Lams e Junooniyat by Areesha Khan NovelR50533 Lams e Junooniyat (Episode 43)Part 2
Rate this Novel
Lams e Junooniyat (Episode 43)Part 2
Lams e Junooniyat by Areesha Khan
“اچھا تو کیا اب بھی تمہیں تنگ کرتا ہے وہ جمال نامی شخص؟؟”
وجاہت صاحب کے پوچھنے پر افتخار صاحب نے ہاں میں سر ہلایا جس پر وہ محویت سے انہیں دیکھنے لگے تبھی قدموں کی آہٹ پر دونوں نے دروازے کی جانب دیکھا جہاں سے شاویز دو کولڈرنک کے گلاس ٹرے میں سجائے اندر کی جانب آرہا گا
“یہ لیجئے انکل۔۔۔ سوری مجھے لگا آپ ڈائٹ پر ہوں گے جبھی چائے کی جگہ میں نے کولڈرنک بنا دی۔۔۔ آئی مین نکال لی۔۔۔ آئی مین نکال کر لے آیا۔۔۔”
شاویز نے الٹی سیدھی بات بناتے ہوئے جس طرح بیان کی تھی وجاہت درانی صاحب قہقہہ لگائے بنا نہ رہ سکے تھے جبکہ شاویز دانتوں کی نمائش کرتا ہوا سامنے ٹیبل پر ٹرے رکھ کر عقب میں رکھے کاؤچ پر بیٹھ گیا
“کوئی بات نہیں اگر تم چائے بنا دیتے تو میں وہ بھی خوشی خوشی پی لیتا۔۔۔”
وجاہت درانی صاحب نے مسکراتے ہوئے کہہ کر گلاس لبوں سے لگایا
“تمہیں پتا ہے جب تم بہت چھوٹے تھے تب تمہارے بابا اور میں مل کر روز محلے کے مشہور چائے کے ڈھابے پر چائے پینے جایا کرتے تھے”
وجاہت صاحب نے خوش دلی سے پرانی یادوں میں کھو جانے والے انداز میں کہا جس پر شاویز مسکرانے لگا
“کیا واقعی؟؟ آپ اور بابا جان بیسٹ فرینڈ تھے؟؟ مگر بابا نے تو آپ کے بارے میں کبھی بتایا ہی نہیں مجھے”
آخری والے الفاظوں پر شاویز نے سوالیہ نظروں سے افتخار صاحب کو دیکھا جس پر وہ اسے گھورنے لگے جبکہ انہیں گھورتا دیکھ کر جہاں شاویز نے سوکھے لبوں پر زبان پھیرتے ہوئے نظریں چرائیں وہیں وجاہت درانی صاحب ہنسنے لگے
“ارے بھئی افتخار کیوں گھور رہے ہو تم بچارے بچے کو۔۔۔ تمہاری یہ گھورنے کی عادت کبھی نہیں بدلے گی۔۔۔ شاویز تمہیں پتا ہے تمہارے بابا کے ساتھ جب ہم ہنسی مذاق کیا کرتے تھے یہ جواباً ہمیشہ ہمیں گھورا کرتا تھا”
وجاہت صاحب کی بات پر افتخار صاحب مسکرانے لگے جبکہ وجاہت صاحب کے مزے دار قصے پر بے دھیانی میں شاویز کا قہقہہ نکلا جس پر ایک بار پھر اس کے بابا اسے گھورنے لگے کچھ دیر وہ لوگ یوں ہی ساتھ بیٹھ کر ہنسی مذاق کرتے رہے مگر پھر شاویز کسی کام سے گھر سے باہر چلا گیا تھا جس وجہ سے انہیں اکیلے بات کرنے کا موقع مل گیا تھا
“تم نے بتایا نہیں کہاں ہے میری بہو؟؟”
وجاہت صاحب نے مسکراتے ہوئے سوال کر جس پر افتخار صاحب انہیں سنجیدگی سے دیکھنے لگے
“وہ اس شہر میں نہیں ہے مجھے مجبوراً اسے دوسرے شہر بھیجنا پڑا۔۔۔ تم نے کہا تھا تم جلد سب کچھ ٹھیک کردوگے کہاں ہے تمہارا بیٹا؟؟”
افتخار صاحب بات کے اصل مددے پر آئے
“دیکھو افتخار میں جانتا ہوں کہ تم اب بھی یہی سوچ رہے ہوں گے کہ میں نے ماضی میں جو فیصلہ کیا اب اس پر پچھتا رہا ہوں۔۔۔ یقین مانو ایسا کچھ بھی نہیں ہے۔۔۔ میرے نصیب میں بیٹھی نہیں تھی مگر تمہاری بیٹی کے سر پر شفقت کا ہاتھ رکھ کر مجھے احساس ہوا تھا بیٹیوں کے باپ واقعی بہت خوش قسمت ہوتے ہیں۔۔۔”
وجاہت صاحب نے نرم لہجے میں کہا ان کی بات افتخار صاحب سنجیدگی سے سن رہے تھے
“تمہیں یاد ہے وہ دن جب تمہارے اس کزن کمال علی نے تمہیں جھوٹے کیس میں پھنسا کر تمہارا گھر ہڑپنا چاہا تھا۔۔۔ تم جیل کی سلاخوں کے پیچھے تھے جس دن میں پاکستان سے جانے والا تھا مگر بھابھی روتی ہوئیں میرے پاس آئی تھیں تمہیں چھڑانے اور اس چھوٹی سی بچی کو بچانے کی درخواست کرنے کے لیے۔۔۔”
وجاہت صاحب کی بات پر انہوں نے کرب سے آنکھیں مینچ لیں تھیں وجاہت صاحب کی باتوں پر انہیں کچھ سالوں پہلے والے مناظر یاد آگئے تھے
“میں وہ دن بھلہ کیسے بھول سکتا ہوں۔۔۔ جب تم نے میری بیوی فاطمہ اور میری بچی تعبیر کو بچایا تھا۔۔۔ تمہارا اور فاطمہ کا جلد بازی میں کیا گیا فیصلہ شاید اس وقت کے لیے درست فیصلہ تھا۔۔۔ تم نے میری بیٹی کو بروقت اپنے بیٹے کے نکاح میں لا کر اسے خاندانی دشمنی کی بھیڈ چڑنے سے بچایا تھا۔۔۔ مگر وہ بات مجھے بہت بعد میں بتا کر تم نے دھچکا دیا تھا مجھے۔۔۔”
افتخار صاحب کی آنکھیں نم ہونے لگی تھیں وجاہت صاحب نے ان کے کاندھے پر ہاتھ رکھ کر انہیں دلاسہ دینا چاہا
“میں جانتا ہوں تم اس فیصلے سے نہ خوش تھے، ارے تمہیں تو یہ تک نہیں پتا تھا کہ میں اپنی فیملی کو لے کر واپس دبئی کیوں جارہا تھا۔۔۔ تمہیں لگا تھا میں دوستی نہیں نبھا پاؤں گا؟؟ شاید تم بھول گئے میرا صرف اسٹیٹس بدلا تھا میں خود نہیں بدلا تھا ۔۔۔”
وجاہت صاحب نے انہیں سمجھاتے ہوئے کہا
واقعی ایسا ہی تھا جب وہ کامیابی کی بلندی پر تھے تب وہ سب سے دور چلے گئے تھے دبئی میں ان کے والد کا بزنس تھا جنہیں دوبارا آگے بڑھانے کے لیے وہ اس ملک کو چھوڑ کر چلے گئے تھے وہیں ان کی شادی ان کے والد کے دوست کی بیٹی سے ہوئی تھی
ان کی شادی پسند کی تھی اللّٰہ پاک نے انہیں بیٹے سے نوازا تھا تبھی وہ کچھ وقت کے لئے پاکستان آئے تھے اور جب وہ پرانے محلے اپنے دوست کے گھر آئے تھے تب افتخار سے ملاقات کے وقت وہ ان کی چھوٹی سی بیٹی اور ان کی بیوی فاطمہ سے ملے تھے اور پھر اپنے بزنس کے لیے دبئی چلے گئے تھے
کچھ ہی عرصے بعد ان کی بیوی کی ڈیتھ ہوگئی تھی جس وجہ سے وہ بہت اکیلے ہوگئے تھے وہ واپس پاکستان آچکے تھے ایک لمبے عرصے کے لئے، ایک سال بھی نہ ہوا تھا جب ان کے والد نے ان کے لاکھ انکار پر ان کا نکاح اپنے خاندان کی لڑکی سے کروا دیا تھا
اپنی دوسری بیوی کو لے کر جب وہ واپس پاکستان سے جارہے تھے اسی دن فاطمہ ان کے پاس روتی ہوئی آئی تھی جبھی وجاہت صاحب نے افتخار صاحب کی غیر موجودگی میں نہ صرف ان کی امانت کی حفاظت کی بلکہ ان کی بیوی کے ہاتھ جوڑنے پر تعبیر کی زمہ داری لے لی اور اپنے بیٹے کا نکاح ان کی بیٹی سے پڑھوا دیا جنہیں وہ دونوں معصوم سے بچے کھیل سمجھ کر خوش ہورہے تھے
کچھ ہی عرصے بعد افتخار صاحب وجاہت کی لاکھ کوششوں کے بعد جیل سے رہا ہوئے تھے تب انہیں پتا چلا تھا کہ ان کی بیٹی وجاہت کے بیٹے کے ساتھ نکاح میں آ چکی تھی انہوں نے اپنی بیوی پر بہت غصہ کیا اپنے دوست تک کو باتیں سنائیں مگر اس وقت یہی ضروری تھا ورنہ ان کی بیٹی خاندان کے بڑے بزرگ کے فیصلے کی بیڈ چڑ جاتی
وجاہت کا بیٹا جو بچپن ہی سے ضدی تھا ماں کے چلے جانے کے بعد وہ مزید ضدی اور خود سر ہوگیا تھا اپنی سوتیلی ماں کو قبول کرنا اس کے لئے نہ قابلِ قبول ہو چکا تھا اس کی روز روز کی ضد غصے اور عجیب و غریب حرکتوں سے تنگ آکر وجاہت صاحب نے اسے باہر بھیج دیا تھا تاکہ وہ سب سے دور رہے اور اپنی پڑھائی مکمل کر سکے
ایک سال بعد اللّٰہ نے انہیں بیٹے سے نوازا تھا انہیں بیٹی کی بہت خواہش تھی مگر وہ خواہش پوری نہ ہو سکی تھی کچھ سالوں بعد ان کی بیوی جب دوبارا امید سے ہوئی تھیں تب ان کی حالت بہت خراب تھی جس وجہ سے نہ صرف وہ بلکہ ان کی اولاد بھی جان سے جا چکی تھیں
آتش جب سے واپس آیا تھا وہ اپنی ہی الگ خوابوں کی دنیا میں رہنے کی وجہ سے ان سب کے بیچ رہ کر بھی سب سے دور تھا مگر ضوریز اپنی ماں کے مرجانے کے بعد اپنی بہن کو ڈھونڈنے کا جنون سر پر سوار کر چکا تھا وہ بار بار اپنے باپ اور دادا کو تنگ کیا کرتا تھا یہ کہہ کر کہ اس کی بہن کھو گئی تھی
وجاہت صاحب بہت پریشان تھے ایک طرف ان کا پہلا بیٹا جو ماں کے جانے کے بعد انتہا کا جنونی ہوچکا تھا کہ اس سے بات کرنے سے بھی وہ لوگ ڈرتے تھے جبکہ دوسری طرف ان کا وہ بیٹا جو ان کی سنتا ہی نہیں تھا انہوں نے اس کی کم عقلی پر اسے ڈانٹ ڈپٹ ضرور کیا تھا مگر وہ ماننے والوں میں سے نہیں تھا
کاظم صاحب وجاہت صاحب کے پارٹنر اور بہترین دوست تھے ان دونوں وجاہت صاحب اپنی دوسری بیوی اور اپنی اولاد کے مرجانے پر بے حد اداس تھے ایک دن انہیں کاظم صاحب کی بیوی کت انتقال کی خبر ملی تھی تب وہ عیادت کے لیے وہاں گئے تھے
مگر کچھ ہی عرصے بعد کاظم صاحب سب بھول کر اپنے بزنس کو آگے بڑھانے کے لیے اپنی سگی اولاد کو کسی اور کو سونپ جانے کا فیصلہ کر چکے تھے ائیزل بہت چھوٹی تھی جس وجہ سے وہ اسے اپنے ساتھ نہیں رکھ سکتے تھے نہ اس کی پرورش کر سکتے تھے
مگر جب یہ بات وجاہت کو پتا چلی بیٹی کا سن کر ان کا دل پگھل گیا تھا انہوں نے اس کی زمہ داری قبول کرلی تھی اور کاظم صاحب کی رضامندی پر اس کا نکاح ضوریز سے کروا دیا تھا مگر وہ اسے اپنے ساتھ نہیں رکھ سکتے تھے جبھی کاظم صاحب اسے ہوسٹل چھوڑ گئے تھے
آتش جب جوانی کے دنوں سے گزر رہا تھا تب اس کا رؤیہ کچھ بہتر ہو چکا تھا مگر غصہ اس کا اب بھی سو نیزے پر تھا جس وجہ سے وجاہت صاحب نے اسے کبھی حقیقت نہیں بتائی تھی کیونکہ وہ بچپن سے ہی اپنی ماں کی موت کو لے کر ذہنی طور پر بیمار رہا کرتا تھا اس لئے وہ اسے مزید کوئی اسٹریس دینا نہیں چاہتے تھے
آتش نے بزنس کے ساتھ ساتھ ماڈلنگ کی آفر بھی قبول کرلی تھی اور بنا کسی کوشش کے اسے ماڈلنگ کے دوران ہی فلم مل گئی تھی جس وجہ سے وہ بہت ہٹ ہو چکا تھا اور تب سے اب تک صرف اس کا دور چل رہا تھا
ضوریز بھلے سے اپنی بہن کی جدائی کو لے کر اپنے باپ کو لاپرواہی کے طعنے دیا کرتا تھا اسے سب حقیقت سے آگاہ کردیا تھا وہ شروع سے ہی سب جانتا تھا
مگر ضوریز بھی ضوریز تھا وہ نہ صرف اپنے مخصوص انداز میں بزنس سنبھالتا تھا بلکہ کاظم صاحب سے کہہ کر اپنی بہن کے اخراجات خود پورے کرتا تھا کاظم صاحب حریم کے بارے میں شروع سے ہی سب کچھ جانتے تھے مگر ضوریز نے انہیں اتنا بڑا سچ اپنے باپ سے چھپائے رکھنے کا کہا تھا
“اب ان سب باتوں کو کوئی فائدہ نہیں وجہی۔۔۔ اب ہمیں حتمی فیصلہ کر لینا چاہئے۔۔۔ کیا تم نے اپنے بیٹے کو اس کے نکاح کے بارے میں بتادیا؟؟”
افتخار صاحب کی بات پر انہوں نے پیشانی رگڑی جس پر افتخار صاحب ان کا جواب سمجھ چکے تھے
“مطلب تم نے ابھی تک اسے کچھ بھی نہیں بتایا۔۔۔ کہاں ہے وہ کون ہے وہ کیا کرتا ہے؟؟ کیا وہ میری بیٹی کو قبول کرلے گا؟؟”
افتخار صاحب نے گمبھیر لہجے میں کہا جس پر وجاہت صاحب سنجیدگی سے اسے دیکھنے لگے
“دیکھو افتخار یہ کام جلد بازی کے نہیں ہوتے۔۔۔ وہ اپنی ماں کو کھو دینے کے بعد تنہائی پسند ہو چکا تھا اس لئے میں نے اسے اب تک اس کی زندگی کا سب سے بڑا سچ نہیں بتایا لیکن میرے یہاں آنے کا مقصد ہی یہی ہے کہ اب میں سب کچھ صحیح کردوں گا۔۔۔”
وجاہت صاحب نے انہیں یقین دلاتے ہوئے کہا جس پر انہوں نے اثبات میں سر ہلایا
“اچھا اب مجھے چلنا چاہئے مجھے بہت سے ادھورے کام پورے کرنے ہیں تم اپنا اور اپنے بچوں کا خیال رکھنا۔۔۔ پریشان مت ہونا ایک دو مہینے دو مجھے میں سب ٹھیک کردوں گا۔۔۔”
وجاہت صاحب انہی تسلی دے کر وہاں سے چلے گئے تھے جبکہ افتخار صاحب اب کافی بہتر محسوس کر رہے تھے
☆★☆★☆★☆
“حاشر یہ کیا کر رہے ہو چھوڑو مجھے۔۔۔”
کرن کے بازوؤں پر حاشر کی گرفت مزید مظبوط ہوچکی تھی وہ نجانے اسے کیوں بار بار زچ کر رہا تھا اتنا وقت ہو چکا تھا مگر وہ خاموش تھی لیکن آج اسے حاشر کی حرکتوں پر بے حد غصہ آرہا تھا
“نہیں چھوڑوں گا۔۔۔ میں کب سے تمہیں یہ سمجھانے کی کوشش کر رہا ہوں کہ آنکھیں کھولو اپنی اور ساتھ دو ہمارا۔۔۔ مگر تمہیں میری بات سمجھ ہی نہیں آرہی۔۔۔”
حاشر نے ایک جھٹکے سے اسے دور دھکیلتے ہوئے کہا جس پر وہ نم آنکھیں لئے اسے دیکھنے لگی
“سمجھتے کیا ہو تم خود کو ہاں اپنے بیچ کی لڑائی میں مجھے کیوں انوالو کر رہے ہو؟؟ نہیں دینا چاہتی میں تمہارا ساتھ”
کرن جابر نے چینختے ہوئے کہا تھا جس پر حاشر سرخ آنکھیں لئے اسے گھورنے لگا اسے ایک لمحہ بھی نہ لگا کرن کے بالوں کو مضبوطی سے جکڑنے میں کرن کی چینخ اس بند کمرے میں گونجی تھی
“تمہیں میرا ساتھ دینا پڑے گا۔۔۔ یو بٹچ تم کیا سمجھتی ہو خود کو ہاں ؟؟ بہت اچھے سے جانتا ہوں میں تمہیں فردین آفریدی کو چھوڑ کر تم آتش کے ساتھ کام کرنے کیوں آئی تھیں کیونکہ دل دے بیٹھی ہو تم اسے۔۔۔”
حاشر نے اس کے بالوں کو جھنجھوڑتے ہوئے اسے خود سے بے انتہا قریب کیا تھا کرن کی آنکھوں سے آنسوں جاری ہونے لگے تھے حاشر کی گرفت مزید مظبوط ہوچکی تھی
“مگر بہت افسوس کی بات ہے۔۔۔ کہ تم اس بار بھی خالی ہاتھ رہ جاؤ گی مس کرن جابر وہ وقت دور نہیں جب فرغام نیازی کی طرح آتش درانی بھی کسی ٹشو کی طرح تمہیں یوز کر کے پھینک دے گا۔۔۔”
حاشر کی بات پر وہ نفی میں سر ہلانے لگی
“وہ۔۔۔ وہ ایسا نہیں کرے گا۔۔۔ میں اسے حاصل کرلوں گی۔۔۔”
کرن نے تڑپتے ہوئے یہ الفاظ کہے تھے جس پر حاشر کا ایک زور دار قہقہہ اس بند کمرے میں گونجا تھا کرن نے سسکتے ہوئے اسے بھیگی آنکھوں سے دیکھا تھا
“تم بلکل ٹھیک کہہ رہی ہو کرن۔۔۔ وہ ایسا نہیں کرے گا۔۔۔ کیونکہ وہ ایسا بہت پہلے ہی کر چکا ہے سوئیٹ ہارٹ۔۔۔ اب یہ تمہاری قسمت ہے کہ تم اسے حاصل کرتی ہو یا پھر اسے اس مڈل کلاس سیکریٹری کے حوالے کرتی ہو۔۔۔”
حاشر نے تمسخرانہ انداز میں کہا جس پر کرن خوفگی سے اسے دیکھنے لگی
“نن نہیں ایسا۔۔۔ ایسا نہیں ہو سکتا۔۔۔ تت تم جج جھوٹ کہہ رہے ہو۔۔۔ “
کرن مسلسل نفی میں سر ہلا رہی تھی حاشر کو اس کی یہ حالت محظوظ کر رہی تھی حاشر نے دھیرے سے اس کے بالوں کو آزاد کیا اور ہاتھ آگے بڑھا کر اسے تھامنے کا اشارہ کرنے لگا
“اس لئے کہہ رہا ہوں ویسا ہی کرو جو میں کہہ رہا ہوں۔۔۔ ایسے تمہیں تمہارا آتش درانی بھی مل جائے گا اور مجھے میرے خزانے کی چابی بھی۔۔۔”
حاشر کی بات پر وہ محویت سے اسے دیکھ رہی تھی حاشر نے ذومعنی مسکراہٹ لبوں پر سجائے خود آگے بڑھ کر اس کا ہاتھ تھاما وہ کسی کٹی پتنگ کی طرح اس کی جانب کھنچتی چلی گئی
“تم صرف ایک بار راضی ہو جاؤ کرن۔۔۔ پھر تم اپنے راستے اور میں اپنے راستے۔۔۔ پھر تمہارے اور آتش کے درمیان کوئی بھی نہیں آئےگا۔۔۔ لیکن اگر تم اب بھی انکار کر رہی ہو تو سوچ لو۔۔۔ آتش تمہیں ٹھکرا کر اس معمولی اسسٹنٹ تعبیر کے ساتھ اپنی لائف سیٹ کرلے گا اور تم کچھ بھی نہیں کر پاؤ گی۔۔۔”
حاشر نے گمبھیر لہجے میں کہتے ہوئے اس کے بکھرے بالوں کو سنوارتے ہوئے کان کے پیچھے کیا کرن غور سے اس کی باتیں سن رہی تھی حاشر اس کے رخساروں پر جمے آنسوؤں کو صاف کرتے ہوئے اسے تھوڑی سے اونچا کرکے آنکھوں میں جھانکنے لگا
“بتاؤ۔۔۔ دو گی میرا ساتھ۔۔۔؟؟ سوئیٹ ہارٹ۔۔۔”
حاشر نے سوالیہ انداز میں کہا جس پر وہ اثبات میں سر ہلانے لگی اس کے رضامند ہونے پر حاشر کے لبوں پر فاتحانہ مسکراہٹ نمودار ہوئی
“گڈ۔۔۔ اب جیسا جیسا میں کہوں گا تم ویسا ہی کرنا۔۔۔ فلحال تو اپنا حلیہ ٹھیک کرو۔۔۔ اور ریڈی ہوجاؤ کچھ ہی دیر میں ہم پارٹی کے لئے نکلیں گے۔۔۔”
حاشر نے سنجیدگی سے کہا اور اسے خود سے الگ کرتا ہوا وہاں سے چلا گیا جبکہ کرن کے حواسوں پر آتش سوار ہو چکا تھا وہ چاہ کر بھی اب پیچھے ہٹنے والی نہیں تھی
خود کو آئینے میں دیکھتے ہوئے وہ ارادہ کرنے لگی تھی وہ کچھ بھی کر کے آتش کو تعبیر سے دور کر دے گی اپنے آنسوؤں کو صاف کرتی ہوئی وہ کاؤچ پر پڑا ڈریس اٹھا کر تبدیل کرنے کے غرض سے چینجنگ روم میں چلی گئی
☆★☆★☆★☆
“اوہ ہائے آتش ہاؤ آر یو مین۔۔۔”
آتش تعبیر کے سنگ ایک ٹیبل پر موجود تھا جب ایک ڈائریکٹر آتش چلتے ہوئے آتش کے پاس آیا آتش نے ایک نظر پیچھے مڑ کر اسے دیکھا جو ہاتھ بڑھائے کھڑا تھا
“فائن بنی اینڈ واٹ آباوٹ یو؟؟”
آتش نے اس کے بڑھتے ہوئے ہاتھ کو تھام کر مسکراتے ہوئے کہا جس پر وہ بھی مسکرا گیا
“ایک دم فٹ فاٹ۔۔۔ مگر یہ لڑکی کون ہے؟؟ ہوئی نئی ایکٹریس؟؟”
اس ڈائریکٹر نے آتش کے ساتھ کھڑی ہوئی تعبیر کو دیکھتے ہوئے کہا جس پر تعبیر نظریں جھکائے آتش کے قریب ہوئی
“ایکٹریس نہیں۔۔۔ یہ۔۔۔ یہ میری۔۔۔”
آتش نے تعبیر کو دیکھتے ہوئے کچھ کہنا چاہا اس کی بات کاٹ کر وہ ڈائریکٹر بیچ میں بول پڑا
“اوہ سمجھ گیا آئی تھنک گرل فرینڈ آئی ایم رائٹ؟؟”
ڈائریکٹر نے آتش کو دیکھ کر ایک آنکھ ونک کی جس پر آتش نے اس کے کندھے پر پنچ رسید کیا
“گرل فرینڈ بھی نہیں؟؟ کہیں کوئی پیار محبت والا سین تو نہیں؟؟ لائک شادی وغیرہ؟؟”
آتش کے مسکرانے پر وہ بھی مسکرانے لگا تعبیر ان کی باتوں سے گھبراتے ہوئے آتش کے بازؤں کو تھام گئی
“اوکے میں آپ کا زیادہ وقت نہیں لوں گا آتش۔۔۔ خدا حافظ”
وہ ڈائریکٹر کیونکہ آتش کا بہت جانا پہچانا اور اچھا ساتھی تھا اس لئے تعبیر کو ڈسٹرب ہوتا دیکھ کر وہ وہاں سے چلا گیا
“تعبیر تم ٹھیک ہو نہ؟؟”
آتش نے تعبیر کی مظبوط گرفت کو محسوس کرتے ہوئے دھیمے لہجے میں پوچھا جس پر وہ اثبات میں سر ہلانے لگی
وہ آج بہت خوبصورت لگ رہی تھی لائٹ پیچ کلر کا ڈیزائنر ڈریس جس کے ساتھ بھلہ ہوا ڈوپٹہ ہلکا سا میکپ کھلے بال وہ ہر ایک کی نظروں کا مرکز بنی ہوئی تھی
“آتش واپس چلیں پلیززز مجھے بہت عجیب محسوس ہورہا ہے۔۔۔”
تعبیر نے دھیمی سی آواز میں کہا جبکہ آتش اس کی بات پر اثبات میں سر ہلانے لگا
آتش نے ڈارک براؤن کوٹ بلیک شرٹ اور بلیک پینٹ پہنی ہوئی تھی اپنے بالوں کا ترتیب سے ہیئر اسٹائل بنائے وہ اس پوری پارٹی میں سب سے زیادہ خوبرو نوجوان لگ رہا تھا بے شک وہ سب سے زیادہ حسین تھا
ابھی وہ ایکسکیوز کرنے کے لیے ڈائریکٹر کے قریب آنے ہی لگا تھا جب میڈیا وہاں پہنچ گیا یہ تو بہت عام سی بات تھی کہ ایسی تقاریب میں میڈیا وہاں موجود ہوتا تھا تعبیر اور آتش کو جھٹکا تو تب لگا جب نظر اینٹری ایریا سے آنے والے کرن جابر اور حاشر خانزادہ پر گئی
وہ دونوں ایک دوسرے کے بازوں میں بازؤں ڈالے ایک ادا سے اندر کی جانب آرہے تھے تعبیر نے خوفگی سے آتش کو دیکھا جیسے سوال کر رہی ہو وہ لوگ کیسے؟؟
“ریلیکس تعبیر یہ عام سی بات ہے جس طرح اس نے ہمیں انوائیٹ کیا ہے باقی کے آرٹسٹ بھی انوائٹڈ ہیں۔۔۔ ریلیکس ہوجاؤ میں ساتھ ہوں تمہارے۔۔۔”
آتش نے تعبیر کو گھبراتے ہوئے دیکھ کر نرمی سے کہا جس پر وہ سر جھکا گئی
“آہاں۔۔۔ کیا منظر ہے۔۔۔ کیا خوبصورت چہرے ہیں۔۔۔ کیا حسین حسینائیں ہیں۔۔۔ کیا رعب دار شخصیت ہیں۔۔۔ کیا قاتل ادائیں ہیں۔۔۔”
میڈیا جیسے ہی اندر آیا مائک پکڑے ایک شخص سب کو اپنی جانب متوجہ کرنے لگا جبکہ رعب دار والا جملہ اس نے آتش کو دیکھ کر کہا تھا وہ یقیناً سب کا چھوٹا بہت وقت لینے آیا تھا
“او ہو فلم کرن جابر اور حاشر خانزادہ یہاں ہیں۔۔۔ پہلے سال کی سب سے خوبصورت جوڑی آپ لوگوں کی تھی۔۔ مگر اس ساتھ کی سب سے خوبصورت جوڑی آتش درانی اور ان کے ساتھ کھڑی آرٹسٹ۔۔۔ کیا نام ہے ان کا؟؟”
وہ شخص کچھ بولتے بولتے رکا تعبیر سب کو اپنی جانب متوجہ دیکھ کر مزید گھبرانے لگی جبکہ آتش حاشر خانزادہ کو دیکھ کر مزید پرجوش ہوگیا تھا تبھی وہ لڑکا مائک لئے آتش کے سامنے آیا
“سر آتش درانی۔۔۔ یہ کون ہیں آپ کی ۔۔۔ کیا کوئی نئی آرٹسٹ ۔۔۔۔؟؟ آپ کے فینز یہ جاننے کے لیے بے قرار ہوئے جارہے ہیں آپ کا آج کا ایک چھوٹا سا انٹرویو ان کے دلوں کو قرار پہنچا سکتا ہے کیا آپ کچھ بتانا چاہیں گے؟؟”
آتش اس شخص کی بات پر مسکراتے ہوئے تعبیر کو دیکھنے لگا جبکہ حاشر خانزادہ بدلے کی آگ میں جل رہا تھا آتش جیسے ہی کچھ کہنے لگا تعبیر کی گرفت مزید مظبوط ہونے لگی کیونکہ پہلے بھی میڈیا ان دونوں کو ساتھ دیکھ چکا تھا آتش کا ایک جواب پوری انڈسٹری میں دھوم مچا سکتا تھا
“جی ہاں بلکل میں اپنے فینز کی دل سے قدر کرتا ہوں اپنی زندگی کی سب سے اہم خبر میں ان تک پہنچانا ضروری سمجھوں گا”
آتش نے حسرت بھری نگاہوں سے تعبیر کو دیکھا جو ناسمجھی سے اسے دیکھ رہی تھی کیا آخر کیا کہنا چاہ رہا تھا وہ
“میرے فینز کو یہ جان کر خوشی ہوگی کہ ان کے بازیگر کو آخر کار اس کی سینوریٹا مل ہی گئی۔۔۔”
آتش نے جس طرح مسکراتے ہوئے پرجوش انداز میں یہ بات کہی تھی وہاں موجود سب لوگ حیرت انگیز انداز سے اسے دیکھ رہے تھے تعبیر حیرت سے اسے دیکھ رہی تھی لیکن یہ خبر سن کر کرن کے پیروں تلے زمین نکل گئی تھی
“امید ہے میری زندگی کی سب سے بڑی خوشی کو لے کر میرے فینز اب کافی خوش ہوں گے۔۔۔”
آتش کے کہنے کی دیر تھی وہاں سب سیلبریٹیز نے ہوٹنگ شروع کردی تھی یہ کوئی چھوٹی خبر تو نہ تھی
وہ آتش درانی تھا جس نے بہت کم عرصے میں بہت زیادہ شہرت حاصل کی تھی اس وقت وہ واحد ایسا آرٹسٹ تھا جس نے بے حد ایوارڈز جیتے تھے وہ سب کے دلوں پر راج کرتا تھا بہت سے لوگ اس سے حسد بھی کرتے تھے
اس کی طرف سے کوئی چھوٹی سی خبر کو بھی بہت زیادہ پھیلا دیا جاتا تھا پھر یہ تو اس کی زندگی کی سب سے بڑی خبر تھی کہ اسے اس کی منزل مل گئی تھی سب کی ہوٹنگ پر تعبیر نظریں جھکائے آتش کے بازؤں کو جکڑنے لگی جس پر آتش نے تعبیر کے ہاتھ پر اپنا ہاتھ رکھا
“ریلیکس۔۔۔ تمہیں آج نہیں تو کل میرا ہونا ہی ہے نہ۔۔۔ پھر کیا فرق پڑھتا ہے یہ بات ابھی ہی سب کو پتا چل جائے کہ ہم بہت جلد ایک ہونے والے ہیں۔۔۔”
آتش کے سرگوشی کرنے پر تعبیر خاموش نظروں سے اسے تک رہی تھی آخر وہ کہتی بھی کیا اسے۔۔۔ اب تو یہ خبر پوری دنیا میں پھیل ہی چکی تھی۔۔۔
“یاہوووو۔۔۔ آتش کے فینز آج بے حد خوش ہوں گے آخر کار ان کے بازیگر کو سینوریٹا مل ہی گئی۔۔۔ واہ آج پارٹی کا مزہ دوبالا ہوگیا۔۔۔ آتش درانی فال ان لوو ود ہس پریٹی سینوریٹا۔۔۔”
مائک میں وہ شخص پرجوش انداز میں کیمرہ میں دیکھ کر بتا رہا تھا جبکہ آتش کی مسکراہٹ مزید گہری ہو چکی تھی مگر تعبیر اب صحیح معنوں میں یہاں آکر پچھتا رہی تھی
“کنگریز آتش درانی۔۔۔!!”
وہ جو تعبیر کے پریشان چہرے کو بڑی دلچسپی سے تک رہا تھا عقب سے آتی آواز پر پیچھے مڑا جہاں کرن کھڑی ہوئی مسکرا رہی تھی
“تھنکیو سو مچ!!!”
آتش نے مسکراتے ہوئے کہا جس پر وہ اس کے بازؤں کو پکڑتے ہوئے اس کے قریب ہوئی اس لمحے آتش کو کچھ عجیب سا محسوس ہوا تھا کیونکہ ایک بازوں تعبیر تھامی ہوئی تھی مگر کرن کا چھونا اسے تعبیر سے نظریں چرانے پر مجبور کر رہا تھا
“بڑے چھپے رستم نکلے تم ہاں۔۔۔ بتانا ضروری ہی نہیں سمجھا اور سب کچھ اکیلے ڈیسائڈ کرلیا۔۔۔ میں بتا رہی ہوں مجھے ٹریٹ چاہئے۔۔۔”
کرن نے جس بے باکی سے آتش کے چوڑھے سینے پر ہاتھ پھیرا تھا تعبیر آتش کو دیکھتی رہ گئی تھی
“ڈونٹ وری۔۔۔ ذرا شوٹنگز سے فری ہو جاؤں پھر ایک بڑی سی سیلیبریشن رکھوں گا۔۔۔ “
آتش نے کرن کو کہتے ہوئے ایک نظر تعبیر کو دیکھا جو شاید کرن کو آتش کے قریب دیکھ کر سر جھکائے دور ہوچکی تھی
“آہاں چلو دیکھتے ہیں۔۔۔ ویل کچھ پیو گے نہیں آج؟؟”
کرن نے آتش کے سامنے ڈرنک کا گلاس بڑھاتے ہوئے کہا
“نہیں۔۔۔ موڈ نہیں میرا۔۔۔”
آتش نے جیسے ایک طرح کا بہانہ بنایا تھا
“آتش وننا ڈانس ود یو؟؟”
سب کو جھومتا دیکھ کر کرن نے پھر سے اسے ایک نئی آفر کی جس پر وہ اسے دیکھنے لگا ابھی وہ کچھ کہتا جب کرن نے زبردستی اس کا ہاتھ تھاما
“اوہ کم آن ڈارلنگ لیٹس ہیف سم فن بے بی۔۔۔”
آتش کے لاکھ منع کرنے پر بھی کرن نے اسے اپنی جانب کھینچا اس کی اس بے باکی پھر آتش کو اس سے سخت چڑ آرہی تھی مگر وہ کوئی تماشا نہیں کرنا چاہتا تھا اس لئے خاموشی سے اس کے ساتھ چلا گیا جبکہ تعبیر ہونقوں کی طرح اسے جاتا دیکھ رہی تھی
وہ کر تو کچھ نہیں رہا تھا لیکن کرن اسے مسلسل خود میں بینچے ڈانس کرنے میں مصروف تھی آتش بار بار تعبیر کی جانب دیکھ رہا تھا جو خفگی سے اسے دیکھ رہی تھی آتش کو تعبیر کی جانب دیکھتا ہوا پا کر کرن کے تن بدن میں آگ لگ گئی
وہ اس کا رخ اپنی جانب کرتے ہوئے اس کے ہاتھوں کو اپنی کمر کے گرد باندھ کر اس کی گردن میں بانہیں ڈالے ڈانس کرنے میں مصروف ہوگئے تعبیر یہ منظر دیکھ کر ایک پل بھی وہاں نہیں رک پائی تھی وہ وہاں سے باہر چلی گئی
اچانک آتش کی نظر اس خالی ٹیبل پر گئی جہاں تعبیر موجود نہ تھی وہ کرن کو خود سے دور کرتا ہوا اس ٹیبل کی جانب آیا جہاں صرف اس کے گارڈز کھڑے تھے
“تعبیر کہاں ہے؟؟”
آتش نے سخت لہجے میں پوچھا تبھی کرن اس کے پاس آئی
“سر وہ گاڑی میں موجود ہیں۔۔۔”
گارڈ نے ہاتھ باندھے بڑے احترام سے کہا
“اوہ کم آن آتش تم تو ایسے پریشان ہو رہے ہو جیسے وہ کوئی چھوٹی بچی ہے۔۔۔ اور وہ کہہ تو رہا ہے کہ وہ گاڑی میں موجود ہے۔۔۔ پھر ٹینشن کس بات کی؟؟ پلیززز چلو تھوڑا انجوئے کرتے ہیں پھر واپس چلے جانا تم۔۔۔”
آتش کے لاکھ منع کرنے پر کرن اسے اپنے ساتھ لے گئی
کچھ دیر ڈانس کرنے کے بعد جب وہ لوگ کاؤچ پر آ بیٹھے تب کرن نے سامنے رکھا جوس کا گلاس اس کی جانب بڑھایا
“کرن میں نے بتایا نہ میرا موڈ نہیں۔۔۔”
آتش نے بیزاری سے کہا جس پر کرن اسے دیکھنے لگی
“کم آن آتش یہ ڈرنک نہیں ہے صرف جوئس ہے”
کرن کی بات پر وہ اسے ایبرو چڑھائے دیکھنے لگا
“اوہ کم آن اب یہ نہ کہنا کہ تم نے جوس بھی پینا چھوڑ دیا ہے۔۔۔ کیا ہوگیا آتش ابھی تو تمہارا ریلیشن شپ اسٹارٹ بھی نہیں ہوا اور تم کتنا بدل گئے ہو۔۔۔”
کرن نے منہ بناتے ہوئے کہا جس پر آتش نے اس کے ہاتھ سے جوس کا گلاس لیا اور دیکھتے ہی دیکھتے پورا خالی کر گیا
“گریٹ۔۔۔”
کرن نے مسکراتے ہوئے کہا جس پر وہ یک طرفہ مسکراہٹ لئے سامنے جھومتے لوگوں کو دیکھنے لگا یوں کرن اسے باتوں میں لگائے اس کا مزید وقت لے رہی تھی
کچھ ہی دیر بعد اس کا دل خراب ہونے لگا اسے لگا جیسے اسے الٹی ہوجائے گی وہ سینے پر ہاتھ پھیرتے ہوئے اٹھ کھڑا ہوا جس پر کرن بھی اٹھی
“کیا ہوا آتش تم ٹھیک ہو نہ؟؟”
آتش کی حالت پر وہ فکر مندی سے گویا ہوئی جس پر آتش نے اثبات میں سر ہلایا
“مم میں ابھی آتا ہوں۔۔۔”
آتش اس سے ایکس کیوز کرتا ہوا عقب میں واقع روم میں چلا گیا جہاں اس وقت اور کوئی نہ تھا آتش نے اپنی ٹائی ڈھیلی کی اسے لگا اس کا سانس رک جائے گا وہ واش روم میں آکر نل کھولے کھڑا ہوگیا اسے الٹی ہوئی تھی اس کا سر چکرا رہا تھا منہ پر پانی مار کر وہ دونوں ہاتھوں سے بالوں کو جکڑنے لگا
کرن چلتی ہوئی اس کمرے میں آئی ساتھ ہی ایک اور لڑکا بھی وہاں آیا تھا جسے اس نے چینجنگ روم کے اندر چھپا دیا تھا کمرے کا دروازہ بند کر کے وہ آتش کا انتظار کرنے لگی آتش جیسے ہی واش روم سے باہر آیا اسے سب دھندلا سا دکھائی دینے لگا
“آتش تم ٹھیک ہو نہ؟؟”
کرن جو اس وقت سرخ نائیٹی میں موجود تھی آتش کے سینے پر ہاتھ رکھتے ہوئے اسے کے قریب آئی
“مم میرا سر۔۔۔”
آتش کو کچھ بھی سمجھ نہیں آرہا تھا یہ اچانک اس کے ساتھ ہوا کیا تھا
“آتش ادھر آؤ میں تمہاری شرٹ اتار دیتی ہوں شاید تم ایسے کمفرٹیبل فیل کرو۔۔۔”
کرن نے آگے بڑھ کر اس کی شرٹ کرے بٹن کھولے جس پر آتش اسے بہکی نگاہوں سے دیکھنے لگا وہ چاہ کر بھی کچھ بھی سوچ نہیں پارہا تھا وہ صورتحال سمجھنے سے قاصر تھا
☆★☆★☆★☆
“کیا آپ دیکھ لیں گے پلیززز آتش اب تک کیوں واپس نہیں آئے؟؟”
اسے گاڑی میں بیٹھے بیٹھے تقریباً ایک گھنٹا گزر چکا تھا اس نے ڈرائیور سے کہا جو پلٹ کر اس کی جانب دیکھنے لگا
“میڈم میں گارڈ سے پوچھتا ہوں۔۔۔”
ڈرائیور نے فون اٹھا کر کال لگائی اور بات کرنے لگا بات مکمل کر کے فون رکھ کر وہ اسے دیکھنے لگا
“میڈم سر تو ابھی فارغ نہیں ہوئے۔۔۔”
ڈرائیور کے کہنے پر وہ موبائل میں ٹائم دیکھنے لگی رات کے بارہ سے اوپر ہو چکے تھے اسے اب یہاں کار پارکنگ ایریا میں اکیلے ڈرائیور کے ساتھ بیٹھنا بہت مشکل لگ رہا تھا
“آپ پلیززز مجھے گھر چھوڑ دیں گے؟؟ نجانے آتش کو کتنی دیر لگے گی”
تعبیر نے نرم لہجے سے درخواست کی
“اوکے میڈم میں دوسرے ڈرائیور سے کہہ دیتا ہوں وہ آپ کو دوسری گاڑی میں گھر چھوڑ دے گا۔۔۔”
ڈرائیور کی بات پر وہ اثبات میں سر ہلائے گاڑی سے اتر کر دوسری گاڑی میں بیٹھ گئی
گھر واپس آکر کچھ دیر وہ یوں ہی ٹہلتی رہی پھر کچھ سوچ کر اس نے انٹرنیٹ ان کیا جہاں اس کی اور آتش کی خبریں چل رہی تھیں ایک تو پہلے ہی وہ آتش سے اس بات پر ناراض تھی اوپر سے آتش کا کرن کے ساتھ وقت گزارنا اسے مزید غصہ دلا رہا تھا
اسے فکر تھی تو صرف اپنے بابا کی عزت کی، یہ خبر دیکھ کر وہ کیا کریں گے وہ کیا سوچ رہے ہوں گے یہی سوچتے سوچتے وہ بستر پر بیٹھ کر گہری سانسیں لینے لگی تبھی اس کے موبائل پر کسی کا میسج آیا جب اس نے نمبر دیکھا تو کوئی ان نان نمبر تھا
“مت کرو اس کا انتظار۔۔۔ وہ نہیں آنے والا۔۔۔”
تعبیر نا سمجھی والے انداز سے اسکرین کو گھور رہی تھی آخر یہ کس کا میسج تھا اور کیا مطلب تھا اس بات کا وہ کچھ بھی سمجھنے سے قاصر تھی
جاری ہے
