Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Lams e Junooniyat (Episode 34)

Lams e Junooniyat by Areesha Khan

“سر یہ آپ نے مجھے کیوں دیا تھا؟؟”

تعبیر نے اس کا دیا ہوا پینڈینٹ اس کے آگے بڑھاتے ہوئے کہا آتش بے تاثر چہرے کے ساتھ اسے دیکھنے لگا تعبیر نے کل ہی فیصلہ کیا تھا وہ یہ پینڈینٹ اسے واپس کردے گی بھلہ وہ اس کے نام کا پینڈینٹ پہن کر کیوں رکھے

“ظاہر سی بات ہے پہننے کے لئے ہی دیا ہوگا۔۔۔ اور بھلہ یہ کس کام آ سکتا ہے؟؟ لیکن اگر سوچا جائے تو یہ یاداشت تازہ کرنے کے کام بھی آ سکتا ہے۔۔۔”

وہ سنجیدگی سے کہتا ہوا اسے دیکھنے لگا تعبیر ایک نظر اسے دیکھ کر نظریں جھکا گئی

“سر یہ میں نہیں رکھ سکتی۔۔۔ سوری۔۔۔”

تعبیر نے اسے ڈریسنگ پر رکھا اور آتش سے مخاطب ہوئی جس پر وہ سوالیہ نظروں سے اسے دیکھنے لگا

“وجہ۔۔۔؟؟ پسند نہیں آیا کیا؟؟”

یہ بات تو وہ بھی جانتا تھا کہ وہ اسے پہننے سے کیوں انکار کر رہی تھی مگر پوچھنا ضروری سمجھا

“سر یہ آپ بہتر جانتے ہیں کہ میں یہ کیوں نہیں پہن سکتی”

اس نے سنجیدگی سے کہا

“پہن لو کونسا کوئی اس ہارٹ کو پُش کر کے اندر کا ایلفا بیٹ پڑھ لے گا۔۔۔”

وہ بڑے آرام سے کہتا ہوا اسے دیکھنے لگا

“سر میں یہ نہیں پہن سکتی بھلہ کیوں میں آپ کے نام کا ایلفا بیٹ پہنوں؟؟ سوری مگر میں یہ پینڈینٹ نہیں پہن سکتی۔۔۔”

وہ صاف کہتی ہوئی مڑنے لگی مگر رکی

“ایک اور بات۔۔۔ سر میں اس جاب کی وجہ سے مجبور ہوکر ایسے کپڑے نہیں پہن سکتی جن میں مجھے محفوظ محسوس نہ ہو بہتر ہوگا آپ کو اگر مجھے اپنے ساتھ رکھنا ہے تو اس ہی حال میں رکھیں ورنہ آپ جاب سے نکال سکتے ہیں”

تعبیر نے آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر یہ الفاظ کہے تھے جس پر وہ اسے دیکھنے لگا واقعی وہ خود بھی تعبیر کی ایسی ڈریسنگ کو کچھ خاص پسند نہیں کرتا تھا کیونکہ اس کے ایسے لباس کی وجہ سے سب کی نظریں اس پر ہوتی تھیں جو کہ آتش درانی کی شان میں گستاخی کے برابر تھا

“ٹھیک ہے آج سے تمہارا جو دل کرتا ہے وہ پہنو لیکن تمہیں میرا یہ پینڈینٹ ہر حال میں پہننا ہوگا۔۔۔”

وہ اسے حکم دینے لگا جس پر وہ نا سمجھی سے اسے دیکھنے لگی

“لیکن آخر کیوں؟؟”

“کیونکہ یہ میرا حکم ہے۔۔۔”

آتش نے فٹ سے جواب دیا جس پر وہ اسے دیکھنے لگی

“زبردستی ہے کیا؟؟”

تعبیر نے سخت تاثرات لئے اسے دیکھا

“یہی سمجھو۔۔۔”

آتش نے بے حد قریب آکر سرگوشی کی تھی جس پر وہ سہم کر رہ گئی تھی

“خیر مجھے ریڈی ہونا ہے تم یہ پینڈینٹ اٹھاؤ اور جاکے تیاری کرلو میں بس ابھی آتا ہوں!!!”

وہ اسے حکم دیتا ہوا خود مرر کے سامنے آکھڑا ہوا برینڈڈ پرفیوم کی بوتل اٹھا کر کوٹ پر چھڑکنے لگا جبکہ تعبیر خاموشی سے وہ پینڈینٹ لئے وہاں سے چلی گئی

تقریباً دس منٹ ہو چکے تھے اسے مگر اب تک وہ کمرے سے باہر نہیں آئی تھی آتش نے کمرے میں جانا مناسب نہ سمجھا اس لئے گاڑی میں بیٹھ کر اس کا انتظار کرنے لگا مگر تب ہی وہ اسے اپارٹمنٹ کی سیڑھیوں سے اتر کر آتی نظر آئی آتش نے اپنا موبائل کوٹ کی جیب میں رکھا اور اسے آتا دیکھنے لگا

سرخ و سفید رنگت پر کالے رنگ کا سوٹ اس کی خوبصورتی کو چار چاند لگا رہا تھا ہلکا سا میک اپ کھلے بال کاندھے پر ڈوپٹہ پیروں میں اونچی ہیل جبکہ اب وہ اس کے برابر آ بیٹھی تھی تو اس کی گردن میں آتش کے نام کا پینڈینٹ موجود تھا جسے دیکھ کر وہ فاتحانہ انداز میں اپنا کوٹ ٹھیک کرنے لگا

“اتنی دیر کیوں لگائی تم نے؟؟ میں بوس ہوں تمہارا نہ کہ تم میری۔۔۔ خیال رکھا کرو اگلی بار ویٹ نہ کرنا پڑے”

وہ بھرم سے کہتا ہوا ڈرائیور کو گاڑی چلانے کا اشارہ کرنے لگا جبکہ تعبیر اسے ہی دیکھ رہی تھی

وہ جامنی رنگ کے کوٹ پینٹ جس کے اندر کالے رنگ کی شرٹ تھی بالوں کو جیل سے سیٹ کیا ہوا تھا پیروں میں برینڈڈ جوتے ہاتھ میں واچ گلے میں ایک مخصوص قسم کا لاکٹ جبکہ چال ہمیشہ کی طرح مغرورانہ تھی وہ پرسنیلٹی کا شہزادہ لگتا تھا وہ اپنی تھیکی نیلی آنکھوں کے سحر میں بآسانی کسی کو بھی جکڑ سکتا تھا نجانے وہ کتنے دلوں کے دھڑکنے کی وجہ بنا تھا

“سوری سر آئیندہ خیال رکھوں گی، نماز پڑھ رہی تھی جبھی دیر ہوگئی”

وہ مختصر سا کہتی ہوئی سامنے کی جانب نظریں کر گئی جبکہ اب وہ اسے ہی دیکھ رہا تھا

“نماز؟؟ اس وقت؟؟ آئی تھنک اب تو نماز قضاء نہیں ہوچکی ؟؟”

اس نے ایک نظر سامنے دیکھ کر اس سے کہا

“جی قضاء تو ہو گئی تھی مگر ہمارے دین نے ہمیں سہولت دی ہے۔۔۔ ہم قضاء نماز دو رکعتوں کی صورت میں پڑھ سکتے ہیں”

اس نے دھیمے لہجے میں کہا

“کیا تم ساتھ نمازیں پڑھتی ہو؟؟”

اس نے ایک اور بار سوال کیا شاید اس نے زندگی میں کبھی کسی سے اتنی زیادہ باتیں نہ کی ہوں گی جتنی وہ تعبیر سے کیا کرتا تھا

“جی الحمدللہ۔۔۔”

تعبیر نے مسکراتے ہوئے جواب دیا شاید ایسا پہلی بار ہوا تھا کہ وہ آتش کو مسکرا کر دیکھ رہی تھی آتش کچھ پل کے لیے تو اس کی اس دلکش مسکراہٹ میں کھو سا گیا تھا

“کیا ملتا ہے تمہیں نماز پڑھ کر؟؟ میرا مطلب کیا تمہاری دعائیں قبول ہوجاتی ہیں؟؟”

آتش کے سوال پر وہ اسے دیکھنے لگی آتش کو لگا شاید اس نے کچھ غلط پوچھ لیا تھا

“سکون ملتا ہے نماز پڑھ کر۔۔۔ دن بھر کی تھکن دور ہوجاتی ہے۔۔۔ ایک نئے قدم اٹھانے کی پھرتی جسم میں آجاتی ہے۔۔۔ اور رہی دعائیں قبول ہونے کی بات تو وہ میرا رب سب کی سنتا ہے دعائیں اکثر دیر میں قبول ہوتی ہیں مگر ضرور ہوتی ہیں۔۔۔”

تعبیر نے یقین سے جواب دیا جس پر وہ بہت حیران ہوا تھا

“کیا تمہیں اتنا یقین ہے کہ تمہاری ہر دعا قبول ہو جائے گی؟؟”

اس نے تعجب سے سوال کیا

“انسان کا ایمان اگر پختہ ہو تو دعائیں قبول ہونے میں زیادہ وقت نہیں لگتا۔۔۔”

تعبیر نے سنجیدگی سے کہا تب وہ کچھ سوچنے لگا مگر پھر کچھ پوچھتے پوچھتے خاموش ہوگیا

“سر شوٹ ریڈی ہے۔۔۔ آپ کو چینج کرنے کی نیڈ نہیں بس کچھ ہیئر اسٹائل چینج کیا جائے گا”

وہ اثبات میں سر ہلاتے ہوئے سامنے کی جانب بڑھ گیا جبکہ وہ وہیں کھڑی اسے جاتا دیکھ رہی تھی

آج پھر اس کی اور حاشر کی لڑائی کا سین تھا جس میں بار بار اس نے حاشر کو ہٹ کیا تھا اتنا کہ وہ بچارا پٹ پٹ کر تھک گیا تھا البتہ آتش تو نہ تھکا تھا وہ تو اب تک اس کو مزید دھونے کے لئے تیار کھڑا تھا مگر اب شام ہوچکی تھی تو ان کا سین مکمل کرلیا گیا تھا

“سر کل جمعہ۔۔۔”

وہ جیسے ہی اپارٹمنٹ پر پہنچے تعبیر نے فٹ سے کہا

“ہاں تو؟؟”

آتش نے سوال کیا

“سر کل میں دیر سے آؤں گی۔۔۔ اگر آپ کی اجازت ہو تو۔۔۔”

وہ معصومیت سے کہتی ہوئی اسے پری لگ رہی تھی

“وجہ جان سکتا ہوں؟؟”

آتش نے رعب دار آواز میں کہا

“سر جمعے کو نماز وغیرہ میں دیر ہوجاتی ہے۔۔۔ اور ویسے بھی کل آپ کی کوئی شوٹنگ نہیں ہے بس شام کے وقت ایک پروڈیوسر سے میٹنگ ہے۔۔۔”

تعبیر کی بات پر وہ ایک انگلی سے اپنی بیئرڈ کھجانے لگا

“اگر تم چاہو تو نماز وغیرہ جو کچھ بھی ہے وہ یہی پر پڑھ سکتی ہو۔۔۔ ویسے بھی آج رات مجھے ایک پارٹی میں جانا ہے اب تمہیں تو ساتھ لے جا نہیں سکتا تم اب گھر جا سکتی ہو۔۔۔”

وہ اپنی بات مکمل کرتا ہوا ڈرائیور کو اشارہ کر کے خود اندر چلا گیا جبکہ وہ اسے جاتا دیکھ رہی تھی

☆★☆★☆★☆

“وجہی صاحب آپ بات کو سمجھنے کی کوشش کریں مجھے بار بار دھمکیاں مل رہی ہیں مجھے لگ رہا ہے آپ اپنے وعدے سے مکر چکے ہیں آپ مجھے جھوٹی تسلیاں نہ دیں”

انہوں نے پریشان کن انداز میں کہا

“دیکھو افتخار میں سب کچھ جانتا ہوں مگر میں نے تم سے وقت مانگا تھا تم بات کو سمجھتے کیوں نہیں۔۔۔ میں اپنے وعدے سے نہیں مکر رہا اگر اسے کچھ بھی ہوا تو میں خود وہاں آؤں گا۔۔۔ اور صورتحال سنبھال لوں گا تم پریشان نہ ہو”

دوسری جانب سے یہ الفاظ سن کر انہوں نے اپنی پیشانی رگڑی

“وجہی یہ میری اولاد کی زندگی کا سوال ہے اور تم کہہ رہے ہو میں پریشان نہ ہوؤں؟؟ فرض کرو اگر مجھے کچھ ہوگیا تو وہ کمال علی اس کے ساتھ کیا کرے گا؟؟ جانتے نہیں تم کمال کو کس قدر گھٹیا، بیغیرت اور گندھی نظر کا انسان ہے وہ۔۔۔”

افتخار صاحب نے انہیں سمجھاتے ہوئے کہا جس پر انہوں نے ایک گہری سانس لی

“اچھا ٹھیک ہے تم پریشان نہ ہو اور مجھے گھر کا پتہ دو۔۔۔ جیسے ہی یہاں کے معاملات حل ہوتے ہیں میں وہاں کا رخ کروں گا”

دوسری طرف سے یہ آواز سن کر انہوں نے سکھ کا سانس لیا اور کال ڈسکنیکٹ کر کے میسج ٹائپ کرنے لگے

☆★☆★☆★☆

“کامی شاہ میری ایک بات کان کھول کر سن لو بھاڑ میں جائے تمہاری وارننگز میں نہیں ڈرتا تم سے سمجھے اور میں اپنی طرف سے پوری کوشش کر رہا ہوں تعبیر جیسے ہی مجھ سے بات کرے گی میں اسے پھنسا لوں گا لیکن اس کے لئے ہمیں آتش کو اس سے دور کرنا ہوگا”

حاشر خانزادہ نے غصے سے غرراتے ہوئے کہا جبکہ دوسری طرف خاموشی تھی ابھی وہ فون بند کر کے پلٹا تھا جب وہ ایک ادا سے کھڑی اس کی جانب متوجہ تھی

“ردا ریاض؟؟”

وہ حیران کن انداز میں اسے دیکھ رہا تھا وہ کافی سالوں بعد اس کے مینشن پر آئی تھی جس وجہ سے وہ شاکڈ تھا

“کیا ہوا؟؟ مجھے یہاں اچانک دیکھ کر حیران رہ گئے؟؟”

وہ آنکھیں سکیڑے اس کی جانب بڑھی وہ وہیں ساکت کھڑا اس کی انگلیوں کو اپنے سینے پر محسوس کر رہا تھا

“تم یہاں؟؟ وہ بھی اچانک؟؟ میرا مطلب۔۔۔ تم تو آتش۔۔۔”

وہ ابھی مزید کچھ کہتا جب ردا نے اس کے لبوں پر انگلی رکھ کر اسے چپ کروایا وہ خمار بھری نگاہوں سے اسے دیکھ رہی تھی وہ دونوں ایک دوسرے کے بے انتہا قریب تھے

“بس کچھ حالات ایسے ہوگئے تھے کہ مجھے یہاں کا رخ کرنا پڑا”

وہ اس کے سینے پر ہاتھ پھیرتے ہوئے گردن تک لے آئی جبکہ وہ خاموشی سے اسے دیکھ رہا تھا

وہ ٹائٹ سی پینٹ اور شاٹ شرٹ پہنے بیت بولڈ لگ رہی تھی جبکہ چہرہ ہمیشہ کی طرح میک اپ سے لیپا گیا تھا اونچی ہیل جبکہ بالوں کو آواز کیا ہوا تھا وہ تھی تو بے حد خوبصورت مگر انڈسٹری میں سب سے زیادہ بدنما شخصیت اس ہی کی تھی

“تم تو آتش کے آگے پیچھے گھومتی تھیں نہ تم نے میری آفر ٹھکرائی تھی نہ تو اب یہاں آنے کا مطلب؟؟”

وہ اس کے رینگتے ہاتھوں کو قابو کرتا ہوا سختی سے اس سے مخاطب ہوا جس پر وہ اسے نشیلی آنکھوں سے دیکھنے لگی

“تم تو یوں ہی ناراض ہورہے ہو۔۔۔ ورنہ آفر تو میں نے بھی تمہیں دی تھی لیکن شاید اس کرن جابر سے تمہیں کوئی دلی لگاؤ ہے جو بار بار میرے میسجز اگنور کرتے ہو۔۔۔”

آخری والے الفاظوں پر اس کا لہجہ سخت تھا جس پر وہ تنزیہ مسکرایا

“کام بتاؤ کیسے آنا ہوا؟؟”

اس نے اسے خود سے دور کرتے ہوئے کہا اور خود صوفے پر جا بیٹھا جبکہ وہ لپک کر اس کے عقب میں آبیٹھی حاشر شراب کا گلاس لبوں پر لگائے بیٹھا تھا وہ اسے دیکھی جارہی تھی

“آتش کو برباد کرنے میں میں تمہارا ساتھ دوں گی۔۔۔”

اس کا ہاتھ رکا وہ یک دم اس کی جانب حیرت سے دیکھنے لگی جو اب شیطانی مسکراہٹ اچھال رہی تھی

“اور ایسا تم بھلہ کیوں کرو گی؟؟ کیونکہ اس نے تمہیں چھوڑ دیا۔۔۔”

وہ تنز کرتا ہوا اس کے تن بدن میں آگ لگا گیا تھا

“میں ایسا کیوں کرنا چاہتی ہوں کیوں نہیں اس سے تمہارا کوئی لینا دینا نہیں تمہیں تمہاری وہ لڑکی مل جائے گی جو آج کل آتش کے قریب رہتی ہے جبکہ مجھے آتش مل جائے گا اور میں اسے برباد کردوں گی وہ بھی بہت آسانی سے۔۔۔”

وہ اپنے پلان بتاتے ہوئے حاشر کے ہاتھ سے گلاس لے کر اپنے لبوں پر لگا گئی تھی جبکہ آگے کا پلان جان کر حاشر اپنی مخصوص مسکراہٹ لئے اس پر جھک چکا تھا

☆★☆★☆★☆

“اوکے بابا جان خدا حافظ۔۔۔”

وہ جلدی سے اپنا ناشتہ ختم کر کے بائک کی جانب بڑھنے لگا جب افتخار صاحب اسے گھورنے لگے

“رکو۔۔۔ ادھر آکر بیٹھو۔۔۔”

وہ بچارا بچوں والی شکل بناتے ہوئے پلٹا

شاویز کے کہنے پر تعبیر نے افتخار صاحب سے بات کر تو لی تھی مگر اب شاویز کو افتخار صاحب کے غصے سے ڈر لگ رہا تھا

“جج جی بابا جان۔۔۔”

اس نے سوکھے لبوں پر زبان پھیرتے ہوئے کہا

“یہ میں کیا سن رہا ہوں؟؟ تمہیں آج کل بڑا شادی کا شوق چڑھ رہا ہے۔۔۔ کچھ زیادہ بڑے نہیں ہوتے جارہے تم آج کل؟؟”

افتخار صاحب نے سرد لہجے میں کہا شاویز تعبیر کو التجائی نظروں سے دیکھنے لگا

“بابا جان میں نے۔۔۔”

“تم چپ رہو۔۔۔ مجھے بات کرنے دو۔۔۔”

ابھی وہ کچھ کہتی جب افتخار صاحب نے اسے چپ کرا دیا شاویز بچارگی سے ادھر اُدھر دیکھنے لگا

“کچھ پوچھا ہے میں نے تم سے میاں۔۔۔”

انہوں نے ایک اور بار کہا جس پر وہ انہیں دیکھنے لگا

“وہ۔۔۔ بابا۔۔۔ وہ۔۔۔”

“کیا وہ وہ لگا رکھا ہے۔۔۔؟؟ اگر اتنا ہی شوق ہے شادی کا تو انسانوں کی طرح بات کرنا سیکھو پہلے۔۔۔ایا بڑا گدھا کہیں کا۔۔۔ شادی کرنی ہے۔۔۔”

انہوں نے سخت ناگواری سے اسے گھورا جس پر وہ معصومیت سے انھیں دیکھنے لگا

“ہاں تو کیا بابا جان گدھوں کی شادیاں نہیں ہوا کرتیں؟؟ میں تو پھر اچھا بھلہ انسان ہوں۔۔۔ پتا نہیں آپ کو کیوں میں گدھا نظر آتا ہوں۔۔۔”

اس نے ایک ہی سانس میں پوری بات کہی تھی جبکہ تعبیر خاموشی سے انہیں دیکھ رہی تھی

“اچھا بس بس آج کل کچھ زیادہ زبان نہیں چل رہی تیری؟؟ لگتا ہے کاٹنا پڑے گی۔۔۔”

افتخار صاحب کی بات پر وہ آنکھیں پھاڑتا انہیں پھر تعبیر کو دیکھنے لگا جو اسے خاموش رہنے کا اشارہ کر رہی تھی

“بابا جان مجھے دیر ہورہی ہے۔۔۔”

موبائل پر کسی کی کال دیکھ کر وہ انہیں کہنے لگا

“ٹھیک ہے تم آفس جاؤ اور ہاں حریم بیٹی سے گھر کا پتہ پوچھ لینا ذرا میری طبیعت سنبھل جائے پھر ایک دو دن بعد وہاں کا چکر لگائیں گے۔۔۔”

اپنے مطلب کی بات سن کر شاویز مسکراتے ہوئے تعبیر کو دیکھنے لگا جو خود مسکرا رہی تھی

“اوکے بابا جان لو یو سو مچ اللّٰہ حافظ۔۔۔”

وہ پرجوش انداز میں ان کے گلے لگتا ہوا اپنی بائیک کی جانب بڑھا اور کچھ ہی دیر میں وہ جا چکا تھا جبکہ پیچھے افتخار صاحب اور تعبیر اس کی حرکت پر مسکرائے تھے

☆★☆★☆★☆

“اتنا۔۔۔ سناٹا کیوں۔۔۔ ہورہا ہے۔۔۔”

وہ لڑکھڑاتے قدموں سے سیڑھیاں اترتے ہوئے ہال کی جانب بڑھ رہا تھا کل اس نے کچھ زیادہ ہی پی لی تھی شاید تبھی آج اس کی آنکھ دو بجے سے پہلے کھلی تھی اس وقت وہ بلیک کلر کی بنا آستینوں کی شرٹ اور بلیک ہی رنگ کے ٹراؤزر میں ملبوس تھا جبکہ اس کا لاکٹ اب بھی اس کے گلے میں تھا

وہ دیوار کا سہارا لئے بامشکک قدم اٹھا کر آگے بڑھنے لگا جب اس کی نظر تعبیر کے کمرے پر گئی جس کا دروازہ کھلا ہوا تھا

“اور مجھے یقین ہے ایک دن تو میرے لئے رحمتوں کے بند دروازے کھول دے گا۔۔۔ انشاللہ آمین۔۔۔”

وہ پیلے رنگ کے شلوار قمیض میں ملبوس جائے نماز پر بیٹھی نماز کا ڈوپٹہ باندھ کر دعا مانگ رہی تھی وہ وہیں کھڑا اسے بڑی حیرت سے دیکھ رہا تھا وہ کتنی معصوم تھی کتنا نور تھا اس کے چہرے پر آتش بامشکل اس کے کمرے کے صوفے پر آ بیٹھا اور بغور سے دیکھنے لگا

“دعا مانگ رہی تھیں؟؟”

جیسے ہی وہ دعا مانگ کر فارغ ہوئی ایک عجیب سے بو اسے اپنے نزدیک سے آتی محسوس ہوئی تعبیر نے پلٹ کر دیکھا تو وہ صوفے پر بیٹھا اپنی بوجھل آنکھوں کو مسلتے ہوئے اسے ہی دیکھ رہا تھا بال بکھرے ہوئے تھے

“جی۔۔۔”

تعبیر نے ایک افسوس بھری نگاہ اس کے حلیے پر ڈالی اور جائے نماز اٹھا کر سائڈ میں رکھنے لگی

“کیا مانگا تم نے؟؟”

آتش تھوڑی پر ہاتھ ٹکائے اسے بڑے غور سے دیکھ رہا تھا تعبیر برابر والے صوفے پر کچھ فاصلے پر آ بیٹھی

“دعائیں بتائی نہیں جاتیں۔۔۔”

تعبیر نے مختصر سا کہا جب اس کی نظر آتش کے ہاتھ پر لگے خون کی جانب گئی جو شاید سوکھ چکا تھا یقیناً کل نشے کی حالت میں پھر سے اس کی کسی سے لڑائی ہوئی ہوگی وہ سوچ کر خاموش ہوگئی

“کیوں۔۔۔ نہیں بتائی جاتیں۔۔۔؟؟”

وہ غیر حالت میں بامشکل اسے دیکھتے ہوئے پوچھنے لگا

“کیونکہ ہم اللہ پاک سے مانگتے ہیں جب دینے والا وہی ہے تو کیوں کسی اور کے سامنے اپنی دلی خواہش کو ظاہر کریں۔۔۔”

تعبیر نے سنجیدگی سے کہا اب بھی اس کی نظر آتش کے ہاتھ پر تھی

“اچھ۔۔۔ چھا۔۔۔ مطلب میں اگر کچھ مانگوں۔۔۔ تو وہ مجھے دے دے گا۔۔۔؟؟”

آتش نے لڑکھڑاتی زبان سے یہ الفاظ ادا کئے تھے

“بیشک دے گا اگر سچے دل سے مانگا جائے تو۔۔۔”

تعبیر نے میٹھے لہجے میں کہا

“یار۔۔۔ یہ سچے دل سے کیسے ۔۔۔ مانگتے ہیں؟؟ مجھے تو مانگنا ہی۔۔۔ نہیں آتا۔۔۔ کبھی میرے پاس۔۔۔ کچھ نہیں ہے۔۔۔”

آتش نے بڑی غور سے اس کے چہرے کو دیکھتے ہوئے پوچھا جس پر وہ اسے دیکھنے لگی

“جب آپ سچے دل سے بار بار رو رو کر مانگو گے تو وہ آپ کو دے گا۔۔۔ ضرور دے گا بے شک میرا رب اپنے بندوں کو مایوس نہیں کرتا۔۔۔”

تعبیر کی بات پر وہ ایبرو اچکائے اسے دیکھنے لگا

“تم میرے۔۔۔ لئے مانگو گی۔۔۔ کچھ۔۔۔ وہ تمہیں دیتا ہے۔۔۔ شاید تمہاری سن لے۔۔۔”

آتش نے اسے اشارہ کرتے ہوئے بولا

“میں۔۔۔ میں آپ کے لئے مانگوں؟؟”

تعبیر نے ناسمجھی والے انداز میں کہا جس پر وہ اثبات میں سر ہلانے لگا

“ہاں تم۔۔۔ تم میرے لئے مانگو۔۔۔ کیونکہ وہ شراب پینے والوں کو پسند نہیں کرتا۔۔۔ اب یار میں کیا کروں میں شراب نہیں چھوڑ سکتا۔۔۔ مگر مجھے وہ چاہئے ہر حال میں۔۔۔”

آتش کی بات پر تعبیر سنجیدگی سے دیکھنے لگی

“کیا چاہئے آپ کو؟؟”

تعبیر نے دھیمے لہجے میں پوچھا

“سکووووون۔۔۔ بہت سااارا سکون۔۔۔”

آتش نے بالوں کو چہرے پر سے ہٹاتے ہوئے کہا

“تو یہ آپ خود بھی مانگ سکتے ہیں۔۔۔ اور رہی شراب کی بات تو شراب پینا حرام ہے۔۔۔”

تعبیر کی بات پر وہ تنزیہ مسکرایا

“اور میں حرامی۔۔۔؟؟”

اس کا قہقہہ فضا میں بلند ہوا جس پر تعبیر نے نظریں جھکالیں وہ ابھی بھی ٹھیک سے ہوش میں نہ تھا اس لیے ایسی باتیں کر رہا تھا

“مجھے۔۔۔ مجھے روم میں لے چلو۔۔۔ میں بھی دعا کروں گا۔۔۔”

اس نے ضدی انداز میں کہا

“سر مگر ابھی آپ ہوش میں نہیں ہیں۔۔۔”

“میں ہوش میں ہوں تعبیر۔۔۔ مجھے لے چلو مجھے دعا کرنی ہے۔۔۔”

وہ اس کے کاندھے کا سہارا لئے سیڑھیاں عبور کرنے لگا جبکہ تعبیر نے بھی اسے زیادہ زور نہ دیا

وہ کمرے میں آتے ہی باتھ جانے لگا تعبیر نے اس کے کہنے پر ایک سادہ سا کُرتا نکال کر اسے دیا کچھ ہی دیر بعد وہ اپنے گیلے بالوں کو درست کرتا ہوا باہر آیا جب تعبیر اسے کالے رنگ کے کرتے میں دیکھ کر حیران رہ گئی تھی وہ آخر کس قدر حسین دکھتا تھا

“نماز کیسے پڑھتے ہیں؟؟”

آتے کے ساتھ ہی اس نے سامنے بیٹھی تعبیر سے سوال کیا جبکہ نہ تو اب وہ نشے میں لگ رہا تھا اور نہ ہی اس کے قدم اور زبان لڑکھڑائے تھے وہ بلکل نارمل لگ رہا تھا

“آپ کو نماز پڑھنی نہیں آتی؟؟”

تعبیر نے حیرانگی سے سوال کیا اس کی بات پر وہ شرمندگی سے نظریں جھکا گیا

“کوئی بات نہیں پہلے یہ بتائیں آپ نے وضو کیا؟؟”

تعبیر کی بات پر اس نے نفی میں سر ہلایا تعبیر سمجھ چکی تھی گھر سے دور رہ کر وہ صرف اور صرف شوبز کا ہو کر رہ گیا تھا جبھی وہ دین سے لا علم تھا

“چلیں میں بتاتی ہوں۔۔۔”

وہ اسے ایک ایک اسٹیپ سمجھا رہی تھی وہ آستینوں کو کوہنی پر چڑھائے اس کی بتائی ہوئی ہدایات پر عمل کر رہا تھا اس کا وضو اب مکمل ہو چکا تھا

“اب کیا کرنا ہے؟؟”

وہ سر پر ٹوپی پہنتے ہوئے سوالیہ نظروں سے اسے دیکھنے لگا جب تعبیر نے جائے نماز بچھائی اور اسے بیٹھنے کا اشارہ کیا یہ تو وہ خود بھی نہیں جانتا تھا کہ آخر اسے ہو کیا گیا تھا

“میں نیت کرتا ہوں، چار رکعت نماز سنت، وقتِ ظہر واسطے اللّٰہ تعالیٰ کے، منہ میرا کعبہ شریف کی طرف اللّٰہ ہو اکبر!!!”

اب منظر کچھ ایسا تھا کہ تعبیر اس کے برابر میں کھڑی اسے خود نماز پڑھا رہی تھی

پہلے اس نے رکوع کیا پھر سجدہ اور تمام رکعتوں کے بعد دعا کے لئے ہاتھ اٹھائے شاید اس ہی لمحے کا اسے بے صبری سے انتظار تھا

“دعا کیسے مانگوں؟؟”

ہاتھ تو اس نے اٹھا لئے تھے مگر مانگنے کا طریقہ اسے اب بھی معلوم نہیں تھا وہ سنجیدگی سے تعبیر کو دیکھنے لگا

“دعائیں مانگنے کا کوئی خاص طریقہ نہیں ہوتا۔۔۔ بس آپ کا ایمان مظبوط ہونا چاہئے اور جو کچھ بھی مانگیں وہ سخت دل سے مانگیں۔۔۔”

تعبیر نے ہلکی سی مسکراہٹ کے ساتھ یہ الفاظ کہے تھے جس پر وہ سنجیدگی سے اپنے رب کے حضور اٹھے ہوئے ہاتھوں کو دیکھنے لگا

تعبیر اسے ایسے ہی چھوڑ کر وہاں سے چلی گئی جبکہ وہ آنکھیں بند کئے اپنے دل کو محسوس کرنے لگا جو اس کی چاہ تھی جو اسے چاہئے تھا جس کا وہ طلبگار تھا

“اللّٰہ۔۔۔ اللّٰہ پاک۔۔۔ مجھے سکون چاہئے۔۔۔ میں نے جانتا وہ کیسے ملے گا لیکن۔۔۔ مجھے سکون چاہئے۔۔۔ میں بہت بے سکون ہوں یہ میری زندگی کا وہ پہلا لمحہ ہے جس میں میں نے تجھ سے کچھ مانگا ہے۔۔۔”

وہ زیرِ لب کہنے لگا

“میر پاس سب کچھ ہے مگر سکون نہیں ہے۔۔۔”

یک دم اس کی آنکھیں کھلیں اس کا دل دھڑکنے لگا آج پہلی بار وہ اللّٰہ کے حضور پیش ہوا تھا آج پہلے بار اس کے دل میں اپنے رب کے لئے احساسات آئے تھے وہ حیران تھا اس کے دل کو کچھ ہورہا تھا

وہ تعبیر کے دیکھا دیکھی دونوں ہاتھوں کو چہرے پر پھیرتے ہوئے اٹھ گیا

“امید ہے میری پہلی دعا جلد قبول ہوگی”

ایک نظر چھت کو دکھ کر وہ جائے نماز اور ٹوپی وہیں رکھ کر باہر چلا گیا

☆★☆★☆★☆

“ڈیڈ مجھے معاف کردیں میں آئندہ کے بعد آپ کے کسی بھی فیصلے پر سوال نہیں اٹھاؤں گی۔۔۔”

وہ اپنے کمرے میں موجود بستر پر لیٹی ہوئی تھی سر پر پٹی بندھی ہوئی تھی جب اس کا ایکسیڈنٹ ہوا تھا چوٹ گہری تو نہ تھی مگر درد بہت تھا

“میں جو بھی فیصلہ کرتا ہوں اس میں تمہاری بھلائی ہوتی ہے ائیزل۔۔۔”

انہوں نے اس کی پیشانی چومتے ہوئے کہا وہ اشکوں کو چھپانے کی ناکام کوشش کر رہی تھی جب سے وہ گھر آئی تھی کسی نے بھی اس سے ضوریز کے بارے میں کوئی سوال نہ پوچھا تھا

“ڈیڈ مجھے آپ سے ایک ضروری بات کرنی ہے”

ائیزل نے سنجیدگی سے کہا جس پر وہ اسے دیکھنے لگے

“کہو میری جان۔۔۔”

کاظم صاحب نے پیار سے اس کے بالوں میں ہاتھ پھیرتے ہوئے کہا

“ڈیڈ ہماری یونی میں ایک بہت اچھا لڑکا پڑھتا ہے وہ حریم کا کلاس میٹ ہے۔۔۔ ڈیڈ مجھے پہلے شک تھا کہ وہ حریم کو پسند کرتا ہے مگر اب یقین ہوگیا کیونکہ شاویز کے گھر والے حریم کا ہاتھ مانگنا چاہ رہے ہیں”

ائیزل کی بات پر ان کے ماتھے پر شکن آئی تھی مگر جلد ہی وہ مسکرا دیئے تھے

“کیا حریم کو رضامند ہے؟؟”

کاظم صاحب کے سوال پر اس نے مسکراتے ہوئے ہاں میں سر ہلایا

“اچھا چلو یہ تو اچھا ہوا اس بارے میں ہم بعد میں بات کریں گے۔۔۔ میں کہہ رہا تھا ارتضیٰ آج شام ہی واپس جانے والا ہے۔۔۔ تم سے ایک بار ملنا چاہتا ہے”

کاظم صاحب نے کہا اور وہاں سے اٹھ کر چلے گئے جبکہ اب ارتضیٰ اس کے روم میں آیا تھا

“کیسی ہو ائیزل ؟؟”

اس نے مختصر سا سوال کیا

“پہلے سے بہتر ہوں۔۔۔”

ائیزل نے بے تاثر سا جواب دیا جس پر وہ خاموش ہوگیا

“میری آج رات کی فلائٹ ہے سوچا آخری بار تم سے مل لوں۔۔۔”

کافی دیر بعد اس نے کچھ کہا

“ہممم، اچھا کیا۔۔۔ تو پھر واپسی کب ہوگی تمہاری؟؟”

ائیزل نے سنجیدگی سے سوال کیا

“میری واپسی اب تب ہی ہوگی جب شادی کے کارڈز تیار ہوجائیں گے۔۔۔ اور یہ بھی سچ ہے کہ شادی کے کارڈز میں خود ڈیزائن کروں گا”

اس نے معنیٰ خیزی سے اسے دیکھا جس پر ائیزل بھی اسے دیکھنے لگی

“خیر تمہارا زیادہ وقت نہیں لوں گا۔۔۔ اپنا زیادہ سے زیادہ خیال رکھنا کیونکہ میری واپسی پر تم میرا نیا روپ دیکھو گی اور تب میں تمہارا کوئی بہانا نہیں سنوں گا۔۔۔!!! خدا حافظ”

وہ اپنی بات مکمل کرتا ہوا وہاں سے چلا گیا جبکہ ائیزل گہری سانس لئے ویسے ہی لیٹی رہی آج اسے سگریٹ کی بہت طلب ستا رہی تھی مگر اس سے بھی کئی زیادہ یاد اسے سگریٹ چھڑانے والے کی آرہی تھی۔۔۔

☆★☆★☆★☆

“حریم جی آپ خوش تو ہیں نہ۔۔۔”

شام کا وقت تھا جب وہ لگ ریسٹورانٹ میں موجود تھے پہلے کی بانسبت اب شاویز کافی حد تک اس سے فرینک ہو چکا تھا پر بات وہ کھل کر کیا کرتا تھا شاید وہ دونوں ایک دوسرے کو سمجھنے لگے تھے

“خوش تو بہت چھوٹا سا لفظ ہے مجھے تو جیسے ایک نئی زندگی ملنے والی ہے”

حریم کی بات پر شاویز نے مسکراتے ہوئے اس کا ہاتھ تھاما مگر یہ منظر دیکھ کر کسی وجود کا خون زوروں سے دوڑنے لگا تھا

“تو پھر کب آؤں میں آپ کے گھر بارات لے کر۔۔۔؟؟”

شاویز کے سوال پر حریم مسکرائی تھی

“پہلے بات تو پکی ہوجانے دو۔۔۔”

حریم نے ہاتھ پیچھے کھینچتے ہوئے کہا مگر جہاں شاویز نے گرفت مضبوط کی وہیں کسی وجود نے مٹھیاں بینچیں تھیں

“بات پکی ہو چکی ہے کیونکہ آپکی فرینڈ کے ڈیڈ کا راضی ہونا نہ ہونا میرے لیے کوئی معنی نہیں رکھتا۔۔۔ آپ راضی ہو میرے لئے اتنا ہی کافی ہے۔۔۔”

وہ بغور اسے دیکھتے ہوئے کہنے لگا

حریم شوکنگ پنک کلر کی لانگ شرٹ ساتھ بلیک جینز میں ملبوس بالوں کی اونچی پونی بنائے پنک ہی لپ لوز لگائے اپنے نرم ملائم پھولے گالوں پر بلش سجائے اس کا دل دھڑکا رہی تھی شاویز اسے مسلسل دیکھا ہی جارہا تھا وہ ہمیشہ کی طرح آج بھی ڈول ہی لگ رہی تھی

جبکہ شاویز بلو شرٹ جس کے اوپر بلیک اپر ساتھ بلیک ہی پینٹ پہنے اپنے کسرتی جسم اور ترتیب سے بنائے گئے ہیئر اسٹائل کے ساتھ بہت ہینڈسم لگ رہا تھا حریم کو وہ آج ضرورت سے زیادہ پیارا لگ رہا تھا

“تمہیں اتنی جلدی کیوں ہے شادی کی؟؟ رہا نہیں جاتا کیا میرے بنا۔۔۔؟؟”

حریم نے آنکھیں چھوٹی کرتے ہوئے کہا جس پر وہ مسکراتے ہوئے گردن جھکا گیا

“بلکل ٹھیک سمجھیں آپ۔۔۔ نہیں رہا جاتا آپ کے بنا۔۔۔ میں چاہتا ہوں جلد سے جلد آپ میرے پاس آجائیں۔۔۔ آپ کی ہر خواہش میں خود پوری کروں۔۔۔ جانتا ہوں تھوڑا غریب ہوں مگر کوشش کروں گا دنیا کی ہر خوشی دوں آپ کو۔۔۔”

شروع والے الفاظوں پر اس نے شرارتی نظروں سے حریم کو دیکھا تھا جبکہ آخری والے الفاظوں پر وہ سنجیدگی کا مظاہرہ کر رہا تھا جس پر حریم کی مسکراہٹ کہیں غائب ہوگئی تھی

“شاویز ایسا مت سوچو۔۔۔ تم واقعی بہت سمجھدار ہو مجھے یقین ہے تم آگے بڑھو گے اور میں نے تم سے محبت تمہارا اسٹیٹس دیکھ کر نہیں کی تھی یہ تم بھی جانتے ہو۔۔۔”

حریم نے اس کے ہاتھ پر ہاتھ رکھ کر اسے سمجھایا جس پر وہ اسے سنجیدگی سے دیکھنے لگا

“مجھے تمہارا ساتھ ہر حال میں قبول ہے شاویز۔۔۔”

حریم کی آنکھوں میں شاویز کے لئے محبت واضح دکھائی دے رہی تھی جسے محسوس کر کے شاویز کے دل کو بے حد سکون ملا تھا

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *