ اپنا سامان پیک کرتی ہوئی سب گارڈز کی نظروں سے بچ کر فارم ہاؤس کے پیچھلے راستے سے باہر نکل چکی تھی

☆★☆★☆★☆

وہ بے دلی سے اپنے بستر پر بکھرے زیورات کو سمیٹ رہی تھی جو اس کے ڈیڈ نے آج ہی جیولرز سے منگوائے تھے اسے کل رات والا خواب یاد آیا تھا جب ضوریز اس کے پاس تھا مگر جب وہ اٹھی تھی تب وہاں کوئی نہ تھا نہ ہی ضوریز کی کوئی نشانی نہ اس کی سگریٹ نہ ہی اس کا لائٹر۔۔۔

تبھی وہ اس حقیقت کو واقعی ایک خواب سمجھ کر بھولنا چاہ رہی تھی تبھی حریم اس کے کمرے میں آئی ائیزل اسے نظر انداز کرتے ہوئے اپنے کام میں مصروف رہی مگر حریم اس کے مزید قریب آئی

“ائیزل۔۔۔ کیا تم نے اب تک معاف نہیں کیا مجھے؟؟”

حریم نے نرمی سے کہتے ہوئے اس کے چلتے ہاتھوں کو اپنے ہاتھ میں لیا جس پر وہ خاموشی سے زمین کو گھورنے لگی

“بتاؤ ائیزل۔۔۔ کیا تم اب بھی ناراض ہو کیا تم کبھی بھی معاف نہیں کرو گی مجھے۔۔۔”

حریم نے بھری نگاہوں سے اسے دیکھا جو خالی نظروں سے اب اسے دیکھ رہی تھی

“کیسی ناراضگی؟؟ کیسی معافی؟؟ حریم جھوٹ بولا ہے تم لوگوں نے مل کر کھیل کھیلا ہے میرے ساتھ۔۔۔ اور جھوٹ کی کوئی معافی نہیں ہوتی۔۔۔”

ائیزل نے سپاٹ لہجے میں کہتے ہوئے اس کے ہاتھوں کو جھٹکا تھا جس پر وہ ضبط سے آنکھیں بند کر گئی تھی

“تو مطلب اب تم مجھے کبھی بھی معاف نہیں کرو گی؟؟”

حریم نے جیسے تصدیق کرنی چاہی تھی مگر ائیزل اس کے سوال کو مکمل نظر انداز کرتی ہوئی اپنے کاموں میں مصروف رہی

“ائیزل۔۔۔ میں جا رہی ہوں۔۔۔ یہاں سے۔۔۔ ہمیشہ کے لیے۔۔۔”

حریم کی اس بات پر اچانک سے اسے کچھ ہوا جیسے کسی نے اس کی جان نکال دی ہو۔۔۔ وہ نا سمجھی سے اسے دیکھنے لگی جس کی آنکھیں مکمل نم تھیں

“کیا مطلب؟؟”

ائیزل کے سوال پر وہ نظریں جھکائے اس کے مزید قریب آئی اور بنا کچھ کہے اس کے گلے لگ گئی ائیزل یوں ہی ساکت سی کھڑی اس کے جملے کو سمجھنے کی کوشش کر رہی تھی

“میں جانتی ہوں تم مجھے کبھی معاف نہیں کرو گی۔۔۔ تمہیں جھوٹ سے ہمیشہ ہی سے نفرت تھی ائیز۔۔۔ مگر میں مجبور تھی جب مجھے یہ سچ پتا چلا تب چاہ کر بھی میں تمہیں سچائی نہیں بتا سکی۔۔۔ میں شاید تمہاری نفرت کے بھی لائق نہیں۔۔۔ میں جارہی ہوں آئیزل۔۔۔ اب کبھی دوبارہ میں یہاں نہیں آؤں گی۔۔۔ کبھی بھی نہیں۔۔۔”

حریم زاروقطار روتی ہوئی اپنی بات مکمل کر کے ایک جھٹکے سے اس سے دور ہوچکی تھی جبکہ ائیزل اب تک ساکت سی کھڑی اسے ہی دیکھ رہی تھی حریم ایک آخری مرتبہ اسے دیکھ کر وہاں سے چلی گئی تھی مگر ائیزل میں اتنی ہمت نہ تھی کہ وہ اسے روک سکے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *