Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Lams e Junooniyat (Episode 20)

Lams e Junooniyat by Areesha Khan

وہ یونیورسٹی آج کافی دیر سے آئی تھی جب وہ کلاس میں انٹر ہوئی تو حسبِ عادت اس کی نظر سامنے سیٹ پر گئی جہاں شاویز بیٹھا کرتا تھا مگر اسے بلکل بھی یقین نہ تھا کہ شاویز آج بھی یہاں آجائے گا

وہ اپنی کتابوں میں سر جھکائے پڑھنے میں مصروف تھا ان کے بیچ اتنا تو صحیح ہو ہی چکا تھا کہ وہ اب اس سے بات کرلے مگر وہ بنا کچھ کہے اس کی پیچھے والی سیٹ پر جا بیٹھی کیونکہ تمام سیٹ فک تھیں بس شاویز کی سیٹ اور اس کے پیچھے والی سیٹ پر ایک بندے کی جگہ باقی تھی

شاویز اسے اپنی پیچھے بیٹھتا دیکھ کر اس کی طرف متوجہ ہوا اسے اپنی طرف متوجہ پا کر حریم نے اس سے اس کے والد کی طبیعت پوچھی جس پر وہ بہتری ظاہر کرنے لگا

“اگر ان کی طبیعت خراب تھی تو آج نہ آتے یونی…”

حریم کی بات پر وہ دوبارا پلٹ کر پیچھے دیکھنے لگا

“میری سسٹر واپس آرہی ہیں اس لئے میں یونیورسٹی آگیا ہوں اور اب بابا کی طبیعت ٹھیک ہے انہیں میڈیسن دی کے سلایا ہے”

شاویز کی بات پر اس نے اثبات میں سر ہلایا اور پھر وہ واپس آگے رخ کر کے بیٹھ گیا

ابھی کچھ ہی دیر ہوئی تھی ان کی خاموشی کو جب وہ پلٹا

“حریم جی…”

حریم جلدی سے اس کی طرف متوجہ ہوئی اسے بہت اچھا لگتا تھا جب وہ نرم لہجے میں اسے حریم جی کہہ کر بلاتا تھا

“شکریہ…”

“مگر کس بات کا؟؟”

وہ حیران ہوئی

“آج جو آپ نے میرے لئے کیا ہے وہ کوئی اپنا بھی نہ کرتا”

وہ نا سمجھی سے اسے دیکھنے لگی وہ سمجھ چکا تھا وہ اس کی بات سمجھنے سے قاصر تھی

“مطلب کل رات سے آج صبح تک آپ میرے ساتھ ہوسپٹل میں رہیں تھیں آپ نے اپنا خیال کئے بنا میرا ساتھ دیا تھا میرے بابا آپ کی بہت تعریف کر رہے تھے ورنہ وہ خلاف ہیں کسی سے دوستی کرنے کے”

وہ آخری الفاظوں میں مسکرایا تھا جس پر حریم اس کی مسکراہٹ دیکھتے ہوئے نا چاہتے ہوئے مسکرائی تھی

“اٹس اوکے یہ تو میرا فرض تھا مجھے اچھا لگا ان سے مل کر”

حریم کی بات پر وہ جواباً مسکرایا تھا جب دور سے آتی حوریا کی نظر ان پر گئی

“ہائے شاویز… کیسے ہو بے بی…”

وہ جلدی سے چونکا تھا اس ڈھیڈ لڑکی کو اپنے برابر بیٹھتا دیکھ کر اسے شدید غصہ آیا تھا

“آپ یہاں نہیں بیٹھ سکتیں”

شاویز کی بات پر وہ عجیب طرح سے ہنسنے لگی

“اور کتنا مذاق کرو گے بے بی اور بتاؤ کیا چل رہا ہے آج کیا سنا ہے پیپرز آرہے ہیں ہمارے… تیاری شیاری ہے بھی یا نہیں بس عشق معشوقیوں میں لگے رہنا ہے”

وہ اپنے مخصوص اسٹائل میں کہتی ہوئی اس کی کتابوں کو چھیڑنے لگی جبکہ حریم بڑی مشکلوں سے خود کو قابو کئے بیٹھی تھی

“یہ آپ کیا کہہ رہی ہیں اور پلیزز میری بکس کو ادھر اُدھر نہ کریں”

وہ معصومیت سے کہتا ہوا اس وقت ایک چھوٹا بچہ لگ رہا تھا جبکہ حریم نے مٹھیاں بینچیں تھیں

“ہیئی ڈارلنگ میں کیا کہہ رہی تھی کہ جب تک ایکزیمز نہیں ہو جاتے ڈیٹ پر چلیں؟؟”

اس کے کہنے کی دیر تھی جب حریم ایک جھٹکے سے اپنی جگہ سے اٹھ کر اپنا بیگ ٹانگے وہاں سے چلی گئی شاویز سمجھ چکا تھا اسے بہت برا لگا ہوگا

“ہیئی کدھر دیکھ رہے ہو میں تو ادھر ہوں…”

وہ اسے جاتا ہوا دیکھ رہا تھا جب حوریا نے اپنے لمبے نیل پالش سے ملبوس انگلیوں سے اس کی آنکھوں کے سامنے جٹخی بجائی وہ چونکا

“اٹھیھ ادھر سے فاسٹ…”

شاویز کو اب واقعی بہت غصہ آرہا تھا اس نے اس کا بیگ اٹھا کر پیچھے سیٹ پر رکھا

“ارے ارے ہیرو جا رہی ہوں نہ ایسا بھی کیا غصہ کے بیگ ہی اٹھا کر پٹخ دیا”

وہ نخرے دکھاتی ہوئی وہاں سے اٹھ کر پیچھے گئی

“شکر کرو لڑکی صرف بیگ ہی پٹخا ہے اگر زیادہ کچھ کرتیں تو تمہیں بھی پٹخ کر رکھ دیتا”

وہ دل ہی دل میں کہتا ہوا اپنی سیٹ کو گھیر کر بیٹھ گیا جبکہ اسے اب حریم کی فکر تھی

☆★☆★☆★☆

“ائیزل میں جارہا ہوں یہاں سے”

وہ مختصر سا وائس نوٹ کرتا ہوا اسے گھبرانے پر مجبور کر گیا تھا وہ بے یقینی سے اس کی آواز سنتی ہوئی وہیں فرش پر جا بیٹھی اس نے ایک بھی منٹ ضائع کئے بنا اسے کال لگائی

“ضوریز…”

“ہاں ائیزل بولو”

“ریز تم کدھر جارہے ہو”

اس کی آواز سن کر وہ حیران ہوا تھا کیا وہ اس قدر اداس تھی

“ائیزل دیکھو اب تمہارے پیپرز بھی ختم ہو چکے اور میرے دوستی کی پڑھائی بھی مکمل ہو چکی ہے تو اب ہم دوسرے شہر جانا چاہتے ہیں”

ضوریز نے اسے سنجیدگی سے کہا جبکہ اس کا تو حال بے حال تھا

“تم کہاں ہو ابھی؟؟ کیا ابھی جارہے ہو؟؟”

“نہیں نہیں… میں شام تک جاؤں گا ابھی تو گھر پر ہوں”

وہ بے تاثر سا کہتا ہوا اس پر ایک اور پہاڑ گرا گیا

“تم…تم وہیں رکو میں ابھی آتی ہوں مجھے تم سے بات کرنی ہے”

وہ باقاعدہ بھاگتی ہوئی وہاں سے باہر اپنی کار کے پاس چلی گئی جبکہ حریم جو ابھی ابھی یونیورسٹی سے آئی تھی اسے یوں بھاگتا دیکھ کر پریشان ہوئی

وہ فل اسپیڈ میں گاڑی دوڑاتی ہوئی اس کے گھر کی جانب جارہی تھی تقریباً کچھ ہی منٹ میں وہ اس کے گھر کے باہر کھڑی تھی وہ کار سے نکل کر بھاگتی ہوئی اس کے گھر میں آئی جہاں ہر طرف سناٹا تھا

“ضوریز…کہاں ہو تم ریز…”

وہ پورے گھر میں اسے ڈھونڈ رہی تھی جب وہ سامنے والے کمرے سے چلتا ہوا اس کے پاس آیا

“ائیزل…میں یہاں ہوں”

ابھی وہ مزید اسے کچھ کہتا جب وہ اس کے سینے سے جا لگی وہ اس کے اچانک والے عمل پر سکتے میں آگیا تھا اس نے تو کبھی سوچا بھی نہیں ہوگا کہ وہ اس لڑکی کے دل میں اتنی جلدی اپنی جگہ بنا لے گا

“آئیز تم رو کیوں رہی ہو؟؟ کیا ہوا ہے؟؟سب ٹھیک تو ہے نہ؟؟”

وہ فکرمندی سے کہتا ہوا اس سے دور ہوا اس کے رخساروں کو اپنی شہادت کی انگلی سے صاف کرنے لگا اس کا لہجہ انتہائی نرم تھا

“ضوریز تم کیوں جارہے ہو؟؟”

“ائیزل میں نے تمہیں بتایا تو تھا… میرا یہاں اب کوئی کام نہیں تو بس…”

“تو کیا کہیں رہنے کے لئے کوئی کام ہونا ضروری ہے؟؟”

وہ غصے سے کہتی ہوئی اسے حیران کر گئی

“آئیز… کیا ہوگیا تمہیں؟؟”

ضوریز نے اسے بازوؤں سے تھاما جس پر وہ پگھلنے لگی

“ائیزل تم ٹھیک ہو نہ؟؟”

“ضوریز مت جاؤ نہ…”

اس کی آنکھیں بھیگی ہوئیں تھیں

“ائیزل دیکھو تم یہ جانتی ہو میں یہاں کبھی نہیں رہا ہوں تو آخر میں عمر بھر یہاں کیسے رہ سکتا ہوں کوئی وجہ تو ہونی چاہیے کہیں رہنے کی”

ضوریز کی بتا پر وہ بڑی بے دردی سے آنسوؤں کو رگڑنے لگی جبکہ ضوریز اس کے حسن میں کھو سا گیا تھا

“وجہ چاہئے نہ تمہیں؟؟ یہاں رہنے کی وجہ چاہئے نہ تمہیں؟؟”

وہ کہتی ہوئی اس سے دور ہوئی جس پر وہ اسے نا سمجھی سے دیکھنے لگا

“تو سنو میں… ائیزل کاظم تم سے بے انتہا محبت کرتی ہوں… مجھ سے مزید اپنی محبت چھپائی نہیں جارہی میں نہیں رہ سکتی تمہارے بنا ضوریز تم مجھے اپنے سے لگنے لگے ہو”

وہ ایک ایک الفاظ کہتی ہوئی اسے حیران کر گئی تھی وہ اسے کب سے دیکھا جارہا تھا

“ائیزل…”

وہ شاکڈ تھا اس کے کچھ سمجھ نہیں آرہا تھا وہ کیا جواب دیتا وہ بنا کچھ کہے اسے خود میں بیچ گیا وقت وہیں تھم گیا وہ دونوں ایک دوسرے کے گلے لگے بنا کچھ کہے ایک دوسرے کو اپنی فیلنگز بتا رہے تھے شاید یہیں سے ان کے ایک نئے رشتے کی شروعات لکھی گئی تھی

☆★☆★☆★☆

پانچ بجے کا وقت تھا جب وہ لوگ شوٹ پر تھے جب آتش کا موبائل رنگ ہوا

“ہیلو…”

“سر جی وہ لوگ یہاں سے نکل چکے ہیں آپ کے منع کرنے کے باوجود وہ لڑکی اپنی ضد پوری کر چکی ہے بتائیں آگے کیا کرنا ہے حکم کریں… کہیں تو ابھی ہی انہیں رستے سے اٹھوا لوں زیادہ دور نہیں گئے ہوں گے”

وہ غصے سے مٹھیاں بھینچے کھڑا ہوا کال سن رہا تھا جبکہ حاشر خانزادہ کی نظر اس پر ہی تو تھی وہ کچھ بھی نہیں جانتا تھا مگر اسے اتنا ضرور پتا تھا کہ آتش درانی کبھی کسی چھوٹی بات پر آگ بگولہ نہیں ہوتا یقیناً کچھ تو ایسا ہوا ہے جو وہ غصے میں آیا تھا

“اسے جانے دو… “

“واٹ سر؟؟ مگر ایسا کیوں ؟؟ “

“میں نے کہا اسے جانے دو…”

“جو حکم سر”

وہ کہتا ہوا اپنے غصے پر قابو پانے کے لیے سگریٹ کا سہارا لینے لگا غصہ تو اسے بہت آرہا تھا مگر اب وہ ایسے راستے کا انتخاب کرنے والا تھا جو تعبیر علی کے لئے بہت کٹھن ثابت ہونے والا تھا

“تم نے خود ہی اپنے نازک پیروں پر کلہاڑی ماری ہے تعبیر علی اب جو میں تمہارے ساتھ کرنے جارہا ہوں وہ ساری زندگی تمہارے پیروں کی بیڑیاں بن جائے گا، میں تمہارا ایسا حال کردوں گا کہ میری اجازت کے بنا تم سانس تک نہیں لو گی تمہاری زندگی پر تمہاری ایک ایک سانس پر تمہارے پورے وجود پر صرف میں حکومت کروں گا…”

وہ زیرِ لب کہتا ہوا کش لگا گیا تھا آنے والا وقت یقیناً تعبیر کے لئے بہت کٹھن وقت بننے والا تھا وہ آتش درانی تھا اس نے ہمیشہ جو چاہا تھا وہی پایا تھا اب جب وہ ارادہ کر چکا تھا تو بھلہ اسے روکنے والا کون تھا

☆★☆★☆★☆

“بابا میں نے کہہ دیا نہ مجھے یہ کام مزید نہیں کرنا”

وہ اپنا فیصلہ سناتی ہوئی افتخار صاحب کے برابر سے اٹھنے لگی جس پر انہوں نے اس کا ہاتھ تھاما

“کیا میں وجہ جان سکتا ہوں بیٹی؟؟ یہ سب تو تمہارا شوق تھا نہ پھر اچانک ایسا کیوں؟؟”

افتخار صاحب کے سوال پر اس نے ایک درد بھری نگاہ ان پر ڈالی

“بابا جان میرا مقصد صرف شوق پورے کرنا نہیں ہے میں یہ سب چھوڑ رہی ہوں مجھے ان سب میں کمفرٹیبل محسوس نہیں ہوتا مجھے ایسے کام کرنے ہی نہیں ہیں اب میں واپس اپنی پرانی روٹین میں واپس آنا چاہتی ہوں”

شام کا وقت تھا وہ جب سے آئی تھی اپنے کمرے میں بند ہوگئی تھی اس نے صرف کچھ ہی وقت افتخار صاحب کے ساتھ گزارا تھا

مگر اب جب افتخار صاحب اس سے بات کرنا چاہتے تھے تو اس نے اپنا فیصلہ سنا دیا تھا شاویز بھی اس کی بات پر حیران تھا کیونکہ وہ دونوں ہی جانتے تھے تعبیر کو کن کن چیزوں کا شوق تھا

اور اب جب اس کا شوق پورا ہونے ہی لگا تھا تو وہ خود اپنے قدم پیچھے کھینچ رہی تھی شاید وہ واقعی اب یہ کام نہیں کرنا چاہتی تھی افتخار صاحب کو یہ جان کر کچھ عجیب لگا

“مگر بیٹا”

“بابا جان پلیززز آپ جو کہیں گے میں ماننے کو تیار ہوں مگر پلیززز مجھے مزید فورس نہ کریں ورنہ میں پاگل ہوجاؤں گی”

“ٹھیک ہے بیٹا جیسا تمہیں ٹھیک لگے”

افتخار صاحب سمجھ چکے تھے اس کے مزاج کے مطابق یہ کام شاید اسے راز نہ آیا تھا کیونکہ وہ بہت سادہ سی تھی اسے ان کاموں کا صرف شوق ہی ہو سکتا تھا

“شکریہ بابا جان”

وہ کہتی ہوئی واپس اپنے کمرے میں چلی گئی جبکہ شاویز بھی اس کے پیچھے پیچھے چلا گیا

“آپی پلیزز بتائیں نہ ہوا کیا ہے”

“شاویز میں فلحال کسی سے بات نہیں کرنا چاہتی”

“آپی پلیززز”

“شاویز پلیززز جاؤ یہاں سے”

وہ غصے سے چینخی تھی جس پر وہ ڈرتا ہوا وہاں سے چلا گیا تھا وہ بنا کچھ کہے اپنا کمرہ لاک کر کے بیڈ پر آ لیٹی آنسوؤں سے اس کے نازک رخسار کو بھگو دیا تھا اس کا ایک ایک پل ڈرتے ہوئے گزر رہا تھا آتش درانی اس کے گھر کے بارے میں سب کچھ جان چکا تھا وہ کبھی بھی کچھ بھی کر سکتا تھا

“یا اللہ پاک میری مدد فرما، مجھے اس درندے نما انسان سے بچالے…میری عزت محفوظ رکھنا میرے رب میرا تیرے سوا اور کوئی راز دار نہیں”

وہ ہچکیوں سے روتی ہوئی تکیے میں منہ چھپائے لیٹ گئی تھی نجانے رات کے کس پہر اس کی آنکھ لگ گئی تھی اسے پتا ہی نہیں چلا تھا

☆★☆★☆★☆

وہ دونوں آج رات ساتھ ڈنر پر گئے تھے ضوریز نے ان کے نئے رشتے کی شروعات کے طور پر اسے کچھ شاپنگ بھی کرائی تھی اور اب وہ لوگ ڈنر کر کے واپسی گھر آرہے تھے جب ضوریز نے گاڑی چلاتے ہوئے دیکھا ائیزل سگریٹ کی ڈبی نکال رہی تھی

“ائیزل”

“ہم”

“یہ کیا؟؟”

“سگریٹ ہے ریز… بھول گئے یا کافی دنوں سے پی نہیں تم نے؟؟”

ائیزل کی بات پر ضوریز نے گاڑی وہیں روڈ کے سائڈ پر روکی جس پر وہ سوالیہ نظروں سے اسے دیکھنے لگی

“ائیزل میرے لئے کیا کر سکتی ہو؟؟”

“کچھ بھی”

“کیا تم میرے لئے کچھ چھوڑ سکتی ہو؟؟”

اس کے اچانک والے سوالوں پر وہ تھوڑا حیران تھی تو کیا وہ اسے جانچ رہا تھا ائیزل نے سگریٹ کی ڈبی کو سائیڈ میں رکھ کر ضوریز کا ہاتھ تھاما

“میں تمہارے لئے پوری دنیا تک چھوڑ سکتی ہوں”

“اگر میں کہوں تو کیا تم سگریٹ چھوڑ دو گی؟؟”

وہ حیران تھی آخر وہ اس کی آنکھوں میں دیکھ کر کیا کہہ گیا تھا جبکہ وہ وہی ضوریز تھا نہ جو اس کے ساتھ بیٹھ کر اکثر کش لگایا کرتا تھا

“بتاؤ ائیزل…”

ائیزل اس کے سوال پر گہری سانس لینے لگی

“ٹھیک ہے میں چھوڑ دوں گی لیکن جوں اچانک کوئی وجہ ؟؟”

“کوئی وجہ نہیں بس میں چاہتا ہوں تم یہ سگریٹ وغیرہ چھوڑ دو دیکھو ائیزل کل کو ہمارا رشتہ کسی انجام کو پہنچے گا ہماری بات طے ہوگی ہمارا رشتہ ہوگا اور پھر ہماری شادی ہوگی اور پھر ہمارے چھوٹے چھوٹے…”

ابھی آگے وہ مزید کچھ کہتا جب ائیزل کے ہونٹوں پر ایک دل چھو لینے والی مسکراہٹ آئی جسے دیکھتے ہوئے وہ مانو جیسے فریز ہوگیا ہو

“تم مسکراتی بہت اچھا ہو”

ضوریز نے سر کھجاتے ہوئے یک طرفہ مسکراہٹ اچھالی جس پر اس کے مسکراہٹ مزید گہری ہوئی

“اور تم باتیں بہت اچھی بنا لیتے ہو”

ائیزل نے اس کے بالوں کو بکھارتے ہوئے کہا

“خیر اب جب سگریٹز نہیں پی سکتی ہو اب کیا کروں گی میں”

ائیزل نے سگریٹ کی ڈبی کو کار کی ونڈو سے باہر پھینکتے ہوئے کہا جس پر وہ تھوڑا سوچنے لگا

“یہ لو تم یہ کھاؤ”

ضوریز نے اسے ایک چوکلیٹ نکال کر دی جس پر وہ ہنسنے لگی

“کیا ہوا؟؟ کیوں ہنس رہی ہو؟؟”

وہ حیران ہوا

“چوکلیٹ تو چھوٹے بچے کھاتے ہیں ریز، تمہیں پتا ہے مجھے تو یاد بھی نہیں کہ آخری بار میں نے یہ کب کھائی تھی”

“خیر اب کھالو بہت یمی ہوتی ہے”

وہ کہتا ہوا واپس گاڑی اسٹارٹ کرنے لگا کچھ ہی دیر میں وہ ائیزل کے اپارٹمنٹ کے سامنے کھڑے تھے ضوریز نے ایک نظر اسے دیکھا تو قہقہہ لگائے بنا نہ رہ سکا جبکہ وہ آنکھیں چھوٹی کرتے ہوئے خود پر ہنسنے والے کو گھوری سے نوازنے لگی

“یہ اتنے دانت کس خوشی میں نکل رہے ہیں؟؟”

ائیزل کے گھورنے پر اس نے با مشکل اپنی ہنسی دبائی

“کچھ بھی نہیں بس ایسی”

“ریز بتاؤ”

اس نے دانت بیچنے جس پر ایک بار پھر سے اس کا قہقہہ نکلا اس بار ائیزل نے غصے سے پیچھے پڑا ایموجی کشن اس کے منہ پر دے مارا جس پر وہ سیدھا ہوا

“بتاؤ کیوں ہنس رہے ہو؟؟ بے وجہ”

“بے وجہ؟؟ ائیززز ذرا شکل دیکھنا اپنی”

جیسے ہی اس نے مرر کا رخ اپنی طرف کیا وہ بے یقینی سے اپنا منہ دیکھتی ہی رہ گئی

“ویسے تم بھی کسی چھوٹے بچے سے کم نہیں ہو ڈارلنگ”

ضوریز نے اس کے نرم رخساروں کو کھینچتے ہوئے کہا جس پر نا چاہتے ہوئے بھی ائیزل کا قہقہہ نکلا تھا وہ دونوں ہی ہنس پڑے تھے

جاری ہے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *