Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Lams e Junooniyat (Episode 15)

Lams e Junooniyat by Areesha Khan

وہ آج کافی جلدی پہنچ گیا تھا وہ ایڈیٹوریم میں بیٹھا کچھ سوچنے میں مگر تھا جب اس کی نظر باہر گئی جہاں سے وہ چلتی ہوئی اندر کو آرہی تھی وہ نا سمجھی سے اسے آتے دیکھ رہا تھا کیونکہ اس کا رخ اس کی طرف تھا وہ اس ہی کی طرف تو بڑھ رہی تھی

حریم کے قدم اس کے بلکل قریب آکر رکے وہ جلدی سے کھڑا ہوا کیونکہ وہ سخت تاثرات لئے اسے ہی دیکھ رہی تھی ابھی وہ کچھ پوچھتا جب حریم نے بیگ سے وہی بک نکالی جو شاویز نے اسے پیک کر کے سوری کے طور پر گفٹ کی تھی

“یہ تم نے رکھی تھی؟؟”

حریم کا لہجہ آج کافی بدلا بدلا اور سخت لگ رہا تھا جس پر شاویز نے ہاں میں سر ہلایا

“کس کی اجازت سے؟؟”

اس بار وہ واقعی غصے میں لگ رہی تھی جس پر شاویز نے ایک نظر اسے نیچے سے اوپر تک دیکھا وہ ڈارک ریڈ کلر کی شرٹ کے ساتھ ڈارک بلیو جینس پہنی ہوئی تھی بال آزاد تھے

“آپ سن ہی نہیں رہی تھیں میری بات اس لئے مجھے یہ کرنا پڑا”

شاویز نے معصومیت سے بھرپور لہجے میں کہا

“کیا سنتی میں؟؟ یہی کہ میں کسی لڑکی سے دوستی نہیں کرتا، آپ مجھے غلط سمجھ رہی ہو، میں اس مجاز کا نہیں ہوں وغیرہ وغیرہ”

وہ باقاعدہ ایک نئی ٹون میں اتراتے ہوئے کہنے لگی شاویز کو وہ کہیں سے بھی پہلی والی حریم نہیں لگ رہی تھی

“حریم جی شاید آپ نے نوٹ پڑھا نہیں آخر میں کیا لکھا تھا…”

وہ اسے یاد دلانا چاہ رہا تھا کہ اس نے دوست لکھا تھا مگر حریم کو وہ سب کچھ یاد تھا

“مگر میں نے اگین تمہیں انسس نہیں کیا تھا کہ مجھ سے دوستی کرو مجھ پر ترس کھا کر”

حریم نے جتاتے ہوئے کہا جس پر شاویز اسے بڑی حیرت سے دیکھنے لگا جبکہ پیچھے کھڑی ہوئی حوریا ان کی باتوں سے لطف اندوز ہورہی تھی

“میں نے آپ پر کوئی ترس نہیں کھایا حریم جی آپ غلط سمجھ رہی ہیں، میں نے تو بس آپ کی دوستی قبول کی ہے”

“اوہ اچھا؟؟ اس طرح کی کتاب بھیج کر تم مجھ سے دوستی کروگے؟؟ تمہیں پتا بھی ہے یہ کتاب اگر کسی کو دی جائے اس کا کیا مطلب ہوتا ہے؟؟”

حریم سے وہ کتاب دیکھاتے ہوئے کہنے لگی جس پر وہ نا سمجھی سے اسے دیکھنے لگا

“کیا مطلب ہوتا ہے؟؟”

حریم نے باقاعدہ اس کے ہاتھوں پر مارتے ہوئے یہ کتاب اسے دی جسے وہ سمبھال گیا تھا

“جب مطلب پتا چل جاظے تو ہی یہ کسی کو دینا”

حریم سخت تاثرات لئے پلٹنے لگی جب اس کی نظر سامنے دروازے پر کھڑی حوریا ہر گئی جو اب ہنسنے میں مصروف تھی حریم نے نہ آؤ دیکھا نہ تاؤ اور تیز قدموں کے ساتھ چلتی ہوئی باقاعدہ اسے دھکا دینے سے انداز میں گزر کر جانے لگی جس سے وہ ٹکراتے ہوئے زمین پر جا گئی پھر کیا ہونا تھا

جو ابھی تھوڑی دیر پہلے کسی اور پر ہنس رہی تھی اب سب اس پر ہنس رہے تھے جبکہ حریم تو بنا رکے وہاں سے چلی ہی گئی تھی جبکہ شاویز اس کے ایک ایک عمل پر بہت حیران تھا اور اب وہ اس ہی سوچ میں پڑھ گیا تھا کہ آخر کسی کو بک دینے کے لیے بھی کیا اجازت کی ضرورت پڑھتی ہے

☆★☆★☆★☆

آج ان کا دوسرا پیپر تھا سب لوگ اپنی جگہ پر بیٹھے سوالات کے پرچے کو گھور رہے تھے جیسے سوالات چینی زبان میں لکھے گئے ہوں کل رات ضوریز نے سب کو بس اتنا کہا تھا کہ اپنے ساتھ دو تین اچھے والے پین رکھ کر لائیں لیکن کسی کو یہ اب تک سمجھ نہیں آیا تھا کہ آخر اس نے ایسا کہا ہی کیوں تھا

ابھی سب اسٹوڈینٹس چہرے پر رونے والے تاثرات لئے اپنی اپنی نشستوں پر بیٹھے ضوریز کے کسی اشارے کا انتظار کر رہے تھے جب کلاس کے باہر پانی والا کھڑا نظر آیا ان کا پروفیسر اسے اندر آنے کی اجازت نہیں دے رہا تھا

ائیزل کو لگ رہا تھا ضوریز شاید بھول گیا ہے اب سب کے سب اسٹوڈینٹس پڑیشان تھے سب ہی کو ضوریز کی بڑی یاد آرہی تھی

“ائیزز کچھ ہیلپ کرو”

ایک لڑکی نے پیچھے سے ائیزل کو آواز دی

“ادھر میرے لالے پڑے ہوئے ہیں تمہیں ہیلپ کی لگ رہی ہے”

ائیزل نے سخت لہجے میں کہا جس پر وہ لڑکی خاموش ہوگئی وہاں کی سیکیورٹی بھی سخت تھی ان کا پروفیسر موت کا فرشتہ ہی ثابت ہورہا تھا

انہیں ایسے بیٹھے بیٹھے تقریباً ایک گھنٹے سے زیادہ ہوچکا تھا مگر وہ سب یوں ہی اپنی کاپی میں سر جھکائے بیٹھے تھے اب تک انہوں نے الف بھی نہیں لکھا تھا اب ان کی امیدیں دم توڑنے لگی تھیں ان میں سے کچھ لوگوں کو لگ رہا تھا شاید ضوریز کے ساتھ کچھ ہو گیا ہو اور کچھ لوگوں کو لگ رہا تھا کہ آج وہ ہیلپ نہیں کر پائے گا

ابھی وہ لوگ یوں ہی ٹینشن میں بیٹھے تھے جب کلاس میں دوسرا پروفیسر آیا دونوں پروفیسرز میں کچھ بات ہوئی پھر پہلا والا کسی اور کلاس میں چلا گیا جبکہ اب جو پروفیسر آیا تھا وہ راؤنڈ لگانے کے بجائے چپ چاپ اپنی نشست پر بیٹھ گیا تھا

ابھی اسے بیٹھے کچھ دیر ہی ہوئی تھی جب کلاس کے باہر کوئی آکھڑا ہوا جس پر پروفیسر اٹھ کر باہر گیا اس بندے کے ہاتھ میں جگ گلاس تھا اور منہ پڑ ماسک تھا جس وجہ سے اس کی شکل دیکھنا مشکل تھا وہ پروفیسر سے کچھ باتیں کرتا ہوا کلاس کے اندر آیا

جب وہ کلاس کے اندر آیا تو سیدھا ائیزل کی طرف قدم بڑھائے

“جس کو پانی پینا ہے ابھی پیلے، ویسے مجھے نہیں پتا تھا کہ ایسا سسٹم شہر کی اتنی بڑی یونیورسٹی میں بھی ہوتا ہوگا”

پروفیسر کی بات پر سب لوگ منہ بناتے ہوئے واپس اپنی کاپی پر سر جھکا گئے کیونکہ سب کو اس وقت صرف اپنی ٹینشن تھی

ائیزل اسے اپنی طرف آتے اس شخص کو بڑے غور سے دیکھا وہیں کالی آنکھیں وہی چلنے کا اسٹائل وہ جو پانی والا بن کر آیا تھا وہ کوئی اور نہیں بلکہ ضوریز تھا لیکن اسے اس بات پر صرف شک تھا لیکن جیسے جیسے وہ قریب آتا گیا ائیزل کو دال میں کچھ کالا محسوس ہونے لگا

“میڈم پانی چاہئے؟؟”

وہ اس کے قریب آکر اس سے پوچھنے لگا جس پر ائیزل آنکھیں چھوٹی کرتے ہوئے اس کا جائزہ لینے لگی بلیو پینٹ کے ساتھ بیلو چیک شرٹ چہرے پر ماسک اور ساتھ ہی بڑا سا بوائز اسٹالر لپیٹا ہوا تھا جس سے اس کے بال کوور ہوئے تھے اس وقت وہ واقعی پانی والا لگ رہا تھا

ائیزل اس کی آواز پہچانتے ہوئے اسے مزید گھورنے لگی جس پر ضوریز نے اسے آنکھ ماری ائیزل کے منہ سے ابھی کچھ نکلتا ہی جب ضوریز نے اس کے ہاتھ میں پانی کا گلاس تھمایا ساتھ ایک پیپر بھی ائیزل جلدی اس فولڈ ہوئے پیپر کو ہاتھ میں دباتی ہوئی پانی کا گھونٹ بھرنے لگی جبکہ ضوریز اس سے گلاس لیتا ہوا واپس پلٹ گیا

اس ہی طرح ضوریز نے تقریباً وہاں دس سے پندرہ اسٹوڈینٹس کو پانی پلانے کے بہانے پیپرز تھمائے تھے اب یہ ان کا کام تھا کہ انہیں جلد سے جلد پورے پانچ سوالوں کے جواب اپنی کاپی میں اتارنے تھے وہ اسٹوڈینٹس بڑی ہوشیاری سے اپنی اپنی کاپیاں بھر رہے تھے جبکہ ضوریز کے سمجھانے کے مطابق ان لوگوں نے چیٹنگ کرنے کی ایک الگ ہی ٹریک سیکھی تھی

اب انہیں بس لکھنا ہی لکھنا تھا ضوریز کے دیئے گئے پیپرز میں پورے پانچ سوالوں کے جواب تھے جنہیں وہ لوگ ٹکڑوں میں تقسیم کر کے ایک دوسرے کی مدد کر رہے تھے آج ان کی قسمت بھی اچھی تھی کہ پروفیسر کو کسی پر شک نہیں ہوا تھا اور وہ لوگ بڑی ہوشیاری سے پیپرز بھرنے میں مصروف ہوگئے تھے

☆★☆★☆★☆

“جی ہاں سر آج اس کی ٹانگ پر بندھا پلستر کھلنے والا ہے شاید وہ دو دن تک شوٹنگ پر آئے”

باضل کی بات پر اس نے اثبات میں سر ہلایا جبکہ شراب کا گلاس بھی ابھی اس کے ہاتھ میں تھا جس سے وقفے وقفے سے وہ گھونٹ بھرنے رہا تھا

“مور؟؟”

آتش کے سوال پر وہ اس کے پیچھے کھڑا ہاتھ مسل رہا تھا کھڑکی سے باہر کا موسم دیکھتا ہوا آتش اب پلٹ کر اس کو سوالیہ نظروں سے دیکھنے لگا جب وہ سر جھکا گیا

“مور؟؟”

وہ سخت لہجے میں مخاطب ہوا جس سے سامنے کھڑا شخص چونکا

“سر وہ لوگ حاشر خانزادہ کے اپارٹمنٹ پر ٹہرے ہوئے ہیں”

باضل کے کہنے کی دیر تھی جب آتش اسے باقاعدہ گھورنے لگا وہ قدم اس کی طرف بڑھانے لگا وہ اب اس کے بلکل سامنے کھڑا تھا باضل کے ماتھے پر پسینے کی بوندیں ابھری ہوئی نظر آرہی تھیں

“کیا کہا؟؟”

وہ سخت مگر دھیمے لہجے سے پوچھنے لگا مگر باضل خاموش

“کیا کہا؟؟”

اس بار وہ باقاعدہ چینخا تھا

“سر تعبیر علی اپنی ٹیم کے ساتھ حاشر خانزادہ کے اپارٹمنٹ پر رکے ہوئے ہیں”

آتش نے ہاتھ میں پکڑا شراب کا گلاس اٹھا کر دور پھینکا جس سے وہ چکنا چور ہوگیا

“آؤٹ…”

وہ اپنی نیلی آنکھوں میں آگ لئے دانت بیچتے ہوئے چینخا سامنے کھڑا شخص دو سو کی اسپیڈ میں وہاں سے جان بچا کر بھاگا تھا

“آخر کیا کرنا چاہ رہی ہو تم تعبیر علی، کیوں میرے صبر کو آزما رہی ہو…”

ایک سیکنڈ بھی نہ ہوا تھا اسے اس کمرے کا نقشہ بگاڑنے میں وہ سیکنڈ کے اندر اس خوبصورت کمرے کو کباڑ خانہ بنا گیا تھا ایک ایک چیز جو بڑی ترتیب سے رکھی گئی تھی اب بے یارو مددگار زمین پر پڑی ہوئی تھی

“ملنا پڑے گا، ایک اور بار ملنا پڑے گا”

وہ سرخ آنکھیں لئے عہد کرتا ہوا وہاں سے چلا گیا جبکہ غصہ اب تک اس کے اندر بھڑک رہا تھا

☆★☆★☆★☆

“اففف اللّٰہ آپی آپ بھی نہ، اب آپ جلدی سے ایک نیا موبائل لے لیں تاکہ آپ کو اس بلیک بیوٹی کا موبائل نہ یوز کرنا پڑے”

وہ منہ بناتا ہوا ایک بار پھر رائمہ کو چڑا گیا تھا کیونکہ تعبیر کا موبائل ٹوٹ گیا تھا اس لیے وہ رائمہ کے ہی موبائل سے گھر پر کال کرتی تھی

اسپیکر ان ہونے کی وجہ سے رائمہ اس کے الفاظ سن چکی تھی

“یو شٹ اپ بد تمیز… تمیز نہیں ہے تمہیں بات کرنے کی پورے دو سال بڑی ہوں تم سے میں سمجھے تم چوزے “

رائمہ بھڑکتے ہوئے تعبیر کی طرف آئی اور موبائل چھین کر چلانے لگی جس پر تعبیر نے سر پکڑ لیا کیونکہ ایک بار پھر سے ان دونوں کی لڑائی شروع ہونے والی تھی

“تم چپ کرو بلیک بیوٹی میں اپنی بہن سے بات کر رہا ہوں سمجھیں، بار بار بیچ میں آنا ضروری ہے کیا؟؟”

شاویز نے بیزاری سے کہا جس پر رائمہ نے مٹھیاں بینچیں

“منہ بند رکھو اپنا تم، اتنی بڑی یونیورسٹی میں پڑھ رہے ہو اور تمیز اب تک نہیں آئی تمہیں ہاں؟؟”

“ہاں تمہیں تو جیسے بڑی تمیز آگئی اسلام آباد جا کر”

شاویز بھی شاویز تھا

“میرا دماغ نہیں خراب کرو تم سمجھے چوزے کہیں کہ ایک تو میرا سر کھا رکھا ہے تمہاری بہن نے واپس کراچی آنے کے لیے اوپر سے تم بھی میرا ہی سر کھا رہے ہو، یا اللّٰہ کہاں پھنسا دیا ہے مجھے کاش میں یہاں آتی ہی نہ”

وہ ہاتھ اٹھا کر کہنے لگی جس پر تعبیر اس کی اوور ایکٹنگ دیکھ رہی تھی

“ایکس کیوزمی بلیک بیوٹی، چوزا کسے کہا ہاں؟؟”

“تمہیں کہا ہے مسٹر شاویز علی چوزے کے منہ والے”

“ہاں ہاں میں ٹہرا چوزے کے منہ والا مگر تم تو رہوگی صدا کی بلیک بیوٹی.”

وہ اسے آخری بار چھیڑتا ہوا قہقہہ لگا کر کال بند کر گیا تھا جبکہ وہ بڑے غصے سے تعبیر کو گھورتی ہوئی وہاں سے چلی گئی

☆★☆★☆★☆

وہ جو کچھ دیر پہلے پانی والا بنا گھوم رہا تھا اب وہ وہی رومال گول کئے گلے میں ڈال کر ٹشن سے گارڈن میں کھڑا کسی سے فون پر بات کر رہا تھا اس بات سے انجان کے ساری لڑکیاں کھڑی اسے ہی تو دیکھ رہی تھیں

جیسے ہی وہ فون بند کر کے پلٹا سب لڑکیوں کے منہ سے بے ساختہ افففف نکلا تھا جو ائیزل دیکھ چکی تھی اب وہ ہمیشہ ہی اپنے بڑھتے ہوئے بالوں کو باندھ کر رکھتا تھا جن میں وہ اور بھی زیادہ ہینڈسم نوجوان لگتا تھا

وہ تمام لڑکیوں کی نظروں کو نظر انداز کرتا ہوا ایک مغرورانہ چال چلتا ہوا ائیزل کی طرف بڑھنے لگا کیونکہ وہ دیکھ چکا تھا کہ وہ اس کی طرف آتے آتے رکی تھی

“ہیئی ڈارلنگ کیسی ہو؟؟”

وہ آنکھ مارتے ہوئے پوچھنے لگا جس پر ائیزل نے اثبات میں سر ہلایا جس کا مطلب تھا ٹھیک ہوں

“یو فیل ہنگری؟؟”

“بہت “

آئیزل نے منہ بناتے ہوئے کہا جس پر وہ یک طرفہ مسکراہٹ لئے اس کا ہاتھ تھام کر کینٹین کی طرف بڑھ گیا جبکہ لڑکیاں اب بھی اس ہی کو دیکھ رہی تھیں

“اوئے چاچے … اتھے مر”

وہ جو ہاتھ میں سینڈوچ لئے کرسی پر جاہلانہ اسٹائل سے بیٹھا ہوا تھا ایک بائیٹ لے کر کینٹین والے کو آواز دینے لگا جبکہ ائیزل بچاری بھوکوں کی طرح اپنا برگر ختم کرنے میں مصروف تھی

“جی صاحب…”

“اے کی آ؟؟”

“صاحب جی سینڈوچ”

“سینڈوچ؟؟ یا باسی بن کا انڈے والا برگر؟؟”

ائیزل نے نوٹ کیا تھا وہ پنجابی بولتے بولتے واپس اردو پر اتر آیا تھا

“سر جی باسی نہیں ہے بس کباب میں مرچیں کم ڈالی ہیں”

وہ بچارا منہ صاف کرتے ہوئے کہنے لگا جس پر ضوریز یک دم وہاں سے اٹھا

“اگر برگر میں تیار کروں تو کوئی عتراض تو نہیں؟؟”

ضوریز کی بات پر پہلے تو وہ اسے غور سے دیکھنے لگا پھر نفی میں سر ہلا گیا جبکہ ائیزل ضوریز کو بڑی حیرت سے دیکھنے لگی

“ضوریز کہاں جارہے ہو پاگل ہوگئے ہو کیا؟؟”

ابھی ائیزل مزید کچھ کہتی جب وہ پر سکون انداز میں چلتا ہوا کینٹین کے کچن کی طرف بڑھا سب لڑکے لڑکیاں اس ہینڈسم نوجوان کو ایسا کرتے ہوئے دیکھ کر کینٹین کے باہر آ کھڑے ہوئے

سب سے پہلے تو اس نے اپنا اسٹالر ٹائم رومال اتار کر ائیزل کی جانب اچھالا جسے وہ کیچ کر گئی پھر سامنے رکھا ریمپر پہنا اب سب اسٹوڈینٹس کی نظریں اس پر تھیں وہ پڑے پرسکون انداز میں کھڑا ہوا کباب فرائی کر رہا تھا

پہلے اس نے کباب فرائی کیے پھر بن جو ہلکا سا فرائی کیا پھر انڈہ فرائی کیا اب اس نے بن کے نیچلے حصے پر چٹنی لگائی پھر اس پر مرچیں چھڑکیں پھر رائتہ لگایا پھر سالاد رکھی پھر انڈہ اور کباب رکھا اور پھر سے مرچیں چھڑکیں اب بن کے اوپر والے حصے کو رکھ کر وہ برگر بنا چکا تھا سب سمجھے یہ بن چکا ہے مگر وہ سب غلط تھے

وہ سامنے رکھے پین میں مزید اوئل ڈالنے لگا اور پھر اس اوئل کو گرم کرنے رکھ دیا اب وہ پیاز کاٹ کر انڈے کے باؤل میں ایڈ کر رہا تھا اس نے مزید مصالحے ایڈ کئے اور پھر اپنے برگر کو اس میں ڈپ کر کے سامنے رکھے پین میں فرائی کرنے کے لیے رکھ دیا

وہ ضوریز درانی تھا جو کام دنیا میں شاید کسی نے کبھی نہ کیا ہوگا وہ چرسی موالی دو نمبر آدمی وہ سارے کام کر جاتا تھا

اسے پسند تھا اپنے بنائے گئے الٹے سیدھے راستوں پر چلنے کا وہ اپنی ہی دنیا کا نواب تھا جہاں وہ ہوتا تھا وہاں کوئی بھی شخص اس کے کارنامے دیکھنے کے بعد حیران ہوئے بنا رہ نہیں سکتا تھا

ابھی سب سمجھے تھے وہ انڈہ لگا کر فرائی کرے گا مگر صرف اتنا ہی نہیں اس نے اوپر سے مصالحے بھی ڈالے اور اس وقت سب کو ضوریز کے ہاتھ سے تیار ہونے والی برگر دیکھ کر شدید بھوک محسوس ہورہی تھی

ضوریز نے ایک پلیٹ لی اس میں آس پاس سالاد کو ترتیب سے جمایا اور بیچ میں مصالحہ دار فرائی برگر رکھا اور بڑے آرام سے چلتا ہوا کینٹین سے باہر آیا جہاں کینٹین والے انکل کھڑے اس کے کارنامے پر حیران تھے ان کے آگے بڑھایا

“چاچے اسے کہتے ہیں برگر…”

ضوریز نے اک اسٹائل سے کہا اور کیٹچپ کی بوتل اس پر انڈھل کر انصاف کرنے لگ گیا جبکہ وہ چھوٹا لڑکا جو پہلے ہی ضوریز کا فین بن چکا تھا اب تالیاں بجائے بنا نہ رہ سکا اس کے ساتھ ہی ائیزل کے تمام کلاس فیلوز کلیپنگ کر رہے تھے جبکہ اب وہ دنیا جہاں سے بیگانہ ہوکر اپنے کھانے میں مصروف تھا

☆★☆★☆★☆

وہ یونیورسٹی سے آکر بس ان ہی سوچوں میں تھا کہ آخر وہ کیا کرے حریم کے الفاظ اس کے سماعتوں میں اب بھی گونج رہے تھے وہ بار بار یہی سوچ رہا تھا کہ آخر کسی کو تحفہ دینے کے لیے سوچنا کیوں ضروری ہوتا ہے اسے کچھ سمجھ نہیں آرہا تھا کیا اس نے حریم کو یہ کتاب دے کر کوئی غلطی کی تھی؟؟

“مگر اس دن حریم خود اس کتاب کو ہی ڈھونڈ رہی تھی اور جب اب میں نے اسے یہ دے دی تو اس نے ایسا ری ایکٹ کیوں کیا میرے ساتھ؟؟”

وہ سوچوں میں گم تھا جب اس کے کمرے کا دروازہ کھلا اور بابا جان ویل چیئر پر موجود اندر داخل ہوئے

“بابا جان آپ؟؟ کوئی کام تھا تو مجھے آواز دے دیتے”

وہ اس بات سے انجان کے وہ کتاب اب بھی اس کے ہاتھ میں تھی بابا جان اسے گھورنے لگے جبکہ ابھی کتاب پر نظر گئی بھی نہیں تھی

“کیوں؟؟ میرا یہاں آنا منع ہے؟؟ یا مجھے اجازت لے کر آنا چاہیے تھا؟؟”

بابا جان کی بات پر شاویز اپنے الفاظوں پر بچھتایا

“ایسی بات نہیں ہے بابا جان میں نے تو ایسی ہی کہہ دیا”

وہ نظریں چراتا ہوا منہ بنا گیا جبکہ افتخار صاحب اس کے صوفے پر بکھرے سامان کو دیکھ رہے تھے

“بڑا کتب بازار لگایا ہوا ہے، پڑھائی کر بھی رہے ہو یا بس ایسے ہی نام کے لئے یونیورسٹی جا کر بہن کا خرچہ کروا رہے ہو؟؟”

ہر بار کی طرح ان کا لہجہ آج بھی سخت اور تنزیہ تھا جس پر شاویز ان کی طرف بیچارگی سے دیکھنے لگا

“بابا جان کیا ہوگیا آپ کیوں ہر وقت خفہ رہتے ہیں میں الحمدللہ پڑھنے ہی تو جارہا ہوں”

شاویز نے باقاعدہ رونے والا منہ بناتے ہوئے کہا جس پر افتخار صاحب اسے گھور کر رہ گئے مگر جب اس کے ہاتھ میں پکڑی کتاب پر نظر گئی تو جیسے وہ ساخت ہوگئے ہوں

“اچھا؟؟ تو یہ پڑھائی ہو رہی ہے؟؟”

ابھی شاویز کچھ سمجھتا جب اس کی نظر اپنے ہاتھ میں پکڑی کتاب پر گئی

“Secret of love”

اب شاویز آنکھیں پھاڑتے ہوئے سامنے بیٹھے بابا جان کو دیکھ رہا تھا اسے نہیں پتا تھا اس کے ساتھ کیا ہونے والا ہے

“بابا…”

“چپ کر بابا کے بچے، یہ پڑھائی ہو رہے ہے وہاں ہاں؟؟ محبتوں کے راز جاننے کے لیے یونیورسٹی جایا جارہا ہے؟؟ اگر واقعی تجھے محبتوں کے ہی راز جاننے تھے تو بیٹا مجھے پہلے ہی بتا دیتا میں تعبیر کو منع کردیتا کہ اس گدھے کو یونیورسٹی نہ لگاؤ بس اس کا ایک ہاتھ میرے ہاتھ میں دے دو پھر دیکھو کیسے بتاتا ہوں میں محبتوں کے راز اسے”

افتخار صاحب ٹھیک ٹھاک والے آگ بگولہ ہو چکے تھے اور اس بار تو تعبیر بھی گھر پر نہیں تھی اگر وہ ویل چیئر سے اٹھ سکتے تو کب کا اس کی ہڈی پسلی ایک کر چکے ہوتے

“بابا جان یہ میری نہیں ہے سچ میں”

شاویز شرم سے پانی ہوئے جارہا تھا وہ جلدی سے اس کتاب کو اپنے بیگ میں رکھ کر بابا جان کے قدموں میں آ بیٹھا

“تیری نہیں ہے تو پھر کس کی ہے؟؟ میری ہے؟؟”

“نن نہیں نہ بابا جان، یہ میرے دوست کی ہے اس نے دی ہے”

“دوست کی؟؟ جہاں تک مجھے پتا ہے تیرا کوئی دوست ہی نہیں”

بابا جان بھی شاویز کا ٹھیک والا امتحان لے رہے تھے شاویز بہانے پر بہانا بنائے جارہا تھا

“بابا جان آپ نہیں جانتے نہ اسے، وہ یونیورسٹی کا دوست ہے”

“اوہ اچھا؟؟ اور کب بنا یونیورسٹی میں دوست؟؟”

“بابا جان بن گیا تھا دوست پہلے دن ہی”

وہ سر کھجاتے ہوئے کہنے لگا جس پر بابا جان اسے جانچتی نظروں سے دیکھنے لگے

“اچھا؟؟ اور اس بے شرم دوست نے یہ کتاب تمہیں دی ہے؟؟ بھلہ کیوں؟؟ یہ وہ تمہیں کیوں دے گا ہاں؟؟ مطلب بھی پتا ہے اسکا؟؟”

“وہ…وہ… نہیں پتا”

وہ منہ بناتے ہوئے نظریں جھکا گیا

“گدھے کے گدھے ہی رہوگے، یہ کتاب اسے واپس کرو اور اسے کہو جاکے اپنی شادی کے بعد اپنی بیوی کو گفٹ کرے، اور خبردار جو آج کے بعد ایسے بے شرم لوگوں سے دوستی رکھی تو”

افتخار صاحب کی بات پر وہ جلدی سے اثبات میں سر ہلاتے ہوئے واپس اپنے صوفے پر جا بیٹھا جبکہ افتخار صاحب اسے آنکھیں دکھاتے ہوئے وہاں سے چلے گئے جیسے ہی وہ کمرے سے نکلے وہ جلدی سے اس کتاب کو نکال کر پڑنے لگا

“پڑھنا ضروری ہے؟؟”

ایک بار پھر افتخار صاحب کی آواز آئی جس پر وہ کانپتے ہوئے باہر کی طرف دیکھنے لگا جہاں وہ باہر سے اسے غصے سے گھور رہے تھے

شاویز نے اپنے چہرے پر آئے پسینے کو صاف کرتے ہوئے اس کتاب کو واپس بیگ میں رکھ دیا جسے دیکھ کر افتخار صاحب اب جا چکے تھے

“اففف کیا ہے اس کتاب میں؟؟ حریم اسے تلاش کر رہی تھی جب میں نے اسے دی تو منہ پر مار گئی اور اب بابا جان پڑھنے بھی نہیں دے رہے نہ رکھنے دے رہے ہیں پاس، بھلہ ایسا بھی کیا راز ہے اس کتاب میں”

وہ خود کلامی کرتا ہوا اپنا بیگ سمیٹ کر ٹیبل پر رکھنے لگا

“لیکن میں بھی جان کر ہی رہوں گا کہ آخر کیا راز ہے اس کتاب میں”

وہ واپس اپنے صوفے پر آ لیٹا اب وہ موبائل میں گوگل پر سرچ کرنے میں مصروف تھا یقیناً وہ اپنا تجسّس ختم کرنا چاہتا تھا

☆★☆★☆★☆

تقریباً شام ساتھ بجے کا وقت تھا جب تعبیر ہنی اور رائمہ کے ساتھ ہنی کے کہنے پر ایک پروڈیوسر سے ملنے گئی ہوئی تھی وہ بہت بڑا ہاؤس تھا یقیناً وہاں اکثر شوٹنگز ہوا کرتی ہوں گی ورنہ جس خوبصورت سی جگہ وہ بنایا گیا تھا وہاں رہنا انسانوں کے لئے کافی مشکل تھا

وہ لوگ ایک بڑے سے ہال میں موجود تھے جہاں باقی کی ٹیم کے کافی لوگ موجود تھے وہ سب فلم انڈسٹری کا حصہ ہی تھے تعبیر کو سب کی موجودگی میں وہاں بیٹھنا بہت مشکل لگ رہا تھا وہاں موجود ایک امیر دولتمند ڈائریکٹر جو بار بار تعبیر کو گہری نگاہوں سے دیکھا جارہا تھا

تعبیر کو اس کا ہو خود کو دیکھنا بہت عجیب لگ رہا تھا وہ وہاں سے اٹھ کر واشروم کا بہانا بنا کر دوسری جانب چلی گئی ہنی اسے راستہ سمجھا چکی تھی جبکہ رائمہ کو وہ اس طرح اچانک جاتی ہوئی کچھ سمجھ نہیں آئی تھی

“پتا کیسے کیسے لوگ ہیں یہاں، بے شرم بے حیا گنجا کہیں کا”

وہ منہ میں بڑبڑاتی ہوئی دل کی بھڑاس نکال کر آگے کو بڑھ رہی تھی ابھی وہ اوپر والے حصے میں آئی ہی تھی جب اسے یاد آیا کہ جو ہنی نے کہا تھا وہ تو اس نے ٹھیک سے سنا بھی نہیں تھا

وہ اوپر والے حصے میں بنی خوبصورت سی بالکنی میں کھڑا کسی سے فون پر مصروف تھا جب پیچھے سے کسی کے تیز قدموں کی آہٹ سنائی دی تو پلٹا مگر سامنے سے آتی لڑکی کو دیکھ کر وہ واپس رخ موڑ گیا

وہ کشمکش میں مبتلا تمام کمروں کو دیکھ کر جلدی جلدی قدم آگے بڑھا رہی تھی جب اس نے سامنے بالکنی میں کسی شخص کو کھڑا دیکھا تو وہ جلدی سے بنا کچھ سوچے ان میں سے ایک کمرے کے اندر چلی گئی

“تمہارا یہاں آنا… کیا میں اسے اتفاق سمجھوں یا پھر خدا کی طرف سے دیا گیا موقع”

وہ اپنے ہلکے گلابی لبوں پر انگلی پھیرتا ہوا اس کمرے کی جانب چلا گیا کیونکہ جس کمرے میں وہ گئی تھی وہ کمرہ شوٹنگ کے دوران چینجنگ روم کے طور پر آتش کو دیا گیا تھا

وہ جلدی سے اپنا بیگ صوفے پر رکھتی ہوئی خود فیس واش کرنے کے غرض سے چلی گئی جبکہ وہ دھیمے قدموں سے چلتا ہوا اندر آکر دروازہ بند کر گیا تھا

“اسلام آباد ہے تو بہت حسین لیکن یہاں کی ہوائیں میری تو سمجھ سے ہی باہر ہیں، کبھی کس سمت چلتی ہے کبھی کس سمت”

وہ خود کلامی کرتے ہوئے نل کھول کر پانی سے منہ دھو رہی تھی اسے خبر بھی نہ تھی کہ اس کی بک بک باہر کھڑا شخص بڑی آسانی سے سن رہا تھا

“ایک تو یہ میک اپ بلکل بھی اچھا نہیں، اتنا بیکار میک اپ میں اگین نہیں خریدوں گی بے وجہ پیسے ضائع کرنے والی بات ہے”

وہ ٹاول سے منہ صاف کرتی ہوئی جیسے ہی باتھ سے باہر آئی سامنے کھڑے مسکراتے ہوئے شخص کو دیکھ کر اس کی سٹی گم ہوگئی

“تو نہ کرو نہ پیسے ضائع، کس نے کہا کہ تمہیں میک اپ کی ضرورت ہے؟؟ تم تو بنا میک اپ کے بھی پری لگتی ہو”

وہ بغور جائزہ لیتے ہوئے یک طرفہ مسکرانے لگا وہ آف وائٹ چوڑی دار پاجامے کے ساتھ فراک پہنی ہوئی تھی جبکہ ہر بار کی طرح آج بھی اس کی نازک سی گردن پر ایک خوبصورت سا نازک سا نیکلیز تھا

“آپ…؟؟ آپ یہاں؟؟ آپ اندر کیسے آئے؟؟”

وہ بے یقینی کی کیفیت میں مبتلا اسے دیکھی جارہی تھی وہ بلیک تھری پیس میں اس وقت دنیا کا سب سے خوبصورت نوجوان معلوم ہو رہا تھا اس کا ہلکی سی بیئرڈ والا چہرہ اس کی آنکھیں تعبیر کو اپنی طرف مائل کر رہی تھیں

وہ اپنی پر کشش نیلی آنکھوں سے اسے دیکھ رہا تھا وہ آج صبح اسے لے کر کتنا غصے میں تھا لیکن نجانے کیوں اس معصوم کا چہرہ دیکھتے ہی اس کا سارا غصہ غائب ہوجاتا تھا

“دروازے سے”

وہ خود ہی کہتا ہوا یک طرفہ مسکرانے لگا جبکہ تعبیر کو اس کی یہ حرکت سخت ناگوار گزری تھی

“ابھی اور اس ہی وقت نکل جائیں اس روم سے”

وہ اسے انگلی دکھاتے ہوئے وارن کرنے لگی جس پر اس کی مسکراہٹ مزید گہری ہوئی

“اور اگر نہ جاؤں تو؟؟”

اس کے مظبوط قدم تعبیر کی طرف بڑھنے لگے تھے اس کی نازک سی گردن اسے اپنی طرف کھینچنے میں کامیاب ہورہی تھی

“تو میں شور مچا دوں گی…”

“اوہ ریلی… کیا کہوگی سب سے؟؟”

وہ جیسے جیسے اس کے قریب آرہا تھا تعبیر کے قدم پیچھے ہوئے جارہے تھے بس کچھ ہی فاصلہ رہتا تھا اس کے اور آتش کے درمیان

“یہی کہ آپ بنا اجازت لئے روم میں آگئے ہیں”

“اچھا سچی؟؟ تو کیا اپنے چینجنگ روم میں آنے کے لیے بھی مجھے تمہاری اجازت کی ضرورت پڑے گی؟؟”

اس بار آتش کا لہجہ سخت تھا کیونکہ اسے کسی کا یوں سامنے کھڑے رہ کر آنکھوں سے آنکھیں ملا کر بات کرنا بلکل بھی نہیں پسند تھا جو بھی اس کے سامنے ہوتا تھا اس کی نظریں جھکی ہوئی ہوتی تھیں

“آپ کا؟؟ یہ روم آپ کا ہے؟؟”

“بلکل… ٹیمپریری ہی صحیح لیکن یہ میرا روم ہے… آج ایک اور بار تم میرے ہی روم میں آکر میرے آنے پر ہی اعتراض کر رہی ہو”

وہ کہتا ہوا اب اس کے بلکل قریب آ چکا تھا وہ پیچھے کو ہوتے ہوئے دیوار سے جا لگی تھی وہ اس کے اتنا قریب تھا کہ اس کے برینڈڈ پرفیوم کی خوشبو وہ محسوس کر رہی تھی آتش اپنے چہرے پر سخت تاثرات لئے اسے گھور رہا تھا تعبیر کو اب اس سے خوف آرہا تھا

“آآئی ایم سوری… مجھے اگر پتا ہوتا یہ روم آپ کا ہے… تو میں یہاں کبھی نہیں آتی…”

وہ نظریں جھکائے نرمی سے کہنے لگی وہ آتش کو مزید مجبور کر رہی تھی وہ آخر کس طرح خود پر قابو کئے کھڑا تھا ورنہ بہک تو وہ تب ہی چکا تھا جب پہلی بار اس کی نظر اس کے نازک سے وجود پر گئی تھی

“خیر… اب تو آگئی ہو تو بتاؤ… کیا کیا جائے تمہارے ساتھ؟؟”

“مطلب؟؟”

“سزا…”

وہ یک طرفہ مسکراتا ہوا اسے حیران کر گیا وہ سوالیہ نظروں سے اسے دیکھنے لگی

“کیسی سزا؟؟”

“سمجھ نہیں آرہا کہ تمہیں کس بات کی سزا دوں… دو بار بنا اجازت میرے روم میں آنے کی… میری بات نہ ماننے کی مجھ سے بحث کرنے کی… یا پھر…”

آخری والے الفاظ کو اس نے لمبا کھینچ کر کہا تھا وہ نجانے اپنی نیلی آنکھوں سے اس کی بڑی بڑی آنکھوں میں چھپا راز جاننے کی کوشش کر رہا تھا

“یا پھر؟؟”

“یا پھر مجھے بے چین کرنے کی…”

اس دفع اس کا لہجہ شوقیہ تھا وہ بڑی آہستگی سے اس کے چہرے کے قریب ہوتا جارہا تھا تعبیر کو اب گھبراہٹ محسوس ہونے لگی تھی تعبیر نے بڑی ہمت کر کے اپنا نازک سا ہاتھ اس کے دل کے مقام پر رکھ کر اسے دور کرنا چاہا مگر اچانک سے کچھ ہوا… کچھ ایسا جس سے دونوں کی ہی دھڑکنیں تیز ہونے لگیں

وہ بے یقینی سے تعبیر کو دیکھ رہا تھا آخر یہ اسے کیا ہورہا تھا تعبیر کو دو دھڑکنیں محسوس ہورہی تھیں ایک آتش درانی کے سینے کے اندر ہوتی ہوئی اچانک کی تبدیلی اور دوسرا اس کے دل کا یوں اچانک دھڑکنا آتش حیران کن انداز سے اسے دیکھ رہا تھا

تعبیر نے جلدی سے اپنا ہاتھ پیچھے کھینچا وہ جلدی سے اس کے برابر سے جگہ بناتی ہوئی جانے لگی مگر آتش نے اس کا ہاتھ مظبوطی سے پکڑا اور واپس اسے دیوار سے لگایا وہ اسے نا سمجھنے والے انداز سے دیکھا جارہا تھا تعبیر کو اپنی کلائی پر اس کی مظبوط گرفت سے درد محسوس ہونے لگا تھا

“چچ چھوڑیں مجھے…یہ کیا کر رہے ہیں آپ”

وہ اس انجان شخص کی گرفت کی شدت سے تڑپی تھی مگر وہ اب تک عجیب کشمکش میں تھا اسے یہ اچانک سے کیا ہوا تھا جیسے اس دن مال کے باہر پہلی بار اس کا دل دھڑکا تھا وہ بھول چکا تھا کہ وہ لڑکی اس کے لئے انجان ہے وہ اپنا غصہ بھی بھلا چکا تھا

“یہ…یہ سب کیا ہورہا ہے… یہ مجھے کیا ہورہا ہے”

وہ اپنی نیلی جادوئی آنکھوں سے اسے دیکھ رہا تھا تعبیر نے سوالیہ نظروں سے اسے دیکھا وہ آخر کیا کہہ رہا تھا وہ سمجھ نہیں پارہی تھی

“کیا تم یہ محسوس کر سکتی ہو؟؟”

آتش نے بے ساختہ اس کا ہاتھ اپنے دل کے مقام پر رکھا تھا ہاتھ جیسے ہی اس کے سینے پر گیا ان دونوں کی دھڑکنیں مزید تیز ہونے لگی تھیں آتش محسوس کر سکتا تھا تعبیر کی گرم جھلستی سانسیں اس بات کی گواہی دے رہی تھیں کہ جو حال آتش کا تھا وہی تعبیر کا بھی تھا

جاری ہے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *