Lams e Junooniyat by Areesha Khan NovelR50533 Lams e Junooniyat (Episode 38)
Rate this Novel
Lams e Junooniyat (Episode 38)
Lams e Junooniyat by Areesha Khan
“یا اللّٰہ پاک۔۔۔ میری حفاظت فرما۔۔۔ مجھے صحیح سلامت گھر پہنچا دے۔۔۔”
وہ اس وقت اسٹیشن پر بیٹھی ہوئی تھی وہ دل ہی دل میں آتش کی اس خبر کو لے کر بے حد پریشان تھی وہ نہیں جانتی تھی کہ یہ سچ ہے یا جھوٹ لیکن اس کا دل نہیں مان رہا تھا اس کا دل کہہ رہا تھا کل رات آتش کے کہے گئے تمام الفاظ سچے تھے
“یہ کیسی آزمائش ہے یا ربّ۔۔۔ اور میں بھلہ کسی نامحرم کے لیے اتنا پریشان کیوں ہوں رہی ہوں؟؟”
وہ خود کلامی کرتے ہوئے خود ہی شرم سے نظریں جھکا گئی تھی جب اسے محسوس ہوا کوئی اسے دیکھ رہا ہے مگر اسٹیشن پر آتے جاتے تمام لوگ ہی اس اکیلی لڑکی کو دیکھ رہے تھے تعبیر نے ڈوپٹہ سر پر لئے ایک بڑی سی شال سے خود کو کوور کیا ہوا تھا مگر پھر بھی وہ لوگوں کی نظروں سے گھبرا رہی تھی
“تعبیر؟؟”
وہ جو پہلے ہی گھبرائی ہوئی تھی پیچھے سے کسی کی مردانہ آواز پر ڈر کر مڑی تو سامنے حاشر خانزادہ کو کھڑا پایا وہ ہڈی پہنے ماسک لگائے مکمل خود کو کوور کئے ہوئے تھا شاید پبلک سے بچنے کی وجہ سے ورنہ اب تک یہاں رش لگ چکا ہوتا
“حح حاشر؟؟”
وہ بڑی حیرت سے اسے دیکھ رہی تھی
“تم یہاں کیا کر رہی ہو؟؟ کیا کہیں جا رہی ہو؟؟”
حاشر کی بات پر اس نے ہاں میں سر ہلایا
“مگر کہاں؟؟”
اس کے سوال پر تعبیر نے اپنے ڈوپٹے کو ٹھیک کیا
“وہ۔۔۔ واپس کراچی جارہی ہوں۔۔۔”
تعبیر نے سنجیدگی سے کہا جس پر وہ فاتحانہ انداز میں اسے دیکھنے لگا جیسے اس کا بہت بڑا پلان کامیاب ہو چکا ہو
“واپس کراچی؟؟ مگر کیوں؟؟ آئی میں کیا تم نے جاب چھوڑ دی؟؟ اور پھر تم اسلام آباد سے کراچی کیسے جاؤ گی وہ بھی اکیلے؟؟”
تعبیر کو اس کے سوالات کچھ عجیب لگے تھے
“وہ بابا کی طبیعت ٹھیک نہیں ہے۔۔۔ اس لئے مجھے واپس کراچی جانا پڑ رہا ہے۔۔۔”
تعبیر نے نظریں چراتے ہوئے جھوٹ بولا جس پر وہ اسے مزید گہری نظروں سے دیکھنے لگا
“ہممم اچھا۔۔۔ خیر یہ بھی اچھا ہے کہ اس وقت تم واپس اپنے گھر جا رہی ہو وہاں رہنا تمہارے لیے ٹھیک نہیں تھا۔۔۔ جانتی ہو کل پھیلنے والی خبر کے بعد سب آتش کے بارے میں کتنی غلط باتیں کر رہے ہیں۔۔۔ اور ایسے میں تمہارا اس کے پاس جاب کرنا بلکل بھی مناسب نہیں تھا۔۔۔”
حاشر خانزادہ کی بات پر تعبیر نے کوئی جواب نہ دیا مگر وہ ایک ایک الفاظ چبا چبا کر ادا کر رہا تھا ساتھ ہی تعبیر کے چہرے پر سے گزرتے کئی رنگوں کو نوٹ کر چکا تھا وہ سمجھ چکا تھا وہ آتش کے تھوڑی قریب تھی
شاید حاشر کا ایسا کہنا تعبیر کو پسند نہ آیا تھا لیکن اس وقت وہ ایک نہیں تھا نجانے کتنے لوگ آتش کے بارے میں کیسی کیسی باتیں کر رہے ہوں گے یہ سوچ کر وہ خاموش ہوگئ تھی
“تعبیر۔۔۔”
اسے کسی سوچ میں گم دیکھ کر حاشر نے اسے مخاطب کیا جس پر وہ چونک کر اس کی جانب متوجہ ہوئی
“جج جی۔۔۔”
“تعبیر تم میرے ساتھ میرے اپارٹمنٹ پر چلو۔۔۔ تم تمہیں ڈرائیور کے ساتھ کراچی بھجوا دوں گا۔۔۔”
حاشر نے سنجیدگی سے کہا جس پر وہ نفی میں سر ہلانے لگی حاشر نہ سمجھی سے اسے دیکھنے لگا
“مم میں آپ کے ساتھ نہیں جا سکتی۔۔۔ میرا مطلب ہے میں ٹکٹ کر چکی ہوں بس کچھ ہی دیر میں ٹرین آتی ہی ہوگی۔۔۔”
تعبیر نے لڑکھڑاتی زبان کے ساتھ اپنی بات سنبھالی
حاشر نے ایک نظر سرتا پیر اسے دیکھا وہ سادہ سے بے رنگ شلوار قمیض میں ملبوس سر پر دوپٹہ اوڑھے خود کو شال سے کوور کئے اپنا سوٹ کیس لئے کھڑی ہوئی بے بس لاچار لیکن انتہائی حسین لڑکی لگ رہی تھی
“آر یو سیریس تعبیر؟؟ کیا تم اس بھیڑ میں انجان لوگوں کے ساتھ اکیلے سفر کر کے اتنی دور جاؤ گی؟؟ جانتی بھی ہو آج کل کا زمانہ کیسا ہے؟؟ اکیلی لڑکی کو دیکھ کر کوئی بھی کچھ بھی کر سکتا ہے۔۔۔”
حاشر کی بات پر تعبیر اسے دیکھنے لگی کیا وہ واقعی اس کی فکر کر رہا تھا حاشر نے پیشانی مسلتے ہوئے اسے دیکھا
“دیکھو تعبیر میں مانتا ہوں اس وقت تم بہت پریشان ہو۔۔۔ تمہارے بابا کی طبیعت ٹھیک نہیں ہے۔۔۔ لیکن ایز آ فرینڈ میں تمہیں یوں اکیلا تو نہیں چھوڑ سکتا نہ۔۔۔ پھر چاہے آتش کچھ بھی کہہ چکا ہو لیکن میں ابھی بھی تمہارا دوست ہوں مجھے فکر ہے تمہاری۔۔۔ پلیزز تم میرے ساتھ میرے اپارٹمنٹ پر چلو۔۔۔ میں شام سے پہلے پہلے تمہیں ڈرائیور کے ساتھ کراچی روانہ کر دوں گا۔۔۔”
حاشر نے اسے یقین دلاتے ہوئے کہا جس پر وہ کچھ دیر وہیں کھڑی کچھ سوچتی رہی مگر مسلسل لوگوں کو اپنی طرف دیکھتا پا کر اس نے حاشر کے ساتھ چلنے کے لیے حامی بھر لی جس پر وہ فاتحانہ انداز میں ماسک کے اندر سے مسکراتا ہوا اسے اپنے پیچھے آنے کا اشارہ کرتا ہوا آگے چلا گیا
☆★☆★☆★☆
“اففف یہ آج گھر پر اتنا سناٹا کیوں ہے؟؟”
وہ جو کل ساری رات جاگ کر اپنے اسائمنٹ بنانے میں مصروف تھی اب دوپہر میں اٹھ کر پورے گھر کا جائزہ لے رہی تھی جہاں کوئی نظر ہی نہیں آرہا تھا
“اوہ میں تو بھول گئی انکل تو آفس میں ہوں گے ہی مگر آج ائیزل کو بھی آفس جانا تھا۔۔۔ تو کیا وہ مجھے بنا بتائے آفس چلی گئی؟؟ اففف اللّٰہ کاش جگا ہی دیتی مانا کہ آج اتنے اسپیشل ڈے کو میں یونی میں ضائع نہیں کرنے والی تھی لیکن ایٹ لیسٹ صبح سے اٹھ کر اپنے اسائمنٹ تو بنا لیتی۔۔۔”
وہ کل رات اسائمنٹ بنانے میں اتنی مصروف تھی کہ اگر ضوریز اسے فکس ٹائم پر برتھڈے وش نہ کرتا تو شاید وہ اپنا برتھڈے بھول ہی چکی ہوتی
کل رات پورے بارہ بجے جب وہ اپنے اسائمنٹ میں مصروف تھی تب ضوریز نے اسے پہلے میسج پر برتھڈے وش کیا مگر میسج سین نہ ہوتا دیکھ کر اسے کال کر کے برتھڈے وش کی تھی جس پر وہ بے حد خوش ہوگئی تھی
حریم پہلے بہن جیسی ائیزل پھر شاویز جیسا چاہنے والا اور اب ضوریز جیسا بھائی پا کر بے انتہا خوش اور مطمئن تھیں وہ اپنے بارے میں زیادہ تو نہیں جانتی تھی لیکن ضوریز نے اسے اس کے اپنوں سے ملوانے کا وعدہ کیا تھا جن سے ملنے کے لئے وہ بے تاب ہوئی جارہی تھی
ضوریز نے اسے اے ٹو زیڈ سب کچھ بتا دیا تھا حریم کو اب ہر بات کا ہر چھپے راز کا علم تھا لیکن ضوریز نے اسے یہ بھی کہا تھا کہ وہ وقت آنے پر سب کو سب کچھ خود ہی بتادے گا اور حریم اس کی بات پر متفق تھی
“ویسے کتنی بری بات ہے نہ۔۔۔ شاویز نے مجھے برتھڈے وش ہی نہیں کیا۔۔۔اور اور ائیزل۔۔۔ وہ تو ہمیشہ مجھے فکس ٹائم پر وش کرتی تھی نہ۔۔۔ پھر وہ کیسے میرا برتھڈے بھول سکتی ہے۔۔۔؟؟”
وہ معصومیت سے چہرے پر ناراضگی لئے ادھر سے ادھر ٹہل رہی تھی جب بیل بجنے کی آواز سنائی دی وہ اپنا دوپٹہ کندھے پر ڈالے دروازہ کھولنے کے غرض سے باہر گئی جب دروازہ کھولا تو سامنے ڈیلیوری بوئے آہنگ ہاتھ میں ایک باکس لئے کھڑا ہوا تھا
“جی کہیں؟؟”
حریم کے پوچھنے پر وہ اپنے پاس لسٹ میں کچھ چیک کرنے لگا
“مجھے حریم درانی سے ملنا ہے۔۔۔ یہ پارسل ان کا ہے جو صرف انہیں کی ہاتھ میں دینے کا حکم دیا گیا ہے۔۔۔”
ڈیلیوری بوئے کی بات پر پہلے تو وہ اسے غور سے دیکھنے لگی پھر کچھ سوچ کر آگے بڑھی
“میں ہی ہوں حریم درانی۔۔۔”
حریم کی بات پر اس نے اثبات میں سر ہلایا
“میم پلیززز آپ یہاں سگنیچرز کردیں۔۔۔”
اس کے کہنے پر حریم نے پین پکڑ کر اپنا سائن کیا اور باکس تھامے دروازہ بند کر کے اندر آگئی
“آخر یہ کیا ہے؟؟ اور کس نے بھیجا ہے۔۔۔؟؟”
ابھی وہ اپنے کمرے میں آکر اس پر لگی چٹ کر پڑھتی ہی مگر تب ہی اس کا موبائل رنگ کرنے لگا جس پر ائیزل کا نمبر چمک رہا تھا
“ہونہہ آگئی اسے میری یاد۔۔۔”
وہ منہ بسورے کال ریسیو کرنے لگی
“حریم یار۔۔۔ تم اٹھ گئیں؟؟”
ائیزل نے عجلت سے پوچھا
“ہاں اٹھ گئی کیوں تمہیں اب خیال آرہا ہے میرا؟؟”
اس نے ناراضگی ظاہر کی
“یار۔۔۔ سو سوری میں تو بھول ہی گئی تھی کہ۔۔۔”
ابھی آگے وہ کچھ کہتی جب حریم بول پڑی
“ارے سوری کی ضرورت نہیں۔۔۔ ہوتا ہے اکثر دماغ سے نکل جاتا ہے۔۔۔ تم کہو کیا کہہ رہی تھیں۔۔۔”
وہ جلدی سے ناراضگی بھلائے ائیزل کی وشز کا انتظار کر رہی تھی اچانک سے اس کے لہجے کا بدلاؤ محسوس کر کے ائیزل تھوڑی حیران ہوئی
“یار حریم میں بھول گئی تھی تمہیں جگا کر بتانا کہ مجھے آج آفس جانا ہے۔۔۔”
ائیزل کی پوری بات سن کر وہ بھویں اکٹھی کئے فون کو گھورنے لگی
“یعنی تم اس بات پر سوری کر رہی تھیں کہ مجھے بتانا بھول گئیں؟؟”
اس نے حیرت سے سوال کیا
“ہاں نہ پاگل اور کیا بات ہو سکتی ہے”
ائیزل کے جواب پر اس کا موڈ آف ہوا اس کی جانب سے خاموشی پا کر ائیزل کال چیک کرنے لگی جو ابھی بھی چل رہی تھی
“حریم؟؟ تم سن رہی ہو نہ؟؟ میری آواز آرہی ہے تمہیں؟؟”
اسے لگا نیٹ ورک ایشو ہے
“ہاں سن رہی ہوں۔۔۔”
اس نے بیزاری سے جواب دیا
“یار مجھے بہت ضروری بات کرنی ہے تم سے۔۔۔”
“کہو کیا ہوا؟؟”
اسے لگا شاید اب ائیزل اسے وش کردے گی اس لئے ایکسائٹمنٹ کے ملے جلے تاثرات لئے پوچھنے لگی
“یار تم آج فری ہو نہ۔۔۔ یار پلیززز یہاں آکر میری تھوڑی سی ہیلپ کردو۔۔۔”
ایک بار پھر سے حریم کا منہ بنا اور اس دفعہ وہ بہت تپ چکی تھی اس لئے جھنجھلانے لگی
“اففف کیا مسئلہ ہے تمہیں۔۔۔ یہ ہے وہ ضروری بات؟؟”
وہ تنک کر پوچھنے لگی
“ہاں تو اور کیا بات ہو سکتی ہے؟؟ خیر تم بتاؤ آرہی ہو نہ تم؟؟ دیکھو پلیززز گھر ٹھیک سے لاک کر کے آنا اوکے میں ڈرائیور بھیج رہی ہوں۔۔۔”
اس نے بنا جواب جانے فون بند کردیا جبکہ حریم بچاری جس کا موڈ بہت اچھی طرح سے اب خراب ہو چکا تھا وہ پھن پھناتے ہی رہ گئی
“ٹھیک ہے بچو۔۔۔ تم لوگوں کو میری برتھڈے نہیں یاد۔۔۔ اب میں بھی تم لوگوں سے کوئی شکوہ نہیں کروں گی۔۔۔”
وہ دل ہی دل میں پکا ارادہ کرتی ہوئی بولنے لگی کچھ دیر پہلے جب اس نے شاویز کو میسج کیا تو وہ آفس کی مصروفیات کا بتا کر خاموش ہوگیا تھا جبکہ کچھ دنوں پہلے باتوں باتوں میں حریم نے شاویز کو اپنی برتھڈے کا بتا دیا تھا لیکن وہ اتنی جلدی بھول جائے گا حریم نے سوچا بھی نہیں تھا
☆★☆★☆★☆
آتش کو اسے ڈھونڈتے ڈھونڈتے شام ہو چکی تھی اس کا موبائل بھی تب سے اب تک آف جارہا تھا آتش کو اب تعبیر کی اس حرکت پر بے انتہا غصہ آرہا تھا اس کا بس نہیں چل رہا تھا وہ کسی کی بھی جان لے لے اس وقت اس کے گرم دماغ پر خون سوار تھا
ابھی وہ اپنی اسی حالت میں گاڑی دوڑائے سڑکوں پر خوار ہورہا تھا جب اس کا موبائل بجنے لگا جس پر باضل کا نام چمک رہا تھا آتش نے وقت ضائع کئے بنا کال ریسیو کی ابھی وہ اپنا سارا غصہ اس پر اتارنے کی شروعات کرتا مگر باضل کی بات پر وہ اچانک سے گاڑی کو بریک لگا گیا اس کی گاڑی کو رکتا دیکھ کر پیچھے گارڈز بھی اپنی گاڑی روک چکے تھے
“سر تعبیر میم شہر سے کہیں باہر نہیں گئیں لیکن اسٹیشن سے ایک بندے نے خبر کی ہے صبح کے وقت تعبیر میم کسی انجان ماسک والے شخص سے کچھ دیر گفتگو کے بعد اس کے ساتھ گاڑی میں بیٹھ کر کہیں چلی گئی تھی”
باضل نے نان اسٹاپ اپنی بات مکمل کی وہ جانتا تھا اگر کہیں بھی بریک لگایا تو آتش کا غصہ برداشت کرنا پڑے گا اس لئے ایک ہی سانس میں سب کچھ بتا ڈالا جبکہ دوسری طرف آتش کشمکش کی کیفیت میں مبتلا یہ سوچ رہا تھا آخر وہ کس کے ساتھ جا سکتی ہے
“اس شخص کا کوئی حلیہ وغیرہ معلوم کیا؟؟ یا ان کا پیچھا کیا؟؟”
آتش نے گمبھیر لہجے میں پوچھا
“نہیں سر اگر ایسا کچھ کرتے تو آپ کو صبح ہی اطلاع مل جاتی مگر میرے بندے فوری طور پر اس کام کے لیے تیار نہیں تھے۔۔۔”
باضل کی بات پر وہ کچھ دیر تو دماغ پر زور ڈالے سوچتا رہا
“آخر وہ کس کے ساتھ جا سکتی ہے؟؟ وہ یہاں تو کسی کو جانتی بھی نہیں ہے۔۔۔ پھر کون ہو سکتا ہے وہ؟؟”
آتش پیشانی رگڑتے ہوئے آنکھیں بند کئے خود کلامی کر رہا تھا جبکہ باضل اس کے اگلے حکم کا منتظر تھا
آتش نے اچانک سے آنکھیں کھولیں اس کا دماغ بھٹک کر حاشر خانزادہ پر گیا وہ بے یقینی سے کار کے اسٹیرنگ کو گھور رہا تھا جیسے اسے کوئی کھٹکا لگا ہو آتش نے ماتھے پر سے پسینہ صاف کیا حاشر کا سوچ کر ہی اس کی آنکھیں مکمل لال ہو چکی تھیں
“حاشر۔۔۔ وہ شخص حاشر تھا۔۔۔”
آتش کے اچانک بولنے پر باضل الرٹ ہوا
“واٹ؟؟ سر؟؟ آپ نے حاشر کہا؟؟ مگر وہ ایسا کیوں۔۔۔”
وہ بھی شاکڈ تھا مگر آتش کے الفاظوں نے اس کی بات کاٹی
“وہ ہو سکتا ہے۔۔۔ وہ پہلے بھی تعبیر سے اکیلے ملنے کی کوشش کر چکا ہے۔۔۔ وہ اب اپنا اصل کمینہ پن دکھائے گا مجھے اس بات کا سوفیصد یقین ہے وہ خود تو کچھ نہیں کرے گا لیکن۔۔۔ اوہ مائے گاڈ۔۔۔”
وہ بات پوری کرتے ہوئے رکا اس کے دماغ میں ہزار سوچیں آرہی تھیں اسے تعبیر کی عزت اور جان کی فکر کھائی جارہی تھی وہ وقت ضائع کئے بنا گارڈز کو حکم دیتا ہوا موبائل فون وہی سیٹ پر پھینک کر حاشر خانزادہ کے اپارٹمنٹ کی جانب چلا گیا
یقیناً حاشر خانزادہ اسے اپنے مشہور اپارٹمنٹ کے بجائے کسی دوسرے اپارٹمنٹ پر لے کر گیا ہوگا یہ سوچتے ہوئے وہ ایک بار پھر باضل کو کال ملا کر حکم دیتا ہوا کال ڈسکنیکٹ کر گیا
“اگر تو نے تعبیر کو چھوا بھی تو۔۔۔ میں تیرے ہاتھ دھڑ سے الگ کردوں گا حاشر۔۔۔!!!”
وہ سرخ آنکھیں لئے زیرِ لب گویا ہوا اس وقت اسے تعبیر کی بے انتہا فکر ہورہی تھی اس کا بس نہیں چل رہا تھا وہ حاشر خانزادہ کو ابھی اسی وقت موت کی نیند سلا دیتا
غصہ تو اسے تعبیر پر بھی تھا جب وہ اسے ہزار دفعہ تنبیہ کر چکا تھا تو آخر وہ کیوں بار بار بے وقوفوں کی طرح حاشر خانزادہ جیسے گھٹیا انسان پر بھروسہ کر رہی تھی آخر وہ کیوں اس ہی بات مان کر اس کے ساتھ چلی گئی تھی
کیا اسے آتش پر اتنا بھی یقین نہ تھا کہ وہ اس کے ساتھ کچھ غلط نہیں کرتا۔۔۔ وہ جانتی تھی وہ دیکھ چکی تھی آتش نے آج تک اس کے ساتھ کوئی غلط حرکت کرنے کی کوشش نہیں کی تھی بلکہ وہ تو خود اس کئی بار اس کا گرتا ہوا ڈوپٹہ سنبھال کر اسے تھمایا کرتا تھا پھر وہ کیسے اس پر شک کر سکتی تھی
“حد سے زیادہ نرمی برتنے کا یہ سلا دیا ہے تم نے تعبیر۔۔۔ کاش میں ہمیشہ کی طرح اب تک تمہارے ساتھ اس ہی رویئے سے پیش آتا تو یہ نوبت نہ آتی۔۔۔”
ایک ہاتھ سے کار کا اسٹیرنگ گھمائے دوسرا ہاتھ بالوں پر پھیرتے ہوئے وہ سوچنے لگا
وہ پہلے ہی سے اس کی نیت جان چکا تھا حاشر نے کبھی بھی کسی عام لڑکی کو منہ نہیں لگایا وہ جب بھی کسی لڑکی سے بات کرتا تھا یا تعلق رکھتا تھا اس کے پیچھے اس کا کوئی اور ہی مقصد ہوتا تھا
وہ پروڈیوسرز کے ساتھ مل کر معائدہ کرتا تھا وہ اپنے ساتھ تعلقات رکھنے والی ہر لڑکی کو ماڈلنگ کی لالچ دے کر ان کی زندگی برباد کرنے کا سبب بنتا تھا جبکہ تعبیر تو پھر ایک خوبصورت لڑکی تھی وہ یقیناً اس کا بھی سودا کرنے کی کوشش میں تھا اب دیکھنا یہ تھا کہ کیا آتش اسے اس کے اس گھٹیا مقصد میں کامیاب ہونے دیتا یا نہیں۔۔۔
☆★☆★☆★☆
وہ اس وقت ڈاکیومنٹس بنانے میں مصروف تھی کیونکہ واقعی اس بچاری کا آج کا دن بہت برا گزر رہا تھا پہلے ائیزل نے اسے آفس بلا کر آفس کے تمام پینڈنگ کام سمجھائے پھر اسے کرنا سکھایا پھر اسے اپنی رام کہانی سنائی تھی کہ وہ آج کچھ بیزی رہے گی اس لئے تمام فائلز حریم کو مینج کرنی پڑھیں گی
پہلے تو وہ خاموشی سے اس کی تمام باتیں سنتی اور سمجھتی رہی پھر کام کرنے کا سن کر منہ کے عجیب و غریب زاویئے بنائے ان سب کے بعد اس نے ان فائلز پر کام کرنا شروع کیا اور تب سے اب تک وہ ان ہی کاموں میں مصروف تھی
ابھی وہ کافی کا سپ لیتے ہوئے پی سی میں ٹائپنگ کر رہی تھی جب اس کا موبائل بجنے لگا جس پر ائیزل کی کال تھی حریم نے آنکھیں گھمائیں
“اب کیا مسئلہ پیش آگیا ہے تمہیں؟؟”
حریم نے تنکتے ہوئے کہا جس پر دوسری طرف ائیزل اس کے رویئے پر حیران تھی
“کیا ہوگیا حریم کیوں کاٹنے کو دوڑ رہی ہو؟؟ سب ٹھیک ہے نہ؟؟”
ائیزل کے سوال پر اس نے اپنا سر جھٹکا
“ٹھیک رہنے دوگے تم لوگ تو رہوں گی نہ ٹھیک۔۔۔ خیر اب بتاؤ کس لئے فون کیا ہے؟؟”
وہ تیور چڑھائے کہنے لگی جس پر ائیزل نے ہنسی دبائی جبکہ حریم اس بات سے لاعلم تھی کہ اس کی یہ حالت ائیزل کو مزہ دے رہی تھی
“یار تم اپنا کام ختم کر کے پلیززز گھر جلدی آنا۔۔۔ مجھے لگ رہا ہے میری طبیعت نہیں ٹھیک۔۔۔ اور ڈیڈ بھی میٹنگ میں بیزی ہیں مجھے گھر میں اکیلے گھبراہٹ محسوس ہورہی ہے۔۔۔”
وہ جو منہ بنائے بیٹھی تھی ائیزل کی طبیعت کا سن کر اچانک سے پریشان ہونے لگی
“کیا؟؟ ائیزل تم ٹھیک تو ہو نہ کیا ہوا تمہاری طبیعت کو؟؟”
حریم کے گھبرانے پر ائیزل نے سامنے بیٹھے کاظم صاحب کو دیکھ کر آنکھ دبائی جس پر وہ مسکرائے
“تم پریشان نہ ہو۔۔۔ اور کام جلدی ختم کرو تاکہ میرے پاس آ سکو۔۔۔”
ائیزل کی بات پر حریم نے پیشانی رگڑی
“تم پریشان نہ ہو ائیززز میرا کام تقریباً ختم ہو ہی چکا ہے۔۔۔ میں بس کچھ ہی دیر میں گھر پہنچتی ہوں۔۔۔ ٹھیک ہے؟؟”
حریم نے گھبراتے ہوئے کہا وہ واقعی بہت پریشان ہوگئی تھی جبکہ دوسری طرف ائیزل نے اسے خدا حافظ کر کے کاظم صاحب کو تالی ماری
“اب آئے گا مزہ۔۔۔ حریم بی بی۔۔۔”
☆★☆★☆★☆
وہ جلدی سے گاڑی سے اتر کر گھر کے اندر آئی جہاں پورا اندھیرا تھا وہ موبائل کی ٹارچر آن کر کے مین ہال میں داخل ہوئی مگر صورتحال کو نہ سمجھ پائی آخر پورے گھر میں اتنا زیادہ اندھیرا کیسے تھا
“یہ گھر میں اتنا اندھیرا کیوں ہے؟؟ کیا گھر میں کوئی بھی نہیں ہے؟؟ مگر ائیزل تو کہہ رہی تھی کہ۔۔۔”
ابھی وہ مزید خود کلامی کرتی جب اسے لگا اس کے پیچھے سے کوئی گزرا ہو وہ کسی کی آہٹ محسوس کر کے بری طرح سے چونکی تھی
“کک کون ہے؟؟”
وہ ٹارچ سے اطراف میں نظریں دوڑا رہی تھی مگر کوئی نہ تھا اسے لگا جیسے اس کا وہم ہو ابھی وہ ائیزل کا نمبر ڈائل کرتی جب اچانک سے کسی نے اس کا ہاتھ پکڑا جیسے ہی وہ پیچھے مڑی وہاں کوئی نہ تھا وہ اب بے انتہا ڈر گئی تھی
“کک کون ہے یہاں؟؟”
حریم کا پورا وجود پسینے میں شرابور ہو چکا تھا اب اسے اپنی سانس رکتی اور دل بند ہوتا محسوس ہورہا تھا دو تین بار اسے یہ محسوس ہوا کہ کوئی اس کے آس پاس ہے۔۔۔ ابھی وہ مکمل رونے ہی والی تھی جب اچانک سے پورے گھر کی لائٹس آن ہوگئیں
اس کی نظر سامنے کھڑے وجود پر گئی جو ائیزل کا تھا پورا گارڈن سجایا ہوا تھا باقی سب لوگ پیچھے کھڑے اسے برتھڈے وش کر رہے تھے بھٹک کر اس کی نظریں شاویز پر گئیں جو پھولوں کا بکے لئے کھڑا مسکراہٹ اچھال رہا تھا
“ہیپی برتھڈے مائے لوو۔۔۔”
ائیزل کہتے کے ساتھ ہی اس کے گلے لگ گئی اسے یہ سب کوئی خواب سا لگ رہا تھا بے ساختہ اس کی آنکھیں نم ہونے لگیں ائیزل نے اس کے آنسؤوں کو صاف کرتے ہوئے اس نے گال کھینچے
“تمہیں کیا لگا ہم سب بھول گئے؟؟”
ائیزل کی بات پر وہ اسے خفگی سے دیکھنے لگی تو سب ہنس پڑے تبھی آگے بڑھ کر شاویز نے اسے پھولوں کا بکے تھمایا
“ہیپی برتھڈے مائے ڈیئر فیونسی۔۔۔”
شاویز کے وش کرنے پر وہ بلش کر گئی
پھر سب کے ساتھ اس نے کیک کٹ کیا اور تحفے تحائف ریسیو کئے کھانے سے فارغ ہونے کے بعد سب لوگ وہاں سے چلے گئے تھے جبکہ وہ اپنے کمرے میں بیٹھی سب کے دیئے گئے تحفے کھول کر دیکھ رہی تھی
اس وقت اسے اپنے باپ اور بھائی کی کمی شدت سے محسوس ہورہی تھی وہ ضوریز کو بے انتہا یاد کر رہی تھی تبھی اس کی نظر ایک گفٹ پر گئی جو بہت الگ طرح سے پیک کیا گیا تھا
“ہیپی برتھڈے مائے لٹل ڈول۔۔۔”
کارڈ پر لکھے الفاظ پڑھ کر جب اس نے گفٹ کھولا تو اندر سے ایک ایلبم نکلا یقیناً وہ گفٹ ضوریز نے کسی طرح سے اندر بھیجا ہوگا ایک دل چھو لینے والی مسکراہٹ اس کے لبوں پر آئی تھی
جب اس نے ایلبم کھولا تو کسی چھوٹی سی بچی کی بہت ساری تصویریں موجود تھیں اسے یقین نہیں آیا کہ یہ تصویریں اس کی خود کی تھیں کیا ضوریز بچپن سے اس کے آس پاس رکھا کرتا تھا آئیزل ایک ایک تصویر کو خود دلی سے دیکھ رہی تھی تبھی اس کا موبائل رنگ ہوا جس پر ‘برو’ کا نام چمک رہا تھا
“اسلام و علیکم ضوریز بھائی کیسے ہیں آپ؟؟”
حریم نے پرجوش انداز میں پوچھا جس پر ضوریز کے لب مسکرائے تھے اپنی چھوٹی سی ڈول کی آواز پر
“وعلیکم السلام مائے ڈول میں بلکل ٹھیک ٹھاک تم کیسی ہو؟؟ کیا تمہیں گفٹ پسند آیا؟؟”
ضوریز ویسے تو پر ایک سے الگ ہی انداز میں بات کیا کرتا تھا مگر اپنی ڈول کے سامنے نجانے کیوں وہ بہت نرم پڑھ جاتا تھا
“میں ٹھیک ہوں بھائی۔۔۔ اور مجھے آپکا گفٹ بہت بہت بہت زیادہ پسند آیا ہے۔۔۔ مجھے نہیں پتا تھا کہ میں کیسی دکھتی تھی آج ایلبم میں دیکھ کر پتا چلا۔۔۔ اور آپ تو بلکل ہیرو لگ رہے تھے۔۔۔”
حریم نے مسکراتے ہوئے کہا ضوریز بھی مسکرانے لگا
“ہیرو لگ رہے تھے کیا مطلب؟؟ ابویسلی تمہارا بھائی ہیرو ہے۔۔۔”
ضوریز نے ایک اسٹائل سے بالوں میں ہاتھ پھیرتے ہوئے کہا جس پر وہ ہنسنے لگی تو ضوریز بھی ہنسا
“تھنکیو سو مچ بھائی جان۔۔۔ بہت اچھا گفٹ تھا آپ کا سب سے بیسٹ۔۔۔”
حریم کی بات سن کر وہ مسکرایا
“لیکن۔۔۔ بھائی اس میں موم ڈیڈ کی پکچر نہیں تھی۔۔۔”
وہ اداس لہجے میں کہنے لگی جس پر اچانک سے ضوریز کے چہرے پر سے مسکراہٹ غائب ہوئی
“ڈول میں نے تمہیں پہلے بھی بتایا تھا وجاہت درانی صاحب سے میں تمہیں بہت جلد ملوا دوں گا۔۔۔ باقی اگر موم کو دیکھنا چاہتی ہو تو خود کو مرر میں دیکھ لو”
ضوریز کی بات پر وہ مسکرائی
“کیا واقعی میں موم جیسی ہوں؟؟”
وہ ایکسائٹڈ ہوکر پوچھنے لگی
“ہاں بلکل۔۔۔ جبھی تو تمہیں میں ڈول کہتا ہوں۔۔۔ ہماری موم بلکل ڈول جیسی تھیں پھر جب تم ہوئیں تو وہ میں نے تمہیں باربی ڈول کہا تھا تم بلکل ایک چھوٹی سی نازک سی گڑیا کی طرح تھیں”
ضوریز لہجے میں کتنی محبت لئے اپنی ڈول کو اس کا بچپن بتا رہا تھا جسے وہ بڑی دلچسپی سے سن رہی تھی
“اوہ اچھا؟؟ بھائی کاش موم ہمارے درمیان ہوتیں۔۔۔”
اس نے ایک ٹھنڈی سانس لی
“ہمم کاش۔۔۔ اگر وہ ہوتیں تو تمہیں اپنے پیاروں سے دور کبھی نہ ہونے دیتیں۔۔۔”
ضوریز نے دھیمے لہجے میں کہا
“بھائی آپ ڈیڈ کے ساتھ کیوں نہیں رہتے؟؟ اور وہ اس وقت کہاں ہیں؟؟”
حریم کے سوال پر وہ خاموش سا ہوگیا وہ نوٹ کر چکی تھی وہ کبھی بھی اپنے ڈیڈ کو ڈیڈ کہہ کر نہیں پکارتا تھا بلکہ جب بھی ان کا ذکر کرتا تھا ان کا پورا نام لے کر کرتا تھا شاید وہ اپنے باپ کے لئے دماغ میں منفی سوچ رکھتا تھا
“مجھے امیروں کے ساتھ رہنا پسند نہیں۔۔۔ اور وہ اس وقت آؤٹ آف کنٹری ہیں۔۔۔ اینڈ پلیززز تم یہ سب چھوڑو اور اب آرام کرو شاباش بہت رات ہو چکی ہے۔۔۔”
وہ بات ختم کرتا ہوا کہنے لگا حریم سمجھ چکی تھی وہ مزید اس بارے میں بات نہیں کرنا چاہتا
“ہممم آپ ٹھیک کہہ رہے ہیں۔۔۔ خیر آپ اپنا خیال رکھئے گا بھائی۔۔۔”
اس نے پیار بھرے لہجے میں کہا جبکہ اس کی میٹھی زبان سے نکلا گیا الفاظ ‘بھائی’ جس پر ضوریز پگھل سا جاتا تھا اسے اپنی ڈول پر ٹوٹ کر لاڈ آتا تھا
“گڈ گرل تم بھی اپنا خیال رکھنا اوکے۔۔۔ اللّٰہ حافظ۔۔۔”
“اللّٰہ حافظ بھائی۔۔۔”
وہ ابھی فون بند کرتی مگر پھر سے ضوریز کی آواز آئی
“اچھا سنو۔۔۔”
اس کے مخاطب کرنے پر وہ رکی
“جی بھائی۔۔۔؟؟”
“کچھ نہیں ٹیک کیئر۔۔۔”
اس کے سوال پر کچھ پل کے لیے تو دوسری طرف خاموشی رہی مگر پر دھیمے لہجے میں یہ الفاظ سنائی دیئے اور کال ڈسکنیکٹ ہوگئی وہ سمجھ چکی تھی وہ کیا پوچھنا چاہ رہا تھا
☆★☆★☆★☆
صبح سے شام اور اب رات ہوچکی تھی مگر اب تک وہ اس کمرے میں بند تھی اس کی حالت مزید خراب ہو چکی تھی جب حاشر اسے یہاں لے کر آیا تھا تو خود ضروری کام کا کہہ کر وہاں سے چلا گیا تھا جبکہ اس کے حکم پر اس کے ملازموں نے تعبیر والے کمرے کو باہر سے لاک کر دیا تھا
تب سے اب تک وہ مسلسل روئی جارہی تھی یقیناً وہ حاشر کی نیت سب سمجھ چکی تھی مگر سچ تو وہ اب بھی نہیں جانتی تھی اب اسے خود پر غصہ آرہا تھا اسے لگ رہا تھا وہ کسی کویں سے نکل کر کھائی میں جا گری ہے وہ اب صحیح معنوں میں پچھتا رہی تھی
“آااخر کیا قصور ہے میرا جو۔۔۔ جو بار بار میرے ساتھ۔۔۔ ایسا کیا جاتا ہے۔۔۔”
وہ سرخ آنکھوں کو مزید رگڑتے ہوئے کہنے لگی اس کا پورا چہرہ سرخ پڑھ چکا تھا مزے کی بات یہ تھی کہ وہ یہاں سے کسی سے رابطہ بھی نہیں کر سکتی تھی کیونکہ اس کا سامان موبائل سمیت گاڑی میں تھا
“میں نے تو کبھی کسی کا برا نہیں چاہا۔۔۔ میں نے تو کبھی کسی کے ساتھ غلط نہیں کیا۔۔۔”
وہ اپنی چھوٹی سی ناک کو رگڑتے ہوئے زیرِ لب کہنے لگی آج پھر سے اس کی عزت پر بن آئی تھی
“یا اللّٰہ پاک کوئی تو راستہ بنا۔۔۔ مجھے اس عذاب سے بچالے۔۔۔ میں نے یہاں آکر اور اس گھٹیا انسان پر بھروسہ کر کے بہت بڑی غلطی کی ہے۔۔۔ میری عزت کی حفاظت فرما۔۔۔”
ابھی وہ ہاتھ اٹھا کر دعا ہی کر رہی تھی جب اچانک سے دروازہ کھلا اور سامنے سے حاشر دو تین مردوں کے ساتھ چلتا ہوا اندر آیا جس پر وہ اپنے سر پر دوپٹہ کر کے کھڑی ہوئی اور نفرت بھری نگاہوں سے حاشر کو گھورنے لگی
“اُپس۔۔۔ سو سوری میں زیادہ لیٹ ہوگیا۔۔۔ وہ کیا ہے نہ پروڈیوسر صاحب کے ساتھ مصروف تھا۔۔۔ تمہیں یہاں کوئی تکلیف تو نہیں ہوئی؟؟”
وہ ڈھیٹوں کی طرح کہتا ہوا ہنسنے لگا جس پر تعبیر سرخ آنکھیں لئے اسے غصے سے دیکھنے لگی
“آپ اس قدر گھٹیا انسان نکلیں گے یہ میں نے کبھی سوچا بھی نہیں تھا۔۔۔ اللّٰہ آپ سے اس کا حساب ضرور لے گا۔۔۔ آپ کا یہ چھپا ہوا چہرہ بہت جلد سب کے سامنے آئے گا۔۔۔”
وہ کڑوے لہجے میں کہنے لگی جس پر حاشر کمینگی سے ہنسا
“ریلی؟؟ اور کون لائے گا میرا یہ چہرہ سب کے سامنے؟؟ تم؟؟ جو کچھ دیر بعد خود ایک وحشی پروڈیوسر کی گرفت میں آنے والی ہے۔۔۔”
وہ نا سمجھی سے اسے دیکھنے لگی کیا وہ اس کا سودا کر چکا تھا کیا واقعی وہ اتنا ہی گھٹیا انسان تھا
“کیا مطلب ہے آپ کا؟؟ یہ کیا بکواس کر رہے ہیں آپ؟؟ آپ اس قدر گر سکتے ہیں؟؟”
تعبیر چینخی تھی جس پر حاشر کا قہقہہ نکلا
“میں تو اس سے بھی زیادہ گھٹیا ہوں مس تعبیر علی۔۔۔ اب پیار سے تو تم نے ماننا نہیں تھا اس لئے سوچا کیوں نہ چپ چاپ تمہارا سودا کر کے تمہیں سرپرائز دیا جائے۔۔۔”
“بس کردیں۔۔۔ آپ میرے ساتھ ایسا نہیں کر سکتے۔۔۔ آپ کے اندر خوفِ خدا ہے بھی یا نہیں؟؟”
وہ اونچی آواز میں کہنے لگی
“میں اپنا خدا خود ہوں۔۔۔ تیار ہو جاؤ سرمد صاحب کے سامنے پیش ہونے کے لئے۔۔۔”
وہ اس کے قریب آکر اس کا بازوں پکڑنے لگا جس پر وہ مزاحمت کرنے لگی
“ویسے ماننا پڑے گا۔۔۔ بہت خوش نصیب ہو تم ایک سے ایک لڑکی دکھائی ہے سرمد صاحب کو میں نے لیکن انہیں لاکھوں میں صرف ایک ہی چہرہ پسند آیا ہے۔۔۔ وہ بھی تم۔۔۔ اچھی خاصی رقم ملے گی تمہیں بھی اور مجھے بھی”
حاشر کمینگی سے کہتا ہوا گھسیٹ کر اسے اپنے ساتھ لے جانے لگا جبکہ باقی کے تینوں مرد شاید اس نے تعبیر پر نظر رکھنے کے لیے باہر رکھے ہوئے اب اس کے پیچھے چلنے لگے
“چھوڑو مجھے۔۔۔ میں نے کہا چھوڑو مجھے خدا کا واسطہ ہے تمہیں۔۔۔ کچھ تو خیال کرو۔۔۔ کل کو تمہارے آگے بھی بیٹی ہوگی۔۔۔”
وہ مسلسل چینخی چلائی جا رہی تھی مگر وہ گھٹیا انسان جس پر پیسوں کا بھوت سوار تھا وہ اسے گھسیٹتا ہوا ایک بہت بڑے کمرے میں لایا مگر وہاں کوئی نہ تھا
“بس کچھ دیر اور انتظار۔۔۔ پھر۔۔۔”
آگے اس کا زور دار قہقہہ نکلا تھا جبکہ ساتھ ہی ایک زنانہ قہقہہ بھی سنائی دیا تھا جس تعبیر کی نظر دوسری طرف پڑی تو وہ حیران کن انداز میں اس بے شرم لڑکی کو دیکھنے لگی جو اس وقت نا زیبا کپڑوں میں ملبوس کھڑی اسے ہی دیکھ رہی تھی
وہ کوئی اور نہیں بلکہ ردا ریاض تھی اب وہ صورتحال سمجھ چکی تھی یہ دراصل ایک کٹھ جوڑ تھا یہ ملی بھگت تھی جو آتش اور تعبیر دونوں کے خلاف سازش تھی ردا چلتی ہوئی تعبیر کے سامنے آکھڑی ہوئی اور شیطانی انداز میں مسکرانے لگی
“تمہیں کیا لگا؟؟ تم آتش کو مجھ سے چھین لو گی اور میں ایسا ہونے دوں گی؟؟ غلط فہمی ہے تمہاری۔۔۔ میں آتش کو تم سے دور نہ کر سکی میں اس کے دل سے تمہیں نہ نکال سکی لیکن۔۔۔ اب۔۔۔ جب اسے یہ پتا چلے گا کہ اس کی محبت کسی اور کے ساتھ بستر ۔۔۔”
پورے الفاظ کہے بنا وہ ڈھٹائی سے ہنسنے لگی جبکہ اس کی آنکھوں میں اس کے لہجے میں ایک عجیب ہی جلن تھی جو تعبیر محسوس کر چکی تھی مگر تعبیر اس کے الفاظ پر حیران تھی وہ نا سمجھی سے اسے دیکھ رہی تھی بھلہ آتش کیوں تعبیر کو اپنے دل میں رکھ رہا تھا جو وہ نکالنے کی بات کر رہی تھی
“کیا ہوا؟؟ انجانوں کی طرح کیوں دیکھ رہی ہو؟؟ کیا تمہیں نہیں پتا کہ آتش کی تم پر نظر ہے؟؟ اتنی معصوم بھی نہیں تم کہ اس کی نظروں میں اپنے لئے پسندیدگی محسوس نہ کر سکو۔۔۔”
ردا نے نفرت سے چور لہجے میں کہا تعبیر اب بے یقینی سے اپنا سر تھامے زمین کو گھوری جارہی تھی اتنا تو وہ بھی جانتی تھی آتش کا لہجہ اس کا رؤیہ اب کافی بدل گیا تھا وہ اب اس سے ٹھیک سے پیش آتا تھا مگر وہ یہ سب نہیں جانتی تھی جو ردا اسے بتا رہی تھی
“ایسا۔۔۔ ایسا نہیں ہے۔۔۔ تم لوگوں نے مل کر سازش کی ہے نہ ہم دونوں کے خلاف؟؟”
تعبیر نے نفرت بھری نگاہوں سے سامنے کھڑے دو وجودوں کو دیکھا جس پر وہ دونوں ایک دوسرے کو دیکھنے لگے
“تم۔۔۔ تم لوگوں نے مل کر یہ سارا کھیل کھیلا تھا نہ؟؟ یعنی۔۔۔ یعنی آتش سر کی کوئی غلطی نہیں ہے؟؟ یعنی تم نے ان پر جھوٹا الزام لگایا تھا؟؟”
اب اسے یہ بات بھی سمجھ آگئی تھی ردا آج اس کی نظروں سے بری طرح گر چکی تھی
“ہاں بلکل ایسا ہی ہے۔۔۔ اسے میں نے کتنا سمجھایا کہ وہ تم جیسی عام لڑکی سے دور رہے مگر وہ نہیں مانا۔۔۔ نجانے کیا ہے تم میں ایسا کہ اتنا بڑا اسٹار تم پر دل و جان سے فدا ہوگیا ہے وہ جس کی ایک جھلک کے لئے کروڑ پتی باپ کی بیٹیاں تڑپتی ہیں وہ ایک مڈل کلاس لڑکی پر دل ہار بیٹھا ہے۔۔۔ انٹرسٹنگ”
ردا اسے حقارت بھری نگاہوں سے دیکھنے لگی تعبیر اس کی باتوں پر حیران تھی کیا یہ سب واقعی میں سچ تھا کیا واقعی آتش اس سے محبت کرنے لگا تھا تبھی ہمیشہ وہ اس کا گرتا ہوا ڈوپٹہ تھام لیا کرتا تھا چاہتا تو وہ اس کے ساتھ غلط کر سکتا تھا مگر اس نے ایسا نہ کیا
“آپ لوگ کتنے گھٹیا ہیں ۔۔۔ اللّٰہ کا عذاب نازل ہوگا آپ لوگوں پر۔۔۔ ایک دن وہ رب آپ کو منہ کے بل گرائے گا۔۔۔ “
وہ غصے سے پھنکارنے لگی جس حاشر نے آگے بڑھ کر اس کے بازؤں کو جکڑا وہ اس کے چھونے پر اچھلی تھی مگر مزاحمت بیکار رہی
“بند کرو اپنی بکواس!!! اور جب تک سرمد صاحب نہیں آجاتے تب تک اپنی زبان بند رکھنا باقی اگر ان کے سامنے تم نے یہ زبان کھولی تو رحم تو وہ بلکل بھی نہیں کرتے۔۔۔ اب تم اور وہ اس پورے اپارٹمنٹ پر اکیلے ہوں گے۔۔۔ خوب جشن ماننا۔۔۔”
حاشر نے اسے جھٹکے سے بیڈ پر پٹخا اور ردا کے ساتھ وہاں سے چلا گیا اس کے جاتے ہی ان چند مردوں میں سے ایک نے دروازہ باہر سے بند کردیا وہ بھاگتی ہوئی دروازے کی جانب لپکی وہ زور زور سے دروازہ پیٹ رہی تھی مگر کوئی نہیں تھا جو اس کو بچا سکے
“خدا کا واسطہ ہے مجھے جانے دو۔۔۔ یا اللّٰہ پاک میری مدد کر۔۔۔ میں۔۔۔ میں برباد ہوجاؤں گی۔۔۔”
وہ دروازے سے لگ کر بیٹھتی چلی گئی اس کا چہرہ آنسوؤں سے تر ہو چکا تھا اس کا دماغ پھٹ رہا تھا وہ بہت بڑی مشکل میں پھنس چکی تھی اور یہ حال اس کی اپنی حماقت کی وجہ سے تھا
☆★☆★☆★☆
“کیا؟؟ اس کا مطلب یہ دونوں مل چکے ہیں؟؟ میں انہیں نہیں چھوڑوں گا”
آتش ان کی ساری باتیں کال پر سن چکا تھا کیونکہ ان تین مردوں میں سے ایک باضل کا بھیجا گیا جاسوس تھا باضل اس وقت آتش کے ساتھ تھا وہ اپنے جاسوس کے ذریعے یہ ساری باتیں آتش کو سنا چکا تھا وہ لوگ یہ بھی جان گئے تھے کہ حاشر اس وقت اپنے کس اپارٹمنٹ پر موجود ہے
“سر آہستہ چلائیں۔۔۔”
باضل اسے غصے میں دیکھ کر کہنے لگا کیونکہ آتش جس انداز سے تیز رفتار میں گاڑی بھگا رہا تھا یقیناً ان کا صحیح سلامت پہنچنا مشکل تھا آتش نے کھا جانے والی نظروں سے اسے گھورا
“جسٹ شٹ اپ!!! اس کی عزت خطرے میں ہے اور تم کہہ رہے ہو۔۔۔ آہستہ چلاؤں؟؟”
آتش نے گاڑی کی رفتار مزید تیز کردی اب گاڑی دوڑنے کے بجائے اڑھ رہی تھی جبکہ باضل دل ہی دل میں اپنی زندگی کی دعائیں کر رہا تھا
وہ کب سے گٹھنوں میں منہ دیئے بیٹھی اپنے لئے دعائیں مانگ رہی تھی جب بڑی آہستگی سے دروازہ کھلا اور ایک بڑی عمر کا لمبا چوڑا شخص دبے پاؤں اندر داخل ہوا اس کے چہرے پر کمینگی جھلک رہی تھی کلیجی مائل ہونٹوں پر شیطانی مسکراہٹ نمودار تھی تعبیر اس انسان آدمی کو دیکھ کر بہت بری طرح سے ڈری تھی
“تم ہو وہ پری جسے میں نے تصویر میں دیکھا تھا؟؟ مگر تم تو۔۔۔ تصویروں سے کئی زیادہ خوبصورت ہو۔۔۔”
وہ وحشی انسان ایک ایک الفاظ چباتے ہوئے ادا کرتا ہوا اس کے قریب آنے لگا جس پر وہ اٹھ کھڑی ہوئی اور پیچھے کو ہونے لگی
“ڈرو مت!!! میں اتنا بھی ظالم نہیں ہوں۔۔۔ بہت پیار دوں گا تمہیں آج۔۔۔ اور منہ مانگی رقم دوں گا۔۔۔”
سرمد کہتا ہوا اسے سرتا پیر آنکھیں پھاڑ پھاڑ کر دیکھ رہا تھا وہ اپنے رخساروں پر رقص کرتے آنسوؤں کو ہتھیلی سے رگڑتی ہوئی اسے غصے اور خوف کے ملے جلے تاثرات لئے گھورنے لگی
“قریب مت آنا میرے۔۔۔ دور رہیں مجھ سے۔۔۔”
تعبیر ڈری تھی جب وہ لپک کر اسکے بازوؤں کو پکڑنے کی کوشش کرنے لگا تھا وہ اچانک سے دیوار پر جا لگی سرمد کا ایک زور دار قہقہہ نکلا جس پر وہ مزید خوف زدہ ہوئی
“شاید تمہیں آج سے پہلے کسی نے نہیں چھوا۔۔۔ میں نے صرف ایسا سنا تھا لیکن۔۔۔ تم واقعی مجھے فریش پیس لگ رہی ہو۔۔۔”
وہ دیوار پر دونوں ہاتھ رکھ کر اسے گھورنے لگا تعبیر نے نفرت بھری نگاہوں سے اسے دیکھ کر رخ بدلا وہ تو اسے چھو کر دور کرنا بھی نہیں چاہتی تھی وہ دل ہی دل میں دعائیں کر رہی تھیں
“اللّٰہ پاک۔۔۔ کوئی معجزہ کردے۔۔۔ کوئی فرشتہ بھیج دے۔۔۔ مجھے اتنے بڑے ظلم سے بچالے میری عزت بچالے میرے ربّ۔۔۔”
وہ دل ہی دل میں مسلسل گڑگڑا رہی تھی آنسوں تیزی سے اس کے چہرے کو بھگو رہے تھے ابھی سرمد اس کے چہرے کو چھونے کی کوشش کرتا جب تعبیر نے برابر رکھا واز اس کے سر پر دے مارا جس سے وہ زمین پر جا گرا
وہ بھاگتی ہوئی دروازے کی جانب لپکی مگر وہ بھیڑیا اپنے زخمی ماتھے کا خون صاف کرتے ہوئے خونخوار نظروں سے اسے گھورتا ہوا اس کا بازوں پکڑنے لگا
“چھوڑو مجھے۔۔۔ میں نے کہا چھوڑو۔۔۔”
وہ ہاتھ چھڑانے کی کوشش کرنے لگی جس پر سرمد نے اسے بیڈ پر پٹخا ابھی وہ اس پر جھکنے کی کوشش کرتا جب تعبیر نے پوری طاقت سے اسے دور دھکا دیا البتہ وہ پیچھے تو نہ ہوا مگر اس کا زور دار تھپڑ تعبیر کے رخسار کی زینت بن گیا وہ پھٹی پھٹی نم آنکھوں سے اسے دیکھنے لگی
“سمجھتی کیا ہے خود کو ہاں؟؟ تجھ جیسی ہزاروں کو میں ان کی اوقات یاد دلا چکا ہوں۔۔۔ تجھے بھی دلاؤں گا۔۔۔ اور تجھے اس آتش درانی کے لائق نہیں چھوڑوں گا سمجھی ۔۔۔”
وہ بے غیرت انسان اس نازک سی لڑکی کے جبڑے دبوچ کر چینخا تھا وہ ڈری سہمی مسلسل روئی جارہی تھی
“بہت ناز ہے نہ تجھے اپنی عزت پر اپنی خوبصورتی پر۔۔۔ اب دیکھ میں تیری خوبصورتی کا کیسے استعمال کرتا ہوں۔۔۔”
ابھی وہ ہاتھ آگے بڑھا کر اس کے کاندھے سے ڈوپٹہ کھینچتا اچانک سے دروازہ بجنے لگا وہ سرخ آنکھیں لئے باہر کھڑا دروازہ توڑنے کی کوشش کر رہا تھا
“تعبیر۔۔۔ تعبیر تم ٹھیک ہو نہ۔۔۔”
وہ ڈر اور غصے کے ملے جلے تاثرات لئے دروازہ توڑنے کی کوشش کر رہا تھا تعبیر آتش کی آواز سن کر بے صبری سی ہوئی تھی اسے وہ فرشتہ لگا تھا آج دوسری بار وہ اسے بچانے آیا تھا جبکہ سرمد بے یقینی سے بند دروازے کو گھور رہا تھا
“آا آتش۔۔۔ پلیززز مجھے بچالیں پلیززز۔۔۔”
وہ زارو قطار رو رہی تھی آتش کی موجودگی محسوس کر کے اس کے دل کو سکون سا ملا تھا ایک امید جاگی تھی وہ مسلسل آتش کو پکار رہی تھی جو دروازے پار دیوانہ وار اسے بچانے کے لیے بدک رہا تھا
آخر کار ایک جھٹکے سے دروازہ کھلا وہ بڑے بڑے ڈگ بھرتا ہوا اندر کو آیا ایک جھٹکے سے سرمد کا گریبان پکڑ کر اسے دور دھکیلا دیا جس پر وہ شیشے کے ٹیبل پر جا گرا اس کا چہرہ شیشے کے ٹکڑوں کی وجہ سے خونم خون ہو چکا تھا
“تعبیر۔۔۔”
وہ بپھرے ہوئے شیر کی طرح زمین پر پڑے اس شیطان کو گھور رہا تھا مگر اس وقت اس کا دل تعبیر کے لئے تڑپ رہا تھا وہ اپنی نیلی آنکھوں میں سرخی کے ساتھ ساتھ تعبیر کی بے انتہا فکر لئے اسے پکارنے لگا
“آتش۔۔۔”
ہو بے ساختہ اس کی جانب دوڑی اور آگے بڑھ کر اسے سینے سے لگا گیا وہ آنکھیں بند کرے اسے قریب محسوس کر کے شاید خود کو سکون بخش رہا تھا وہ اس کے سینے پر سر ٹکائے مسلسل روئی جارہی تھی اس مشکل وقت میں آتش اسے اپنا سا لگا تھا
“تعبیر۔۔۔ اس نے کچھ کیا تو نہیں نہ؟؟ بتاؤ مجھے ہاں؟؟”
آتش دونوں ہاتھوں سے تعبیر کے رخسار کو تھامے بے فکری سے سوال کرنے لگا جس پر وہ سرخ آنکھوں سے نفی میں سر ہلانے لگی مگر اس کے گال پر انگلیوں کے سرخ نشان آتش کی رگیں اُبھارنے کے لئے کافی تھے
“اس نے ہاتھ اٹھایا ہے تم پر؟؟”
وہ سخت لہجے سے پوچھنے لگا جس پر تعبیر نے نظریں جھکائیں ایک پل بھی ضائع کئے بنا آتش نے پیچھے مڑ کر زمین پر پڑے آدمی کو گریبان سے پکڑ کر کھڑا کیا اور اس کے منہ پر مکوں کی برسات کردی وہ منہ پر ہاتھ رکھے کھڑی آتش کا غصہ دیکھ رہی تھی
“تیری اتنی ہمت؟؟ کہ تو نے میری تعبیر پر ہاتھ اٹھایا۔۔۔ ہاں۔۔۔”
آتش نے اس کا سر سامنے لگے شیشے پر مارا جس سے اس اس کا چہرہ مزید زخمی ہوگیا وہ شخص بلکل نڈھال ہو چکا تھا اس نے اب تک کوئی مزاحمت نہیں کی تھی
“تیری جرت کہ تو نے میری تعبیر پر گندھی نظر ڈالی۔۔۔ میں تیری نسلیں تباہ کردوں گا!!!”
آتش مسلسل اسے پٹخا جارہا تھا کبھی کھڑی پر کبھی کمرے میں موجود شیشوں پر وہ شخص اب بے ہوشی کی حالت میں تھا ابھی آتش کا غصہ کم ہوا نہیں تھا کہ اس شخص کا ایک زور دار قہقہہ نکلا
“تت۔۔۔ تم نے آنے میں۔۔۔ بہت دیر۔۔۔ کردی ہے۔۔۔ اے ڈی۔۔۔”
سرمد اپنی کھل بند ہوتی آنکھوں سے آتش کو دیکھ کر ہنسا جارہا تھا آتش کے دماغ کی رگیں پھٹ رہی تھیں وہ اس وقت اتنے زیادہ غصے میں تھا کہ وہ کسی کی بھی جان لے سکتا تھا
“کیا مطلب ہے تیرا۔۔۔ ہاں۔۔۔ بول۔۔۔!!!”
آتش نے ایک اور زور دار مکا اس کی ناک پر مرا جس سے اس کا پورا منہ سوجھنے لگا مگر وہ اب تک اپنی مکروہ مسکراہٹ کے ساتھ ہنسا جارہا تھا آتش کے سر پر خون سوار تھا وہ پوری قوت سے اس کا گریبان پکڑے کھڑا تھا
“مطلب۔۔۔ یہ کہ۔۔۔ تمہاری۔۔۔ تعبیر کو میں۔۔۔ چھو چکا ہوں۔۔۔ اب وہ۔۔۔ تمہارے لائق نہیں رہی۔۔۔”
وہ پورے استحقاق سے جھوٹ بولنے لگا جس پر آتش اسے مزید گھورنے لگا آتش کا بس نہیں چل رہا تھا وہ اس بے غیرت گھٹیا انسان کو کچا چبا جائے
تعبیر یہ الفاظ سننے کے بعد زمین پر بیٹھتی چلی گئی آتش نے ایک نظر تعبیر کو دیکھا تھا تعبیر کو اپنا سر چکراتا ہوا محسوس ہورہا تھا آخر وہ شخص اتنا بڑا جھوٹ کیسے کہہ سکتا تھا تعبیر نے آتش کو دیکھا ایک ڈر اس کے دل میں اٹھا تھا کیا آتش اس شخص کی بات پر یقین کر چکا تھا
“واقعی۔۔۔ ہاں؟؟”
وہ بڑی غور سے اس شخص کی آنکھوں میں اپنی پرکشش نیلی آنکھوں کو گاڑتے ہوئے زیرِ لب گویا ہوا ایک جھٹکے سے اس نے ہاتھ پیچھے کر کے کوٹ میں سے گن نکالی جس پر وہ شخص پھٹی پھٹی آنکھوں سے اسے دیکھنے لگا
“اسی ہاتھ سے تو نے تعبیر کو چھونے کی کوشش کی تھی نہ؟؟ اسی ہاتھ کی انگلیوں کے سرخ نشانات ہیں نہ اس کے رخسار پر۔۔۔”
آتش نے سخت لہجے میں کہا اس کے ارادے بہت خطرناک لگ رہے تھے تعبیر آتش کے ہاتھ میں پسٹل دیکھ کر آتش کو بے یقینی سے دیکھنے لگی وہ اس کے ایک ایک الفاظ پر اسے بڑی حیرت سے دیکھ رہی تھی
“اب دیکھ میں تیرے ساتھ کرتا کیا ہوں۔۔۔”
آتش نے وقت ضائع کئے بنا پسٹل لوڈ کی اور اس شخص کو ایک جھٹکے سے زمین پر پٹخا جس سے وہ منہ کے بل جا گیا آتش نے اس کے ایک ہاتھ پر اپنا پاؤں گاڑا اور دوسرے ہاتھ پر فائرنگ شروع کردی
وہ شخص بہت بری طرح سے تڑپ رہا تھا تعبیر کانوں پر ہاتھ رکھے آنکھیں مینچ گئی تھی آتش پورے جنون کے ساتھ اس کے ہاتھ پر مسلسل گولیاں چلائے جارہا تھا اسے لگا اس کا ہاتھ ختم ہو چکا ہے باضل جو باہر کے گارڈز سے نمٹ رہا تھا فائرنگ کی آواز پر بھاگتا ہوا اس کے پاس آیا
“سر۔۔۔ سر پلیززز قابو پائیں خود پر یہ مر جائے گا”
“ارے مرتا ہے تو مر جائے۔۔۔ مجھے کونسا اس سے مجرہ کروانا ہے ہاں۔۔۔”
باضل نے بامشکل اس کے ہاتھ کو روکنا چاہا جس پر آتش نے غصے سے اسے دور دھکیلا آتش کے غصے کو دیکھ کر باضل بلکل ساخت سا ہوگیا مگر جب اس کی نظر زمین پر بے ہوش پڑی تعبیر پر گئی تو وہ بھاگتا ہوا اس جانب آیا
“مس تعبیر۔۔۔ اوہ مائے گاڈ۔۔۔ سر یہ بے ہوش ہو چکی ہیں۔۔۔”
ابھی باضل قریب آکر اسے اٹھانے کی کوشش کرتا جب آتش بھاگتا ہوا ایک جھٹکے سے اسے دور دھکیل کر تعبیر کے پاس آیا مطلب صاف تھا وہ نہیں چاہتا تھا کوئی بھی دوسرا شخص تعبیر کو چھوئے
“تعبیر۔۔۔ آنکھیں کھولو تعبیر۔۔۔”
آتش اپنے خون سے بھرے ہاتھوں سے اس کے چہرے کو تھامے اس کے رخسار کو تھپکنے لگا مگر وہ بے ہوشی کی حالت میں تعبیر کی شرٹ کو اپنی مٹھی میں دبائے اس میں پناہ چاہ رہی تھی
“تعبیر۔۔۔”
آتش نے پسٹل دور پھینک کر تعبیر کو اپنے سینے سے لگایا باضل نے اس پسٹل کو اٹھا کر اپنے پاس رکھا وہ آتش کے پاس آیا آتش کی آنکھیں نم تھیں تعبیر مسلسل بے ہوشی کی کیفیت میں آتش کا نام پکار رہی تھی
“سر اب ہمیں یہاں سے چلنا چاہئے۔۔۔ مس تعبیر کی حالت ٹھیک نہیں ہے ہم مزید یہاں نہیں رک سکتے سرمد پر کسی نے جان لیوا حملہ کرنے کی کوشش کی ہے اگر یہ بات کسی کے کانوں تک پہنچی تو میڈیا یہاں آنے میں ذرا بھی دیر نہیں کرے گی۔۔۔”
باضل کی بات پر آتش نے سنجیدگی سے اسے دیکھا جس پر باضل نے گردن جھکالی
“سر میں جانتا ہوں یہ اس لائق نہیں کہ اسے بخشا جائے لیکن فلحال ہمیں یہاں سے جانا ہوگا آپ بے فکر ہو جائیں اس کا جو حال اپنے کیا ہے مجھے نہیں لگتا اس کا یہ ہاتھ اب کبھی کام کرے گا۔۔۔ “
باضل کی بات پر پہلی بار اس نے اس کی بات مانی اور تعبیر کو اپنی باہوں میں اٹھا کر باہر چلا گیا باضل نے اپنے آدمیوں کو کہہ کر اس اپارٹمنٹ سے تمام ثبوت مٹا دینے کا حکم دیا تاکہ اگر پولیس یہاں آئے تو نام آتش پر نہ آئے
☆★☆★☆★☆
وہ اس وقت تعبیر کے سرہانے بیٹھا ہوا تھا وہ اب تک بے ہوشی کی حالت میں بیڈ پر لیٹی ہوئی تھی آتش اسے اپنے کمرے میں لے آیا تھا ڈاکٹر کو بلا کر تعبیر کا چیک اپ کروایا گیا جس پر ڈاکٹر نے اسے سکون کی میڈیسن لکھ کر دی تھیں اور کہا تھا کہ اسے ہوش آجائے گا
مگر دو گھنٹے ہو چکے تھے وہ اب تک بے ہوش تھی آتش کو اس کی حالت دیکھ کر خود پر غصہ آرہا تھا کاش وہ اسے پہلے ہی اپنا بنا چکا ہوتا اس۔ پر پر طرح کے حقوق رکھتا تو آج وہ اس حال میں نہ ہوتی بلکہ اس کی باہوں میں محفوظ ہوتی
“آا آتش۔۔۔”
وہ بامشکل اپنی آنکھیں کھول کر اپنے قریب بیٹھے آتش کو پکارنے لگی جس پر آتش بے صبری سے اس کی جانب متوجہ ہوا وہ آتش کو ہی دیکھ رہی تھی اس کی آنکھوں سے آنسوں نکل رہے تھے جو آتش کو تکلیف دے رہے تھے
“تعبیر۔۔۔ مم میں یہیں ہوں۔۔۔”
آتش نے اس کا بڑھتا ہوا ہاتھ تھام کر اپنے دل کے مقام پر رکھا تھا وہ محسوس کر سکتی تھی آتش کا دل بے ترتیب دھڑک رہا تھا تعبیر اس کا سہارا لے کر بیڈ کے کراؤن سے ٹیک لگائے بیٹھ گئی
“اب تعبیر کیسے ہے تمہاری؟؟”
آتش نے فکر مندی سے پوچھا وہ جو گمان میں تھی کہ آتش اس پر غصہ کرے گا ایسا کچھ بھی نہ تھا وہ تو اس سے پہلے سے بھی کئی زیادہ نرمی سے پیش آرہا تھا آتش کی آنکھوں میں وہ اپنے لئے پیار دیکھ چکی تھی
“مم میں ٹھیک ہوں۔۔۔ مگر وہ۔۔۔ جھوٹ کہہ رہا تھا کہ۔۔۔”
ابھی وہ مزید کچھ کہتی جب آتش نے اپنے لبوں پر انگلی رکھ کر اسے چپ رہنے کا اشارہ کیا
“ہم دوبارہ اس بارے میں بات نہیں کریں گے۔۔۔”
آتش کی بات پر وہ نظریں جھکا گئی جس پر آتش نے اس کا چہرہ اپنی جانب کیا
“تعبیر۔۔۔ میں بہت ڈر گیا تھا۔۔۔”
سرخ نیلی آنکھوں سے آج پہلی بار طوفانی برسات ہونے لگی تھی تعبیر کو کھونے کا ڈر اس کی آنکھوں میں صاف واضح ہورہا تھا
“غلطی۔۔۔ میری ہے۔۔۔ کاش میں آپ کی بات۔۔۔ مان لیتی تو۔۔۔ ایسا نہ ہوتا۔۔۔ میری وجہ سے آپ۔۔۔ آپ کو کتنی پریشانی اٹھانی پڑی۔۔۔”
تعبیر کی آنکھوں سے آنسوں اب بھی نکل رہے تھے آتش کے چہرے کے تاثرات بے حد تکلیف دہ تھے
“تمہیں اگر کچھ ہو جاتا تت تو۔۔۔ میں کبھی خود کو معاف نہ کر پاتا۔۔۔”
وہ اپنے دونوں ہاتھوں سے اس کا ہاتھ تھامے اس پر پیشانی ٹکائے آج پہلی بار رو رہا تھا وہ بڑی حیرت سے اس کے اشکوں کو آج پہلی بار بہتا دیکھ رہی تھی آتش نے سر اٹھا کر اس کی نم آنکھوں میں دیکھا
“مجھے بہت ڈر لگ رہا تھا تعبیر۔۔۔ مجھے ۔۔۔ مجھے لگا تھا میں تمہیں کھو دوں گا۔۔۔ ہمیشہ کے لیے۔۔۔”
ایک ہچکی لے کر تڑپتے ہوئے مخاطب ہوا وہ خاموشی سے یوں ہی ساخت سی اسے دیکھ رہی تھی
“مجھے یہ آج پتا چلا ہے کہ۔۔۔ کتنی ضروری ہو تم میرے لئے۔۔۔ میری زندگی کے لئے۔۔۔”
آج آتش کی آنکھوں میں اس کے لئے میں سچائی تھی آتش کے دل میں تعبیر کے لئے پاکیزہ جذبات تھے یہ بات اسے اب سمجھ آئی تھی
وہ شروع میں چاہ کر بھی اس کے لئے غلط نہ سوچ سکا وہ اسے کبھی غلط نگاہ سے دیکھ بھی نہ سکا کیونکہ وہ اس سے محبت کرنے لگا تھا ایک سچی محبت۔۔۔ جو نا صرف اسے تعبیر کی عزت کی حفاظت بلکہ اس کی فکر اس کا خیال کرنے پر اکسا رہی تھی
“کیا ردا نے جو کچھ مجھے بتایا تھا۔۔۔ وہ۔۔۔ وہ سب سچ تھا؟؟”
وہ اپنے دل سے سوال کرنے لگی مگر سامنے روتے ہوئے شخص سے نہ پوچھ سکی وہ نہیں چاہتی تھی آتش اس سے اس بارے میں کوئی بھی بات کرے وہ آتش کی نظر میں اس بات سے انجان رہنا چاہتی تھی تعبیر نے اپنا ہاتھ پیچھے کھینچا جس پر وہ اسے سنجیدگی سے دیکھنے لگا
“آپ۔۔۔ روئیں مت۔۔۔ میں ٹھیک ہوں بلکل۔۔۔”
تعبیر نے اپنے آنسوؤں کو صاف کرتے ہوئے کہا اس کا انداز اچانک سے کیوں بدلہ تھا وہ کچھ سمجھ نہ پایا تھا مگر اس وقت وہ ڈری ہوئی تھی اس لئے آتش اس سے تھوڑا فاصلہ قائم کر کے بیٹھ گیا
“تم ٹھیک ہو نہ تعبیر۔۔۔ “
ایک اور بار اس نے فکرمندی سے سوال کیا جس پر تعبیر نے ہاں میں سر ہلایا اور اپنا دوپٹہ ٹھیک کرنے لگی کچھ دیر تک ان دونوں کے درمیان خاموشی رہی وہ سمجھ چکا تھا وہ فلحال تنہائی چاہتی ہے
“تم آرام کرو۔۔۔ میں میڈ سے کہہ کر کھانا بھجواتا ہوں۔۔۔ پتا نہیں تم نے صبح سے کچھ کھایا بھی ہوگا یا نہیں۔۔۔”
وہ نرم لہجے سے کہتا ہوا بیڈ سے اٹھ کر جانے لگا
“رکیں۔۔۔”
“کہو۔۔۔”
“مجھے اپنے روم میں جانا ہے۔۔۔”
ہوش تو اسے اب آیا تھا کہ وہ آتش کے روم میں موجود تھی وہ جیسے ہی اٹھنے لگی اسے اچانک سے چکر آنے لگے جس پر آتش نے اسے سنبھالا اور واپس بیڈ پر بٹھایا
“تم یہیں پر آرام کرو۔۔۔ مسلسل بھوک پیاس کی وجہ سے بہت ویکنیس ہوگئی ہوگی جبھی تمہیں چکر آرہے ہیں۔۔۔ میں کھانا بھیجواتا ہوں تم میڈیسن لے کر آرام کرو کل جب تمہاری طبیعت بہتر لگے تو تم واپس اپنے روم میں چلی جانا۔۔۔”
آتش کی بات پر وہ پریشان ہونے لگی یہ کیسے ممکن تھا وہ اس کے روم میں کیسے رہ سکتی تھی یہ بلکل بھی مناسب نہ تھا آتش پلٹ کر جانے لگا
“مگر آپ۔۔۔”
“میں اسٹڈی روم میں جارہا ہوں۔۔۔ مجھے کچھ ضروری کام ہے۔۔۔ فکر مت کرو تم یہاں بلکل محفوظ ہو اگر کوئی پروبلم لگے تو روم لاک کر لینا”
وہ اس کی سوچوں سے باخبر تھا اس لئے سنجیدہ انداز میں کہتا ہوا روم سے چلا گیا
جبکہ وہ بس یہی سوچ رہی تھی کہ وہ دوبارا اس کا سامنا کیسے کرے گی آتش اس کے لئے جزبات رکھتا تھا یہ جاننے کے بعد اس کا آتش کے سامنے نارمل رہنا انتہائی مشکل عمل تھا
☆★☆★☆★☆
”باتیں یہ کبھی نہ تو بھول نہ،
کوئی تیرے خاطر ہے جی رہا“
گھپ اندھیرے کمرے میں کھڑکی کے پاس بیٹھا وہ مسلسل کش پر کش لگائے سرمائی دھواں ہوا کے سپرد کر رہا تھا کھڑکی کے باہر سے آتی چاند کی مدھم سی روشنی اس کی نیلی آنکھوں کو چمکدار بنا رہی تھی
”جائے تو کہیں بھی یہ سوچنا،
کوئی تیرے خاطر ہے جی رہا“
شہادت اور جنت کی انگلی کے درمیان سگریٹ دبائے وہ دوسرے ہاتھ سے اپنے بالوں کو سہلاتے ہوئے مسلسل بس ایک ہی بات سوچ رہا تھا جب ردا اسے سب کچھ بتا چکی تھی تو وہ انجان کیوں بن رہی تھی کیا یہ سب وہ جان کر کر رہی تھی۔۔۔
”تو جہاں جائے محفوظ ہو۔۔۔
تو جہاں جائے محفوظ ہو،
دل میرا مانگے بس یہ دعا“
آتش دل ہی دل میں ارادہ کر چکا تھا اب مزید وہ اسے تنہا نہیں چھوڑے گا وہ اسے اپنا بنا کر رہے گا وہ اسے اب کبھی خود سے دور جانے نہیں دے گا
“کیوں تعبیر۔۔۔؟؟ آخر کیوں۔۔۔؟؟ کیوں تم سب جانتے بوجھتے ہوئے بھی انجان بن رہی ہو۔۔۔ کیا تمہیں اب بھی مجھ پر کوئی شخص ہے۔۔۔ کیا تمہیں میرا دھڑکتا دل اب بھی متاثر نہ کر سکا۔۔۔”
وہ زیرِ لب گویا ہوا اس کی آنکھوں کے سامنے تعبیر کا چہرہ گردش کر رہا تھا کئی آنسوں ٹوٹ کر چہرے پر رقص کر رہے تھے دل تیز رفتار میں دھڑک رہا تھا تعبیر کا جنون اب دل سے سر پر سوار ہو چکا تھا
“مگر اب مزید نہیں۔۔۔ اب میں تمہیں اپنی محبت کا یقین دلا کر رہوں گا۔۔۔ میں تمہیں اپنی زندگی میں مستقل طور پر لا کر رہوں گا۔۔۔ تمہیں میرے جذباتوں کو سمجھنا ہوگا تعبیر۔۔۔ ورنہ تمہاری مسلسل بے رخی سے میرا یہ دل ٹوٹ جائے گا۔۔۔”
وہ کش لگاتا ہوا خود کلامی کرنے لگا آج جو کچھ بھی ہوا تھا ان سب کا زمہ دار وہ خود کو ٹھہرا رہا تھا آتش کی آنکھوں کے سامنے آج والا منظر گھومنے لگا وہ مٹھیاں بھینچ گیا کس طرح وہ غیر مرد تعبیر پر گندھی نظر رکھ کر آگے بڑھ رہا تھا
“آاااہ۔۔۔ نہیں۔۔۔ مجھے بھروسہ ہے تم پر تعبیر۔۔۔ تم صرف میری ہو۔۔۔ میں تمہیں اب خود سے ایک پل کے لیے بھی جدا نہیں کروں گا۔۔۔ میں تمہارا دل چرا کر رہوں گا۔۔۔ دیکھنا ایک دن تم پورے ہوش و حواس میں مجھ سے محبت کا اظہار کرو گی اور اس دن۔۔۔ اس دن میں تمہیں اپنے شدت بھرے لمس سے دو چار کروں گا۔۔۔ تب تمہیں پتا چلے گا۔۔۔ آتش درانی کے اصل لمسِ جنونیت کی حقدار صرف تم ہو۔۔۔ یہ جنونیت صرف تمہارے لئے ہے تعبیر۔۔۔”
سامنے لگے شیشے پر پوری قوت سے مکا مار کر وہ اپنا ہاتھ تو زخمی کر چکا تھا مگر اس کے دل میں جو ارادہ ہوا تھا وہ اب اسے پورا کرنے کا پورا پورا ارادہ رکھتا تھا ہاں وہ اب مزید اپنی محبت سے دور نہیں رہنا چاہتا تھا ہاں وہ اس کی نظروں میں اپنے لئے ڈر خود کے بجائے محبت دیکھنا چاہتا تھا
