Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Lams e Junooniyat (Episode 13)Part 2

Lams e Junooniyat by Areesha Khan

“تم پاگل ہورہے ہو کیا باضل؟؟ یہ کیسے ممکن ہے تمہیں پتا بھی ہے ہم یہاں حاشر سر کی وجہ سے آئے ہیں…”

ہنی نے اپنا آپ چھڑاتے ہوئے کہا جس پر باضل نے مزید اس پر دباؤ ڈالا

“چاہے کسی کے بھی کہنے پر آؤ لیکن تمہیں تعبیر علی کو آج کسی بھی تھا وہاں بھیجنا ہی ہوگا اور تم اس بات کی فکر بلکل بھی مت کرنا کہ تعبیر کو کسی قسم کا کوئی نقصان پہنچے گا، میں اس بات کی گارنٹی دیتا ہوں جیسے وہ جائے گی ویسے ہی وہ آئے گی بھی”

باضل کی بات پر وہ جلدی جلدی سے سر ہلانے لگی جس پر باضل نے اس کا گلا چھوڑا جس پر وہ کھانسنے لگی

“تمہیں لوکیشن سینڈ کی ہے آج شام ساتھ بجے اسے یہاں بھیج دینا چاہو تو اس کے ساتھ تم بھی آ سکتی ہو”

باضل کی بات پر اس نے جلدی سے ہاں میں سر ہلایا تو وہ وہاں سے چلا گیا

“بوس کام ہوگیا…وہ آرہی ہے آج شام ساتھ بجے”

دوسری جانب سے آتی آواز سن کر وہ فاتحانہ مسکرایا اب اس کی نیلی آنکھوں کا رخ سامنے دیوار پر لگی گھڑی پر تھا

“ویلکم مس تعبیر علی”

وہ مسکراتے ہوئے اپنے صوفے پر آ بیٹھا

“سر جی ڈیزائنر کی کال آئی ہے، وہ آپ کے لئے کچھ نئے ڈیزائن کے ڈریسز تیار کرنا چاہتے ہیں انہوں نے سیمپلز تیار کئے ہیں اگر آپ کہیں تو میں انہیں یہی بلا لوں؟؟”

اسسٹنٹ کی بات پر اس نے نفی میں سر ہلایا جس کا مطلب سامنے کھڑا شخص سمجھ چکا تھا

“اوکے سر”

“سنو… اسے کہو میں آج شام پانچ بجے خود جاؤں گا بوتیک”

“اوکے سر”

آتش آنکھیں بند کیے صوفے کی پشت سے لگ گیا

☆★☆★☆★☆

وہ سرخ آنکھیں لئے گاڑی ڈرائیو کر رہی تھی جب اس کا موبائل بجا جس پر چرسی نام چمک رہا تھا ائیزل نے کال اگنور کردی وہ فل اسپیڈ میں گاڑی چلا رہی تھی جبکہ ضوریز اس کے پیچھے ہی بائیک دوڑا رہا تھا

ضوریز نے اسے پھر سے کال کی مگر ائیزل نے اب بھی اس کی کال ریسیو نہیں کی ضوریز نے موبائل واپس جیب میں رکھا جبکہ یہ اس نے ایک ہی ہاتھ سے کیا تھا اب وہ اور بھی زیادہ اسپیڈ بڑھائے اس کے مخالف آنے لگا

“آئیز؟؟ سنو؟؟”

ائیزل نے شیشے کی دوسری جانب دیکھا جہاں وہ بائیک چلا رہا تھا اور اس سے مخاطب تھا

ائیزل کیونکہ کافی غصے میں تھی اس لئے اس کا کوئی موڈ نہیں تھا کہ وہ اس سے بات کرے اس لئے اس نے گاڑی سلو کی اور دوسرے رستے چلی گئی

جبکہ ضوریز کو پتا تھا وہ جذباتی ہو چکی ہے اس لیے ایسا کر رہی تھی ضوریز نے رستے کو پھانستے ہوئے کسی اور ہی راستے کا انتخاب کیا اب حال کچھ ایسا تھا کہ وہ جس راستے گاڑی دوڑا رہے تھی اس ہی راستے سامنے سے ضوریز کی بائیک آرہی تھی

ائیزل اسے بخوبی دیکھ چکی تھی ائیزل نے بھی غصے سے گاڑی کی اسپیڈ بڑھائی مگر اب ضوریز نے گاڑی بیچ راستے پر راستہ روکنے سے انداز میں کھڑی کردی جس پر ائیزل نے بریک لگانے کا سوچا مگر لگایا نہیں وہ اب تک غصے سے ڈرائیو کر رہی تھی

جبکہ وہ بڑے آرام سے بائیک پر سے اتر کر سامنے آکھڑا ہوا جس پر مجبوراً اسے بریک لگانی پڑی ائیزل کو یقین نہیں آرہا تھا وہ کس طرح کا انسان تھا اس کی کار اور ضوریز کے درمیان اب صرف ایک انگلی کا فیصلہ تھا وہ بے خوفی سے کھڑا اسے تک رہا تھا جس پر ائیزل غصے سے باہر نکل آئی

“کیا مسئلہ ہے؟؟ میرا راستہ کیوں روکا؟؟”

“ہیئی ہیئی ریلیکس بانو آنٹی کا غصہ تم مجھ پر کیوں نکال رہی ہو”

وہ چونکی مگر تب ہی ہوش میں آئی وہ سمجھ چکی تھی وہ سب جان چکا ہے

“اوہ تم تمہیں بھی سب پتا چل گیا ویل ڈن، اب ہٹو میرے راستے سے”

“نہ ہٹوں تو؟؟”

ضوریز نے دو قدم قریب آکر کہا جس پر وہ اسے گھورنے لگی جبکہ ضوریز اس کی سرخ آنکھوں میں نمی دیکھ کر بے چین ہوا جارہا تھا

“میں تمہاری جان لے لوں گی”

“اوہ ریلی؟؟ تو لی کیوں نہیں؟؟ بریک کیوں لگائی؟؟”

ضوریز نے اپنے اسٹائل میں ہاتھ باندھتے ہوئے کہا جس پر وہ نظریں پھیر گئی

“چلو مجھے تم سے بات کرنی ہے”

“مگر مجھے تم سے کوئی بات نہیں کرنی”

ضوریز کی بات پر وہ باقاعدہ غصے سے دھاڑی جس پر ضوریز اسے دیکھنے لگا

“ریلیکس ہوجاؤ ہم بیٹھ کر بات کرتے ہیں نہ…چلو بھی اب”

“میں نے کہا نہ مجھے کوئی بات نہیں کرنی”

وہ بھی ائیزل تھی

“ائیزل تم مجھے غصہ دلا رہی ہو…”

ضوریز نے سخت لہجے میں کہا

“ہاں تو ہٹ جاؤ میرے راستے سے اور جانے دو مجھے”

وہ لاپرواہی سے کہتی ہوئی اس وقت اپنی اکڑ دکھا رہی تھی جس پر ضوریز نے سخت تاثرات لئے اسے دیکھا اور مزید اس کے قریب آیا

“تم چل رہی ہو یا نہیں؟؟”

“نہیں”

اس بار وہ سچ میں اس کا دماغ گھما رہی تھی جس پر ضوریز نے اسے بازوؤں سے پکڑا

“سمجھتی کیا ہو خود کو ہاں ہمیشہ اپنی ہی کیوں چلانا چاہتی ہو تم؟؟ سامنے والی کی بات نہ ماننے کی قسم کھائی ہوئی ہے تم نے کیوں میٹر شاٹ کر رہی ہو؟؟”

“چھوڑو مجھے”

اس کے اجنبی انداز پر ضوریز نے ایک جھٹکے سے اسے آزاد کیا اور اپنی بائیک پر جا بیٹھا

“ایسا ہے تو ایسا ہی صحیح، اگر ضرورت ہو تو یاد کر لینا، یہ ناچیز پہلی آواز میں حاضر ہو جائے گا”

وہ اپنی بات مکمل کرتا ہوا بائیک اسٹارٹ کر کے وہاں سے چلا گیا جبکہ وہ اب واپس اپنی گاڑی میں آبیٹھی تھی

☆★☆★☆★☆

“اوففف اللّٰہ یہ لڑکی اب فون بھی نہیں اٹھا رہی، پتا نہیں کہاں ہو گی کس حال میں ہو گی”

اسے جائے ہوئے اب کافی وقت ہو چکا تھا تقریباً تین گھنٹے تو گزر چکے تھے حریم اس کے لئے بہت پریشان تھی پھر اس نے اپنا بیگ لیا اور پڑھنے بیٹھ گئی

مگر جب بیگ کھولا تو اندر کچھ بھاری بھاری محسوس ہوا جب اس نے جائزہ لیا تو کوئی چوڑی سی چیز جو گفٹ پیپر سے سجھی ہوئی تھی اس کے ہاتھ سے ٹکرائی اس نے جلدی سے اس چیز کو بیگ سے باہر نکالا

وہ پنک کلر کے چمک دار پیپر سے کوور تھی اس پر ایک خوبصورت سی پرپل ربن اور ساتھ ہی ایک کارڈ لگا ہوا تھا

“یہ؟؟ یہ کیا ہے؟؟ اور یہ میرے بیگ میں کیسے آیا؟؟”

حریم نے جلدی سے کارڈ کو کھولا جس پر آئی ایم سوری دوست لکھا ہوا تھا حریم سوچوں میں پڑھ گئی کہ آخر یہ کس نے کیا تھا

جب اس نے پیکنگ کھولی تو اندر سے کتاب نکلی

“Secret of love??”

وہ حیران رہ گئی یہ تو وہی بک تھی نہ جسے وہ ڈھونڈ رہی تھی اور پھر اس دن یہی بک اس نے لائبریری میں دیکھی تھی مگر شاویز یہ پہلے ہی اٹھا چکا تھا

“مگر یہ بک کس نے مجھے بھیجی ہے؟؟”

اس نے پھر سے اس کارڈ کو دیکھا جس میں نیچے چھوٹا سا شیزی لکھا ہوا تھا وہ سمجھ چکی تھی کہ یہ بک شاویز نے اسے سوری کہ طور پر بھیجی ہے لیکن وہ حیران تھی کیونکہ وہ تو ایسا بلکل بھی نہ تھا کہ اچانک سے اسے منانے کہ لئے گفٹ دے دے لیکن شاید یہ واقعی سچ بھی تو ہو سکتا ہے نہ

پہلے اس کے چہرے پر ایک خوبصورت سی مسکراہٹ آئی مگر پھر آج حوریا کا اس کے قریب ہونا یاد کر کے وہ پھر سے اداس ہوگئی

“اگر یہ بک واقعی شاویز نے میرے بیگ میں رکھی تھی تو پھر تیار ہو جاؤں مسٹر شاویز علی کیونکہ میں اتنی آسانی سے نہیں ماننے والی”

وہ آنکھیں چھوٹی کرتے ہوئے کہنے لگی اور خود ہی خود مسکرانے لگی

☆★☆★☆★☆

وہ لوگ اس وقت بوتیک پر موجود تھے ہنی نے تعبیر کو فارم ہاؤس پر جانے کے لئے راضی کرلیا تھا وہ الگ بات تھی کہ اس نے جھوٹ بول کر اسے راضی کیا تھا اور اب وہ تعبیر کو اپنے ساتھ ڈیزائنر سے ملوانے لائی تھی تاکہ اس بہانے وہ اسے نیو نیو ڈریسز دکھا سکے

“دیکھیں میم یہ بلکل نیو ڈیزائن ہے ون شولڈر اسٹائل”

اس لڑکی کے کہنے پر ہنی نے اس خوبصورت سے ڈریس کو ہاتھ میں لے کر خود سے لگایا اور شیشے میں دیکھنے لگی مگر تعبیر کو وہ ڈریس کچھ خاص پسند نہیں آیا کیونکہ وہ ون شولڈر کا تھا

“یہ رہنے دیں مانا کہ اس پر ڈیزائیننگ نیو ہے لیکن یہ اسٹائل اولڈ ہو چکا ہے”

ہنی کی بات پر اس لڑکی نے دوسرا ڈریس نکالا اور اسے دکھانے لگی تب ہی تعبیر کا موبائل بجنے لگا

“یہاں تو سگنلز ڈاؤن ہیں، ایک منٹ میں ابھی آئی”

وہ بوتیک کے پیچھے والے سائیڈ چلی گئی اس بات سے انجان کے اس سائیڈ بوئیز کی بوتیکس ہیں

“یہ بیسٹ لگے گا سر آپ پر، دیکھیں کیسے چار چاند لگ رہے ہیں آپ کی شخصیت پر”

ڈیزائنر کی بات کو اگنور کرتے ہوئے وہ اپنی نیلی آنکھوں سے چشمہ ہٹا کر وہ کوٹ پہن کر دیکھنے لگا جس میں واقعی وہ انتہائی حسین لگ رہا تھا اسے پہننے کے بعد اس کی شخصیت اور بھی زیادہ رعب دار لگ رہی تھی

ابھی وہ شیشے کے سامنے کھڑا خود کو دیکھ رہا تھا جب اس کا موبائل رنگ ہوا وہ کورٹ اتار کر اپنا موبائل لئے وہاں سے باہر کی طرف گیا باضل کی کال ریسیو کر کے اس نے کان پر موبائل لگایا

“ہاں؟؟ کام ہوگیا ؟؟”

“یس بوس… آج شام ساتھ بجے وہ آپ کے سامنے حاضر ہوگی…”

“ٹھیک ہے”

باضل نے ایک اسٹائل سے بھر مارتے ہوئے کہا جس پر اس نے بیزاری سے مختصر جواب دے کر کال ڈسکنیکٹ کردی

یہ ایک بہت بڑی جگہ تھی جہاں سے نیچے کا کار پارکنگ ایریا نظر آرہا تھا وہ واپس مڑنے لگا تھا جب وہ کال کر مصروف سامنے سے آتے ہوئے اس سے ٹکرائی

“آآہ…”

اچانک سے ٹکرانے کی وجہ سے اس کا موبائل اس کے ہاتھ سے چھوٹ کر زمین پر گرا جس سے اسکرین کرچی کرچی ہوگئی

کیونکہ اس کا رخ اب زمین پر تھا اور چہرے پر بال بکھر چکے تھے اس لئے آتش اسے نہیں دیکھ پایا

“دکھائی نہیں دیتا؟؟”

آتش نے غصے سے کہا جس پر وہ بنا اس کی طرف دیکھے زمین پر بیٹھی اور موبائل اٹھانے لگی جبکہ آتش اب تک آگ اُغلتی نگاہوں سے اس لڑکی کو گھور رہا تھا

وہ اپنا موبائل اٹھا کر کھڑی ہوئی جبکہ نظریں اب تک اس کی موبائل پر ہی تھیں آتش نے پھر سے غصے سے اسے کہا

“میں کچھ بول رہا ہوں کیا دکھائی نہیں دیتا تمہیں ؟؟”

اس بار وہ تھوڑی ڈری تھی مگر جب نظر اٹھا کر سامنے دیکھا تو دونوں ہی جیسے دنگ رہ گئے ہوں

یہ ان کی توقع سے آگے تھا کہ وہ ایک بار پھر اس طرح ٹکرائیں گے تعبیر کو اس کا لہجہ بلکل بھی پسند نہیں آیا جبکہ آتش تو اپنی نیلی آنکھوں سے اس کا جائزہ لے رہا تھا وہ سمپل سی لائٹ پنک فراک میں بہت پیاری لگ رہی تھی جبکہ ڈوپٹہ اس نے سلیقے سے ترتیب دیا ہوا تھا

“آپ کو دکھائی نہیں دیتا؟؟ ہمیشہ سامنے والے پر ہی کیوں بلیم دیتے ہیں آپ؟؟”

وہ حیران تھا وہ چھوٹی سی معصوم سی لڑکی اپنی پیاری سی میٹھی سی آواز سے اس پر میٹھا سا غصہ کر رہی تھی وہ اس وقت اسے بلکل پری لگ رہی تھی

“میں…نے کب…بلیم دیا… ہمیشہ آپ کو؟؟”

آتش نے دھیمے سے لہجے میں کہا جس پر وہ اسے پیارے سے غصے سے دیکھنے لگی

“مجھے پتا ہے، آپ ایسے ہی ہیں غلطی آپ کی ہوتی ہے، اور غصہ دوسروں پر کرتے ہیں آپ”

آتش کے چہرے پر ہلکی سی مسکراہٹ آئی تھی لیکن سامنے کھڑی لڑکی کے چہرے پر پریشانی دیکھ کر وہ سنجیدہ ہوگیا تھا

“آئی ایم سوری… آپ کا موبائل تو ٹوٹ چکا ہے… رکیں میں اپنے ڈرائیور سے کہہ کر سیم یہی موبائل آپ کو منگوا کر دیتا ہوں”

آتش نے جلدی سے اپنے موبائل پر کسی کا نمبر ڈائیل کیا مگر پھر رکا

“اس کی کوئی ضرورت نہیں، مجھے آپ سے کچھ نہیں چاہیے، غلطی آپ کی تھی آپ نے اگر مان لیا تو اچھی بات ہے”

وہ اپنی چھوٹی سی ناک پر غصہ لئے وہاں سے جانے لگی مگر آتش نے اس کا ہاتھ پکڑا جو شاید اسے ناگوار گزرا تھا مگر اس کے اچانک قریب آنے پر اس کی سانسیں وہ اپنے چہرے پر محسوس کر رہا تھا

“تعبیر…”

“ہاتھ چھوڑیں میرا، یہ کیا کر رہے ہیں آپ…”

تعبیر نے اپنا ہاتھ چھڑانا چاہا جس پر اس نے چھوڑ بھی دیا

“میں… میں بس اپنی غلطی کا ازالہ کرنا چاہتا ہوں…”

“ایسے کریں گے ازالہ؟؟”

“نہیں… آپکا موبائل واپس لوٹا کر”

“میں نے کہا نہ مجھے اس کی ضرورت نہیں برائے مہربانی میرا راستہ چھوڑیں”

تعبیر حاشر خانزادہ کی باتیں سننے کے بعد خود بھی آتش کے بارے میں نیوز نکال کر دیکھ چکی تھیں اور حاشر کی تمام باتیں سچ ثابت ہوئی تھیں جہاں آتش ہوتا تھا ہونا کوئی نہ کوئی مسئلہ لازمی کھڑا ہوتا تھا اور اب وہ نہیں چاہتی تھی کہ اس کے ساتھ بھی کچھ ایسا ہی ہو اور نیوز بن جائے اس لئے وہ اپنا آپ بچاتی ہوئی وہاں سے چلی گئی

جبکہ پیچھے وہ کھڑا اسے جاتے دیکھ رہا تھا

“کہاں جاؤ گی مجھ سے بھاگ کر؟؟ آج شام آنا تو تمہیں میرے ہی پاس ہے”

وہ قاتلانہ مسکراہٹ لئے وہاں سے چلا گیا

“اففف یہ کیا ہوا ہے تعبیر ؟؟ سب ٹھیک تو ہے نہ؟؟”

ہنی اس کا ٹوٹا موبائل دیکھ کر پریشان ہوئی

“جی جی سب ٹھیک ہے بس یہ ٹوٹ گیا ہاتھ سے گر کر”

تعبیر نے نرم سے لہجے میں کہا جس پر وہ اثبات میں سر ہلانے لگی

☆★☆★☆★☆

شام کا وقت تھا جب وہ پورا شہر گھوم کر اب تھک چکی تھی اسے کچھ سمجھ نہیں آرہا تھا کہ وہ کیا کرے اس نے پہلے تو اپنا موبائل چیک کیا جس پر حریم کی کالز اور میسجز لگے ہوئے تھے

ائیزل نے پہلے اسے میسج ٹائپ کیا کہ وہ ٹھیک ہے پھر کچھ سوچ کر ضوریز کے گھر کی سڑک پر چل پڑی یہ راستہ اکثر ہی سنسان رہتا تھا وہ ابھی اس ہی کے گھر کے سامنے سے گزر رہی تھی جب اسے گاڑی کے باہر فرنٹ پر ضوریز بیٹھا نظر آیا

وہ اس وقت اسموکنگ کرنے میں مصروف تھا جبکہ اس کا حلیہ کچھ یوں تھا کہ وہ سفید بنیان کے ساتھ جس سے اس کی باڈی ابھری ہوئی نظر آرہی تھی، بلیک ٹراؤزر میں موجود بال بکھرائے سگریٹ پینے میں مصروف تھا ائیزل نے گاڑی کو بریک لگایا جبکہ بریک لگانے کی آواز پر بھی وہ ٹس سے مس نہ ہوا

وہ گاڑی سے باہر نکل کر اس کی طرف بڑھی وہ جو آنکھیں بند کئے کش لے رہا تھا اس کی آہٹ محسوس کرتے ہوئے آنکھیں کھول کر اسے دیکھنے لگا وہ سامنے خاموش کھڑی اسے ہی دیکھ رہی تھی جیسے آج صبح والے واقعے کے بعد بہت شرمندہ ہو

ضوریز نے پہلے اسے سرتا پیر دیکھا حلیہ تو اس کا بھی کچھ عجیب ہی ہورہا تھا ضوریز سمجھ چکا تھا وہ گلٹی فیل کر رہی تھی ضوریز نے بنا کچھ کہے ایک سگریٹ نکال کر اس کی طرف بڑھائی جیسے تھام کر وہ اس کے قریب ہوئی

ضوریز نے ایک ہاتھ سے اسے اپنی طرف کھینچا جس سے وہ اس کے برابر ہی کار کے فرنٹ پر آ بیٹھی جب اس نے لبوں پر سگریٹ لگائی تو ضوریز نے لائٹر سے اس کی سگریٹ سلگائی

ایک لمبی سانس کھینچ کر اس نے کش لگائی جبکہ اب وہ دونوں ہی شیشے سے ٹیک لگائے لیٹے ہوئے تھے

“غصہ کم ہوا میڈم کا”

ضوریز کے گھمبیر لہجے پر اس نے ایک نظر اس کی جانب دیکھا

“ہممم…آج کے لئے سوری”

“کوئی بات نہیں چلتا ہے”

ضوریز نے چہرے کا رخ اس کی طرف کیا جبکہ وہ بھی اس ہی کو دیکھ رہی تھی

“تمہیں غصہ نہیں آیا میرے رویے پر؟؟”

“نہیں”

“آیا تو ہوگا، وہ الگ بات ہے تم خاموش رہے”

ائیزل کے لہجے میں اداسی تھی ضوریز نے کش لگاتے ہوئے اسے دیکھا

“شاید آیا ہو، وہ اس لیے خاموش رہا تھا کیونکہ سامنے تم تھیں”

ضوریز کی بات سن کر وہ خاموش ہوگئی اس اب کی آنکھیں بند تھیں اور آنسوں جاری تھے ضوریز اس کے آنسؤوں کو دیکھ چکا تھا

“کچھ کہنا چاہتی ہو تو کہہ سکتی ہو، میں سن رہا ہوں”

ضوریز نے دھیمے لہجے میں کہا جس پر ائیزل نے ایک ٹھنڈی سانس لیتے ہوئے اپنے آنسوؤں کو صاف کیا

“بہت چھوٹی تھی میں جب مجھے اس ہوسٹل ڈال دیا گیا تھا میرے موم کے جانے کے بعد ڈیڈ نے مجھے سنبھالنے کی زمہ داری سے آزاد چاہی تھی اس لئے انہوں نے اپنے بزنس کے لئے مجھے یہاں چھوڑ دیا تھا تاکہ وہ باہر جا کر اپنے بزنس کو ٹائم دے سکیں،

اس دن کے بعد آج تک وہ مجھ سے مشکل سے صرف دو بر ملنے آئے تھے وہ بھی بزنس میٹنگ کی وجہ سے صرف آدھے گھنٹے کے لیے”

آئیزل نے حریم کے علاوہ پہلی بار کسی سے اپنے دل کی بات شیئر کی تھی جبکہ ضوریز اس کے لہجے سے جھلکتی اداسی بخوبی دیکھ سکتا تھا

“وہ صرف باپ ہونے کا فرض ایسے پورا کرتے ہیں کہ پر مہینے مجھے لاکھ کے قریب پاکٹ منی بھیج دیتے ہیں، وہ نہیں جانتے ان کی وجہ سے مجھے ہوسٹل والوں کے سامنے ہمیشہ شرمندہ ہونا پڑتا تھا، ہر تہوار پر تمام لڑکیاں اپنے اپنے گھروں کو چلی جاتی تھیں مگر میں…”

وہ کچھ کہتی جب اٹھ بیٹھی اس کے آنسوں اس کا پورا چہرہ بھگا چکے تھے ضوریز بھی اس ہی کے ساتھ اٹھ بیٹھا تھا

“مگر میں یوں ہی تنہا اپنے کمرے میں بیٹھی سسکتی رہتی تھی، سترہ سال کی تھی میں جب سے میں نے اپنی تنہائی کو دور کرنے کے لیے اس سگریٹ کا سہارا لینا پڑا تھا”

ضوریز نے دیکھا تھا اس کا چہرہ بلکل سرخ ہو چکا تھا اور اس کی چھوٹی سی ناک بھی تقریباً لال ہو چکی تھی ضوریز اس کے چہرے کے ایک ایک نقش کو دیکھ رہا تھا

“پہلے میں اکیلے یہ دکھ برداشت کرتی رہی مگر پھر میری روم میٹ حریم آئی جس سے شروع میں تو مجھے الرجی ہوتی تھی لیکن وہ واقعی بہت اچھی لڑکی ثابت ہوئی تھی، اس نے ہمیشہ مجھے ہوسٹل والوں کی بری باتوں سے بچایا مجھے سمجھایا میرے لئے جھوٹ بولے اور ایک بار نہیں ایسا کئی بار ہو چکا تھا لیکن آج… آج مجھے ایسا محسوس ہورہا ہے کہ واقعی میں بہت اکیلی ہوں…”

ضوریز نے اپنی سگریٹ انگلی سے مسل کر بجھا دی تھی

“تو تم اپنے ڈیڈ کے پاس واپس کیوں نہیں چلی جاتیں؟؟”

بہت دیر بعد اس نے سوال کیا تھا جس پر اس کے لبوں پر ایک دکھ بھری مسکراہٹ آئی تھی

“میرے ڈیڈ کے پاس تو مجھ سے پاس کرنے کے لیے وقت ہی نہیں ہوتا جو میں ان سے کہہ سکوں کے مجھے ان کے ساتھ رہنا ہے، میرے ڈیڈ کو صرف میری ڈگریوں سے مطلب ہے تاکہ وہ کسی پڑے لکھے انسان سے میری شادی کرا دیں، کاش موم مجھے بھی اپنے ساتھ لے جاتیں”

ائیزل کی تمام باتیں اس نے دھیان سے سنی تھیں لیکن آخری جملے پر ضوریز کی نسیں اُبھرنے لگی تھیں اس کا دل دھڑکا تھا

“پاگل ہو گئی ہو؟؟ آج کے بعد دوبارہ ایسی بکواس بار میں تمہارے منہ سے نہ سنوں”

ضوریز نے سخت لہجے میں کہا جس پر ائیزل کچھ دیر کے لیے خاموش ہوئی

“تم نہیں جانتے ریز اکیلے انسان کا دنیا میں رہنا کتنا مشکل ہوتا ہے انہیں لوگوں گی باتیں لوگوں گے الزامات ان کے تعنے جیتے جی مار دیتے ہیں”

“میں بھی تو اکیلے رہتا ہو، میرا بھی تو کوئی نہیں اس جہاں میں تو کیا میں بھی مرنے کی باتیں کروں؟؟”

ضوریز نے ایبرو کا زاویہ بنایا جس پر ائیزل اس کی طرف متوجہ ہوئی

“تم بہادر ہو ریز تم میں ہمت ہے تم ہر ایک کا سامنا کر سکتے ہو تم سب کچھ ہینڈل کر سکتے ہو یو آر آ براو مین”

“یو آر آلسو براو آئیزز… تم بھی ایک بہادر لڑکی ہو اور کم از کم ایسی باتوں کی امید مجھے تم سے تو بلکل بھی نہیں تھی”

ضوریز اس کے قریب آیا اس وقت ائیزل کو وہ اپنا اپنا سا لگ رہا تھا

“تمہارے ڈیڈ کو پتا ہے کہ تم سگریٹ؟؟”

“نہیں”

“اور اگر انہیں پتا چلا تو؟؟ لاسٹ سمسٹر ہے نہ تمہارا شادی اب وہ تم سے ملنے یہاں آئیں…”

“اچھی بات ہے انہیں یہ سب پتا چل جائے تاکہ وہ مزید مجھ پر کوئی ظلم نہ کریں میں نہیں کر سکتی کسی سے بھی شادی، میرے ڈیڈ مجھے سمجھ کیوں نہیں رہے کوئی بھی نہیں سمجھتا مجھے ریز کسی کو میرے آنسوؤں سے کوئی فرق نہیں پڑے گا”

اس بار وہ سچ میں تو رہی تھی اور بہت زیادہ رو رہی تھی ضوریز کو اپنے اندر ہی اندر ایک عجیب سی تکلیف ایک عجیب سا درد محسوس ہورہا تھا ضوریز نے اس کے رخساروں پر سے آنسوؤں کو صاف کیا اور اسے اپنی جانب کھینچا جس پر وہ اس کے سینے سے آ لگی

مگر اس بار وہ اس سے دور ہونے کے بجائے اس کے سینے سے لگی مسلسل روئی جارہی تھی ضوریز نے اس کے گرد باہیں پھیلائیں

“میں ہوں نہ، میں سمجھتا ہوں تمہیں… چاہت کسی کو فرق پڑے نہ پڑے لیکن مجھے پڑتا ہے… لوگ آنسوں پوچنے کے لیے صرف ٹیشو دیں گے مگر تمہارے آنسوؤں کو جذب کرنے کے لیے میرا سینا اور کاندھا حاضر ہے”

وہ کس جنون کس شدت سے اپنے الفاظ ادا کر رہا تھا اس کے گہرے الفاظوں پر ائیزل کی گرفت اور بھی زیادہ مظبوط ہونے لگی تھی وہ مزید رو رہی تھی مگر وہ اب خاموش تھا اس نے اسے چپ نہیں کرایا تھا اسے پتا تھا سالوں سے جو بوجھ اس کے دل پر تھا وہ آج آنسوں بہانے سے کم ضرور ہوگا

وہ اب اس کے سینے سے لگی سکون محسوس کر رہی تھی نجانے ایسا کیا تھا اس انجان شخص میں کہ وہ اسے اپنا اپنا سا لگ رہا تھا جبکہ ضوریز اسے سینے سے لگائے اپنے اندر اٹھتے طوفان کو تھمتا ہوا محسوس کر رہا تھا اس کا درد اس کی تکلیف اب کم ہو چکی تھی

☆★☆★☆★☆

“جی جی میں پہنچ چکی ہوں”

وہ دونوں ٹیکسی میں لوکیشن کے ذریعے اس بڑے سے فارم ہاؤس پر آئی تھیں جبکہ باضل جسے ان کے آنے کی خبر مل چکی تھی وہ آتش سے اجازت طلب کرتا ہوا باہر جانے لگا جب اس نے دیکھا کہ تعبیر علی کے ساتھ ایک اور سانولی سی لڑکی موجود تھی

کیونکہ اس نے ہی تعبیر کے بارے میں تمام معلومات آتش تک پہنچائی تھیں اس لئے وہ سمجھ چکا تھا یہ اس کی یقیناً دوست ہوگئی کیونکہ آتش تعبیر سے اکیلے میں ملنے کا خواہشمند تھا اس لئے اس نے باضل کو کہہ کر اس لڑکی کو وہیں پر مصروف کرنے کا کہا تھا جس پر وہ چلتا ہوا باہر آیا جہاں وہ دونوں اندر کو آرہی تھیں

“ہیلو کیسی ہیں آپ لوگ امید ہے آپ لوگوں کو کوئی پریشانی نہیں ہوئی ہوگی یہاں آنے میں”

“اسلام و علیکم جی دراصل ہم ٹیٹو بنانے کے حوالے سے بات کرنے آئے ہیں”

“وعلیکم السلام جی جی میں سمجھ گیا مس تعبیر علی، وہ آپ کا بڑی شدت سے انتظار کر رہے…آئی مین رہی ہیں آپ یہاں آگے سے لیفٹ جا کر پھر رائٹ پر جائیں گی تو سامنے سیڑھیاں ہوں گی بس اوپر پہلا ہی کمرہ ہوگا”

باضل نے بڑے ادب سے ہاتھ باندھتے ہوئے کہا جبکہ رائمہ کو وہ بندا ایک آنکھ نہیں بھا رہا تھا

“اوکے شکریہ چلو رائمہ…”

“آہں آہن ذرا سنئیے مس تعبیر علی، وہ صرف آپ سے ملنے کی منتظر ہیں، باقی کسی اور کو وہ بلکل بھی اپنے سامنے نہیں سنے دیں گی”

باضل کی بات پر تعبیر نے اثبات میں سر ہلاتا جبکہ رائمہ اس کے اترانے والے انداز پر اسے گھور رہی تھی

“اوکے تم جلدی آنا میں انتظار کر رہی ہوں”

تعبیر علی اثبات میں سر ہلایا اور آگے بڑھ گئی جبکہ رائمہ اپنا بیگ ٹنگائے وہیں کھڑی ہوئی تھی

“آپ یہاں بیٹھیں میں جوس منگواتا ہوں”

“نہیں رہنے دیں اس کی کوئی ضرورت نہیں”

رائمہ نے روڈ لہجے میں کہا جس پر وہ منہ بنا گیا اس نے اسے اوپر سے نیچے تک دیکھا ڈھیلی سی رنگین شرٹ جو شاید مانگ کر پہنی ہوئی لگ رہی تھی ساتھ ٹائٹ اولڈ فیشن کی پینٹ جو یقیناً اس کی تو ہوگی نہیں بالوں کو جیل کی مدد سے اکڑائے وہ عجیب ہی مخلوق لگ رہا تھا

“چلیں میں آپ کو لان کی سیر کراتا ہوں شام کے اس پہر ٹھنڈی ہوائیں جب آپ کی سانسوں میں سمائیں گی تو آپ فریش فریش محسوس کریں گی ابھی کافی غصے میں لگ رہی ہیں…”

باضل کی بات عجیب انداز میں کہی گئی بات پر رائمہ اسے آنکھیں چھوٹی کرتے ہوئے گھورنے لگی جس پر باضل چور آنکھوں سے اسے دیکھا جارہا تھا

☆★☆★☆★☆

جب وہ سیڑھیاں عبور کرتے ہوئے اوپر والے کمرے میں داخل ہوئی تو یہ کسی آفس روم کی طرح للگ رہا تھا دائیں جانب دیوار کے ساتھ ایک بڑا سا شوکیز رکھا ہوا تھا جس میں کچھ فائلز وغیرہ جمی ہوئی تھیں بائیں جانب دیوار پر کچھ فوٹوز لگی ہوئی تھیں جب میں آتش کا چہرہ چمک رہا تھا اسے لگا شاید یہ سب اس کا وہم ہے

مگر سامنے والے دیوار کی طرف ایک ٹیبل اور تین کرسیاں تھیں جن میں سے دیوار والی طرف کی کرسی پر کوئی کھڑکی کی جانب رخ کئے بیٹھا مسلسل کرسی ہلا رہا تھا اسے یہ سمجھنے میں زیادہ دیر نہ لگی کہ وہ کوئی لڑکی نہیں لڑکا ہے

“کک کون ہیں آپ؟؟”

تعبیر نے آگے بڑھ کر کہا جس پر کرسی ہلنا بند ہوئی اور جب وہ پلٹا تو اسے تقریباً جھٹکا ہی دے گیا وہ کوئی اور اور بلکہ آتش درانی تھا ہاں وہی شخص جس سے وہ آج ٹکرائی تھی آتش اپنی پر کشش نیلی آنکھوں سے اس کا جائزہ لے رہا تھا وہ اب پہلے سے بھی زیادہ معصوم لگ رہی تھی

“ویلکم ٹو مائے ہاؤس… مس تعبیر علی “

ایک پر اسرار سی مسکراہٹ اس کے ہلکے گلابی لبوں پر چھائی تھی جس میں وہ کھو رہی تھی مگر اپنے جذباتوں پر قابو پانا وہ اچھے سے جانتی تھی تعبیر نے باقاعدہ اسے غصے سے دیکھا تھا جس پر اس کی وہ دلکش مسکراہٹ مزید گہری ہوگئی تھی

تعبیر کو یاد آیا تھا کہ ہنی نے اس سے کہا تھا کوئی نیو سیلی بریٹی ٹیٹو بنوانا چاہ رہی ہیں جس کی وجہ سے انہوں نے تعبیر کو ڈسکس کرنے کے لیے بلایا تھا لیکن اب اسے سمجھ آیا تھا کہ شاید یہ جھوٹ تھا مگر اس کے اب تک سمجھ نہیں آرہا تھا بھلہ ہنی نے ایسا کیوں کیا تھا اور آتش نے آخر کیوں اسے یہاں بلایا تھا

“کک کیا یہ سب آپ نے کیا ہے؟؟ مگر کیوں ؟؟”

تعبیر کی بات پر وہ جو کرسی سے ٹیک لگائے سکون سے بیٹھا تھا اب ٹیبل پر دونوں ہاتھ رکھ کر آگے ہوا

“واؤ آپ تو بڑی سمجھدار نکلی ہیں، کافی جلدی بھانپ لیا آپ نے کہ آپ کو یہاں کس نے بلایا ہے”

“ہنی نے مجھ سے جھوٹ کیوں کہا؟؟”

وہ خود سے سوال کرنے لگی وہ کشمکش میں مبتلا تھی

“آہن بلکل بھی نہیں، کسی نے آپ سے کوئی جھوٹ نہیں کہا دراصل یہ بات صرف میرے علم میں تھی”

وہ پرسکون انداز میں کہتا ہوا اسے دیکھنے لگا جبکہ تعبیر کو اس کی نظروں کی تپش سے گھٹن ہورہی تھی

“آااپ نے… جھوٹ… کیوں کہا؟؟”

“ایکچلی کچھ منافقوں نے آپ کی معصومیت کا فائدہ اٹھاتے ہوئے آپ کو میرے خلاف بھڑکانا چاہا تھا سو مجھے لگا اگر میں آپ کو کھلم کھلا ملنے کی دعوت دوں گا تو شاید آپ انکار کردو اس لیے میں نے یہ راستہ اختیار کیا”

وہ فکرمندی سے کہتا ہوا اسے ڈرامے بازی ہی لگ رہا تھا تعبیر اسے ایبرو کا زاویہ بناتے ہوئے دیکھنے لگی

“آپ کیوں ملنا چاہتے تھے مجھ سے؟؟”

“حد ہے مس تعبیر… آپ کو تو خود کو خوش نصیب سمجھنا چاہیے کہ ‘آتش درانی’ نے آپ سے ملنے کی خواہش کی تھی”

آتش نے اپنا نام بھرم سے لیتے ہوئے ایک مسکراہٹ اچھالی جس پر تعبیر نے گہری سانس لی

“دیکھیں میں آپ کو نہیں جانتی اور نہ ہی مجھے آپ سے ملنے کا کوئی شوق ہے تو میں کیوں خود کو خوش نصیب سمجھوں ؟؟”

وہ معصومیت سے مجبور اب اپنے الفاظوں سے اسے حیران کر گئی تھی جس پر وہ قہقہہ لگائے بنا نہ رہ سکا تعبیر کو اس کا یوں ہنسنا کچھ پلے نہیں پڑا تھا

“مس تعبیر علی آپ واقعی بہت دلچسپ شخصیت کی مالک ہیں سچ میں… مطلب جس کو پوری دنیا جانتی ہے جس سے ملنے کے لیے لوگ ترستے ہیں جس کا نام بچہ بچہ جانتا ہے آپ اس کے سامنے کھڑی ہو کر اس ہی کو جاننے سے انکار کر رہی ہیں…حیرت ہے “

آتش نے حیرت سے کہا جبکہ تعبیر سب تک صورتحال سمجھنے کی کوشش کر رہی تھی

“خیر… پلیز سڈ ڈاؤن مس تعبیر”

اس نے اسے بیٹھنے کا کہا جس پر تعبیر نے غصہ ضبط کیا آخر وہ کس طرح پرسکونی سے پیش آرہا تھا جیسے وہ دونوں ایک دوسرے کو جانتے ہوں اور ملاقات دونوں نے خود رکھی ہو

“آپ نے کیوں بلایا ہے مجھے یہاں؟؟”

“کیوں بلایا ہے…؟؟ ابھی بتاتا ہوں…”

تعبیر نے اس کی بات کو نظر انداز کرتے ہوئے سوال کیا جس پر وہ کرسی سے اٹھ کر اس کی طرف بڑھنے لگا اب وہ لوگ ایک دوسرے کے آمنے سامنے تھے

“مجھے ایک چھوٹا سا کام تھا آپ سے امید ہے آپ ضرور کردیں گی…”

‘کیسا کام؟؟”

“زیادہ کچھ نہیں مس تعبیر علی… بس حاشر خانزادہ نے آپ کو جو آفر دی ہے اسے آپ کو ری جیکٹ کرنا ہوگا اس کے بدلے میں آپ کو دگنی رقم دوں گا”

وہ اپنی مطلب کی بات پر آ ہی گیا تھا جسے سن کر تعبیر اسے نا سمجھی سے دیکھنے لگی

“کیا مطلب ہے آپ کی بات کا؟؟ میں سمجھی نہیں ؟؟”

“اس میں نا سمجھنے والی کونسی بات ہے ؟؟ آپ بس حاشر خانزادہ کے پاس جائیں اور اس نے آپ کی کمپنی کو جو آفر کی ہے آپ اسے ری جیکٹ کردیں سمپل… بدلے میں دو گنا زیادہ رقم آپ کو مل جائے گی”

تعبیر کے سوال پر وہ بڑے پرسکون سے لہجے میں اسے سمجھانے لگا جبکہ اس کی نظر تعبیر کی نازک سی گردن پر تھی جہاں ایک بہت نازک سا خوبصورت سا نیکلیز ڈلا ہوا تھا

“مگر میں ایسا کیوں کروں ؟؟”

“کیونکہ آپ کو اس سے فائدہ پہنچے گا”

“مگر آپ ایسا کیوں چاہتے ہیں ؟؟ اور آپ کو ایسا کیوں لگتا ہے کہ میں آپ کی بات مانوں گی؟؟”

تعبیر کی بات پر وہ سر جھکائے مسکرانے لگا جس پر تعبیر اسے گھورنے لگی

“میں ایسا کیوں چاہتا ہوں وہ میرا مسئلہ ہے، اور رہی میری بات ماننے کی بات تو مس تعبیر علی بات تو میری ماننی پڑے گی”

وہ ایک اسٹائل سے آنکھیں چھوٹی کئے اسے نجانے کیا سمجھانا چاہ رہا تھا مگر وہ بھی تعبیر تھی بھلہ کیوں اس انجان شخص کی بات مانتی

“اور مجھے کیوں ماننی پڑے گی؟؟”

“کیونکہ میں کہہ رہا ہوں…”

“اسے میں حکم سمجھوں یا چیلنج؟؟”

“جو دل کرے سمجھ لو…”

آخری والے الفاظ پر اس نے آنکھ ماری جس پر تعبیر نے مٹھیاں بینچیں

“اور اگر میں نہ مانوں تو؟؟”

وہ حیران تھا کہ کس طرح وہ لڑکی آتش درانی کے سامنے کھڑی اس سے دو ٹوک بات کر رہی تھی کیا وہ نہیں جانتی تھی کہ سامنے جو شخص کھڑا ہے وہ کوئی عام انسان نہیں بلکہ آتش درانی تھا، وہی آتش جس کے نام سے جتنے لوگ جلتے تھے اس سے کئی زیادہ لوگ ڈرتے بھی تھے

“تمہیں ماننی پڑے گی”

اب وہ اسے غصہ دلا رہی تھی جس سے آتش کے چہرے پر سخت تاثرات نمایاں ہوئے جسے دیکھ کر وہ تھوڑا گھبرائی کیونکہ وہ پہلی بار کسی مرد کے ساتھ تلخ کلامی کر رہی تھی وہ بھی تنہائی میں مگر اسے یہاں ہمت سے کام لینا تھا

“مسٹر آتش درانی میں آپ کے تابع نہیں ہوں “

“اگر میری بات نہ مانی تو آئی سوویر بہت جلد میرے تابع ہوجاؤ گی”

آتش نے سختی سے کہا

“ایسا کبھی نہیں ہوگا سمجھے آپ”

وہ ابھی اپنی بات مکمل کر کے پلٹتی مگر آتش نے اس کا ہاتھ پکڑ کر اسے اپنی طرف کھینچا جس سے وہ اس کے سینے سے آ لگی تھی ایک بار پھر سے اس کی چلتی ہوئی گرم سانسوں کی مدھم سی مہک اس کی سانسوں میں سمائی تھی جو اسے بہکنے پر مجبور کر گئی تھی

جبکہ دوسری طرف تعبیر جو اس کی مظبوط گرفت میں قید خود کو آزاد کرانا چاہتی تھی مگر آتش کے وجود پر لگے برینڈ پرفیوم کی خوشبو اسے وہیں ٹہرنے پر مجبور کر رہی تھی

جاری ہے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *