Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Lams e Junooniyat (Episode 22)

Lams e Junooniyat by Areesha Khan

“ائیزل پلیززز مت رو، پلیزز خود کو سنبھالو اگر ایسے ہی روتی رہوگی تو بھلہ آگے کیسے کچھ کر پاؤ گی؟”

وہ دو دنوں سے اسے کال لئے جارہی تھی نہ ہی وہ اس کی کال پک کر رہا تھا اور جب وہ اس کے گھر پر گئی تھی تب وہاں تالا تھا

“ضوریز پتا نہیں کہاں چلے گیا ہے حریم میں اس کے بنا نہیں رہ سکتی مجھے فکر ہورہی ہے اس کی”

ائیزل نے اپنی سرخ ناک کر مزید رگڑتے ہوئے کہا اس نے دو دن سے رو رو کر خود کو ہلکان کرلیا تھا حریم اسے سمجھا سمجھا کر تھک چکی تھی مگر وہ تھی کہ کچھ ماننے کو تیار نہ تھی

“ائیزل… مجھے نہیں لگتا ان کے ساتھ کچھ ہوا ہوگا…”

“کیا مطلب؟؟”

وہ اس کی طرف سوالیہ نظروں سے دیکھنے لگی جس پر حریم نے نظریں چرائیں

“بتاؤ حریم؟؟”

“ائیزل مجھے نہیں لگتا وہ ایسا کوئی ارادہ رکھتے ہوں گے اگر انہیں تمہارا ذرا بھی خیال ہوتا تو وہ تمہیں اس طرح بنا بتائے ہیں غائب نہ ہوتے”

حریم کی بات پر اسے تکلیف ہوئی تھی جیسے وہ زخمی ہو اندر سے ائیزل نہ سمجھی سے اسے دیکھنے لگی

“حریم مجھے بھروسہ ہے اس پر خود سے بھی کئی زیادہ، وہ ضوریز ہے وہ کبھی بھی چاہ کر بھی مجھے نہیں چھوڑے گا وہ مجھ سے بے حد محبت کرتا ہے”

“ائیزل دعا کرو ایسا ہی ہو ورنہ مجھے کچھ ٹھیک ہوتا دیکھائی نہیں دے رہا”

حریم نے این ٹھنڈی سانس لیتے ہوئے کہا مگر ائیزل کو بھروسہ تھا ضوریز پر وہ چاہ کر بھی اس پر شک نہیں کر سکتی تھی اسے یقین تھا جلد یا بدیر مگر وہ اس کے پاس ضرور آئے گا

☆★☆★☆★☆

وہ لوگ اس وقت ایک شاپنگ مال میں تھے جب تعبیر کا موبائل رنگ ہوا جس پر حاشر کا نام چمک رہا تھا وہ اکثر اسے کال کیا کرتا تھا مگر شاویز کو وہ شخص ایک آنکھ نہ بھاتا تھا

“تعبیر کیسی ہو تم؟؟”

“میں ٹھیک اور آپ حاشر؟؟”

وہ نرمی سے کہتی ہوئی ایک شاپ کے سامنے رک گئی اس بات سے انجان کے باضل ہڈی میں منہ چھپائے ان سے تھوڑا فاصلے پر کھڑا ان پر نظر رکھ رہا تھا

“تمہیں پتا ہے میں نے تمہیں بہت مس کیا اور ہاں میں کل ہی کراچی آیا ہوں تو پھر کیا پلان ہے ملنے کا؟؟”

حاشر کی بات پر تعبیر مسکرائی جبکہ دوسری طرف باضل موبائل پر آتش کو ایک ایک پل کی انفارمیشن دے رہا تھا

“ملنے کا؟؟ میرا مطلب ہم کہاں ملیں؟؟”

“میں سوچ رہا تھا کیوں نہ ایک ساتھ ڈنر کیا جائے آج رات؟؟ کیا کہتی ہو؟؟”

حاشر نے شوقی سے کہا جس پر وہ تھوڑا گھبرائی اس کے لئے یہ سب بہت عجیب تھا

“ڈنر؟؟ نہیں دراصل وہ… میں”

اسے تو بہانا بنانا بھی نہیں آتا تھا

“آف تعبیر کم ان یار ہنی اور تمہاری وہ فرینڈ بھی آنے کے لئے ریڈی ہے تو تمہیں کیا پرابلم ہے؟؟”

اسے حیرانی ہوئی یہ جان کر کہ وہ تو اسے سب کے ساتھ ہی بلا رہا تھا

“جی ضرور میں آجاؤں گی مگر آنا کہاں ہوگا؟؟”

وہ معصومیت سے پوچھنے لگی

“تم مجھے لوکیشن بھیج دینا میں اپنے ڈرائیور کو وہیں پر بھیج دوں گا تو وہ تمہیں پک کرلے گا اوکے”

“جی ضرور خدا حافظ”

“ٹیک کیئر”

وہ مسکرانے لگا

“اتنا سا جھوٹ تو بنتا ہے”

“آپی کس کا فون تھا؟؟”

شاویز جو ابھی ایک خوبصورت سا اسٹالر خرید کر واپس آیا تھا اس سے پوچھنے لگا

“حاشر کا”

“کیا کہہ رہا تھا وہ بھکاری؟؟”

“شاویز…”

تعبیر نے اسے گھوری سے نوازا

“اففف اچھا نہ سوری آپی چلیں اس شاپ پر چلتے ہیں”

وہ اسے اپنے ساتھ دوسری شاپ پر لے گیا جبکہ باضل ان کی ایک ایک حرکت کو میسج میں ٹائپ کر کے آتش کو بھیج چکا تھا

“اوہ تو ملنے کی پلاننگ کی جارہی ہے… ٹھیک ہے تو میں بھی دیکھتا ہوں کیسے ملتے ہو تم لوگ”

وہ کچھ سوچتے ہوئے یک طرفہ مسکرایا تھا

☆★☆★☆★☆

رات کا وقت تھا جب وہ جانے کے لیے مکمل ریڈی ہو چکی تھی اس نے پنک کلر کی خوبصورت سی فراک اور ساتھ چوڑی دار پاجامہ پہنا تھا اور ساتھ ہی سلیقے سے ڈوپٹہ سر پر اوڑھا تھا وہ اس وقت ایک سلجھی ہوئی سمجھدار سی روایتی لڑکی معلوم ہورہی تھی جبکہ بال دوپٹے کے اندر کھلے رکھے تھے ہلکا سا میکپ تھا

ابھی وہ اپنی سینڈلز پہن ہی رہی تھی جب باہر دروازے پر دستک ہونے لگی جب شاویز نے دروازہ کھولا تو کار کا ڈرائیور کھڑا تھا یقیناً وہ حاشر خانزادہ کے کہنے پر تعبیر کو پک کرنے آیا تھا

“آپی آپ کہیں تو میں بھی ساتھ چلوں؟؟ یو اتنی رات کو کسی کے ساتھ جانا مجھے مناسب نہیں لگ رہا”

شاویز کو اپنی بہن کی فکر ہورہی تھی

“شاویز تم پریشان نہ ہو شاید یہ پہلے مجھے پھر ہنی اور رائمہ کو پک کریں گے تو تم پریشان نہ ہونا میں واپسی پر تمہیں کال کردوں گی پھر تم مجھے لینے آجانا”

تعبیر کی بات پر اس نے اثبات میں سر ہلایا

“بابا جان میں جارہی ہوں”

“اچھا اپنا خیال رکھنا بیٹا اور واپسی پر بھائی کو بلا لینا یہ آجائے گا لینے”

“جی ٹھیک ہے بابا جان”

افتخار صاحب کو اپنی بیٹی پر پورا بھروسہ تھا وہ آنکھ بند کر کے تعبیر پر یقین کرتے تھے کوئی چاہ کر بھی ان کے دل میں تعبیر کے لئے شک پیدا نہیں کر سکتا تھا بس یہی بات تھی جو تعبیر کو ہر جگہ آنے جانے کی اجازت تھی

وہ اپنا دوپٹہ ٹھیک کرتی ہوئی باہر گاڑی میں جا بیٹھی جبکہ شاویز اسے جاتا دیکھ رہا تھا تعبیر نے اسے اشارے سے اللّٰہ حافظ کہا جس پر جواباً وہ مسکرایا تھا

☆★☆★☆★☆

وہ جیسے ہی اپنے گھر کی طرف رکا اسے ائیزل کی کار دکھائی دی وہ سوالیہ نظروں سے اس کی گاڑی کو دیکھتا ہوا کار سے باہر نکلا اپنے مظبوط قدموں سے چلتا ہوا وہ اس کی گاڑی کے قریب گیا جہاں وہ ڈرائیونگ سیٹ پر بیٹھی نیندوں میں تھی

ضوریز نے اس کی گاڑی کا دروازہ کھولا جس سے وہ اچانک سے چونک کر نیند سے جاگی مگر برابر بیٹھے شخص کو دیکھ کر اس کی جان میں جان آئی تھی

“ڈارلنگ تم یہاں اس وقت؟؟”

“ضوریز”

وہ اس کے سوال کو نظر انداز کرتی ہوئی اس کے گلے لگی جس پر وہ حیران ہوا

کچھ دیر وہ بنا کچھ کہے یوں ہی اس کے گلے لگی رہی مگر اپنی شرٹ کو گیلا محسوس کرتے ہوئے ضوریز نے اسے خود سے دور کیا تو اس کی آنکھیں نم تھیں

“ائیزل کیا ہوا؟؟ تم رو کیوں رہی ہو”

اسے ایسا محسوس ہوا تھا جیسے اس کا دل کسی نے مٹھی میں دبوچ لیا ہو آئیزل نے سرخ آنکھوں سے اسے دیکھا

“ضوریز کہاں چلے گئے تھے تم… اور … اور تم کال پک کیوں نہیں کر رہے تھے؟؟”

اس نے بامشکل یہ سوال کیا

“سو سوری ڈارلنگ تمہیں بتانے کا موقع ملا ہی نہیں ایکچلی ہم سب دوست ایک ساتھ دوسرے شہر گئے ہوئے تھے”

ضوریز کی بات پر وہ ناسمجھی سے اسے دیکھنے لگی

“دوسرے شہر؟؟”

“ہاں ائیزل وہ ایک پرانے دوست کی شادی تھی تو بس اس ہی لئے… اور وہاں بہت مصروفیات تھیں تو کال پک کرنے کا موقع ہی نہیں ملا”

ضوریز کے بات کرنے کے انداز سے صاف واضح ہورہا تھا جیسے ان دنوں اسے ایک بار بھی ائیزل کی یاد نہ آئی ہو

“ایسی بھی کیا مصروفیات کے تم مجھے ہی بھول گئے”

“اففف سوری نہ ڈارلنگ چلو اب آنسوں صاف کرو”

ضوریز نے شہادت کی انگلی سے اس کے رخساروں پر بہتے آنسوؤں کو صاف کیا

“اب بتاؤ کیا ہوا ہے کیوں اتنا تو رہی ہو؟؟ کیا میرے بنا جینا مشکل ہوگیا ہے ہمم”

آخری والے الفاظ پر اس نے یک طرفہ مسکراہٹ اچھالی مگر وہ اب تک خاموش تھی

“بتاؤ ائیزل کیا ہوا ہے؟؟”

“ضوریز وہ ڈیڈ.”

“کیا ہوا انہیں؟؟”

“ضوریز ڈیڈ کسی ارتضیٰ نامی شخص سے میری شادی کروانا چاہتے ہیں”

اپنے الفاظ مکمل کرتے ہوئے ایک بار پھر اس کی آنکھیں نم ہونے لگی تھیں ضوریز ایبرو کا زاویہ بنائے اسے بے یقینی سے دیکھا جارہا تھا

“کیا مطلب؟؟ شادی؟؟ وہ بھی اتنی جلدی مگر کیوں؟؟”

“مجھے نہیں پتا ڈیڈ کہتے ہیں کہ وہ میرے لئے بہتر ہے اور ڈیڈ مجھ سے میری رضامندی بھی نہیں پوچھ رہے بلکہ وہ زبردستی مجھ پر یہ فیصلہ مسلط کر رہے ہیں”

جیسے جیسے وہ اسے بتاتی جارہی تھی ضوریز کا غصہ اس کے چہرے کے بدلتے رنگ سے واضح ہورہا تھا

“ضوریز کچھ کرو تم ڈیڈ سے بات کرو کچھ بھی کر کے یہ سب رکوا دو پلیززز میں تمہارے بنا نہیں رہ سکتی”

وہ ایک بار پھر اس کے گلے لگی تھی اس کی قربت سے مخالف وجود کے چہرے پر آیا غصہ پل بھر میں کہیں غائب ہوا تھا

“تم پریشان نہ ہو مجھے کچھ وقت دو میں سب ٹھیک کردوں گا”

ضوریز نے اس کے بالوں میں انگلیاں پھیرتے ہوئے کہا ائیزل کو یقین تھا اس پر وہ اس کی سب سے بڑی طاقت تھا ایک وہی تھا جو سب کچھ ٹھیک کر سکتا تھا

☆★☆★☆★☆

انہیں نکلے ہوئے تقریباً دس منٹ ہی ہوئے تھے گاڑی کی اسپیڈ نارمل تھی شروع میں تعبیر کو بہت عجیب محسوس ہورہا تھا مگر ڈرائیور کی طرف سے کوئی بھی غیر مناسب حرکت نہ پا کر وہ اب کافی بہتر محسوس کر رہی تھی

ابھی ان کی گاڑی روڈ پر درمیانی رفتار پر چل رہی تھی جب تعبیر کا موبائل رنگ ہوا جس میں حاشر خانزادہ کا میسج چمک رہا تھا مگر پیروں تلے زمین تو تب نکلی جب اس نے میسج کو مکمل پڑھا اسے لگا اس کا دل بند ہو جائے گا

ابھی وہ ڈرائیونگ کی طرف دیکھتی جب ڈرائیور نے شیشے میں اس کے ارادے بھانپتے ہوئے گاڑی کو دوڑانا شروع کردیا تعبیر کو لگ رہا تھا اب اس کی سانسیں بند ہونے لگی ہیں

حاشر کا میسج کچھ یوں تھا

“تعبیر آئی ایم سوری مجھے آج ایک امپارٹڈ کام آگیا ہے تو آج ہم مل نہیں پائیں گے تم انتظار مت کرنا ایک دو دن میں فری ہوکر میں تمہیں ملنے بلا لوں گا”

اگر یہ ڈرائیور حاشر خانزادہ نے نہیں بھیجا تھا تو پھر یہ شخص کون تھا

“گاڑی روکیں”

تعبیر نے ہمت کر کے سخت لہجے میں کہا مگر گاڑی کی اسپیڈ آؤٹ آف کنٹرول ہوتی جارہی تھی

“میں نے کہا گاڑی روکیں کون ہیں آپ؟؟”

اس کا دل کسی نے مٹھی میں دبوچ لیا تھا جیسے اس کی آنکھوں سے بے تحاشا آنسوں بہتے ہوئے اس کے نرم رخساروں پر رقص کر رہے تھے

“آپ کو اللّٰہ کا واسطہ گاڑی روک دیں کون ہیں آپ کہاں لے جارہے ہیں مجھے؟؟”

تعبیر کو کچھ غلط ہونے کا احساس ہورہا تھا کیونکہ اب گاڑی روڈ سے ٹرن مار کر ایک سنسان سڑک کی جانب دوڑ رہی تھی تعبیر کا دل زوروں سے دھڑک رہا تھا

“ایسا نہ کریں آپ کو اللّٰہ کا واسطہ ہے کچھ تو رحم کریں کیا آپ کے ہاں کوئی بیٹی نہیں ہے جو آپ ایسا…”

اس کے لئے مزید کچھ کہنا مشکل ہو چکا تھا

“بی بی جی آپ پریشان نہ ہوں آپ کی جان اور عزت کو کوئی نقصان نہیں پہنچے گا”

ڈرائیور کی بات پر وہ حیران ہوئی کیا وہ سچ کہہ رہا تھا یا پھر یہ محض ایک جھانسا تھا

“میں نے کہا نہ آپ گاڑی روکیں ورنہ میں چلتی گاڑی سے باہر”

آگے وہ کچھ کہتی جب اس سنسان علاقے سے اندر جا کر سامنے ایک بہت بڑا بنگلہ بنا ہوا تھا

“بی بی جی آپ کے سامنے ہاتھ جوڑتا ہوں میرے لئے مشکل پیدا نہ کریں میرے چھوٹے چھوٹے بچے ہیں مجھے پیسوں کی ضرورت ہے اگر آپ کو کچھ ہوا تو آپ کا تو پتا نہیں لیکن صاحب جی مجھے زندہ زمین میں دفن کردیں گے”

وہ ڈرائیونگ گاڑی بنگلے کے قریب لے جاتا ہوا پیچھے مڑ کر اس کے سامنے ہاتھ جوڑنے لگا جبکہ تعبیر کو کچھ سمجھ نہیں آرہا تھا آخر ان سب کے پیچھے کون تھا اور کسی کا ایسا کیا مقصد تھا

گاڑی جیسے ہی بنگلے کے سامنے رکی تعبیر نے جلدی سے موبائل میں نمبر ڈائیل کیا مگر یہاں تو سگنلز ہی نہ تھے

“آخر کون کر رہا ہے یہ سب… آخر کسی کی کیا دشمنی ہے مجھ سے”

وہ دل کے مقام پر ہاتھ رکھے سہمی بیٹھی تھی

وہ اب بہت پچھتا رہی تھی اسے یہ کام پہلے کرنا چاہئے تھا کیونکہ یہ علاقہ آبادی سے بہت دور تھا تبھی یہاں سگنلز کا آنا نا ممکن تھا

جاری ہے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *