Lams e Junooniyat by Areesha Khan NovelR50533

Lams e Junooniyat by Areesha Khan NovelR50533 Last updated: 17 February 2026

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Lams e Junooniyat by Areesha Khan

وہ یونیورسٹی سے آکر بس ان ہی سوچوں میں تھا کہ آخر وہ کیا کرے حریم کے الفاظ اس کے سماعتوں میں اب بھی گونج رہے تھے وہ بار بار یہی سوچ رہا تھا کہ آخر کسی کو تحفہ دینے کے لیے سوچنا کیوں ضروری ہوتا ہے اسے کچھ سمجھ نہیں آرہا تھا کیا اس نے حریم کو یہ کتاب دے کر کوئی غلطی کی تھی؟؟
"مگر اس دن حریم خود اس کتاب کو ہی ڈھونڈ رہی تھی اور جب اب میں نے اسے یہ دے دی تو اس نے ایسا ری ایکٹ کیوں کیا میرے ساتھ؟؟"
وہ سوچوں میں گم تھا جب اس کے کمرے کا دروازہ کھلا اور بابا جان ویل چیئر پر موجود اندر داخل ہوئے
"بابا جان آپ؟؟ کوئی کام تھا تو مجھے آواز دے دیتے"
وہ اس بات سے انجان کے وہ کتاب اب بھی اس کے ہاتھ میں تھی بابا جان اسے گھورنے لگے جبکہ ابھی کتاب پر نظر گئی بھی نہیں تھی
"کیوں؟؟ میرا یہاں آنا منع ہے؟؟ یا مجھے اجازت لے کر آنا چاہیے تھا؟؟"
بابا جان کی بات پر شاویز اپنے الفاظوں پر بچھتایا
"ایسی بات نہیں ہے بابا جان میں نے تو ایسی ہی کہہ دیا"
وہ نظریں چراتا ہوا منہ بنا گیا جبکہ افتخار صاحب اس کے صوفے پر بکھرے سامان کو دیکھ رہے تھے
"بڑا کتب بازار لگایا ہوا ہے، پڑھائی کر بھی رہے ہو یا بس ایسے ہی نام کے لئے یونیورسٹی جا کر بہن کا خرچہ کروا رہے ہو؟؟"
ہر بار کی طرح ان کا لہجہ آج بھی سخت اور تنزیہ تھا جس پر شاویز ان کی طرف بیچارگی سے دیکھنے لگا
"بابا جان کیا ہوگیا آپ کیوں ہر وقت خفہ رہتے ہیں میں الحمدللہ پڑھنے ہی تو جارہا ہوں"
شاویز نے باقاعدہ رونے والا منہ بناتے ہوئے کہا جس پر افتخار صاحب اسے گھور کر رہ گئے مگر جب اس کے ہاتھ میں پکڑی کتاب پر نظر گئی تو جیسے وہ ساخت ہوگئے ہوں
"اچھا؟؟ تو یہ پڑھائی ہو رہی ہے؟؟"
ابھی شاویز کچھ سمجھتا جب اس کی نظر اپنے ہاتھ میں پکڑی کتاب پر گئی
"Secret of love"
اب شاویز آنکھیں پھاڑتے ہوئے سامنے بیٹھے بابا جان کو دیکھ رہا تھا اسے نہیں پتا تھا اس کے ساتھ کیا ہونے والا ہے
"بابا…"
"چپ کر بابا کے بچے، یہ پڑھائی ہو رہے ہے وہاں ہاں؟؟ محبتوں کے راز جاننے کے لیے یونیورسٹی جایا جارہا ہے؟؟ اگر واقعی تجھے محبتوں کے ہی راز جاننے تھے تو بیٹا مجھے پہلے ہی بتا دیتا میں تعبیر کو منع کردیتا کہ اس گدھے کو یونیورسٹی نہ لگاؤ بس اس کا ایک ہاتھ میرے ہاتھ میں دے دو پھر دیکھو کیسے بتاتا ہوں میں محبتوں کے راز اسے"
افتخار صاحب ٹھیک ٹھاک والے آگ بگولہ ہو چکے تھے اور اس بار تو تعبیر بھی گھر پر نہیں تھی اگر وہ ویل چیئر سے اٹھ سکتے تو کب کا اس کی ہڈی پسلی ایک کر چکے ہوتے
"بابا جان یہ میری نہیں ہے سچ میں"
شاویز شرم سے پانی ہوئے جارہا تھا وہ جلدی سے اس کتاب کو اپنے بیگ میں رکھ کر بابا جان کے قدموں میں آ بیٹھا
"تیری نہیں ہے تو پھر کس کی ہے؟؟ میری ہے؟؟"
"نن نہیں نہ بابا جان، یہ میرے دوست کی ہے اس نے دی ہے"
"دوست کی؟؟ جہاں تک مجھے پتا ہے تیرا کوئی دوست ہی نہیں"
بابا جان بھی شاویز کا ٹھیک والا امتحان لے رہے تھے شاویز بہانے پر بہانا بنائے جارہا تھا
"بابا جان آپ نہیں جانتے نہ اسے، وہ یونیورسٹی کا دوست ہے"
"اوہ اچھا؟؟ اور کب بنا یونیورسٹی میں دوست؟؟"
"بابا جان بن گیا تھا دوست پہلے دن ہی"
وہ سر کھجاتے ہوئے کہنے لگا جس پر بابا جان اسے جانچتی نظروں سے دیکھنے لگے
"اچھا؟؟ اور اس بے شرم دوست نے یہ کتاب تمہیں دی ہے؟؟ بھلہ کیوں؟؟ یہ وہ تمہیں کیوں دے گا ہاں؟؟ مطلب بھی پتا ہے اسکا؟؟"
"وہ…وہ… نہیں پتا"
وہ منہ بناتے ہوئے نظریں جھکا گیا
"گدھے کے گدھے ہی رہوگے، یہ کتاب اسے واپس کرو اور اسے کہو جاکے اپنی شادی کے بعد اپنی بیوی کو گفٹ کرے، اور خبردار جو آج کے بعد ایسے بے شرم لوگوں سے دوستی رکھی تو"
افتخار صاحب کی بات پر وہ جلدی سے اثبات میں سر ہلاتے ہوئے واپس اپنے صوفے پر جا بیٹھا جبکہ افتخار صاحب اسے آنکھیں دکھاتے ہوئے وہاں سے چلے گئے جیسے ہی وہ کمرے سے نکلے وہ جلدی سے اس کتاب کو نکال کر پڑنے لگا
"پڑھنا ضروری ہے؟؟"
ایک بار پھر افتخار صاحب کی آواز آئی جس پر وہ کانپتے ہوئے باہر کی طرف دیکھنے لگا جہاں وہ باہر سے اسے غصے سے گھور رہے تھے
شاویز نے اپنے چہرے پر آئے پسینے کو صاف کرتے ہوئے اس کتاب کو واپس بیگ میں رکھ دیا جسے دیکھ کر افتخار صاحب اب جا چکے تھے
"اففف کیا ہے اس کتاب میں؟؟ حریم اسے تلاش کر رہی تھی جب میں نے اسے دی تو منہ پر مار گئی اور اب بابا جان پڑھنے بھی نہیں دے رہے نہ رکھنے دے رہے ہیں پاس، بھلہ ایسا بھی کیا راز ہے اس کتاب میں"
وہ خود کلامی کرتا ہوا اپنا بیگ سمیٹ کر ٹیبل پر رکھنے لگا
"لیکن میں بھی جان کر ہی رہوں گا کہ آخر کیا راز ہے اس کتاب میں"
وہ واپس اپنے صوفے پر آ لیٹا اب وہ موبائل میں گوگل پر سرچ کرنے میں مصروف تھا یقیناً وہ اپنا تجسّس ختم کرنا چاہتا تھا

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *