Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Lams e Junooniyat (Episode 01)

Lams e Junooniyat by Areesha Khan

“آاااہ… لے جاؤ اسے یہاں سے اور دوبارا میرے سامنے آنے کی جرات بھی مت کرنا ورنہ انجام بہت برا ہوگا”

وہ اپنی سرخ آنکھیں لئے دھاڑنے سے انداز میں کہنے لگا جس پر ملازم کانپتے ہوئے جلدی سے کھانے کی ٹرے اٹھائے کمرے سے باہر چلا گیا

یہ سب کچھ نیا نہیں تھا مینشن کے تقریباً تمام ملازموں کو اس کے ایسے رویئے کی اب عادت ہوچکی تھی کوئی دن ایسا نہیں گزرا تھا جس میں اس نے غصہ نہ کیا ہو

“جو کرنا ہے جلدی کرو مجھے وہ ہر حال میں چاہئے، اگر پوری دنیا بھی چھاننی پڑے تو چھان مارو لیکن اب کی بار خالی ہاتھ نہ آنا”

وہ موبائل کان پر لگائے اپنا حکم سنا رہا تھا ایک جھٹکے سے کال ڈسکنیکٹ کر کے موبائل بیڈ پر اچھالا اور خود صوفے کی پشت پر سر ٹکائے سانس لینے لگا

کمرے کا حال بے حال تھا جیسے کوئی کباڑ خانہ ہو جبکہ اس کی کامیابی کی نشانیاں اس کے ایوارڈز زمین پر کانچ کی صورت میں بے حال پڑے تھے وہ روزانہ اپنے ایوارڈز یوں ہی بے دردی سے توڑ دیا کرتا تھا وہ اپنا نام خود ہی مٹی میں ملا چلا تھا وہی نام، جسے بنانے میں اس نے ایک عمر لگائی تھی

“آخر کہاں جا سکتی ہے وہ، کہاں…؟؟”

وہ خود کلامی کرتا ہوا سائڈ ٹیبل پر رکھے شراب کے گلاس کو لبوں سے لگا کر پل بھر میں خالی کر گیا تھا جبکہ آنکھیں اب بھی لال تھیں

“تم جہاں بھی ہو میں تمہیں ڈھونڈ نکالوں گا اور تمہیں اپنا بنا کے رہوں گا”

وہ گھمبیر لہجے میں کہتا ہوا آنکھیں موند گیا جبکہ بند آنکھوں میں بھی اس کا تصور صاف واضح دکھائی دے رہا تھا ماضی کے مناظر کسی فلم کی طرح اس کی بند آنکھوں کے سامنے گردش کر رہے تھے

“بس اب بہت ہوا، اب تمہیں میرے پاس واپس آنا ہی ہوگا، نہیں چاہئے مجھے کوئی دولت شہرت نام اور پہچان مجھے صرف اور صرف اپنے خوابوں کی تعبیر چاہئے”

اس کی بند آنکھوں سے آنسوں نکل کر رخسار پر بہنے لگے وہ اب کافی بدل گیا تھا اب وہ اپنے دماغ پر دل کو ترجیح دیتا تھا جبکہ پہلے وہ ایسا بلکل بھی نہیں تھا

☆★☆★☆★☆

“آپی آپ نے وعدہ کیا تھا آپ مجھے شہر کی سب سے بیسٹ یونی میں ایڈمیشن دلوائیں گیں، کیا تھا نہ؟؟”

وہ ابھی ابھی پالر سے واپس آئی تھی جب شاویز نے شور مچانا شروع کردیا تھا تو وہ اس سے دو سال چھوٹا مگر حرکتیں اس کی اب بھی بچوں والی ہی تھیں

“شیزی پلیززز آپی کو سانس تو لینے دو، پھر کرتے ہیں اس ٹاپک پر بات”

اس نے اپنا اسکاف اتار کر بیڈ پر رکھا اور خود چارپائی پر بیٹھی اپنی پھولتی ہوئی سانسیں بحال کرنے لگی جبکہ شاویز بھی اس کے برابر آ بیٹھا

دودھیا رنگت، درمیانہ قد، کمر تک آتے لمبے بال، انتہا کی خوبصورت سی انکھیں، نازک سے ہونٹ اس کے حسن میں شاید ہی کوئی کمی ہوگی

“مگر آپ نے مجھ سے وعدہ کیا تھا”

وہ پھر سے ضد کرنے لگا جس پر تعبیر نے سنجیدگی سے اس کی طرف دیکھا جو اب معصوم سی شکل بنائے اسے تک رہا تھا

“شیزی کبھی آپی سے پانی کا بھی پوچھ لیا کرو، پورے دو روڈ کراس کر کے پیدل آئی ہوں یہاں، حالت ہی خراب ہوگئی اب تو میری”

تعبیر نے آنکھیں مسلتے ہوئے کہا جس پر شاویز شرمندہ سا ہوا اور الٹے پاؤں بھاگ کر کچن کی طرف کیا اور ایک گلاس میں پانی بھر کر لایا

“کس نے کہا تھا آپ سے کہ کنجوسی دکھائیں، رکشہ میں آجاتی نہ کیوں خود کو ہلکان کیا؟؟ پالر کوئی اتنی نزدیک تو نہیں جو آپ روز پیدل آتی جاتی ہیں”

وہ پانی کا گلاس تھام کر پینے لگی مگر شاویز کی بات پر اس کا ہاتھ رکا

“شیزی تمہیں پتا تو ہے بابا کی میڈیسن لینے کے لیے مجھے ان دونوں اسٹاپ کے بیچ رکنا پڑھتا ہے، اس لیے پیدل آنا پڑھتا ہے”

تعبیر نے اپنی بات مکمل کر کے پانی کا ایک اور گھونٹ بھرا اور اپنے پرس میں سے میڈیسن نکال کر اس کی طرف بڑھائیں

“یہ لو بابا جان کو دے دو اور تم نے کچھ کھایا؟؟ میں سالن بنا کر گئی تھی نہ…”

وہ مصروف انداز میں کہتی ہوئی بیڈ کی طرف بڑھی جبکہ شاویز خاموشی اختیار کئے وہاں سے چلا گیا

“ایک، دو، تین، چار، پانچ… اور یہ دس… پورے دس ہزار، اس میں مزید بچی ہوئی رقم ملانی ہوگی…اب اس میں شاویز کے یونی کی فیس، بابا جان کی میڈیسن اور گھر کا سامان آ جائے گا”

پرس سے پیسے نکال کر وہ گننے لگی تب ہی شاویز واپس کمرے میں آیا اور اس کے سامنے آ بیٹھا

“باقی کے دس ہزار… جن سے بجلی کا بل اور شاویز کا کورس بآسانی آ جائے گا…”

وہ اپنی بہن کو بڑی غور سے دیکھ رہا تھا وہ ابھی صرف بائیس سال کی تھی مگر اتنی سی عمر میں ایک لڑکی ہو کر اس نے پورے گھر کے اخراجات اٹھائے ہوئے تھے ماں کے جانے کے بعد جب باپ کا ایکسیڈنٹ ہوا تھا اور وہ اپاہج ہوگیا تھا تب سے اب تک تعبیر نے گھر کی بابا کی اور اپنے بھائی کی تمام ذمہ داریاں خود سنبھال لی تھیں

“آپی آپ نے کچھ کھایا؟؟ یا پھر اب تک بھوکی ہیں.”

شاویز نے تعبیر کے چہرے پر بکھرے بالوں کو ہٹاتے ہوئے معصومیت سے کہا جس پر تعبیر نے نفی میں سر ہلایا

“آپی چلیں پہلے کھانا کھالیں رات بہت ہوگئی ہے”

شاویز کے کہنے پر اس نے اثبات میں سر ہلایا اور پیسے واپس پرس میں رکھ کر خود کچن میں چلی گئی

یہی تھی اس کی زندگی، صبح اسکول میں پڑھانا شام میں پالر جانا اور رات میں بیٹھ کر سلائی کرنا، گھر کی زمہ داریوں کو دیکھ کر اس نے گریجوایشن کمپلیٹ کر کے جاب شروع کردی تھی اور ایک ساتھ تین تین کام کرتی تھی اپنی پڑھائی اس نے اسکالرشپ کے ذریعے مکمل کی تھی

“شیزی کھانا لگ گیا ہے آجاؤ تم بھی کھالو”

تعبیر کی آواز پر شاویز اٹھ کر باہر چلا گیا جہاں بابا جان بھی بیٹھے تھے

“شاویز تم نے بھی کھانا نہیں کھایا تھا کیا؟؟”

بابا جان کے سوال پر اس نے جلدی سے نفی میں سر ہلایا وہ کہاں اپنی آپی کے بنا کھانا کھاتا تھا ان لوگوں نے کھانا شروع کیا جبکہ بابا جان تو کھانا کھا چکے تھے اب دوائی کھا رہے تھے جب شاویز سے مخاطب ہوئے

“شاویز آگے کا کیا سوچا پھر؟؟”

شاویز لقمہ لیتے لیتے رکا اور انہیں دیکھنے لگا

“کیا مطلب بابا جان؟؟”

“ارے بھئی کچھ کرنا بھی ہے یا نہیں ؟؟ یا بس ساری عمر یوں ہی بہن کی کمائی پر جینا ہے ؟؟”

شاویز نے نظریں جھکالی تھیں جبکہ اس بات تعبیر بھی کھاتے کھاتے رک گئی تھی

“بابا جان یہ کیسی باتیں کر رہے ہیں آپ ؟؟ بہن ہوں میں اس کی کوئی غیر نہیں اور پھر وہ کر تو رہا ہے پڑھائی دو سال بعد انشاء اللہ اسے بہت اچھی جاب بھی مل جائے گی”

تعبیر نے نرم لہجے میں کہا جس پر افتخار صاحب نے ایبرو کا زاویہ بنایا

“ارے بس کرو پڑھ لیا جتنا پڑھنا تھا اب کام وام کرو کچھ بہن کا ہاتھ بٹاو”

“بابا جان پلیززز آپ نے وعدہ کیا تھا آپ شاویز کی پڑھائی کے متعلق مزید کچھ نہیں کہیں گے، اسے پڑھنے دیں…”

تعبیر ہر بار کی طرح آج بھی اپنے بھائی کی ڈھال بنی کھڑی ہوئی تھی شاویز نے ایک نظر سامنے بیٹھے بابا کو دیکھ جو اس کی پڑھائی کے دشمن تھے اور پھر برابر بیٹھی بہن کو دیکھا جو ہمیشہ سے اب تک اس کا ساتھ دیتی آرہی تھی

“شاویز تم کل تیار رہنا میں اسکول جاتے وقت تمہیں یونی لے چلوں گی پرنسپل سے مل کر اپنا کورس لکھوا لینا پالر سے واپس آکر ہم کورس لینے چلیں گے ٹھیک ہے…”

تعبیر کی بات پر شاویز کی خوشی کی کوئی انتہا نہ رہی اس نے اثبات میں سر ہلایا اور کھانا کھانے لگا جبکہ افتخار علی صاحب ہر بار کی طرح اس بار بھی اپنی لاڈلی بیٹی کی بات سن کر چپ ہوگئے تھے

☆★☆★☆★☆

“بھاگ اوئے بھاگ جلدی…”

وہ لوگ آج پھر سے یونیورسٹی کے پچھلے حصے سے فرار ہورہے تھے جبکہ ہر بار کی طرح اس بار بھی ان کے ساتھ وہ آفت کی پرکالا بھی موجود تھی تقریباً کوئی دس سے پندرہ لڑکے یونی کے پچھلے حصے کی دیوار پھلانگ رہے تھے ان میں وہ ایک واحد ہی لڑکی تھی جو فرار ہونے میں سب سے اول نمبر پر تھی

“ابے سالوں تم لوگ جلدی نہیں کر سکتے؟؟ اگر کسی نے فرار ہوتے دیکھ لیا تو اس سائٹ بھی گارڈز بٹھا دیں گے”

اس نے ایک اسٹائل سے اپنے چہرے پر آتے بالوں کو ہٹاتے ہوئے کہا

بلیک جینز پینٹ اس پر بلیو کلر کی چیک والی شرٹ، شرٹ کے بٹن کے درمیان کالے رنگ کا چشمہ لٹکایا ہوا تھا وائٹ کلر کے جوگرز پہنے ہوئے تھے جبکہ ایک ہاتھ میں مختلف قسم کے بینڈ اور دوسرے میں بوائز واچ پہنے وہ کوئی لڑکا ہی لگ رہی تھی اگر اس کے بالوں کا بوائے کٹ کیا جائے تو بلاشبہ وہ لڑکا ہی معلوم ہوتی

گول شیب کا صاف و شفاف بے داغ چہرہ بڑے بڑے بال درمیانہ قد بڑی بڑی قاتلانہ آنکھیں باریک سے ہونٹ جو شاید سگریٹ پینے کی وجہ سے ہلکے سیاہ ہو چکے تھے جبکہ چہرے پر میک اپ کا نام و نشان تک نہ تھا

“جلدی کرو کوئی آ نہ جائے”

وہ انہیں وارن کرتی ہوئی خود اپنی گاڑی میں بیٹھ کر وہاں سے رفو چکر ہوگئی جبکہ وہ لڑکے اب تک وہیں پر موجود ایک دوسرے کی مدد کر رہے تھے

وہ فل اسپیڈ میں میوزک چلائے گاڑی ڈرائیو کر رہی تھی جبکہ ہر بار کی طرح اس بار بھی اس کے ہاتھ میں سگریٹ تھا جسے وہ وقفے وقفے سے کش لگا رہی تھی ابھی وہ کچھ ہی دور گئی تھی جب اس کی گاڑی چلتے چلتے رک گئی

“اب اس کو کیا موت پڑھ گئی…”

وہ ہاتھ کو ہینڈل پر مارتی ہوئی گاڑی سے باہر نکلی وہ علاقہ بہت سنسان تھا آگے پیچھے کوئی مکینک بھی نہ تھا

“لگتا ہے اس دفعہ ہیلپ مانگنی پڑے گی، چل بھئی آئیززز ہوجا تیار”

وہ آستین چڑھائے گاڑی سے اتر کر روڈ کی طرف بڑھی جہاں پورا روڈ سنسان تھا گاڑی کا نام و نشان تک نہ تھا

“ہیلپ ہیلپ…”

ابھی وہ کھڑی ہوئی کچھ سوچ رہی تھی جب اسے دور سے ایک گاڑی آتی دکھائی دی وہ تیز آواز میں چلّاتے ہوئے ہاتھ کے اشارے سے گاڑی روکنے لگی لیکن وہ گاڑی اس کے سامنے سے گزر کر دور چلی گئی

“بھلائی کرنے کا تو زمانہ ہی نہیں رہا…”

وہ خود کلامی کرتی ہوئی جیب سے چنے نکال کر اچھال اچھال کر منہ میں ڈالنے لگی مگر تب ہی دو گاڑیاں نظر آنے لگی

“ہیلپ ہیلپ…”

وہ پھر سے چلّانے لگی جس پر ایک کھٹارا سے گاڑی تو کچھ ہی فاصلے پر رک گئی لیکن گاڑی کا حال دیکھ کر وہ اگنور کرتی ہوئی دوسری گاڑی کی طرف بڑھی مگر دوسری گاڑی کوئی ہوا سے رفتار میں آگے نکل گئی

اس نے غصے سے ایک پتھر اٹھایا اور گھما کر اس گاڑی کو مارا مگر وہ دور جا چکی تھی

“کمینہ کہیں کا…”

وہ واپس اپنی گاڑی کی طرف بڑھی مگر تب ہی اس کی نظر اس کھٹارا کار پر گئی جو اب تک رکی کھڑی تھی وہ سوالیہ نظروں سے اس گاڑی کو دیکھنے لگی لال رنگ کی یہ گاڑی جس کی حالت بہت خصتہ معلوم ہوتی تھی مگر اب تک گاڑی سے کوئی باہر نہیں آیا تھا

“جس کو اگنور کیا وہی سالا رک گیا، کیا کروں، کیا ہیلپ مانگوں اس سے…”

وہ سوچوں میں گم وہیں پر کھڑی ہوئی گاڑی کو دیکھ رہی تھی

☆★☆★☆★☆

وہ اس وقت نشے کی حالت میں تھا جب اس کا فون رنگ ہونے لگا بامشکل بستر سے اٹھ کر وہ لڑکھڑاتے قدموں کے ساتھ چلتا ہوا ڈریسنگ ٹیبل کے پاس آکھڑا ہوا ڈریسنگ پر رکھا ہوا موبائل جس میں مینیجر کا نمبر چمک رہا تھا اس نے کال پک کر کے کان پر لگایا

“ہیلو…سر آپ سے ایک ضروری بات کرنی تھی اگر کل آپ بلکل فری ہیں تو ہم آپ سے ملنا چاہتے ہیں”

دوسری جانب سے آتی آواز کو بیزاری سے سنتا ہوا وہ واپس بیڈ پر جا گرا

“ہمممم کیسی ضروری بات…”

اپنی سوجھی ہوئی آنکھوں کو انگلیوں سے بے دردی سے رگڑتے ہوئے اس نے بامشکل یہ الفاظ کہے

“وہ…وہ سر ایک نیا پروجیکٹ ہے ایک نئے پروڈکشن کے بارے میں آپ سے کچھ ضروری باتیں کرنی تھیں”

“ہممم اوکے ٹو مارو ایٹ مائے فارم ہاؤس ٹھیک شام ساتھ بجے”

“اوکے ڈن سر…”

اپنی بات مکمل کرتا ہوا وہ سامنے سے آتا جواب سن کر کال ڈسکنیکٹ کر گیا

آنکھیں لال ہوچکی تھیں کیونکہ آج شام کی پارٹی میں اس نے کچھ زیادہ ہی پی لی تھی جس سے اسے اب بہت تھکن محسوس ہورہی تھی

“گڈ نائٹ اے ڈی، سوئیٹ ڈریمز”

خود کلامی کرتا ہوا وہ نیند کی وادیوں میں چلا گیا اس بات سے انجان کے کوئی اس کے کمرے میں نہ صرف داخل ہوا تھا بلکہ اس کے مقابل اپنی باہیں پھیلائیں اسے تک رہا تھا

☆★☆★☆★☆

دوپہر کا وقت تھا جب وہ یونیورسٹی میں موجود تھا پرنسپل سے بات کر کے وہ پورے یونی کا جائزہ لے رہا تھا آج وہ بے حد خوش تھا نجانے کس طرح سے اس کی بہن نے تین چار سال سے پیسے جوڑ کر اسے آج سب سے اچھی یونیورسٹی میں ایڈمیشن دلوایا تھا پڑھائی ہمیشہ سے ہی اس کا ڈریم رہی تھی

“یونی اتنا زیادہ حسین ہوتا ہے میں نے کبھی لائف میں بھی نہیں سوچا تھا”

وہ کاندھے پر بیگ ٹانگے کینٹین کی طرف بڑھ رہا تھا جب اس کی نظر ایڈیٹوریم کی طرف گئی وہاں بہت سے اسٹوڈینٹ کھڑے ہوئے تھے جیسے کچھ ہوا ہو جبکہ وہاں سے اٹھتا ہوا دھواں اسے مزید تجسس میں ڈال رہا تھا

وہ بھاگتا ہوا اس طرف بڑھا سب لڑکوں کے بیج سے جگہ بناتا ہوا وہ منظر عام پر پہنچا جسے وہ آگ سمجھ رہا تھا وہاں ایک ساتھ بہت سارے لڑکے گول دائرہ بنائے بیٹھے سگریٹ پی رہے تھے

“یہ…سب…”

وہ عجیب کیفیت میں مبتلا ہوگیا آخر کیا تھا یہ سب وہ لڑکے کیا کر رہے تھے

“یہ سب کیا ہورہا ہے؟؟”

سب ہی لڑکے شور مچا رہے تھے جب شاویز نے ایک لڑکے سے پوچھا

“سگریٹ ختم کرنے کا کومپٹیشن”

وہ لڑکا اسے بتاتا ہوا واپس باقیوں کے ساتھ شور مچانے میں مگن ہوگیا جبکہ شاویز کا اب دم گھنٹ سا رہا تھا وہ وہاں سے بڑی مشکل سے نکلتا ہوا باہر کو آیا جہاں ٹھنڈی ہوا چل رہی تھی

“صحیح کہا تھا آپی نے یونی کی لائف بہت مشکل ہوتی ہے…اللّٰہ بچائے ایسے لوگوں سے”

وہ ٹھسکے لیتے ہوئے بینچ پر بیٹھا ابھی وہ ایک ہاتھ سے سینا مسل رہا تھا جب ہی کسی نے اس کی طرف پانی کی بوتل بڑھائی جسے وہ سوالیہ نظروں سے دیکھنے لگا

☆★☆★☆★☆

وہ ٹشن سے چلتی ہوئی اس کھٹارا کار کی طرف آئی جہاں اندر کوئی نہ تھا مگر جب پیچھے نظر پڑھی تو کوئی پیچھے والی سیٹ پر موجود ٹانگ پر ٹانگ رکھے منہ کیپ سے ڈھکے سیٹ کی پشت پر سر رکھے آرام فرما رہا تھا

“سنو؟؟”

وہ آنکھیں چھوٹی کرتے ہوئے اندر جھانکنے لگی مگر اندر بیٹھا شخص تو جیسے اس دنیا میں ہی نہ تھا

“ہیلو؟؟”

وہ پھر سے کہنے لگی مگر وہ ٹس سے مس نہ ہوا

“او بھائی جب ہیلپ ہی نہیں کرنی تھی تو گاڑی کیوں روکی؟؟”

آئیزل غصے سے کہتی ہوئی گاڑی کے ٹائر پر ایک زور دار لات رسید کرتی ہوئی مڑنے لگی مگر تب ہی کسی کی دھاڑ پر چونکی

“ڈونٹ کال میں بھائی… انڈرسٹینڈ”

وہ غصے سے کہتا ہوا واپس اپنی پوزیشن پر ٹک گیا جبکہ وہ کھا جانے والی نظروں سے اندر بیٹھے شخص کو دیکھنے لگی

“بد تمیز کہیں کا بات کرنے کی تمیز تک نہیں”

وہ دانت بیچتی ہوئی مڑنے لگی مگر پھر سے رکی

“تمہیں تمیز ہے تو تم کرلو بات…سمپل”

سپاٹ لہجے میں کہہ کر وہ اب تک پرسکون لیٹا آرام فرما رہا تھا

“بے شرم “

“الحمدللہ بچپن سے ہوں”

اس بار وہ پیر پٹختی ہوئی کار کے بلکل قریب آئی اور دروازہ کھولنے لگی مگر وہ اب بھی پرسکون تھا

آئیزل نے ایک جھٹکے سے دروازہ کھولا اور ہاتھ اندر کر کے اس کے منہ پر سے کیپ ہٹایا جس پر وہ یک دم اٹھ بیٹھا اور اسے گھورنے لگا

گوری رنگت جس پر ہلکی سی داڑھی چہرے پر بکھرے بال پرکشش گہری کالی آنکھیں جو نیند کی کمی سے لال ہو رہی تھیں بڑی بڑی پلکھیں وہ اتنا حسین تھا کہ باآسانی کوئی بھی لڑکی اس کے سحر میں جکڑ جائے

مگر اس کا حلیہ کچھ عجیب سا تھا گٹھنوں سے پھٹی ہوئی بلیو پینٹ جو دھول مٹی کی وجہ سے کافی میلی ہوچکی تھی ساتھ ہی وائٹ کلر کی شرٹ جس کے سینے پر سے دو بٹن کھلے ہوئے تھے گلے میں پہنا ہوا لاکٹ جبکہ کالر کھڑے کئے ہوئے تھے مٹی میں جڑے وائٹ جوگرز انگلیوں میں مخصوص انگھوٹھیاں پہنے وہ کوئی عجیب و غریب غنڈا ہی لگ رہا تھا

آئیزل کو اس کی کار کے اندر سے سگریٹ کی انتہا کی بو آنے لگی جبکہ اس کی کار میں کچھ جلی ہوئی سگریٹ بھی پڑی ہوئی تھیں

“ہیئی میم…؟؟ پرابلم کیا ہے تمہارا ؟؟”

وہ اپنے ہلکے سیاہ ہونٹوں کو کُھجاتے ہوئے پوچھنے لگا جس پر آئیزل نے برا سا منہ بنایا

“تم…”

آئیزل نے انگلی کے اشارے سے کہا جس پر وہ اسے سوالیہ نظروں میں دیکھنے لگا

“جب تمہیں ہیلپ ہی نہیں کرنی تھی تو یہاں گاڑی کیوں روکی…؟؟”

وہ دانت بیچتے ہوئے کہنے لگی

“آرام کرنے کے لیے”

مگر اس کا جواب سن کر وہ چونکی

“کیا؟؟ آرام ؟؟”

“یس…”

وہ پھر سے اپنے کیپ کو منہ پر رکھے آنکھیں بند کئے بیٹھ گیا

“تمہارے کہنے کا مطلب ہے تم یہاں میری ہیلپ کرنے کے بجائے خود آرام کرنے کے لیے رکے ہو؟؟”

وہ بے یقینی سے کہنے لگی جس پر وہ کیپ ہٹا کر اس کی جانب دیکھنے لگا

“کیسی ہیلپ ؟؟ یہ میری آرام کرنے کی جگہ ہے میں یہی پر آرام کرتا ہوں میڈم سمجھیں اب ہٹو یہاں سے”

وہ اسے آنکھیں دکھاتا ہوا ہاتھ بڑھا کر گاڑی کا دروازہ بند کرنے لگا جس پر آئیزل نے بیچ میں ٹانگ اڑائی

“یہ کونسی جگہ ہے آرام کرنے کی؟؟”

“میری مرضی میں کہیں بھی آرام کروں…تمہیں اس سے کیا پرابلم ہے”

وہ بدتمیزی سے کہتا ہوا اسے سرتا پیر تکنے لگا اسے وہ لڑکی نہیں بلکہ غنڈی لگ رہی تھی

“پرابلم ہے… بیچ روڈ پر گاڑی روک کر تم آرام فرما رہے ہو…”

وہ دونوں ہاتھ باندھے ایبرو کا زاویہ بنائے اس پر مسلط ہوئی کھڑی تھی جس پر وہ ایک جھٹکے سے اس کے قریب آیا

“اگر میں کہوں یہ روڈ میرے باپ کا ہے تو پھر؟؟”

وہ سپاٹ لہجے میں کہتا ہوا اس کی بولتی بند کر گیا اس نے غلط بندے سے پنگا لے لیا تھا اب وہ پچھتا رہی تھی اس بد تمیز پر اپنا وقت ضائع کر کے جبکہ وہ اس کے بے حد قریب اس کے چہرے کے ایک ایک نقش کو دیکھ رہا تھا

جاری ہے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *