Lams e Junooniyat by Areesha Khan NovelR50533 Lams e Junooniyat (Episode 45)
Rate this Novel
Lams e Junooniyat (Episode 45)
Lams e Junooniyat by Areesha Khan
نجانے وہ کمرے میں کب سے بے ہوش پڑی تھی جب کاظم صاحب اس کے روم میں آئے تب اسے زمین پر گرا ہوا پایا تو ڈاکٹر کو کال کر کے بلایا جو کہ اب اس کا معائنہ کر رہا تھا ائیزل اب ہوش میں آ چکی تھی
“یہ میڈیسنز لکھ کر دے رہا ہوں۔۔۔ ایک ہفتے تک جاری رکھیں انشاللہ ٹھیک ہو جائیں گی۔۔۔ اور ان کا زیادہ سے زیادہ خیال رکھیں مجھے یہ کافی ڈسٹرب لگ رہی ہیں”
ڈاکٹر کے کہنے پر کاظم صاحب نے اثبات میں سر ہلایا اور انہیں باہر تک چھوڑنے چلے گئے۔۔۔ جبکہ ائیزل اب خاموشی سے لیٹی چھت کو گھور رہی تھی کیا تھی وہ کیا بنا دیا تھا سب نے اسے۔۔۔ کل رات جب وہ اس کے خواب میں آیا تھا کاش وہ خواب نہ ہوتا۔۔۔ تو کتنا اچھا ہوتا۔۔۔ بس یہی سوچ سوچ کر وہ ختم ہوئی جارہی تھی
“اب کیسا محسوس کر رہی ہو؟؟”
کاظم صاحب اس کے سرہانے آ بیٹھے اس کی پیشانی پر ہاتھ رکھ کر بڑھتے ہوئے بخار کی شدت محسوس کرنے لگے جس پر آہستگی سے ائیزل نے انہیں دیکھ کر اثبات میں سر ہلایا
“ائیزل۔۔۔ بیٹا دیکھو جو ہوا سو ہوا۔۔۔ میری بات مانو خود کو ریلیکس رکھنے کی کوشش کرو۔۔۔ دیکھو آگے جو کچھ ہوگا اچھا ہی ہوگا۔۔۔ پریشان ہونے سے کچھ بھی نہیں ہوتا۔۔۔ اپنے رب سے اپنے لئے بہتری مانگو۔۔۔”
کاظم صاحب نے انتہائی نرمی سے کہتے ہوئے اس کا ماتھا چوما جس پر وہ خاموش نظروں سے انہیں دیکھنے لگی بھلہ اب کیا بہتر ہونے والا تھا۔۔۔ سب کچھ تو برباد ہو چکا تھا۔۔۔ سب کچھ بگڑ چکا تھا اب بھلہ کس چیز کی امید لگاتی وہ۔۔۔
“ڈیڈ حریم۔۔۔”
وہ کچھ کہتے کہتے خاموش ہوئی تھی
“بیٹا اس کا جانا ہی بہتر تھا۔۔۔ اس کا بھائی اسے لے جانے خود نہیں آیا لیکن ڈرائیور بھیجا تھا۔۔۔ پہلے کی بات الگ تھی وہ اسے جانتی تک نہیں تھی مگر اب وہ سب جان چکی ہے وہ ساری حقیقت سے واقف ہے۔۔۔ پھر اس کا مزید یہاں رہنا اس کے بھائی کو مناسب نہ لگا تھا شاید۔۔۔”
کاظم صاحب نے اسے سمجھاتے ہوئے کہا
“ہممم۔۔۔ کل تک وہ بڑی خوشی سے میری شادی کی تیاریاں کر رہی تھی۔۔۔ اب جب وہ اتنے سال میرے ساتھ رہی ہے تو تھوڑا اور رک جاتی۔۔۔ اتنا تو برداشت کر ہی سکتی تھی نہ میں اسے۔۔۔”
ائیزل نے کڑوے لہجے میں کہتے ہوئے منہ پھیرا تھا
“ائیزل۔۔۔ بیٹا ایسے نہیں کہتے۔۔۔ دیکھو وہ معصوم تھی اسے کچھ بھی نہیں پتا تھا۔۔۔ اسے ابھی کچھ دنوں پہلے ہی حقیقت پتا چلی تھی۔۔۔ اس کا کوئی قصور نہیں۔۔۔”
کاظم صاحب نے سنجیدگی سے کہا جس پر وہ بھوویں اکھٹی کئے انہیں دیکھنے لگی
“پھر کس کا قصور ہے ڈیڈ؟؟ کون ہے اصل قصوروار؟؟ اسے نہیں پتا تھا لیکن آپ تو سب جانتے تھے نہ؟؟ اس کا بھائی تو سب جانتا تھا نہ؟؟ پھر کیوں حریم تک رسائی حاصل کرنے کے لیے اس نے مجھے مہرا بنایا؟؟ کیا میں کوئی کھلونا تھی؟؟ کیا یہ حیثیت تھی میری آپ سب کی نظر میں؟؟”
ائیزل کی آنکھیں پھر سے نم ہونے لگیں وہ جیسے انصاف مانگ رہی تھی آخر کیوں اس کے ساتھ ایسا کیا۔۔۔ آخر کیوں سب نے مل کر اسے توڑ کر رکھ دیا۔۔۔ آخر ایسا بھی کیا ہوگیا تھا کہ اسے مہرا بنایا گیا۔۔۔ کیا وہ انسان نہیں تھی؟؟ کیا اس کی کوئی فیلنگز نہیں تھیں؟؟ کاظم صاحب نے شرمندگی سے سر جھکا لیا۔۔۔
“ائیزل مجھے نہیں پتا تھا کہ ضوریز ہی وہ شخص ہے۔۔۔ جو تم سے رابطے میں ہے۔۔۔ مجھے بعد میں پتا چلا۔۔۔ اور جہاں تک بات ضوریز کی ہے میرا نہیں خیال کہ اس نے بھی یہ سب جان کر کیا ہوگا۔۔۔ دیکھو بیٹا کچھ سوالوں کے جواب وقت آنے پر ہی ملتے ہیں۔۔۔ تم صبر کرو تمہیں تمہارے ہر سوال کا جواب ملے گا۔۔۔”
کاظم صاحب نے سنجیدگی سے کہتے ہوئے اس کے آنسؤوں کو صاف کیا جس پر وہ خاموشی سے انہیں دیکھنے لگی۔۔۔ وہ اسے آرام کرنے کا کہہ کر وہاں سے جا چکے تھے جبکہ وہ یوں ہی ساخت لیٹی رہی
کافی دیر بعد جب نیند اسے دور دور تک محسوس نہ ہوئی تو وہ اٹھ بیٹھی بھوک کی شدت محسوس کرتے ہوئے وہ کچن کی جانب جانے لگی جب اس کی نظر کاظم صاحب پر گئی جو لان میں دوسری جانب رخ کئے کھڑے کسی سے بات کر رہے تھے
“ڈیڈ سے کہتی ہوں مجھے دوبارا سے آفس جوئن کرنا ہے۔۔۔ ایسے گھر میں پڑی رہوں گی تو سچ مچ بیمار پڑ جاؤں گی۔۔۔”
وہ جیسے ہی لان کی جانب بڑھنے لگی اچانک سے اس کے قدم رکے جب یہ آواز اس کی سماعتوں سے ٹکرائی
“ہاں ہاں حریم کرلو اپنے بھائی کی شادی کی تیاری۔۔۔ بھئی وقت بہت کم رہ گیا اور مقابلہ انتہائی سخت ہے۔۔۔”
کاظم صاحب جو اس وقت کھلکھلا کر ہنسنے میں مصروف تھے پیچھے کسی کی موجودگی محسوس کرتے ہوئے اچانک سے پلٹے اور وہیں ساخت رہ گئے
☆★☆★☆★☆
“تمہیں پتا ہے آتش میں جانتی تھی تم مجھے ضرور قبول کرو گے۔۔۔ تم مجھے خالی ہاتھ نہیں جانے دوگے۔۔۔ مجھے پتا تھا تم بھی مجھے پسند کرتے ہو۔۔۔ بس کہتے نہیں۔۔۔ لیکن کوئی بات نہیں محبت کا اظہار ہمیشہ لڑکا نہیں کرتا لڑکی بھی کر سکتی ہے۔۔۔”
کرن چاہت سے چور لہجے میں کہتی ہوئی جیسے ہی آتش کے لبوں کو قید کرنے کے غرض سے آگے بڑھی آتش نے ایک جھٹکے سے اسے خود سے دور دھکیلا اور اٹھ کھڑا ہوا
“آاتش۔۔۔”
وہ خود کو سنبھالتی ہوئی کھڑی ہوئی جب اس کی نظر آتش کے چہرے کے سرد تاثرات پر گئی وہ ایک پل کے لیے کانپ کر رہ گئی جب آتش نے آگے بڑھ کر اس کے بالوں کو مظبوطی سے جکڑا وہ سسکتی رہ گئی تھی
“آاتش۔۔۔ آآ آتش پلیزز چھوڑو مجھے۔۔۔ یہ۔۔۔ یہ کیا حرکت ہے؟؟”
کرن کی آنکھوں سے آنسوں رواں ہونے لگے مگر آتش کی گرفت مزید مظبوط ہونے لگی جس پر کرن نے ضبط سے آنکھیں مینچ لیں
“کیوں؟؟ درد ہورہا ہے؟؟ ہاں۔۔۔”
آتش نے اس کے بالوں کو جھنجھوڑتے ہوئے سرگوشی نما انداز میں کہا
“آتش۔۔۔ ان سب باتوں کا مطلب۔۔۔ کیا ہے آخر۔۔۔ کیوں کر رہے ہو۔۔۔ یہ سب تم۔۔۔ چھوڑو مجھے۔۔۔ کیا ہوگیا ہے تمہیں۔۔۔”
کرن نے بامشکل یہ الفاظ ادا کئے تھے جب آتش نے دوسرے ہاتھ سے اس کے جبڑے کو دبوچا
“تم نے شاید غور سے سنا نہیں میں نے کیا کہا۔۔۔ آتش درانی صرف بدلہ لینا جانتا ہے۔۔۔ مجھے پیار محبت سے کوئی غرض نہیں۔۔۔ تو تمہیں کیوں یہ لگا کہ میں تمہیں قبول کر لوں گا۔۔۔ سو کالڈ ہوٹنیس کی دکان۔۔۔ ہاں لیکن مجھے تعبیر سے عشق ہے۔۔۔ جو ہمیشہ رہے گا”
آتش نے گمبھیر لہجے میں کہتے ہوئے اس کے جبڑے کو ایک جھٹکے سے چھوڑا جس پر وہ نم آنکھیں لئے اسے دیکھنے لگی
“مطلب وہ سب۔۔۔ کیا تھا پھر۔۔۔ جو کچھ دیر پہلے تم نے مجھ سے کہا تھا۔۔۔”
کرن نے اپنے بالوں کو چھڑانے کی ناکام کوشش کرتے ہوئے کہا جس پر آتش نے اسے خود سے قریب کرتے ہوئے کان میں سرگوشی کی
“بدلہ۔۔۔”
ایک جھٹکے سے اس نے کرن کو دور دھکیلا جس سے وہ زمین پر جا گری اس کے ماتھے پر زخم سے خون رسنے لگا تھا
“میں جاننا چاہتا تھا کہ تم حاشر کے اشاروں پر ناچ رہی ہو یا یہ تمہاری خود کی سازش ہے۔۔۔ سو کیسی لگی میری ایکٹنگ؟؟ ڈیئر کرن بینز۔۔۔”
آتش یک طرفہ مسکراہٹ لئے تمسخرانہ انداز میں کہنے لگا جس پر وہ نفی میں سر ہلانے لگی
“تم میرے ساتھ ایسا نہیں کر سکتے آتش۔۔۔ تم آخر کس طرح مجھے ٹھکرا سکتے ہو۔۔۔ اس دو کوڑی کی لڑکی کے ساتھ تم محبت کر بیٹھے تھے یہ بات سچ تھی نہ اس دو کوڑی کی ۔۔۔۔”
ابھی آگے وہ کچھ کہتی جب آتش نے آگے بڑھ کر اس کے جبڑے کو دبوچا اسے لگا اس کا جبڑا آج واقع میں ٹوٹ جائے گا
“سٹ اپ بلیڈی بچ۔۔۔ وہ دو کوڑی کی لڑکی نہیں میری محبت میرا جنون ہے۔۔۔ اور میرے اور میری منزل کے بیچ آنے کی کوشش اگر کسی نے کی۔۔۔ تو میں اس کا وہ حشر کروں گا کہ ساتھ نسلیں یاد رکھیں گی۔۔۔”
آتش نے غرراتے ہوئے ایک جھٹکے سے اسے چھوڑا تھا
“گارڈز۔۔۔ گارڈز!!! کہاں مر گئے سب؟؟”
آتش کے چینخنے پر گارڈز وہاں آئے تھے
“اٹھاؤ اسے اور باہر کا راستہ دکھاؤ۔۔۔ اور اگلی دفعہ میری اجازت کے بنا یہ اندر نہیں آنی چاہیے ورنہ تم لوگوں کا حشر نشر کروں گا میں سمجھے تم!!!”
آتش نے پورے طیش میں چینختے ہوئے کہا جس پر گارڈز حکم بجا لاتے ہوئے کرن کو زبردستی اٹھا کر باہر لے جانے لگے
“یو باسٹرڈ۔۔۔ میں تمہیں چھوڑوں گی نہیں۔۔۔ برباد کردوں گی!!! سمجھے تم۔۔۔ تم سے تمہاری تعبیر چھین لوں گی میں!!!”
وہ کسی ٹرانس کی کیفیت میں چینخی جارہی تھی
“گیٹ آؤٹ۔۔۔ آئی سیٹ گیٹ آؤٹ۔۔۔ لے جاؤ اسے۔۔۔”
آتش نے پوری شدت سے چینختے ہوئے کہا تھا اس کی گردن کی رگیں اُبھاری ہوئی دکھائی دے رہی تھیں
☆★☆★☆★☆
“کیا سچ میں؟؟ نہ کریں بھائی آپ ڈیڈ کو اتنا زیادہ تنگ کرتے تھے؟؟ سیریسلی؟؟ میری تو ہنسی نہیں رک رہی”
حریم کا ہنس ہنس کر برا حال ہوگیا تھا جبکہ ضوریز سامنے کاؤچ پر اپنے مخصوص انداز میں ٹانگ پر ٹانگ چڑھائے بیٹا اسے اپنے کارناموں سے آگاہ کر رہا تھا
“یہ تو کچھ بھی نہیں ہے تم جانتی ہو ڈیڈ نے تشریف پر لاتیں مار کر سب کے سامنے جب مجھے آفس سے باہر نکالا تھا نہ اس کے بعد جب ان کا ایکسیڈنٹ ہوا تھا تو وہ گھر سے باہر نہیں جا سکتے تھے تبھی انہوں نے اپنے سارے امپلائز کو گھر بلایا تھا میٹنگ کے سلسلے میں۔۔۔”
ضوریز اسے ایک نیا کارنامہ بتا رہا تھا جسے حریم بہت غور سے سن رہی تھی اور ساتھ ہی ساتھ اپنی آئس کریم بھی ختم کر رہی تھی
“ڈیڈ کے امپائز کو آئے آدھے گھنٹے سے زیادہ ہو چکا تھا اور ڈیڈ خود اپنے روم میں ڈاکٹر کے ساتھ بیزی تھے تو میں نے سوچا کیوں نہ کچھ حال چال دریافت کرلیا جائے۔۔۔”
ضوریز نے اپنے مخصوص انداز میں ہاتھوں کو ہلاتے ہوئے اسے بتایا جس پر حریم آئس کریم اسپون کو منہ میں رکھے اس کی بات بڑی غور سے سننے لگی
“پھر ؟؟”
حریم نے بڑی دلچسپی سے پوچھا جس پر ضوریز نے بیچ کی انگلی سے بیئرڈ کھجاتے ہوئے اسے بتانا شروع کیا
“پھر کیا؟؟ میں جیسے ہی اندر گیا سب مجھ سے ایسے ملنے لگے جیسے سالوں سے جانتے ہوں۔۔۔ اب ڈیڈ کو آنے میں کافی وقت تھا اور سارے امپائز بور ہورہے تھے تو میں نے سوچا کیوں نہ کچھ نیا کیا جائے”
ضوریز نے کندھے اچکاتے ہوئے سائڈ ٹیبل پر سے انگور کی شاخ اٹھا کر انگور کھانا شروع کئے جبکہ حریم آدھی سے زیادہ آئس کریم ختم کر چکی تھی
“پھر میں نے سرونٹس سے کہہ کر باہر لان میں اچھا سا ماحول ڈیکوریٹ کروایا جس نے جیسا چاہا اسے وہ سب دیا گیا۔۔۔ کچھ لوگ گیمز میں بیزی تھے کچھ لوگ سوئمنگ میں کچھ لوگ پشپس کرنے میں کچھ کھانے پینے میں اور باقی لوگ میرے ساتھ تاش کھیلنے میں پھر اچانک سے ایک دیو آگیا۔۔۔”
ضوریز نے دونوں ہاتھوں کو اٹھا کر جیسے اسے ڈرانے والے انداز میں کہا جس پر حریم آنکھیں بٹن کی طرح نکالے اسے دیکھنے لگی
“دیو؟؟ کون دیو؟؟”
حریم نے بڑی دلچسپی سے پوچھا
“ڈیڈ۔۔۔”
ضوریز نے بڑی بیزاری سے کہتے ہوئے انگور اچھال کر منہ میں ڈالا جبکہ اس کی بیزارگی دیکھ کر حریم کی ہنسی نکل گئی
“پھر کیا کیا دیو آئی مین ڈیڈ نے؟؟”
حریم کے پوچھنے پر اس نے ایبرو اچکائیں
“کرنا کیا تھا؟؟ جتنا گند سب نے مل کر پھیلا دیا تھا ڈیڈ نے میٹنگ کینسل کر کے وہ ساری صفائی اپنے امپائز سے کروائی۔۔۔”
ضوریز نے آنکھیں گھماتے ہوئے کہا حریم میں ضوریز کی شابات دکھائی دیتی تھی
“اور آپ نے بھی؟؟”
حریم نے تعجب سے پوچھا
“واٹ میں اور کام؟؟ نو۔۔۔ نیوور۔۔۔ میں تو پیچھے والے دروازے سے نو دو گیارہ ہوگیا تھا۔۔۔ اور واپس بھی تب آیا جب ڈیڈ سو چکے تھے۔۔۔اینڈ ان کے اٹھنے سے پہلے ہی دوسرے کنٹری”
ضوریز کی بات پر نا چاہتے ہوئے بھی حریم نے زور دار قہقہہ لگایا تھا جبکہ آخری والے الفاظ ضوریز نے ہاتھ کا پلان بناتے ہوئے ادا کئے تھے
“بھائی آپ واقعی بہت پہنچی ہوئی چیز ہیں۔۔۔”
حریم نے جیسے اس کے کارناموں پر اسے سراہا تھا جس پر وہ اسے آنکھیں ٹیڑی کرتے ہوئے دیکھنے لگا
“مجھے پہنچانے میں بھی دیو کا ہی ہاتھ ہے۔۔۔”
ضوریز کے کہنے پر حریم نے اپنی ہنسی دبائی تبھی ضوریز کا موبائل بجنے لگا
“کیا؟؟ کیا بکواس ہے؟؟ کدھر گئی ہے وہ؟؟ اوکے میں جاتا ہوں۔۔۔”
کاظم صاحب کی ادھوری بات سن کر اس نے غصے سے فون کاٹ دیا جبکہ حریم اسے سوالیہ نظروں سے دیکھنے لگی
“یار تمہاری بھابی نے اچھا نچایا ہوا ہے مجھے اوپر سے تمہارے بھائی کا فادر ان لو۔۔۔ تم نے ان کو کال کی تھی؟؟ وہ باتیں ائیزل نے سن لی ہیں۔۔۔ پتا نہیں کہاں نکل گئی ہے۔۔۔ قسم سے یہ دونوں باپ بیٹی مل کر مجھے چاند پر پہچا دیں گے۔۔۔”
آخری والے الفاظوں پر ضوریز نے ماتھا پیٹا تھا جبکہ حریم مزے سے اسے دیکھ رہی تھی
“چاند پر بعد میں جائیے گا پہلے اس کو تو ڈھونڈ لیں جس نے آپ کو دن میں تارے دکھا دیئے۔۔۔”
حریم نے شوقیہ انداز میں کہتے ہوئے ہنسی دبائی جس پر ضوریز اسے آنکھیں دکھاتا ہوا گاڑی کی چابی لئے باہر چلا گیا
“کہاں چلی گئی یار یہ۔۔۔”
ضوریز نے اس کی لوکیشن چیک کی مگر فون اس کا گھر پر تھا اس وجہ سے وہ اس تک پہنچ نہ سکا نجانے کب اس نے ائیزل کے موبائل میں ایک ایسا ایپ ڈاؤن لوڈ کردیا تھا کہ وہ جب بھی جہاں بھی ہوتی تھی ضوریز اس سے باخبر رہتا تھا مگر اب یہ طریقہ بھی کام نہیں آیا تھا
“یہ کیا ہورہا ہے؟؟”
وہ زیرِ لب کہتا ہوا بریک پر پیر رکھ کر سامنے کی جانب متوجہ ہوا جہاں بہت سے لوگ جمگھٹا بنائے کھڑے تھے گاڑی سے باہر نکل کر وہ بڑے بڑے ڈگ بھرتا ہوا اس جمگھٹے کی جانب بڑھا سامنے کا منظر دیکھ کر اس کے پیروں تلے زمین نکل گئی تھی
ائیزل کا پورا وجود خون سے شرابور ہو چکا تھا شاید اس کی گاڑی ہٹ ہو چکی تھی وہ بھاگتا ہوا گاڑی کے پاس آیا جہاں شیشہ اندر سے بند تھا ضوریز سے وقت ضائع کئے بنا کھڑکی پر ہاتھ مار کر شیشہ توڑا اور اندر سے دروازے کو ان لاک کرکے ائیزل کو باہوں میں بھر کر اس کے گالوں کو تھپ تھپانے لگا
“ائیزل۔۔۔ ائیزل آنکھیں کھولو۔۔۔”
ائیزل کے ماتھے سے آپ بھی خون رس رہا تھا ضوریز نے اپنی ہتھیلی پر بندھا رومال کھول کر اس کے زخم پر رکھا اور باہوں میں بھرے بھاگتے ہوئے اپنی گاڑی کے پاس آیا
اسے فرنٹ سیٹ پر بیٹھا کر اس نے ڈرائیونگ سیٹ سنبھالی اور فل اسپیڈ میں گاڑی اسپتال کے راستے دوڑانے لگا اس کا ذہن بلکل بھی کام نہیں کر رہا تھا ضوریز نے کپکپاتے ہاتھوں سے اسپتال میں کسی دوست کو کال ملائی اور بار بار ائیزل کو فکر مندی سے دیکھتا ہوا گاڑی چلانے میں مصروف رہا
☆★☆★☆★☆
“ڈاکٹر پلیززز دیکھو اس کو۔۔۔ اس کی آنکھیں بند ہورہی ہیں۔۔۔ پلیززز کچھ کرو۔۔۔ اسے کچھ ہونا نہیں چاہیے۔۔۔”
ضوریز اسے اسٹریچر پر لٹا کر ساتھ ساتھ چل رہا تھا
ائیزل بیہوشی کی حالت میں بھی ضوریز کی موجودگی محسوس کر چکی تھی جبکہ ضوریز کا دوست اسے مسلسل حوصلہ دے رہا تھا مگر ضوریز کا دماغ بلکل ماؤف ہو چکا تھا
“یار پریشان نہ ہو۔۔۔ ٹھیک ہو جائے گی وہ۔۔۔”
ڈاکٹر اسفندیار جو اس کا بہت اچھا دوست تھا ایک بار پھر سے اسے سمجھانے لگا ائیزل کو آپریشن تھیٹر میں لے جا چکے تھے ضوریز مسلسل ادھر اُدھر ٹہل کر پیشانی مسل رہا تھا
“کیسے پریشان نہ ہوؤں یار؟؟ تو نے دیکھا نہیں اس کا کتنا خون بہہ چکا ہے۔۔۔ اسے اگر کچھ ہوگیا تو میں اسے نہیں چھوڑوں گا جس کی وجہ سے یہ سب ہوا ہے”
وہ غصے سے چینخا تھا آس پاس کھڑے سب لوگ اس کی حالت دیکھ رہے تھے تبھی کاظم صاحب وہاں آئے
“کیسی ہے میری بیٹی۔۔۔ کدھر ہے وہ؟؟”
کاظم صاحب کو دیکھ کر ضوریز جس طیش سے آگے بڑھا تھا اگر اسفندیار اسے نہ روکتا تو وہ کب کا کاظم صاحب کا گریبان پکڑ چکا ہوتا
“آپ سے ایک لڑکی نی سنبھالی جارہی تھی؟؟ کیا ضرورت تھی اس کے سامنے یہ سب باتیں کرنے کی؟؟ دیکھا وہ کس حال میں ہے؟؟”
ضوریز نے اپنی گہری کالی آنکھوں میں سرخی لئے انہیں بھرپور گھورا تھا جس پر وہ شاکڈ کی کیفیت میں اسے دیکھنے لگے
“تمہارے کہنے کا مطلب کیا ہے؟؟ یہ سب میری وجہ سے ہورہا ہے؟؟ یہ سب تمہارے کھیل کی وجہ سے ہورہا ہے جو تم اس کے ساتھ چھپن چھپائی کھیل رہے ہو”
کاظم صاحب بھی طیش میں آکر بھڑک اٹھے تھے جبکہ اسفندیار کے لئے ضوریز کو سنبھالنا کافی مشکل ہورہا تھا
“اچھا میں کھیل رہا ہوں چھپن چھپائی؟؟ آپ کھیل رہے ہیں آپ کا وہ دوست وجاہت درانی کھیل رہا ہے۔۔۔ ائیزل کے ساتھ، میرے ساتھ، ہم سب کے ساتھ۔۔۔”
ضوریز نے دونوں ہاتھوں کی مٹھیوں سے بالوں کو دبوچتے ہوئے کہا
“ضوریز!!! بس کر یار۔۔۔”
اسفندیار نے اسے مضبوطی سے کندھوں سے تھام کر کہا
“کیا بس کروں یار ہاں؟؟ جس گاڑی سے اس کا ایکسیڈنٹ ہوا ہے میں تو اسے بھی کچھ نہیں کہہ سکتا۔۔۔ کیونکہ ائیزل آج جس حال میں ہے اس سب کی وجہ اس کے اپنے ہیں۔۔۔”
ضوریز نے محویت سے کاظم صاحب کو دیکھ کر کہا جس پر انہوں نے سر جھکا لیا
“پیشنڈ کے لئے بلڈ کا انتظام کریں ان کی حالت خطرے میں ہے۔۔۔”
ڈاکٹر کے کہنے پر ضوریز آگے گیا
“میں۔۔۔ میں دے رہا ہوں بلڈ میرا اس سے میچ کرتا ہے۔۔۔”
ضوریز نے عجلت سے کہا جس پر ڈاکٹر نے اشارے سے اسے لیب کی جانب بلایا تھا
☆★☆★☆★☆
اس کے جانے کے بعد کچھ دیر وہ یوں ہی ٹہلتا رہا پھر ٹیبل پر رکھی وسکی جو کہ اصل میں سوفٹ ڈرنک تھی نہ کہ شراب اس کا گھونٹ بھرتے ہوئے سیڑھیوں سے نیچے اترا ایک نظر تعبیر کے بند کمرے پر ڈالتے ہوئے وہ ملازم کو اشارے سے بلانے لگا
“تعبیر کو بلاؤ!!!”
آتش کے حکم دینے پر ملازم تعبیر کے کمرے کے باہر کھڑا آوازیں لگاتا رہا مگر جب دروازہ بجانا چاہا تو دروازہ کھلتا چلا گیا
“صاحب جی وہ تو اپنے کمرے میں ہی نہیں ہیں۔۔۔”
آتش سوالیہ نظروں سے اسے گھورتا ہوا اس کے قریب آیا جس پر ملازم نظریں جھکا گیا
“کیا مطلب کمرے میں نہیں ہے؟؟ تم لوگوں کو کس لئے یہاں رکھا گیا ہے؟؟ کرتے کیا رہتے ہو تم لوگ ڈھونڈ کر لاؤ اسے۔۔۔!!!”
آتش کے غررانے پر تمام ملازمین تعبیر کو تلاش کرنے لگے مگر وہ پورے فارم ہاؤس میں کہیں بھی موجود نہ تھی
“صاحب جی وہ کہیں بھی نہیں ہیں۔۔۔”
ملازم نے سر جھکائے کہا
“کیا مطلب کہیں بھی نہیں ہے؟؟ کہاں جا سکتی ہے وہ گارڈز کو بلاؤ۔۔۔”
آتش کے حکم پر تمام گارڈز وہاں حاضر ہوئے مگر سب نے تعبیر کی غیر موجودگی کی تصدیق کر لی تھی وہ کہیں بھی نہیں تھی
“ایسا کیسے ہو سکتا ہے وہ کہیں تو گئی ہوگی نہ۔۔۔ کسی نے تو دیکھا ہوگا نہ اسے۔۔۔”
آتش نے کشمکش میں مبتلا انداز میں کہا جس پر ایک ملازمہ آگے ہوئی
“صاحب جی میں نے انہیں کچھ دیر پہلے آپ کے کمرے کی طرف سے روتے ہوئے آتے دیکھا تھا۔۔۔”
ملازمہ کے کہنے کی دیر تھی جب وہ نفی میں سر ہلاتا ہوا اوپر اپنے کمرے کی جانب دیکھنے لگا
“تعبیر تمہیں کبھی بھی نہیں مل پائے گی آتش۔۔۔ تم ایک شرابی انسان ہو۔۔۔ ایک شرابی۔۔۔”
اس کی سوچ کا زاویہ ٹوٹا تھا ان دو مہینوں میں مسلسل اسے اس ہی جملے نے تنگ کر رکھا تھا وہ پھر سے پہلے کی طرح شرابی بن چکا تھا اور کئی زیادہ تنہائی پسند بھی ہو چکا تھا
“میں نے کہا تھا نہ۔۔۔ کہ اگر اس بار میں ٹوٹا۔۔۔ تو۔۔۔ سب کچھ برباد کردوں گا۔۔۔ سب کچھ۔۔۔”
وہ اس قدر ٹوٹ گیا تھا کہ روتے روتے بھی ہنسنے لگتا تھا اس کی حالت مینشن کے کسی بھی ملازم سے دیکھی نہیں جارہی تھی
وہ واپس کراچی شفٹ ہو چکا تھا اپنی شوٹنگ، شوبز کی دنیا، اپنی کمائی اپنا خواب اپنے سب شوق وہ سب کچھ چھوڑ کر واپس آ چکا تھا مگر اسے تعبیر کہیں بھی نہیں ملی تھی وہ یوں ہی اپنی حالت خراب کر رہا تھا شراب تو ایسے پیتا تھا جیسے قسم اٹھائی ہو
ابھی وہ ان ہی سوچوں میں تھا جب وجاہت صاحب کی حکم پر ملازم اس کے لئے کھانا لئے کمرے کے اندر آیا
“آاااہ… لے جاؤ اسے یہاں سے اور دوبارا میرے سامنے آنے کی جرات بھی مت کرنا ورنہ انجام بہت برا ہوگا”
وہ اپنی سرخ آنکھیں لئے دھاڑنے سے انداز میں کہنے لگا جس پر ملازم کانپتے ہوئے جلدی سے کھانے کی ٹرے اٹھائے کمرے سے باہر چلا گیا
یہ سب کچھ نیا نہیں تھا مینشن کے تقریباً تمام ملازموں کو اس کے ایسے رویئے کی اب عادت ہوچکی تھی کوئی دن ایسا نہیں گزرا تھا جس میں اس نے غصہ نہ کیا ہو
“جو کرنا ہے جلدی کرو مجھے وہ ہر حال میں چاہئے، اگر پوری دنیا بھی چھاننی پڑے تو چھان مارو لیکن اب کی بار خالی ہاتھ نہ آنا”
وہ موبائل کان پر لگائے اپنا حکم سنا رہا تھا ایک جھٹکے سے کال ڈسکنیکٹ کر کے موبائل بیڈ پر اچھالا اور خود صوفے کی پشت پر سر ٹکائے سانس لینے لگا
کمرے کا حال بے حال تھا جیسے کوئی کباڑ خانہ ہو جبکہ اس کی کامیابی کی نشانیاں اس کے ایوارڈز زمین پر کانچ کی صورت میں بے حال پڑے تھے وہ روزانہ اپنے ایوارڈز یوں ہی بے دردی سے توڑ دیا کرتا تھا وہ اپنا نام خود ہی مٹی میں ملا چلا تھا وہی نام، جسے بنانے میں اس نے ایک عمر لگائی تھی
“آخر کہاں جا سکتی ہے وہ، کہاں…؟؟”
وہ خود کلامی کرتا ہوا سائڈ ٹیبل پر رکھے شراب کے گلاس کو لبوں سے لگا کر پل بھر میں خالی کر گیا تھا جبکہ آنکھیں اب بھی لال تھیں
“تم جہاں بھی ہو میں تمہیں ڈھونڈ نکالوں گا اور تمہیں اپنا بنا کے رہوں گا”
وہ گھمبیر لہجے میں کہتا ہوا آنکھیں موند گیا جبکہ بند آنکھوں میں بھی اس کا تصور صاف واضح دکھائی دے رہا تھا ماضی کے مناظر کسی فلم کی طرح اس کی بند آنکھوں کے سامنے گردش کر رہے تھے
“بس اب بہت ہوا، اب تمہیں میرے پاس واپس آنا ہی ہوگا، نہیں چاہئے مجھے کوئی دولت شہرت نام اور پہچان مجھے صرف اور صرف اپنے خوابوں کی تعبیر چاہئے”
اس کی بند آنکھوں سے آنسوں نکل کر رخسار پر بہنے لگے وہ اب کافی بدل گیا تھا اب وہ اپنے دماغ پر دل کو ترجیح دیتا تھا جبکہ پہلے وہ ایسا بلکل بھی نہیں تھا اس کا دماغ شاید اسے اس کے شوق کی طرف واپس جانے کا کہتا مگر دل اس کا تعبیر کے لئے صرف ہوچکا تھا۔۔۔
☆★☆★☆★☆
ائیزل کو بلڈ چڑھ چکا تھا مگر اس کی حالت سب بھی خراب تھی ضوریز کا حال ایک ناکام عاشق کی طرح ہورہا تھا وہ آپریشن تھیٹر کے باہر زمین پر بیٹھا خبر کا انتظار کر رہا تھا جب ڈاکٹر وہاں آیا
“ڈاکٹر میری ائیزل۔۔۔ کیسی ہے وہ؟؟”
ضوریز کے بے صبری سے پوچھنے پر ایک نظر اسے نیچے سے اوپر تک دیکھنے کے بعد ڈاکٹر نے کاظم صاحب کی جانب رخ کیا
“اگلے چوبیس گھنٹے اس کے لئے بہت مشکل ہیں۔۔۔ اگر اسے ہوش آ جاتا ہے تو وہ خطرے سے باہر ہے۔۔۔ ورنہ ہم کچھ بھی نہیں کہہ سکتے۔۔۔ ہو سکتا ہے وہ جی کر بھی زندہ لاش۔۔۔”
ڈاکٹر مایوسی سے سر جھکائے کہنے لگا تھا جب ضوریز نے آدھی بات سن کر ہی اس کا گریبان پکڑا
“کیا بکواس ہے ہاں؟؟ کیا بکواس ہے یہ؟؟ کہو کچھ بھی نہیں ہوگا اسے۔۔۔ اگر اسے کچھ ہوا نہ تمہارا یہ ہوسپٹل میں یو منٹوں میں سسپینٹ کروا دوں گا سمجھے نہ تم۔۔۔”
ضوریز نے پوری جان سے اس کے گریبان کو دبوچا ہوا تھا جبکہ کاظم صاحب اور اسفندیار اسے چھڑانے کی کوشش کر رہے تھے
“یہ کیا کر رہا ہے یار چھوڑ اسے۔۔۔”
اسفندیار نے سخت لہجے میں کہا تبھی ضوریز نے ایک جھٹکے سے اسے چھوڑا تھا
گھنٹوں گزر گئے تھے مگر اسے ہوش نہیں آیا تھا ڈاکٹرز اس بات کی تصدیق کر چکے تھے کہ وہ کومہ میں جا چکی ہے۔۔۔ اس کی واپسی شاید مشکل ہی تھی
“شٹ اپ۔۔۔ جسٹ شٹ اپ!!! ڈیڈ آپ کی وجہ سے وہ آج اس حال میں ہے۔۔۔۔ آخر آپ نے اور کاظم انکل نے مل کر کیوں یہ معائدہ کیا تھا کہ ائیزل کو سچ این موقع پر ہی بتانا تھا؟؟ ڈیڈ اسے کومہ میں جائے دو کہنے ہو چکے ہیں۔۔۔ ڈیڈ وہ اب تک واپس نہیں آئی میں کیا کروں گا ڈیڈ ٹیل می؟؟”
وجاہت صاحب بے حد پریشان ہو چکے تھے کاش وہ کاظم صاحب سے معاہدہ کرتے وقت ان کی یہ شرط نہ مانتے تو آج ضوریز کی طرح ائیزل بھی ساری حقیقت سے شروع سے ہی واقف ہوتی۔۔۔
“ضوریز سنبھالو خود کو۔۔۔ تم تو ہوش میں ہو نہ؟؟ ادھر تمہارا بھائی عجیب حالت میں مینشن میں پڑا ہے۔۔۔ اور ادھر تم نے دو مہینوں سے مجھے پریشان کر رکھا ہے میں مانتا ہوں یہ سب میری غلطی ہے لیکن یہ شرط کاظم کی تھی میری نہیں!!!”
وجاہت صاحب نے اس کی اونچی آواز پر اپنی آواز بھی اونچی کی تھی جس پر وہ تاسف سے انہیں دیکھتا ہوا اپنی گاڑی کی چابی لئے وہاں سے چلا گیا تھا
دو مہینے ہو چکے تھے مگر نہ ائیزل کو ہوش آیا تھا اور نہ ہی تعبیر کا کچھ پتا چلا تھا ضوریز نے تو اب تک حریم کو وجاہت صاحب سے بھی نہیں ملوایا تھا وہ شاید بچپن کا بدلہ اب تک نکال رہا تھا
وجاہت صاحب نے تعبیر کو بہت ڈھونڈا تھا مگر نہ تو شاویز کا کچھ پتا تھا نہ ہی تعبیر کا۔۔۔ وجاہت صاحب جب کراچی میں ہی تھے تب افتخار صاحب کی موت کی خبر سنتے ہی وہ وہاں پہنچے تھے مگر وہ اس بات سے لا علم تھے کہ افتخار صاحب نے مرنے سے پہلے اپنی بیٹی کو آدھا سچ بتایا تھا
افتخار صاحب یہ جان چکے تھے کہ آتش درانی ہی ان کا داماد ہے آتش نے اس رات تعبیر اور اپنے رشتے کی جو خبر میڈیا میں بتائی تھی اسے دیکھنے کے بعد انھوں نے شاویز سے آتش کی مزید معلومات نکلوائی تھی
جس پر انہیں پتا چلا تھا کہ آتش ہی وجاہت کا بیٹا تھا۔۔۔ مگر این موقع پر ان کی طبیعت بگڑ گئی اور تعبیر جیسے ہی گھر پہنچی تھی تب وہ آخری سانسیں لے رہے تھے۔۔۔
وہ چاہ کر بھی اسے پورا سچ نہ بتا پائے انہوں نے تعبیر اور شاویز کو بس تعبیر کے بچپن کے نکاح کے بارے میں بتایا تھا مگر تبھی ان کا انتقال ہوگیا تھا۔۔۔
اور وجاہت صاحب انتقال کے دن کے بعد جب دوسرے دن بھی ان کے گھر تو تالا لگا ہوا تھا تب سے اب تک انہیں تعبیر کہیں بھی نہیں ملی تھی وہ یہ جان چکے تھے کہ ان کا بیٹا جس کے غم میں آدھا ہوا جارہا ہے وہ تعبیر ہی ہے۔۔۔ مگر ائیزل کی ایسی حالت دیکھ کر وہ آتش کو اس کی سچائی بھی نہیں بتا پائے تھے
☆★☆★☆★☆
“انکل آپ پلیززز آرام کرلیں۔۔۔ میں ہوں نہ۔۔۔ میں ضوریز کا خیال رکھ لوں گا۔۔۔ پلیززز آپ تھوڑا آرام کرلیں۔۔۔”
اسفندیار کے کہنے پر وہ آج پہلی بار ضوریز کے گھر آ رکے تھے اس بات سے انجان کے یہاں پہلے سے کوئی تھا
“بہت تھک گئے ہوں گے نہ آپ۔۔۔ کھانا لگاؤں آپ کے لئے؟؟”
وہ اس وقت صوفے کی پشت سے ٹیک لگائے مسلسل پیشانی رگڑنے میں مصروف تھے ایک معصوم سی آواز پر آنکھیں کھول کر سامنے کھڑی لڑکی کو دیکھنے لگے جو بلش کر رہی تھی
“تم؟؟ تم کون ہو؟؟”
وجاہت صاحب اٹھ کر اس کے قریب آئے بھلہ ضوریز کے گھر پر کسی لڑکی کا کیا کام تھا۔۔۔ وہ صورتحال سمجھنے کی کوشش میں تھے جب حریم چہرے پر درد کے تاثرات لائے انہیں دیکھنے لگی
“حریم درانی۔۔۔”
حریم نے ان کی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے کہا جس پر وہ شاکڈ کی کیفیت میں اسے دیکھنے لگے
“درانی؟؟”
وہ جیسے سوال کر رہے تھے یا شاید کشمکش میں مبتلا ہوچکے تھے
“جی ہاں درانی۔۔۔ آپ کی بیٹی۔۔۔ حریم درانی۔۔۔ جسے بچپن میں آپ کھو چکے تھے۔۔۔ مگر دیکھیں اس کے بھائی نے اسے کس طرح ڈھونڈ کر واپس اسے اس کا اصل مقام دلایا۔۔۔اور آپ کے سامنے لا کھڑا کیا۔۔۔”
حریم نے گمبھیر لہجے میں کہتے ہوئے اپنے ڈیڈ کو دیکھا جو اب مکمل شاکڈ ہو چکے تھے
“کیا؟؟ تم وہ؟؟ اس کا مطلب۔۔۔ ضوریز سچ کہہ رہا تھا؟؟”
وجاہت صاحب کی بات پر اس نے اپنے آنسوں کو روکنے کی ناکام کوشش کی تھی جو اب آنکھ سے ٹوٹ کر چہرے پر پھسل چکے تھے وجاہت صاحب کی آنکھیں بھی نم ہوچکی تھیں
“میری گڑیا۔۔۔ میری جان۔۔۔”
وہ ایک بھی لمحہ ضائع کیے بنا اسے گلے لگا گئے تھے جبکہ وہ بھی اپنے ڈیڈ کے گلے لگے زاروقطار رو رہی تھی آنسوں تو وجاہت صاحب کے بھی نہیں رک رہے تھے۔۔۔
“مجھے معاف کردو میں بہت شرمندہ ہوں۔۔۔ میں تمہیں ڈھونڈ نا سکا۔۔۔ بلکہ میں تو اس بات پر یقین کر چکا تھا کہ تم ہم سب کو چھوڑ کر جا چکی ہو۔۔۔ لیکن واقعی ضوریز نے وہ کر دکھایا جو میں نہ کر سکا۔۔۔”
وجاہت صاحب نے روتے ہوئے یہ الفاظ ادا کئے تھے جبکہ اپنے ڈیڈ کے سینے میں چھپی وہ چھوٹی سی گڑیا سر اٹھا کر اپنے ڈیڈ کے آنسؤوں کو صاف کرنے لگی
“ڈیڈ پلیززز نہ روئیں۔۔۔ جو ہوا سو ہوا۔۔۔ آپ جانتے ہیں ضوریز بھائی واقعی بہت اچھے ہیں انہوں نے زیادہ تو نہیں لیکن تھوڑا بہت آپ کے بارے میں بتایا تھا۔۔۔ لیکن باضل بھائی نے آپ کے بارے میں مجھے سب کچھ بتا دیا تھا۔۔۔”
حریم کی بات پر وہ مسکراتے ہوئے اسے دیکھنے لگے ضوریز واقعی بچپن سے اب تک اپنے ڈیڈ کی لاپرواہی پر ان سے کافی چڑ کھاتا تھا لیکن باضل کیونکہ ان کا بچپن کا دوست تھا اس لئے وہ وجاہت صاحب کے ساتھ تھوڑا بہت وقت گزار کر یہ اندازہ لگا چکا تھا کہ وہ اپنی بیٹی کے غم میں آدھے ہو چکے تھے
کافی دیر وہ لوگ یوں ہی روتے رہے مگر ضوریز کی آواز پر ایک دوسرے سے الگ ہوئے سامنے نظر گئی جہاں باضل اور ضوریز کھڑے ہوئے تھے دونوں کا سانس پھول رہا تھا
“ڈیڈ۔۔۔ ائیزل۔۔۔”
وہ نم آنکھیں لئے اپنی مخصوص بگڑی ہوئی حالت کے ساتھ کھڑا مسلسل نفی میں سر ہلا رہا تھا جبکہ ائیزل کا نام سنتے ہی حریم ساخت سی اسے دیکھ رہی تھی
