Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Lams e Junooniyat (Episode 21)

Lams e Junooniyat by Areesha Khan

“اگر نہیں جانتے محبت کیا ہے تو صرف ایک بار اس شخص کی آنکھوں میں دیکھ لو جو تمہارے لئے روتا ہے سسکتا ہے تمہیں سب پتا چل جائے گا کہ محبت کہتے کسے ہیں”

وہ موبائل پر یہ لائنز پڑھتا ہوا ایک گہری سانس لینے لگا اسے وہ منظر یاد آیا جب حریم اسے روتا دیکھ کر خود بھی رونے لگی تھی

“کیا وہ مجھ سے واقعی محبت کرتی ہے؟؟”

وہ خود سے سوال کرنے لگا وہ اپنے دل کے مقام پر ہاتھ رکھے حریم کا نام لینے لگا اس کا دل دھڑکا تھا

“اس کا تو پتا نہیں لیکن مجھے اس سے محبت ہونے لگی ہے، اور بہت جلد میں حریم جی سے اس بات کا اظہار کردوں گا میں نے انہیں بہت تکلیف دی ہے مگر اب مزید کوئی دکھ نہیں دوں گا جو فیصلہ وہ کریں گی وہ مجھے منظور ہوگا”

وہ دل ہی دل میں عہد کرتا ہوا واپس اپنی کتابوں میں سر جمائے بیٹھ گیا جب تعبیر اس کے کمرے میں آئی

“آپی جان…”

“یہ لو اسے ختم کرو شاباش”

شاویز نے جلدی سے دودھ کا گلاس تھاما اور ناک پر ہاتھ رکھے گٹاگٹ پی گیا جس پر تعبیر مسکرانے لگی

“آپی اب آپ کی طبیعت کیسی ہے؟؟ آج تو چھٹی ہو گی نہ آپ کی؟؟ آج سنڈے ہے”

وہ بڑی معصومیت سے کہتا ہوا اسے صوفے پر بیٹھنے کی جگہ دینے لگا تعبیر اس کی دی ہوئی جگہ پر بیٹھی

“ہاں میری طبیعت شکر اللّٰہ پاک کا بلکل ٹھیک ہے اور ہاں آج مجھے اسکول نہیں جانا آف ہے مگر شام میں پالر جانا ہے”

تعبیر کا لہجہ سنجیدہ تھا

“تعبیر آپی ایک بات پوچھوں…”

“پوچھو”

“تعبیر آپی جب صرف ایک ٹیٹو بنانے پر انہوں نے آپ کو اتنی بڑی رقم دی ہے تو سوچیں اگر آپ وہ کام نہ چھوڑتیں تو آپ تو مشہور ہوجاتیں نہ…”

لفظ ٹیٹو سن کر اسے وہ سب دوبارا یاد آگیا جو کچھ بھولنے کے لیے وہ دن بھر کام میں مصروف رہی تھی

“اور آپ کو پتا ہے آپی حاشر خانزادہ نے کل صبح اپنے آفیشل انسٹاگرام پر ایک نئی پکچر اپلوڈ کی تھی جس میں آپ کا بنایا ہوا ٹیٹو بھی شو ہو رہا تھا اور ان کا کیپشن بھی آپ کے نام سے تھا اور وہاں بہت سے اداکاروں نے آپ کے بنائے ہوئے ٹیٹو کی بہت تعریفیں کی تھیں”

شاویز کی بات پر اس نے اثبات میں سر ہلایا مگر کہا کچھ بھی نہیں

“ویسے آپی کیا یہ حاشر خانزادہ واقعی اچھا انسان ہے؟؟ میرا مطلب آئے دن سوشل میڈیا پر اخباروں میں ہر جگہ اس کے چرچے رہتے ہیں کہ اس نے غریبوں کی مدد کی ہے یہ بہت اچھی شخصیت کا مالک ہے اس کی وجہ سے کافی گھر پل رہے ہیں وغیرہ وغیرہ”

شاویز نے ہاتھ ہلاتے ہوئے کہا

“بلکل شاویز وہ ایک اچھے انسان ہیں تبھی تو سب انہیں مانتے ہیں”

اسے یاد آیا حاشر خانزادہ بھی تو ایک اسٹار تھا مگر اس میں ذرا سا بھی غرور نہیں تھا

“مگر میں نہیں مانتا”

شاویز کے منہ بنانے پر وہ ایبرو کا زاویہ بنائے اسے دیکھنے لگی جیسے وجہ پوچھ رہی ہو

“آئی مین آپی وہ شخص جو کچھ بھی کرتا ہے جس کی بھی مدد کرتا ہے وہ جب تک سوشل میڈیا پر یہ بات نہ پھیلا دے اسے سکون نہیں ملتا اب دیکھیں یہ کہاں کی مدد ہوئی کہ آپ غریبوں کو کھانے کو بھی دے رہے ہیں ان کے بچوں کو تعلیم دلوانے کا ذریعہ بن رہے ہیں اور ساتھ ہی ساتھ اپنا کیا ہوا احسان سب کو دیکھا بھی رہے ہیں “

وہ خاموش ہوئی اس کی بات سن کر شاید وہ کہیں نہ کہیں ٹھیک ہی کہہ رہا تھا

“آپی کچھ ایسے بھی لوگ ہیں جو چپ چاپ یہ سب کرتے ہیں اور اداکاراؤں میں سے اگر دیکھا جائے تو آئی تھنک سب سے زیادہ اچھا شخص صرف اور صرف آتش درانی ہی ہوگا اصل کریڈیٹ اسے ملنا چاہیے”

شاویز نان اسٹاپ بولے جارہا تھا مگر جب اس کے لب پر آتش کا نام آیا تو تعبیر کے جیسے پیروں تلے زمین ہی نکل گئی ہو

“کیا مطلب ہے تمہاری بات کا؟؟وہ شخص جو پبلک پر آئے دن ہنگامے برپا کرتا رہتا ہے وہ بھلہ کبھی کسی کی مدد کیسے کر سکتا ہے؟؟”

تعبیر کا لہجہ تھوڑا سخت مگر سوالیہ تھا

“آپی آپ نے شاید وہیں دیکھا اور پڑھا ہے جو آپکو دکھایا اور پڑھایا گیا ہے مگر آپ نے اس بات کو جاننے کی کوشش نہیں کی مگر میں ایسی باتوں کی کھوج لگا کر ان کی اصل جڑ تک جاتا ہوں یہ آپ بھی جانتی ہیں”

شاویز نے ایک الگ ہی انداز سے کہا اور یہ صرف کہنے کی حد تک نہیں تھا اس کے والد صاحب چاہے اسے کتنا ہی بے وقوف کیوں نا کہتے ہوں لیکن وہ انتہائی ذہین لڑکا تھا وہ ہر سامنے دکھنے والی تصویر کے پیچھے کا اصل راز جاننے میں ماہر تھا

اسے بہت دلچسپی تھی ایسے کاموں میں تبھی تو جو بات ہر کوئی نہیں جانتا تھا شاویز علی کے پاس اس بات کی اصل حقیقت موجود ہوتی تھی وہ بھی ایک ٹھوس ثبوت کے ساتھ وہ ایسے ہی تھوڑی اتنی بڑی یونیورسٹی میں پڑھ رہا تھا وہ جب بھی کسی بات کو اڑتا ہوا دیکھتا تھا اس کی جڑ تک پہنچ کر ہی دم لیتا تھا

“آپی حاشر خانزادہ جیسے لوگوں نے اپنا نام بنانے کے لیے یہ سب دھندے شروع کردئیے ہیں نجانے ان لوگوں کے اور کتنے چہرے ہوتے ہوں گے جبکہ آتش درانی انتہائی بد دماغ اداکار ہے میں مانتا ہوں لیکن اس جیسا بھی کوئی نہیں کیونکہ وہ اپنا غصہ اپنی بھڑاس سب کے سامنے نکال دیتا ہے لیکن جو احسانات وہ غریبوں پر کرتا ہے وہ شاید ہی کوئی اور کرتا ہوگا “

تعبیر کو چپ لگ گئی تھی وہ بار بار آتش کا نام سن کر بہت ڈسٹرب مگر ساتھ ہی اس کے بارے میں اتنا کچھ جان کر حیران بھی ہورہی تھی

“آپی سوشل میڈیا ہر اڑتی ہوئی چھوٹی سی بات کو بھی بہت بڑھاوا دیتا تھا آپ اک بات بتائیں کیا آپ کو نہیں پتا کے جتنے اس کے فینز ہیں اتنے کسی اور ایکٹر کے سپورٹرز ہوں گے؟؟”

تعبیر نے جلدی سے نفی میں سر ہلایا

“آپی وہ آتش درانی ہے وہ اپنا ہر اچھا کام اپنی ہر نیکی چھپ کر کرتا ہے مگر غصہ وہ کسی سے چھپا نہیں سکتا جو بات بری لگے وہ بھری محفل میں سامنے والے کے منہ پر رکھ کر جواب کے طور پر تماچہ مارتا ہے ہر روز ہزاروں لاکھوں کی تعداد میں اس کے سپورٹرز بڑھتے جارہے ہیں اور ساتھ ہی اس کے مخالفین بھی سر اٹھا رہے ہیں مگر میں یہی کہوں گا آتش درانی بیسٹ ہے”

شاویز کے آخری جملے پر تعبیر جلدی سے وہاں سے کھڑی ہوئی

“بہت ہوگئیں باتیں اب پڑھائی کرو”

“ارے آپی کیا ہوا؟؟”

وہ بنا اسے جواب دیئے وہاں سے دوڑتی اپنے کمرے میں آگئی جبکہ باہر صحن میں ویل چیئر پر بیٹھے اخبار میں مگن افتخار صاحب بھی اسے ایسے جاتا ہوا دیکھ کر ایبرو کا زاویہ بنائے رہ گئے

“کوئی کچھ بھی بول دے کچھ بھی، مگر وہ ایک انتہائی بد دماغ بد لحاظ اور انتہائی ڈھیڈ انسان ہے”

وہ کہتی ہوئی خود کو تسلی دینے لگی کہ جو کچھ وہ اس کے بارے میں سوچتی ہے وہ سب سچ ہے

☆★☆★☆★☆

شام ساتھ کا وقت تھا جب شاویز تعبیر کو موبائل دلانے کے لیے اس کے ساتھ گیا تھا اور اسے واپس پالر پر چھوڑ کر وہ خود پیدل چلتا ہوا دور راستے پر نکل پڑا تھا کیونکہ شام کا منظر انتہائی حسین تھا ٹھنڈی ہوائیں رقص کرتی ہوئی اس کے وجود کو چھو رہی تھیں

وہ ایک فلاور شوپ کے سامنے رکا تھا جہاں دکان کے باہر بہت سے خوبصورت رنگ برنگی پھول کھلکھلا رہے تھے جیسے اپنے خوبصورت ہونے پر کھل اٹھے ہوں

وہ دونوں ہاتھوں کو پینٹ کی جیب میں لئے اس شاپ کے باہر ہی واک کرنے لگا جہاں گلاس وال سے دکان کا اندرونی حصہ واضح دکھائی دے رہا تھا جتنے پھول دکان کے باہر تھے اس سے کئے زیادہ خوبصورت پھولوں کی بکے اندر سجائے گئے تھے

مگر کچھ تھا جو اس کے قدموں کے تھمنے کی وجہ بنا تھا کچھ الگ تھا وہ رکا تھا اس کی نظر ان پھولوں کے درمیان سب سے خوبصورت پھول پر گئی تھی جس کا نام حریم تھا وہ دیوان وار اسے دیکھنے لگا تھا جیسے یہ اس کا وقت ہو

وہ پھولوں کا ایک خوبصورت بکے ہاتھ میں لئے باہر کو آ رہی تھی جب اس کے نظر شاویز پر گئی جو اسے ہی دیکھ رہا تھا شاویز نے دیکھا تھا اس کی نظروں نے حریم کو دیکھتے ہی ان تمام پھولوں کو بے معنیٰ قرار دیا تھا

“شاویز…”

وہ نرم سی آواز پر ہوش کی دنیا میں آیا تھا وہ سامنے کھڑی مسکرا رہی تھی شاویز جلدی سے سیدھا کھڑا ہوا

“حریم جی…”

“تم یہاں؟؟”

حریم کے سوال پر اس نے اثبات میں سر ہلایا

“بابا کی طبیعت کیسی ہے اب؟؟”

“جی بلکل ٹھیک ہے اب آپ بتائیں…آپ کیسی ہیں”

اسے یاد آیا تھا کل حریم غصے سے وہاں سے اٹھ کر چلی گئی تھی مگر آج اس کا موڈ کچھ اچھا لگ رہا تھا مگر شاویز نجانے بنا کسی غلطی پر اس سے بات کرتے ہوئے کترا رہا تھا

“میں بلکل ٹھیک الحمدللہ”

کچھ دیر وہ لوگ یوں ہی خاموش رہے انہیں سمجھ نہیں آرہا تھا کہ وہ کیا بات کریں مگر اس بار شاویز نے اس خاموشی کو توڑا تھا

“حریم جی آپ کسی ایونٹ میں جارہی ہیں شاید…”

“میں؟؟ نہیں تو”

وہ جلدی سے نا میں سر ہلانے لگی مگر شاویز کو اپنے ہاتھ میں پکڑے بکے کی طرف متوجہ پا کر وہ اس سوال کا مطلب سمجھ چکی تھی

“ایکچلی مجھے روس پسند ہیں… تو اکثر سنڈے کو میں یہاں آیا کرتی ہوں خود اپنے لئے یہ لینے”

حریم نے مسکراتے ہوئے کہا جس پر شاویز نے اثبات میں سر ہلایا اور ایک بار پھر ان کے درمیان خاموشی نے اپنی جگہ بنائی تھی

“خیر میں چلتی ہوں شام ہورہی ہے کچھ ہی دیر میں اندھیرا ہو جائے گا”

شاویز کی طرف سے خاموشی پا کر وہ سنجیدگی سے کہنے لگی مگر شاویز کا دل اس بات پر رضامند نہ تھا وہ جیسے ہی پلٹی وہ جلدی سے قدم بڑھاتے بڑھاتے رکا جیسے کچھ کہنا چاہ رہا ہو مگر کہہ نہ پا رہا رہو جبکہ حریم کو پتا تھا وہ کبھی اسے نہیں روکے کا مگر اس بار اس کی سوچ غلط ثابت ہوئی تھی

“حریم جی”

“ہاں”

اس کے کہنے کی دیر تھی جب وہ پلٹی تھی

“حریم جی… میں کہہ رہا تھا کہ… اگر آپ کو کوئی مصروفیات نہ ہو تو…”

وہ رکا جیسے اس کے جواب کا منتظر ہو وہ ہچکچا رہا تھا مگر اس کی بات ابھی پوری نہ ہوئی تھی جب وہ سوالیہ نظروں سے اسے دیکھنے لگی

“تو کیا ہم کچھ دیر ساتھ رہ سکتے ہیں… میرا مطلب ہے کہ اگر آپ چاہیں تو… تو ہم کافی شوپ…”

“ضرور”

اس کی رضامندی پر شاویز کے چہرے پر ایک انتہائی حسین مسکراہٹ آئی تھی جسے شاید وہ اتنے وقت میں پہلی بار دیکھ رہی تھی

وہ اسے راستے پر چلنے کا اشارہ کرتے ہوئے خود اس کے پیچھے چلنے لگا کچھ ہی قدم آگے وہ لوگ ایک کیفے پر رکے پہلے بھی وہ اس ہی کیفے پر آئے تھے مگر تب بات کچھ اور تھی انہوں نے کافی آرڈر کی اور ایک دوسرے کی طرف متوجہ ہوئے

“حریم جی آپ کچھ اور لیں گی؟؟”

“نہیں بس کافی ٹھیک ہے”

حریم نے بکے کو ٹیبل پر رکھتے ہوئے کہا شاویز اسے ایسے دیکھ رہا تھا جیسے کچھ کہنا چاہ رہا ہو مگر شاید آج وہ کسی بات کو چھپانے یا دل میں رکھنے کے ارادے نہیں رکھتا تھا

“حریم جی آپ کل کلاس سے باہر کیوں چلی گئیں تھیں”

وہ انتہائی نرمی سے کہتا ہوا اس کی نظروں کو اپنے وجود پر محسوس کر رہا تھا حریم کو وہ آج بہت پیارا لگ رہا تھا

“وہ… میری ڈانسنگ کلاسز کا ٹائم ہو چکا تھا جبھی”

وہ بات بناتے ہوئے کہتی ہوئی اسے حیران کر گئی تھی کیونکہ اتنا تو وہ بھی جانتا تھا کہ اس کی ڈانسنگ کلاسز ان کے تھرڈ لیکچر کے بعد اسٹارٹ ہوتی ہیں

“مگر جہاں تک مجھے یاد ہے آپ تھرڈ پیریڈ کے بعد وہ کلاس لینے جایا کرتی تھیں مگر کل حوریا کے آنے کے بعد ہی آپ اچانک اٹھ کر چلی گئی تھیں”

حریم کو لگا اس کی چوری پکڑی گئی ہو جیسے وہ جلدی سے ادھر ادھر دیکھنے لگی تب ہی ویٹر نے دو کپ کافی ٹیبل پر رکھی تو وہ کافی کا کپ اٹھائے سپ لینے لگی

“حریم جی کیا آپ حوریا کو نا پسند کرتی ہیں؟؟ مگر کب سے جہاں تک مجھے یاد ہے پہلے وہ آپ ہی کی دوست ہوا کرتی تھی”

آج شاویز کے سوالوں پر وہ بہت حیران تھی آخر آج وہ پہلے والا شاویز تو نہ لگ رہا تھا

“وہ میری دوست کبھی بھی نہیں تھی اس بات کا اندازہ مجھے کافی دیر سے ہوا”

“مگر ایسا بھی کیا ہوگیا کہ…”

“شاویز اس نے میرے بارے میں یونیورسٹی میں بہت بکواس باتیں کی ہیں اور تم سے بھی تو اس نے ایسا ہی کچھ کہا تھا نہ؟؟”

حریم کی بات پر وہ نظریں جھکا گیا جس پر حریم نے سکھ کا سانس لیا کہ اب وہ مزید اس ٹاپک پر بات نہیں کرے گا

“مگر مجھے نہیں لگتا کہ اصل بات یہ ہے”

ابھی وہ دوسرا سپ لے ہی رہی تھی جب اس کا ہاتھ رکا وہ شاویز کو دیکھنے لگی جو اب تک جواب کا منتظر تھا

“شاویز ہم کسی اور ٹاپک پر بات کریں؟؟”

“مگر اس ٹاپک پر کیوں نہیں؟؟”

شاویز کے سوال پر اب وہ اپنا سر پکڑے اسے دیکھ رہی تھی

“کیونکہ مجھے حوریا کا کوئی ٹاپک نہیں پسند”

“مگر کیوں نا پسند ہے مجھے یہ جاننا ہے”

“مگر مجھے نہیں بتانا”

“بٹ میں جاننا چاہتا ہوں”

آخری والے الفاظوں پر شاویز کا لہجہ کافی سخت تھا جیسے وہ کوئی بہت بڑا اور رعب دار شخص ہو ایک پل کے لیے حریم چونکی تھی

“حریم جی مجھے سب کچھ جاننا ہے کہ آپ کیوں اچانک اس سے چڑنے لگی ہیں آپ مجھ سے ناراض کیوں رہتی ہیں اور پھر وہ بک آپ نے مجھے واپس کردی مگر “

“شاویز مجھے پیپرز کی تیاری کرنی ہے مجھے اب چلنا چاہئے کیونکہ ایک دن بعد ہمارا پیپر ہے خدا حافظ”

وہ اس کے سوالوں سے پریشاں جلدی سے وہاں سے اٹھ کر چلی گئی مگر جلدی جلدی میں اپنا بکے وہیں پر بھول گئی تھی جسے شاویز ہاتھ میں لئے بڑی حسرت سے دیکھ رہا تھا

“جلد یا بدیر… مگر میں آپ کے منہ سے سچ اگلوا کر رہوں گا”

وہ ارادہ کرتا ہوا اپنے کافی ختم کر کے اس بکے کو ہاتھ میں لئے گھر کی طرف چل پڑا

☆★☆★☆★☆

(ایک ہفتے بعد)

“ڈیڈ یہ آپ کیا کہہ رہے ہیں؟؟ آپ نے مجھ سے پوچھے بنا اتنا بڑا فیصلہ کیسے کر دیا؟؟”

اس کے پیروں تلے زمین نکل گئی تھی کیونکہ ابھی دن ہی کتنے ہوئے تھے اس کے اور ضوریز کے رشتے کو شروع ہوئے اور اس کے ڈیڈ نے اسے اتنی بڑی خبر سنا دی تھی

“ائیزل میں باپ ہوں تمہارا میں جو فیصلہ کروں گا تمہارے لئے بہتر ہوگا”

کاظم کی بات کو اگنور کرتی ہوئی وہ پریشانی سے اپنے بیڈ پر آ بیٹھی ابھی کچھ ہی دن ہوئے تھے اسے نئے اپارٹمنٹ پر شفٹ ہوئے اس نے کاظم صاحب کی اجازت لے کر ہی اپارٹمنٹ خریدا تھا

“ڈیڈ شاید آپ بھول رہے ہیں آپ نے مجھ سے میری مرضی نہیں پوچھی میں ایسے کیسے کسی انجان انسان سے شادی کرلوں؟؟”

اسے لگ رہا تھا اس کا دماغ پھٹ جائے گا ائیزل کی آواز پر حریم جو آج اپنا آخری پیپر دے کر ابھی آئی ہی تھی اس کے کمرے کی طرف دوڑی

“انجان؟؟ ائیز بیٹا وہ کوئی انجان لڑکا نہیں ہے ارتضیٰ بہت اچھا لڑکا ہے تم کیا بھول گئیں کہ کس طرح تم اور ارتضیٰ بچپن میں ایک دوسری کے کتنے کلوز تھے”

کاظم صاحب نے اسے سمجھاتے ہوئے کہا مگر وہ اس بات سے انجان تھے کہ ان کی لاڈلی اولاد کے دل میں کوئی اور ہی بسا ہوا تھا

“بابا میں نہیں جانتی کسی ارتضیٰ کو مجھے نہیں یاد وہ کون تھا میں بس اتنا چاہتی ہوں آپ مزید مجھ پر زور زبردستی نہ کریں…”

“کیا مطلب ہے تمہارا؟؟ میں نے کونسی زور زبردستی کی تم پر؟؟ ائیزل میں نے کچھ زیادہ ہی آزادی دے دی تمہیں تم تو ہاتھوں سے نکلتی جارہی ہو “

ائیزل کے ساتھ ساتھ انہوں نے بھی آواز اونچی کی جبکہ حریم اس کے قریب آبیٹھی ائیزل اپنا سر پکڑے بیٹھی تھی اسے کچھ سمجھ نہیں آرہا تھا

“ڈیڈ میں کب ہاتھوں سے نکلی ہوں؟؟ آپ شاید بھول رہے ہیں میں نے ہمیشہ وہی کیا ہے جو آپ نے کہا ہے”

اس کا چہرہ آنسوؤں سے بھیگنے لگا

“اگر واقعی ایسی بات ہے تو ایک اور بار میری بات مان لو میں تمہاری بھلائی چاہتا ہوں دشمن نہیں ہوں تمہارا باپ ہوں میں، اور ہاں ارتضیٰ اس ہی مہینے پاکستان آنے والا ہے اسے بزنس کا کچھ کام ہے اور وہ تم سے بھی ملے گا تو بہتر ہوگا تم اس کے سامنے کوئی الٹی سیدھی بات نہ کرو”

وہ اپنا حکم سناتے ہوئے اسے حیران کر گئے تھے جبکہ کال اب کٹ ہو چکی تھی حریم ائیزل کے کاندھے پر ہاتھ رکھے اسے تسلی دی رہی تھی

“ائیزل… کیا کہاں انہوں نے”

“حریم…میں یہ سب کیسے کر سکتی ہوں؟؟ میں صرف ضوریز سے محبت کرتی ہوں میں نے کبھی تصور بھی نہیں کیا کہ کوئی اور میری زندگی میں آئے گا پھر میں کیسے کسی انجان شخص سے شادی کرلوں؟؟”

وہ اس کے گلے لگے رونے میں مصروف تھی

“ائیزل اس کا صرف ایک ہی حل ہے ضوریز بھائی سے جاکے کہو کہ وہ رشتہ بھیج کر تمہیں اپنا لیں ورنہ تمہارے ڈیڈ کبھی پیچھے نہیں ہٹیں گے”

حریم نے اسے سمجھاتے ہوئے کہا

“تم صحیح کہہ رہی ہو حریم… میں… میں ابھی کال کرتی ہوں ضوریز کو”

وہ جلدی سے اس کا نمبر ڈائل کرنے لگی مگر کافی دیر تک جب کوئی رسپانس نہ ملا تو اس نے اس سے ملنے کا فیصلہ کیا تھا

☆★☆★☆★☆

آج وہ بہت خوش تھا وہ اپنی بائیک پر گھر آرہا تھا شاویز نے ایک اچھی جاب ڈھونڈ لی تھی اس کی آمدنی بھی بہت اچھی تھی اس نے آج ہی نئی بائیک لی تھی وہ اب یونیورسٹی بہت کم جایا کرتا تھا پیپرز کے بعد سے اس نے جاب اسٹارٹ کردی تھی جاب کے بعد سے وہ ایک بار بھی یونیورسٹی نہیں گیا تھا

اب ان کی زندگی ان دو ہفتوں میں بہت بدل گئی تھی ان کے گھر کا نظام بلکل ٹھیک چل رہا تھا اب کوئی ڈر نہ تھا اسے نہ ہی آتش کی طرف سے اسے کسی مشکل کا سامنا تھا اب بس وہ تھی اس کے بابا اور بھائی تھے اور ان کی ایک چھوٹی سی خوشیوں سے بھری زندگی تھی

“بابا آپ کو پتا ہے میری پروموشن ہوگئی “

تعبیر نے اسکول کے بجائے ایک بڑے آفس میں جاب اسٹارٹ کردی تھی پالر بھی تقریباً اس نے جانا چھوڑ ہی دیا تھا

“ماشاءاللہ مبارک ہو بہت بہت ایسے ہی ہنستے مسکراتے رہو اور کامیاب رہو تم دونوں”

وہ مسکراتے ہوئے ان کے گلے لگ گئی جبکہ شاویز جو ابھی ابھی آفس سے آیا تھا اسے گلے لگے دیکھ کر منہ بناتا ہوا سامنے آ بیٹھا

“ارے بھئی میں بھی ہوں گھر میں… مطلب بندے کی کوئی عزت ہی نہیں”

ہمیشہ کی طرح تعبیر کا قہقہہ نکلا اس کی بات پر جس پر افتخار صاحب نے اسے غصے سے گھورا

“کیوں بھئی تم جیسے گدھے نے کونسا تیر مار لیا تو تمہاری عزت کی جائے”

افتخار صاحب نے اسے پھر ان ہی الفاظ سے نوازا جس پر وہ انہیں بیچارگی سے دیکھنے لگا

“ہاں ہاں بھئی ایک آپ اور آپ کی بیٹی بس آپ لوگ ہی کامیاب ہیں ہم تو ٹہرے صدا کے گدھے، خیر مرضی آپ کی میں تو آپ لوگوں کو بتانے آیا تھا کہ کل سے مجھے کوئی صبح نہ اٹھائے “

وہ سنجیدگی سے کہتا ہوا وہاں سے اٹھنے لگا جب تعبیر اور افتخار صاحب اسے سنجیدگی سے دیکھنے لگے انہیں لگ رہا تھا کہ شاید اس کی جاب چلی گئی ہو

“کیا مطلب کل سے نہ اٹھائیں؟؟ کیا تم جاب پر نہیں جاؤ گے؟؟”

تعبیر نے گھبراتے ہوئے پوچھا جس پر وہ اسے دیکھنے لگا

“ارے کیسے نہیں جائے گا اس کا تو باپ…”

ابھی آگے وہ کچھ کہتے جب شاویز انہیں ٹکٹکی باندھے دیکھنے لگا

“اس کا باپ ابھی زندہ ہے اسے جانا پڑے گا کام پر”

انہوں نے اپنی بات کو سمبھالا

“آف بابا جان میں نے کب کہا کہ میں نہیں جاؤں گا؟؟ میں تو بس یہ کہہ رہا ہوں مجھے کل کوئی جلدی نہ اٹھائے میں دیر سے آفس جاؤں گا”

شاویز کی بات پر انہوں نے اسے اشارے سے اپنی طرف بلایا جس پر وہ ان کے آپس آیا تو انہوں نے اس کا کان کھینچتے ہوئے پکڑا

“دیر سے جائے گا؟؟ تیرے باپ کا آفس نہیں ہے وہ اور نہ ہی آفس کی بس کا ڈرائیور تیرا چاچا ہے جو تیرے اٹھنے کا ویٹ کرے گا، پورے آٹھ بجے بس اسٹاپ پر آجاتی ہے اور یہ نواب زادہ کہہ رہا ہے کہ یہ آفس دیر سے جائے گا تو بتا ذرا دیر سے کیا اٹھ کر جائے گا آفس ہاں؟؟”

انہوں نے اس کے کان پر مزید زور دیا جس پر وہ آآہ آہ کرتا رہ گیا جبکہ تعبیر ان کی منتیں کر رہی تھی کہ وہ اسے بخش دیں

“ارے بابا جان کان تو چھوڑیں بتاتا ہوں نہ کیسے جاؤں گا”

انہوں نے ایک جھٹکے سے اسے چھوڑا جس پر وہ جلدی سے اپنا کان سہلانے لگا جو مکمل لال ہو چکا تھا

“اب بتا کیسے جائے گا؟؟”

“بائک پر”

وہ سنجیدگی سے بولا

“ہاں بائک پر اچھا ؟؟ گدھے کا اب تک اس محلے میں ایک دوست بھی نہیں اور یہ خواب دیکھ رہا ہے بائیک پر جانے کا”

انہوں نے سخت ناگواری سے کہا جس پر شاویز نے منہ بنایا

“کسی اور کی بائک پر نہیں بلکہ اپنی بائیک پر”

اس بار وہ سب کو حیران کر گیا

“کیا کہا اپنی بائیک؟؟”

تعبیر نے حیرانی سے پوچھا

“ہونہہ خواب میں، اصل میں تو گدھا ہی ہوگا”

افتخار صاحب کی بات پر وہ ناک کے نتھنے پھلائے جیب سے چابی نکال کر ان کی طرف بڑھا گیا

“جائیں پھر باہر جو گدھا کھڑا ہوا ہے اسے جاکے غور سے دیکھیں”

وہ منہ بناتا ہوا وہاں سے چلا گیا جبکہ جیسے ہی تعبیر اور افتخار صاحب باہر سحن میں آئے وہ حیران رہ گئے ایک نئی چمچماتی بائیک ان کے صحن میں کھڑی ہوئی تھی

“شاویز؟؟”

وہ خوشی سے بھاگتی ہوئی اس کے کمرے میں گئی جہاں وہ فیس واش کر کے ابھی ہی آیا تھا

“تم نے بائیک کب لی؟؟”

“جب بوس نے پانچ ہزار اور بڑھا دیئے تو سوچا ایک گدھا ہی لے لوں “

وہ منہ بناتے ہوئے کہنے لگا جس پر وہ اس کے گلے لگ گئی

“ارے بھئی مبارک ہو اس گدھے نے پہلی بار کوئی اچھا کام کیا مگر مٹھائی کہاں ہے؟؟”

افتخار صاحب کی آواز پر وہ دونوں باہر کو آئے

“مٹھائی نہیں بابا آج ہم باہر سے کھانا منگوائیں گے کیونکہ میری بھی سیلری انکریسڈ ہوگئی”

“اوہ ہو مبارک ہو آپی جان”

وہ کہتا ہوا اس کے گلے لگا کسی چھوٹے بچے کی طرح وہ لوگ اب بہت خوش تھے مگر اس بات سے انجان تھے کہ اچانک سے ان مکہ زندگی میں آنے والا بدلاؤ کوئی اور نہیں بلکہ آتش درانی لایا تھا

☆★☆★☆★☆

“ویلکم سر”

“تھنکیو”

وہ مختصر سا کہتا ہوا سیڑھیاں عبور کرتے ہوئے اپنے کمرے میں چلا گیا وہ آج ہی تو واپس کراچی آیا تھا کیونکہ ان کی شوٹ کی لوکیشن اب کراچی میں سیٹ کی گئی تھی

پلین میں بیٹھتے ہی اس نے صرف ایک کال کی تھی اور تعبیر اور شاویز کی تنخواہ بڑھادی گئی تھی اس نے اپنے دماغ میں بہت کچھ سوچ رکھا تھا

“تعبیر علی… بہت خوش ہوؤں گی نہ تم… واقعی بہت معصوم ہو تم کیوںکہ تمہیں نہیں پتا تمہاری یہ چار دن کی خوشی بہت جلد ختم ہونے والی ہے…”

اس نے سگریٹ سلگائی

“بہت جلد میں تمہیں اپنے پاس بلا لوں گا پھر ہر دن ہر رات ہر پل ایک ایک لمحہ میں تمہیں ایسی اذیتیں دوں گا جس سے نہ صرف مجھے خوشی بلکہ میری روح تک کو سکون ملے گا”

اس نے پہلی کش لگائی تھی جب اس کی آنکھوں کے سامنے تعبیر کا چہرہ گردش کر رہا تھا

جاری ہے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *