Lams e Junooniyat by Areesha Khan NovelR50533 Lams e Junooniyat (Episode 10)
Rate this Novel
Lams e Junooniyat (Episode 10)
Lams e Junooniyat by Areesha Khan
ائیزل جب اندر انٹر ہوئی تو کلب میں فل ماحول بنا ہوا تھا ہر ایک بے فکری سے اپنی زندگی انجوائے کرنے میں مصروف تھا ائیزل نے ایک نظر اپنے پیچھے آتے ضوریز کو دیکھا جو کسی کو اشارہ کر رہا تھا
“یار ریز کدھر رہ گیا تھا تو؟؟ اور یہ…یہ کون ہے؟؟”
باضل بھگاتے ہوئے ضوریز کے قریب آیا اور اس کے ساتھ کھڑی لڑکی کو دیکھتے ہوئے پوچھنے لگا
“لڑکی…”
ضوریز نے جباتے ہوئے الفاظ میں کہا جس پر ائیزل ضوریز کو دیکھنے لگی
“ابے وہ تو مجھے بھی نظر آرہا ہے مگر یہ ہے کون تیری؟؟”
“یہ میری کون ہے یہ تو میں نہیں جانتا لیکن اگر اس سے میرا پوچھا جائے تو اپنا دشمن بتائے گی…”
ضوریز نے ائیزل کی طرف دیکھتے ہوئے کہا جس پر ائیزل نے آنکھیں گھمائیں
“اچھا اب چل”
باضل نے ضوریز کا ہاتھ پکڑ کر کھینچا اور اپنے ساتھ لے جانے لگا جبکہ ائیزل بھی اپنے دوستوں کے ساتھ دوسری ٹیبل کی طرف چلی گئی
“کم آن ائیزززز”
ائیزل اکثر کلب جاتی تھی لیکن اس نے آج تک ڈرنک نہیں کی تھی مگر اس کے کلاس فیلوز اس کی طرف گلاس بڑھانے لگے جس پر اس نے نفی میں سر ہلایا
ضوریز سگریٹ لبوں میں دبائے اپنی ٹیبل پر بیٹھا ہوا تھا جبکہ نظریں اس کی ائیزل پر ہی تھیں ائیزل نے ایک نظر سامنے کی طرف دیکھا جہاں ضوریز اسے ہی دیکھ رہا تھا نجانے کیوں وقت کے ساتھ ساتھ اس کا غصہ تھوڑا سا کم ہورہا تھا یا پھر یہ سب صرف ضوریز کے سامنے ہی ہوتا تھا
تیز میوزک چل رہا تھا ہر طرف شور تھا سب ڈانس میں مصروف تھے وہاں بہت سی لڑکیاں بیچ میں اپنا ڈانس دکھا کر ماحول بنائے ہوئی تھیں ابھی وہ بیٹھا اسے ہی دیکھ رہا تھا جب ایک لڑکی اس کی طرف آئی
“ہیئی ہینڈسم… ڈانس کروگے میرے ساتھ ؟؟”
ضوریز نے کش لگاتے ہوئے پیچھے کی طرف دیکھا جہاں وہ لڑکی کھڑی مسکرا رہی تھی جو اس وقت ہالف اسکٹ میں موجود تھی
“اوئے ہوئے جا ریز…”
باضل نے بتیسی نکال کر ضوریز کو دیکھا جو اسے سخت تاثرات لئے گھور رہا تھا
“کم آن بے بی…”
اس بار ضوریز کی نظر ائیزل پر گئی جو اب بجائے اسے دیکھنے کے خود فلور پر ڈانس کرتے ہوئے بوائز کو دیکھ رہی تھی
ضوریز نے ائیبرو اچکائے فلور پر دیکھا وہ لڑکے بریک ڈانس کر رہے تھے تب ہی ان لڑکوں نے ایک بہت مشکل اسٹیپ کیا تو پورا کلب شور مچا کر ماحول بنانے لگا ائیزل بھی ان کے ساتھ شامل تھی
ضوریز نے ایک نظر سامنے بیٹھے باذل کو دیکھا ایک جھٹکے سے اس نے باذل کے سر سے کیپ کھینچا اور پھر بنا کچھ کہے اٹھ کر فلور کی طرف بڑھنے لگا جبکہ وہ لڑکی بھی مسکراتے ہوئے اس کے پیچھے چلی گئی اور باذل بے یقینی سے بیٹھا اپنے دوست کو دیکھ رہا تھا
“یاہوووو…”
ائیزل نے شور مچاتے ہوئے تالی بجائی جبکہ ضوریز اپنی گہری کالی آنکھوں سے آدھے گھور رہا تھا ائیزل کو لگا جیسے وہ کسی کی نظروں کی تپش سے بیدار ہورہی ہو
جب اس کی نظر دوسری طرف پڑھی تو چونک گئی ضوریز سخت تاثرات لئے اسے ہی دیکھ رہا تھا ائیزل نے جلدی سے دوسری طرف رخ کیا
“اسے کیا ہوگیا… ایسے کیوں دیکھ رہا ہے…”
ائیزل نے خود کلامی کرتے ہوئے پھر سے اس کی طرف دیکھا مگر وہ وہاں نہیں تھا ائیزل نے اطراف میں نظریں دوڑائیں مگر وہ وہاں کہیں بھی نہیں تھا ضوریز ڈی جے کے کان میں سرگوشی کرتا ہوا سیدھا فلور پر آیا
ایک دم سے میوزک بند ہوا ساری لائٹس آف ہوگئیں اور پھر اچانک سے ساری لائٹس آن ہوئیں سب کی نظریں فلور پر گئیں جہاں وہ اپنے مخصوص اسٹائل میں کھڑا ہوا تھا
سر پر بلیک گول کیپ ایک ہاتھ کی ہتھیلی پر رومال باندھا رکھا تھا جبکہ دوسرا رومال گلے میں بندھا ہوا تھا بال بکھرے ہوئے گردن چھپا رہے تھے رخ دوسری طرف تھا مگر جب وہ مڑا تو سب کے ہوش اڑا گیا
“بے ایمان، دل بڑا بے ایمان
ہوتا نہیں آسان، اسے ہے سمجھانا”
ائیزل کو لگا یہ اس کا خواب ہو جیسے سامنے ضوریز کھڑا اسٹیپ کر رہا تھا سب لوگ فلور سے اتر گئے تھے اب صرف وہ اکیلا تھا ائیزل کو یقین نہیں آرہا تھا کہ وہ ڈانس بھی کرتا ہوگا
“بے ایمان، دل بڑا بے ایمان
تیرے لئے شیطان، میری نو اک مانا”
ائیزل ابھی بے یقینی سے اسے ہی دیکھ رہی تھی جب آخری والے الفاظ میں ضوریز نے اس کی طرف دیکھ کر آنکھ ماری اور سر پر پہنا ہوا کیپ اچھالا جنہیں دو لڑکیوں نے کیٹچ کر کے چھیننا شروع کردیا
“دل جیتے یا میں جیتوں
دیکھوں گی دیکھے گا تو،
لو دل سے شرط لگ گئی”
وہیں لڑکی جس نے ضوریز کو بلایا تھا اب وہ خود ضوریز کے پیچھے سے آکر اس کی پشت پر جھکی تو ضوریز نے اسے ایک اسٹائل سے گھماتے ہوئے اپنی گود میں لیا جبکہ ائیزل ایبرو کا زاویہ بنائے ان دونوں کو دیکھ رہی تھی
“مجھے تو تیری لت لگ گئی لگ گئی
زمانہ کہے لت یہ غلط لگ گئی
مجھے تو تیری لت لگ گئی لگ گئی
زمانہ کہے لت یہ غلط لگ گئی
مجھے تو تیری آہ آہ آہ آہ یہ…”
وہ دونوں بہت اچھے اسٹیپ کر رہے تھے ہر ایک کی نظر ان پر تھی مگر جو ڈانس کر رہا تھا اس کی نظر تو سامنے کھڑی ائیزل پر ہی جمی ہوئی تھی
“یاہووووو ریزززززز…”
باذل بھی سب کے ساتھ آ کھڑا ہوا ہر طرف شور تھا سب انجوائے کر رہے تھے سوائے ائیزل کے کیونکہ اسے ضوریز کا یوں کسی لڑکی کے ساتھ بے باکی سے ڈانس کرنا کچھ خاص پسند نہیں آیا تھا
“اِک تُو، اِک میں ایک بات ہوئی اپنی،
حیراں ہے کیوں سارا جہاں جو رات ہوئی اپنی”
ضوریز نے لب سنگ کی تو ائیزل نے منہ بناتے ہوئے دوسری طرف رخ کیا جبکہ اب وہ لڑکی ایک بار پھر ضوریز کی گود میں اسٹیپ کر رہی تھی
“مجھ سے تُو آکے ملا،
تو یہ ہوا ہے صلا،
کہ سو تہمت لگ گئی”
ضوریز نے اسے گود سے اتار کر دور پھینکا پھر ایک دم سے اس کا ہاتھ پکڑ کر اپنی طرف کھینچا سب ہوٹنگ کرنے لگے لڑکیوں کی نظر تو بس ضوریز ہی پر تھی جبکہ ائیزل کے کلاس فیلوز بھی بہت انجوائے کر رہے تھے
“مجھے تو تیری لت لگ گئی لگ گئی
زمانہ کہے لت یہ غلط لگ گئی
مجھے تو تیری…”
میوزک چل رہا تھا ان کا ڈانس ابھی کنٹینیو تھا جب ائیزل وہاں سے جانے لگی مگر تب ہی لائٹس آف ہوگئیں اور ایک لائٹ ضوریز پر مرکوز کی گئی وہ جہاں جہاں جارہا تھا لائٹ اس پر ہی تھی
جیسے ہی ائیزل نے پلٹ کر لائٹ آف ہونے کی وجہ جاننا چاہی تو پیچھے صرف ضوریز کھڑا تھا وہ اس کی آنکھوں میں ایک الگ ہی جیلسی دیکھ رہا تھا یہ تو وہ بھی نہیں جانتا تھا کہ وہ ایسے بیہو کیوں کر رہی تھی جبکہ ائیزل خود بھی نہیں جانتی تھی اسے یہ سب اتنا برا کیوں لگ رہا تھا
“روکوں جتنا، اتنی بغاوت ہو
لگتا ہے ایسا حالِ دل کی تم ضرورت ہو”
نا صرف وہ چونکی بلکہ سب ہی شاکڈ رہ گئے جب ضوریز نے لبسنگ کرتے ہوئے اسے کمر سے پکڑ کر قریب کیا ائیزل کو لگا اس کا دل بے قابو ہورہا ہو جیسے
“روکوں جتنا، اتنی بغاوت ہو
لگتا ہے ایسا حالِ دل کی تم ضرورت ہو”
ضوریز نے اس کی گردن پر جھک کر اس کا ہاتھ اپنے شانے پر رکھا اور ایک اسٹیپ ادا کرتے ہوئے اس کے پیچھے آیا وہ اس کے بے حد قریب تھا ائیزل کو لگا بس اس کا دل باہر آنے والا ہے
” مجھ کو بھی تُو ضروری
ڈوبی نشے میں پوری
تو کیسے یہ طلب لگ گئی”
گانا تو چل رہا تھا لیکن اب لائٹس آن ہوچکی تھیں اور تقریبآ اب سب ہی لوگ ڈانس کرنے میں مصروف ہو چکے تھے وہ بھی ایک ساتھ ائیزل نے ضوریز کو خود سے دور کیا اور بنا کچھ کہے وہاں سے باہر چلی گئی جبکہ ضوریز صورتحال کو سمجھنے کی کوشش کر رہا تھا
“ابے کدھر جارہا ہے؟؟ وہ دیکھ بچیاں کیسے لائن دے رہی ہیں”
ضوریز نے قدم اٹھائے ہی تھے باضل کی بات پر اسے گھورنے لگا اور اس کا ہاتھ ہٹا کر باہر چلا گیا
“باجی کیپ واپس دے دیئے گا ذرا، بہت مہنگا خریدا ہے”
باضل ہچکچاتے ہوئے ان لڑکیوں کے پاس گیا جو اب تک کیپ پر لڑ رہی تھیں اب اسے دیکھنے لگی باضل سمجھ گیا یا تو اس کی کٹ لگنے والی ہے یا پھر کیپ ہاتھ سے جانے والا ہے
“وہ دیکھیں ریز”
باضل نے ان کے پیچھے اشارہ کیا جس پر ان لڑکیوں نے دوسری طرف رخ کیا ایک سیکنڈ کے اندر باضل نے اپنا کیپ چھینا اور وہاں سے نو دو گیارہ ہوگیا جبکہ وہ بچاریاں اب پیچھے دیکھنے پر پچھتا رہی تھیں
☆★☆★☆★☆
“آئیززز… رکو ائیز…”
وہ بنا پیچھے دیکھے چلتی جارہی تھی وہ سڑک پر آ چکی تھی جب وہ باقاعدہ بھاگتا ہوا اس کے پیچھے آیا ضوریز نے اس کا ہاتھ کھینچ کر اسے روکنا چاہا جس سے وہ اس ہی کے مظبوط سینے سے آ لگی
“کیا ہوگیا ہے تمہیں اچانک؟؟”
ائیزل خود کو سنبھالتے ہوئے اس سے دور ہونے لگی جب ضوریز نے اس کے بازوؤں پر اپنی گرفت مضبوط کی
“ہاتھ چھوڑو میرا”
“پہلے بتاؤ، کیا ہوا ہے تمہیں اچانک؟؟”
ائیزل کی مزاحمت بیکار گئی تب وہ اسے دیکھنے لگی جو پوری طرح سے اس ہی کی طرف متوجہ تھا
“کیا تمہیں برا لگا میرا اس کے ساتھ ڈانس کرنا؟؟”
ضوریز نے انتہائی نرم لہجے سے پوچھا جس پر ائیزل اسے نا سمجھی سے دیکھنے لگی ایک جھٹکے سے ائیزل نے اس کی گرفت سے خود کو آزاد کیا
“دماغ خراب ہے تمہارا؟؟ مجھے کیوں برا لگے گا؟؟ میری بلا سے کسی کے بھی ساتھ ناچو تم…”
ائیزل کے لہجہ میں ایک اجنبیت جھلک رہی تھی جسے سن کر ضوریز نے نظریں جھکا کر ایک لمبی سانس لی
“تو پھر ہوں اس طرح کلب چھوڑ کر آنے کا کیا مطلب سمجھوں میں؟؟”
“کیونکہ مجھے یہ چھچھور پن بلکل بھی نہیں پسند، جو تم میرے ساتھ کر رہے تھے وہ بھی سب کے سامنے”
ائیزل نے انگلی کے اشارے سے کہا جس پر ضوریز نے حیرت سے اسے دیکھا
“اوہ… تو وہ چھچھور پن تھا؟؟ اچھا تو میڈم بتانا پسند کریں گی جو آپ ان ڈھیلے لڑکوں کے ڈانس پر اتنی ہوٹنگ کر رہی تھیں وہ کیا تھا؟؟”
ضوریز نے اصل بات پر آتے ہوئے کہا جس پر ائیزل نے ایبرو اچکائیں
“اوہ تو تمہیں میرا ہوٹنگ کرنا برا لگا… پھر میں اسے کیا سمجھوں؟؟”
ائیزل نے تنزیہ مسکراہٹ اچھالی جس پر ضوریز نے شہادت کی انگلی سے لبوں کو کھجایا
“ویل چلو واپس تمہیں تمہارے گھر چھوڑ آؤں، تمہارا موڈ تو ٹوٹلی خراب ہو چکا ہے اب کیا مزہ آنا ہے اس کلب ولب میں”
ضوریز نے اسے بائیک کی طرف اشارے کرتے ہوئے کہا جس پر ائیزل نے نفی میں سر ہلایا تو ضوریز نے اشارے سے وجہ پوچھی
“میں خود جا سکتی ہوں شکریہ تمہارا”
ائیزل اپنی بات مکمل کر کے اپنا چشمہ ٹھیک کرتی ہوئی آگے کو چلی گئی جبکہ پیچھے ضوریز بیئرڈ کھجاتے ہوئے اسے جاتا ہوا دیکھنے لگا
“آآاہ…”
ابھی وہ تھوڑا آگے گئی تھی جب دو تین بائیکیں فل اسپیڈ میں اس کے برابر سے گزریں جس سے اچانک ڈری
“ہیلو بے بی، کدھر جارہی ہو”
“آؤ ہم چھوڑ دیں”
“ایسے پیدل چلتے چلتے تھک جاؤ گی”
ہر ایک بائیک پر دو لڑکے ساتھ تھے اور وہ اپنے حلیے سے ہی غنڈے موالی لگ رہے تھے
ائیزل نے دانت بیچتے ہوئے انہیں دیکھا جبکہ ضوریز اپنی بائیک پر وہاں پہنچ چکا تھا کلب کے باقی لوگ بھی اپنے اپنے گھروں کو واپسی لوٹ رہے تھے ضوریز وہاں کا منظر دیکھ کر صورتحال سمجھ چکا تھا
“راستہ چھوڑو…”
ائیزل نے چہرے پر سخت تاثرات لئے انھیں کھا جانے والی نظروں سے گھورا جس پر وہ سارے قہقہہ لگانے لگے
“یار ائیزل کہاں ہے؟؟”
“ابے وہ دیکھ سامنے…”
ائیزل کے کلاس فیلوز بھی ان کی طرف بڑھنے لگے کیونکہ ائیزل تھوڑا آگے جا چکی تھی اس لئے فلحال اس راستے پر صرف ائیزل اور تین بائیکیں تھیں
“میں نے کہا میرا راستہ چھوڑو ورنہ”
ائیزل اس بار غصے سے کہنے لگی جس پر ایک بار پھر ان لڑکوں نے قہقہہ لگایا
“ورنہ کیا بے بی…”
ان میں سے ایک لڑکے نے اپنا منہ آگے کرتے ہوئے کہا جس پر ضوریز سرخ آنکھیں لئے بائیک لیے ان کے قریب آنے لگا ابھی وہ کچھ کرتا ہی جب ائیزل نے اس لڑکے کو گریبان سے پکڑ کر بائیک سے کھینچا
وہ لڑکا سیدھا زمین پر جا گرا ائجزل کے کلاس فیلوز بھی یہ منظر دیکھ رہے تھے جبکہ ضوریز آئیبرو اچکائے ائیزل کے اگلے ردعمل کے انتظار میں تھا
“ابے اوئے سالے مجھے چھیڑ رہا ہے تو ہاں”
ائیزل نے اسے گریبان سے پکڑ کر زمین سے اٹھایا اور اس کے منہ ہی منہ پر مکوں کی برسات کردی جبکہ اس لڑکے کے ساتھی بڑی حیرت سے ایک دوسرے کو دیکھ رہے تھے
ائیزل نے اسے اتنا مارا کہ بچارے کی ناک سے خون نکلنے لگا جبکہ باضل جو ابھی کلب سے باہر آیا تھا دور سے یہ منظر دیکھ کر بڑا حیران ہوا
“ابے ہوئے سالوں بچاؤ مجھے…”
اس لڑکے نے خود کو چھڑانے کی کوشش کی تب باقی کے سارے لڑکے بھی بائیک سے اتر کر ائیزل ہر حملہ کرنے لگا ضوریز بائیک سے اتر کر ان کی طرف دوڑا مگر اسے کچھ کرنے کی ضرورت ہی نہیں پڑی
سامنے جو لڑکی تھی وہ کنگ فو ماسٹر تھی ایک ہی وقت میں وہ پانچ پانچ لڑکوں سے فائیک کر رہی تھی ضوریز نا چاہتے ہوئے بھی ایسی سیچویشن میں مسکرانے لگا
“لڑکی ہے یا آفت…”
ائیزل نے مشکل سے پانچ منٹ کے اندر اندر انہیں ڈھیر کردیا جبکہ اب اس کی نظر سامنے کھڑے ضوریز پر گئی جو بڑی حیرانی سے اسے دیکھ رہا تھا
ائیزل نے ایک اسٹائل سے اپنی جیکٹ ٹھیک کی اور مڑنے لگی وہاں کھڑے سارے لوگ ہی بہت حیرت سے اسے دیکھ رہے تھے سوائے اس کے کلاس فیلوز کے علاوہ کیونکہ وہ تو ائیزل کو جانتے ہی تھے کہ وہ جیسی ہے
“رکو…تمہیں اس کا حساب دینا پڑے گا”
ائیزل ابھی واپسی کے لیے مڑنے ہی لگی تھی جب ان میں سے ایک لڑکا اپنے ماتھے سے نکلتے خون کو رگڑتے ہوئے کہنے لگا اور بڑی مشکل سے اس نے موبائل نکال کر کسی کو کال ملائی
ائیزل سوالیہ نظروں سے اسے دیکھنے لگی ابھی وہ کچھ سمجھتی جب آس پاس کے جنگلات جیسے علاقوں سے فائرنگ کی آوازیں آنے لگیں وہاں ایک بھگدڑ مچ گئی
“بھاگو بھاگو”
ہر ایک اپنی جان بچاتا ہوا وہاں سے بھاگنے لگا جبکہ وہ لڑکے جو زمین پر زخمی حالت میں پڑے ہوئے تھے مکار شکل لئے مسکرانے لگے
ابھی وہ کچھ سمجھتی جب بہت ساری بائیکیں اطراف سے نمودار ہوئیں ائیزل کی سوچ سے بھی زیادہ وہاں لڑکے ان کی طرف بڑھ رہے تھے ضوریز سمجھ چکا تھا ائیزل نے جن کو پیٹا تھا وہ یقیناً کسی گینگ کے آدمی تھے تبھی تو درجنوں حساب سے بائیکیں آنے لگی
“ائیززز چلو یہاں سے…”
ائیزل کے حواس باختہ ہوئے تھے جب ضوریز نے اس کا ہاتھ پکڑ کر کھینچا اور اپنی بائیک کی طرف بڑھا لیکن بد قسمتی سے ان بائیکوں نے انہیں اس پاس سے گھیرے میں لے لیا تھا
“خبردار…کوئی اپنی جگہ سے نہیں ہلے گا”
ان میں سے ایک نے فائر کرتے ہوئے کہا تو جو لوگ آس پاس بھاگ رہے تھے وہ وہیں اپنی جگہ پر رک گئے اور خوفگی سے انہیں دیکھنے لگے
“بھائی یہی ہے وہ لڑکی جس نے ہمارا یہ حال کیا ہے”
ان میں سے ایک لڑکے نے اپنے زخم کو سہلاتے ہوئے کہا جس پر پستول والا بندا وحشی نگاہوں سے ائیزل کو سرتا پیر دیکھنے لگا
“بہت غلط کیا چھمیا… لیکن اب جو ہونا تھا وہ تو ہوگیا، اب بات کرتے ہیں کام کی…”
وہ لڑکا بائیک سے اتر کر اس کی طرف بڑھنے لگا جس پر ائیزل کی گرفت ضوریز کے ہاتھ پر مظبوط ہونے لگی ضوریز نے ائیزل کی طرف دیکھا
“وہیں رک جاؤ…ایک قدم بھی آگے بڑھایا تو بہت برا ہوگا”
ضوریز نے ائیزل کو اپنے پیچھے کرتے ہوئے اس لڑکے سے کہا جس پر وہ پستول سے اپنے تھوڑی مسلنے لگا
“یار تو کائے کو ہمارے بیچ ٹانگ اڑا رہا؟؟ جا کام کر اپنا”
“میں نے کہاں وہیں رک جاؤ ورنہ پچھتاؤ گے”
اس بار ضوریز کا دماغ گھومنے لگا تھا جبکہ ائیزل اس کے چہرے کے تاثرات بدلتے دیکھ کر حیران تھی
“کہاں نا، تو جا نا کام کر اپنا”
وہ ابھی مزید آگے آتا جب ضوریز نے اسے گریبان سے پکڑا اور زمین پر دھکیلا اپنے ساتھیوں کو یوں گرتا دیکھ کر تقریباً بیس پچیس لڑکے گاڑی سے اترتے ہوئے ہاتھ میں بیڈ اور ہاکی تھامے ایک قدم آگے آئے
“تیری اتنی ہمت کے مجھے ہاتھ لگایا”
اس لڑکے نے زمین سے اٹھ کر ضوریز پر حملہ کیا جبکہ گن اس کی گر چکی تھی ضوریز نے حملے کو بھانپتے ہوئے اپنے بچاؤ کیا اور اس کے بڑھتے ہوئے ہاتھ کو پکڑتے ہوئے ایک ہی پل میں مروڑ ڈالا جس سے اس کی چینخ فضا میں گونجی یقیناً اس کی ہڈی ٹوٹ چکی تھی
اپنے ساتھی کا ایسا حال دیکھ کر وہ گیارہ لڑکے آگے بڑھے
“ضوریز چلو یہاں سے پلیززز…”
ائیزل اب صحیح معنوں میں پچھتا رہی تھی ضوریز کی بات نہ مان کر، وہ بہت خوفزدہ تھی جبکہ باقی کے سارے لوگ بھی ڈرے ہوئے تھے
“ائیززز پیچھے رہنا…اپنا بچاؤ…”
ضوریز نے ائیزل کی طرف رخ کرتے ہوئے اسے سمجھانا چاہا مگر تب ہی ایک لڑکے نے پیچھے سے اس کی جیکٹ کھینچی جس سے جیکٹ ضوریز کے شانوں پر سے تقریباً کھسک چکی تھی اس کے اسٹرانگ مسلز نمایا تھے ائیزل نے آگے بڑھ کر ضوریز کا بازو پکڑا
“ضوریز چلو یہاں سے پلیزززز پلیززز”
“اوہ ہو ڈارلنگ، بڑی فکر ہورہی ہے اپنے یار کی”
ضوریز نے ایک آگ اُغلتی ہوئی نگاہ اپنے سامنے کھڑی لڑکے پر ماری جو اپنی گندھی نظروں سے ائیزل کو گھور رہا تھا
ضوریز نے اپنی جیکٹ کو اتار کر پیچھے کی طرف اچھالا جس سے وہ ائیزل کے ہاتھوں میں آ گری اس نے ائیزل کو اشارے سے پیچھے ہونے کا کہا جس سے وہ چند قدم پیچھے ہوئی
اب ضوریز کے جسم پر صرف بلیک ٹی شرٹ تھی جن سے اس کی باڈی کافی ابھری ہوئی دکھائی دے رہی تھی
“ڈارلنگ کسے کہا؟؟”
“کیا؟؟”
“ڈارلنگ کسے کہا؟؟”
ضوریز نے باقاعدہ غرراتے ہوئے کہا جس پر سب لوگ اسے دیکھنے لگے
“تیرے پیچھے کھڑی لڑکی کو”
اس لڑکے نے شوخی انداز سے کہا جس پر ضوریز نے حملہ کیا اور ہاتھ کا مکا بنا کر اس کے منہ پر رسید کیا جس سے اس کا دانت باہر آ گرا ساتھ ہی خون بہنا شروع ہوگیا
کیونکہ ضوریز کے ہاتھ کی انگلیوں میں مخصوص سانچے کی انگوٹھیاں تھیں جو سامنے کھڑے لڑکے کے دانت ٹوٹنے کی بڑی وجہ بنی تھیں
“بات سن، میرے پیچھے جو لڑکی کھڑی ہے اسے ڈارلنگ بولنے کا حق صرف میرا ہے، ریز درانی کا”
ضوریز نے زمین پر گرے اس لڑکے کو پکڑ کر دو تین اور مکے مارے جس سے اس کا پورا چہرہ خونم خون ہوگیا جبکہ ائیزل اس کے بولے ہوئے الفاظ پر بڑی حیرت سے اسے دیکھ رہی تھی
“دیکھ کیا رہے ہو سالوں حملہ کرو”
اس لڑکے نے چیختے ہوئے کہا جس پر وہ بیس پچیس لڑکے ایک ساتھ ضوریز پر حملہ آور ہوئے
“ضوریز…………”
ائیزل چیخنے لگی وہ بے حد ڈری ہوئی تھی اسے کچھ سمجھ نہیں آرہا تھا لیکن وہ سامنے کھڑے بندے کو شاید نہیں جانتی تھی
ضوریز نے اپنی پینٹ کی جیب سے ایک بوتل نکالنی جو تھی تو بہت چھوٹی لیکن ان بیس پچیس لڑکوں کو بیدار کرنے کے لیے کافی تھی ضوریز نے پہلے تو ان سب سے فائیٹ کی وہ بھی جم کر
یہ نہیں کہ صرف اس نے ہی سب کو مارا بلکہ وہ بھی چار پانچ مکے اور لاتیں کھا چکا تھا جس کی وجہ سے اس کے چہرے پر دو جگہ سے ہلکا سا خون نکلنے لگا تھا ساتھ ہی نچلے لب پر بھی خون کی بوند نمایا تھی
لڑائی جھگڑے کے دوران ضوریز کی ٹی شرٹ پھٹ چکی تھی اور جس نے پھاڑی تھی وہ اب پچھتا رہا تھا وہ باقی سارے لوگ ضوریز کے ورزشی جسم کو آنکھیں پھاڑ پھاڑ کر دیکھ رہے تھے ضوریز کے سکز پیک ابس ابھری ہوئیں تھیں
ضوریز نے ایک ہی وقت میں ان ساروں سے فائٹ کی تھی جب اب وہ سارے ڈھیر ہوچکے تھے اور وہاں کھڑے سب لوگ ضوریز کی طاقت پر اس کے لڑنے کے انداز پر واہ واہ کر رہے تھے اور ائیزل بھی کہیں نہ کہیں دل ہی دل میں ضوریز کی بہادری اور دلیری پر ناز کر رہی تھی
ضوریز نے اس لڑکے کی جیب تلاش کی جس نے اس کی شرٹ پھاڑی تھی
“اب کیا باقی رہ گیا ہے؟؟”
اس لڑکے نے اپنی ناک پر ہاتھ رکھ کر خون روکنا چاہا وہ زمین پر لیٹا ہوا تڑپ رہا تھا جبکہ ضوریز نے اس کی بات کو اگنور کرتے ہوئے اس کی جیب سے وائلٹ نکال کر کچھ پیسے نکالے اور باقی کے پیسے واپس اس کی وائلٹ میں رکھ کر اس کی جیب میں رکھ دیئے
“اب یہ تو چھوڑ دے میرے باپ، میں سگریٹ کیسے پیوں گا”
اس لڑکے نے باقاعدہ رونے والا منہ بناتے ہوئے کہا
“یہ شرٹ پھاڑنے سے پہلے سوچنا چاہیے تھا نہ، اور یہ پیسے میری پھٹی ہوئی فیوورٹ شرٹ کا حساب ہے”
ضوریز نے اپنے گردن تک آتے بالوں کو سنوارتے ہوئے کہا اور پیسے پینٹ کی جیب میں رکھے اور واپس مڑنے لگا مگر پھر رکا
“بہت مارا ہے تم لوگوں کو…بہت درد ہورہا ہوگا نہ؟؟”
ضوریز نے بچوں والا منہ بناتے ہوئے کہا جس پر وہ لڑکے جو کیڑے مکوڑوں کی مانند زمین پر پڑے ہوئے تھے اسے دیکھنے لگے کہ آخر اب وہ کیا کرنے والا ہے کیونکہ ضوریز نے وہ بوتل جو پہلی نکالی تھی اس کا ڈھکن کھول چکا تھا
“بس تھوڑی دیر انتظار کرو، پھر یہ دوائی تم لوگوں کے درد کو بھلانے میں بہت فائدہ مند ثابت ہوگی”
ضوریز نے اس بوتل کو سب لڑکوں پڑ چھڑکا جبکہ سب لوگ اس کی اس حرکت کو نا سمجھیں سے دیکھ رہے تھے اور ائیزل کو وہ اس وقت مینٹل لگ رہا تھا
ضوریز نے پوڈر چھڑکنے کے بعد بوتل ہوا میں اچھالی اور واپسی مڑ کر ائیزل کے پاس آنے لگا ضوریز نے دیکھا تھا ائیزل کی آنکھیں نم تھیں آج دوسری بار اس نے ائیزل کی آنکھوں کی نمی کو دیکھا تھا
ضوریز نے اس کی ہاتھ سے جیکٹ لی
“تم… تم ٹھیک ہو؟؟”
ائیزل نے ہچکچاتے ہوئے پوچھا جس پر ضوریز نے جیکٹ پہن کر اپنے لبوں پر موجود زخم کو سہلاتے ہوئے یک طرفہ مسکراہٹ اچھالی
“ٹوٹلی فائین، بس شرٹ پھٹ گئی”
ائیزل کے لبوں پر ایک خوبصورت مسکراہٹ آئی
“ااااہ آاااہ…”
وہ لڑکے جو زمین پر پڑھے تھے اب بری طرح سے مچلنے لگے اور بامشکل ایک دوسرے کو سہارا دیتے ہوئے اٹھ کر بھاگنے لگے
جو پاؤڈر اس نے ان پر چھڑکا تھا وہ کیڑے مار دعا تھی جس سے ان لڑکوں کے جسم میں شدت سے خارش ہونے لگی تھی
وہاں کھڑے سب ہی لوگ ہنسنے لگے تھے اور ان لڑکوں کے بھاگنے کے بعد سب تالیاں بجانے لگے جس پر ضوریز نے یک طرفہ مسکراہٹ لئے ان لوگوں کو ہاتھ ہلاتے ہوئے بائے کیا
“اب بیٹھو گی بھی یا مزید کسی سے کُٹوانا باقی رہ گیا؟؟”
ضوریز ائیزل کو اپنی طرف متوجہ وہیں کھڑا دیکھ کر کہنے لگا جس پر ائیزل نے جلدی سے قدم بڑھائے اور اس کے پیچھے آ بیٹھی جبکہ سب لوگ اب تک تالیاں بجارہے تھے
☆★☆★☆★☆
“لو آگیا تمہارا ہوسٹل…”
ضوریز نے بائیک روکتے ہوئے کہا جس پر ائیزل بائیک پر سے اتری
“گڈ نائٹ”
ضوریز نے مسکراتے ہوئے کہا مگر ائیزل کا چہرہ اداس تھا
“تمہارے تو بہت زخم آئے ہیں ضوریز”
آج پہلی بار ائیزل اس کے لئے فکر محسوس کر رہی تھی جس پر ضوریز نے سر جھکاتے ہوئے مسکرایا
“کوئی بات نہیں خیر ہے، ویسے بھی فری میں تھوڑی پٹا ہوں جس جس نے مارا ہے ان سب کی جیب سے میں پیسے نکال چکا تھا”
ضوریز نے آنکھ مارتے ہوئے کہا جس پر ائیزل گھورنے لگی اور نا چاہتے ہوئے بھی مسکرانے لگی
“صحیح کہتے ہیں لوگ تمہیں دو نمبر آدمی…”
ائیزل نے اس کی پست پر ہلکا سا مکا بنا کر مارا جس پر وہ قہقہہ لگانے لگا
“چلو تمہیں یقین تو ہوا، خیر اب جاؤ ورنہ تمہاری روم میٹ اٹھ گئی یا وہ آنٹی نے تمہیں اس وقت میرے ساتھ دیکھ لیا تو پھر آفت اجائے گی”
ضوریز نے آنکھیں گھماکر ہنستے ہوئے کہا جس پر ائیزل اثبات میں سر ہلاتے ہوئے واپسی کے لیے مڑی مگر رکی
“ریز…”
“ہممم…کہو”
“اپنے زخموں پر مرہم لگا لینا”
ضوریز نے دیکھا تھا اس کی آنکھ میں اپنے لئے کچھ، شاید کچھ ایسا جو اسے بے چین کر رہا تھا
“ضرور…ٹیک کیئر”
“یو آلسو”
ائیزل نے قدم اٹھائے اور پائپ کو پکڑتے ہوئے اوپر کی طرف بڑھی کھڑکی کے اندر کودھ کر اس نے پیچھے مڑ کر نیچے کی جانب دیکھا
وہ اپنی گہری کالی بھیڑیے جیسی چمکتی ہوئی آنکھوں سے اسے دیکھ رہا تھا ضوریز نے اسے ہاتھ سے اللّٰہ حافظ کہا جواباً وہ مسکرائی
ضوریز نے بائیک کو کک لگائی اور پل بھر میں وہاں سے غائب ہوگیا جبکہ ائیزل کپڑے چینج کر کے بیڈ پر آ لیٹی تھی تھکن محسوس کرتے ہوئے اسے نیند لگ چکی تھی
☆★☆★☆★☆
جب اس آنکھ کھلی تو وہ اس کی مخالف جگہ پر بے خبر سو رہی تھی آتش نے بنا اسے اٹھائے وہاں سے باہر جانا بہتر سمجھا وہ بنا اسے جگائے اپنی شرٹ پہنتا ہوا اس روم سے باہر چلا گیا
وہ ابھی فریش ہوکر فارغ ہوا ہی تھا جب کرن اپنے گیلے بالوں کو سنوارتی ہوئی کمرے سے باہر آئی
“مورننگ آتش…”
“مورننگ”
آتش نے مختصر کہا اور ڈائننگ ٹیبل پر بیٹھ گیا جبکہ وہ بھی اپنے گیلے بالوں کو لہراتے ہوئے ڈائننگ پر آئی
“جوس؟؟”
“شور…”
آتش نے اس کے آگے جوس کا گلاس بڑھایا جسے تھام کر وہ مسکراتے ہوئے لبوں پر لگانے لگی
“سر آپ کا موبائل رنگ ہوا ہے”
ملازم نے آتش کو موبائل لاکر دیا جس پر کافی کالز لگی ہوئی تھیں
“ڈائریکٹر کی کال…”
آتش نے دھیمے لہجے میں کہا اور موبائل سائٹ پر رکھ کر بریک فاسٹ میں مصروف ہوگیا
بریک فاسٹ سے فارغ ہوکر کرن واپس اپنے ہوٹیل چلی گئی کیونکہ کچھ دیر بعد ان کی شوٹ اسٹارٹ ہونی تھی
“واٹ؟؟”
موبائل پر آئے میسج کو دیکھ کر آتش کے چہرے پر سخت تاثرات نمایاں ہونے لگے اس نے مزید کچھ کہے بنا کال ملائی اور فون کان پر رکھا
“آخر کیوں؟؟ اور کیوں تمہیں ایسا لگتا ہے میں اپنا قیمتی وقت ضائع کروں گا وہ بھی کسی اور کی وجہ سے؟؟”
آتش نے سامنے رکھی کرسی پر زور دیتے ہوئے دانت بیچے
“سر… یہ ضروری ہے… آج کی شوٹ کینسل کرنی پڑے گی”
“ٹانگ اس کی ٹوٹی ہے میری نہیں… ڈائریکٹر سے کہو اس کا سین آگے رکھ لے… آج ہمارا سین رکھ لے”
آتش نے حکم دینے والے انداز میں کہا جس پر مینیجر نے رومال سے پسینے صاف کئے
“سر آپ سمجھنے کی کوشش کریں یہ نہیں ہوسکتا… آج آپ دونوں کے ساتھ ہی ان کی بھی شوٹ ہے وہ بھی آپ دونوں کے ساتھ ہی ایز آ ولن شامل ہوں گے”
“بھاڑ میں جاؤ”
آتش نے غصے سے کال ڈسکنیکٹ کی اور فون صوفے پر پھینکا وہ اپنا ایک بھی دن بیکار نہیں گزارتا تھا وہ چاہتا تھا جب وہ یہاں آیا ہے تو ہر دن شوٹنگ ہو کوئی بھی دن ضائع نہ جائے
وہ اپنا غصہ کم کرنے کی کوشش کر رہا تھا جب کرن کی کال آنے لگی
“ہیلو آتش… میں جانتی ہوں تم غصے میں ہوں گے یہ واقعی بہت غلط ہوا مگر مجبوری ہے، کیوں نہ ہم آج کا دن اسلام آباد کی وزٹ میں گزاریں”
“میرا موڈ نہیں ہے بائے”
جس کے ساتھ وہ کل رات گزار چکا تھا آج اس سے سخت لہجے میں پیش آکر اس نے کال ڈسکنیکٹ کر دی تھی وہ اب سگریٹ نوشی میں مصروف ہونا چاہتا تھا کیونکہ صرف سگریٹ اور شراب ہی وہ واحد چیزیں تھیں جو اس کا غصہ کم کر سکتی تھیں
جاری ہے
☆★☆★☆★☆
