Lams e Junooniyat by Areesha Khan NovelR50533 Lams e Junooniyat (Episode 19)
Rate this Novel
Lams e Junooniyat (Episode 19)
Lams e Junooniyat by Areesha Khan
“شاویز پلیزز یہ کھالو پلیزز ایسے تو تمہیں چکر آنے لگیں گے”
حریم کینٹین سے اس کے لئے سینڈوچ لائی تھی جس پر شاویز اسے سنجیدگی سے دیکھنے لگا
“نہیں حریم جی مجھے کچھ نہیں کھانا”
“شاویز پلیزز دیکھو اگر تمہاری طبیعت خراب ہوگئی تو پھر بابا کو کون سنبھالے گا”
حریم کے کافی اصرار پر وہ اس کے ہاتھ سے ایک سینڈوچ لئے کرسی پر بیٹھ گیا جبکہ حریم بھی اس کے برابر بیٹھ گئی
“آپ نہیں کھائیں گی؟؟”
“میں کھا رہی ہوں”
حریم نے ایک بائٹ لی جبکہ شاویز بھی پہلی بائٹ لے رہا تھا
“حریم جی کیسے ہیں آپ کی فرینڈ کے فرینڈ؟؟ کیا وہ اب تک یہی پر ہیں؟؟”
شاویز کے سوال پر اس کا ہاتھ رکا
“وہ اب بہتر ہیں وہ گھر جا چکے ہیں”
“مطلب؟؟ وہ چلے گئے مگر آپ تو یہیں پر ہیں آپ نہیں گئیں؟؟”
حریم نے نفی میں سر ہلایا جس پر وہ حیران ہوا
“مگر کیوں؟؟”
“تمہیں اکیلا چھوڑ کر کیسے چلی جاؤں”
وہ اسے دیکھتا رہ گیا تھا کیا وہ واقعی اس کی اتنی فکر کرتی تھی
“تو کیا آپ کے جہاں رکنے کی وجہ میں ہوں؟؟”
وہ بنا کوئی جواب دیئے اپنا سینڈوچ ختم کرنے لگی
“حریم جی پلیززز آپ واپس گھر جائیں کسی لڑکی کا ایسے ماحول میں رکنا مناسب نہیں اور پھر ڈاکٹرز ابھی تو بابا سے ملنے بھی نہیں دے رہے ان سب میں صبح ہوجائے گی”
شاویز نے اپنا سینڈوچ سائڈ میں رکھتے ہوئے اسے سمجھایا مگر حریم کو یہ منظور نہ تھا
“نہیں پلیزز شاویز ایک بار انکل کو روم میں شفٹ ہونے دو پھر میں خود ہی یہاں سے چلی جاؤں گی پکا پرومس”
اسے لگا تھا شاویز اسے واپس جانے پر زیادہ زور دے گا مگر وہ شاویز تھا اس نے اثبات میں سر ہلایا اور خاموش ہوگیا مگر پھر بھی اسے حریم کا یہاں رکنا بلکل مناسب نہیں لگا تھا کیونکہ آتے جاتے عجیب و غریب لوگ حریم کو عجیب ہی نظروں سے گھور رہے تھے
“گڈ اپنا سینڈوچ ختم کرو اب دیکھو کتنے مزے کا بنا ہے”
حریم کی بات پر وہ مسکراتا ہوا اپنا سینڈوچ ختم کرنے لگا جبکہ حریم بھی مسکرائی تھی
☆★☆★☆★☆
وہ جب سے واپس ہوسٹل آئی تھی اسے ایک پل کے لیے سکون نہ آیا تھا وہ بار بار ضوریز کی بات پر غور کر رہی تھی وہ سونا چاہتی تھی مگر آنکھیں بند کرتے ہی سامنے ضوریز کا چہرہ گردش کرنے لگتا تھا
“اففف یہ کیا ہورہا ہے مجھے”
وہ اٹھ کر کراؤن سے ٹیک لگا کر بیٹھی اور اپنے کھلے بالوں میں انگلیاں پھیرنے لگی
“ائیزل اسٹوپ پلیززز تم کچھ زیادہ ہی سوچ رہی ہو ضوریز ایسا ویسا کچھ بھی نہیں کہنا چاہ رہا تھا یہ سب تمہاری بھول تھی”
اس کے موبائل پر میسج آیا
“ضوریز؟؟”
وہ حیران ہوئی کیونکہ میسج کچھ یوں تھا
“اتنا مت سوچو پاگل ہو جاؤ گی ڈارلنگ”
وہ اپنے آس پاس دیکھنے لگی مگر یہاں تو کوئی بھی نہ تھا پھر ضوریز کو کیسے پتا چلا
“کیا مطلب؟؟”
ائیزل نے بھی میسج ٹائپ کیا
“کچھ نہیں بس ایسی… اور بتاؤ نیند کیوں نہیں آرہی تمہیں”
وہ ایک اور بار اسے حیران کر گیا تھا
“تمہیں کیسے پتا مجھے نیند نہیں آرہی؟؟”
“ظاہر سی بات ہے تم سوتے ہوئے تو مجھے میسج کرنے سے رہیں”
ضوریز کے میسج کے آگے ہنسنے والے ایموجی تھے جس پر ائیزل نے سر پر چپت لگائی
“افففف ائیزل تم واقعی بہت پاگل ہو”
وہ کہتی ہوئی پھر سے میسج ٹائپ کرنے لگی
“مجھے نیند آنے لگی ہے میں سو رہی ہوں تم بھی سو جاؤ”
ائیزل نے میسج کیا اور موبائل سائٹ پر رکھ دیا اور اس کے رپلائی کا ویٹ کرنے لگی
“اوکے ٹیک کیئر ڈارلنگ”
ایک ریڈ ہارٹ کے ساتھ یہ میسج ریسیو ہوا تھا
“کیا مجھے واقعی ضوریز سے پیار ہونے لگا ہے… آخر کیوں میرا دل اس کے لئے بے چین رہتا ہے”
وہ خود کلامی کرتے ہوئے واپس اپنی جگہ پر لیٹ گئی تھی
“مس ائیزل کاظم… بہت جلد تم خود مجھ سے وہ سب کہو گی جو کچھ سننے کے لئے میرے کان ترس رہے ہیں”
وہ موبائل سائڈ ٹیبل پر رکھتا ہوا یک طرفہ مسکرایا تھا اسے پتا چل چکا تھا وہ سب جان چکا تھا بس اب اسے اس وقت کا انتظار تھا جو بہت جلد آنے والا تھا
☆★☆★☆★☆
صبح کا وقت تھا وہ لوگ پیکنگ کر رہے تھے جب ہنی انہیں بلانے آئی تو وہ لوگ اس کے ساتھ ہوٹل کے نچلے حصے چلے گئے مگر کوئی آیا تھا ان کے جانے کے بعد کسی کے مظبوط قدم چلتے ہوئے اس کے کمرے کی جانب بڑھے تھے
وہ کمرے میں آکر وہاں کی ایک ایک چیز کا جائزہ لینے لگا مگر جب نظر سامنے ٹیبل پر پڑے موبائل پر گئی تو اس کی نسیں اُبھرنے لگیں اس کی آنکھوں میں غصہ تیرنے لگا تھا
“اففف میں اپنا بیگ تو بھول ہی گئی”
جیسے ہی وہ اپنے کمرے میں آئی سامنے کھڑے شخص کو دیکھ کر اس کا پورا وجود کانپ گیا تھا
“ہائے مس تعبیر علی کیسی ہو…”
وہ اپنے مخصوص انداز میں کہتا ہوا یک طرفہ مسکرانے لگا جس پر تعبیر نے اسے سخت ناگواری سے گھورا تھا
“خیر میں نے سنا آپ ہماری نظروں سے دور جانے کی کوششوں میں ہیں تو کیوں نہ ایک اور بار ملاقات رکھ لی جائے، وہ کیا ہے نہ ترسی ہوئی نظروں کو مزید نہیں ترساتے… سمجھا کرو دل نشیں”
وہ ایک اور بار مسکرایا تھا
“آپ کا پرابلم کیا ہے؟؟ کیوں کر رہے ہیں آپ یہ سب میرے ساتھ؟؟”
“مسئلہ وغیرہ کچھ نہیں بس دل نہیں کرتا کہ تمہیں اپنی نظروں سے دور کروں”
وہ دھیمے لہجے میں کہتا ہوا اسے بڑی حسرت سے دیکھنے لگا ایک پل کے لیے اس کے یہ الفاظ اسے خود ہی سچے لگنے لگے تھے
“پلیززز میرا پیچھا چھوڑ دیں مجھے واپس جانے دیں مت کریں مجھے پریشان میں تنگ آ گئی ہوں آپ سے اور اپنے اس کام سے”
وہ اپنی پیشانی پر آئے پسینے کو صاف کرتی ہوئی التجائی نظروں سے اسے دیکھنے لگی جس پر وہ اسے معصوم سی شکل بنائے دیکھنے لگا جیسے مزاق بنا رہا ہو
“او ہو… تم تو رونے لگ گئیں… افف اب مجھے ترس آرہا ہے تم پر “
آتش نے ایک اسٹائل سے کہا اس وقت وہ دنیا کا سب سے معصوم ترین شخص بنا ہوا تھا جبکہ تعبیر کو اس کا یہ چھچھورپن ایک آنکھ نہ بھایا تھا
“چلو ڈن میں تمہارا پیچھا چھوڑ دوں گا لیکن میری ایک شرط ہے تمہیں جانے سے پہلے میرا دیا ہوا کام پورا کرنا ہوگا”
تعبیر سوالیہ نظروں سے اسے دیکھ رہی تھی اور سوچ رہی تھی کہ آخر اس نے اسے کب کوئی کام دیا تھا
“کیا ہوا؟؟ بھول گئیں؟؟ چلو میں یاد دلا دیتا ہوں”
وہ سنجیدگی سے کہتا ہوا اسے بغور دیکھنے لگا
“تمہیں میرا ٹیٹو بنانا تھا مس تعبیر علی”
“میں ایسا کچھ نہیں کروں گی”
“کرنا تو پڑے گا”
وہ اس وقت ڈھائی کی حدوں پر تھا
“میں نے کہا نہ میں آپ کی کوئی بات نہیں مانوں گی میں ٹیٹو نہیں بناؤں گی”
وہ مسکرایا تھا وہ آخر کتنی معصومیت سے اس پر اپنا غصہ ظاہر کر رہی تھی
“میں نے کہہ دیا تو کہہ دیا میرا ٹیٹو تم ہی بناؤگی… پھر چاہے اس کے لئے مجھے لاکھوں روپے ہی کیوں نہ لٹانے پڑھیں…”
وہ اس کے روم میں موجود صوفے پہ ٹانگ پر ٹانگ رکھے ٹشن سے بیٹھا نوابوں کی طرح اسے اپنا حکم سنا رہا تھا اور وہ معصوم سی ڈرپوک سی لڑکی اس کے سامنے کھڑی بار بار اپنے کاندھے پر سے کھسکتے دوپٹے کو ٹھیک کر رہی تھی
“پورے شہر میں میں ایک ہی ہوں کیا جو مجھ ہی سے ٹیٹو بنوانا ہے؟؟ میں نے پہلے بھی آپ سے کہا تھا کہ میں صرف فی میل کے لئے یہ کام کرتی ہوں آپ مرد ہیں تو مردوں سے ہی کروائیں یہ کام”
اس بدماش کی پر کشش نیلی آنکھوں میں دیکھنا اس معصوم کے لئے اب کافی مشکل ہورہا تھا وہ اس کی نظروں کی تپش برداشت نہیں کر پارہی تھی مگر سامنے بیٹھا شخص مسلسل اس کا جائزہ لیئے جارہا تھا
“یعنی تم نہیں مانو گی؟؟”
اس نے اپنی نیلی آنکھوں کو چھوٹی کرتے ہوئے اسے گھورا جس پر وہ نظریں جھکائے نا میں سر ہلانے لگی اور اس کی یہ “نہ” سامنے بیٹھے شخص کو اپنی توہین لگ رہی تھی ایک جھٹکے سے اٹھ کر وہ اس کے قریب آیا اس کے یوں اچانک قریب آنے پر وہ دور ہونے لگی مگر وہ مزید اس کے قریب آگیا
“بات سنو میڈم… آج تک کسی کی ہمت نہیں ہوئی کہ وہ آتش درانی کے سامنے اپنی نہ ظاہر کرے… میری بات کان کھول کر سنو تم کل رات میرے گھر آؤ گی اور اپنے ان نازک ہاتھوں سے میرے سینے پر ٹیٹو بناؤ گی…اور اگر تم نے ایسا نہ کیا تو یاد رکھنا جس ترقی کی تلاش میں تم ماری ماری پھر رہی ہو اس ترقی کو میں تم سے اتنا دور کردوں گا کہ تم اپنے سر پر چھت تک کو ترسو گی…”
وہ اس کی نازک سی کلائی پر اپنے ہاتھ کا دباؤ ڈالتے ہوئے اپنی آنکھوں کو اس کی آنکھوں میں گاڑتے ہوئے کہنے لگا جس پر اس نازک سی لڑکی کی سانسیں رکنے لگیں
“آآپ… مجھے… بلیک میل کر… رہے ہیں؟؟”
“نہ میری جان یہ صرف دھمکی نہیں ہے اگر تم نے میری بات نہ مانی تو اے ڈی اس دھمکی کو عمل میں بدل دے گا … اور پھر تمہیں تو پتا ہی ہوگا درانیوں کا اگر یہ ایک بار کسی کو وارن کردیں تو مطلب سامنے والا ختم…”
وہ نا جانے اسے کیا جتانا چاہ رہا تھا وہ اس معصوم سے نا جانے کس بات کا بدلہ لے رہا تھا
“آآپ مجھ سے کس…”
“آہاں… نہ میری جان… مزید کوئی بکواس نہیں…”
وہ اس کے لبوں پر انگلی پھیرتے ہوئے اسے چپ کرا گیا جس سے اس نے اپنی آنکھیں بند کرلیں اب آنسوں نکلنا باقی تھے
“ویسے ایک بات تو ماننے پڑے گی تمہاری سانسوں کی مہک میں ایک الگ ہی نشہ ہے”
اس کے چہرے پر آتے بکھرے ہوئے بالوں پر ایک مدھم سی پھونک مار کر اپنے دکھتے الفاظوں کو ایک شدت سے ادا کرتے ہوئے وہ اس کی سانسیں محسوس کر رہا تھا مگر اس کو کون سمجھائے کہ وہ جس کی سانسوں کے نشے میں چھوڑ ہورہا تھا وہ معصوم اس کی گرم جھلستی سانسوں کو اپنے چہرے پر اب مزید برداشت کرنے کی ہمت ہار چکی تھی
“تو پھر ملتے ہیں کل شام… تب تک اپنا خیال رکھنا”
وہ آنکھ مارتے ہوئے معنی خیزی سے کہتا ہوا واپس جانے لگا مگر پھر رکا
“اور ہاں اگر تم کل میرے مینشن نہ آئیں یا تم نے کہیں بھاگنے کی کوشش کی تو وہ کیا نام تھا تمہارے بھائی کا؟؟ ہاں شاویز… اس بچارے کو تمہارے حصے کی سزا بھگتنی پڑے گی”
وہ اسے ایک بار پھر سے دھمکی دیتا ہوا اپنی مظبوطی شخصیت کے ساتھ وہاں سے چلا گیا جبکہ وہ اپنے جان سے پیارے بھائی کے بارے میں ایسی بات سن کر کانپتی رہ گئی تھی
وہ یقیناً پچھلی ناگوار ملاقاتوں کا بدلہ اس طرح لے رہا تھا وہ اپنی مظبوط شخصیت کے کچھ اصول کچھ ڈر کچھ رعب اس پر جتانا چاہ رہا تھا تاکہ وہ بھی دوسری لڑکیوں کی طرح اس کے آگے پیچھے پھرے مگر وہ غلط تھا کیونکہ سامنے جو لڑکی تھی وہ تھوڑی ڈرپوک ضرور مگر کم عقل بلکل بھی نہیں تھی
اس کی نظر دوسری طرف پڑے ہوئے موبائل پر گئی یہ وہی موبائل تھا جو حاشر خانزادہ نے اسے گفٹ کسی تھا وہ بھاگتی ہوئی اس جانب آئی اور موبائل کا جائزہ لینے لگی جو کرچیں کرچیں ہو چکا تھا اس موبائل کو بہت بری طرح توڑا گیا تھا یقیناً یہ اس بد تمیز بد دماغ آتش درانی کا ہی کام تھا
“بابا”
وہ زمین پر گرنے والے انداز میں بیٹھی تھی اس کے آنسوں اس کے رخساروں کو تر کر چکے تھے اب اس کے پاس کوئی چارہ نہ تھا اس ظالم آتش نے تو اس کے گھر کی پوری انفارمیشن حاصل کرلی تھی
“بابا آخر کیوں میں نے آپ کی بات مانی تھی…”
وہ پچھتا رہی تھی افتخار صاحب کی بات مان کر اسے دکھ ہورہا تھا کتنی اچھی تھی اس کی زندگی یہ سب شروع ہونے سے پہلے کتنا سکون تھا اس کی زندگی میں مگر اب… اب وہ پل پل تڑپتی ہوئی ڈرتی ہوئی جیتی تھی
☆★☆★☆★☆
“آپ کے بابا کی طبیعت پہلے سے بہتر ہے آپ مل سکتے ہیں”
وہ بھاگتا ہوا روم میں چلا گیا جبکہ ائیزل کی کال دیکھ کر حریم ہوسٹل کی کینٹین کی طرف بڑھ گئی
“حریم کیا ہوگیا وقت دیکھا ہے تم نے؟؟ ہمیں نئے گھر بھی جانا ہے”
“ائیزل میں بس نکل ہی رہی ہوں تم مجھے لینے آجاؤ”
وہ اس کا جواب سنے بنا کال ڈسکنیکٹ کر کے شاویز کے والد کے روم میں چلی گئی جہاں وہ لوگ باتیں کر رہے تھے ایک انجان لڑکی کو اندر آتا دیکھ کر افتخار صاحب شاویز کی طرف سوالیہ نظروں سے دیکھنے لگے جس پر شاویز کو لگا اب وہ گیا
“اسلام و علیکم انکل اب کیسی ہے آپ کی طبیعت؟؟”
“وعلیکم سلام بیٹی میں بلکل ٹھیک ہوں اب مگر تم… تم کون ہو؟؟”
اس کے سلیقے سے سلام کرنے پر افتخار صاحب کو وہ کسی اچھے گھر کی لڑکی لگی تھی جبکہ شاویز کا تو دم نکلا جارہا تھا
“انکل میں شاویز…”
ابھی آگے وہ کچھ کہتی جب اس کی نظر شاویز پر گئی جو ڈرا ہوا کھڑا بار بار اپنے پسینے صاف کر رہا تھا
“میں شاویز کی کلاس فیلو ہوں ایکچلی میں اپنی فرینڈ کے ساتھ ہوسپٹل آئی تھی تو میں نے شاویز کو دیکھا تو سوچا آپ کی طبیعت پوچھ لوں”
حریم کی بات پر افتخار صاحب مسکرائے تھے انہوں نے اسے اشارے سے قریب بلایا اور سر پر ہاتھ رکھا جبکہ شاویز کے تو سمجھ سے باہر تھا کہ آخر یہ سب ہو کیا رہا ہے
“خوش رہو بیٹی میری طبیعت کا پوچھنے کے لئے بہت شکریہ”
“شکریہ کی کوئی بات نہیں انکل آپ میرے بابا جیسے ہیں اللّٰہ آپ کو جلد صحتیاب کرے آمین”
“آمین آمین”
افتخار صاحب نے پھر سے اس کے سر پر ہاتھ رکھا اور مسکرانے لگے مگر شاویز کو اب لگ رہا تھا کہ تعبیر کے بعد حریم وہ دوسری لڑکی ہوگی جس کی وجہ سے بابا مسکرائے تھے
“سر انہیں ڈسچارج کرنا ہے آپ ریسیپشن پر آجائیں”
وہ کمپوڈر کی بات سنتا ہوا باہر کو چلا گیا جبکہ حریم وہیں ان کے پاس بیٹھ گئی
“بیٹا کیسی ہے آپ کی دوست”
“انکل وہ بلکل ٹھیک ہے اب”
“اچھا تو آپ شاویز کے ساتھ پڑھتی ہو… اور رہتی کہاں ہو آپ”
افتخار صاحب کی بات پر وہ سر جھکا گئی جو انہوں نے نوٹ کیا تھا
“ہوسٹل میں رہتی ہوں میں”
حریم کی بات پر وہ سنجیدگی سے اسے دیکھنے لگے تھے
“ہوسٹل میں کیوں؟؟”
“انکل میرا یہاں کوئی نہیں والدین کے انتقال کے بعد مجھے یتیم خانے میں بھجوا دیا تھا پھر میرے بالغ ہونے پر ایک ٹیچر نے مجھے ہوسٹل میں ایڈمیشن کروایا تھا جہاں میں اپنی روم میٹ کے ساتھ رہتی ہوں”
وہ بہت دکھی ہوئے تھے اس کے بارے میں جان کر حریم کی آنکھیں نم ہوئی تھیں
“مگر تم وہاں کیسے رہتی ہوں گی بیٹا ایک اکیلی لڑکی کا اس معاشرے میں رہنا بہت مشکل ہے”
“انکل میری دوست بہت اچھی ہے ہم دونوں مل کر رہتے ہیں سب کچھ ٹھیک چل رہا ہے مگر بس… اپنوں کی بہت یاد آتی ہے”
اس کی آنکھ سے ایک آنسو چھلکا تھا
“بیٹا اداس مت ہوا کرو میری بھی ایک پیاری سی بیٹی ہے بلکل تمہاری طرح وہ آج یا کل میں یہاں آجائے گی اگر تم چاہو تو ہمارے گھر آ جایا کرو ایسے تعبیر کے ساتھ تمہارہ دوستی بھی ہو جائے گی اور تمہیں اپنوں کی کمی بھی محسوس نہیں ہو گی”
افتخار صاحب نے اس کے سر پر ہاتھ رکھا تھا وہ مسکرائی تھی
“بابا وہ…”
ابھی وہ اندر آکر کچھ کہتا جب اپنے بابا اور حریم کو ہنستا ہوا پا کر وہ حیرت سے انہیں دیکھتا رہ گیا
“کہو “
افتخار صاحب نے اس سے سخت لہجے سے پوچھا
“بابا جان آپ ڈسچارج ہو چکے ہیں”
شاویز کی بات پر وہ اثبات میں سر ہلاتے ہوئے حریم کی طرف متوجہ ہوئے
“اچھا انکل اب میں چلتی ہوں آپ اپنا بہت سارا خیال رکھیئے گا”
“ضرور بیٹا تم بھی اپنا خیال رکھنا اور گھر آتی رہنا”
وہ مسکراتے ہوئے اسے وہاں سے جاتا دیکھ رہے تھے جبکہ شاویز کو لگ رہا تھا وہ یہ سب منظر دیکھ دیکھ کر پاگل ہو جائے گا
“بائے شاویز انکل کا خیال رکھنا”
“جی حریم جی ضرور”
وہ معصومیت سے کہتا ہوا اندر آیا جبکہ وہ جا چکے تھے
“کیا باتیں کر رہے تھے اس سے؟؟”
شاویز جو پہلے ہی ڈرا ہوا تھا اپنے بابا کے سوال پر انہیں خوفگی سے دیکھنے لگا
“وہ بابا… وہ کہہ رہی تھی کہ آپ کا خیال رکھنا”
“کیا واقعی؟؟ وہ میرا خیال رکھنے کا کہہ رہی تھی؟؟ یا پھر تمہارا خود کا”
وہ کہتے ہوئے اسے گھورنے لگے جس پر وہ بیچارگی سے انہیں دیکھنے لگا
“بابا وہ آپ ہی کا خیال رکھنے کا کہہ رہی تھی سچ میں”
وہ منہ بناتے ہوئے کہتا ہوا انہیں بیڈ سے اٹھا کر ویل چیئر پر بٹھانے لگا
“گدھا کا گدھا ہی رہے گا”
اپنے بارے میں پھر سے ایسے الفاظ سن کر وہ منہ بنانے لگا اور ساتھ ہی شکر بھی ادا کرنے لگا کہ حریم کے سامنے اسے ایسے الفاظوں سے پکارنے سے گریز کیا گیا تھا
جاری ہے
