Lams e Junooniyat by Areesha Khan NovelR50533 Lams e Junooniyat (Episode 26)
Rate this Novel
Lams e Junooniyat (Episode 26)
Lams e Junooniyat by Areesha Khan
وہ مسلسل اپنی بلو اوشین آئیز سے اسے دیکھا جارہا تھا جو اپنی سرخ ناک لئے اسے مسلسل گھورے جارہی تھی آتش کا دل ماننے کو تیار نہ تھا کہ وہ اس کی تھیکی نگاہوں سے نظریں ہٹائے
“اسلام و علیکم سر آتش کیسے ہیں آپ…”
ابھی وہ تعبیر سے کچھ کہتا جب ڈاکٹر کے سلام کرنے پر اس کی طرف متوجہ ہوا
“وعلیکم السلام اللّٰہ پاک کا کرم”
تعبیر کو اس وقت وہ کسی ڈرامے باز سے کم نہ لگ رہا تھا
“سر یہ ان کے سن ہیں اور یہ ڈوٹر…”
“جانتا ہوں”
ڈاکٹر کے تعارف کروانے پر آتش نے تعبیر کو معنی خیزی سے دیکھا جبکہ وہ اب تک حیران تھی آخر وہ یہاں کیا کر رہا تھا
“ڈاکٹر تو کیا آتش درانی سر نے یہ سب؟؟”
وہ حیرت سے پوچھنے لگا
“جی ہاں…ایسا ہی ہے مسٹر شاویز”
ڈاکٹر نے اس کے کندھے پر ہاتھ رکھا
“اوہ تھینک یو سو مچ سر…آپ نہیں جانتے آپ نے ہماری کتنی زیادہ مدد کی ہے…آپ کی وجہ سے میرے بابا جان کا ٹریٹمنٹ شروع کردیا گیا ہے…”
“نو نیڈ اپنے فادر کا اچھے سے خیال رکھنا”
آتش نے مختصر سا کہہ کر پیچھے کسی کو اشارے سے بلایا وہ اس کا گارڈ تھا آتش کے اشارے پر اس نے کوئی چابی نکال کر شاویز کی جانب بڑھائی جسے وہ نا سمجھی سے دیکھنے لگا
“یہ تمہاری بائیک کی چابی ہے بہتر ہوگا نیکسٹ ٹائم جلد بازی میں کام لینے کے بجائے دماغ سے کام لو… کوئی بھی پرابلم ہو کچھ بھی مسئلہ ہو یہ میرے اسسٹنٹ کا کارڈ ہے…اس میں میرا نمبر ہے…کام آئے گا”
وہ تھوڑے سخت مگر دھیمے لہجے میں کہتا ہوا شاویز کو مزید حیران کر گیا تھا
“سر؟؟ آپ کو کیسے پتا چلا یہ سب… میرا مطلب.”
“ہوتا ہے چلتا ہے ٹیک اٹ ایزی…ایکس کیوزمی”
وہ یک طرفہ مسکراتے ہوئے ایک نظر تعبیر کو دیکھتا ہوا وہاں سے دوسرے وارڈ کی جانب بڑھ گیا ڈاکٹر کے بتائی گئی بات کے مطابق وہ کسی معذور بچے سے ملنے گیا تھا
“آپی دیکھیں میں نے کہا تھا نہ وہ کتنے اچھے ہیں…”
شاویز کی بات پر تعبیر نے بیزاری والے انداز سے اسے دیکھا اب وہ اسے کیا بتاتی کہ وہ کتنا بہتر جانتی تھی کہ وہ کتنا اچھا ہے
☆★☆★☆★☆
“آخر کون تھی وہ لڑکی اور کیا تعلق تھا ضوریز کا اس لڑکی کے ساتھ؟؟”
وہ جب سے آئی تھی اسے کچھ ہوش نہ تھا سوائے اس منظر کے جو وہ دیکھ کر آئی تھی اسے اور کچھ یاد نہ تھا وہ بکھرے بالوں کو دونوں مٹھیوں سے مزید دبوچنے لگی اسے لگا اس کا دماغ پھٹ جائے گا
“اس نے آج صبح ہی کہا تھا نہ… کہ وہ دوسرے شہر جارہا تھا تو پھر… کیا اس نے مجھ سے جھوٹ کہا تھا؟؟”
اس کی آنکھیں سرخ تھیں اسے شدید سر درد کا احساس ہورہا تھا اسے سمجھ نہیں آرہا تھا کہ اس کے ساتھ یہ سب کیا ہورہا ہے
بامشکل اپنے لڑکھڑاتے قدموں کے ساتھ وہ بیڈ پر آ بیٹھی سائڈ ٹیبل پر سے سر درد کی میڈیسن نکال کر پانی کے ساتھ لی اور آنکھیں بند کئے وہیں لیٹ گئی کچھ ہی دیر میں اسے نیند نے اپنے آغوش میں لے لیا تھا البتہ یہ تو وقتی سکون تھا آگے اور کیا کیا ہونے والا تھا یہ تو اللّٰہ ہی جانتا تھا
☆★☆★☆★☆
رات کا وقت تھا جب افتخار صاحب کو ہوش آیا انہیں روم میں شفٹ کردیا گیا تھا تعبیر اور شاویز سمیت حریم بھی ان کے ساتھ روم میں چلی گئی جہاں افتخار صاحب کی طبیعت اب کافی بہتر لگ رہی تھی وہیں وہ لوگ انہیں بتا چکے تھے کہ ان کا علاج آتش درانی کی وجہ سے ممکن ہوا تھا
“کیا میں ان سے مل سکتا ہوں؟؟”
افتخار صاحب کی بات پر تعبیر سکتے کی حالت میں کھڑی انہیں دیکھنے لگی
“بابا جان وہ تو کب کے چلے گئے…”
“چلے گئے؟؟”
افتخار صاحب نے حیرانی سے کہا
“جی بابا جان وہ تو آدھے گھنٹے کے بعد ہی واپس چلے گئے تھے”
افتخار صاحب نے اثبات میں سر ہلایا
“زندگی رہی تو ان سے مل کر ان کا شکریہ ادا کروں گا”
وہ عہد کرتے ہوئے واپس بیڈ پر لیٹ گئے جبکہ حریم ائیزل کو کال کرنے کے غرض سے باہر چلی گئی
“بابا میں میڈیسن لیکر آتا ہوں”
شاویز بہانا کرتا ہوا اس کے پیچھے چلا گیا
“اففف ائیزل کہاں ہو تم پلیزز پک اپ دی کال…”
وہ کینٹین کے سامنے کھڑی مسلسل اسے کال پر کال کئے جارہی تھی مگر دوسری جانب سے کوئی جواب نہ تھا
“حریم جی…” پیچھے سے آتے شاویز کی آواز پر وہ پلٹی اسے دیکھ کر اس کا چہرہ کھل اٹھا تھا
“ہاں…”
“حریم جی آپ نے صبح سے کچھ نہیں کھایا چلیں کچھ کھا لیں…” شاویز نے فکر مندی سے کہا
“نہیں… مجھے بھوک نہیں…” شاویز نے دیکھا تھا وہ تھوڑی پریشان لگ رہی تھی
“کیا ہوا خیریت؟؟”
“میں کب سے ائیزل کو کال کر رہی ہوں ریسیو ہی نہیں کر رہی پتا نہیں کہاں ہے”
حریم نے پریشانی ظاہر کی
“آپ پریشان نہ ہوئیں اب جبکہ بابا ٹھیک ہو چکے ہیں تو آپ کو گھر چلے جانا چاہئے میرا مطلب آپ تھک گئی ہوں گی نہ”
شاویز نے سنجیدگی سے کہا
“ہاں میں بس تھوڑی ہی دیر میں جاتی ہوں بس انکل سے مل لوں”
شاویز نے اثبات میں سر ہلایا اور دونوں واپس اندر کو چلے گئے
حریم نے افتخار صاحب کو اللّٰہ حافظ کیا اور تعبیر سے مل کر وہاں سے گھر جانے کے لئے نکل گئی جبکہ شاویز پھر سے کوئی بہانا بنا کر اس کے پیچھے پیچھے چلا گیا
“حریم جی سنیں…”
“ہاں؟؟” وہ جو بھاگتا ہوا اس کے پیچھے آرہا تھا اچانک رکا
“حریم جی اتنی رات ہو چکی ہے آپ کا اکیلے جانا مناسب نہیں… اگر آپ مائینڈ نہ کریں تو… میری بائیک…”
آگے وہ مزید کچھ نہ کہہ سکا ہاں آج وہ بڑی ہمت کر کے اسے فلاورز اور لوو نوٹ دے آیا تھا مگر ابھی اس وقت وہ اس سے اس بارے میں بات کرنے سے کترا رہا تھا
“میں چلی جاؤں گی شاویز…”
حریم نے سنجیدگی سے کہا
“لیکن اندھیرا بہت ہوچکا ہے اس وقت آپ کا یوں کسی بھی رکشہ یا بس میں جانا مناسب نہیں…”
آخر تو محبت تھی نہ وہ اسے اکیلے جاتا کیسے دیکھ سکتا تھا حریم نے اثبات میں سر ہلایا تب ہی وہ بائیک پارکنگ سے نکال کر وہاں لے آیا اور حریم اس کے کندھے کو مظبوطی سے پکڑے اس کے ساتھ بائک پر بیٹھ گئی
دوران سفر ان کے درمیان کوئی گفتگو نہ ہوئی مگر شاویز کو اس کے ہاتھ کا لمس محسوس کر کے سکون سا مل رہا تھا جبکہ حریم مجبور تھی کیونکہ وہ کبھی بائک پر نہ بیٹھی تھی آج پہلی بار اس نے بائیک پر بیٹھنے کی ہمت کی تھی تبھی تو وہ گرنے سے ڈر رہی تھی
“تھنکس شاویز…”
“تھنکس تو مجھے کہنا چاہئے ہمیشہ آپ برے وقت میں ہمارے ساتھ رہی ہیں…”
شاویز کی بات پر اس کے لبوں پر ہلکی سی مسکراہٹ آئی
“یہ میرا فرض تھا اللّٰہ حافظ”
وہ کہتی ہوئی اپارٹمنٹ کے اندر جانے لگی
“حریم جی…” اس کی آواز پر وہ پلٹی
“مجھے انتظار رہے گا”
وہ ذومعنی الفاظ کہتا ہوا وہاں سے چلا گیا تھا جبکہ وہ اب تک یہی سوچ رہی تھی آخر وہ کس چیز کے انتظار کی بات کر رہا تھا
☆★☆★☆★☆
(دو دن بعد)
دو دن ہوگئے تھے مگر وہ یونیورسٹی نہیں گئی تھی وہ ائیزل کی حالت دیکھ کر بہت زیادہ پریشان تھی اس کا بخار تھا جو اترنے کا نام ہی نہیں لے رہا تھا ابھی بھی وہ اس کے سرہانے بیٹھی اس کی پیشانی پر ٹھنڈے پانی کی پٹیاں رکھ رہی تھی مگر اب تک اس کی حالت ویسی ہی تھی
جس رات شاویز اسے چھوڑ کر گیا تھا اس رات اسے آئیزل کمرے میں بے ہوش ملی تھی بہت مشکل سے اسے ہوش آیا تھا مگر تب سے اب تک اس کا بخار کم نہیں ہوا تھا ڈاکٹر نے اسے اسٹریس سے دور رکھنے کا بتایا تھا مگر اب وہ انہیں کیا بتاتی کے ائیزل کی یہ حالت کس وجہ سے تھی
“ائیزل پلیززز ہمت کرو، اٹھو کچھ کھالو…”
حریم نے اس کی پیشانی پر ہتھیلی رکھ کر بخار کا جائزہ لیا جو کہ اب تھوڑا کم محسوس ہورہا تھا ائیزل اٹھنے کی کوشش کرنے لگی حریم نے اسے سہارا دے کر ٹیک سے بٹھایا
“حریم میرا موبائل…”
اس کا سر اب بھی چکرا رہا تھا بڑی مشکل سے اس نے یہ الفاظ ادا کئے تھے
“ائیزل تم ٹھیک ہوجاؤ پھر کر لینا استعمال…”
حریم نے اس کا موبائل سائلنٹ کردیا تھا کیونکہ اس کے دوستوں کے میسجز آئے جارہے تھے جن کا جواب حریم دے نہیں سکتی تھی
“حریم پلیززز میرا موبائل دو مجھے چیک کرنا ہے… شاید ضوریز…”
اس سے تو ٹھیک سے بولا بھی نہیں جارہا تھا مگر اس کی ضد کی وجہ سے حریم نے اسے اس کا موبائل لاکر دیا جسے وہ چیک کرنے لگی مگر کوئی میسج نہ تھا
“ائیزل دیکھو ضوریز بھائی نے تمہیں ایک بھی مرتبہ کال کی ہی نہیں لیکن تمہارے ڈیڈ، انہوں نے مسلسل کالز کی ہیں جنہیں میں ریسیو نہ کر سکی کیونکہ میں ان سے کہتی بھی کیا؟؟ دیکھو ائیزل میری بات مانو تو ان کی فکر چھوڑ دو اگر وہ تم سے سچی محبت کرتے ہوں گے تو خود تمہارے پاس واپس آجائیں گے…”
حریم اسے مسلسل سمجھائی جارہی تھی مگر عشق کا بھوت ایسا چڑھا تھا کہ اترنے کا نام نہیں لے رہا تھا
“ائیزل… پلیزز بات کو سمجھنے کی کوشش کرو دیکھو کتنا وقت گزر گیا تمہارے ڈیڈ تمہیں کب سے اس لڑکے سے ملنے کا کہہ رہے تھے … شاید وہ پاکستان آگیا ہو جبھی تمہارے ڈیڈ نے کال کی ہو…”
آئیزل حویت سے اسے دیکھنے لگی جس پر اس نے اشارے سے اسے کال کرنے کا کہا
“حریم میں ان سے بات نہیں کروں گی مجھے نہیں ملنا اس شخص سے…”
اس نے بیزاری سے کہا
“ائیزل اچھا بس ایک بار بات تو کر کے دیکھو، دیکھو تو سہی وہ کہہ کیا رہے ہیں…”
حریم کے سمجھانے پر اس نے اپنے ڈیڈ کو کال لگائی
“اسلام و علیکم ڈیڈ…”
اس نے دھیمے لہجے میں کہا
“وعلیکم السلام میرا پرنس بیٹا کیسا ہے؟؟ اور کدھر غائب تھیں تم میں تمہیں کب سے کالز کر رہا تھا؟؟ سب ٹھیک تو ہے نہ؟؟”
کاظم صاحب نے فکرمندی اور لاڈ کے ملے جلے انداز میں کہا جس پر وہ گہری سانس لینے لگی
“ڈیڈ آئی ایم فائن آپ کیسے ہیں؟؟”
وہ سنجیدگی سے بولی
“میں بھی ٹھیک میرا بچہ، بتانا یہ تھا کہ میں بہت جلد پاکستان آرہا ہوں… اور اس بار کچھ مہینوں کے لئے”
کاظم صاحب کی بات پر وہ تھوڑا خوش ہوئی تھی
“کیا سچی ڈیڈ؟؟ پھر بتائیں آپ کب آرہے ہیں؟؟”
اس نے خوش دلی سے پوچھا
“بس یہی کوئی ایک مہینے تک لیکن مجھے تمہیں یہ بتانا تھا کہ ارتضیٰ کل شام ہی یہاں سے پاکستان کے لئے نکلے گا تو ہو سکتا ہے وہ پرسوں تم سے ملنے آئے، میں نے اسے تمہارا نمبر دے دیا تھا…”
جہاں وہ ان کے آنے کی خوشی میں بہت خوش تھی وہیں وہ اس غیر شخص کا نام سن کر پھر سے اداس ہوگئی تھی اس نے بنا کچھ کہے کال ڈسکنیکٹ کردی تھی
“ائیزل یہ کیا کیا؟؟ اللّٰہ حافظ کئے بنا ہی فون بند کردیا؟؟”
حریم نوٹ کر چکی تھی کچھ تو ہوا تھا
“ہاں تو کیا کروں ؟؟ اس غیر شخص کے آنے پر خوشی مناؤں؟؟ اس سے ملنے کے لئے رضامند ہوجاؤں؟؟”
وہ سخت لہجے میں کہنے لگی جس پر حریم نے اپنا سر پکڑا
“دیکھو ائیزل ہو سکتا ہے تمہارے لیے وہی شخص ٹھیک ہے…سمجھتی کیوں نہیں ہو؟؟”
حریم کی بات پر وہ اسے بے یقینی سے دیکھنے لگی
“تمہارا دماغ تو ٹھیک ہے نہ حریم؟؟ کیا کہی جارہی ہو؟؟” اس نے مزید آنکھیں دکھائیں
“اففف اللّٰہ اچھا سوری نہ آئیزز میں بس یہ کہہ رہی تھی جو جیسا چل رہا ہے فلحال اسے ویسا ہی چلنے دو، دیکھو تم خود سوچو اگر تم ڈیڈ کو اس کے بارے میں بتاؤ گی تو وہ اس سے ملنا بھی چاہیں گے رائٹ؟؟ مگر تم اس وقت یہ بھی نہیں جانتی کہ وہ ہے کہاں اور وہ تم سے شادی کرنا چاہتا بھی ہے یا نہیں…”
حریم کی بات پر ائیزل اب سنجیدگی سے اسے دیکھنے لگی
“اور اب اگر تم ارتض نامی شخص سے ملنے سے انکار کرو گی تو ڈیڈ ریزن پوچھیں گے…پھر کیا کرو گی تم؟؟ اس لئے کہہ رہی ہوں جیسا چل رہا ہے ویسا چلنے دو… اور بہتر ہوگا تم فلحال خاموش رہو”
حریم نے اسے نرمی سے سمجھایا جس پر وہ اسے دیکھنے لگی
“تم کہہ رہی ہو میں شادی کے لئے حامی بھرلوں؟؟”
“نہیں یار میں نے ایسا کب کہا؟؟ وہ کونسا آتے ہی تم سے شادی کرلے گا… ظاہر سی بات ہے تم دونوں کی ہی زندگی کا سوال ہے یہ فیصلہ وہ اتنی جلدی نہیں کرے گا پہلے تم سے ملے گا کچھ وقت تمہارے مجاز کو دیکھے گا تمہیں سمجھے گا اگر اسے تم سمجھ آگئیں تو آگے بڑھے گا نہ… تب تک ہو سکتا ہے ضوریز بھائی ہی تمہارے ڈیڈ سے مل لیں اور مسئلہ ہی حل ہو جائے”
اس بات وہ اثبات میں سر ہلانے لگی تھی اسے واقعی حریم کی بات سمجھ آگئی تھی جس حریم نے سکھ کا سانس لیا تھا
“تم صحیح کہہ رہی ہو حریم… روز روز کی لڑائی سے اچھا میں ڈیڈ کی بات مان ہی لوں… آگے جو ہوگا دیکھا جائے گا…”
“گڈ… چلو شاباش اب چلو تمہارا فیس واش کرواؤں پھر کھانا بھی تو کھانا ہے…”
حریم نے اسے پیار سے کہا جس پر وہ اثبات میں سر ہلاتی ہوئی اٹھ کر اس کے ساتھ چلی گئی
☆★☆★☆★☆
آج پھر سے وہ کال پر کال کئے جارہے تھے مگر اس بار انہوں نے ہار نہیں مانی تھی جب دوسری طرف سے کال ریسیو کر کے سلام کیا گیا
“وعلیکم السلام… امید ہے پہچان لیا ہوگا…”
ان کی بات پر دوسری طرف سے ہاں میں جواب ملا تھا
“میں مشکل وقت میں ہوں… بہتر ہوگا میری مشکل آسان کردو… میں مزید یہ سب برداشت نہیں کر سکتا… کبھی بھی کچھ بھی ہو سکتا ہے… بہتر ہوگا تم اسے آکر لے جاؤ…”
انہوں نے سنجیدگی سے کہا
“جانتا ہوں… اور میں بھی یہی سوچ رہا ہوں کہ اب ہمیں یہ بات انہیں بتا دینی چاہیے… تب ہی آگے کچھ ہوگا…”
دوسری جانب سے کسی نے یہ الفاظ ادا کئے تھے
“کیا مطلب بتا دینی چاہئے؟؟ تم نے اسے اب تک کچھ بھی نہیں بتایا؟؟”
انہوں نے نا سمجھی والے انداز میں کہا
“نہیں… میں نے اب تک اسے یہ سب نہیں بتایا… میری ہمت نہیں ہوئی…کس طرح یہ سب سنبھالوں…”
اس نے اپنی پیشانی رگڑتے ہوئے کہا
“اوہ… ہمت نہیں ہوئی یا وعدے سے مکر رہے ہو؟؟ جب بڑے بن کر سامنے آئے تھے تب کہاں سے آئی تھی یہ ہمت؟؟”
انہوں نے بھی تنزیہ انداز میں کہا
“بات کو غلط رخ نہ دو… میں اپنے وعدے سے نہیں مکر رہا بس مجھے تھوڑا وقت چاہئے…”
دوسری طرف سے دھیمے سی آواز میں کسی نے یہ کہا تھا
“وقت؟؟ اور کتنا وقت ہاں؟؟ تم جانتے نہیں ہو میرے پاس اتنا وقت نہیں ہے میری زندگی کا کوئی بھروسہ نہیں ہے… اور پھر اس کی زندگی کبھی بھی اندھیرے میں آسکتی ہے…کبھی بھی کچھ بھی ہو سکتا ہے اسے…”
ان کے لہجے میں ڈر واضح ہورہا تھا
“پریشان مت ہو جہاں اتنا وقت دیا ہے وہیں تھوڑا اور وقت دو میں وعدہ کرتا ہوں تم سے میں اس وقت تک نہیں مروں گا جب تک یہ مسئلہ حل نہ ہوجائے…”
دوسرے شخص کی بات پر انہوں نے گہری سانس لی
“مزید اور کتنا وقت؟؟”
“اس سال کے آخر تک کا وقت… پھر سب کچھ ٹھیک ہو جائے گا…اگر وہ وہاں محفوظ نہیں تو اسے کچھ دنوں کے لئے کہیں اور بھیج دو جہاں وہ محفوظ رہے”
“ٹھیک ہے… اگر اس سال کے آخر تک میں رہا تو دیکھ لوں گا لیکن اگر میں مر جاؤں تو تم اپنا وعدہ کبھی نہ بھولنا ورنہ قیامت کے دن میرے ہاتھ ہوں گے اور تمہارا گریبان ہوگا…”
انہوں نے سنجیدہ سے انداز میں کہا جس پر دوسری طرف سے مزید تسلی ملی اور فون بند ہوگیا
☆★☆★☆★☆
“آپی… گھر کا سامان ختم ہورہا ہوگا نہ؟؟ کیونکہ آخری مہینہ چل رہا ہے”
وہ جو کچن میں کھانا بنانے کے غرض سے کھڑی آتش درانی کی مہربانی کے بارے میں سوچ رہی تھی شاویز کی بات پر اس کی سوچ کا محور ٹوٹا
“ہاں… ایسا ہی ہے مگر تم پریشان نہ ہو میں نے پالر جوائن کرلیا ہے اور ساتھ ہی ساتھ جوب بھی تلاش کر رہی ہوں… کل جاؤں گی میں ایک جگہ انٹرویو دینے”
تعبیر نے دھیمے لہجے میں کہا مگر شاویز سر جھکائے وہیں کھڑا ہوگیا
“کیا ہوا؟؟ ایسے کیوں کھڑے ہو؟؟”
تعبیر جب کیبنیٹ کھولنے کے لئے پلٹی تو اسے ایسے کھڑا پا کر پوچھنے لگی
“آپی اگر آتش درانی نہ ہوتے تو شاید آج ہمارے بابا ہمارے بیچ نہ ہوتے”
شاویز نے سنجیدگی سے کہا
“اللّٰہ نہ کرے ایسے تو نہ بولو… اور ویسے بھی وہ نہ ہوتا تو بھی پیسوں کا انتظام ہو ہی جاتا… میں نے رائمہ کو کال کی تھی… وہ لے آتی کچھ پیسے…”
رائمہ کا نام سن کر وہ جو مایوسی سے سر جھکائے کھڑا تھا اچانک سے اس کی طرف آیا
“ہیں؟؟ آپی؟؟ بابا کے علاج کے لئے آپ نے اس بلیک بیوٹی کو کال کیوں کی تھی؟؟ وہ کونسا کسی ملک کی شہزادی لگی ہے؟؟ جو اچانک سے لاکھ روپے نکال کر ہتھیلی میں رکھ دیتی؟؟”
شاویز جس طرح کرنٹ کھا کر آگے بڑھا تھا تعبیر اسے دیکھتی ہی رہ گئی تھی
“شاویز… کیا ہوگیا؟؟ کیوں اس بچاری کو اتنا برا برا کہتے ہو؟؟”
تعبیر کی بات پر وہ اسے بے یقینی سے دیکھنے لگا
“بچاری؟؟ آپی وہ کوئی بچاری نہیں ایک نمبر کی چلاک لومڑی ہے… آپ کو پتا ہے؟؟ ابھی دو دن پہلے اس نے فیس بک پر میری نئی پروفائل پر ہنسنے والے کمنٹس بھی کئے تھے اور ساتھ ہی ساتھ مجھے چوزا بھی کہا تھا… اب آپ ہی بتائیں میں کہیں سے چوزا لگتا ہوں کیا؟؟”
وہ ایک اسٹائل سے اپنے بالوں کو سنوارتا ہوا باہر کی جانب جانے لگا جب پیچھے نظر گئی تو جیسے اس کی جان ہے نکل گئی
“بب بابا جان… آپ یہاں؟؟ میرا مطلب… وہ… وہ آپ آرام کر رہے تھے نہ؟؟ پھر یہاں کیسے… آپ کو ڈاکٹر نے آرام کا کہا ہے نہ ہاہاہاہا ہاں بلکل آپ کو آرام کا ہی تو کہا تھا…”
وہ الٹی سیدھی باتیں بناتا ہوا خود ہی ہنسنے لگا پھر چپ ہوکر کھڑا ہوا جبکہ اس کے ایسے رویئے پر تعبیر بھی باہر کی جانب دیکھنے لگی
“ارے رائمہ بیٹی نے تجھے چوزا کیوں کہا؟؟ گدھا کہنا تھا گدھا…”
افتخار صاحب کی بات پر جہاں تعبیر بامشکل اپنی ہنسی کنٹرول کرنے کی کوشش میں تھی وہیں وہ چہرے کے عجیب و غریب زاویئے بنائے اپنی بہن کو دیکھ رہا تھا
“اب یہاں کھڑا کھڑا کیا کر رہا ہے؟؟ چل مجھے کمرے کی طرف لے کر چل… مجھ سے ویل چیئر چلائی نہیں جارہی…”
افتخار صاحب کی بات پر وہ اثبات میں سر ہلاتے ہوئے بیچارگی والا منہ بنائے باہر کو آیا جہاں صحن میں ان کی ویل چیئر تھی وہ انہیں کمرے کی جانب لے گیا
“آیا بڑا فیس بک پر ہیرو بننے والا… ویل چیئر ٹھیک سے چلانی تو آتی نہیں… گدھا…”
وہ مسلسل بڑبڑائے جارہے تھے جبکہ وہ منہ بنائے انہیں سہارا دیتا ہوا ویل چیئر سے بیڈ پر بٹھانے لگا
“بابا جان یہ لیں آپ کا سوپ…”
تعبیر سوپ کا پیالا پکڑے ان کے کمرے میں آئی
“کھڑا کھڑا دیکھ کیا رہا ہے؟؟ سوپ کون پلائے گا؟؟”
شاویز جو آنکھیں گھمائے ادھر دیکھ رہا تھا اب ان کی جانب دیکھنے لگا
“جی جی بابا… میں پلاتا ہوں نہ سوپ”
“اور نہیں تو کیا تیرا اپنا دماغ کام نہیں کرتا؟؟ وہ بچی صبح سے کسی نہ کسی کام میں ہی مصروف ہے تھک گئی ہوگی… اور تو… تجھے تو فرصت ہی نہیں اپنے یہ جھاڑ بھونس جیسے بال بنانے سے…”
ایک بار پھر وہ اس کی عزت افزائی کر گئے تھے مگر اب بار انہوں نے اس کے جان سے پیارے بالوں کو ایسا کہا تھا مگر وہ کر بھی کیا سکتا تھا بچارا چپ چاپ سوپ پلانے میں مصروف ہوگیا
☆★☆★☆★☆
شام کا وقت تھا جب آئیزل کے موبائل پر میسج آیا وہ اس وقت اپنے روم میں آرام کر رہی تھی مگر موبائل کے رنگ ہونے پر چیک کرنے لگی جس پر ضوریز کا نام چمک رہا تھا جسے دیکھ کر اس کے دل کی دھڑکنیں بے ترتیب ہونے لگیں
مگر جو کچھ اس دن اس نے دیکھا تھا کیا اس کے بعد اس سے بات کرنی چاہیے تھی کیا وہ اب بھی بھروسے کے لائق تھا؟؟ یہی سوچیں اس کے دماغ میں دھوم رہی تھیں کچھ ہی دیر بعد پھر سے اس کا میسج آیا مگر ائیزل نے پھر سے اگنور کیا مگر اب کی بار کال آنے لگی تھی کیونکہ ائیزل نے اس کے میسج سین کرلئے تھے مگر جواب نہ دیا تھا
“کیا ہوا آئیز تمہارا موبائل رنگ ہورہا ہے دیکھو کس کی کال ہے”
حریم جو اس وقت کچن میں بیزی تھی مسلسل موبائل بجنے کی آواز سن کر اندر دوڑی چلی آئی
“پتا ہے مجھے کس کی کال ہے”
اس نے سنجیدگی سے کہا جبکہ حریم سمجھ چکی تھی
“تو کیا تم بات نہیں کرو گی؟؟”
حریم نے بھی دھیمے لہجے میں پوچھا کیونکہ اس وقت ائیزل کافی سنجیدہ تھی
“نہیں…”
“مگر کیوں؟؟”
اسے حیرت ہوئی کیونکہ وہ اس کے لئے آج بھی تڑپ رہی تھی اور اب جب کال آنے لگی تھی تو وہ بات بھی کرنا نہیں چاہ رہی تھی
“کیونکہ میں حقیقت جاننا چاہتی ہوں… اگر اسے مجھ سے محبت ہوگی تو وہ بھی میرے لئے اتنا ہی پریشان ہوگا جتنا میں ہوئی تھی…”
وہ سخت لہجے میں کہتی ہوئی بستر پر لیٹ کر کمفرڈ میں منہ چھپا گئی جبکہ حریم کو اس کی حالت اب بھی کچھ خاص بہتر نہیں لگ رہی تھی وہ اسے اس کے حال پر چھوڑ چکی تھی اسے وقت چاہئے تھا سنبھلنے کا حریم واپس کچن میں چلی گئی تھی
☆★☆★☆★☆
وہ جو اس وقت ایک کرسی پر بیٹھا ہوا سامنے رکھی کرسی پر پیر ٹکائے مسلسل موبائل اسکرین پر نظر جمائے ہوئے تھا افتخار صاحب اسے کھا جانے والی نظروں سے گھور رہے تھے مگر وہ اس وقت حریم کا نمبر سیو کر کے اسے میسج کرنے کا سوچ رہا تھا
“بابا جان آپ کے لئے چائے بنادوں؟؟”
وہ جو کچھ دیر پہلے ہی پالر سے آئی تھی کھانا کھانے کے بعد اب چائے بنانے کے لیے تیار کھڑی تھی
“ان صاحب سے پوچھ لو انہیں کسی چیز کی ضرورت تو نہیں…”
افتخار صاحب کی بات پر وہ شاویز کو دیکھنے لگی جو دنیا جہاں سے بیگانہ ہوکر موبائل پر مصروف تھا
“شاویز…چائے پیو گے؟؟”
اس نے سنجیدگی سے کہا
“جی ہاں دو کپ ہلکی چینی کے…”
وہ اس وقت اتنا مگن تھا کہ تعبیر کی بات پر وہ بنا کہتا چلا گیا
“دو کیوں تین کپ پیو بیٹا… ویسے بھی جس سے باتیں کی جارہی ہیں اس سے کر کے دکھانا یہ فرمائشی پروگرام پھر دیکھنا انجام…”
وہ سختی سے کہتے ہوئے اسے ہوش پر آنے پر مجبور کر گئے وہ جلدی سے تمیز سے بیٹھنے لگا
“کک کیا مطلب بابا جان… کس سے بات؟؟ آئی مین…”
وہ بوکھلا گیا تھا کیونکہ افتخار صاحب نے نوٹ کیا تھا جب بھی حریم اس کے سامنے ہوتی تھی اس کی آنکھوں میں ایک عجیب ہی چمک آتی تھی اور وہی چمک اب بھی دکھائی دے رہی تھی
“بس بس بڑا آیا مطلب پوچھنے والا”
ابھی وہ مزید شرمندہ ہوتا مگر تب ہی دروازہ بجنے لگا
“جا جاکے دیکھ کون آیا ہے…”
“جج جی…بابا جان”
وہ بوکھلاتا ہوا باہر کو چلا گیا تعبیر بھی مسکراتی ہوئی کچن میں چلی گئی
“اتنی رات بھلہ کون آگیا بیس سالوں سے ہوں اس گھر میں مجال ہے جو کبھی کوئی آیا ہے اس بلیک بیوٹی کے بجائے…”
وہ منمناتا ہوا گیٹ کھولنے لگا مگر جب سامنے نظر گئی تو حیران رہ گیا وہ دوسری جانب رخ کئے کھڑا تھا مگر جب پلٹا تو شاویز کو حیران کر گیا
“سر آتش درانی؟؟”
وہ جو اس وقت پتیلی میں پانی بھر رہی تھی آتش درانی کا نام سنتے ہی اس کے ہاتھ سے برتن چھوٹ کر سنگ میں جا گیا اس کا دل زوروں سے دھڑکنے لگا وہ بے یقینی سے کھڑی سنے گئے الفاظوں پر غور کر رہی تھی
“سر آپ باہر کیوں کھڑے ہیں پلیززز اندر آئیں…”
شاویز کی بات پر وہ مسکراتا ہوا اندر آنے لگا وہ جو کچن کے دروازے پر کھڑی باہر سے آتے شخص کو دیکھنے کی کوشش کر رہی تھی وہ اس کی ایک جھلک دیکھ کر جلدی سے کچن کے اندر ہوگئی
“کیسے ہو شاویز…”
وہ اپنے مخصوص انداز میں چلتا ہوا ایک نظر پورے گھر پر دوڑاتے ہوئے اندر کی جانب آرہا تھا
“جی جی سر اللّٰہ پاک کا کرم…”
وہ بڑی ایکسائٹمنٹ میں اس کے پیچھے پیچھے چلتا ہوا اندر کو آرہا تھا
“سر بابا اس روم میں ہیں…”
شاویز کی بات پر وہ سامنے والے کمرے کی جانب بڑھ گیا
“یہ؟؟ یہ یہاں کیا کر رہا ہے؟؟”
وہ مسلسل اپنے دل کے مقام پر ہاتھ رکھے اپنی حالت کو کنٹرول کرنے کی کوشش کر رہی تھی مگر اس کا وجود پسینے ہونے لگا تھا
“اسلام و علیکم…کیسے ہیں آپ سر…”
وہ بڑے احترام سے کہتا ہوا آگے بڑھ کر ہاتھ ملانے لگا شاویز کو وہ بہت زیادہ پسند آرہا تھا مگر کچن کے دروازے پر کھڑی تعبیر اس کی آواز سن کر انتہا کی حیران ہوئی تھی
وہ جو پوری انڈسٹری پر راج کرتا تھا وہ جو کسی سے سیدھے منہ بات نہ کرتا تھا وہ جس پر لوگ مرتے تھے وہ شخص جس کے اٹیٹیوڈ پر کوئی متاثر ہوئے بنا نہ رہ سکتا تھا وہ گھمنڈی شہزادہ آج کس طرح احترام سے پیش آرہا تھا وہ شخص اسے ایک آنکھ نہ بھا رہا تھا
“میں ٹھیک الحمدللہ آپ کی وجہ سے…”
“اوہ نہیں نہیں سر ایسا نہ کہیں آپ بڑے ہیں ہم سے…”
افتخار صاحب کی بات پر وہ جلدی سے ادب سے کہنے لگا
“اس دن میں ذرا مصروف تھا تو سوچا کیوں نہ آج آپ سے مل لیا جائے…”
وہ کسی عام بندے کی طرح گفتگو کر رہا تھا شاویز کو یہ کسی خواب سے کم نہ لگ رہا تھا
“بلکل صحیح کیا آپ نے… اس دن میں بھی آپ سے ملنا چاہ رہا تھا… آپ کا شکریہ ادا کرنے کے لئے”
افتخار صاحب نے خوشدلی سے کہا
“سر شکریہ میرا نہیں اس رب کا ادا کریں… ایسا اس لئے ممکن ہوا کیونکہ وہ ایسا چاہتا تھا…”
آتش نے ہلکی سی مسکراہٹ لئے کہا جب کے اس کی نظریں تو کچھ اور ہی تلاش رہی تھیں
“اچھا بیٹا کیا پینا پسند کرو گے… ویسے اس غریب خانے میں تمہیں کچھ خاص پیش نہیں کر پاؤں گا میں…”
انہوں نے سنجیدگی سے کہا
“نہیں نہیں سر جو آپ پلائیں گے وہ پی لوں گا…”
اس نے مسکراتے ہوئے کہا
“پھر تو تعبیر کے ہاتھ کی چائے پینا… بہت اچھی بناتی ہے وہ…”
انہوں نے مسکراتے ہوئے کہا اور شاویز کو اشارہ کیا تو وہ کچن کی جانب چلا گیا جبکہ تعبیر کا نام سن کر آتش کا چہرہ کھل اٹھا تھا وہ آج بلکل ایک عام شخص کی طرح پیش آرہا تھا جبکہ افتخار صاحب کو وہ شخص بہت پسند آیا تھا
“آپی جی آتش درانی آیا ہے… آپ کے ہاتھ کی چائے کا منتظر ہے وہ”
شاویز نے ایکسائٹڈ ہوتے ہوئے کہا جس پر وہ آنکھیں بڑی کرتے ہوئے اس کی شکل دیکھ رہی تھی
“چائے؟؟ کیا وہ ڈائٹ پر نہیں ہے؟؟ میں نے تو سنا تھا یہ لوگ بلیک کافی پیتے ہیں”
اس نے سوالیہ نظروں سے دیکھا
“ارے آپ تو ایسے کہہ رہی ہیں جیسے انہیں چائے کا ایک کپ نہیں بلکہ پورا کا پورا ڈرم پینا ہے… بھئی ایک وقت میں ایک کپ چائے پینے سے کونسا ان کا پیٹ نکل آنا ہے؟؟”
وہ کہتا ہوا واپس اندر چلا گیا جبکہ تعبیر کا دل کر رہا تھا وہ چائے میں زہر ملا کر دے دے
تقریباً دس منٹ بعد وہ چائے کی ٹرے لئے اندر کی جانب آنے لگی جہاں وہ تینوں بیٹھے ایک دوسرے سے باتیں کر رہے تھے وہیں تعبیر کی موجودگی محسوس کرتے ہوئے سب اس کی جانب متوجہ ہوئے
وہ سلیقے سے سر پر دوپٹہ لئے چائے کی ٹرے ٹیبل پر رکھنے لگی مگر اس نے ایک نظر آتش کو نہ دیکھا جبکہ وہ مسلسل سے ہی دیکھا جارہا تھا وہ اس وقت لائٹ بلو کلر کے سادے سے شلوار قمیض میں بھی بہت پیاری لگ رہی تھی جبکہ وہ خود اس وقت ڈارک بلو تھری پیس میں تھا
“بیٹھو بیٹا…”
وہ جو مڑ کر جانے لگی تھی افتخار صاحب کی بات پر مجبوراً اسے بیٹھنا پڑھا کیونکہ افتخار صاحب بیڈ پر تھے اور بیڈ کے برابر تین کرسیاں اور ایک ٹیبل رکھا ہوا تھا تعبیر شاویز کے برابر والی کرسی پر بیٹھی تھی اس لئے آتش آسانی سے اسے دیکھ سکتا تھا
“چائے اور بسکٹ لو بیٹا…” افتخار صاحب مسکراتے ہوئے بولے
“ضرور انکل اب آپ نے اتنی تعریفیں کر ہی دی ہیں تو میں مس تعبیر کے ہاتھ کی چائے ضرور پیوں گا…”
وہ معنی خیزی سے کہتا ہوا اسے اپنی طرف متوجہ کرنے کی کوششوں میں تھا مگر تعبیر نظریں جھکائے وہیں بیٹھی ہوئی تھی
آتش نے ایک سپ لیا ویسے تو وہ واقعی کافی کے علاوہ بیئر اور وسکی ہے پیا کرتا تھا مگر اس کی چائے میں ایسا جادو تھا کہ وہ کچھ ہی دیر میں گرم گرم چائے ختم کر گیا
“چائے تو واقعی بہت زبردست بنائی ہے آپ نے مس تعبیر علی… دل کر رہا ہے ایک اور کہ بنواؤں”
اس نے ایک بار پھر اسے مخاطب کیا مگر وہ نظریں جھکائے بیٹھی تھی لیکن سب کو دکھانے کے لیے مجبوراً اسے جھوٹی مسکراہٹ دکھانی پڑھی
“اور اس ایک اور کپ کو میں تمہارے منہ پر دے ماروں…”
وہ دل ہی دل میں کہتی ہوئی مٹھیاں بھینچنے لگی
جاری ہے
