Lams e Junooniyat by Areesha Khan NovelR50533 Lams e Junooniyat (Episode 23)
Rate this Novel
Lams e Junooniyat (Episode 23)
Lams e Junooniyat by Areesha Khan
وہ ایک بہت بڑا بنگلہ تھا جس کے آس پاس آبادی نام کی کوئی شے نہ تھی وہ بنگلہ دیکھنے میں ہی خوفناک لگ رہا تھا تعبیر کو لگا تھا ڈرائیور یہیں پر اتارے گا مگر ایسا نہ تھا اس محل نما عمارت کا دروازہ کھلتے ہی گاڑی اندر کو چلی گئی یہ باہر سے جتنا خوفناک ثابت ہورہا تھا اندر سے اتنا ہی حسین معلوم ہورہا تھا
ابھی گاڑی رکی ہی تھی جب بہت سے گارڈز اپنے ہاتھوں میں بندوقیں تھامے گاڑی کی طرف بڑھنے لگے تعبیر کا ڈر مزید بڑھ گیا تھا ایک گارڈ نے آگے بڑھ کر دروازہ کھولا اور اسے باہر آنے کا کہا وہ ڈری سہمی لڑکھڑاتے قدموں سے باہر کو آئی تب ایک اور گارڈ آیا جس کے ہاتھ میں کوئی بھی بندوق نہ تھی
“میڈم آپ کو سر نے بلایا ہے چلیں میرے ساتھ”
گارڈ کی بات پر وہ خوفگی سے اسے دیکھنے لگی
“کک کون سر؟؟ اور… مجھے… یہاں کیوں لایا گیا ہے؟؟”
تعبیر نے بڑی مشکل سے ہمت جمع کرتے ہوئے یہ سوال کیا
“ہمیں یہ سب بتانے کی اجازت نہیں آپ خود دیکھ لئے گا”
وہ مختصر سا کہتا ہوا اسے چلنے کا اشارہ کرنے لگا وہ بنا کچھ کہے دھیمے قدموں سے اس کے ساتھ چل دی گھر کے اندر داخل ہوتے ہی وہ حیران ہوئے بغیر نہ رہ سکی گھر کے مین ہال کو دیکھ کر ہی یہ ثابت ہورہا تھا یقیناً یہ کسی رئیس زادے کا گھر ہو سکتا ہے
وہ اسے گارڈن کی طرف جانے کا اشارہ کرتے ہوئے گھر سے باہر کی طرف چلا گیا جبکہ تعبیر کے دماغ میں ایک آئیڈیا آیا کیوں نہ وہ دوبارا سے کال ملا کر دیکھے جیسے ہی اس نے فون کا لاک کھولا پورے ہال میں اندھیرا ہوگیا اور تو اور کوئی تھا اس کے آس پاس جس نے بری طرح سے اس کے ہاتھ سے موبائل چھینا تھا
ابھی تعبیر مزید خوف سے پاگل ہوتی جب مخالف شخص نے اس کا بازوں مظبوطی سے پکڑتے ہوئے اسے گارڈن کی طرف کھینچنا چاہا تعبیر مزاحمت کرنے کے بجائے ڈری سہمی اس کی جانب کھنچتی چکی جارہی تھی
گارڈن میں آتے ہی کسی نے بے دردی سے اس کا بازوں جھٹکا اور غائب ہوگیا
“کک کون ہے یہاں…”
وہ دل کے مقام پر ہاتھ رکھے ہمت جمع کرتی ہوئی پوچھنے لگی مگر کوئی جواب نہ ملا ابھی وہ مزید آگے پیچھے دیکھنے کی کوشش کرتی جب ایک لائٹ جلی جس کا مرکز سامنے کھڑے شخص پر تھا
بلیک تھری پیس میں ملوث وہ شخص دوسری جانب رخ کئے کھڑا اسے تجسّس میں ڈال چکا تھا تعبیر اس کے پلٹنے کا انتظار کر رہی تھی مگر جب وہ پلٹا تو اس کی دنیا ہلا گیا تعبیر کے قدم لڑکھڑائے تھے اس سے پہلے وہ پیچھے کو جھولتی وہ اپنے مظبوط قدموں سے چلتا ہوا اس کے بلکل قریب آ گیا
تعبیر بے یقینی سے اسے دیکھ رہی تھی جو اس کی کمر کو تھامے اسے گرنے سے بچا گیا تھا وہ اپنی نیلی آنکھوں سے اس کے چہرے کے ایک ایک نقش کو غور سے دیکھ رہا تھا کیا ہی بات تھی اس کی وہ کسی کو ایک نظر نہ دیکھنے والا شہزادہ اسے نظر بھر کر دیکھنے کی خواہش کرتا تھا
ایسا کیا جادو تھا اس کی نیلی آنکھوں میں وہ اس کی طرف کھنچنے لگی تھی ہوش تو تب آیا جب گارڈن کی ساری لائٹس آن ہوئیں تعبیر نے دونوں ہاتھوں سے اسے دور دھکیلا جس پر وہ اسے ایبرو کا زاویہ بنائے دیکھنے لگا
ایک نظر تعبیر نے پورے گارڈن میں دوڑائی تو وہ حیران رہ گئی پورا گارڈن گلاب کے پھولوں اور لائٹس سے سیکوریٹ لیا گیا تھا ہر طرف پھولوں کی خوشبو مہک رہی تھی
“ویلکم سینوریٹا”
وہ اپنے مخصوص انداز میں کہتا ہوا اسے ڈائننگ ٹیبل کی طرف اشارہ کرنے لگا جو دو کرسیوں کے ساتھ پھولوں سے سجائی گئی تھی تعبیر نے سخت ناگواری سے اس کی جانب دیکھا جس پر وہ یک طرفہ مسکرایا تھا
“کیا ہے یہ سب؟؟ “
تعبیر نے لہجے میں سختی لئے پوچھا
“کیا ہوا؟؟ تمہیں پسند نہیں آیا کیا؟؟ یہ سب تمہارے لئے ہی تو کروایا ہے”
وہ کہتا ہوا دو قدم آگے بڑھا جس پر وہ دو قدم پیچھے ہوئی
“ان سب کا مقصد پوچھ سکتی ہوں میں؟؟ کیوں کر رہے ہیں آپ ایسا؟؟”
تعبیر کی بات پر وہ مسکراتے ہوئے انگوٹھے سے پیشانی رگڑنے لگا
“کوئی خاص مقصد نہیں بس… دل نے کہا آپ کا دیدار کیا جائے سو دل کے ہاتھوں مجبور ہوگیا”
وہ بغور جائزہ لیتے ہوئے کہنے لگا وہ آج پہلے سے کئی زیادہ خوبصورت لگ رہی تھی تعبیر نے غصے سے اسے گھورا
” آپ کو شرم نہیں آتی؟؟ رات کے اس پہر ایک لڑکی کو زبردستی یہاں کیسے بلا لیا آپ نے؟؟ کیا آپ کا ضمیر آپ کو کبھی ملامت نہیں کرتا؟؟”
تعبیر کا لہجہ سخت تھا جو مخالف شخص کو سختی برتنے پر اکسا رہا تھا مگر اس نے ضبط کیا
“اس میں شرم کی کیا بات؟؟ اب دیکھو نا تم کتنا بن سنور کر حاشر خانزادہ سے ملنے جا رہی تھیں اور پھر مجھے پتا چلا اس کا کوئی خاص مہمان اس کے گھر آگیا تو نے سوچا کہ تمہارا ہوں تیار ہونا رائگاں نہ جائے”
وہ ڈھٹائی سے کہتا ہوا مسکرا گیا
“یہ میرا پرسنل پرابلم تھا آپ ہوتے کون ہیں میری پرسنل لائف میں انٹرفیئر کرنے والے؟؟”
“تمہارا حریف”
وہ سختی سے اس کا ہاتھ جھنجھوڑتے ہوئے اسے ٹیبل کی طرف لایا اور کرسی کھینچ کر زبردستی اسے بٹھایا جس پر وہ غصے سے اسے گھورنے لگی زبردستی کے دوران اس کا دوپٹہ سر سے کاندھے پر آ ٹھہرا
“آپ کیوں کر رہے ہیں یہ سب؟؟ کیا آپ کو سکون ملتا ہے کسی اور کی زندگی خراب کر کے؟؟”
تعبیر کی بات پر وہ اسے سنجیدگی سے دیکھتا ہوا سامنے کرسی پر بیٹھا جبکہ تعبیر اس کی طرف سے جواب کی منتظر تھی مگر اس کی نظریں تو کھسکتے ہوئے ڈوپٹے پر تھیں
“میں نہیں چاہتا اپنے قیمتی حسین وقت کو ہمیں فالتو کی بحث کرکے برباد کرنا چاہیے کیوں نہ اس پل کو ہم ایک حسین میمری میں بدل دیں”
اس کے سوال پر وہ بڑے پرسکون انداز سے بات گھماتا ہوا اسے اس وقت زہر سے کم نہ لگ رہا تھا تعبیر نے اسے ناگواری سے دیکھا
“بکواس بند کریں اپنی آپ سمجھتے کیا ہیں خود کو؟؟”
وہ باقاعدہ چینختے ہوئے ٹیبل سے اٹھی تھی جس پر وہ اسے بڑی حیرت سے دیکھ رہا تھا وہ جو کب سے اس کی نازک گردن کو دیکھے جارہا تھا اپنی آنکھوں سے اس منظر کے اوجھل ہوتے ہی
“وہی سمجھتا ہوں جو میں ہوں… اور رہی بکواس کی بات تو مس تعبیر علی یہ کوئی بکواس نہیں ہے ایک سمپل سی بات ہے”
نجانے وہ کس طرح بار بار خود پر قابو پانے کی کوشش کر رہا تھا مگر سامنے کھڑی لڑکی نے تو قسم کھا رکھی تھی اپنے کئے مزید مشکلات پیدا کرنے کی
“ایک بات آپ میری یاد رکھیں نہ آپ میرے رشتے دار ہیں نہ کوئی دوست جو آپ ایسے پیش آرہے ہیں بہتر ہوگا آپ مجھ سے دور رہیں”
تعبیر نے اسے انگلی سے وارن کرتے ہوئے سختی سے کہا جس پر وہ اٹھ کر اسے کے قریب آیا
“دور ہی تو نہیں رہا جاتا…میں بھی دور رہنا چاہتا ہوں مگر یہ دل نہیں مانتا”
وہ دھیمے لہجے میں اپنے الفاظوں کو ادا کرتا ہوا اس کے بے انتہا قریب آیا تھا اس کی قربت سے گھبراتے ہوئے تعبیر نے آنکھیں مینچی تھیں
“تمہیں پتا ہے… میرا یہ دل ہر وقت صرف تمہارا ذکر کرتا ہے پتا نہیں کیوں”
آتش کے دکھتے لبوں نے سرگوشی کرتے ہوئے اس کے کان کی لو کو چھوا تھا جس پر وہ تڑپ کر رہ گئی مگر اسے سنبھلنا تھا اسے ہمت کرنی تھی اس نے آنکھیں کھول کر سختی سے اسے گھورا تھا مگر سامنے کھڑے شخص کی آنکھوں میں تو کچھ اور ہی چل رہا تھا
“دور ہٹیں مجھ سے… خبردار جو میرے قریب آنے کی کوشش بھی کی تو”
وہ دونوں ہاتھوں سے اسے دور دھکیل کر حیران کر گئی تھی وہ اب اس کا صبر آزما رہی تھی اس کی آنکھوں میں اب غصہ اترنے لگا تھا
“بہت اچھی طرح سے جانتی ہوں میں آپ جیسے گھٹیا لوگوں کو جو خود تو ہر جگہ اپنی اصلیت دکھا کر عزت گوا بیٹھتے ہیں اور ساتھ ہی چھوٹے گھرانے کی لڑکیوں کی عزت پر داغ کی بھی وجہ بنتے ہیں”
وہ خاموشی سے اس ہی باتیں برداشت کر رہا تھا اور وہ آج کھل کر بولی چلی جارہی تھی
“ایک بات کان کھول کر سن لیں آپ نہ میرا آپ سے پہلے کسی قسم کا کوئی تعلق تھا اور نہ آگے کبھی ہوگا تو بہتر ہوگا آپ اپنی گندھی نظروں پر قابو پانا سیکھیں…”
اس کے الفاظ نجانے کیوں اسے چپ رہے تھے اس کی آنکھوں میں آگ اترتی دکھائی دے رہی تھی
“میں ان لڑکیوں میں سے ہر گز نہیں ہوں جو آپ کے قریب آنے کے بہانے ڈھونڈتی ہوں گی میں تعبیر علی ہوں… میں آپ جیسے شخص کے جھانسے میں کبھی بھی نہیں آؤں گی یاد رکھیے گا”
تعبیر کو لگا تھا جیسے اس کے اندر ہمت نے آج پہلی بار جنم لیا ہو وہ آج کھل کر اپنے دل کی بھڑاس اس پر نکال چکی تھی اس بات سے انجان کے سامنے کھڑا شخص اسے ہرگز بخشنے والا نہیں تھا
“میں نے جانتی آپ نے کس طرح میرے اور حاشر کے ملنے کا پتا لگایا تھا لیکن یہ آج پہلی اور آخری بار ہوا ہے آج کے بعد سے اگر آپ نے مجھے کسی بھی طرح سے تنگ کرنے کی کوشش کی تو یاد رکھیئے گا بہت برا ہوگا آپ کے ساتھ سمجھے آپ…”
وہ غصے سے کہتی ہوئی اپنا موبائل کو سائڈ ٹیبل پر پڑا تھا مٹھی میں دبوچتے ہوئے وہاں سے جانے لگی تھی جس پر آتش نے آگے بڑھ کر اس کے بازؤں کو جکڑا تھا
“آااہ…”
☆★☆★☆★☆
“دیکھو ریز وہ پورے آسمان میں سب سے زیادہ چمکدار ستارہ ہے… ہے نہ”
ائیزل نے اس کے بازؤں پر سر رکھتے ہوئے آسمان کی طرف اشارہ کیا
“یس ڈارلنگ اور تم جانتی ہو اس ستارے کا نام کیا ہے؟؟”
ضوریز کی بات پر وہ اس کی طرف حیرانی سے دیکھنے لگی جیسے جواب کی منتظر ہو
“اس کا نام ہے ائیزل…”
وہ دونوں اب تک ساتھ کار کے بونٹ پر لیٹے تارے گن رہے تھے ائیزل کا سارا دھیان سب سے زیادہ چمکدار ستارے پر تھا جبکہ ضوریز اس چمکدار ستارے سے ائیزل کو تشبیہ دے رہا تھا اس کی بات پر ائیزل کے اداس چہرے پر کافی دیر بعد مسکراہٹ بکھری تھی جسے مخالف وجود اپنی کالی گہری آنکھوں میں اتار گیا تھا
“تم وہ چاند ہو جس کا اس پورے آسمان پر راج ہے”
ائیزل کی آنکھوں سے اس کے لئے بے انتہا محبت جھلک رہی تھی ضوریز نے مسکراتے ہوئے اسے دیکھا
“اور اس راج کرنے والے چاند کی ملکہ تم ہو…”
اس کی بات پر وہ بلش کر گئی تھی
کتنی جلدی ان دونوں ہی میں بدلاؤ آگیا تھا کتنا جلدی وہ لوگ چینج ہوگئے تھے اب نہ تو ضوریز کسی کلب میں تاش کھیلنے جایا کرتا تھا اور نہ ہی وہ ائیزل کے سامنے سگریٹ پیتا تھا ائیزل کے کہنے پر اس نے اپنا حلیہ تھوڑا درست کیا تھا
جبکہ ائیزل بھی اس کی ہر بات مانتی تھی نہ اب وہ کسی سے لڑائی کرتی تھی نہ ہی اس نے اس دن کے بعد سے سگریٹ کو ہاتھ تک نہیں لگایا تھا اور نہ ہی اسے پینے کا سوچا تھا ائیزل کا حلیہ بھی اب کافی بہتر ہوگیا تھا
اور ساتھ ہی دونوں نے مل کر ضوریز کے گھر کو بھی درست کرنے کی کوشش کی تھی جس میں وہ لوگ کافی حد تک کامیاب بھی ہوگئے تھے اب کافی کچھ بدل گیا تھا ان کے درمیان اب وہ لوگ ایک دوسرے سے بہت الگ انداز سے پیش آتے تھے نجانے یہ ان کے نئے رشتے کے زیرِ اثر تھا یا پھر ان کے دلوں میں ایک دوسرے کے لئے احترام بڑھ چکا تھا
“ویسے میں سوچ رہا تھا کیوں نہ ہم چاند پر چلے جائیں…”
ضوریز کی سنجیدگی پر وہ نا سمجھی سے اسے دیکھنے لگی
“آئی مین زمین پر تمہارے والد محترم شاید ہمیں کبھی ایک نہ ہونے دیں”
اس بار اس کا قہقہہ نکلا تھا
“ریز پاگلوں والی بات نہ کرو مجھے بھروسہ ہے تم پر تم کبھی بھی مجھ سے دور نہیں جاؤ گے تم سب ٹھیک کردوں گے”
ائیزل نے اس کے سینے پر سر ٹکائے اس کے قریب ہونا چاہا جس پر ضوریز نے اس کے گرد باہوں کا حصار بنایا
“اتنی بھروسہ کیوں کرتی ہو مجھ پر؟؟”
“کیوں کہ میں تم سے محبت کرتی ہوں”
ضوریز کی بات پر ائیزل نے سچے دل سے یہ الفاظ ادا کئے مگر ضوریز خاموش ہوگیا
“اگر کبھی تمہارا مجھ پر سے بھروسہ اٹھ گیا تو؟؟”
“ایسا کبھی بھی نہیں ہوگا…”
ضوریز حیران ہوا اس کی بات پر
“وہ کیسے؟؟”
“کیوں کہ تم ایسا کبھی ہونے ہی نہیں دو گے”
اپنی بات کہتے ہوئے ائیزل نے رخ اس کے چہرے کی طرف کیا تھا جس پر بے دھیانی سے ان کے ہونٹ ایک دوسرے سے جا ملے تھے یہ محض ایک اتفاق تھا مگر ضوریز کی گرفت میں شدت محسوس کرتے ہوئے ائیزل گھبرائی تھی
اس نے اس کے سینے پر ہاتھ رکھ کر فاصلہ قائم کرنے کی کوشش کی مگر ضوریز اس کے لئے ہرگز تیار نہ تھا ائیزل اس کے لمس کی شدت پر اپنی سانس رکھتی ہوئی محسوس کر رہی تھی
مگر مخالف شخص اس کے لمس کی تاسیر کو محسوس کرتے ہوئے مکمل بہکتا چلا جارہا تھا ائیزل کی گرفت اس کی شرٹ پر مظبوط ہونے لگی ضوریز اس کی مدھم سانسوں سے مزید بہک رہا تھا
ابھی وہ مزید اپنی شدت میں مظبوطی لاتا جب ائیزل نے پوری جان لگا کر اسے خود سے دور کیا وہ جلدی سے اٹھ بیٹھی اور تیز تیز سانسیں لینے لگی ضوریز کو اچانک سے ہوش آیا وہ جلدی سے اس کے ساتھ ہی اٹھ بیٹھا اور اسے دیوان وار دیکھنے لگا
ائیزل کا پورا وجود کچھ ہی پل میں پیسنے سے بھیگ گیا تھا وہ دونوں ہاتھوں کا پیالہ بنائے اپنا چہرہ چھپائے سانسیں بحال کرنے میں مصروف تھی جب ضوریز کے چھونے پر کرنٹ کھا کر اسے دیکھنے لگی
“ائیزل…تم ٹھیک ہو؟؟”
ضوریز کو لگا اسے سانس لینے میں مسئلہ ہورہا ہے مگر ائیزل نے کوئی جواب نہ دیا اور رخ دوسری طرف کرلیا صحیح معنوں میں اب ضوریز ڈرا تھا جب اسے ائیزل کی ناراضگی کا احساس ہوا تھا
“آئیزل… آئی ایم سوری مجھے نہیں پتا یہ کیسے ہوگیا…”
وہ شرمندہ سا بامشکل یہ الفاظ کہنے لگا مگر ائیزل کی طرف سے جواب نہ ملا وہ اب تک دوسری طرف رخ کئے بیٹھی تھی
☆★☆★☆★☆
“چھوڑیں مجھے”
وہ اس کی آنکھوں میں آگ محسوس کر چکی تھی وہ ڈر رہی تھی مگر اپنا بھرم بھی تو رکھنا تھا
“شٹ اپ… جسٹ شٹ اپ…”
وہ اس کے الفاظ سننے کے موڈ میں اب بلکل بھی نہ تھا وہ ایک شیر کی مانند دھاڑا تھا جس سے تعبیر کی روح تک کانپ گئی تھی
“مجھ سے پوچھ رہی تھیں کہ میں کیا سمجھتا ہوں خود کو؟؟ تم بتاؤ؟؟ تم کیا سمجھتی ہو خود کو ہاں؟؟ ہو کون تم؟؟ کس بات کی اکڑ دکھا رہی ہو میرے سامنے؟؟ کیا تم جانتی نہیں میں کون ہوں؟؟”
وہ اس کے نازک سے بازوں پر مکمل زور دیتا ہوا اس کے لئے تکلیف کا سبب بن رہا تھا تعبیر نے مزاحمت کر کے اپنا ہاتھ چھڑانا چاہا مگر وہ کچھ دیر پہلے والا شخص کہیں سے بھی نہیں لگ رہا تھا
“غور سے دیکھو مجھے… دیکھو تمہارے سامنے کون کھڑا ہوا ہے؟؟ آتش درانی… جو کبھی بھی کچھ بھی کر سکتا ہے…کچھ بھی”
آتش نے اپنی نیلی پر کشش آنکھوں کو اس کی ہلکی براؤن بڑی بڑی آنکھوں میں گاڑتے ہوئے کہا تھا تعبیر کو لگا تھا اب اس کا یہاں سے جانا مشکل ہوتا جارہا ہے ڈر سے اس کا پورا وجود پسینے میں شرابور ہوچکا تھا
“تم نے بنا جانے ہی مجھے گھٹیا شخص قرار دیا ہے تو خود سوچو حقیقت میں میں کس قدر گھٹیا ہو سکتا ہوں…”
آتش نے تعبیر کے بازوں کو مزید جھنجھوڑا جس پر تعبیر تڑپ کر رہ گئی تھی وہ ابھی مزاحمت کرتی جب اس کا ڈوپٹہ گلے سے پرے ہو چکا تھا
آتش کی ایک نظر تعبیر کی گردن پر گئی تھی جہاں آکر وہ ٹھہر سا گیا تھا اس کے چہرے کے سخت تاثرات اب کمزور پڑنے لگے تھے اس کی گرفت ڈھیلی محسوس ہونے لگی تھی وہ دیوانہ وار اس کی گردن کی نازک سی رگ پر پگھل سا گیا تھا جیسے کوئی طوفان تھم سا گیا ہو
اپنے بازوں پر گرفت ڈھیلی محسوس کرتے ہوئے وہ اس کے سینے پر ہاتھ رکھ کر اسے دور کر گئی تھی جبکہ اس میں تو اتنی بھی ہمت نہ تھی کہ وہ جھک کر اپنا دوپٹہ اٹھا سکے
آتش نے دیکھا تھا جب وہ شرمندہ سی بنا دوپٹے کے نظریں جھکائے اس کے سامنے کسی مجرم کی طرح کھڑی تھی نجانے کیوں مگر آتش کو اس کا اس طرح سے سر جھکائے کھڑا رہنا پسند نہ آیا تھا وہ جھک کر اس کا ڈوپٹہ مٹھی میں دبائے اس کی طرف بڑھانے لگا
یہ آج دوسری بار ہوا تھا بس فرق صرف اتنا تھا پچھلی بار ڈوپٹہ گرنے سے پہلے تھاما گیا تھا جبکہ اب دیر ہو چکی تھی۔
وہ حیرانی و خوفگی کے ملے جلے تاثرات لئے کھڑی کبھی اسے تو کبھی اس کے ہاتھ میں موجود ڈوپٹے کو دیکھ رہی تھی وہ نا سمجھی سے اسے دیکھی جا رہی تھی نجانے وہ کس قسم کا انسان تھا ابھی کچھ دیر پہلے تو وہ اس کی جان لینے والا درندہ ہی لگ رہا تھا مگر اب، اب اچانک سے ایسا کیا ہوا تھا جو وہ یوں بدل گیا تھا
تعبیر نے بامشکل اپنے کانپتے ہاتھ کو آگے بڑھا کر ڈوپٹہ تھاما اور جلدی سے خود کو کوور کرنے لگی وہ ہوش میں آیا تھا اس منظر سے جو اب آنکھوں سے اوجھل ہو چکا تھا وہ ڈوپٹے کو مکمل ترتیب سے سیٹ کرتی ہوئی اسے خوفگی سے دیکھنے لگی مگر اب آتش کے لئے مشکل ہو چکا تھا کہ وہ واپس پہلے والے رویئے پر آجائے
☆★☆★☆★☆
“ائیزل…”
بہت دیر بعد ایک بار پھر سے ضوریز نے اسے مخاطب کیا تھا مگر اب وہ سمجھ چکا تھا جو گستاخی اس سے بے دھیانی میں ہوئی ہے وہ ائیزل کے لیے ناقابلِ معافی تھی ضوریز نے بونٹ سے چھلانگ لگائی
“میرے خیال سے اب تمہیں چلنا چاہئے کافی رات ہوچکی ہے…”
وہ حیران ہوئی تھی اس کی بات پر وہ لوگ تو اکثر رات گئے تک ساتھ رہتے تھے مگر آج اتنی جلدی اسے تاخیر محسوس ہورہی تھی
“اگین سو سوری خدا حافظ”
وہ مختصر سا کہتا ہوا پلٹ کر جانے لگا تھا ابھی دو قدم ہی طے کر پایا تھا جب وہ نا سمجھی سے اسے جاتا دیکھ کر مخاطب ہوئی تھی
“ریز رکو…”
وہ جانتی تھی جو کچھ ان کے درمیان ہوا تھا وہ نہیں ہونا چاہیے تھا کیونکہ ان کے درمیان ایسا کوئی تعلق قائم نہیں ہوا تھا جس سے یہ سب جائز ہوتا مگر وہ اسے جاتے بھی تو نہیں دیکھ سکتی تھی
وہ پلٹ کر اس کی جانب دیکھنے لگا جب وہ دو قدم چل کر اس کے قریب آئی
“اتنی جلدی جانے کا کہہ رہے ہو؟؟”
وہ سنجیدگی سے کہنے لگی
“ائیزل شاید ہمارے لئے یہی بہتر ہے کہ ہم دور رہیں…”
وہ بھی سنجیدہ نظر آرہا تھا
“مگر ریز…”
“آئیز پلیز… ہم کل ملیں گے…ابھی خود پر قابو پانا مشکل ہورہا ہے”
وہ اس کے نازک سے ہونٹوں کو حسرت سے دیکھتے ہوئے سرگوشی کرنے لگا تھا جب ائیزل کی نظریں ایک پل کے لیے جھکیں تھیں
“میں نہیں چاہتا کہ میں حد سے بڑھ جاؤں میں نہیں چاہتا کہ ہمارے تعلق میں کوئی ناپاکی ہوجائے…تم سمجھ رہی ہو نہ”
وہ اسے گہرے الفاظوں میں سمجھاتا ہوا دو قدم دور ہوا تھا ائیزل اس کی بات سے متفق تھی مگر وہ لوگ آج ہی تو ملے تھے اتنے دنوں بعد وہ کیسے اس سے دور ہو پاتی وہ پلٹ کر واپسی جانے لگا
“ریز پلیززز رک جاؤ…”
وہ اس کی آواز کو نظر انداز کرتا ہوا چلتا رہا
“ریز پلیززز مجھے تم سے دور نہیں جانا”
وہ اب بھی اسے روکنے کی کوشش کر رہی تھی مگر وہ نہ رکا
“ریز مجھے بھوک لگی ہے…”
اس کے کہنے کی دیر تھی جب اس کے قدم رکے بھی اور وہ پلٹا بھی تھا جب نظر سامنے کھڑی لڑکی پر گئی تو وہ منہ لٹکائے کھڑی اسے ہی دیکھ رہی تھی
“کیا تمہیں واقعی بھوک لگی ہے؟؟”
وہ آنکھیں چھوٹی کرتے ہوئے پوچھنے لگا جس پر اس نے معصوم سی شکل بناتے ہوئے ہاں میں سر ہلایا پہلے تو وہ اسے دیکھتا رہا پھر اپنے پیچھے آنے کا اشارہ کرتے ہوئے خود گھر کے اندر چلا گیا جبکہ ائیزل مسکراتی ہوئی اس کے پیچھے پیچھے چل دی
☆★☆★☆★☆
اب جبکہ وہ اس کی گرفت سے آزاد ہوچکی مگر پھر بھی اس میں واپس لوٹ جانے کی ہمت نہ تھی وہ نہیں سمجھ پا رہی تھی کہ سامنے کھڑا شخص آگے کیا کرے گا مگر تعبیر کے لئے اب مزید اس کی نظروں کی تپش کو برداشت کرنا مشکل ہورہا تھا وہ نظریں جھکا گئی تھی
“مم…مجھے جانا ہے…”
اس کی طرف سے خاموشی پا کر وہ بامشکل دھیمی سی آواز میں کہنے لگی جس پر وہ اسے آنکھیں چھوٹی کئے دیکھنے لگا مگر کہا کچھ بھی نہیں البتہ دل تو چاہ ہی یہی رہا تھا اس کے قربتوں میں رہا جائے
“کہاں جانا ہے؟؟ حاشر خانزادہ کے پاس؟؟”
وہ تنزیہ انداز میں کہتا ہوا اپنی پر کشش نیلی آنکھوں سے اسے گھورنے لگی جس پر وہ نا سمجھی سے اسے دیکھنے لگی آخر وہ کیا کہا جارہا تھا بھلہ وہ رات کے اس پہر وہاں ہوں جاتی اب جب کہ حاشر نے خود اسے منع کیا تھا
“کیا مطلب ہے آپ کی بات کا؟؟”
“بہت معصوم ہو تم… مگر جس سے ملنے جانے والی تھیں وہ ہرگز تم جیسا نہیں…”
آتش نے اپنے جذباتوں پر قابو پاتے ہوئے اپنا لہجے درست کیا مگر اس کی باتیں تعبیر کی سمجھ سے باہر تھیں آخر وہ کیوں بار بار حاشر کا ذکر کرتا تھا خیر یہ تو وہ خود بھی نہیں جانتا تھا
“مجھے نہیں جاننا کون کیسا ہے کیسا نہیں”
“تمہیں جاننا پڑے گا…”
تعبیر نے بات کو یہیں تمام کرنا چاہا مگر وہ آتش درانی تھا اسے وہی کرنا تھا جو وہ چاہتا تھا وہ گھمبیر لہجے میں کہتا ہوا دو قدم آگے بڑھنے لگا جس پر وہ پیچھے کو ہوئی تھی
“کیا تم جانتی ہو جس شخص سے تم رات کے اس وقت ملنے چلیں تھیں وہ شخص مصروفیات کا بہانا بنا کر اپنی اٹھارویں گرل فرینڈ کے ساتھ وقت گزار رہا ہے “
اس کے منہ سے یہ سب سن کر وہ ایبرو اچکائے اسے دیکھنے لگی وہ آخر یہ سب اسے کیوں بتا رہا تھا
“آپ یہ سب مجھے کیوں بتا رہے ہیں؟؟”
“کیونکہ تمہارا جاننا ضروری ہے”
آتش نے ایک قدم مزید آگے بڑھایا تبھی وہ اور پیچھے ہوئی
“آخر آپ چاہتے کیا ہیں مجھ سے”
اب وہ تھک چکی تھی اس کی بے تکی باتیں سن کر اسے سمجھ نہیں آرہا تھا کہ اسے یہاں بلانے کا آخر کیا مقصد تھا
“سکون “
سرگوشی نما انداز میں کہتا ہوا وہ مزید قریب آیا تھا مگر تب ہی وہ دیوار سے جا لگی تھی وہ دیوار پر ہاتھ ٹکائے اس کے فرار کے راستے بند کر چکا تھا تعبیر گھبرائی تھی اس کے خماری بھرے لہجے پر
“مم مجھے گھر جانا ہے”
“چلے جانا کونسا تمہیں ساری زندگی کے لئے قید کر رہا ہوں…”
وہ اسے ذومعنی الفاظوں میں کہتا ہوا اس کے چہرے کے بے انتہا قریب آیا تعبیر نے آنکھیں میچ لیں تھیں آخر یہ بار بار کی قربتوں کا مطلب کیا تھا
“میں نے تمہیں یہاں اس لئے نہیں بلایا کہ تم یوں بار بار مجھ سے نظریں چراؤ یا آنکھیں مینچ لو… میری آنکھوں میں دیکھ کر بات کرو”
آتش کے دکھتے الفاظوں پر بنا کچھ کہے یوں ہی کھڑی رہی مگر اس کی سانسوں کی مدھم سی تپش اپنے چہرے پر محسوس کرتی تھوڑا گھبرائی تھی
“کیا ہوا؟؟… ڈر لگ رہا ہے مجھ سے؟؟”
وہ اس کی تیز ہوتی سانسوں سے لطف اندوز ہوتے ہوئے سرگوشی کرنے لگا جس پر تعبیر نے آنکھیں کھولتے ہوئے اسے گھورا تھا
“ڈرتی نہیں ہوں میں آپ سے…”
وہ جانتی تھی وہ اس کے کس قدر قریب تھا مگر اسے اپنا بھرم رکھنا تھا اس بات سے انجان کہ وہ شخص اس کی سانسیں محسوس کر رہا تھا
“ریلی؟؟”
وہ اس کی سانسوں کی مہک سے سکون پاتے ہوئے یک طرفہ مسکرایا تھا مگر تعبیر کو اس کی قربت سے گھبراہٹ محسوس ہورہی تھی وہ سر جھکائے اپنی سانسیں بحال کرنے لگی تب اس کا سر آتش کے مظبوط سینے سے ٹکرایا تھا
اس کا وجود پسینے میں شرابور ہونے لگا تھا شاید یہ سب آتش کی قربتوں کا کمال تھا ورنہ اس گارڈن میں ٹھنڈی ہوائیں رقص کرتی محسوس ہورہی تھی وہ اس سے فاصلہ قائم کرنے کے لیے سر اٹھائے اس کی جانب دیکھنے لگیں جو اب تک بہکے انداز سے اس کی آنکھوں میں جھانک رہا تھا نجانے وہ کیا تلاش کر رہا تھا
☆★☆★☆★☆
“ویسے کیا کھانا پسند کرو گی… اس غریب خانے میں تمہیں کوئی فاسٹ فوڈ نہیں ملنے والا”
وہ اسے اپنے ساتھ کچن میں لے گیا ویسے تو اس کا کچن اس کے آدھے کمرے میں ہی موجود تھا لیکن ائیزل کے آنے کے بعد ان دونوں نے مل کر ایک خالی کلاس والے کمرے کو کچن میں بدل دیا تھا
“ویسے مجھے کوئی فاسٹ فوڈ کھانا بھی نہیں ہے”
ائیزل کچن کے سلیپ پر ہاتھ ٹکائے کھڑی ہوئی تھی جبکہ ضوریز فریج کے ساتھ لگے کھڑا ہوا اس کی طرف متوجہ تھا
“اچھا…تو بتاؤ کیا کھانے کا موڈ ہے تمہارا؟؟”
ضوریز کی بات پر وہ کچھ سوچنے لگی اور جس طرح وہ آنکھیں گھماتے ہوئے سوچنے میں مصروف تھی ضوریز کی نظریں مسلسل اس پر مرکوز تھیں
“تمہیں چائنیز رائس بنانے آتے ہیں؟؟”
ائیزل کے سوال پر وہ نا سمجھی والے انداز میں نفی میں سر ہلانے لگا
“گڈ مجھے بھی نہیں آتے چلو یوٹیوب سے ریسپی ٹرائے کرتے ہیں”
وہ جلدی سے موبائل نکال کر ریسپی ڈھونڈنے لگی جبکہ ضوریز اس کی بنائی ہوئی چیزیں نکال کر سلیپ پر رکھنے لگا
“اب کیا کرنا ہے؟؟”
ضوریز نے ریمپر باندھتے ہوئے اس سے پوچھا جس پر وہ موبائل سائڈ میں رکھتے ہوئے اس کے مقابل آکھڑی ہوئی
“سب سے پہلے چکن اور انڈوں کو بوائل کرنے رکھتے ہیں اور دوسرے چولہے پر رائز کو اوکے”
وہ کہتی ہوئی سارے کام خود کرنے لگی جبکہ ضوریز اسی کو دیکھ رہا تھا اسے مسلسل اپنی طرف دیکھتا ہوا پا کر وہ سوالیہ نظروں سے اسے دیکھنے لگی جس پر وہ نا سمجھی والے انداز میں سر ہلانے لگا
“اب کیا یوں ہی کھڑے رہ کر دیکھتے رہوگے یا کھ کرو گے بھی؟؟”
ائیزل نے منہ بناتے ہوئے کہا اور اسے پرے کرتی ہوئی فریج سے ویجیٹبلز نکالنے لگی جبکہ وہ اسے بڑی حیرت سے دیکھنے لگا ائیزل نے مختلف سبزیاں نکال کر پانی سے دھوئیں اور پھر انہیں کاٹنے لگی
ابھی وہ سبزیاں کاٹنے میں مصروف تھی جب ضوریز اس کے پیچھے سے باہوں کا حصار بنائے کھڑا ہوگیا جس پر اچانک سے گھبراتے ہوئے ائیزل کے ہاتھ سے چھری زمین پر جا گری اسے لگا اس کا دل بے قابو ہونے لگا ہو جیسے اس نے جلدی سے آنکھیں مینچ لیں
“تم دن بہ دن کچھ زیادہ ٹرکی نہیں ہوتے جارہے؟؟”
اس نے اسے گھوری سے نوازا جس میں وہ یک طرفہ مسکرایا تھا
“ٹرک پن کرنا ثواب کا کام ہے ڈارلنگ”
ضوریز کے الفاظوں پر ائیزل نے کھا جانے والی نظروں سے اسے گھورا تھا
“کیا ہوا؟؟ بن گئے چائنیز رائس؟؟”
وہ آنکھ مارتے ہوئے باقاعدہ اسے چھیڑنے لگا جس پر ائیزل نے اس کی طرف رخ کئے گھوری سے نوازا ضوریز نے جلدی سے اپنی ہنسی کنٹرول کی ائیزل نے جھک کر چھری اٹھائی اور اس کی طرف بڑھا کر اسے ڈرانے لگی
“ریز اب اگر مجھے تنگ کیا نہ تو چائنیز رائس کا تو پتا نہیں لیکن تمہیں ضرور کھا جاؤں گی میں سمجھے”
وہ وقتی غصہ دکھاتے ہوئے اسے اس وقت بہت پیاری لگ رہی تھی ضوریز نے یک طرفہ مسکراہٹ اچھالی
“اب کھڑے کھڑے یوں ہی مسکراتے رہوگے یا میری ہیلپ بھی کروگے؟؟ پتا ہے نہ مجھے کتنی بھوک لگ رہی ہے”
وہ کھونے لگی تھی اس کی یک طرفہ مسکراہٹ پر وہ اپنے جذبات پر قابو پاتے ہوئے آنکھیں گھما کر کہنے لگی جس پر ضوریز نے اثبات میں سر ہلایا
“ضرور ضرور میڈم میں ٹھہرا آپ کا غلام…”
وہ آگے بڑھتا ہوا دوسری چھری لے کر سبزیاں کاٹنے لگا جبکہ ائیزل مسکراتی ہوئی اس کا ساتھ دینے لگی
“اب کیا کرنا ہے؟؟”
“چکن بوائل ہو چکا ہے اب اسے تمام سبزیوں اور مصالحوں کے ساتھ ایڈ کریں گے”
ائیزل آگے بڑھ کر اپنے کہے گئے جملے کے مطابق کام کرنے لگی جب ضوریز نے بے دھیانی میں ابلے ہوئے چاول کی گرم دیگچی پکڑلی تڑپا تو وہ بلکل نہیں لیکن ضبط سے آنکھیں مینچ گیا
اس کے دو قدم دور ہونے پر ائیزل نے ایک نظر اسے دیکھا مگر جب دیکھا تو وہ تڑپ کر رہ گئی تھی
“ریز یہ… یہ کیا کیا تم نے… یہ تو ریڈ ہوگیا ہے پورا دیکھاؤ مجھے…”
وہ اچانک گھبرائی ہوئی کیونکہ اس کی ہتھیلی مکمل لال ہوچکی تھی
“ائیزل ڈونٹ وری…”
“تمہارے پاس فرسٹ ایڈ باکس ہے؟؟”
وہ جو بے فکری سے کہتا ہوا ہاتھ چھپانے لگا تھا ائیزل نے اس کا بازوں پکڑ کر قریب کیا
“ہاں ہوگا مگر اتنا مسئلہ نہیں چھوٹا سا ہے”
“بتاؤ مجھے کہاں رکھا ہے ؟؟”
وہ حیران تھا وہ اس سے اتنے دن دور رہا تھا مگر اسے ائیزل کی ذرا فکر نہیں ہوئی اور وہ لڑکی جو اس سے پہلے بے فکری سے جی رہی تھی اس کے آنے کے بعد وہ کتنی بدل گئی تھی وہ اس کے زخم کا درد خود محسوس کر رہی تھی
“وہ سامنے والے کبڈ میں ہوگا”
وہ جلدی سے فرسٹ ایڈ باکس نکال کر لائی اس نے ضوریز کی ہتھیلی پر ٹیوب لگایا ضوریز کو جتنی جلن ہورہی تھی اس سے کئی زیادہ درد ائیزل کو ہو رہا تھا
“آئیز پلیز… پریشان نہ ہو چھوٹا سا ہے ٹھیک ہو جائے گا”
وہ اسے اپنی ہتھیلی کی جانب فکر مندی سے دیکھتا پا کر نرم لہجے میں مخاطب ہوا وہ بنا کچھ کہے اپنے کاموں میں مصروف ہوگئی تھی
کچھ ہی دیر میں وہ لوگ کمرے میں موجود کھانے کی تیاری کر رہے تھے جب ائیزل کی نظر اس کے ہاتھ پر گئی
“ریز تمہارا تو ہاتھ جلا ہوا ہے تم کیسے کھاؤ گے؟؟”
ائیزل کی بات پر ضوریز کو یاد آیا تو وہ اپنا ہاتھ دیکھنے لگا
“خیر چھوڑو ادھر آؤ…”
ائیزل نے اس کے سامنے سے پلیٹ اٹھا کر اس کی طرف لقمہ بڑھایا جس پر وہ کبھی اسے تو کبھی لقمے کو دیکھنے لگا
“کیا ہوا؟؟ کھاؤ نہ؟؟”
ائیزل نے چمچہ مزید آگے کیا جس پر وہ ہونٹوں کو زحمت دیتا ہوا کھانے میں مصروف ہوگیا
“واؤ ٹیسٹی…”
ضوریز کو یقین نہیں آرہا تھا ائیزل کے ہاتھ میں جو ٹیسٹ تھا اس کی کیا ہی بات تھی ضوریز کی بات پر آئیزل مسکرائی تھی
کچھ ہی دیر بعد وہ کھانے سے فارغ ہوکر اسے سی آف کرتی ہوئی اپنے گھر کی طرف چلی گئی تھی جبکہ وہ اپنا زخمی ہاتھ لئے بستر پر لیٹا ائیزل کے بارے میں سوچ رہا تھا
☆★☆★☆★☆
“دور ہٹیں مجھ سے”
وہ اسے اپنے اس قدر مسلسل قریب پا کر کھسمسائی تھی مگر مخالف وجود پر اس کے الفاظ جیسے نا گوار گزرے تھے ابھی وہ اسے گھور ہی رہا تھا جب تعبیر نے مظبوطی سے دونوں ہاتھوں سے اسے دور دھکیلا رہی سہی کسر اس کے اس عمل نے پوری کردی تھی ایک پل نہ لگا تھا اس کے بہکے انداز کو سختی میں بدلنے میں وہ اسے غصے سے گھورنے لگا اس کی آنکھیں لال ہونے لگی تھیں
“بات سنو میری… یہ جو تم ایک وقت میں بار بار مجھ سے دور ہونے کی کوششیں کرتی ہو اس بات کو ذہن میں بٹھا لو کے بہت جلد میں تمہاری اس کوشش کو بہت بری طرح سے ناکام بنا دوں گا”
وہ اسے جتانے والے انداز میں کہنے لگا جس پر وہ ایبرو کا زاویہ بنائے اسے نا سمجھی سے دیکھنے لگی
“کیا تم جانتی ہو تمہیں یہاں کیوں بلایا ہے میں نے؟؟”
اس کے سوال پر وہ ٹکٹکی باندھے اس کے اگلے جملے کی منتظر تھی وہ تیز قدموں سے چلتا ہوا اس پر اپنے غصے کا ڈر حاوی کر رہا تھا اب وہ لوگ واپس پہلے والی بوزیشن میں تھے اس بار اس نے اپنے دونوں ہاتھوں کو اس کے گرد دیوار پر لگائے اس کا راستہ بند کیا تھا جس پر وہ گھبرائی تھی
“میں بہت جلد اپنے کہے گئے تمام الفاظوں کو عمل میں بدلنے والا ہوں…بہت جلد تم میرے اس ہی گھر میں میری قید میں موجود ہوں گی “
وہ سخت لہجے سے کہتا ہوا باقاعدہ اپنی نظروں کو اس پر گاڑنے لگا تھا وہ سخت ناگواری سے اسے گھور رہی تھی
“بہت جلد تعبیر علی… بہت جلد تم میری باہوں میں ہوں گی…”
ایک دل جلانے والی مسکراہٹ اس کے لبوں پر نمودار ہوئی تھی تعبیر کو اس کے الفاظ چبے تھے وہ کھا جانے والی نظروں سے اسے دیکھ رہی تھی
“ایسا دن کبھی بھی نہیں آئے گا آتش درانی…”
ایک بار پھر سے اس نے اسے دور دھکیلا تھا اس کی ہمت پر وہ اش اش کر اٹھا تھا
“جو گندگی تمہارے دماغ میں چل رہی ہے بہتر یہی ہے اسے اپنے دماغ سے نکال دو…کیونکہ تعبیر علی مر تو سکتی ہے لیکن کبھی اپنی عزت کسی کے تلوے تلے روند نہیں سکتی”
تعبیر نے اپنا ڈوپٹہ ٹھیک کرتے ہوئے اس کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر یہ الفاظ کہے تھے
“تم جیسے بھیڑیوں کو میں بہت اچھی طرح سے جانتی ہوں… جانتی ہوں تم اتنی آسانی سے میرا پیچھا کبھی نہیں چھوڑو گے لیکن یاد رکھنا آتش درانی تعبیر علی تمہارے سامنے جھک کر تم سے بھیک کبھی بھی نہیں مانگے گی…چاہے اس کے لئے مجھے ساری زندگی پستی میں ہی کیوں نہ گزارنی پڑے”
تعبیر کے الفاظوں کا تماچہ اس کے منہ پر جا لگا تھا جب وہ مزید اسے گھورنے لگا تعبیر کا یوں آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر جواب دینا اسے اپنی توحین لگی تھی وہ چار قدم پیچھے چلتا ہوا دور جا کھڑا ہوا
“اب تم جا سکتی ہو، میرا ڈرائیور تمہیں گھر تک چھوڑ دے گا”
باہر کی جانب ہاتھ سے اسے جانے کا اشارہ کرتے ہوئے وہ دوسری طرف رخ کر گیا تھا جیسے مزید کوئی بات کرنے کے موڈ میں نہ ہو کیونکہ وہ جو کرنا چاہ رہا تھا وہ کرنے سے اسے کوئی بھی روک نہیں سکتا تھا لیکن نجانے اس کے اندر کچھ ایسے جزبات تھے جو اسے ایسا کرنے سے روک رہے تھے اس لئے بہتر یہی تھا کہ وہ اسے یہاں سے صحیح سلامت جانے دے
“اس کی کوئی ضرورت نہیں… میں خو جا سکتی ہوں”
جس گھمنڈ سے آتش نے اسے یہاں سے جانے کا کہا تھا اسے اسی کے انداز میں جواب دیتی ہوئی وہ باہر کی طرف چلی گئی تھی جبکہ اس کے جواب پر آتش نے ضبط سے آنکھیں بند کی تھیں
جاری ہے
