Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Lams e Junooniyat (Episode 14)

Lams e Junooniyat by Areesha Khan

“چھوڑیں مجھے”

وہ اس کی گرم جھلستی سانسوں کو اپنے چہرے پر بے انتہا قریب سے محسوس کرتی ہوئی تڑپی تھی جس پر وہ جو اس کے نشے میں بہک رہا تھا یک دم سے ہوش کی دنیا میں واپس آیا

“پہلے بتاؤ؟؟ مانو گی میری بات؟؟”

وہ آنکھیں چھوٹی کرتے ہوئے اس پر اپنی گرفت ڈھیلے کر گیا تھا مگر تھی اب بھی وہ اس کی قید میں ہی، تعبیر نے ایک نظر اسے دیکھا وہ اب تک بے انتہا قریب تھا ایک اجنبی کی اس قدر قربت پر وہ شرم سے پانی ہورہی تھی

“آپ کا پرابلم کیا ہے؟؟ آپ کیوں مجھے فورس کر رہے ہیں بھلہ میں کیوں مانوں آپ کی بات”

“کہتا تو ہے دگنا منافع ملے گا اور کتنی بات سمجھاؤں؟؟”

آتش نے بغور اس کا جائزہ لیا اس کی مظبوط گرفت کی وجہ سے تعبیر کو گھبراہٹ محسوس ہورہی تھی اس کی نازک سی دودھیا گردن پر پسینے کی ننھی بوندیں آتش کے جذباتوں کو بھڑکنے پر اکسا رہی تھیں

“میں ایسا نہیں… کر سکتی آپ بات سمجھیں… ہمارے اونر نے ڈیل سائین کردی ہے اور ایڈوانس پیمنٹ بھی ریسیو کرلی ہے…”

“ڈیل کینسل بھی تو ہو سکتی ہے سائن کئے گئے پیپرز کو آگ بھی تو لگایا جا سکتا ہے مس تعبیر علی… خیر آپ بس اپنی طرف سے نا رضامندی ظاہر کریں آگے کا کام میں سمبھال لوں گا”

وہ کہتا ہوا اس سے دور ہوا اگر وہ ایسا نہ کرتا تو اپنے جذباتوں پر کیا گیا قابو کھو بیٹھتا تعبیر نے جلدی سے اپنا ڈوپٹہ کاندھے پر ٹھیک کیا اور پھر سے اس کی نیلی آنکھوں میں دیکھنے لگی نجانے وہ اتنا خوبصورت کیوں تھا

“میں ایسا بلکل بھی نہیں کروں گی اگر آپ کو کوئی مسئلہ ہے تو آپ میرے اونر سے جاکر کہیں، نہ کہ یوں اس طرح نامناسب طریقے سے مجھے تنگ کریں”

وہ قربان ہونے کو تھا اس کی معصومیت پر آتش نے یک طرفہ مسکراہٹ اچھالی تھی جس پر وہ اسے گھورنے لگی تھی

“مس تعبیر… مس تعبیر…ابھی آپ نے میرا تنگ کرنا دیکھا ہی کہاں ہے… بات کو سمجھنے کی کوشش کریں یہ کام صرف آپ ہی کر سکتی ہیں… وہ کیا ہے نہ میں چاہوں تو ایک سیکنڈ کے اندر آپ کے اونر کو اس کی اوقات یاد دلا دوں مگر میں چاہتا ہوں آپ خود سے انکار کرو انہیں کہو کہ آپ اس کام سے سیٹسفائے نہیں ہیں”

آتش نے اپنے نچلے ہونٹ پر شہادت کی انگلی پھیرتے ہوئے کہا تعبیر کو وہ اس وقت ڈھیڈ انسان ہی معلوم ہورہا تھا

“دیکھیں پلیززز آپ مجھے اب فورس نہ کریں جو میرا کام ہے میں اس سے پیچھے نہیں ہٹ سکتی”

اب وہ معصومیت کی انتہا پر تھی آتش کو بار بار ایک ہی بات دہرا کر اب اکتاہٹ محسوس ہورہی تھی لیکن کہیں نہ کہیں اسے اس میٹھے لہجے والی لڑکی سے بحث کرنے میں لطف محسوس ہورہا تھا

“آپ بات کو کیوں نہیں سمجھ رہیں؟؟”

اس بار اس نے سختی سے کہا جس پر وہ دو قدم پیچھے ہوئی کیونکہ واقعی اب آتش کو غصہ آنے لگا تھا وہ کبھی بھی کسی سے بھی اتنی طویل گفتگو نہیں کرتا تھا نہ ہی کبھی کسی کی اتنی سنتا تھا مگر آج اسے یہ سب برداشت کرنا پڑ رہا تھا وہ بھی صرف سامنے کھڑی لڑکی کی معصومیت کی وجہ سے۔

“آپ بھی تو نہیں سمجھ رہے میری بات…”

تعبیر نے بھی بیزار لہجے میں کہا جس پر وہ پیشانی رگڑنے لگا

“دیکھو تعبیر علی… میں اب آخری بار کہہ رہا ہوں میری بات مان لو مجھے مجبور نہ کرو کہ مجھے ایک عورت ذات سے مقابلہ کرنا پڑے جو مردانگی پر داغ ہو”

وہ اسے سخت لہجے میں کہنے لگا جس پر تعبیر ایبرو کا زاویہ بنائے اسے دیکھنے لگی

“اور جو دن دھاڑے آپ جھوٹ کی بنیاد پر مجھے یہاں بلا کر میرے ساتھ زبردستی کر رہے ہیں کیا یہ مردانگی ہے؟؟”

اس بار وہ آتش کے غصے کو مزید ہوا دے رہی تھی وہ ایبرو اچکائے اسے گھورنے لگا

“مطلب تم نہیں مانو گی؟؟”

“آپ کو جو سمجھنا ہے سمجھیں مگر میں اپنے بیج کے ساتھ کوئی دھوکا نہیں کروں گی، میں ایکسپیکٹ کر چکی ہوں تو اب اس کام کو پورا کرنا میرا فرض ہے اور آئیندہ مجھے اس طرح سے تنگ نہ کیجیئے گا پلیززز ورنہ میں مجھے مجبوراً آپ کی مردانگی پر شک کرنا پڑے گا”

وہ سپاٹ لہجے میں کہتی ہوئی باقاعدہ اپنے الفاظوں کو اس کے منہ پر مار کر وہاں سے چلی گئی تھی جبکہ وہ وہیں کھڑا اس کی ہمت پر حیران اسے جاتے دیکھ رہا تھا کیا واقعی کوئی لڑکی اتنی ہمت رکھتی تھی کہ آتش درانی کو چپ کرا کر جا سکے

☆★☆★☆★☆

“یہ بیگ کافی مہنگا لگ رہا ہے… آپ کا اپنا ہے؟؟ یا کسی سے مانگ کر ٹانگا ہے؟؟”

وہ جو وہیں بیٹھے بیٹھے پورے حال کا جائزہ لے رہی تھی باضل کی بے تکی سی بات پر اسے گھورنے لگی جس پر وہ رومال منہ پر لگائے شرما گیا

“کیا مطلب ہے آپ کی بات کا؟؟”

“میرا مطلب ہے جی، کہ دوستیں اکثر ایک دوسرے سے مانگ تانگ کر چیزیں استعمال کرلیتی ہیں تو میں نے سوچا شاید یہ بھی کسی سے مانگ کر…”

ابھی آگے کچھ کہتا جب اس کے مزید گھورنے پر آدھے الفاظ منہ میں ہی دبا گیا

“آپ کافی کنجوس ٹائپ لگتے ہیں”

رائمہ کی بات پر وہ مسکرانے لگا وہ بھی شرمانے والے انداز میں جس پر رائمہ نے منہ کا عجیب وغریب زاویہ بنایا

“شکریہ شکریہ ویسے اس تعریف کی وجہ جان سکتا ہوں میں آپ کو ایسا کیوں لگا؟؟”

پہلے وہ اس کی بات پر منہ کھولے اسے بے یقینی سے دیکھنے لگی پھر جس ہی سمبھل گئی

“وہ دراصل آپ کے شووز کچھ غیر مخلوقی ٹائپ لگ رہے ہیں بلکل اولڈ فیشن”

اس نے ہنسی دباتے ہوئے تعنہ مارا جس پر وہ بھی مسکرایا

“ارے نہیں یہ میرے تھوڑی ہیں دراصل کچھ دنوں پہلے میں جمعہ پڑھنے گیا تھا نہ تو بس وہیں سے ملی ہیں”

وہ نا سمجھی سے اسے دیکھنے لگی

“وہیں سے مطلب؟؟ آپ مسجد سے ڈائرکٹ شوز خریدنے گئے تھے”

“ارے نہیں نہیں میرا مطلب ہے جی کہ وہ اس دن سب لوگ اپنے گھر چلے گئے تھے پھر میں نے دیکھا کہ مسجد کے گیٹ پر کسی کی پڑی ہوئی تھی میں نے سوچا شاید جس کی تھی وہ بھول گیا تو میں اپنے ساتھ اٹھا لایا”

اس بار باضل کی بات پر اسے لگا جیسے اس کا دماغ گھومنے والا ہو ابھی وہ کچھ کہتی جب تعبیر مظبوط قدموں سے اس کی طرف آئی

“چلو رائمہ…”

وہ اسے سوال کرنے کا موقع دیئے بنا ہاتھ پکڑ کر اسے وہاں سے لے گئی جبکہ رائمہ کو اس کی کیفیت عجیب لگ رہی تھی وہ لوگ اب اس کے فارم ہاؤس سے بہت دور آگئے تھے

“تعبیر کیا ہوا ہے یوں اچانک؟؟ کچھ بتاؤ گی؟؟”

“کچھ نہیں ہوا”

گاڑی ہوا سی رفتار میں اڑ رہی تھی جس سے اس کے بال بھی اڑ رہے تھے

“مگر تمہاری ڈیل؟؟ کیا اتنی جلدی ختم ہوگئی؟؟”

“نہیں ہوئی کوئی ڈیل یہ سب جھوٹ تھا…”

“کیا جھوٹ تھا؟؟ کیا کہہ رہی ہو تم؟؟ کونسی نیو ایکٹریس تھی وہ؟؟”

رائمہ کو اس کی کوئی بھی بات سمجھ نہیں آرہی تھی کیونکہ وہ کچھ گھبرائی ہوئی لگ رہی تھی

“رائمہ وہ کوئی ایکٹریس نہیں تھی ایکٹر تھا وہ”

“کیا؟؟”

تعبیر کے کہنے کی دیر تھی جب رائمہ کی آواز پر ڈرائیور بھی پیچھے دیکھنے لگا

“یہ تم کیا کہہ رہی ہو سینو؟؟ کیا واقعی وہ ایکٹر تھا تو ہنی نے ہم سے جھوٹ کیوں کہا تھا؟؟”

“ہنی شاید خود بھی یہ بات نہیں جانتی تھی یہ سب سازش تھی”

تعبیر نے اپنے بالوں کو بینڈ کی مدد سے کوور کرتے ہوئے کہا

“مگر سینو اس ایکٹر نے ایسا کیوں کیا؟؟ کون تھا وہ؟؟…”

“رائمہ گھر چل کر بات کرتے ہیں…”

“اتنا تو بتادو کہ وہ تھا کون؟؟”

“آتش درانی”

اس کے کہنے کی دیر تھی جب رائمہ کو ایک زور دار جھٹکا لگا تھا اسے لگا اس کے کانوں نے غلط سنا ہو جبکہ تعبیر اب تک گھبرائی ہوئی لگ رہی تھی

☆★☆★☆★☆

وہ لوگ اب تک ایک ساتھ تھے ائیزل اب کافی بہتر محسوس کر رہی تھی ضوریز نے اب تک اسے سینے سے لگایا ہوا تھا ابھی وہ لوگ یوں ہی ساتھ تھے جب ضوریز کا موبائل بجا جس سے وہ لوگ ایک دوسرے سے دور ہوئے

“یس مائے بوئے؟؟”

ضوریز بات کرنے میں مصروف تھا جبکہ ائیزل اب سگریٹ پھینک چکی تھی

“اوہ ہاں یاد آیا آج تو پارٹی رکھی تھی نہ، چلو ٹھیک ملتے ہیں پھر کچھ دیر بعد”

ضوریز کی بات پر ائیزل اسے دیکھنے لگی تب اسے یاد آیا کہ آج تو کلاس فیلوز نے ضوریز کے لئے پارٹی رکھی تھی

“نہیں فکر نہ کرو ائیز کو میں ساتھ کے آؤں گا”

وہ اپنی بات مکمل کر کے فون بند کر گیا جبکہ اب وہ اس کی طرف متوجہ تھا وہ بھی اس ہی کو دیکھ رہی تھی

“ائیزل کیا تمہیں یاد ہے آج “

“ہاں یاد ہے”

“تو پھر ریڈی ہوجاؤ ہم کچھ دیر بعد جانے والے ہیں”

ضوریز اسے کہتا ہوا اپنا موبائل جیب میں رکھنے لگا

“میں نہیں جاؤں گی ریز تم جاؤ”

“واٹ؟؟ مگر کیوں؟؟”

ضوریز کو اس کے ناجانے کا سننا نا گوار گزرا تھا

“ضوریز میرا موڈ نہیں ہے بس میں واپس ہوسٹل جاؤں گی پھر کل مجھے ڈیڈ سے بات کر کے ہوٹل شفٹ ہونا ہے”

وہ دھیمے لہجے میں کہتی ہوئی کار کے فرنٹ سے اتری جبکہ وہ بھی ساتھ ہی اترا تھا

“کل کا کل دیکھا جائے گا فلحال تم میرے ساتھ چل رہی ہو بس بات ختم”

وہ اپنا حکم سناتے ہوئے اسے حیران کر گیا

“ریز میں کہہ رہی ہوں نہ میں نہیں جاؤں گی”

“اوکے پھر میں بھی انہیں منع کردیتا ہوں”

اس نے جیب سے واپس موبائل نکالا جب ائیزل اسے دیکھنے لگی

“ضوریز کیا ہوگیا ؟؟ وہ لوگ کیا سوچیں گے؟؟”

“کیا سوچیں گے؟؟ کہہ دوں گا میرا موڈ نہیں آنے کا زیادہ سے زیادہ مجھے الٹا سیدھا کہیں گے ناراض ہوجائیں گے دیٹس اٹ”

ابھی وہ نمبر ڈائیل کر جب ائیزل نے اس کے ہاتھ سے موبائل چھینا

“میں… میں چل رہی ہوں”

ائیزل کی بات پر وہ فاتحاً مسکرانے لگا جیسے جیت گیا ہو

“گڈ پھر جلدی سے واپس گھر جاؤ اور اپنا حلیہ درست کر کے آؤ شاباش بلکہ آنے کی کیا ضرورت میں لینے آجاؤں گا تمہیں اوکے”

وہ اس کے گال تھپتھپاتے ہوئے کہنے لگا جس پر ائیزل نے اسے اس کا موبائل واپس کیا اور مسکراتے ہوئے اپنی گاڑی کی طرف چلی گئی جبکہ وہ بھی اس کے پیچھے تھا

“تم بھی اپنا حلیہ ٹھیک کرلینا ان بڑھتے ہوئے بالوں کے ساتھ واقعی میں چرسی موالی لگتے ہو”

ائیزل نے ایک اسٹائل سے کہا جس پر وہ مسکرائے بنا نہ رہ سکا دیکھتے ہی دیکھتے اس کی گاڑی دور جا چکی تھی

“ہممم چل بھئی ریز اپنے بالوں کو سنوار ورنہ یہ شیرنی واقعی میں تجھے چرسی سمجھ لے گی”

وہ اپنے بڑے بالوں کو ہاتھ سے ٹھیک کرتا ہوا اپنے کباڑ خانے نما گھر میں چکا گیا

☆★☆★☆★☆

جب وہ کمرے میں آئی تو رائمہ سوچوں میں گم تھی مگر دروازے کی طرف پر اس کی طرف متوجہ ہوئی

“کیا ہوا کیا کہا ہنی نے؟؟”

“معازرت کر رہی تھی وہ کہہ رہی تھی شاید مس انڈرسٹینڈنگ ہوگئی ہوگی”

تعبیر بے تاثراتی چہرے کے ساتھ بیڈ پر آ بیٹھی

“تم نے اسے بتایا نہیں کہ وہ شخص آتش درانی تھا؟؟”

“میں نے اسے ایسا کچھ بھی نہیں بتایا”

“تم نے تو مجھے بھی اب تک کچھ بھی نہیں بتایا کہ آخر آتش درانی جیسے سوپر اسٹار نے تمہیں کیوں بلایا تھا؟؟ وہ بھی سازش کے طور پر بقول تمہارے”

رائمہ بڑی حیرانگی سے پوچھنے لگی جس پر تعبیر اسے دیکھنے لگی

“یار مجھے خود سمجھ نہیں آرہا آخر وہ چاہتا کیا ہے؟؟”

“پاگل لڑکی پہلے یہ تو بتاؤ ہوا کیا تھا آخر؟؟”

تعبیر کو پتا تھا کہ رائمہ سب کچھ جان کر رہے گی اس لئے اس نے رائمہ کو اے ٹو زیڈ سب کچھ بتادیا جسے وہ بڑی دلچسپی سے سن رہی تھی جیسے کوئی لیک ہوا پیپر ہو

“واؤ کیا واقعی ؟؟ اففف اللّٰہ تم نے اسے اتنا کچھ کہہ دیا؟؟ کیسے؟؟ میں ہوتی نہ تو وہیں کھڑی کھڑی اسے تکتی ہی رہی افففف کتنا ہینڈسم ہے یار وہ ہائے، پاگل لڑکی مجھے اس ہی وقت بتا دیتیں نہ کہ وہ آتش ہے تو میں اس سے مل ہی لیتی اور…”

رائمہ اپنی عادت سے مجبور بولی چلی جارہی تھی مگر بریک تو اسے تب لگا جب تعبیر اسے گھورنے لگی

“بس؟؟ ہوگئیں تم اسٹارٹ؟؟ اپنی دوست کا ساتھ دینے کے بجائے تم اس کے حسن کی تعریفیں کر رہی ہو؟؟”

تعبیر کی بات پر اس نے دانت کے درمیان انگلی دبائی

“افف سوری میرا وہ مطلب نہ تھا، خیر یار واقعی تم بہت لکی ہو کہ آتش درانی نے تمہیں ملنے کے لئے بلایا تھا”

“ڈرانے کے لئے!!”

“ہاں ہاں وہی ورنہ لوگ اس کی ایک جھلک دیکھنے کے لیے ترس جاتے ہیں”

“بس کرو رائمہ”

وہ اب اکتا گئی تھی اس کی تعریفیں سن سن کر وہ منہ بناتی ہوئی اپنی جگہ پر لیٹ گئی

“حد ہے ایک تو میڈم کو اتنا اچھا موقع ملا تھا اوپر سے سن کے مزاج ہی نہیں مل رہے”

رائمہ کی بات کو اگنور کرتے ہوئے وہ سونے کی کوشش کرنے لگی کیونکہ ڈنر تو ان لوگوں نے یہاں آتے ہی کرلیا تھا

“اچھا سنو نا سینوریٹا”

“اب کیا ہے؟؟”

تعبیر نے سختی سے کہا جس پر وہ سر کھجانے لگی

“یار…وہ کیا ہے نہ… میں کہہ رہی تھی کہ…”

“جلدی بولو”

“وہ میں یہ کہہ رہی تھی کہ اگر…”

وہ بار بار اٹک رہی تھی جس پر تعبیر اسے گھورنے لگی

“میں یہ کہہ رہی تھی کہ اگر اب آتش تمہیں ملنے بلائے تو مجھے بھی ملوا دینا”

وہ ایک سانس میں کہتی ہوئی مشین لگ رہی تھی ابھی تعبیر حیران کن انداز میں اسے دیکھتی جب وہ جلدی سے کمفرڈ اوڑھ کر سوگئی

“پاگل لڑکی…بلکل ہی پاگل ہے”

وہ منہ میں بڑبڑاتی ہوئی واپس لیٹ گئی جب اسے آج صبح والا منظر یاد آنے لگا اس کا وہ صاف شفاف چہرہ گھنی پلکیں پر کشش نیلی آنکھیں ہلکی براؤن بیئرڈ ہلکے براؤن ہیئرز اس کا وہ پرفیوم وہ اس کے تصور میں کھونے لگی تھی

☆★☆★☆★☆

“تم سے پہلے، تم سا کوئی، ہم نے نہیں دیکھا…

تمہیں دیکھتے ہی کھو جائیں گے، یہ نہیں تھا سوچا…”

سونگ چل رہا تھا مگر وہ آج صبح ہونے والے سین میں گم سا تھا پہلے تو وہ تعبیر کی معصومیت پر فدا ہوگیا تھا پھر اس کا غصہ اس کے وہ تلخ الفاظ آتش کے چہرے پر سخت تاثرات نمایاں ہونے لگے تھے

“باہوں میں تیری میری، یہ یار گزر جائے

تجھ میں ہی کہیں پہ میری، صبح بھی گزر جائے”

مگر جب اسے اس کی وہ پسینے کی ننھی بوندوں سے بھیگی اس کی وہ نازک سی دودھیا گردن یاد آنے لگی تو یک دم اس کے جزبات بدلنے لگے نجانے اس کا دل کیوں ضد کر رہا تھا کہ وہ ایک بار پھر سے اس کا دیدار کرے

“ایسے نہ مجھے تم دیکھو، سینے سے لگا لوں گا

تم کو میں چُرا لوں گا تم سے، دل میں چھپا لوں گا”

اچانک سے اسے اس کی مدھم سی سانسوں کی مہک محسوس ہوئی ایک انتہائی حسین یک طرفہ مسکراہٹ اس کے لبوں پر آئی وہ آنکھیں بند کئے صوفے کی پشت پر سر ٹکا گیا

“بہت ضدی ہو تم میرا دل کر رہا ہے ایک بار پھر سے تمہاری ضد دیکھیں جائے”

آنکھیں بند کیے وہ دھیمی سی آواز میں خود کلامی کرنے لگا

“ماننا پڑے گا کچھ تو ہے تم میں تعبیر علی، جو آتش درانی کو خاموش کرا گئیں تھی تم”

وہ آتش درانی تھا کوئی بھی اس کی اجازت کے بنا اسے افف بھی نہیں کہہ سکتا تھا مگر آج وہ ایک عام سی لڑکی کے آگے خاموش ہوگیا تھا

“کیا یہ تمہارا غرور تھا یا پھر انا”

وہ زیرِ لب کہنے لگا

“جو بھی تھا مگر اب تم سے ملنا ضروری ہوگیا ہے، میں آتش درانی تعبیر علی تم میں چھپی وہ بات سامنے لا کر رہوں گا جسے میں اب تک سمجھ نہیں سکا”

اپنے ٹیبلیٹ پر وہ آج کی ریکارڈنگ دیکھ رہا تھا جس میں تعبیر اس کی گرفت سے قید اس کے انتہائی قریب تھی

“اگر تم نے میری بات خوشی خوشی مان لی تو ٹھیک ہے ورنہ آتش درانی تمہیں اپنے طریقے سے سمجھائے گا تو آئی سوویر تمہیں ماننا بھی پڑے گا جھکنا بھی پڑے گا اور ضروری ہوا تو تمہیں ٹوٹنا بھی پڑے گا”

وہ ریکارڈنگ پوس کر کے زوم کر کے تعبیر کی نیک دیکھنے لگا تھا اسے سمجھ نہیں آرہا تھا کہ آخر وہ ایسا کیوں سوچ رہا تھا وہ کیا چاہ رہا تھا وہ اپنی مرضی کا مالک تھا جب اس کا دل کرے جو اس کا دل کرے بنا سوچے سمجھے وہ کر جاتا تھا اور آج پھر سے وہ اپنے دل کی سن کر وہ تعبیر سے ملنے کا ارادہ رکھتا تھا

☆★☆★☆★☆

“اففف یہ لڑکیاں بھی نہ، کتنا وقت لگاتی ہیں تیار ہونے میں”

وہ کھڑکی کے نیچے کھڑا کب سے اس کا انتظار کر رہا تھا مگر اس کا اب تک کچھ پتا نہیں تھا پہلے اس نے ائیزل کے نمبر پر کالز کی پھر مجبوراً کھڑکی پر چڑھنے کا سوچنے لگا

ابھی وہ کھڑکی پر آدھا ہی چڑا تھا جب اس کی نظر دوسری طرف رخ کئے کھڑی ائیزل پر گئی

“ائیززز تم”

ابھی وہ کچھ کہتا جب وہ اچانک سے چونکی اور اسے گھورنے لگی اس نے دیکھا تھا ضوریز نے کس طرح اپنے بالوں کو سمیٹ کر باندھا ہوا تھا وہ آج بہت زیادہ ہینڈسم لگ رہا تھا

“تم یہاں؟؟ کیا کر رہے ہو؟؟”

وہ اس کے منہ پر ہاتھ رکھ کر اسے چپ کرانے لگی کیونکہ اس کی روم میٹ ابھی ابھی سوئی تھی

“تمہیں لینے آیا تھا پاگل لڑکی”

ائیزل کا ہاتھ ہٹا کر وہ اس کے کان میں سرگوشی کرنے لگا جس پر وہ اسے دیکھنے لگی

“تو انتظار کرلیتے نہ ضروری تھا یوں کھڑکی سے اندر آنا”

ائیزل کی بات پر وہ مسکرانے لگا

“ضروری تو نہیں لیکن عادت سمجھ لو”

وہ اس کے چہرے کے قریب آیا تھا جس ہو وہ تھوڑی دور ہوئی

“اچھا اب جلدی تیار ہوجاؤ تم اب تک ریڈی نہیں ہوئیں؟؟”

وہ اس کی پاگلوں والی حالت دیکھ کر منہ بناتے ہوئے کہنے لگا جس پر وہ اسے گھورنے لگی

“سب ریڈی ہے بس میں اپنے جوگرز پہن کر آتی ہوں وہ ہوسٹل کی لڑکی نے لئے تھے اور لیٹ پارٹی کے چکر میں برابر والے روم میں چھپائے تھے تم یہیں رکنا میں ابھی آئی”

وہ بنا کچھ کہے اس کی سنتا رہا جب ائیزل دھیمے قدموں سے دروازہ کھولتے ہوئے وہاں سے دوسرے روم میں چلی گئی جبکہ ضوریز کی نظر اس بیڈ پر سوتی ہوئی معصوم سی لڑکی پر گئی جو دنیا جہان سے بیگانی ہوکر خوابوں میں گم تھی

وہ دھیمے قدموں سے چلتا ہوا اس کے قریب گیا حریم نے کمفرڈ سے خود کو کوور کیا ہوا تھا مگر چہرہ اس کا واضح تھا ضوریز اس کے سرہانے بیٹھے اسے دیکھ رہا تھا وہ آج بھی کتنی معصوم سی لگتی تھی

ضوریز نے اس کے چہرے پر بکھرے بالوں کو اپنی شہادت کی انگلی سے ہٹایا جس سے اس کے چہرے پر بیداری والے تاثرات نمایاں ہونے لگی وہ اس وقت بہت معصوم سی ڈول ہی لگ رہی تھی بے ساختہ ضوریز کے چہرے پر خوبصورت سی مسکراہٹ آئی جسے وہ دبا نہ سکا اس نے جھک اس کے ماتھے پر بوسہ دیا

ابھی وہ مزید اس کے پاس بیٹھتا جب اسے کسی کے قدموں کی آہٹ سنائی دی وہ جلدی سے اٹھ کر واہنی پوزیشن پر آ کھڑا ہوا جب وہ جوگرز پہنے اس کی طرف بیٹھی

“چلو…”

“تم تیار ہو؟؟”

“اور نہیں تو کیا؟؟ چینج کر تو لئے کمرے”

وہ جلدی سے اس کا ہاتھ پکڑے کھڑکی کی طرف لے جانے لگی جبکہ وہ اس بار تمیز سے اترنے کہ بجائے اوپر سے چھلانگ لگا کر کودا تھا جس پر ائیزل کا منہ کھلا کا کھلا رہ گیا تھا وہ خود پائیپ پکڑ کر نیچے آنے لگی

“یہ کیا طریقہ تھا؟؟”

“اٹس نوٹ آ طریقہ اٹس مائے اسٹائل ڈار…”

وہ بائیک کی طرف بڑھا جب ائیزل اس کے ساتھ ساتھ چلنے لگی

“ڈار؟؟”

“بھول گئیں؟؟ میں نے کہا تھا نہ تمہیں ڈارلنگ کہنے کا حق صرف مجھے ہے”

وہ آنکھ مارتا ہوا اس کے ہوش اڑا گیا جبکہ وہ بنا کچھ کہے اس کے پیچھے بیٹھ گئی اور دیکھتے ہی دیکھتے ان کی گاڑی بہت دور چلی گئی

☆★☆★☆★☆

“کم ان یار چل کرو”

وہ لوگ سب ڈانس میں مصروف تھے جبکہ حسبِ عادت اس کے ہاتھ میں شراب کے گلاس تھے وہ الگ بات تھی کہ وہ شراب پی نہیں رہے تھے صرف نمائش کر رہے تھے

ضوریز اور ائیزل کو آتا دیکھ کر ان لوگوں نے شور مچایا

“ریز ڈون شکر آپ آگئے ورنہ ہمیں لگ رہا تھا کہ آپ نہیں آنے والے اور یہ اتنا سارا باربی کیو ہمیں اکیلے کھانا پڑے گا”

ان میں سے ایک چھوٹا لڑکا جو ضوریز کو سب سے زیادہ پسند کرتا تھا قریب آکر کہنے لگا جبکہ ضوریز اس کے ہاتھ میں ڈرنگ دیکھ کر اسے سخت تاثرات لئے گھورنے لگا جس پر وہ لڑکا سمجھ گیا کہ ضوریز کیا سمجھ رہا تھا

“ارے ریز بھائی سچ میں یہ وہ والی ڈرنک نہیں ہے یہ تو جوس ہے لیکن یہ جو باقی لوگوں کے ہاتھ میں ہے یہ شراب پی ہے وہ بھی اصلی والی سچ میں”

وہ بڑی معصومیت سے کہتا ہوا ضوریز کو مسکرانے پر مجبور کر گیا

پہلے تو وہ لوگ کلاس فیلوز کے ساتھ بیٹھ کر گپ شپ کرتے رہے پھر ضوریز کی نظر سامنے والے ٹیبل پر گئی جہاں ایک بندا بیٹھا ہوا دوسرے بندے کے ساتھ تاش کھیل رہا تھا ضوریز نے دیکھا تھا وہ چٹنگ کر رہا تھا

ضوریز بنا کچھ کہے اپنی کرسی سے اٹھا اور سگریٹ پھونکتے ہوئے سامنے والے کے ٹیبل کی طرف بڑھا جبکہ ائیزل سوالیہ نظروں سے اسے دیکھتے ہوئے اس کے پیچھے پیچھے چل دی

ضوریز بلکل اس کے سامنے جا کھڑا ہوا وہ دونوں ہاتھ ٹیبل پر رکھے سامنے بیٹھے شخص کو تھیکی نگاہوں سے دیکھنے لگا جس پر وہ جو کب سے چیٹنگ کر رہا تھا اب اسے سوالیہ نظروں سے دیکھنے لگا جبکہ ائیزل بلکہ خاموشی سے یہ منظر دیکھ رہی تھی

“کیا ہے؟؟”

وہ بڑی عمر کا آدمی ضوریز کو دیکھ کر تیز لہجے میں مخاطب ہوا جس پر ضوریز لبوں کے بیچ سگریٹ دبائے ائیبرع اچکائے اسے گھورنے لگا

“کتنے کی لگی ہے؟؟”

ضوریز کے سوال پر وہ دونوں آدمی ایک دوسرے کو دیکھنے لگے وہ آدمی بڑا چلاک تھا ایک ہی رات میں چند ہی گھنٹوں میں وہ سامنے والے آدمیوں کی آنکھوں میں دھول جھونک کر نجانے کتنے پیسے اڑا لے جاتا تھا

“پانچ لاکھ”

اس آدمی نے پھر سے تیز لہجے میں کہا جس پر ضوریز یک طرفہ مسکرانے لگا جبکہ ائیزل کو سمجھ نہیں آرہا تھا کہ آخر وہ چاہ کیا رہا ہے

“اے لڑکے تم ہمارے درمیاں کیوں آرہے ہو؟؟ تمہیں نظر نہیں آرہا ہم مصروف ہیں”

دوسرا آدمی تپتے ہوئے بولنے لگا کیونکہ وہ پچھلے دس منٹ سے مات کھائے جارہا تھا اب اس کے سر پر غصہ سوار تھا مگر ضوریز نے اس کی بات کو نظر انداز کردیا

اب وہ خاموشی سے بیٹھا تماشا دیکھ رہا تھا

“اب تمہاری باری ہے پھینکو پتہ”

“یہ لو”

ضوریز نے پھر سے دیکھا وہ کس طرح سے بڑی آسانی سے چیٹنگ کر رہا تھا مگر ضوریز کی نظریں خود پر مرکوز دیکھ کر اسے ایسا کرنے میں اب مشکل پیش آرہی تھی اس نے ایک کارڈ پھینکا اور سامنے والا بند غصے سے سر پیٹنے لگ گیا کیونکہ وہ ایک بار پھر بازی ہار چکا تھا جبکہ ضوریز آنکھیں چھوٹی کئے اس شخص کو دیکھ رہا تھا جو اپنے جیت کی خوشی میں اب مسلسل ہنس رہا تھا

“میرے ساتھ کھیلو گے؟؟”

ضوریز اس شخص سے مخاطب ہوا جس پر وہ ضوریز کو دیکھنے لگا

“کتنے کی لگاؤ گے؟؟”

“دس پر بیس لاکھ”

ضوریز کی بات سن کر ائیزل بے یقینی سے اسے دیکھ رہی تھی

“ڈن”

اب ایک طرف دس لاکھ اس آدمی نے رکھے اور دوسری طرف ضوریز نے اپنی جیب سے ڈائمنڈ نکال کر اس کے سامنے اچھالے جس پر تقریباً اب سب ہی لوگ ان کی طرف متوجہ ہو چکے تھے وہ آدمی آنکھیں پھاڑ پھاڑ کر ضوریز کے ہاتھ میں اچھلتے ڈائمنڈز دیکھ رہا تھا

“ایک ڈائمنڈ پانچ لاکھ کا ہے”

ضوریز نے اس مخملی سی تھیلی میں سے دو ڈائمنڈز نکال کر سامنے رکھے باقی کے واپس اپنی جیب میں رکھ لئے جبکہ ائیزل حیران تھی کہ آخر اس کے پاس ڈائمنڈ آئے کہاں سے

“منظور ہے مجھے منظور ہے”

اپنی مکروہ آنکھوں میں لالچ لئے وہ ان ڈائمنڈ کو دیکھ رہا تھا جس پر ضوریز نے اس کے سامنے سے کارڈز اٹھائے اور ترتیب کرنے لگا جبکہ برابر بیٹھا ہوا شخص جو ابھی ابھی ہارا تھا اٹھ کر جانے لگا

“رکو…یہیں بیٹھو”

“اب میرا کیا کام؟؟”

وہ آدمی تپ کر کہنے لگا جس پر ضوریز نے اپنی سگریٹ زمین پر پھینکی اور شووز کی نظر کردی

“گیم ختم ہونے کا انتظار کرو”

وہ اسے برابر والی کرسی پر بٹھاتا ہوا خود تاش کے پتے آدھے کرنے لگا اب اس نے آدھے ایک طرف آدھے دوسری طرف ان میں سے ایک گڈی اس شخص نے اٹھائی دوسری ضوریز نے اٹھائی

“ریز کیا کر رہے ہو؟؟ تمہیں پتا بھی ہے اگر ہارے تو تمہارے یہ نقلی ہیرے چلے جانے ہیں”

“ہیئی… یہ ڈائمنڈز اصلی ہیں اینڈ تمہیں ایسا کیوں لگ رہا ہے کہ میں ہارنے والا ہوں؟؟ دعا نہیں دے سکتیں تو بد بھی نہ دو”

اس کی بات پر وہ جھٹ سے بولا جس پر وہ یک دم چپ ہوئی

“بد دعا نہیں دے رہی سمجھا رہی ہوں میں سمجھے تم، اور ویسے بھی اگر یہ واقعی اصلی ہیں تو یاد رکھنا تم نے یہ جہاں سے بھی چرائے ہیں یہ تمہارے کسی کام نہیں آنے والے”

وہ ایک ادا سے کہتے ہوئی وہ اپنے گلے میں پہنے ہوئے لاکٹ ٹھیک کرنے لگی جس پر ضوریز اسے آنکھیں چھوٹی کرتے ہوئے دیکھنے لگا

“ایسے کیا دیکھ رہے ہو؟؟”

“اسٹارٹ”

وہ کہتا ہوا اپنی گیم میں مصروف ہوگیا جبکہ اب سین کچھ یوں تھا کہ ضوریز سامنے بیٹھے شخص پر نظریں گاڑے بیٹھا تھا جس کی وجہ سے وہ بچارا تو کھیل بھی نہیں پارہا تھا

تقریباً کافی پتے پھینک چکے تھے وہ لوگ اب باقی کے پانچ بچے تھے

“ہاہاہاہا اب کیا کروگے”

ضوریز کو ہارتا ہوا دیکھ کر ائیزل نے قہقہہ لگایا جس پر ضوریز اس کی کرسی اپنے طرف کھینچ کر اس کے قریب آیا جس سے وہ چونکی

“وہی جو اس نے کیا تھا”

وہ سامنے والے کو اشارہ کرتے ہوئے کہنے لگا

“مطلب؟؟”

“فورمولا نمبر چار سو بیس”

ابھی وہ اس کی بات سمجھنے کی کوشش کرتی جب ضوریز نے کارڈ پھینکنے کے لئے ہاتھ آگے بڑھایا اور تب ہی جان بوجھ کر ساتھ رکھے ڈائمنڈ کو ٹچ کیا جس سے وہ سامنے والے آدمی کی طرح پھسلتا ہوا نیچے جا گرا

وہ آدمی ایک ہاتھ میں کارڈ پکڑے دوسرے ہاتھ سے ڈائمنڈ اٹھانے کے لیے جھکا تبھی ضوریز نے ایک سیکنڈ کے اندر بڑی آسانی سے سب کے سامنے اس کے ہاتھ سے ایک کارڈ نکال کر دوسرا کارڈ رکھ دیا

اس کی اس حرکت پر ائیزل سمیت سب لوگ اسے دیکھنے لگے جس پر ضوریز نے آنکھوں میں وحشت لئے سب کو خاموش رہنے کا اشارہ کیا تو سارے کے سارے لوگ چپ ہوگئے کیونکہ وہ اس کسینو میں اکثر آیا کرتا تھا اس لیے کافی لوگ اس کو جانتے بھی تھے اور اس سے ڈرتے بھی تھے

وہ ڈائمنڈ اٹھا کر اسے ایسا دیکھنے لگا جیسے ابھی ہی لے کر بھاگ جائے گا خیر پھر ان کا گیم دوبارہ سے شروع ہوا اور ایسے ہی آگے بڑھتا گیا اب ضوریز کے پاس بس ایک کارڈ بچا تھا اور سامنے شخص کے پاس تین تھے ضوریز ہارنے والا تھا

“چلاؤ اپنی آخری بازی”

اس شخص نے مغرورانہ انداز میں کہا جس پر ضوریز نے بھی یک طرفہ مسکراہٹ اچھالی اور کارڈ اچھال کر سامنے پھینکا مگر جب پھینکا تو سب کے سب حیران رہ گئے

“یہ؟؟ یہ کیسے…؟؟”

وہ ہار چکا تھا ضوریز جیت چکا تھا ائیزل کے کلاس فیلوز ادھم مچا رہے تھے آخر ان کا ڈون ایک بار پھر سے چھا جو گیا تھا اس آدمی نے منہ بناتے ہوئے آخری بار ان ڈائمنڈز کو دیکھا جس پر ضوریز نے وہ ڈائمنڈ اٹھا کر بڑی لاپرواہی سے اپنی جیکٹ کی جیب میں ڈالے اور سامنے رکھے دس لاکھ کی گڈی کو اچھالتا ہوا اسے دکھانے لگا

“ہم سب کا ہیرو کون؟؟ ضوریز ڈون ضوریز ڈون”

ایک نیا نعرہ لگایا گیا جس پر وہ یک دم مسکراہٹ لئے کرسی سے اٹھا جبکہ وہ شخص جو پہلے ہار چکا تھا اب تھوڑا مطمئن تھا کیونکہ جس کے پاس اس کے نوٹ گئے تھے کام اس کے بھی نہیں آئے تھے

ضوریز نے ایک نظر اسے دیکھا اور پانچ لاکھ کی گڈی اس کی طرف اچھالی جس پر وہ حیران ہوا

“مگر یہ؟؟”

“رکھلو… اس شخص نے چیٹ کر کے گیم جیتا تھا اور میں نے اس کے ساتھ چار سو بیس کر کے تمہارے پیسے تمہیں واپس دلا دیئے”

وہ اس کے کان میں سرگوشی کرتا ہوا اس کے کاندھے پر تھپکی دے کر اپنے ہاتھوں میں پانچ لاکھ کی گڈی اچھالتا ہوا وہاں سے واپس اپنے ٹیبل پر چلا گیا جبکہ وہ شخص بہت خوش تھا

“تم سب کے پیپرز کے بعد ایک پارٹی تم سب کے لیے میری طرف سے”

ضوریز کی بات پر سب کے سب شور مچانے لگے جبکہ اب ضوریز ائیزل کو دیکھ رہا تھا ائیزل واقعی اسے کچھ اور ہی سمجھتی تھی مگر وہ تو کوئی بہت ہی پہنچی ہوئی چیز نکلا تھا

“ماننا پڑے گا، اوّل درجے کے دو نمبر آدمی ہو تم”

ائیزل کی بات پر وہ مسکرایا تھا

جاری ہے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *