Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Lams e Junooniyat (Episode 12)

Lams e Junooniyat by Areesha Khan

“تم نے یہاں مجھے پڑھنے کے لیے بلایا ہے؟؟ اگر پڑھنا ہی ہوتا تو میں گھر پر نہ پڑھ لیتی؟؟”

ضوریز نے ائیزل کی بک میں مارک کرنا شروع کئے جس پر وہ اسے دیکھنے لگی

“پڑھنا تو پڑے گا، اور ویسے بھی میڈم میں آپ کو دوسرے سبجیکٹ میں چیٹنگ کروا سکتا ہوں لیکن میتھ میں آپ کو پریکٹس کرنی پڑے گی”

ائیزل کا دماغ گھوم گیا اس نے منہ بناتے ہوئے ضوریز کو دیکھا اور پھر باقی کے سارے کلاس فیلوز کو جو بلکل پرسکون انداز میں بیٹھے پڑھائی کر رہے تھے یہ وہی لوگ تھے جو یونیورسٹی میں پڑھانے کے بجائے کاغذ کے جہاز بنا بنا کر پھینکا کرتے تھے

“رہنے دو مجھے نہیں کرنی کوئی پریکٹس”

ائیزل نے اپنے بک اس کے ہاتھ سے کھینچی اور اٹھنے لگی جب ضوریز نا سمجھی سے اسے دیکھنے لگا وہ غصے سے اس کمرے سے باہر آئی ابھی وہ مین گیٹ سے باہر نکلتی جب ضوریز نے اسے ہاتھ پکڑ کر روکا

“تمہارا پرابلم کیا ہے؟؟”

“ہاتھ چھوڑو میرا”

“نہیں چھوڑوں گا…”

اس بار ضوریز کے تاثرات بھی سخت ہوگئے تھے جس پر ائیزل کا چہرہ بے تاثر ہوا

“میں نے تم سے اس لئے ہیلپ نہیں مانگی تھی کہ مجھے یہاں بھی آکر پڑھنا پڑے میں کوئی پاگل نہیں ہوں جو ایک دن میں پوری بک کی ایکسرسائز کی پریکٹس کرلوں گی ہٹو دور”

ابھی وہ اسے دور دھکا دیتی جب ضوریز کی گرفت اس کے ہاتھ پر مظبوط ہونے لگی ضوریز نے غصے سے اسے دیوار سے لگایا اور اس کے بے حد قریب ہوا

“ضض ضوریز…”

آج بھی وہ اس کی کلون کی خوشبو سے دو چار ہورہا تھا ائیزل اسے اپنے اتنے قریب دیکھ کر گھبراہٹ کا شکار ہونے لگی ضوریز اپنی گہری کالی آنکھوں سے اس کا جائزہ لے رہا تھا

بلیک جینز وائٹ شرٹ جس کے اوپر بلیک ہی اپر تھا اس کی دودھیا رنگت پر کالا رنگ جچ رہا تھا ضوریز کو اس کے کلون کی خوشبو مدہوش کرنے لگی تھی وہ اس کی گردن پر جھکا تھا اس کی مدھم سی خوشبو کو محسوس کرتے ہوئے وہ اپنی سانسوں میں اتار رہا تھا

مگر وہ جس کا دماغ ہی کام کرنا چھوڑ چکا تھا یوں ہی ساخت کھڑی آنکھیں بند کر گئی تھی

“کنٹرول یور سیلف ریز”

وہ سرگوشی کرنے لگا جب ائیزل نے آنکھیں کھولیں

“Push me”

ائیزل کو لگا اس نے غلط سنا ہو جیسے

“I said push me”

ضوریز کے کہنے کی دیر تھی جب ائیزل نے اسے خود سے دور دھکا دیا تو وہ دو تین قدم دور ہوا ائیزل اس کے دور ہوتے ہی جلدی سے سنبھلنے لگی

“بات سنو میڈم، جن سوالوں کی میں پریکٹس کروا رہا ہوں مجھے سو فیصد یقین ہے وہی سوال کل صبح پیپر میں آنے والے ہیں، بہتر ہوگا کچھ سوچ سمجھ کر یہاں قدم باہر رکھنا بعد میں مجھے کچھ مت کہنا”

وہ اپنے جذباتوں پر قابو پاتا ہوا واپس اندر والے کمرے میں چلا گیا جبکہ وہ اب تک وہیں ساخت کھڑی ہوئی تھی

☆★☆★☆★☆

وہ اپنے روم میں موجود پڑھائی میں مصروف تھا مگر اسے رہ رہ کر حریم کا خیال آرہا تھا وہ آج کمرے میں اکیلا تھا کیونکہ تعبیر جا چکی تھی تبھی بابا جان تعبیر کے کمرے سو رہے تھے پہلے وہ اپنے کمرے میں ادھر سے اُدھر ٹہلنے لگا پھر مجبور آکر کمرے سے باہر آیا

جب دوسرے کمرے میں گیا تو وہاں بابا جان گہری نیند سو چکے تھے شاویز نے اپنی جیب سے موبائل نکالا تو گیارہ بجے کا وقت ہورہا تھا اور ہر بار کی طرح آج بھی ڈھیر ساری کالز اور میسجز لگے ہوئے تھے جنہیں وہ اگنور کر گیا

“کیا کروں، نیند بھی نہیں آرہی”

اس نے کچھ سوچتے ہوئے تعبیر کو کال لگائی کیونکہ ان کی طرف سے ابھی تک کوئی اطلاع نہیں ملی تھی

“اسلام و علیکم آپی… کیسی ہیں آپ؟؟”

“میں ٹھیک شیزی تم کیسے ہو بابا جان کیسے ہیں؟؟”

“آپی سب ٹھیک ہیں”

شاویز نے منہ بناتے ہوئے کہا

“کیا ہوا شیزی؟؟ سب ٹھیک تو ہے نہ؟؟”

“کچھ نہیں ہوا آپی… بس آپ کے بنا گھر اتنا سونا سونا لگ رہا ہے”

شاویز نے اداس لہجے میں کہا

“اففف تو سوجاؤ اب تک کیوں جاگ رہے ہو جو تمہیں میری کمی محسوس ہورہی ہے؟؟”

“آپی بات سونے یا جاگنے کی نہیں، بس اکیلا پن محسوس ہورہا ہے”

“تو اپنے کسی کلاس فیلو سے بات کرلو…ٹائم پاس ہو جائے گا”

حسبِ عادت تعبیر نے نرمی سے کہا جس پر شاویز نے ایک ٹھنڈی سانس لی

“آپی میں نے اب تک کوئی فرینڈ نہیں بنایا تو کس سے بات کروں کلاس فیلوز کو تو میں ٹھیک سے جانتا بھی نہیں ہوں”

شاویز نے بالوں میں ہاتھ پھیرتے ہوئے کہا جس پر تعبیر نے بھی گہری سانس لی

“جبھی کہتی ہوں کم از کم ایک دو دوست تو بنالو، کب تک یوں اکیلے اکیلے رہو گے، دوست وغیرہ ہوں گے تو تمہارا دل بھی لگا رہے گا”

“آپی آپ نے ہی تو کہا تھا کہ دوست غلط عادتیں سکھا دیتے ہیں”

وہ جھٹ سے کہنے لگا

“میں نے یہ تو نہیں کہا تھا کہ ہر ایک ایسا ہوتا ہے، تم اپنی کلاس میں آس پاس نظریں دوڑاوں دیکھو کون کیسا ہے تمہیں پہچان ہو جائے گی”

“جی آپی…”

“ہممم”

“ویسے آپی ایک بات کہوں”

“کہو”

“آپی مجھے ایک کلاس فیلو نے فرینڈ شپ کی آفر کی ہے”

تعبیر حیران ہوئی

“کیا سچ میں؟؟”

“جی ہاں اس نے دوستی کا ہاتھ بڑھایا اور میں نے انکار کردیا”

شاویز اداس لہجے میں کہنے لگا جس پر تعبیر کو تھوڑا سا برا لگا

“آپ نے غلط کیا شاویز جب کوئی نیک نیتی سے ہاتھ بڑھائے تو اسے ٹھکرایا نہیں کرتے”

“مگر آپی وہ…”

ابھی وہ کچھ کہتا مگر رکا وہ نہیں چاہتا تھا کہ حریم کے بارے میں تعبیر کو کچھ پتا چلے

“کیا ہوا کہو؟؟”

“آپی وہ مجھے کہنا یہ تھا کہ کیا میں اس سے دوستی کرلوں؟؟ مجھے اس کی نیت صاف لگتی ہے”

اس نے بات گھمائی مگر جھوٹ نہیں کہا

“بلکل، اگر وہ شخص واقعی اس لائق ہے تو تم اسے اپنا دوست بنالو”

“اوکے آپی میں کل ہی اس سے بات کروں گا”

“اوکے شیزی اپنا خیال رکھنا اور بابا کا بھی، ہم بس پہنچنے والے ہیں”

“اوکے آپی پہنچ کر انفارم کردیئے گا اللہ حافظ”

اب وہ واقعی سوچ رہا تھا اس کی دوستی قبول کرنے کا مگر کیسے وہ اسے کیسے مناتا کیونکہ اپنے کہے گئے الفاظوں پر وہ واپس پلٹ نہیں سکتا تھا مگر تب ہی اس کے دماغ میں ایک آئیڈیا آیا

وہ جلدی سے اپنے روم میں گیا بیگ سے بک نکال کر دیکھنے لگا یہ وہی بک تھی جو حریم لینے آئی تھی جب وہ اس سے مل کر واپس آیا تھا تو اس نے یہ بک خریدلی تھی

“حریم جی… میں سمجھ گیا آپ کو کیسے منانا ہے”

☆★☆★☆★☆

“دیکھو یہ بات دماغ میں سیف کرلو کہ اگر یہ اس کی جگہ لگا ہوا ہے تو اس کا فورمولا یہ ہوگا اگر اس والے نمبر کو چھیڑنے کی کوشش کی تو یاد رکھنا سوال میں الجھتی چلی جاؤ گی”

وہ اسے اپنے طریقے سے سمجھا رہا تھا ائیزل نے نوٹ کیا تھا کہ اس کا سمجھانے کا انداز بلکل عجیب سا تھا لیکن تھا بہت کام کا کیونکہ واقعی ائیزل کو پہلی بار میتھ پلے پڑھنے لگی تھی

“ٹھیک ہے ڈن، لیکن کیا تمہیں کنفرم ہے کہ یہی سوال کل پیپر میں آئیں گے آئی مین یہ تو کسی کو بھی پتا نہیں ہوتا، پولیس بھی پروفیسرز کے پیچھے لگی رہتی ہے کہ کہیں وہ پیپرز آؤٹ نہ کردیں پھر تمہیں یہ سب کیسے پتا چلا؟؟”

ائیزل یہی سوال دوپہر سے اب تک کوئی تیسری بار تو کر چکی تھی جس پر ضوریز نے ایک ٹھنڈی سانس لی

“تم آم کھاؤ گٹھلیاں نہ گنو سمجھیں، اور چلو اب بہت پڑھ لیا اب انہیں بیگ میں رکھو اور اپنا حلیہ درست کرو”

وہ بھی ضوریز تھا بھلہ وہ کیوں اسے سیکریٹ بتاتا کہ کس طرح اس نے اتنے خوفیہ طریقے سے یہ سب معلوم کی تھا جبکہ ائیزل حلیے والی بات پر جلدی سے اپنے بالوں کو ٹھیک کرنے لگی کیونکہ باقی سب تو جا چکے تھے اس لئے اب وہ دونوں ہی اکیلے موجود تھے

“ایسے نہیں میڈم… فیس واش کرو جاکر”

“فیس واش؟؟ یہاں؟؟ یہاں یہ انتظام ہوگا ؟؟”

ائیزل نے ایبرو اچکاتے ہوئے پوچھا جس پر ضوریز آنکھیں چھوٹی کرتے ہوئے اسے گھورنے لگا

“تو تمہیں کیا لگتا ہے؟؟ میں یہاں جانوروں کی طرح رہ رہا ہوں؟؟”

“لگتا تو یہی ہے”

ائیزل نے اسے سرتا پیر دیکھتے ہوئے تنزیہ کہہ کر آنکھیں گھمائیں جس پر ضوریز نے اس کا بیگ سائیڈ پر رکھا اور اس کا ہاتھ پکڑ کر اپنے ساتھ لے جانے لگا

“ادھر آؤ میں تمہیں دکھاؤں…”

وہ اسے نچلے حصے میں لے جانے لگا سیڑھیاں اترتے ہی نیچے ایک ٹوٹا پھوٹا پلنگ رکھا ہوا تھا ساتھ ایک ٹوٹا ہوا ڈریسنگ جس کا شیشہ تقریباً گرنے کو ہی تھا

ایک طرف اندر کو ایک چھوٹا سا باتھ روم بنا ہوا تھا جبکہ کمرے ہی میں دوسری طرف ایک چھوٹا کچن بنا ہوا تھا وہ گھر کسی کباڑ خانے سے کم تو لگ ہی نہیں رہا تھا

“جاؤ اندر فیس واش کرلو”

ضوریز کے کہنے پر ائیزل ہلکے ہلکے قدم اٹھاتے ہوئے باتھ چلی گئی جہاں ایک چھوٹا واش بیسن بھی موجود تھا ائیزل نے نل کھول کر پانی اپنے منہ پر مارا اور جیب سے رومال نکال کر منہ صاف کرتے ہوئے باہر آنے لگی

اس کی نظر سامنے پڑھی جہاں وہ شیشے کے سامنے کھڑا ہوا اپنے بکھرے ہوئے بالوں کو انگلیوں سے درست کر رہا تھا وہ واقعی اس وقت اپنے اسٹائل سے ہیرو ہی لگ رہا تھا

“تم اپنے ان بالوں کو کٹوا کیوں نہیں لیتے؟؟”

ائیزل کے سوال پر اس نے یک طرفہ مسکراہٹ اچھالی اور بالوں کو شیشے میں دیکھنے لگا

“کیوں برے لگ رہے ہیں کیا؟؟”

“نہیں برے تو نہیں لگ رہے لیکن یہ جو ہر وقت جھاڑ بھوس کی طرح تمہارے منہ پر آرہے ہوتے ہیں نہ تو تم کوئی ملنگ ہی لگتے ہو”

ائیزل نے منہ بناتے ہوئے ہاتھ سے اشارہ کرتے ہوئے کہا جس پر وہ قہقہہ لگانے لگا

“ہماری اتنی اوقات کہاں کہ ہم ملنگ لگیں.”

“کیوں؟؟ ملنگ بننے کے لئے بھی کیا اوقات چاہئے ہوتی ہے؟؟ گلے میں لاکٹس پہن کر ہاتھوں میں نگ والی انگھوٹھیاں پہن کر فقیروں والے کالے اور ہرے کپڑے پہن کر بالوں کو بکھرا کر مزار ہی پر بیٹھنا ہوتا ہے… سمپل”

ائیزل نے بے تاثرات چہرہ لئے کہا جس پر وہ اسے سنجیدگی سے دیکھنے لگا

“تمہاری سوچ ہے یہ… در اصل حقیقت کچھ اور ہے”

“اوہ اچھا… تو بتاؤ کیا ہے حقیقت؟؟ میں ثکخھ غلط تو نہیں کہا ملنگ بننے کے لئے کونسا کسی ڈگری یا اسٹینڈرڈ کی ضرورت پڑھتی ہے”

“پڑتی ہے… ضرور پڑتی ہے، کون کیا جانے مزاروں پر موجود ملنگ دنیا جہاں کو بھلائے اپنے روگ کو لئے بیٹھے ہوتے ہیں، یہ حال وہ خود نہیں بناتے یہ حال ان کا خود بخود ہوجاتا ہے، اور رہی ڈگری کی بات تو ہاں ان کے پاس ڈگریاں ہوتی ہیں، بہت قسم کی ڈگریاں ہوتی ہیں جو ہر پڑے لکھے شخص کے پاس نہیں پائی جاتیں”

وہ حیران تھی وہ کس طرح اسے ایک ایک الفاظ یقین سے بتا رہا تھا جیسے وہ اس بارے میں بہت کچھ جانتا ہو جبکہ آخری والے الفاظ پر ائیزل نے سوالیہ نظروں سے اسے دیکھا جیسے جاننے کی منتظر ہو

“ان کے پاس عشق کی ڈگری ہوتی ہے سچے عشق کی، ان کے پاس وفا کی ڈگری ہوتی ہے درد دل کی ڈگری ہوتی ہے بے شمار آنسوؤں کی اذیتوں کی ڈگری ہوتی ہے بتاؤں کیا یہ ڈگری ہر پڑھے لکھے انسان کے پاس ہو سکتی ہے ؟؟”

ضوریز کی بات پر وہ خاموش رہی

“اور جہاں تک رہی اوقات کی بات تو بلکل اوقات چاہئے ہوتی ہے، کسی سے سچا عشق کرنا پڑھتا ہے محبوب کے دیئے لاکھ زخموں اذیتوں کو برداشت کرتے ہوئے بھی وفا کرنی پڑھتی ہے، صرف نامی محبت کرنے والے یہ اوقات نہیں رکھتے کہ وہ ملنگ بن جائیں”

ائیزل بلکل خاموش تھی جبکہ ضوریز اسے پوری بات سمجھا کر اب اوپر کی طرف جانے لگا تھا جب ائیزل اس سے مخاطب ہوئی

“تو تم کیوں ملنگ بنے ہوئے ہو؟؟ کیا تمہیں بھی کسی سے عشق ہوا ہے؟؟”

ائیزل کی بات پر اس کے قدم رکے وہ پلٹا

“ہؤا ہے یہ ہو رہا ہے یہ تو نہیں پتا لیکن اگر ہو گیا تو ملنگ بننے میں زیادہ دیر نہیں کروں گا”

وہ ایک قدم قریب آکر کہنے لگا جس پر ائیزل نے نظریں جھکائیں

“اچھا اب چلیں ؟؟”

“ہاں مجھے بہت لیٹ ہوگیا موبائل کی بیٹری بھی ڈاؤن ہے، اب تو حریم ٹھیک والی کلاس لے گی”

ائیزل نے فکرمندی سے کہا جس پر وہ مسکرانے لگا دونوں واپس اوپر کی سائڈ آئے وہ جیسے ہی باہر نکلی وہ بھی اس کے ساتھ ہی نکل گیا

“تم کہاں جارہے ہو؟؟ کار لے کر آئی ہوں”

“اچھی بات ہے میں تو بس گیٹ تک چھوڑنے آیا تھا”

وہ آنکھیں گھماتا ہوا اس کے پیچھے پیچھے چل دیا

“گڈ نائٹ…”

“ٹیک کیئر”

وہ مسکراتے ہوئے کہتی ہوئی گاڑی اسٹارٹ کر کے وہاں سے چلی گئی

☆★☆★☆★☆

وہ لوگ ایک ہوٹیل میں موجود تھے جہاں ان کے ساتھ جو ٹیم آئی تھی ان سب کے روم بک تھے تعبیر اور رائمہ نے ایک ہی روم میں اسٹئے کرنے کا کہا وہ لوگ بہت تھک گئے تھے وقت بھی کافی ہوگیا تھا ان لوگوں نے ہوٹل میں ہی ڈنر کیا جو ان کو ٹیم کی طرف سے دیا گیا تھا

تقریباً رات بھر وہ نجانے کیوں پریشان رہی کبھی ادھر تو کبھی ادھر کروٹ لیتی مگر صبح فجر کی اذانوں تک وہ جاگتی رہی شاید یہ انجان شہر میں آنے کی وجہ سے ہوا تھا

ابھی وہ نماز پڑھ کر فارغ ہوئی تھی جب اس کے پاس شاویز کی کال آنے لگی

“شیزی؟؟ وہ بھی اتنی صبح؟؟”

تعبیر نے ڈوپٹہ سر سے کھول کر کندھے پر لیا ایک نظر سوتی ہوئ رائمہ پر ڈالی جو دنیا جہاں سے بیگانی ہوکر اپنی نیندیں پوری کرنے میں مصروف تھی

“شیزی؟؟”

“اسلام و علیکم آپی کیسی ہیں آپ؟؟ مجھے پتا تھا آپ جاگ رہی ہوں گی”

“وعلیکم السلام ٹھیک اللّٰہ پاک کا شکر تم بتاؤ کیسے ہو اور بابا؟؟”

“آپی بابا آپ کو بہت یاد کر رہے ہیں… یہ لیں ان سے بات کریں، میں چلا ناشتہ بنانے”

وہ بچارگی سے کہتا ہوا افتخار صاحب کو موبائل پکڑا کر خود باورچی خانے چلا گیا

“اسلام و علیکم بابا جان کیسے ہیں آپ”

“وعلیکم السلام میں بلکل ٹھیک میری شہزادی کیسی ہے؟؟”

“جی بابا میں بھی ٹھیک”

“کسی چیز کی کوئی پریشانی تو نہیں ہے نہ؟؟”

“نہیں بابا یہاں سب کچھ موجود ہے اور آج سے کام بھی شروع کرنا ہے، آپ کی بہت یاد آرہی تھی”

تعبیر نے اداسی سے کہا جس پر وہ مسکرائے

“مجھے بھی اپنی شہزادی کی بہت یاد آرہی ہے…”

ابھی وہ لوگ باتیں کرنے میں مصروف تھے جب وہ کچن سے کھانے کی ٹرے لئے چار پائی پر آیا

“بابا جان آپ کا بریک فاسٹ ریڈی ہے لائیں موبائل مجھے دیں”

“شیزی تم بابا کا خیال تو کر رہے ہو نہ؟؟ انہیں تنگ تو نہیں کرتے نہ؟؟”

“اففف ہو آپی، کل ہی تو گئی ہیں آپ اور ایسے پوچھ رہی ہیں جیسے بہت سال ہوگئے اور ان سالوں میں میں نے بابا جان کو رچ کر تنگ کیا ہو”

شاویز نے منہ بناتے ہوئے کہا جس پر تعبیر اور افتخار صاحب ہنسنے لگے

“خیر چلو جاؤ اب تم بھی ناشتہ کرو پھر تمہاری یونی کا ٹائم ہو جائے گا”

“جی اوکے آپی میں آپ کو شام میں کال کروں گا اللّٰہ حافظ”

وہ فون بند کر کے وہیں بیڈ پر بیٹھ گئی اور رائمہ کے اٹھنے کا انتظار کرنے لگی مگر اس ہی دوران اسے بھی نیند لگ گئی

“تعبیر اٹھو…”

تقریباً دس بجے کا وقت تھا جب رائمہ کی آواز پر وہ اٹھ بیٹھی

“جلدی سے فیس واش کرو کپڑے چینج کرو ہمیں بریک فاسٹ کے بعد نکلنا بھی ہے”

رائمہ جو اس وقت بلکل تیار کھڑی اسے گھور رہی تھی تعبیر جلدی سے اٹھ بیٹھی اور نا سمجھی سے اسے دیکھنے لگی

“اب دیکھ کیا رہی ہو سینو… جاؤ یار”

وہ باتھ کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہنے لگی

“ہمیں کہاں جانا ہے؟؟”

“ہنی آئی تھی ابھی، اس کا کہنا ہے سر حاشر خانزادہ نے ہمیں آج اپنے اپارٹمنٹ پر بلایا ہے”

حاشر کا نام سن کر وہ بلکل ساخت ہوگئی

“مم مگر ہمیں کیوں بلایا انہوں نے؟؟”

“یار کیا ہوگیا؟؟ مت بھولو تم نے اپنی مرضی سے یہ کونٹریکٹ سائن کیا تھا، کام سے پہلے ظاہر سی بات ہے وہ ایک بار ہم سے ملنا چاہیں گے وہ ممکن ہے ہمیں جسے ٹیٹو بنانا ہو وہ اسٹارز بھی ان ہی کے ساتھ موجود ہوں”

رائمہ ایکسائٹڈ ہوکر کہنے لگی جس پر تعبیر اثبات میں سر ہلاتے ہوئے باتھ چلی گئی

تعبیر ویسے تو یہ کام صرف فی میلز کے لئے کرتی تھی کیونکہ لوگ ٹیٹو اپنی مرضی سے جسم کے الگ الگ حصوں پر بنوایا کرتے تھے جیسے کبھی گردن کبھی ہاتھ کبھی سینے پر تو کبھی پیٹھ پر

مگر اس بار ایک بڑے اسٹار نے جب اس کے وائرل ڈیزائینز دیکھے تھے تو اس نے ان برینڈ والوں کو کہا تھا کہ وہ اس کی شوٹنگ کے دوران ٹیٹو بنوائے گا وہ بھی اس ہی لڑکی سے تعبیر کو کسی میل ایکٹر کے لئے یہ کام کرنا بہت عجیب لگ رہا تھا کیونکہ وہ بہت بڑا اسٹار تھا اس لیے برینڈ والوں نے بہت مشکل سے تعبیر کو اس بات کے لیے راضی کیا تھا

☆★☆★☆★☆

وہ دونوں اس وقت یونیورسٹی میں تھیں کیونکہ آج ائیزل کا پہلا پیپر تھا اس لئے وہ اپنی کلاس میں تھیں لیکن حریم اپنی کلاس فیلو سے نوٹس لینے کے سلسلے میں یونی آئی تھی مگر بنا کوئی لیکچر اٹینڈ کرے وہ گارڈن میں بیٹھی تازی ہوا کھا رہی تھی

وہ پہلا لیکچر اٹینڈ کر کے جب باہر آیا تو جس کی اسے تلاش تھی وہ اسے نظر آ چکی تھی وہ ایسا لڑکا بلکل بھی نہیں تھا کہ کسی میں دلچسپی لے یا بے وجہ کسی سے بھی فرینک ہوجائے

مگر نجانے کیوں ہمیشہ ہی حریم کو دیکھ کر اس کے قدم آگے بڑھنے لگتے تھے وہ اس کا دل کرتا تھا اس چھوٹی سی لڑکی سے بات کرنے کا وہ چاہ کر بھی حریم کو اب اگنور نہیں کر پا رہا تھا کیونکہ وہ حریم کو دو بار روتے ہوئے دیکھ چکا تھا

اس نے آگے پیچھے دیکھا مگر آس پاس کوئی بھی انہیں نہیں دیکھ رہا تھا سب لوگ ہی اپنے گروپ میں گپ شپ میں مصروف تھے وہ چلتا ہوا اس کے قریب آیا جہاں وہ گھاس پر آنکھیں بند کئے بیٹھی تھی

“حریم جی…”

شاویز کی میٹھی سی دھیمی سی آواز جب اس کے سماعتوں سے ٹکرائی تو وہ اسے دیکھے بنا نہ رہ سکی، وہ بلیو ٹی شرٹ بلیک پینٹ میں موجود تھا جبکہ حسبِ عادت ایک ہاتھ میں گھڑی تھی وائٹ جوگرز پہنے ہوئے ترتیب سے بال بنائے ہوئے کھڑا وہ اسے ہی دیکھ رہا تھا

حریم جلدی سے سیدھی ہوکر بیٹھی وہ اسے بہت حیرت سے دیکھنے لگی آخر وہ آج پھر سے وہاں کیوں آیا تھا

“کیسی ہیں آپ…”

حریم نے بنا کچھ کہے دوسری طرف رخ کیا جس پر شاویز نے سر جھکا لیا

“کیا میں آپ کے پاس بیٹھ سکتا ہوں؟؟”

“کیوں؟؟”

اسکے نرم لہجے میں کئے گئے سوال پر وہ سپاٹ لہجے میں کہنے لگی جس پر شاویز نے نظریں جھکائیں

“کیونکہ مجھے آپ سے بات کرنی ہے”

“کیا بات کرنی ہے؟؟ اب کیا بچا ہے بات کرنے کو؟؟”

حریم نے اپنے بیگ اٹھایا اور جانے لگی جب شاویز پھر سے بولا

“حریم جی اب آپ ضد کر رہی ہیں، مجھے آپ سے بات کرنی ہے آپ کیوں نہیں سمجھ رہیں”

“جب میں نے کہہ دیا مجھے تمہاری کوئی بات نہیں سننی تو پھر کیوں میرا راستہ روک رہے ہو ہاں؟؟”

حریم اسے آنکھیں دکھاتے ہوئے جیسے ہی اس کے برابر سے گزرنے لگی شاویز نے سختی سے اس کا ہاتھ پکڑا حریم مزاحمت کرتی مگر جب اس کی نظر شاویز پر گئی تو وہ اسے سخت تاثرات لئے گھور رہا تھا شاویز کا یہ روپ اس نے پہلے کبھی نہیں دیکھا تھا اسے وہ شاویز تو کہیں سے بھی نہیں لگ رہا تھا

“آپ کو میری بات ہر حال میں سننی پڑے گی”

شاویز نے سختی سے کہا جس پر حریم کچھ پل تو یوں ہی اس کی آنکھوں میں سخت تاثرات دیکھتی رہی پھر جلد ہی سنبھلی

“ہاتھ چھوڑو میرا تم ہوتے کون ہو میرے ساتھ زبردستی کرنے والے؟؟”

حریم کی یہ بات شاویز کی گرفت میں کمزوری کا باعث بنی تھی وہ واقعی یہ سوچ رہا تھا کہ وہ تو اس کا کچھ تھا ہی نہیں پھر کیسے وہ حریم پر زبردستی کر رہا تھا

“بتاؤ کون ہوتے ہو تم؟؟ کیا کوئی جاننے والے؟؟ یا کزن؟؟ یا دوست؟؟ یا پھر…”

ابھی وہ آگے کچھ کہتی مگر اچانک سے چپ ہوئی جس پر شاویز اسے دیکھنے لگا

“آئیندہ میرا راستہ مت روکنا اور نہ ہی مجھے چھونے کی کوشش کرنا تم سمجھے”

وہ بنا لحاظ کئے اپنی بات مکمل کر کے وہاں سے چلی گئی جبکہ وہ پیچھے کھڑا اسے جاتے دیکھتا رہ گیا شاویز نے ایک نظر اپنے ہاتھ کو دیکھا جسے وہ بے دردی سے جھٹک کر گئی تھی ایک درد بھری سانس کھینچتے ہوئے وہ وہاں سے گھر چلا گیا آفس سے اجازت لئے بنا۔

☆★☆★☆★☆

“تو آپ ہیں مس تعبیر علی… نام کی طرح آپ بھی کم نہیں”

ویسے تو وہ کبھی بھی کسی عام انسان کو منہ نہیں لگاتا تھا لیکن تعبیر کو دیکھ کر اس کے حواس باختہ ہوگئے تھے وہ یہ سوچنے پر مجبور ہوگیا تھا کہ آخر کوئی اتنا حسین کیسے ہو سکتا ہے

“جی شکریہ…”

تعبیر نے مختصر سا جواب دے کر گردن جھکائی جس پر حاشر خانزادہ بڑا حیران ہوا وہ کیسی لڑکی تھی نہ تو اس کی آنکھوں میں حاشر سے مل کر کوئی ایکسائٹمنٹ تھی نہ ہی اس کا انداز باقی کی لڑکیوں کی طرح تھا اور نہ ہی وہ باقیوں کی طرح ہنس ہنس کر اس سے پیش آرہی تھی

“خیر آپ مجھے ڈیزائن دکھا دیئے گا تاکہ میں آج شام ہی یہ کام مکمل کرلوں”

“آج شام؟؟ مگر آج شام کیسے… میرا مطلب ہم کل صبح آپ کے ہاں آجائیں گے اور یہ کام مکمل کردیں گے”

تعبیر اس کی بات پر چونکی تھی جس پر وہ بہت حیران ہوا تھا

“مس تعبیر علی آپ کہیں بھی نہیں جانے والیں آپ ہماری مہمان ہیں میں چاہتا ہوں آپ اپنی ٹیم کے ساتھ ہمارے سامنے والے اپارٹمنٹ پر ٹھہریں”

حاشر نے خوش دلی سے کہا جس پر تعبیر ہنی اور رائمہ کی طرف دیکھنے لگی جو اب تک حاشر کے سحر میں گم بیٹھی تھیں

“ویسے میں سوچ رہا ہوں جب تک میری بینڈج کھل نہیں جاتی میں کوئی ٹیٹو نہ بنواؤں… ایک دو دن میں جیسے ہی میرا پیر ٹھیک ہو گا میں یہ کام کروا لوں گا… تب تک آپ لوگ یہیں پر اسٹئے کریں گے…آپ کو کوئی پرابلم تو نہیں ہے مس ہنی؟؟”

آخری والے جملے میں وہ ہنی کی طرف متوجہ ہوا جس پر وہ چونکی

“جج جی… نو نو سر حاشر آپ کو جیسا ٹھیک لگے ہمیں منظور ہے”

ہنی کی بات پر وہ مسکرانے لگا وہ تھا تو ایسا کہ کوئی بھی لڑکی با آسانی اس کے سحر میں جکڑ جائے لیکن اس کا کردار اس کی شخصیت سے منفی تھا

“اوکے… سو میرا اسسٹنٹ آپ کو سامنے والا اپارٹمنٹ دکھا دے گا آپ لوگ آج ہی وہاں شفٹ ہو جائیں…”

“جی اوکے تھنکیو سو مچ سر”

ہنی نے مسکراتے ہوئے کہا جس پر وہ بھی مسکرایا مگر رائمہ اب تک حسرت بھری نگاہوں سے اسے دیکھ رہی تھی اسے تو یہ سب خواب لگ رہا تھا

“رائمہ؟؟ چلو…”

تعبیر نے جب رائمہ کو وہیں بیٹھے دیکھا تو دھیمی سی آواز میں کہنے لگی جو اب تک مسکراتے ہوئے حاشر کو ہی دیکھ رہی تھی اب ہوش میں آئی

“ہاں…ہاں چلو…کیوں نہیں بلکل چلو…”

وہ پاگلوں کی طرح کہتی ہوئی حاشر کو دیکھنے لگی جس پر حاشر مسکراتے ہوئے سوالیہ نظروں سے اسے دیکھنے لگا

“سر وہ مجھے آپ کے ساتھ ایک پکچر بنوانی تھی…”

رائمہ نے مسکراتے ہوئے کہا جس پر حاشر نے ہاں میں سر ہلایا تو وہ اپنا موبائل لئے اس کے برابر آ بیٹھی کیونکہ وہ ان فٹ تھا اس لئے ایک جگہ سے بار بار نہیں ہل سکتا تھا اس لئے رائمہ خود اس کے قریب ہو کر سیلفی لینے لگی

“تھنکیو سووو مچ حاشر سر…”

وہ حسرت سے کہتی ہوئی دانت دکھانے لگی

“رائمہ اب چلو بھی”

تعبیر نے پھر سے اسے ٹوکا جو حاشر کو بائے کرتے ہوئے مڑی تھی

“کیا پاگل ہوگئی ہو تم ہاں؟؟ یہ کیا حرکت تھی؟؟”

“کونسی حرکت بھئی؟؟ اتنا بڑا سیلیبریٹی بیٹھا ہم سے باتیں کر رہا تھا تمہیں ذرا بھی ایکسائٹمنٹ فیل نہیں ہوئی؟؟ کیا عجیب ہو یار تم”

رائمہ منہ بناتی ہوئی جاکر گاڑی میں بیٹھ گئی جبکہ تعبیر نفی میں سر ہلاتی ہوئی اس کے پیچھے ہی آنے لگی

☆★☆★☆★☆

“نہیں سر فلحال اس کا کوئی پلان نہیں ہے ابھی وہ اپنی ٹوٹی ہوئی ٹانگ لے کر بیٹھا ہوا ہے ہو سکتا ہو ہے کچھ دنوں میں ٹھیک ہو جائے، لیکن ممکن ہے کہ وہ شوٹنگ کے دوران کوئی الٹا کام یا سازش نہ کرے”

باضل کی بات پر آتش نے اثبات میں سر ہلایا

“گڈ تو تمہارے جاسوس نے مزید کوئی اور انفارمیشن نہیں دی؟؟”

“نہیں سر فلحال یہی انفارمیشن ہے کہ کراچی سے کسی برینڈ والوں کو بلایا ہے ٹیٹو بنوانے کے لیے… ویسے اس بندے نے اپارٹمنٹ کی کچھ پکس اور ویڈیوز بھی بھیجی ہیں اگر آپ چاہیں تو دیکھ سکتے ہیں شاید کوئی کام کی چیز نظر آجائے، یا اگر کبھی کیمرہ وغیرہ لگانا ہو تو “

“ویل…اوکے”

ابھی باضل کی بات مکمل بھی نہ ہوئی تھی جب آتش نے بیزاری سے کال کاٹ دی اور کش لگانے لگا کچھ ہی دیر میں اس کا موبائل بجنے لگا جب وہ واٹسپ پر گیا تو وہاں کچھ پکس اور ویڈیوز تھیں جنہیں بڑی بیزاری سے اسکرول کرتا ہوا وہ اسکرین کو تک رہا تھا

مگر اچانک سے اس کا ہاتھ رکا وہ بے یقینی سے اسکرین پر دیکھ رہا تھا جہاں تعبیر کی تصویر چمک رہی تھی شاید وہ اس ٹائم کی پکچر تھی جب وہ حاشر خانزادہ کے اپارٹمنٹ سے واپسی جاتے ہوئے باہر کی سیڑھیوں سے اتر رہی تھی

آتش نے پکچر کو زوم کیا تو واقعی وہ وہی لڑکی تھی

“تعبیر علی…حاشر خانزادہ کے اپارٹمنٹ پر…مگر کیوں؟؟”

آتش نے اس ہی وقت باضل کو کال لگائی جو ایک سیکنڈ میں اٹینڈ کرگیا

“یہ لڑکی یہاں کیا کر رہی ہے؟؟”

“کونسی لڑکی سر؟؟”

“تعبیر علی…”

باضل کو یاد آیا

“اوہ وہ… وہ لڑکی ٹیٹو میکر برینڈ والوں کی طرف سے یہاں آئی ہے کل شام”

آتش کو نجانے اس معصوم سی صورت والی لڑکی کا حاشر خانزادہ کے پاس کام کرنا کچھ عجیب لگا تھا

“یہ اس وقت کہاں رکی ہوئی ہے، یہ یہاں کیوں آئی ہے اور اس کا حاشر خانزادہ سے کیا تعلق ہے مجھے انفرمیشن چاہیئے ابھی”

وہ سخت لہجے سے کہتا ہوا کال بند کرگیا

☆★☆★☆★☆

“یاہوووووووووو فائینلی ہم جیت گئے”

یونیورسٹی سے واپسی میں کلاس کے تمام لڑکے اور لڑکیوں نے شور مچانا شروع کردیا تھا جبکہ ائیزل بھی آج بہت خوش تھی آج پہلی بار اسے پیپر دینے میں بہت مزہ آیا تھا

“چلو گائیززز ریز برو کے پاس چلتے ہیں…”

ان میں سے ایک لڑکے نے کہا جس پر ائیزل کے قدم رکے

“مگر وہاں کیوں؟؟”

“ائیزززز یار انہیں تھینکس کہنے آخر ان ہی کی وجہ سے آج ہمارا پیپر زندگی میں پہلی بار اچھا گیا ہے”

سب کلاس فیلوز ہی اس کی بات پر متفق تھے جبکہ ائیزل خاموشی سے اپنا بیگ لئے اپنی گاڑی میں آبیٹھی

“تین سو چالیس…تین سو …”

وہ اس وقت اپنے کھنڈر نما گھر میں موجود اپنے خستہ بیڈ پر رکا ہوا ایکسرسائز کر رہا تھا جب آدھے الفاظ اس کے منہ ہی میں رہ گئے

“میتھ میٹکس کا ایکسپرٹ کون؟؟ ضوریز ڈون ضوریز ڈون…”

وہ اپنے چہرے پر آتے بالوں کو ایک اسٹائل سے سنوارتا ہوا سیڑھیاں عبور کر کے اوپر کی طرف آیا اس نے جیسے ہی باہر کا دروازہ کھولا تمام اسٹوڈینٹس نے اس پر اسنو شاور کی بارش کردی جس سے نا صرف وہ بلکہ اسٹوڈینٹ خود بھی بھر چکے تھے

“میتھ میٹکس کا ایکسپرٹ کون؟؟ ضوریز ڈون ضوریز ڈون…میتھ میٹکس کا ایکسپرٹ کون؟؟ ضوریز ڈون ضوریز ڈون…”

ان سب نے پھر سے نعرہ لگایا جس پر ضوریز یک طرفہ مسکرانے لگا مگر اس کی نظریں دراصل کسی اور کی منتظر تھیں

“تھنکس تھنکس”

ضوریز نے ان سب سے کہا اور چلتا ہوا باہر آیا جب سامنے نظر پڑی تو ائیزل کھڑی اسے ہی دیکھ رہی تھی

“تھینکس تو ہمیں آپ کو کہنا تھا آپ کی وجہ سے ہمارا پیپر بہت اچھا ہوا ہے”

ان میں سے ایک لڑکے نے کہا جس پر ضوریز نے اس کے بالوں کو انگلیوں سے بکھارا

“That’s Great my boy”

وہ سب لوگ اس ہی کمرے میں آ چکے تھے جہاں ضوریز نے انہیں پڑھایا تھا سب لوگ ہی ضوریز سے ہاتھ اور گلے مل مل کر شکریہ ادا کر رہے تھے لیکن ائیزل بس خاموشی سے مسکرا رہی تھی یا شاید ان سب کی موجودگی میں وہ خود اس سے کچھ بھی کہنے سے گریز کر رہی تھی جبکہ دوسری طرف ضوریز کا بھی کچھ ایسا ہی حال تھا

“ضوریز بھائی میں تو آپ کا فین ہوگیا”

ایک لڑکے نے کہا جس پھر سب لوگوں نے “میں بھی میں بھی” کہنا شروع کردیا

“ضوریز بھائی اگر ہم آپ سے ایک اور ریکوئسٹ کریں تو کیا آپ ہماری بات مانیں گے”

“کہو لڑکے”

ضوریز نے پھر سے اس کے بالوں کو بکھراتے ہوئے کہا جس پر پہلے وہ مسکرانے لگا پھر بڑے احترام سے مخاطب ہوا

“ریز بھائی آپ ہمارے ساتھ پارٹی کریں گے؟؟”

اس چھوٹے سے لڑکے مگر بڑے پیار سے کہا تھا جس پر سب لوگوں نے ضوریز کو انسسٹ کیا جبکہ اب ضوریز ائیزل کو دیکھ رہا تھا

“پارٹی؟؟”

“جی ہاں ریز بھائی پارٹی… ویسے آج ہم بہت تھکے ہوئے ہیں کیوں نہ کل پارٹی رکھی جائے؟؟ ویسے بھی کونسا کل ہمارا کوئی پیپر ہے…”

اس کی بات پر سب نے شور مچانا شروع کردیا

“اچھا اچھا بس بھی کرو… ڈن… میں پارٹی میں ضرور آؤں گا”

ریز کی بات سن کر سب خوش ہوگئے جبکہ یہ بات اس نے ائیزل کو دیکھ کر کہی تھی کیونکہ ائیزل نے بھی اسے اشارے سے انسس کیا تھا

☆★☆★☆★☆

“اوفففف لڑکی تم کیوں بار بار مجھے کال کر کر کے تنگ کرتی ہو؟؟ کیا تمہیں کسی نے سکھایا نہیں کہ بار بار کسی لڑکے کو کال کر کے تنگ کرنا کتنی غلط بات ہے”

شاویز کی بات پر دوسری طرف سناٹا چھا گیا

“بات سنو میری… اگر اب تم نے مجھے ذرا بھی ڈسٹرب کیا تو میں تمہارے اس بڑی بڑی مونچھوں والے بھائی کو بتادوں گا سمجھیں نہ تم اب رکھو فون اسٹڈی کرنی ہے مجھے”

شاویز غصے سے کہتا ہوا کال ڈسکنیکٹ کر گیا وہ بچپن ہی سے اس سے دور رہتا تھا وہ اس وقت سے اس کے پیچھے تھی جب وہ لوگ گاؤں میں رہا کرتے تھے مگر پھر جب وہ شہر میں شفٹ ہوگئے تھے تو ان لوگوں نے اپنے تمام رشتے داروں سے تعلقات کم کردیے تھے

مگر وہ لڑکی آج تک شاویز کو نہیں بھولی تھی شاویز نے سر پکڑتے ہوئے لمبا سانس چھوڑا

“نجانے اس باؤلی لڑکی کو یہ کس نے کہہ دیا کہ میں اس جیسی جاہل لڑکی کو اپنی دلہن بناؤں گا، اگر بنانا ہی ہوا تو کسی ایجوکیٹڈ سی پیاری سی کیوٹ سی لڑکی کو اپنی مسز بناؤں گا جیسے حریم…”

وہ اپنی کتابیں نکالتے ہوئے اپنی کی دھن میں بک بک کرتے ہوئے کیا کہہ گیا اس بات کا احساس اسے اب ہورہا تھا یک دم اس کے ہاتھ سے کتاب چھوٹی

“حریم؟؟ اور میری دلہن؟؟ مگر یہ کیسے ممکن ہے؟؟ وہ تو مجھے اپنا دوست بنانا چاہتی ہے نہ…”

شاویز نے کچھ سوچتے ہوئے کہا جب اسے یاد آیا کہ حریم اسے پسندیدگی کی نگاہ سے دیکھتی تھی ورنہ وہ چاہتی تو اس کے آگے پیچھے اتنے لڑکے تھے کسی سے بھی دوسری کر لیتی مگر اس نے ایسا نہیں کیا تھا اسے شاویز ہی اس لائق لگا تھا جبھی تو اس نے کئی بار دوستی کا ہاتھ بڑھایا تھا جسے وہ بار بار ریجیکٹ کر چکا تھا

“توبہ توبہ میں بھی کن باتوں میں پڑھ گیا، مجھے تو کہوا بنانا تھا افففف اتنے کام…کاش میری شادی ہوجاتی تو یہ کام مجھے نہ کرنے پڑھتے”

وہ بڑبڑاتا ہوا کچن چلا گیا مگر جب کچن میں گھسا تو حیران رہ گیا

“ارے ارے یہ برتن تو میں دھو چکا تھا نہ…پھر یہ یہاں بیسن میں پڑے کیا کر رہے ہیں؟؟”

شاویز بے یقینی کے تاثرات لئے وہیں منہ پر ہاتھ رکھ کھڑا تھا جب اسے یاد آیا کہ جو برتن اس نے دن میں دھوئے تھے وہ صبح کے تھے اور یہ اب کے تھے جو اس کے منتظر تھے

جاری ہے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *