Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Lams e Junooniyat (Episode 35)

Lams e Junooniyat by Areesha Khan

“منگنی بہت بہت مبارک ہو تم دونوں کو اللّٰہ پاک ہمیشہ تمہیں خوش رکھے باربی ڈول، اور تمہیں بھی معصوم سے شاویز فائنلی تمہیں بھی کوئی مل گئی۔۔۔”

رائمہ کی بات پر جہاں حریم بلش کر گئی تھی وہیں شاویز دانت بیچتے رہ گیا تھا

“تھنکیو رائمہ آپی۔۔۔”

حریم نے مسکراتے ہوئے کہا آج ان کی منگنی کی چھوٹی سی رسم تھی جو کاظم صاحب کے بہت اسرار پر ان کے ہی اپارٹمنٹ پر رکھی گئی تھی جب وہ لوگ رشتہ لے کر گئے تھے تب کاظم صاحب نے حریم کی خواہش کو مدنظر رکھتے ہوئے ہاں کردی تھی

حریم نے لائٹ پنک کلر کا سوٹ پہنا تھا رائمہ نے اسے خود تیار کیا تھا وہ بہت پریٹی لگ رہی تھی جبکہ دوسری طرف ہمارے پیارے سے شاویز نے وائٹ کلر کا کرتا پجامہ پہنا تھا جو اس کی شخصیت کو مزید نکھار رہا تھا

وہاں سب ہی خوش تھے سوائے تعبیر کے ویسے تو وہ بہت خوش تھی لیکن جب سے آتش نے اسے آوٹ آف سٹی چلنے کا بتایا تھا وہ بہت اداس تھی اس کا دل نہیں مان رہا تھا گھر والوں کو چھوڑ کر جانے کے لئے تبھی اس کا موڈ کچھ خاص نہیں تھا

“کیا ہے؟؟ ایسے گھور کیوں رہے ہو؟؟ میں نے کچھ غلط کہا بھلہ؟؟”

رائمہ اسے مسلسل گھورتا دیکھ کر معصومیت سے پوچھنے لگی جس پر تقریباً سب ہی ان کی طرف متوجہ ہوئے شاویز نے مصنوعی مسکراہٹ لئے اسے آنکھیں لگائیں جس پر رائمہ نے بامشکل اپنی ہنسی دبائی

“نہیں ایسا تو کچھ بھی نہیں ہے۔۔۔”

شاویز نے مسکراتے ہوئے عقب میں دیکھا جہاں تعبیر اسے آنکھیں دکھا کر چپ رہنے کا کہہ رہی تھی

“کچھ تو ہے دلہا بھائی۔۔۔ جو آپ ہمیں بتا نہیں رہے۔۔۔”

آئیزل نے شوقیہ انداز میں کہا جس پر شاویز اسے دیکھ کر مسکراتے ہوئے نفی میں سر ہلانے لگا

“ارے دلہا بھائی آپ شرمائیں مت۔۔۔ اگر میں نے کچھ غلط کہا ہو تو کہیں۔۔۔”

رائمہ نے ایک انداز میں کہا اس کی بات اور بار کرنے کے انداز پر شاویز نے ایک ائبرو اچکائی

“باقی سب تو ٹھیک ہے لیکن۔۔۔ یہ۔۔۔ میں تمہارا۔۔۔ دلہا بھائی کب سے ہوگیا؟؟”

آخر کار شاویز نے اس کے منہ سے نکلے لفظ ‘دلہا بھائی’ کو پکڑتے ہوئے سوال کیا جس پر وہ اسے دیکھنے لگی باقی سب بھی ان کی باتوں سے لطف اندوز ہورہے تھے

“بھئی دیکھیں اب جبکہ حریم میری پیاری سی باربی ڈول نے مجھے آپی بول ہی دیا تو اس لحاظ سے وہ میری بہن ہوئی نہ؟؟ اب جب وہ میری بہن ہوئی تو آپ میرے دلہا بھائی لگے۔۔۔ کیوں صحیح کہا نہ میں نے؟؟”

وہ مٹکتے ہوئے انداز سے کہتی ہوئی حریم کو اشارہ کرنے لگی جو مسکراہٹ دبائے ان کی حرکتیں نوٹ کر رہی تھی

“جی نہیں حریم آپ کی بھابھی ہے۔۔۔ نہ کہ بہن۔۔۔ اور اللّٰہ نہ کرے وہ آپ کی بہن بنے۔۔۔”

پہلے الفاظ میں اس نے اسے جتاتے ہوئے مخاطب کیا مگر آخری والے الفاظوں پر وہ دبے لہجے میں آنکھیں گھماتے ہوئے کہنے لگا جو بامشکل حریم اور رائمہ ہی سن سکی تھیں رائمہ نے غصے سے مٹھیاں بھینچیں

“ارے ارے آپ تو ناراض ہی ہوگئے۔۔۔ چلیں ٹھیک ہے پھر میں آپ کو آج سے وہی کہوں گی جو ہمیشہ سے کہتی آئی تھی شاویز جی۔۔۔”

رائمہ نے ایک ہاتھ سے اس کے گال کو کھینچتے ہوئے کہا جس پر ہو وہ منہ بنائے اسے گھورنے لگا

“آپ پہلے انہیں کیا کہتی تھیں آپی؟؟”

اس بار سوال حریم کا تھا شاویز نے حریم کو دیکھا پھر رائمہ کو دیکھ کر نفی میں سر ہلانے لگا مگر رائمہ کی یہ مخصوص مسکراہٹ کا مطلب یقیناً اس کے ارادے کچھ ٹھیک نہ تھے

“میں اسے۔۔۔”

“چھوڑو نہ کوئی اور بات کرتے ہیں ۔۔۔”

ابھی وہ کچھ کہتی جب شاویز اچانک سے بول پڑا

“ارے کوئی اور بات کیوں بھلہ اب جب میری پیاری سی بھابھی نے کچھ پوچھا ہے تو نہ بتانا اچھی بات نہیں نہ۔۔۔”

رائمہ کے چہرے پر شیطانی مسکراہٹ نمودار ہوئی شاویز نے غصے سے مٹھیاں بھینچیں

“میں اسے چوزہ کہتی ہوں۔۔۔ میرا پیارا بھولا بھالا سا نادان چوزا”

رائمہ کے کہنے کی دیر تھی جب سب ہنس پڑے مجبوراً شاویز کو بھی جھوٹ موٹ کا مسکرانا پڑھا جبکہ رائمہ کا تو ہنس ہنس کر برا حال تھا

“گھر آؤ ایک بار پھر بتاؤں گا تمہیں۔۔۔”

اس نے دھیمے مگر سخت لہجے میں دانت بیچتے ہوئے کہا جس پر رائمہ نے آنکھ ماری

“اچھا بچوں بہت ہوگیا ہنسی مذاق چلو اب کھانا کھاتے ہیں۔۔۔”

کاظم صاحب کی بات پر سب کھانے کی جانب بڑھ گئے تھے

“سنیں حریم جی۔۔۔”

شاویز نے سرگوشی نما انداز میں کہا حریم اسے دیکھنے لگی جو اسے ہی دیکھ رہا تھا

“کہو شاویز۔۔۔”

اس نے بھی دھیمی آواز سے کہا

“آپ بہت پیاری لگ رہی ہیں۔۔۔ اسپیشلی آج۔۔۔”

شاویز کی بات پر وہ بلش کرنے لگی تھی

“تم بھی بہت پیارے لگ رہے ہو۔۔۔ بلکل شہزادے۔۔۔”

“اب شہزادہ تو نہ کہیں۔۔۔”

شاویز ایک انداز میں شرما کر نظریں جھکا گیا جس پر حریم نے ہنسی دبائی

“پھر کیا کہوں۔۔۔ چوزہ؟؟”

حریم کے کہنے کی دیر تھی جب وہ پھٹی پھٹی آنکھوں سے اسے دیکھنے لگا حریم نے بامشکل ہنسی دبائی

“اب آپ بھی مجھے ایسا کہیں گی؟؟ کدھر سے چوزہ لگتا ہوں میں آپ کو؟؟”

اس نے معصومیت سے بھرپور انداز میں کہا

“اب تم ہو ہی اتنے کیوٹ سے معصوم سے تو میں کیا کروں۔۔۔”

حریم کی بات پر ایک ٹھنڈی آ بھرتے ہوئے اسے نے اسے دیکھا

“میں کتنا معصوم ہوں یہ آپ کو بہت جلد پتا چل جائے گا حریم جی۔۔۔” شاویز نے بلکل سنجیدگی سے کہتے ہوئے آنکھ دبائی تھی جس کا مطلب سمجھتے ہی حریم کی نظریں جھک گئی تھیں

سب نے ساتھ کھانا کھایا اور اب سب اپنے اپنے گھروں کے لئے روانہ ہوچکے تھے مگر وہ جو کچھ دیر پہلے سب کے ساتھ قہقہے لگا رہی تھی اب اپنے اندھیرے کمرے میں تنہا بیٹھی اپنے ساتھ ہونے والے حادثے کے بارے میں سوچ رہی تھی

“کون تھا وہ؟؟”

اس نے پھر سے خود سے سوال کیا نجانے وہ کیوں اسے لے کر تجسس کا شکار تھی یہ تو وہ خود بھی نہیں جانتی تھی مگر اس انجان شخص کے بارے میں جاننے کی خواہش مند تھی جس نے اسے بچایا تھا

جب اس کا ایکسیڈنٹ ہوا تھا تب اس کا دماغ ماؤف ہو چکا تھا وہ محسوس کر سکتی تھی کوئی تھا اس گھنے سنسان جنگل میں جس نے اسے بروقت اپنی باہوں میں اٹھا کر ہوسپٹل پہنچایا تھا

مگر جب وہ مکمل ہوش کی دنیا میں آئی تھی تب اس کے آس پاس صرف اس کے اپنے تھے نا کے وہ انجان شخص جس نے نہ صرف اسے بچایا تھا بلکہ وہ ہوسپٹل کے تمام اخراجات ادا کر کے وہاں سے کسی ہوا کی رفتار سے غائب بھی ہوا تھا

“اگر وہ کوئی عام سا مسافر تھا تو وہ کیوں مجھ پر اتنا مہرباں تھا کہ اس نے بل بھی پے کیا۔۔۔اور پھر میری کار۔۔۔ میری کار جو وہی رہ گئی تھی وہ؟؟ وہ کس نے گھر پہنچائی۔۔۔ وہ بھی بلکل نئی سی کر کے۔۔۔”

وہ دونوں ہاتھوں سے سر پکڑے گہری سوچ میں گم سی تھی

“کیا اس نے مجھ پر ترس کھا کر یہ احسان کیا تھا؟؟”

یک دم وہ چونک کر ہوش میں آئی۔۔۔ جب اس کا موبائل رنگ ہوا شاید کسی کا میسج تھا کسی انجان نمبر کو دیکھ کر وہ بنا میسج پڑے واپس اپنی پوزیشن میں بیٹھ گئی

“نہیں۔۔۔ میں کسی کا احسان نہیں لے سکتی۔۔۔ نہ ہی اب کسی کو خود پر ترس کھانے دوں گی۔۔۔ میں اپنی زندگی میں اب کسی کو نہیں آنے دوں گی۔۔۔دوسرا ضوریز تو کبھی بھی نہیں۔۔۔!!!”

وہ دل ہی دل میں عہد کرتے ہوئے بستر پر لیٹ کر آنکھیں موند گئی تھی شاید میڈیسن کا نشہ تھا جو اسے سونے پر مجبور کر رہا تھا

☆★☆★☆★☆

“گڈ مارننگ سر۔۔۔!!!”

“مورننگ!!!”

وہ لوگ جیسے ہی پلین سے اترے نیچے کھڑے لوگوں نے اس پاس گہرہ بنا لیا سب کی نظریں آتش پر تھیں میڈیا وہاں پہلے ہی موجود تھا وہ لوگ اسلام آباد پہنچ چکے تھے یہ اس کا پرائیوٹ پلین تھا جس میں وہ دونوں اکیلے آئے تھے

آتش بلیک کلر کے تھری پیس میں ملبوس اپنی نیلی آنکھوں کو چشمے سے چھپائے ہاتھ میں برینڈڈ واچ اور برینڈڈ شوز پہنے بالوں کا مخصوص ہیئر اسٹائل بنائے وہ بہت زیادہ حسین لگ رہا تھا

جبکہ تعبیر نے اس کے برعکس سفید رنگ کی خوبصورت سی لمبی فراک پہنی ہوئی تھی جس کے ساتھ چوڑی دار پاجامہ تھا ساتھ ہم رنگ ڈوپٹہ جو حسبِ عادت اس کے سر پر موجود تھا وہ ہلکے سے میک اپ میں بھی بہت پیاری لگ رہی تھی اور سب سے خاص بات تھی اس کے گلے میں آتش کا دیا ہوا پینڈینٹ موجود تھا

وہ سب کی نظروں کو اگنور کرتا ہوا آگے بڑھنے لگا مگر ایک نظر پیچھے رکی تعبیر پر ڈالی جو دونوں ہاتھ چہرے کے اور آنکھوں کے سامنے کری کھڑی تھی شاید مسلسل آنکھوں پر پڑتا ہوا کیمرے کا فلش اسے ایسا کرنے پر مجبور کر رہا تھا

“تعبیر۔۔۔!!!”

آتش اسے وہیں کھڑا دیکھ کر اس کے قریب آیا جس سے کچھ دیر کے لئے تعبیر کے چہرے پر سایہ سا ہوا اس نے آنکھیں کھول کر آتش کو دیکھا جو اسے سوالیہ نظروں سے دیکھ رہا تھا

“سر آتش۔۔۔ میں کیسے آگے جاؤں۔۔۔ مجھے عجیب لگ رہا ہے۔۔۔ سب لوگ دیکھ رہے ہیں۔۔۔ اور پھر یہ کیمرے۔۔۔”

ایک نظر سامنے مجموعے پر ڈال کر چہرے پر پریشانی سجائے وہ معصومیت سے گویا ہوئی ایک پل کے لیے آتش کو اس کا یہ انداز بہت بھایا تھا مگر اگلے ہی لمحے وہ وقت جگہ اور صورتحال کو دیکھ کر سنبھل گیا

“میں ساتھ ہوں تمہارے۔۔۔ تمہیں گھبرانے کی ضرورت نہیں۔۔۔!!!”

وہ اس کا ہاتھ اپنے ہاتھ میں تھام کر ایک نظر اس کے لبوں کو دیکھتا ہوا اسے اپنے ساتھ لے جانے لگا جبکہ وہ بلکل خاموش سی گردن جھکائے اس کے ساتھ چلنے لگی

پھر کیا ہونا تھا آتش کا ہاتھ تعبیر کے ہاتھ میں دیکھ کر میڈیا میں ایک طوفان سا اٹھنے لگا تھا سب انہیں حیرت سے آگے بڑھتا دیکھ رہے تھے

“سر یہ مس کون ہیں اور آپکے ساتھ یہاں کیوں ہیں۔۔۔ کیا آپ کچھ بتانا چاہیں گے؟؟”

“مسٹر آتش درانی کیا آپ ان کے بارے میں کچھ کہنا چاہیں گے۔۔۔؟؟”

“سر آتش پورا میڈیا حیران ہے آپ کے فینز یہ جاننے کے لیے بےصبر ہیں کہ یہ لڑکی کون ہیں۔۔۔”

مختلف رپورٹرز نے مختلف قسم کے سوال کئے تھے جبکہ وہ بنا کچھ کہے بنا کسی کو دیکھے آگے بڑھتا جارہا تھا اس کی یہ مغرورانہ چال نجانے کتنے لوگوں کو دنگ کر گئی تھی جبکہ تعبیر کو یہ سب بہت عجیب لگ رہا تھا اس نے آتش کے ساتھ سے اپنا ہاتھ چھڑانا چاہا مگر اس کی گرفت بہت مضبوط تھی

“سر سب ہمیں دیکھ رہے ہیں۔۔۔ دیکھیں کیسے کیسے سوال کر رہے ہیں پلیززز آپ میرا ہاتھ چھوڑ دیں”

اس نے دھیمی سی آواز میں سرگوشی کی تھی آتش نے ایک نظر اسے پھر سامنے دیکھا جہاں ان کی گاڑی ریڈی کھڑی تھی

“ریلیکس تعبیر!!! یہ سب ان کے روز کا کام ہے اگنور کرنا سیکھو!!!”

آتش نے پرسکون انداز میں کہا جبکہ تعبیر بنا کچھ کہے اسے دیکھتی رہی وہ لوگ گاڑی کے قریب آ چکے تھے گاڑی کے پاس آکر آتش نے اس کا ہاتھ چھوڑا جس پر وہ جلدی سے گاڑی میں جا بیٹھی

دوسری طرف سے دروازہ کھول کر آتش اندر کو بیٹھنے ہی لگا تھا جب اس کے قدم رکے اتنی سیکیورٹی کے باوجود ایک رپورٹرز بری طرح سے مزاحمت کر کے ان کے قریب آ چکا تھا

“سر کیا آپ بتانا پسند کریں گے کہ ان محترمہ کے ساتھ آپ کا تعلق کب سے ہے۔۔۔ کیا یہ آپ کی کوئی نئی گرل فرینڈ ہیں یا پھر۔۔۔”

ایک آگ ابلتی نگاہ اس نے پیچھے کھڑے رپورٹر پر ڈالی اپنی نیلی آنکھوں پر سے چشمہ ہٹائے چہرے پر عجیب قسم کا غصہ سجائے وہ اسے گھورنے لگا جس پر اس لڑکے کے آدھے الفاظ منہ میں ہی رہ گئے تھے جبکہ تعبیر کو اس کی بات سن کر بے انتہا شرم محسوس ہوئی تھی

آتش نے دو قدم آگے آکر اس کا گریبان پکڑا جس پر کیمرہ مینز ان کی جانب متوجہ ہوئے آتش سخت تاثرات لئے اسے گھور رہا تھا اسے پتا تھا تعبیر یہ الفاظ سن کر کیسا محسوس کر رہی ہوگی

“کیا کہا؟؟”

آتش نے سخت مگر دھیمے لہجے میں پوچھا جس پر وہ اپنا گریبان چھڑانے لگا

“میں نے پوچھا کیا کہا!!!”

اس بار وہ پورے جوش سے دھاڑا تھا یک دم تعبیر نے اپنے دل کے مقام پر ہاتھ رکھا

“سر یہ میری جاب ہے!!! میں نے آپ سے بس اتنا پوچھا ہے کہ یہ لڑکی آپ کی کوئی نئی گرل فرینڈ ہے یا نہیں۔۔۔”

اس نے اپنے پسینے صاف کرتے ہوئے کہا جس پر آتش نے ایک زور دار مکا اس کے منہ پر رسید کیا جہاں اس رپورٹر کی ناک سے خون نکلا وہیں ایک بار پھر آتش درانی پورے میڈیا کی زینت بن گیا

“آج کے بعد سوچ سمجھ کر سوال کرنا ورنہ یا تو تیری جاب نہیں رہے گی یا پھر تو خود۔۔۔”

آتش دونوں ہاتھوں سے اس لڑکے کا گریبان پکڑ کر بھڑکا تھا جس پر وہ سہم کر رہ گیا تھا آتش نے ایک جھٹکے سے اسے دور پھینکا اور سرخ ہوتی آنکھوں پر چشمہ لگا کر اپنے مخصوص انداز میں چلتا ہوا گاڑی میں آ بیٹھا جبکہ تعبیر اس کے غصے سے بہت ڈر گئی تھی

دورانِ سفر ان کے درمیان کوئی گفتگو نہ ہوئی کیونکہ آتش اب بھی غصے میں لگ رہا تھا جبکہ تعبیر خاموشی سے بیٹھی بار بار اس پر نظر دوڑائے اس کے تاثرات کا جائزہ لے رہی تھی

کچھ دیر کی مسافت کے بعد وہ لوگ ایک شاندار سے فارم ہاؤس کے سامنے آ رکے یہ وہ فارم ہاؤس تو نہ تھا جس میں آتش نے پہلے تعبیر کو بلایا تھا یہ تو سمندر کے بلکل سامنے بنا ہوا تھا تعبیر ایک پل کے لیے اس منظر کو دیکھ کر دنگ رہ گئی تھی

“چلو!!!”

اسے یوں ہی بیٹھے باہر جھانکتا دیکھ کر آتش نے مختصر سا الفاظ کہا جس پر وہ ہوش کی دنیا میں آکر گاڑی سے باہر نکلی وہ لوگ فارم ہاؤس کی جانب بڑھنے لگے مگر تب ہی آتش کے پاس کال آئی وہ اسے رکنے کا اشارہ کر کے خود کچھ قدم کے فاصلے پر جاکر فون سننے لگا

تعبیر اسے کال پر مصروف دیکھ کر خود سمندر کی خوبصورتی دیکھنے میں مگن ہوگئی سمندر کی لہروں سے اٹھتی ٹھنڈی ہوائیں اس کے پورے وجود میں سما کر روح کو سکون بخش رہی تھیں وہ یوں ہی آنکھیں بند کئے کھڑی تازی ہواؤں کو اپنی سانسوں میں اتار رہی تھی

وہ فون بند کرنے کے بعد پلٹا جب اس کی نظر تعبیر پر گئی جو آنکھوں بند کئے پرسکون سی کھڑی ہواؤں سے لطف اٹھا رہی تھی آتش دھیمے قدموں سے چلتا ہوا اس کے عقب میں آکھڑا ہوا

وہ نظر بھر کر اس کے ایک ایک نقش کو دیکھ رہا تھا کتنی معصوم تھی وہ کتنا اطمینان تھا اس کے چہرے پر پر احساس سے عاری اس کی بھولی سی سرخ و سفید صورت آتش کو خود میں جکڑنے کی کوشش کر رہی تھی

“کتنی معصوم ہو نہ تم تعبیر۔۔۔ میرا خیال تھا تمہیں اپنے تابع کر کے مجھے سکون مل جائے گا۔۔۔ میں تمہیں درد دے کر خوش رہوں گا میں تمہیں نیچا دکھا کر جیت جاؤں گا مگر ایک تم ہو جو مجھے اپنے قریب تر قریب کرتی جارہی ہو۔۔۔ آخر کیوں مجھے تم اتنی اچھی لگنے لگی ہو۔۔۔”

وہ چشمہ ہٹائے اپنی پرکشش نیلی آنکھوں سے اسے دیکھا جارہا تھا وہ دل ہی دل میں اس سے مخاطب تھا شاید اس کا دل تعبیر کے دل سے رابطہ کرنا چاہ رہا تھا مگر بچارے آتش کے مغرور دل کو اس حسن کی ملکہ کے دل سے کنیکٹ ہونا مشکل لگ رہا تھا

“آااپ۔۔۔”

کسی کے نظروں کی تپش محسوس کر کے وہ آنکھیں کھولے عقب میں دیکھنے لگی آتش کو اپنے اتنے قریب دیکھ کر وہ بوکھلائی تھی جس پر آتش دو قدم دور ہوا اسے سمجھ نہیں آرہا تھا وہ کیا جواب دے۔۔۔

“آا۔۔۔ ہاں میں۔۔۔ وہ میں پوچھ رہا تھا کہ۔۔۔ کیسی لگی تمہیں یہ جگہ۔۔۔؟؟”

اس نے بامشکل اپنی بات کو سنبھالتے ہوئے پیش کیا جبکہ اس کی نظریں تعبیر کے چہرے پر اڑتی ہوئی لٹوں پر تھیں جو وہ بار بار کان کے پیچھے کئے جارہی تھی

“جی یہ جگہ۔۔۔ کافی خوبصورت ہے۔۔۔ بلکہ بہت زیادہ خوبصورت۔۔۔”

تعبیر نے ایک نظر سمندر کو دیکھ کر کہا جس پر آتش نے ہلکی سی مسکراہٹ کے ساتھ گردن جھکائی

“لیکن کیا ہم یہاں اسٹے کریں گے؟؟ میرے کہنے کا مطلب ہے پہلے تو۔۔۔ آپ کسی اور جگہ۔۔۔”

وہ کہتے کہتے رکی تھی کیونکہ آتش اسے سنجیدگی سے دیکھ رہا تھا

“جس جگہ وہ فارم ہاؤس تھا میرا اس جگہ سے اب دل بھر چکا ہے اور۔۔۔ اور پھر تمہیں جبکہ تمہیں سمندر پسند ہے تو میں نے سوچا کیوں نہ اس بار اس لوکیشن پر موجود فارم ہاؤس لے لیا جائے۔۔۔”

آتش نے دھیمے لہجے میں کہا شاید ایسا پہلی بار ہوا تھا کہ وہ کسی سے دھیمے لہجے میں پیش آرہا تھا وجہ تو وہ خود بھی نہیں جانتا تھا تعبیر نے اثبات میں سر ہلایا

“ویل چلو۔۔۔ تم تھک گئی ہوؤں گی آرام کرو۔۔۔ باقی جب تمہارا دل چاہے فری ٹائم میں تم یہاں واک پر آ سکتی ہو۔۔۔ ویسے بھی ہم یہاں اسپیشلی تمہارے لئے آئے ہیں۔۔۔”

وہ اپنے مخصوص انداز میں کہتا ہوا فارم ہاؤس کے اندر چلا گیا جبکہ وہ اسے جاتے دیکھ رہی تھی اسے کے جاتے ہی بلش کر گئی

☆★☆★☆★☆

“مورننگ ڈیڈ”

وہ نائٹ ڈریس میں موجود چلتی ہوئی ڈائننگ ٹیبل پر آ بیٹھی

“مورننگ میری پرنسز۔۔۔”

انہوں نے بڑے پیار سے اس کے سر پر ہاتھ رکھا جبکہ کچن سے آتی حریم نے اس کے بکھرے ہوئے بالوں کو مزید بکھرایا

“اففف حریم کیا کر رہی ہو۔۔۔ میرا سارا ہیئر اسٹائل خراب کردیا۔۔۔”

اپنے بکھرے ہوئے بالوں کو ہیئر اسٹائل کہتی ہوئی وہ خود بھی ہنس پڑی تھی جبکہ ساتھ میں حریم اور کاظم صاحب بھی ہنسنے لگے

“آج تمہاری طبیعت کافی بہتر لگ رہی ہے آئیز۔۔۔”

حریم نے اس کی پیشانی پر ہاتھ رکھ کر کہا

“ہاں اب میں کافی بہتر محسوس کر رہی ہوں۔۔۔”

ائیزل نے جوس کا گلاس لبوں پر لگاتے ہوئے کہا اب وہ سب ناشتے میں مصروف ہوگئے تھے

“اوکے مائے پرنسز۔۔۔ میں جارہا ہوں تم اپنا خیال رکھنا اوکے اور آج میں لیٹ آؤں گا ایک ضروری میٹنگ ہے میری۔۔۔ خدا حافظ”

وہ اس کے ماتھے کو چومتے ہوئے اسے خدا حافظ کر کے وہاں سے چلے گئے جبکہ اب وہ اپنے آملیٹ کے ساتھ کھیل رہی تھی جسے حریم نوٹ کر چکی تھی

“ائیز۔۔۔ تم ٹھیک تو ہو نہ؟؟”

اسے یوں خاموش دیکھ کر حریم نے دھیمے لہجے میں کہا جس پر وہ سنجیدگی سے ہاں میں سر ہلانے لگی

“ائیزل جو ہوا سو ہوا اب تم ماضی کی باتوں کو بھول جاؤ اور آگے بڑھو۔۔۔”

حریم نے اس کے ہاتھ پر ہاتھ رکھ کر اسے سمجھایا جس پر وہ اسے دیکھنے لگی

“یار میں سب بھول چکی ہوں بس یہ بات سمجھ نہیں آرہی کہ کوئی کس طرح کسی کو سدھار کر برباد کر سکتا ہے؟؟ یہ جان کر کچھ عجیب نہیں لگا تمہیں ؟؟”

ائیزل نے بھویں اکٹھی کر کے دیکھا

“جانتی ہوں عجیب ہے۔۔۔ لیکن شاید تمہاری قسمت میں یہی لکھا ہوا تھا۔۔۔ خیر تم بس اب اپنے کریئر پر فوکس کرو۔۔۔ چھوڑو یہ ساری باتیں جو تمہیں پریشان کرتی ہیں۔۔۔ دیکھو مجھے میری پہلی والی ائیزل چاہئے۔۔۔”

حریم کی بات پر اس نے ہلکی سی مسکراہٹ اچھالی

“پہلی والی مطلب میں ویسی ہی ہوجاؤں وہ جیسے یونی کہ دیوار پھلانگنا، پارٹیز میں جانا، جھگڑے کرنا اور ۔۔۔”

اس کی بات پر حریم ہنسی تھی مگر آخری الفاظ پر وہ دونوں ہی چھپ ہوئے تھے

“سوچنا بھی مت!!! تم سگریٹ کو ہاتھ بھی نہیں لگاؤ گی۔۔۔ سمجھیں تم۔۔۔!!!”

حریم نے حکم سناتے ہوئے کہا جس پر وہ مسکرائی

“اوکے ڈن جگر۔۔۔ اور کوئی حکم؟؟”

ائیزل کی بات پر اس نے نفی میں سر ہلایا

“اچھا اب یوں ہی بیٹھے رہنا ہے یا کچھ کھانا پینا بھی ہے؟؟”

حریم کی بات پر ائیزل اپنا کھانا فنش کرنے لگی جبکہ حریم یونی کے لیے ریڈی ہونے چلی گئی

☆★☆★☆★☆

وہ جیسے ہی ناشتے سے فارغ ہوکر اپنے روم میں آئی اچانک سے اس کا موبائل بجنے لگا کوئی انجان نمبر تھا شاید اس نمبر سے پہلے بھی کئی کالز آ چکی تھیں

“یہ تو وہی نمبر ہے جس سے اس رات میسج آیا تھا۔۔۔ مگر کون ہے یہ؟؟”

اس نمبر سے پہلے بھی میسج آیا تھا جس میں ائیزل کی طبیعت پوچھی گئی تھی مگر وہ حیران تھی آخر یہ کون تھا یونی میں سے تو کسی کا نمبر نہ تھا ابھی وہ یہی سوچ رہی تھی جب ایک بار پھر سے موبائل بجا مگر اس بار صرف میسج تھا

“How’s your feelings now??”

میسج پر کر وہ ایبرو کا زاویہ بنائے یہ سوچنے لگی کہ وہ جواب کیا دے

“فائین بٹ۔۔۔ ہو آر یو؟؟”

کچھ دیر سوچنے کے بعد اس نے یہ میسج ٹائپ کر کے سینڈ کیا

“آئی ایم نتھنگ۔۔۔”

دوسری جانب سے سیکنڈ سے پہلے یہ جواب موصول ہوا اور اس کے بات کوئی میسج نہ آیا

“نتھنگ؟؟ یہ کیسا جواب ہے؟؟ آخر ہے کون یہ؟؟ شاید رانگ نمبر ہوگا”

وہ خود کلامی کرتے ہوئے موبائل سائڈ ٹیبل پر رکھ کو فریش ہونے کے غرض سے چلی گئی

☆★☆★☆★☆

“مجھے آپ سے ملنا ہے حریم۔۔۔”

وہ جو کلاس لینے میں اتنی مگن تھی موبائل بجنے پر میسج چیک کرنے لگی میسج شاویز کا تھا اس کے چہرے پر مسکراہٹ آئی تھی

“آج ممکن نہیں ہے شاویز میں یونیورسٹی ہوں۔۔۔ اور پھر ائیزل کی طبیعت بھی ٹھیک نہیں میں اسے اکیلے چھوڑ کر نہیں آ سکتی۔۔۔آج ضروری تھا اس لئے یونیورسٹی آنا پڑا۔۔۔”

جیسے ہی شاویز نے میسج دیکھا اس کا چہرہ مرجھا سا گیا تھا وہ لیپ ٹاپ بند کر کے اسے کال ملانے لگا

“شاویز۔۔۔ کیسے ہو آپ؟؟”

اس نے بڑے پیار سے پوچھا جبکہ شاویز کو منہ اچھا خاصا بنا ہوا تھا

“کیسا ہو سکتا ہوں؟؟ جس کی فیونسی اسے ملنے سے انکار کردے وہ بھلہ کیسا ہو سکتا ہے؟؟”

شاویز نے لہجے میں اداسی لئے کہا وہ اس وقت اتنا معصوم لگ رہا تھا کہ اگر حریم اسے دیکھتی تو یقیناً اس کے رخساروں کو کھینچتی

“اففف اللّٰہ تم تو بچوں کی طرح سیڈ ہورہے ہو۔۔۔”

حریم نے معصومیت سے کہا جس پر شاویز نے گہری سانس لی

“حریم جی میرے ساتھ ہی کیوں ہمیشہ؟؟ آپکے پاس میرے لئے وقت کیوں نہیں ہوتا؟؟ کیا ترس نہیں آتا آپ کو مجھ معصوم پر۔۔۔؟؟”

اس بار حریم کا قہقہہ نکلا تھا جس پر شاویز کا مزید منہ بن گیا تھا

“ہنس لیں ہنس لیں دیکھئے گا ایک دن میں بھی آپ کو ایسے تڑپاؤں گا پھر آپ سے پوچھوں گا کیسا محسوس کر رہی ہیں آپ۔۔۔”

“اچھا بابا بس نہ۔۔۔ چلو ایک کام کرو میں آج یونی سے جلدی آف لے لیتی ہوں پھر ہم مل لیں گے اس ہی کیفے پر اوکے؟؟”

حریم کی بات پر اس کی جان میں جان آئی

“اوکے میں بھی لنچ کے لیے باہر جارہا ہوں وہی سے آپ کو پک کرلوں گا اوکے۔۔۔”

وہ خوشی سے کہتا ہوا بنا اس کا جواب سنے فون بند کر گیا جبکہ حریم اس کی عجلت پر سر پر ہاتھ مارتے رہ گئی

☆★☆★☆★☆

“کتنی خاموشی ہے یہاں۔۔۔ کیا صرف ہم دونوں ہی یہاں رہیں گے۔۔۔؟؟” وہ سیڑھیاں اترتی ہوئی نیچے کی جانب آئی جہاں اندر صرف دو میٹ موجود تھیں جو گھر کی صفائی مکمل کر رہی تھیں جبکہ دو کک بھی موجود تھے جو کچن میں کھانا بنانے میں مصروف تھے

یہ ایک بہت بڑا عالی شان فارم ہاؤس تھا جہاں مین گیٹ سے اندر ہوتے ہی خوبصورت سا گارڈن بنا ہوا تھا اطراف میں ایک طرف بڑے بڑے سائے دار درخت تھے دوسری جانب گیراج بنا ہوا تھا

جبکہ اندرونی حصے میں ایک جگہ اسطبل بنا ہوا تھا جہاں مشہور اقسام کے قیمتی گھوڑے موجود تھے جبکہ دوسری جانب فارم ہاؤس کا اندرونی دروازہ تھا جہاں اندر جاتے ہی محل نما نظارہ دیکھنے کو ملتا تھا

پہلے بڑا ہال تھا جس کے اندر مختلف کمرے تھے سامنے دو بڑے زینے تھے جو ایک ہی راستے پر جاکے ملتے تھے وہ راستہ اوپری حصے میں جانے کا تھا جہاں آتش کا کمرہ تھا

جبکہ تعبیر نے اپنی خواہش پر اس کے بلکل سامنے والا کمرہ لیا تھاجس کے اندر لگے گلاس وال سے باہر کے سمندر کا خوبصورت منظر ہر وقت دکھائی دیتا تھا

اس فارم ہاؤس کے مزید خوبصورت ہونے کی وجہ یہ سمندر بھی تھا جو اس جگہ کو مزید حسن بخش رہا تھا جس کی صاف شفاف لہروں سے ٹکراتی ہوئی ہوائیں سامنے بنی کھڑکی کے اندر کھڑے شخص سے ٹکرا کر اس کے جسم کو تروتازہ کرتی تھیں

“میم آپ کو کچھ چاہئے؟؟”

میٹ کے پوچھنے پر اس نے نفی میں سر ہلایا تبھی آتش اپنے موبائل پر نظریں جمائے نیچے کی جانب اتر کر آنے لگا

“سر لنچ ریڈی ہے!!!”

میٹ کے کہنے پر اس نے اثبات میں سر ہلایا اور تعبیر کو اشارہ کر کے ڈائننگ ہال میں چلا گیا جبکہ وہ بھی خاموشی سے اس کے پیچھے چل دی

کھانے سے فارغ ہوکر وہ لوگ ڈرائنگ روم میں آبیٹھے جبکہ آتش اب کسی سے کال پر مصروف تھا اور تعبیر گلاس وال سے باہر کا منظر دیکھ رہی تھی جہاں گلاب کے خوبصورت پھول چہچہاتے نظر آرہے تھے

تعبیر کے چہرے پر ہلکی سی مسکراہٹ بکھرنے لگی جسے دیکھتے ہی آتش نے کال کٹ کردی اب منظر کچھ یوں تھا کہ وہ باہر پھولوں کو دیکھ کر مسکرا رہی تھی اور آتش بغور اس پر نظریں جمائے بامشکل اپنی مسکراہٹ دبا رہا تھا اس کی نظریں محسوس کرتے وہ اچانک مسکراہٹ چھپا گئی تو وہ بھی سیدھا ہوکر بیٹھا

“کیسی لگی لوکیشن؟؟ کمفرٹیبل فیل تو کر رہی ہو نہ تم؟؟”

وہ تعبیر کو نروس دیکھتے ہوئے سوال کرنے لگا جس پر وہ اسے دیکھنے لگی

“جی ہاں۔۔۔ بہت اچھی لوکیشن ہے اور میں بہتر محسوس کر رہی ہوں”

وہ سنجیدگی سے کہتی ہوئی چہرے پر آتے بالوں کو کان کے پیچھے کرنے لگی

“سر آپ کچھ لیں گے؟؟ کوفے، ڈرنک یا سوفٹ ڈرنک؟؟”

میٹ نے اندر آکر سوال کیا

“فلحال کچھ بھی نہیں۔۔۔”

وہ مختصر سا جواب دے کر چپ ہوگیا

“میم آپ؟؟”

اب کی بار اس نے تعبیر سے پوچھا تھا

“آا۔۔۔ وہ۔۔۔ چائے۔۔۔ بلکہ آپ رہنے دیں میں خود بنا لوں گی”

وہ کہتی ہوئی اٹھنے لگی جبکہ آتش بھی اسے سنجیدگی سے دیکھ رہا تھا

“میم آپ رہنے دیں آپ بس حکم کریں میں آپ کو بنا کر دے دیتی ہوں نہ۔۔۔”

“وہ۔۔۔”

میٹ کی بات پر وہ چہرے پر پریشانی لئے اسے دیکھنے لگی آتش سمجھ چکا تھا شاید وہ میٹ کے ہاتھ کی چائے پینے سے کترا رہی تھی

“رکو!!! تعبیر کا جو دل کرے وہ اپنی مرضی سے کر سکتی ہے آج کے بعد اسے روکنا مت!!!”

آتش کی بات پر میٹ نے اثبات میں سر ہلایا اور وہاں سے چلی گئی جبکہ تعبیر نظروں سے اس کا شکریہ ادا کرتی ہوئی کچن میں چلی گئی

کافی دیر جب وہ واپس نہ آئی تو آتش بھی وہاں سے اٹھ کر باہر جانے لگا مگر تب ہی تعبیر پر نظر گئی جو کچن میں کھڑی چائے نکال رہی تھی آتش کو دیکھ کر تھوڑا سا چونکی

“سر کیا آپ چائے پئیں گے؟؟”

تعبیر کے سوال پر اس نے اسے دیکھا

“نہیں۔۔۔ میں صرف بلیک کافی پیتا ہوں۔۔۔”

اس نے سنجیدگی سے کہا

“اوہ میں بھول گئی۔۔۔ آپ تو۔۔۔ ڈائٹ پر ہوں گے۔۔۔تو کیا میں بنادوں بلیک کافی؟؟”

“تمہارے ہاتھ کا تو مجھے زہر بھی قبول ہے۔۔۔”

وہ زیرِ لب کہتا ہوا اسے دیکھنے لگا مگر وہ ٹھیک سے سن نہیں پائی تھی تعبیر نے نا سمجھی سے اسے دیکھا

“آئی من تم بنا دوں۔۔۔ میں گارڈن میں ہی ہوں وہیں آجانا۔۔۔”

وہ کہتا ہوا وہاں سے چلا گیا جبکہ اب وہ اس کی بلیک کافی تیار کر رہی تھی

جب وہ دونوں کپ ٹرے میں لئے گارڈن کی طرف آئی تو آتش کو دوسری جانب رخ کئے کھڑا پا کر خاموشی سے ٹرے کو ٹیبل پر رکھا اس کی موجودگی محسوس کر کے وہ پلٹ کر کرسی پر آ بیٹھا

“ہمم تم بلیک کافی تو بہت اچھی بنا لیتی ہو۔۔۔کیا پہلے کبھی کسی کے لئے بنائی ہے؟؟”

وہ سپ لیتے ہوئے مخصوص انداز میں کہنے لگا

“تھنکس سر بٹ میں نے یہ پہلی بار بنائی ہے۔۔۔ گھر میں اکثر سب چائے پیتے ہیں اور کافی تو موسٹلی ونٹرز میں ہی پی جاتی ہے۔۔۔”

آتش نے مسکراتے ہوئے جواب دیا آتش نوٹ کر چکا تھا وہ اب پہلے کی طرح ناک پر غصہ لئے نہیں پھرتی تھی وہ اکثر مسکرایا کرتی تھی

“ویل جب کافی اتنی اچھی بنائی ہے تو یقیناً چائے بھی اچھی بناتی ہووں گی۔۔۔”

آتش نے کافی کا سپ لیتے ہوئے کہا

“جی ہاں سب کو میرے ہاتھ کی چائے بہت پسند ہے۔۔۔ میں اسٹرانگ چائے پیتی ہوں مطلب ابھی بھی میری چائے میں چینی برائے نام ہی ہے۔۔۔”

وہ خود نہیں جانتی تھی آخر کیسے اس نے آتش سے آج اتنی ساری باتیں کی تھیں آتش اس کی بات پر مسکرا گیا تھا وہ اپنی پوری کافی ختم کر چکا تھا تبھی تعبیر کو یاد آیا اس کا موبائل تو کچن میں ہی رہ گیا وہ زیرِ لب کہتی ہوئی وہاں سے کچن چلی گئی

اس کے جاتے ہی آتش کی نظر اس کے آدھے خالی کپ پر گئی نجانے کیا سوچ کر اس نے اس کپ کو اٹھایا اور اس ہی جگہ سے سپ لیا جہاں سے وہ کچھ دیر پہلے پی رہی تھی

“ہممم ٹیسٹی۔۔۔”

وہ جس نے چائے آخری بار کب پی تھی اسے یاد بھی نہ تھا آج وہ بڑے مزے سے تعبیر کے ہاتھ کی بنی ہوئی چائے پی رہا تھا ایک الگ ہی لمس تھا ایک الگ ہی مزہ تھا جو شاید اس کے چھوڑے گئے لمس سے جا مل کر لطف بخش رہا تھا

ابھی وہ اس خالی کب کو ہی دیکھ رہا تھا جب اس کی کال آئی تب ہی تعبیر بھی واپس آنے لگی وہ جلدی سے فون لئے وہاں سے جانے لگا مگر تعبیر کے عقب میں آ رکا اسے رکتا دیکھ کر وہ بھی رکی تھی

“ویسے چائے میں چینی کافی زیادہ تھی۔۔۔ یا شاید یہ کسی کے لبوں کا کمال تھا۔۔۔”

وہ خمار بھرے لہجے میں سرگوشی کرتا ہوا ایک نظر اس کی گردن پر ڈال کر وہاں سے چلا گیا جبکہ وہ اب تک کھڑی یہی سوچ رہی تھی آخر وہ کیا کہہ کر گیا تھا

“میری چائے؟؟”

جب اس کی نظر کپ پر گئی تو وہ زیرِ لب کہنے لگی تب اسے سمجھ آیا کہ وہ جو کہہ کر گیا تھا اس کا بات کا مقصد یہ تھا۔۔۔ وہ اپنے دھڑکتے دل پر حیران تھی

☆★☆★☆★☆

وہ آدھے گھنٹے سے یونی کے باہر کھڑا اس کا ویٹ کر رہا تھا مگر اسے نہ پا کر شاویز کو تھوڑا سا غصہ آنے لگا اس نے کالز بھی کیں مگر حریم کے ریسیو نہ کرنے پر وہ بائیک کو پارکنگ میں کھڑا کر کے یونی کے اندر چلا گیا

اسے پتا تھا اس وقت وہ کہاں مل سکتی ہے جیسے ہی وہ اندر کی جانب بڑھا پیچھے سے کسی کی آواز پر رکا

“ہیی ہینڈسم۔۔۔”

وہ اندازہ لگا چکا تھا کہ وہ کس کی آواز ہے جب وہ پلٹا تو اس کا اندازہ صحیح نکلا حوریہ اپنے مخصوص ویسٹرن لباس میں ملبوس اونچی ہیل پہنے کمر پر ہاتھ تنائے میک اپ سے چہرہ کوور کئے مسکرا رہی تھی

“بڑے ٹائم بات آج اپنا دیدار کروایا ہے تم نے۔۔۔ تم تو پہلے سے بھی زیادہ ہینڈسم ہوگئے ہو۔۔۔”

حوریا نے ایک نظر پیچھے سے آتی حریم پر ڈالی جو ماتھے پر شکن لئے ان ہی کی جانب بڑھ رہی تھی حوریا شاویز کے تھوڑا اور قریب آئی جس پر وہ اسے آنکھیں چھوٹی کر کے دیکھنے لگا

“اوہ واہ۔۔۔ تمہاری بوڈی تو پہلے سے بھی زیادہ فٹ لگ رہی ہے۔۔۔ یو آر لوکنگ ہوٹی۔۔۔”

وہ اس کے قریب آکر ایک ادا سے کہتی ہوئی اس کے فیس پر اپنے بڑے بڑے مصنوع ناخنوں والی انگلی پھیرتے ہوئے کہنے لگی جس پر حریم کی جان جل گئی تھی جبکہ اس کی موجودگی سے شاویز اب بھی بے خبر تھا

“افففف تمہارا یہ آؤٹ فٹ۔۔۔ تمہارے یہ ہیئرز۔۔۔ تمہارے مسلز۔۔۔ یہ ہوٹ سی سکس پیک ابس۔۔۔”

وہ تمام فاصلہ سمیٹ کر اس کے قریب تر قریب آئی اور اس کے مظبوط ورزشی سینے پر اپنی انگلیوں کو پھیرتی ہوئی خمار بھرے لہجے میں مخاطب ہوئی کیونکہ وہ اس وقت وائٹ رنگ کی شرٹ کے ساتھ بلیک پینٹ میں ملبوس تھا اس لئے اس کے سکس پیک ابس واضح ہورہے تھے

۔۔۔اففف اٹس ٹو مچ سیک۔۔۔”

ابھی آگے وہ کچھ کہتی جب حریم نے ایک رفتار سے آگے بڑھ کر اسے دور دھکیلا جہاں وہ اچانک والے حملے پر گرتے گرتے بچی تھی وہیں شاویز چونک کر عقب میں کھڑی ہوئی حریم کو دیکھنے لگا جو خفگی سے اسے دیکھ رہی تھی

“اوہ یو اسٹوپڈ گرل۔۔۔ تمہاری ہمت کیسے ہوئی مجھے چھونے کی۔۔۔”

اطراف میں کھڑے ہوئے اسٹوڈینٹس سب اس پر ہنس رہے تھے جس پر وہ بھڑکتے ہوئے حریم سے مخاطب ہوئی جس پر حریم نے اسے مزید گھورا

“یو آر آلسو اسٹوپڈ انڈرسٹینڈ!!! اور تمہاری کیسے ہمت ہوئی میرے فیونسی کو ٹچ کرنے کی؟؟”

حریم بھی اس ہی کے انداز میں چینخی تھی جبکہ اس کی بات سن کر سب حیران رہ گئے تھے ان میں سب سے زیادہ حوریہ تھی۔۔۔

“فیونسی؟؟ اور تمہارا ہاہاہا خواب دیکھ رہی ہوں گی شاید۔۔۔”

اس نے ایک انداز میں اتراتے ہوئے کہا

“مذاق اچھا تھا!!!”

حریم تنزیہ ہنسی جبکہ شاویز خاموشی سے کھڑا یہ تماشا دیکھ رہا تھا

“تم اپنی حد میں رہا کرو قریب لڑکی!!!”

وہ اسے انگلی سے وارن کرتے ہوئے چینخی تھی جبکہ اس کی بات پر حریم چپ سی ہوئی تھی لیکن شاویز کو بے انتہا غصہ آیا تھا

“سوری میں آپ دونوں کے بیچ آرہا ہوں لیکن غریب حریم نہیں بلکہ اس وقت آپ لگ رہی ہیں!!!”

شاویز نے سنجیدگی سے کہا جس پر وہ سوالیہ نظروں سے اسے گھورنے لگی

“اب آپ خود دیکھیں حریم کا لباس۔۔۔ دیکھیں ماشاللہ سے انہوں نے پورے کپڑے تو پہنے ہوئے ہیں نہ جبکہ اب آپ اپنا حلیہ دیکھیں۔۔۔ کپڑوں کے نام پر مذاق ہے یہ۔۔۔ جبکہ ڈوپٹے سے تو آپکا کوئی لینا دینا ہی نہیں۔۔۔ تو اب آپ خود بتائیں غریب کون ہوا؟؟”

شاویز نے بڑے پرسکون انداز میں بہت گہری بات کہیں جس پر حریم سمیت وہاں کھڑے سب اسٹوڈینٹس حیران ہوگئے جبکہ وہ اپنی تذلیل پر ضبط نہ کر پائی

“تمہیں تو میں دیکھ لوں گی!!!”

اپنی تذلیل برداشت کرنا اس کے لئے نہ قابلِ قبول تھا وہ حریم کو غصے سے کہتی ہوئی وہاں سے چلی گئی جبکہ حریم شاویز کو گھورتی ہوئی واپس اپنی کلاس میں چلی گئی

“اففف ناراض ہوگئی اب منانا پڑے گا۔۔۔”

ابھی وہ اس کے پیچھے جاتا جب تعبیر کی کال آنے لگی وہ وہیں کھڑا باتوں میں مصروف ہوگیا

“اب تک نہیں آیا۔۔۔”

وہ جو اس کے منانے کے انتظار میں تھی اسے وہاں نہ دیکھ کر غصے سے منہ بنا گئی اور میوزک ان کر کے اپنا غصہ کم کرنے لگی

“عشق والا لوو۔۔۔”

ایک گہری سانس چھوڑتے ہوئے اس کے چہرے کے تاثرات ڈھیلے پڑھنے لگے ہؤا میں ہاتھ گھمائے وہ آنکھیں بند کئے اپنی ہی دنیا میں جھومنے لگی

”میری نیند جیسی پہلی بار ٹوٹی ہے

آنکھیں مل کے میں دیکھی ہے صبح”

”ہوئی دھوپ زیادہ لے کے تیری روشنی

دن چڑھا چڑھا چڑھا۔۔۔“

حریم نے گھومتے ہوئے ایک مخصوص قسم کا اسٹیپ ادا کیا جبکہ اب اس کے چہرے پر صرف مسکراہٹ تھی غصہ تو دور دور تک دکھائی ہی نہیں دے رہا تھا

”عشق والا لوو“

وہ جیسے ہی اندر آیا اسے خود میں مگن ڈانس کرتا پایا ایک حسین سی مسکراہٹ اس کے چہرے کو چھونے لگی تھی جیسے ہی حریم کی نظر دروازے پر گئی وہ اچانک سے سیدھی کھڑی ہوگئی جبکہ وہ چلتا ہوا اس کی جانب بڑھا

”عشق والا لوو۔۔۔”

ابھی وہ میوزک آف کرتی جب شاویز نے اس کا اسپیکر تک بڑھتا ہوا ہاتھ تھاما اور گھماتے ہوئے اسے اپنی جانب کھینچا وہ اچانک سے اس کے فولادی سینے سے جا ٹکرائی وہ آنکھیں پھاڑ پھاڑ کر اسے دیکھ رہی تھی جو اس کے ساتھ ڈانس کر رہا تھا

”جھانکے بادلوں کی جالی کے پیچے سے

کرے چاندنی یہ مجھکو اطلاع۔۔۔“

حریم کی کمر پر ہاتھ رکھ کر اس نے ایک اسٹیپ ادا کیا اور اب وہ اس کا ہاتھ پکڑے اسے گھما رہا تھا جبکہ وہ اسی کو دیکھ رہی تھی

”لے کے نور سارہ چندا میرا یہیں پہ

ہے چھپا چھپا ہوا۔۔۔ عشق والا لوو“

اب وہ منظر کچھ ہوں تھا کہ حریم کا ایک ہاتھ شاویز کے کندھے پہ جبکہ دوسرا ہاتھ شاویز کے ہاتھ میں تھا جبکہ شاویز نے ایک ہاتھ اس کی کمر کے گرد رکھا ہوا تھا اور وہ لوگ اب سوفٹ ڈانس میں مصروف تھے

جیسے ہی میوزک ختم ہوا حریم اس سے دور ہوئی جبکہ شاویز اسے کان پکڑ کر سوری کرنے لگا جس پر بے ساختہ اس کی ہنسی نکلی

“سب ہنس بعد میں لینا میڈم مجھے واپس جاب پر بھی جانا ہے۔۔۔ اگر غصہ ٹھنڈا ہوگیا ہو تو اب چلیں؟؟”

شاویز نے اس کے رخساروں کو کھینچتے ہوئے کہا جس پر وہ مسکراتے ہوئے اثبات میں سر ہلائے اس کا کندھا تھام کر باہر کی جانب بڑھ گئی

“اب تم بچ جاؤ حریم بی بی۔۔۔”

وہ انہیں ہاتھ میں ہاتھ ڈالے جاتا دیکھ کر شیطانی مسکراہٹ لئے وہاں سے چلی گئی

وہ لوگ ریسٹورنٹ سے لنچ مکمل کر کے گھر کے جانب بڑھ گئے شاویز نے حریم کو اس کے گھر کے سامنے چھوڑنے کے غرض سے بائیک آگے بڑھائی مگر حریم کے یہ کہنے پر کہ ‘شادی سے پہلے لڑکا لڑکی ساتھ نہیں جا سکتے کسی نے دیکھ لیا تو سب برا سمجھیں گے’

شاویز نے گاڑی گھر سے دور روکی تھی وہ اسے سی آف کرتا ہوا وہاں سے چلا گیا جبکہ وہ چلتی ہوئی گھر کی جانب جارہی تھی کیونکہ یہ راستہ تھوڑا سنسان تھا اس لئے وہاں کوئی موجود نہ تھا

“ابے وہ دیکھ۔۔۔ یہی لڑکی ہے نہ؟؟”

ایک ہائی رف اطراف میں گھنے درخت کے پیچھے کھڑی ہوئی تھی جن میں موجود لڑکے لفنگے ہی معلوم ہورہے تھے ان میں سے ایک نے آنکھیں چھوٹی کرتے ہوئے اشارہ کیا

“ابے تیری آنکھیں خراب ہیں یا یاداشت؟؟ سالے یہ وہی لڑکی ہے جس کا پیچھا کرتے ہوئے ہم یہاں تک آئے تھے۔۔۔ اندھے۔۔۔”

دوسرے لڑکے نے گٹکا منہ میں دبائے پہلے والے کے سر پر چپت لگائی جس پر وہ خفگی سے اسے دیکھنے لگا

“ابے تو نے مجھے ہاتھ کیسے لگایا ہاں؟؟”

وہ بھڑکتے ہوئے بولا جبکہ باقی کے دو لڑکوں نے سر پکڑ لیا تھا

“ابے الو کے پٹھوں اب یہی بیٹھے بیٹھے آپس میں منہ ماری کرنی ہے یا اسے پکڑنا بھی ہے؟؟”

تیسرے لڑکے کی بات پر باقی کے دو لڑکوں کی زبان کو بریک لگا

وہ چاروں اچھل کر ہائی رف سے باہر آئے اور حریم کا راستہ روکا وہ اچانک سے ایسے عجیب و غریب شکل اور حلیے والے لوگوں کو اپنے فرد جمع ہوتا دیکھ کر ڈری تھی

“کدھر جارہی ہو میڈم۔۔۔ ہمارے ساتھ چلو گی کیا۔۔۔”

ایک لڑکے نے کالر کھڑے کرتے ہوئے دانتوں کی نمائش کی جس پر سب لڑکے اپنے بالوں کو ٹھیک کرنے لگے

“یہ کیا بدتمیزی ہے۔۔۔ ہٹو سامنے سے!!!”

اس نے ان کی اس ناقابلِ گفتگو پر سخت لہجے میں کہا

“او ہو بڑی شیرنی بن رہی ہے۔۔۔ دیکھ لڑکی یہ نخرے اور غصہ تُو اپنے کالج والوں کو دکھانا۔۔۔ ہم لڑکے ہیں تھوڑے سر پھرے۔۔۔ ہمیں صرف بگاڑنا آتا ہے۔۔۔ سمجھی کیا!!!”

ابھی ان میں سے ایک لڑکا آگے بڑھتا کہ کوئی اچانک تیز رفتار میں حریم کے سامنے آکھڑا ہوا وہ سوالیہ نظروں سے چونک کر اسے دیکھنے لگے جبکہ حریم بھی حیران تھی اس نقاب پوش پر جس کی پشت کافی ورزی معلوم ہورہی تھی اور سر ہڈی میں چھپا ہوا تھا

“اور میں ہوں تم جیسے سر پھروں کا باپ۔۔۔ مجھے بگڑے ہوئے کو سدھارنا آتا ہے سمجھا کیا!!!”

وہ دھیمے مگر سخت لہجے میں کہنے لگا جبکہ اس کے ہاتھ کے اشارے پر ایک لڑکا آگے آیا اور اس پر حملہ آور ہوا جسے وہ پل بھر میں اٹھا کر دور پٹخ چکا تھا

“ابے بھولے دیکھ کیا رہا ہے؟؟ حملہ کر اس ہیرو پر!!!”

دوسرے لڑکے نے اپنے عقب میں کھڑے کانپتے لڑکے کو دیکھ کر حکم دیا جس پر وہ گھبراتا ہوا آگے بڑھا جسے اس نقاب پوش نے مکوں سے لال کردیا تھا اب وہ بھی کچھ قدم کے فاصلے پر پڑا تڑپ رہا تھا

“جا۔۔۔”

اس ہی لڑکے نے پھر سے حکم دیا جبکہ اب اس کے علاؤہ صرف ایک ہی لڑکا بچا تھا

“جا بے سب کو بھیجا جارہا ہے خود بھی تو آگے بڑھ۔۔۔”

اس لڑکے نے تپتے ہوئے کہا جس پر وہ اسے آنکھیں دکھانے لگا

“سالے میرے ٹکڑوں پر پلنے والے مجھے ہی حکم سنا رہا ہے تو!!! اب مجھ پر حکم چلائے گا کیا تو؟؟ ہاں!!!”

اس لڑکے نے دوسرے والے کا گریبان پکڑا اب ان میں آپس میں ہی تکرار چل رہی تھی جس پر اس نقاب پوش نے دونوں ہاتھ لپیٹے انہیں بیزاری سے دیکھا پھر اپنے ہاتھ میں موجود گھڑی میں وقت دیکھنے لگا

“لسن تم لوگ جلدی ڈیسائڈ کرو پہلے کس نے پٹنا ہے؟؟ مجھے اور بھی کام ہیں ویلہ نہیں ہوں میں۔۔۔”

اس نقاب پوش نے انگڑائی لیتے ہوئے کہا جبکہ حریم اس عجیب و غریب قسم کی گفتگو کرنے والے شخص کی پشت کو گھور رہی تھی آخر کون تھا وہ شخص اس کی بات پر دوسرے والے لڑکے نے اپنے بوس کو آگے دھکیلا اور خود دور کھڑا ہوگیا

تقریباً چند سیکنڈ میں اس نقاب پوش نے ان کے بوس کی بھی درگت بنا دی تھی جسے دیکھ کر وہ ڈرا سہما لڑکا دو سو کی اسپیڈ پر بھاگا تھا

“تھنکیو سو مچ۔۔۔”

حریم نے اس نقاب پوش کو پشت سے دیکھتے ہوئے کہا

جس پر وہ پلٹا اور رومال نکال کر اس کے منہ پر رکھا وہ مزاحمت کر رہی تھی مگر اس کا فولادی ہاتھ پورے زور سے اپنا کام کر رہا تھا جسے کچھ دیر پہلے وہ محافظ سمجھ رہی تھی اب وہی شخص اسے کس بے دردی سے گود میں اٹھائے درخت کے پیچھے لے گیا تھا

جاری ہے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *