Lams e Junooniyat by Areesha Khan NovelR50533 Lams e Junooniyat (Last Episode)Part 1
Rate this Novel
Lams e Junooniyat (Last Episode)Part 1
Lams e Junooniyat by Areesha Khan
“دیکھو شاویز۔۔۔ تمہارے کہنے پر میں نے تمہیں تمہارذ موبائل واپس لوٹا دیا۔۔۔ لیکن اب تم مجھ سے دغا بازی نہ کرنا ورنہ میں بھیا کو بتا دو گی۔۔۔”
دھانی کی بات پر شاویز نے ایبرو اچکاتے ہوئے اسے دیکھا جو اب وہ کاجل سے بھری آنکھیں ادھر اُدھر مٹکانے لگی
“تم نے مجھے ایسا سمجھا ہوا ہے؟؟ مانا کہ میں تم سے کوئی عشق محبت نہیں کرتا مگر اس کا ہر گز یہ مطلب نہیں کہ میں اپنی کزن کو دھوکا دوں۔۔۔ اب تم ہو ہی اتنی اچھی دل ہی نہیں کرتا تم سے دور جانے کا”
شاویز نے آخری الفاظ میں دونوں ہاتھوں سے اپنا دل تھام کر اسے دیکھا تھا جس پر دھانی اپنی پراندے والی لمبی گھنی چٹیا ہاتھ میں لئے مسکرانے لگی مگر اسے شاویز کے چہرے پر موجود زخموں کو دیکھ کر کافی افسوس ہورہا تھا
“شیزو۔۔۔ میں نہ کہہ رہی تھی کہ تم بھیا سے بات کرو نہ۔۔۔ کہ تم شادی کے لیے مان گئے ہو۔۔۔ دیکھو پہلے ہی بھیا بھابھی کی وجہ سے تمہارا حشر نشر کر چکے ہیں۔۔۔”
دھانی نے اپنے نرم و ملائم ہاتھوں سے اس کے رخساروں کو چھوا جہاں دو مہینوں سے مسلسل کٹائی کھانے کی وجہ سے گہرے زخم بن چکے تھے
“خدا کا خوف کرو دھانی۔۔۔ تم چاہتی ہو میں تمہارے آس بڑی بڑی مونچھوں والے بھائی کے سامنے جاکر تم سے شادی کی بات کروں؟؟ لگتا ہے تمہیں شادی سے پہلے بیوہ ہونے کا بہت شوق چڑھ رہا ہے۔۔۔”
وہ تلملا اٹھا تھا پہلے ہی وہ شاویز کی اٹھتی آواز کو بند کرنے کے لیے نجانے دو مہینوں تک کتنے ظلم کرتا رہا وہ دو مہینوں تک ایک سنسان جنگل میں موجود بوسیدہ گھر میں بے ہوشی کی حالت میں پڑا ہوا تھا جمال علی کے آدمی دن بھر اسے مارتے پیٹتے رہتے تھے اور رات واپس باندھ کر وہاں سے چلے جاتے تھے
تعبیر کی بہت منت سماجت کرنے پر آج تعبیر کے نکاح پر شاویز کو واپس اس گھر میں بلایا گیا تھا شاویز چاہ کر بھی کچھ بھی نہیں کر پارہا تھا وہ تنگ آگیا تھا دھانی کی بے وجہ کی حرکتوں سے لیکن وہ جانتا تھا اس وقت پوری حویلی میں بس وہ ایک ہی اس کے کام آ سکا ہے اور وہ ہے دھانی۔۔۔ تبھی بہلا پھسلا کر اس نے دھانی سے اپنا موبائل حاصل کیا تھا مگر دھانی کے وہیں موجود ہونے کی وجہ سے وہ کچھ بھی نہیں کر پارہا تھا
“ایسا تو نہ کہو شیزو۔۔۔ میں نے بچپن سے تمہارا انتظار کیا ہے۔۔۔ اا اور ابا جی کہتے ہیں کہ وہ تمہاری شادی میں سے ہی تو کروائیں گے۔۔۔ کبھی تو ہماری شادی ہونی ہی ہے تو کیوں نہ آج ہی صحیح؟؟ پلیززز شیزو مان جاؤ نہ۔۔۔ کر لو بھیا سے بات۔۔۔”
دھانی التجائی نظروں سے اسے دیکھ رہی تھی جس پر شاویز نے سخت ناگواری سے سے گھورا
“تمہارے پاس ان شادی بیاہ کی باتوں کے علاؤہ اور کوئی بات نہیں ہے کیا؟؟ جب دیکھو بس شادی شادی شادی۔۔۔ جاؤ جاؤ کام کرو اپنا سر مت کھاؤ میرا۔۔۔ پہلے ہی تمہارا وہ جلاد بھائی میرا جبڑا ہلا چکا ہے۔۔۔”
شاویز کی بات پر دھانی دانت بیچتے ہوئے اسے غصے سے گھورنے لگی اور شاویز کے ہاتھ سے موبائل چھین کر فرار ہونے کی کوشش کرنے لگی جبکہ اس کی اس اچانک والی حرکت پر شاویز کا خون کھول اٹھا پہلے ہی وہ اس سے اتنا چڑتا تھا اور اب جب سے وہ اس حویلی آیا تھا تب سے وہ اس کے سر پر سوار رہتی تھی
“دھانی۔۔۔ فون دو میرا۔۔۔”
شاویز نے تلملاتے ہوئے کہا جبکہ وہ بنا پیچھے مڑے اوپر زینا چڑھتی ہوئی چھت کی جانب بڑھ گئی شاویز سمجھ چکا تھا وہ کبھی بھی ایسے نہیں مانے گی آخر ڈھیڈ باپ کی بیٹی اور ڈھیڈ بھائی کی بہن جو ٹھہری اس لئے وہ وہیں رک گیا جبکہ اسے پیچھے رکتا پا کر وہ پلٹ کر اسے دیکھنے لگی
“کیا ہوا؟؟ تھک گئے؟؟ بس اتنا ہی دم تھا تم میں شیزو۔۔۔”
شاویز کا پھولتا ہوا سانس دیکھ کر دھانی تمسخرانہ انداز میں کہتے ہوئے اپنے چٹیا کو ایک ادا سے کمر پر ڈالنے لگی جس پر شاویز ذو معنی انداز میں اسے تکتا ہوا اس کے قریب آنے لگا اس کی نظروں سے دھانی کا دل زور زور سے دھڑک رہا تھا
دھانی دیوار کی پشت سے لگی اسے ہی دیکھ رہی تھی جو اب اس کے ارد گرد ہاتھوں کو دیوار پر جمائے فرار کے سارے راستے بند کر چکا تھا
“تمہیں اپنے ہونے والے شوہر سے ڈر کیوں نہیں لگتا۔۔”
شاویز نے اس کے چہرے پر بکھرے بالوں کو ہٹاتے ہوئے کہا جس پر دھانی گڑبڑا کر رہ گئی وہ نظریں جھکائے کھڑی ہوئی تھی
“اگر واقعی تمہیں ڈر نہیں لگتا تو۔۔۔”
شاویز نے ہاتھ کے پور سے اس کا چہرہ اپنی جانب کیا وہ اس کی آنکھوں میں دیکھ رہا تھا جس پر دھانی کا دل باہر آنے لگا تھا
“تو بھلے سے نہ ڈرو لیکن یہ میرا موبائل مجھے واپس دو۔۔۔ تمہارے کام کا نہیں یہ۔۔۔”
شاویز ایک جھٹکے سے اس کے ہاتھ سے موبائل کھینچ کر بھاگا تھا تب وہی ہوش کی دنیا میں آکر اپنی بے وقوفی پر پچھتا رہی تھی شاویز اسے بے وقوف بنا گیا تھا
“مجھے پاگل بنایا؟؟ اب دیکھو بیٹا تم کیسے میں اس ہی ہفتے تم سے نکاح کرتی ہوں۔۔۔”
وہ منہ بناتے ہوئے نیچے کو بھاگی تھی بھلہ سب کی لاڈلی تھی اس کی بات کوئی ٹال ہی نہیں سکتا تھا
“آئی بڑی۔۔۔ مجھے دھمکانے والی۔۔۔ ہونہہ۔۔۔” اس سے زیادہ چلاک ہوں میں۔۔۔”
وہ ممناتا ہوا جیسے ہی کمرے کے اندر آیا تعبیر کو سج سنور کر روتا پا کر اس کے پاس آیا
“آپی۔۔۔ نہ روئی آپ میں کچھ کرتا ہوں دیکھیں میں نے موبائل حاصل کر لیا ہے یقیناً اب مدد مل سکتی ہے۔۔۔”
شاویز نے اس کا ہاتھ تھام کر اسے تسلی دی جس پر وہ اپنی سرخ آنکھوں سے اسے دیکھنے لگی
“شاویز اب کچھ نہیں ہو سکتا۔۔۔ دو مہینے کا وقت مانگا تھا میں نے جو پورا ہوا۔۔۔ اب۔۔۔ اب کوئی ہماری مدد نہیں کر سکتا۔۔۔”
تعبیر سر جھکائے سسکتے ہوئے کہنے لگی جس پر شاویز نے آگے بڑھ کر اس کی آنکھوں سے بہتے آنسوؤں کو صاف کیا
“آپی کیا آپ کو واقعی اس بات پر یقین ہے کہ بابا جان نے آپ کا نکاح اس بے غیرت گھٹیا انسان سے کروایا ہوا تھا؟؟ جھوٹ کہہ رہے ہیں یہ سب۔۔۔ آپ پریشان نہ ہوئیں میں کچھ کرتا ہوں۔۔۔اگر نکاح ہو بھی چکا ہے تو آپ خلاء لے لئے گا”
شاویز نے پر عزم انداز میں کہا جس پر تعبیر بھویں اکٹھی کئے اسے دیکھنے لگی جو اب کافی سمجھدار ہو چکا تھا وہ سارے فیصلے خود کر سکتا تھا وہ جو کچھ مہینوں پہلے اپنی بہن کے سائے تلے جی رہا تھا اب وہ اپنے پیروں پر خود کھڑا ہو چکا تھا ہاں وہ اپنی بہن کا محافظ بن چکا تھا
“شاویز تم یہ سب اتنا آسان سمجھتے ہو؟؟”
تعبیر نے بھری نگاہوں سے اسے دیکھا جو اب بہم سا مسکرا رہا تھا
“آپی آپ بس دعا کریں اللّٰہ پاک ہمارا ساتھ دے ورنہ یہ سب واقعی بہت مشکل کام ہوگا۔۔۔”
شاویز نے مسکراتے ہوئے کہا جس پر تعبیر خاموشی سے نظریں جھکا گئی
“اچھا آپی میری بات غور سے سنیں میں کسی طرح حویلی سے باہر جانے کی کوشش کرتا ہوں اور جیسے ہی کوئی موقع ملتا ہے آپ کو بھی یہاں سے لے جاؤں گا ٹھیک ہے پلیزز پریشان نہ ہوئیے گا”
شاویز اپنی بات مکمل کر کے وہاں سے جا چکا تھا مگر تعبیر یہ تو جانتی تھی یہاں کے پہرے دار بہت زیادہ ہیں یہاں سے نکلنا ناممکن سا تھا بس وہ یوں ہی خاموشی بیٹھی آنے والے وقت کے لیے خود کو تیار کر رہی تھی
وہ حویلی سے باہر آ تو گیا تھا مگر اب اسے سمجھ نہیں آرہا تھا کہ وہ کس سے مدد مانگے۔۔۔ تبھی شاویز کے نمبر پر کسی کی کال آنے لگی بے ساختہ اس کے چہرے پر مسکراہٹ نمودار ہوئی تھی
☆★☆★☆★☆
وہ خود ڈرائیو کر رہا تھا اور جس تیزی سے وہ گاڑی دوڑا رہا تھا وجاہت صاحب کو لگ رہا تھا وہ لوگ وہاں پہنچیں نہ پہنچیں لیکن اوپر ضرور پہنچ جائیں گے تعبیر کے مل جانے کی خبر سن کر وہ اپنے ہوش و حواس کھو بیٹھا تھا کبھی تو اس کے لب مسکرا رہے تھے کبھی آنکھیں نم ہورہی تھیں شاید وہ اپنہ کیفیت خود سمجھنے سے قاصر تھا
“بیٹا آتش گاڑی روکو”
وجاہت صاحب کے اچانک والے حکم پر اس نے بریک لگائے اور اب وہ سوالیہ نظروں سے اپنے برابر سیٹ پر بیٹھے وجاہت صاحب کو دیکھ رہا تھا
“جس تیزی سے تم گاڑی چلا رہے ہو کچھ بھی ہو سکتا ہے۔۔۔ اس لئے میں گارڈ کو کہتا ہوں وہ ڈرائیو کرلے گا تم میرے ساتھ پیچھے سیٹ پر آؤ”
وجاہت صاحب اگلا حکم سنا کر گاڑی سے اتر کر پیچھے سیٹ پر آ بیٹھے جبکہ ان کے رکنے پر پیچھے گارڈز خود اتر کر ڈرائیو کے لئے آگئے تھے آتش پیشانی رگڑتے ہوئے گاڑی سے اتر کر پیچھے جا بیٹھا
“ڈیڈ آپ کو نہیں لگتا یہ جس طرح ڈرائیو کر رہا ہے ہمیں پہنچتے پہنچتے رات ہو جائے گی”
آتش نے جس بے صبری سے کہا تھا اتنی ہی محویت سے وجاہت صاحب اسے دیکھ کر مسکرائے تھے جس پر آتش نظریں جھکائے چہرے پر آئی مسکراہٹ نہ چھپا سکا
“جہاں اتنا صبر کیا تھوڑا اور صحیح۔۔۔ خیر مجھے تم سے بہت ضروری بات کرنی ہے۔۔۔”
وجاہت صاحب کی بات پر وہ سنجیدگی سے ان کی جانب متوجہ ہوا
“دیکھو بیٹا تمہیں یہ لگ رہا ہوگا تمہاری ضد اور محبت کی وجہ سے کم تعبیر کو لینے جارہے ہیں۔۔۔ لیکن اس کی ایک اور بھی وجہ ہے۔۔۔”
وجاہت صاحب نے جس قدر سنجیدگی سے یہ بات کہی تھی اتنے ہی تجسس سے وہ انہیں دیکھ رہا تھا مگر کچھ کہا نہیں تھا
“آتش یہ بات میں تمہیں ہمیشہ ہی سے بتانا چاہتا تھا مگر تم جس طرح لاپروائی سے زندگی گزار رہے تھے شاید تب تم سچ جان کر اس سچ جو ایکسیپٹ نہ کرتے۔۔۔ لیکن میرے مالک نے تم دونوں کی تقدیر ایسے جوڑی ہے کہ تم دونوں کو سچ جاننے سے پہلے ہی ملا دیا گیا۔۔۔”
وجاہت صاحب کے ذو معنی الفاظ پر وہ ناسمجھی سے انہیں دیکھنے لگا تبھی وجاہت صاحب نے چشمہ اتار کر آنکھوں کے گرد انگلی پھیری شاید وہ اسے سچ بتانے کے لیے خود کو تیار کر رہے تھے
“ڈیڈ میں سمجھا نہیں آپ کیا کہنا چاہ رہے ہیں۔۔۔؟؟ کیسا سچ کیسی تقدیر؟؟”
آتش نے نا سمجھی سے سوال کیا جس پر وجاہت صاحب نے گہری سانس لیتے ہوئے بات کا آغاز کیا
“آتش جب میں اور تمہارے دادا ایک مڈل کلاس محلے میں رہتے تھے وہاں میرے کافی دوست یار بن چکے تھے اور پھر جب ہم وہاں سے ڈیفینس شفٹ ہوئے اور پھر میری تمہاری مما کے ساتھ شادی ہوئی اس کے کچھ وقت بعد تم ہماری زندگی میں آئے اور پھر ایک دن تمہاری موم ہم سب کو چھوڑ کر چلی گئیں تبھی میرے اس مڈل کلاس محلے کے ایک دوست جو کہ ایک ٹیچر تھا ایک مجبوری کے تحت مجھے تمہارا نکاح اس کی بیٹی سے کرنا پڑا۔۔۔”
وہ جو خاموشی سے وجاہت صاحب کی بات سن رہا تھا نکاح والے جملے پر آکر وہ شاکڈ کی کیفیت میں اپنے ڈیڈ کو دیکھنے لگا
“ڈیڈ؟؟ یہ کیا کہہ رہے ہیں آپ؟؟”
آتش نے جس انداز میں یہ الفاظ کہے تھے وجاہت صاحب اس کے ردعمل سے پہلے ہی واقف تھے
“یہی سچ ہے آتش اور تب سے اب تک میرے دوست نے مجھے کافی بار اس کی بیٹی کو بیاہ کر لے جانے کی بات کی مگر میں مجبور تھا اور بھی ذمہ داریاں تھیں جو میں یہ سب نہ کر سکا اور نہ ہی تمہیں سچ بتا سکا۔۔۔”
وجاہت صاحب نے اطمینان سے یہ بات کہی تھی جبکہ آتش کا تو دماغ سن ہونے کو تھا وہ بے یقینی سے اپنے ڈیڈ کو دیکھ رہا تھا
“ڈیڈ۔۔۔ یہ سب آپ مجھے کیوں بتا رہے ہیں؟؟ ڈیڈ آپ جانتے ہیں میں تعبیر سے محبت کرتا ہوں ہم اسے لینے جارہے ہیں آخر آپ کہنا کیا چاہتے ہیں؟؟ ڈیڈ آپ مجھے بتائیں کون ہے وہ کدھر ہے میں اسے آج ابھی اسی وقت ڈائورس کردوں گا!!!”
آتش کشمکش کی کیفیت میں کہتا ہوا جیسے کسی فیصلے پر پہنچا تھا جبکہ وجاہت صاحب کو بولنا کا موقع نہ ملا تو وہ خاموشی سے اسے دیکھنے لگے
آخر کس قدر پاگل ہو چکا تھا وہ تعبیر کے عشق میں سب کچھ بھلائے اب بس تعبیر کے نام کی تسبیح پڑھا کرتا تھا ہر وقت صرف تعبیر کے نام کا ورد کیا کرتا تھا وہ اس کے عشق میں مزید ڈوبتا جارہا تھا اور اس کا عشق ہر حد پار کر کے آگے بڑھ چکا تھا
“ڈیڈ میں۔۔۔ میں پہلے بتا رہا ہوں ڈیڈ میں تعبیر کے علاؤہ اور کسی کو بھی اپنی لائف میں جگہ نہیں دوں گا اور میں نہیں مانتا اس بچپن کے نکاح کو۔۔۔”
آتش نے صاف لفظوں میں انکار کرتے ہوئے کہا جس پر وجاہت صاحب بڑی تعجب سے اسے دیکھنے لگے
“اور اگر میں کہوں وہ لڑکی تعبیر ہی ہے پھر؟؟”
وجاہت صاحب کی بات پر وہ شاکڈ کی کیفیت میں انہیں دیکھنے لگا جو پچھلے کئی منٹوں سے مسلسل اس کے سر پر نیا بم پھوڑے جارہے تھے وجاہت صاحب نے اشارے سے جواب مانگا جس پر وہ پلک جھپکائے بنا ان کے منہ سے نکلے گئے جملے پر غور کر رہا تھا
“ڈیڈ؟؟ کیا آپ کوئی مذاق کر رہے ہیں؟؟ مطلب یہ سب کیا ہے کچھ سمجھ نہیں پارہا میں۔۔۔”
آتش نے پیشانی رگڑتے ہوئے کہا جس پر وجاہت صاحب نے اس کے مظبوط کندھے پر ہاتھ رکھا
“بیٹا یہی سچ ہے۔۔۔ پہلے میں ڈرتا تھا تمہیں بتانے سے لیکن جب مجھے پتا چلا تعبیر ہی وہ لڑکی ہے تو میں نے اپنے رب کا بے حد شکر کیا۔۔۔”
وجاہت درانی صاحب نے شکر گزار ہوتے ہوئے کہا آتش اب تک شاکڈ کی کیفیت میں تھا
“ڈیڈ مجھے۔۔۔ مجھے یہ سب خواب سا لگ رہا ہے۔۔۔ مم مطلب میں اور تعبیر۔۔۔ نکاح میں تھے۔۔۔؟؟ اور پھر بھی ایک دوسرے سے اتنے دور رہے۔۔۔”
آتش نے پیشانی رگڑتے ہوئے انگلیوں سے بڑھتی ہوئی داڑھی کو سہلایا
“بیٹا شاید وہ تمہیں تمام گناہوں سے توبہ کرنے کا احساس دلانا چاہتا تھا۔۔۔ خود سوچو ورنہ کہاں تعبیر تھی کہاں تم تھے۔۔۔ اس کے باوجود بھی تم دونوں نکاح میں تھے۔۔۔”
وجاہت صاحب کی بات پر وہ گردن جھکائے مسکراتے ہوئے آنسؤں بہانے لگا
“اپنے صحیح کہا ڈیڈ۔۔۔ میں اتنا گناہگار سا۔۔۔ وہ اتنی پاکیزہ سی۔۔۔ ہمارا ملن شاید نہ ہوتا کیونکہ قرآن نے وعدہ کیا ہے کہ پاک مردوں کے لئے پاک بیویاں ہوں گی۔۔۔ جبکہ میں گناہگار تھا۔۔۔ اگر وہ مجھے نکاح کے رشتے کو مدنظر رکھ کر پہلے مل جاتی تو شاید میں گناہوں کا راستہ نہ چھوڑتا۔۔۔”
وہ بہم سا مسکراتے ہوئے گویا ہوا تھا جبکہ نظریں اب تک جھکی ہوئی تھیں پرکشش نیلی آنکھوں سے آنسوں اب بھی جاری تھے جو اس کے چہرے کو بھگا چکے تھے
“لیکن میرے رب نے ہماری تقدیریں کچھ اس طرح لکھی تھیں کہ سالوں پہلے ہمیں ایک پاک رشتے میں باندھا گیا۔۔۔ پھر ہمیں یوں اچانک ملایا گیا میرے دل میں اس کے لئے ایک الگ ہی قسم کا احساس جگایا گیا اور جب میں اس کی محبت میں ڈوب کر صراطِ مستقیم پر گامزن ہوا تب اس کے دل میں بھی میرے لئے محبت ڈالی گئی اور پھر ایک اسے مجھ سے دور رکھ کر اور آزمائش لی گئی اب جب میں نے گناہوں سے توبہ کرلی ہے تو شاید اب ہمارے سارے امتحانات تمام ہو چکے۔۔۔ اب سب آزمائشیں پوری ہو چکی ہیں۔۔۔ اب ہماری منزلیں کبھی جدا نہیں ہوں گی۔۔۔”
وہ ہچکی لیتے ہوئے بامشکل اپنے الفاظ کہہ کر خوبصورت مسکراہٹ کے ساتھ اپنے ڈیڈ کو دیکھنے لگا جو اس کے پر نور چہرے کو مزید ترو تازہ دیکھ کر دل ہی دل میں کافی مطمئن تھے
“بلکل ایسا ہی ہے آتش۔۔۔ ارے بھئی گاڑی جلدی چلاؤ۔۔۔ شام ہونے لگی ہے۔۔۔”
وجاہت صاحب مسکراتے ہوئے گارڈ کو مخاطب کرنے لگے جس پر آتش بھی مسکرا دیا دورانِ سفر انہوں نے بہت سی بہت سی اہم باتوں سے آتش کو آگاہ کیا تھا
☆★☆★☆★☆
“تعبیر علی ولد افتخار علی آپ کا نکاح جمال علی ولد کمال علی سے حق مہر پچاس ہزار سکہ رائج الوقت کیا جاتا ہے کیا آپ کو یہ نکاح قبول ہے؟؟”
وہ دلہن کے لباس میں ملبوس آنکھوں میں آنسوں لئے مہندی والے ہاتھوں کی انگلیوں کو مسلسل مروڑی جارہی تھی
وہ بس یہی سوچی جارہی تھی کاش کسی طرح زمین پھٹ جائے اور وہ اس میں دفن ہو جائے اس کی زندگی عجیب دوراہے پر تھی جیسے سب کچھ ختم ہورہا ہو اس کی آنکھوں سے خواب نوچ کر مٹی تلے روند دیئے گئے تھے مگر وہ دل کو کیسے مناتی جو آج بھی صرف آتش کا نام دہرا رہا تھا
“تعبیر جواب دو مولوی صاحب کچھ پوچھ رہے ہیں۔۔۔”
جمال صاحب کی گمبھیر آواز پر تعبیر نے بڑی مایوسی سے انہیں دیکھا جو اب بھی اسے غصے سے گھور رہے تھے جبکہ برابر بیٹھا جمال جس کی خوشی کی کوئی انتہا ہی نہ تھی
“تعبیر علی ولد افتخار علی آپ کا نکاح جمال علی ولد کمال علی سے حق مہر پچاس ہزار روپے سکہ رائج الوقت کیا جاتا ہے کیا آپ کو یہ نکاح قبول ہے؟؟”
مولوی صاحب نے دوسری بار یہ جملہ دوہرایا تھا مگر تعبیر کی طرف سے کوئی بھی جواب نہ پا کر حویلی کے تمام مہمان آپس میں باتیں بنا رہے تھے
“اے لڑکی۔۔۔ جواب دے رہی ہے یا نہیں؟؟”
جمال نے جس بدتمیزی سے اسے مخاطب کیا تھا تعبیر کی جگہ اگر کوئی اور لڑکی ہوتی تو یقیناً اس کا منہ نوچ لیتی مگر تعبیر یوں ہی آنسوں بہائے خاموش رہی دل زوروں سے دھڑک رہا تھا کیا کوئی آتا اسے بچانے؟؟
“ابا یہ ایسے نہیں مانے گی اس کا بھائی کدھر ہے؟؟ بلائیں اسے!!”
جمال کے حکم پر کمال نے شاویز کی طرف اشارہ کیا جس پر شاویز نہ سمجھی سے اسے دیکھنے لگا اور دیکھتے ہی دیکھتے کمال کے آدمیوں نے شاویز کے ہاتھوں کو اس کی پشت پر لپیٹ کر قابو کیا اور کنپٹی پر پستول رکھ کر کھڑے ہوگئے
مطلب صاف تھا۔۔۔ وہ لوگ تعبیر کو ڈرا دھمکا کر اس سے قبولوانہ چاہتے تھے اور ایسا ہی ہوا تعبیر نفی میں سر ہلائے کبھی اپنے بھائی اور کبھی ان دونوں باپ بیٹے کو دیکھنے لگی وہ آج خود کو دنیا کی سب سے بد نصیب لڑکی محسوس کر رہی تھی جو اپنے حق کے لئے آواز تک نہیں اٹھا پائی تھی جمال نے ایک جھٹکے سے اس کا بازوں پکڑا
“بات سن لڑکی!!! اگر اپنے بھائی کی زندگی عزیز ہے تو ابھی اس ہی وقت مولوی صاحب کی بات کا جواب دے اور نکاح نامے پر دستخط کر!! ورنہ کہیں ایسا نہ ہو کہ آج شام تیری سہاگرات کے بجائے تیرے بھائی کی موت کا ماتم منایا جائے!!!”
جمال نے جس غلاظت سے اسے دیکھتے ہوئے یہ الفاظ کہے تھے تعبیر نے گھن کھا کر منہ پھیرا تھا اس کا پورا وجود کانپ رہا تھا اس کی کیفیت سمجھ سے باہر تھی جمال نے ایک جھٹکے سے اس کا ہاتھ چھوڑا
“نہیں آپی!!! آپ ہمت نہیں ہاریں یہ لوگ میرا کچھ بھی نہیں بگاڑ سکتے!! پلیززز آپی بی بریو!!!”
شاویز چینخ کر کہنے لگا وہ نہیں چاہتا تھا اس کی معصوم بہن ان سازیشی لوگوں کی باتوں میں آکر اپنی زندگی داؤ پر لگا دے
“نکاح شروع کہیں مولوی صاحب آپ اب اس کے اچھے بھی جواں دیں گے!!!”
جمال نے خونخوار نظروں سے شاویز کو گھورتے ہوئے مولوی صاحب سے کہا جس پر وہ خالی نظروں سے شاویز کو دیکھنے لگی جو مسلسل نفی میں سر ہلا رہا تھا
شاید اب کچھ بھی نہیں ہو سکتا تھا اب اس کے خوابوں کا جنازہ نکالا جارہا تھا اپنی محبت کو اپنے ہی ہاتھوں سے قتل کرنے کا وقت آچکا تھا اب س کچھ تباہ و برباد ہونے والا تھا اس کے خواب، اس کے جذبات، اس کا مستقبل، اس کا دل اور سب سے بڑھ کر اس کا عشق سب کچھ اختتام تک پہنچ چکا تھا
تعبیر نے ضبط سے آنکھیں مینچیں تھیں ہاں وہ تڑپ رہی تھی وہ شدت سے کسی کو یاد کر رہی تھی کتنا اچھا ہوتا نہ کہ وہ محبت ہی نہ کرتی تو آج شاید اسے صرف اپنی زندگی تباہ ہونے کا ماتم منانا ہوتا نہ کہ اپنے خوابوں کا اپنی محبت کا خود اپنے ہاتھوں سے گلا گھونٹنا پڑھتا
“تعبیر علی ولد افتخار علی آپ کا نکاح جمال علی ولد کمال علی سے حق مہر پچاس ہزار روپے سکہ رائج الوقت کیا جاتا ہے کیا آپ کو یہ نکاح قبول ہے؟؟”
یہ جملہ تیسری دفعہ دہرایا گیا تھا جمال نے تعبیر کو سخت نظروں سے گھورا تھا وہ کچھ کہنے کے لیے لب کھولنے ہی لگی تھی جب ایک زور دار فائر کی آواز پر وہاں موجود تمام لوگ سہم گئے
“یہ شادی نہیں ہو سکتی۔۔۔”
آتش درانی غرراتا ہوا اپنے مخصوص انداز میں چل کر اندر کو آیا ہاتھ میں ریوالور تھی جسے دیکھ کر ہر ایک شخص اپنی جگہ سے اٹھ کھڑا ہوا مولوی صاحب خاموشی سے تماشا دیکھ رہے تھے کمال علی اور جمال ہونقوں کی طرح ایک مشہور اداکار آتش کو یوں اس طرح اپنی حویلی میں گھس کر شادی رکواتا دیکھ کر ایک دوسرے کو تکنے لگے
آتش جارحانہ انداز میں سب جو گھورتا ہوا سامنے بیٹھے نازک وجود کو دیکھنے لگا جہاں اس کے اعصاب ڈھیلے پڑھ گئے تعبیر خاموش نظروں سے اسے دیکھ رہی تھی جیسے یہ کوئی خواب تھا کیا واقعی وہ یہاں آیا تھا لیکن کیا فائدہ وہ تو پہلے ہی اس شخص کے نکاح میں تھی جس سے اس کا نکاح ایک بار پھر کرایا جارہا تھا
“اے اے تو اندر کیسے آیا اور یہ کیا طریقہ ہے کسی کی شادی میں گھسنے کا وہ بھی زبردستی ہاں؟؟”
جمال اپنے مخصوص جاہلانہ انداز میں کہتا ہوا اٹھ کر اس کے سامنے آتا آتش نے ایک تیز نگاہ اس پر ڈالی جو اس کی ملکیت کو اپنا بنانے کی کوشش میں تھا
“سامنے سے ہٹ جاؤ!!”
آتش نے گمبھیر لہجے میں اسے خبردار کرنے والے انداز میں کہا شاویز ٹینشن فری ہوکر کھڑا ہوا آتش کے پیچھے پیچھے ہی ضوریز اور باضل اندر آئے تھے جبکہ وجاہت صاحب تمام سیکیورٹی سمیت حویلی کے باہر کھڑے تھے
“اوہ اچھا بھلہ کیوں؟؟ ہوتا کون ہے بھئی تو یہاں آکر حکم چلانے والا ہاں؟؟”
جمال کی بات پر آتش نے ضبط سے آنکھیں بند کی تھیں شاید وہ غصہ پی رہا تھا مگر مخالف وجود تو تھا ہی ڈھیٹ
“نہ تو کرے گا کیا بتا۔۔۔ ابھی بتا۔۔۔ بتا نہ”
جمال نے ایک ساتھ تین بار آتش کے مظبوط سینے پر ہاتھ مارتے ہوئے اسے پیچھے دھکیلنا چاہا جس پر آتش نے ایک زناٹے دار تھپڑ اس کے منہ پر رسید کیا جس پر وہ ہل کر رہ گیا تھا اسے لگا اس کا سر چکرانے لگا ہے وہ بامشکل خود کو سنبھالتا ہوا سر جھٹک کر سیدھا کھڑا ہوا
“تیری اتنی ہمت تو نے مجھ پر ہاتھ اٹھایا ہاں۔۔۔”
جمال جیسے ہی اس پر حملہ آور ہونے لگا آتش نے ایک ہاتھ سے اسے پکڑ کر اپنے پیچھے کھڑے ضوریز کی جانب دھکیلا جس پر وہ ضوریز کے قدموں میں گرنے لگا مگر ضوریز گرنے سے پہلے ہی اسے گریبان سے پکڑ چکا تھا
“سالے میرے بھیا پر ہاتھ اٹھائے گا تو ہاں۔۔۔ بھیا پر اٹھنے والا ہر ہاتھ توڑ کر رکھ دوں گا میں!!!”
ضوریز سرد لہجے سے کہتا ہوا اس کی گردن مروڑے کھڑا ہوگیا جس پر وہ بامشکل چینخنے لگا
“اے لڑکے چھوڑو میرے بیٹے کو اور تم لوگوں کا مسئلہ کیا ہے ہاں؟؟”
کمال کے آگے آتے ہی وجاہت صاحب اندر کی جانب آئے
“خبردار جو ایک قدم بھی آگے بڑھایا تو!! ہم اپنی امانت کو واپس لینے آئے ہیں ایسا کرنے سے ہمیں کوئی بھی نہیں روک سکتا!!”
وجاہت صاحب کی گمبھیر آواز پر کمال انہیں دیکھتا رہ گیا جبکہ یہ سارا تماشا دیکھ کر تعبیر بامشکل اپنے زخمی وجود کے ساتھ اٹھ کر کمرے کی جانب بھاگی تھی کمرے کو اندر سے بند کر کے وہ آئینے کے سامنے جا کھڑی ہوئی آنسوؤں نے مزید رفتار پکڑی تھی درد بڑھتا جارہا تھا
“وہ یہاں کیوں آئے ہیں؟؟ کیا واقعی انہیں یہ نہیں پتا کہ میں کسی اور کے نکاح میں۔۔۔”
اس کا دل زوروں سے دھڑک رہا تھا جب کمرے کے باہر سے مسلسل لڑائی جھگڑے کی آوازیں سنائی دینے لگیں وہ سمجھ چکی تھی باہر کا منظر بے حد خوف ناک ہوگا
“خبردار جو اب کوئی میرے راستے میں آیا تو!!!”
وہ دھاڑا تھا اس کی غرراہٹ پر سب لوگ اس کے سامنے سے ہٹ چکے تھے وہ چلتا ہوا تعبیر کے کمرے کی جانب بڑھ گیا وجاہت صاحب کے گارڈز نے کمال سمیت تمام لوگوں کو قابو کیا ہوا تھا
“تعبیر!!! دروازہ کھولو تعبیر مجھے تم سے بات کرنی ہے!!!”
وہ مسلسل دروازہ بجا رہا تھا مگر اندر کھڑے وجود کو جیسے اس کی قربت سے ڈر لگ رہا تھا وہ اس سے دور رہنا چاہتی تھی وہ نہیں چاہتی تھی کہ وہ ایک بار پھر اس کے قریب آکر اسے اپنے سحر میں جکڑ لے
دل تو اس کا تب کانپا تھا جب دھڑام کی آواز پر دروازہ کھلا تھا وہ ایک ہی لات رسید کر کے دروازہ توڑ چکا تھا تعبیر کا پورا وجود کانپ رہا تھا آتش بھیگی آنکھیں لئے اندر کو آیا تھا چہرے پر کرب و تکلیف کے تاثرات نمایاں تھے نیلی آنکھیں غصے اور غم سے بے حد سرخ تھیں
“تعبیر۔۔۔”
وہ کتنی تکلیف میں تھا اس بات کا اندازہ اس کے پکارنے کے انداز سے لگایا جا سکتا تھا وہ سسک رہا تھا اس کی قربت کے لئے تڑپ رہا تھا وہ جیسے ہی اس کے قریب آیا تعبیر دو قدم دور ہوئی
“وہیں رک جائیں!!”
تعبیر نے اسے قریب آنے پر روکا تھا وہ نا سمجھی سے اسے دیکھ رہا تھا
“تت تعبیر۔۔۔ کیوں کر رہی ہو یہ سب تم؟؟”
آتش کی نظریں اس کے وجود کو چھو کر بھیگی آنکھوں پر آ ٹھہری تھیں تعبیر نے نظریں چرا کر دل کے مقام پر ہاتھ رکھا
“کہاں چلی گئی تھیں تم؟؟ کتنا تڑپا ہوں تمہارے لیے میں۔۔۔ تم جانتی نہیں ہو کس کرب میں گزارے ہیں یہ دو مہینے میں نے!!”
اس کے بڑھتے قدموں کو بھانپتے ہوئے وہ جیسے ہی دور ہونے لگی آتش نے ایک جھٹکے سے اس کو بازوں کو پکڑ کر اپنی جانب کھینچا وہ اچانک سے اس کے سینے سے آ لگی تھی
ایک دم سے دونوں کے وجود کے ساتھ ان کی نظریں بھی ٹکرائی تھیں آتش نے نظر بھر کر تعبیر کے چہرے کے ایک ایک نقش کو دیکھا تھا وہ اپنی نیلی آنکھوں میں موجود اس کے دیدار کی طلب کو بجھا رہا تھا
تعبیر کی نظریں اس کے بدلے ہوئے حلیے پر تھیں وہ کہیں سے بھی پہلے والا آتش نہ لگ رہا تھا چہرہ کافی مرجھایا ہوا سا تھا آنکھوں کے گرد مسلسل رونے سے حلقے پڑھ چکے تھے چہرے پر داڑھی کافی بڑھ چکی تھی بڑھتے ہوئے بال پیشانی کو چھپا رہے تھے تعبیر کے وجود کے ساتھ ساتھ آتش کے وجود میں بھی کپکپاہٹ محسوس ہورہی تھی
“کبھی سوچا تھا تم نے کس طرح جیوں گا تمہارے بنا میں؟؟ کبھی محسوس کیا تم نے کہ کس قدر یاد کرتا ہوں تمہیں۔۔۔ دن رات ہر پل ہر لمحہ میری سانسوں نے تمہارے نام کا ورد کیا۔۔۔ کیوں آخر کیوں تم مجھے زندہ لاش بنا کر چلی گئی تھیں؟؟”
وہ جس جنون سے جس طیش سے آخری الفاظوں میں چینخا تھا کچھ پل کے لیے تعبیر گردن جھکائے سہم سی گئی تھی آتش اس کی دل کی دھڑکنیں بخوبی محسوس کر رہا تھا اس کا لرزتا وجود جس پر آتش کی گرفت مضبوط ہوتی جارہی تھی
“تعبیر!!! میں تم سے دیوانوں کی طرح عشق کرنے لگا ہوں۔۔۔”
اپنے سخت لہجے پر شرمندہ سا ہوکر وہ اس کے کان میں سرگوشی کرنے لگا جبکہ وہ اس کے سینے سے لگی اپنی سانسیں بحال کر رہی تھی
“مجھے تم ہر وقت ہر لمحہ اپنے پاس چاہئے ہو۔۔۔ میں تمہیں اب خود سے ایک پل کے لیے بھی دور نہیں کروں گا یہ وعدہ ہے میرا۔۔۔”
آتش نے اس کی تھوڑی کو اوپر کر کے اس کی آنکھوں میں دیکھا جہاں مایوسی صاف دکھائی دے رہی تھی
“چلو میرے ساتھ۔۔۔ ہم یہاں ایک پل نہیں رکیں گے۔۔۔”
آتش نے وقت ضائع کئے بنا اس کا ہاتھ تھام کر باہر کی جانب قدم بڑھایا مگر ایک جھٹکے سے تعبیر نے اس سے اپنا ہاتھ چڑایا
“مسئلہ کیا ہے آپ کا؟؟ کیوں آئے ہیں یہاں آپ؟؟ کیا آپ نہیں جانتے میں نکاح میں ہوں ان کے!! ان سب باتوں کا کیا مطلب سمجھوں میں؟؟”
وہ غصے سے چینخی تھی آتش نا سمجھی سے اسے دیکھنے لگا کیا وہ نہیں جانتی تھی کہ وہ پاگل دیوانہ نہیں رہ سکتا اس کے بنا کیا وہ ان دو مہینوں میں اسے بھلا چکی تھی
“تعبیر جھوٹ بول رہے ہیں یہ سب لوگ۔۔۔ نہیں ہو تم اس کے نکاح میں چلو میرے ساتھ!!”
آتش نے جارحانہ انداز میں کہتے ہوئے اس کا ہاتھ مضبوطی سے پکڑ کر باہر کی جانب قدم بڑھائے وہ کسی کٹی پتنگ کی طرح اس کی جانب کھنچتی چلی گئی
ہال میں موجود سب لوگ انہیں باہر کی جانب آتا دیکھ رہے تھے کمال کے سب آدمی بنا بندوق کے زمین پر سر جھکائے بیٹھے تھے وجاہت صاحب کے سامنے کوئی آنکھ بھی نہیں اٹھا پا رہا تھا
“آتش چھوڑیں مجھے!!”
تعبیر نے مزاحمت کرنا چاہی مگر آتش کا غصہ ساتھویں آسمان کو چھو رہا تھا مگر وہ بھی تعبیر تھی اس نے ایک جھٹکے سے آتش کا رخ اپنی جانب کر کے ایک زور دار تماچہ اس کے رخسار پر رسید کیا تھا
وہ بے یقینی سے تعبیر کو دیکھ رہا تھا سب کے سب لوگ تعبیر کی اس حرکت پر حیران تھے وجاہت صاحب اس کے ردعمل سے واقف تھے مگر یہ کچھ زیادہ ہو چکا تھا
“جب میں کہہ رہی ہوں مجھے آپ کے ساتھ کہیں بھی نہیں جانا تو کیا مطلب ہے ان سب باتوں کا؟؟ بھلے سے یہ لوگ جھوٹ بول رہے ہیں مگر میں اپنے بابا کی خواہش کبھی رد نہیں کروں گی میں جمال سے ہی نکاح کروں گی!!!”
تعبیر نے غصے سے کہتے ہوئے جمال کو دیکھا تھا جس کی گردن ضوریز کے ہاتھ میں تھی
“تعبیر بیٹا تم اب کسی سے بھی نکاح نہیں کر سکتیں!!”
وجاہت صاحب نے آگے بڑھ کر نرم لہجے میں کہا جس پر وہ انہیں دیکھنے لگی پہچان تو چکی تھی وہ انہیں کہ وہ اس کے بابا کے انتقال میں ایک دوست کی حیثیت سے آئے تھے لیکن وہ آتش کے والد تھے اس بات کا علم اسے اب ہوا تھا
“ایک نہیں بے شک دس بار تھپڑ مارو لیکن خدارا مجھ سے دور ہونے کی ضد اب مزید نہ کرو!!!”
آتش نے سخت مگر دھیمے لہجے میں کہا تھا جس پر تعبیر اسے دیکھنے لگی
“تعبیر بیٹا ہمارے ساتھ چلو ہم تمہیں لینے آئے ہیں”
وجاہت صاحب نے سنجیدگی سے کہا
“وجہ جان سکتی ہوں میں؟؟”
تعبیر نے جیسے دو ٹوک ہوکر سوال کیا تھا
“بیٹا کیونکہ تم آتش کی امانت ہو!”
وجاہت صاحب کی بات پر وہ نا سمجھی سے انہیں دیکھنے لگی
“کیوں آپ لوگ میری ذات کا تماشا بنا رہے ہیں؟؟ کیا یہ کافی نہیں تھا کہ آپ کے بیٹے نے میرے ساتھ جو کھیل کھیلا تھا وہ جیت چکا تھا تو اب۔۔۔ اب مزید کیا چاہتے ہیں آپ مجھ سے؟؟”
دل کی بات زبان پر آ ہی گئی تھی
“تعبیر وہ سب میں بعد میں کلیئر کر دوں گا۔۔۔ کیا تمہیں میرے پیار پر بھروسہ نہیں؟؟”
آتش نے آگے بڑھ کر کہا جس پر طنزیہ مسکرائی
“بھروسے کے لائق تو میرے اپنے نہیں ہیں۔۔۔ آپ تو پھر غیر ہیں”
جتنی اجنبیت سے کہتے ہوئے تعبیر نے منہ پھیرا تھا آتش کو لگا اس کا مزید یہاں کھڑے رہنا مشکل ہو چکا تھا وہ تکلیف میں تھا تعبیر کے الفاظوں نے اس کا پورا وجود چھلنی کر دیا تھا
“یہ وقت بتائے گا کہ کون اپنا تھا اور کون غیر لیکن یاد رکھنا تب بہت دیر ہو چکی ہوگی”
آتش تڑپ کر کہتا ہوا پلٹا تھا وجاہت صاحب سمیت ضوریز سے پکار رہے تھے مگر وہ جا چکا تھا اپنے زخمی وجود کے ساتھ وہ اس حویلی سے باہر جا چکا تھا
“تعبیر۔۔۔ بیٹا تم نے بہت غلط کیا ہے۔۔۔ بنا سچ جانے تم نے اسے ایسے الفاظ کہہ دیئے جن سے وہ مکمل ٹوٹ چکا ہے۔۔۔ دو مہینوں کے بعد آج کھل کر مسکرایا تھا وہ صرف تمہارے ملنے کی خبر سن کر۔۔۔ تم نے ایک بار بھی نہیں پوچھا اس سے کہ وہ کس حق سے تمہیں اپنے ساتھ لے جانے آیا تھا۔۔۔”
وجاہت صاحب نے تعبیر کو کہتے ہوئے اس کی جانب قدم بڑھائے تھے وہ خاموشی سے انہیں دیکھ رہی تھی
“تمہارا باپ دوست تھا میرا۔۔۔ اس سے وعدہ کیا تھا میں نے کہ تمہیں تمہارا حق دلا کر رہوں گا اور جانتی ہو جس سے تم نکاح میں تھیں وہ کون تھا؟؟ آتش میرا بیٹا!!! جسے دھتکار کر یہاں سے جانے پر مجبور کردیا تم نے!!!”
وہ ہونق بن کر وجاہت صاحب کو دیکھ رہی تھی مگر وہ آج چپ بلکل بھی نہیں رہنا چاہتے تھے ہاں وہ اسے تمام حقیقت سے آگاہ کر دینا چاہتے تھے
☆★☆★☆★☆
شام سے رات ہو چکی تھی مگر اب وہ وہ گھر نہ آیا تھا سب لوگ اس کے انتظار میں تھے ضوریز اور باضل تمام گارڈز کے ساتھ مل کر اسے ہر جگہ ڈھونڈ چکے تھے مگر وہ کہیں بھی نہیں تھا
وجاہت صاحب نے تعبیر کو تمام حقیقت بتادی تھی جس کے بعد وہ جمال اور اس کے باپ کمال کو تعبیر اور شاویز کو کڈنیپ کرنے کے کیس میں جیل بھیج چکے تھے جس کے بعد وہ تعبیر اور شاویز کو اپنے پرسنل ہاؤس میں لے آئے تھے جہاں سب لوگ موجود تھے
“آپ کون ہیں؟؟ اور کیوں رو رہی ہیں؟؟”
تعبیر کو اکیلا بیٹھا دیکھ کر ائیزل چلتی ہوئی اس کے پاس آئی وہ جب یہاں آئی تھی تو وجاہت صاحب سب کا تعارف کروا چکے تھے اور وہ پہچان بھی چکی تھی مگر ائیزل جو کہ اسے کہیں نظر نہیں آئی تھی اب اچانک سے ایسا سوال سن کر تعبیر اسے محویت سے دیکھنے لگی
“شاویز کی بہن۔۔۔ تعبیر۔۔۔ کیا آپ بھول گئی ہو مجھے؟؟”
تعبیر نے مسکراتے ہوئے کہا جس پر وہ اس کے پاس آ بیٹھی
“افففو اب یہ شاویز کون ہے؟؟”
ائیزل نے تلملاتے ہوئے پوچھا جس پر تعبیر بہت حیران ہوئی
“حریم کا منگیتر۔۔۔”
تعبیر کو اس کی ذہنی کیفیت سمجھ نہیں آرہی تھی
“اب یہ حریم کون ہے؟؟”
ایک اور بار پھر سے وہ جھنجھلاتے ہوئے سوال کر بیٹھی تھی
“تمہاری نند۔۔۔”
دروازے پر کھڑا ضوریز جو کب سے اس کے سوالات سنے جارہا تھا اب نرم لہجے میں کہتا ہوا اندر آیا
“اوہ اچھا اچھا وہ کیوٹ سی ڈول؟؟”
ائیزل نے بڑی معصومیت سے کہا جس پر ضوریز نے ہاں میں سر ہلاتا جبکہ تعبیر یہ سب سمجھنے سے قاصر تھی
“ہاں وہی ڈول۔۔۔ تم اپنے اس چھوٹے سے جگر پر زیادہ زور نہ دو۔۔۔ اور جاکے ہونے والے فنکشن کی تیاری کرو شاباش۔۔۔”
ضوریز نے ائیزل کی کنپٹی پر ہاتھ رکھتے ہوئے کہا جس پر وہ اثبات میں سر ہلاتے ہوئے وہاں سے چلی گئی جبکہ لفظ دماغ کے بجائے جگر سن کر تعبیر کو اب ضوریز کی ذہنی حالت پر بھی شک ہورہا تھا
“بھابھی ایکچلی دو مہینے پہلے ائیزل کا ایکسیڈنٹ ہوا تھا وہ کومہ سے اب باہر آئی ہے اور اس کی میمری لوسٹ ہو چکی ہے سو وہ آپ سب کو پہچان نہیں پارہی۔۔۔”
ضوریز نے سر کھجاتے ہوئے کہا جس پر تعبیر اسے سنجیدگی سے دیکھنے لگی
“اللّٰہ پاک انہیں جلد صحتیاب کرے۔۔۔”
تعبیر نے دل سے دعا دی تھی
“آمین۔۔۔” ضوریز مسکراتا ہوا باہر کو چلا گیا تھا
“آتش کہاں ہیں آپ۔۔۔ پلیززز گھر واپس آجائیں۔۔۔”
مدتوں بعد جب ان کے درمیان فاصلہ کم ہوا تھا تو اب ایک بار پھر سے وہ اہم دوسرے سے دور ہونے لگے تھے آخر کیوں۔۔۔
عشاء کی نماز ادا کر کے جب وہ دعا کے لئے ہاتھ اٹھانے لگی تب وہ دروازہ کھول کر دبے پاؤں اندر آیا تھا مگر تعبیر اپنے رب سے گفتگو میں اس قدر مگن تھی کہ اس کی آہٹ بھی محسوس نہ کر سکی تھی
“میں جانتی ہوں ہمارے درمیان غلط فہمیاں بہت بڑھ گئی تھیں۔۔۔ مگر میں نے کبھی اس نے لئے برا نہیں چاہا آپ گواہ ہیں اس بات کے ان سے دور رہ کر بھی میں نے ان کا ساتھ مانگا تھا۔۔۔ مگر کیسے میں کسی اور کے نکاح میں رہ کر ان کے پاس واپس آتی۔۔۔ خیر جو ہوا سو ہوا مگر میں آپ کی بہت شکر گزار ہوں میرے رب۔۔۔ جو آپ نے آتش کے گناہوں کو معاف کردیا۔۔۔ میں ہمیشہ سے انہیں ایسا ہی دیکھا چاہتی تھی جیسے وہ اب ہیں۔۔۔ پاک صاف دل کے مالک باکردار شخصیت کے مالک۔۔۔ اپنے رب کے پسندیدہ شخصیات میں سے ایک۔۔۔”
آنسوؤں کی شدت اتنی تھی کہ چہرہ تر ہو چکا تھا دل رب کے بعد آتش کی محبت میں چور ہو چکا تھا دھڑکنیں تیز تھیں وہ ہچکیوں کو قابو میں رکھ کر بامشکل اپنے رب سے اپنے الفاظوں میں دعا مان رہی تھی آتش چلتا ہوا اس کے برابر آ بیٹھا وہ اس کی صاف شفاف رنگت کو دیکھنے لگا جہاں ہمیشہ کی طرح آج بھی بے حد نور تھا
“میرے رب وہ اس وقت جہاں بھی ہیں انہیں اپنے حفظ و امان میں رکھنا میں بہت خوش نصیب ہوں۔۔۔ جو مجھے آتش جیسا ہمسفر ملا۔۔۔ میں ان سے بے حد محبت کرتی ہوں ہمیں اب کبھی ایک دوسرے سے دور نہ کرنا۔۔۔۔ ورنہ۔۔۔ میں اب مزید یہ سب برداشت نہیں کر پاؤں گی۔۔۔”
وہ جس طرح زاروقطار روتے ہوئے دعا مانگ رہی تھی اس کی ہچکیوں کے دوران کسی اور کی ہچکیاں بھی سنائی دی تھیں آنکھیں کھول کر مخالف وجود پر نظر دوڑائیں تو جیسے ساکت رہ گئی
وہ آتش درانی کبھی کسی کے سامنے کمزور نہ پڑھنے والا وہ شخص سر جھکائے ہچکیوں سے رو رہا تھا تعبیر کی آنکھوں کے ساتھ ساتھ اس کی آنکھیں بھی بھیگ چکی تھیں وہ شاید آج اپنے دل کا بوجھ ہلکا کر رہا تھا اس کے رونے میں مزید شدت آ چکی تھی آتش نے ایک نظر تعبیر کو دیکھ کر دعا کے لئے ہاتھ اٹھائے تھے
“یا رب میں تیرا گناہگار بندا ہوں مگر تو نے مجھے اس قدر نوازا ہے کہ میں ساری زندگی بھی شکر ادا کروں تو شاید کم ہوگا۔۔۔ آخر کار مجھے میری منزل مل چکی ہے۔۔۔ مجھے میری تعبیر مل چکی ہے۔۔۔”
وہ ہاتھوں کے پیالے میں منہ دیئے مسلسل رویا جارہا تھا جبکہ تعبیر آنسوؤں بہاتے ہوئے اسے بڑے غور سے دیکھ رہی تھی کیا وہ واقعی وہی آتش تھا کیا وہ بھی اب نماز میں رویا کرتا تھا کیا واقعی وہ اپنے رب کے اس قدر قریب آ چکا تھا
اب وہ کچھ بھی نہیں کہہ رہا تھا وہ اب بس رویا جارہا تھا تعبیر نے آگے بڑھ کر اس کی ہتھیلیوں کو اپنی ہتھیلی میں رکھ کر اسے دیکھا جو اب اسے ہی دیکھ رہا تھا
“تعبیر میں جھوٹا نہیں تھا وہ سب کچھ میں نے صرف سچ جاننے کے لیے پلان کیا تھا۔۔۔ میں چاہ کر بھی تمہیں دکھ نہیں دے سکتا کاش تم ایک بار مجھ سے پوچھ لیتیں۔۔۔ کہ میں کتنا عشق کرتا ہوں تم سے۔۔۔ میں سینے سے دل نکال کر تمہاری ہتھیلی پر رکھ دیتا۔۔۔”
آتش نے روتے ہوئے لرزتے لبوں کے ساتھ یہ الفاظ کہے تھے تعبیر نے اس کے کندھے پر اپنا سر ٹکایا تھا
“آتش پہلے کی بات اور تھی میں نہیں جانتی تھی آپ ہی میرے محرم ہیں مگر ہم اب کبھی دور نہیں ہوں گے۔۔۔”
تعبیر نے گہری سانس لیتے ہوئے آنکھیں بند کی تھیں آتش کے جسم میں ایک سکون کی لہر دوڑی تھی جو کہ اب تعبیر بھی محسوس کر رہی تھی
“اے اللہ پاک ہمیں ایک خوبصورت تحفے سے نوازنا۔۔۔”
دونوں نے یک زبان ہوکر کہا تھا
“پھر چاہے وہ تیری نعمت ہو۔۔۔” تعبیر نے آتش کو دیکھ کر کہا تھا
“یا پھر تیری رحمت۔۔۔” آتش بہم سا مسکرایا تھا
☆★☆★☆★☆
“نہیں پلیززز پلیززز اسے مت مارنا پلیزززز”
وہ بیڈ پر بیٹھی آنکھوں پر ہاتھ رکھے مسلسل بڑبڑائی جارہی تھی جبکہ کھڑکی سے کود کر آنے والے وجود نے اس کی چینخ و پکار سن لی تھی سامنے ایل ای ڈی پر فلم چل رہی تھی جس میں ویلن ہیروئن کو گولی مارنے والا تھا
“یہ کیا سین ہے”
ضوریز کھڑکی سے اندر جو چھلانگ لگا کر چلتا ہوا ائیزل کے قریب آیا جو اس وقت خود کو فلم والی ہیروئن سمجھ رہی تھی پہلے تو ضوریز نے ائیزل کی حالت کا جائزہ لیا پھر سامنے لگے ایل ای ڈی پر چلتی فلم کو دیکھا اور آخری میں اپنا ماتھا پیٹا
“ائیززز۔۔۔”
ضوریز نے اس کی آنکھوں پر سے ہاتھ ہٹانے کی کوشش کی
“ہٹو ہٹو خبیث انسان۔۔۔ میں تمہارا خون پی جاؤں گی۔۔۔”
ائیزل بنا دیکھے بند آنکھیں لئے اس پر کسی بلی کی طرح ہاتھ چلانے لگی جس پر ضوریز نے بامشکل اس کے ہاتھوں کو قابو کیا
“ائیززز۔۔۔ آنکھیں کھولو یہ کیا جنگلی بلیوں کی طرح پنجے مار رہی ہو۔۔۔ شوہر ہوں تمہارا مووی کا ویلن نہیں ہوں۔۔۔ کھولو آنکھیں!!”
ضوریز کے تلملا اٹھنے پر ائیزل نے پہلے اپنی ایک آنکھ پھر دوسری آنکھیں کھول کر اسے چور نظروں سے دیکھا جو اسے ہونق بنا دیکھ رہا تھا
“شوہر؟؟ تم؟؟ تم میرے روم میں کیسے آئے یہ تو لوک تھا نہ؟؟”
ائیزل نے پہلے اس کے مخصوص حلیے کو دیکھا پھر کشمکش میں کہتی ہوئی دروازے کو دیکھنے لگی جو اب بھی بند تھے
“ریلیکس!!! روم اب بھی روک ہے۔۔۔ میں تو ونڈو سے آیا ہوں”
ضوریز اس کے ہاتھوں کو قابو کرتا ہوا بیڈ کراؤن سے ٹیک لگا کر بیٹھ گیا جبکہ ائیزل اسے بے یقینی سے دیکھ رہی تھی
“ونڈو سے؟؟ ونڈو سے کیوں ڈور سے آنے میں کیا مسئلہ تھا؟؟ ونڈو سے بھلا کوئی آتا ہے کیا؟؟”
ائیزل نے بے یقینی سے کہا جس پر وہ اسے دیکھنے لگا
“یہی تو اپنا اسٹائل ہے جو کوئی نہیں کرتا وہ ریز ڈون کرتا ہے!!”
ضوریز نے اپنے مخصوص انداز میں کہتے ہوئے گہری کالی آنکھوں کے پپوٹے گھمائے
“ایک بات بتاؤ۔۔۔ تم واقعی میرے شوہر ہی ہونا؟؟ کسی غنڈے سے کم نہیں لگتے تم”
ائیزل نے ایک انداز میں کہتے ہوئے اسے خود سے دور کرنا چاہا جس پر ضوریز نے اس کی کمر میں ہاتھ ڈال کر اسے ایسا کرنے سے روکا
“شوہر نہیں تو کیا ہوں پھر؟؟ اور ویسے بھی غنڈا کبھی کسی کا شوہر نہیں ہو سکتا کیا؟؟”
ضوریز کی عجیب و غریب باتوں پر ائیزل بے یقینی سے اسے دیکھنے لگی
“ریلیکس ڈارلنگ!!! تمہارا شوہر اچھا والا غنڈا ہے!!”
اسے خود کو اس طرح تکتا پا کر ضوریز نے اسے مزید اپنے قریب کیا جس پر ائیزل کی نظریں جھکیں
“ویسے آج کافی ہاٹ لگ رہی ہو۔۔۔”
ضوریز نے ائیزل کے کان میں سرگوشی کی جس پر وہ اسے گھورنے لگی
“آئی مین بخار وغیرہ تو نہیں ہے کہیں؟؟ دکھاؤ میں چیک کروں”
ضوریز نے جلدی سے بات پلٹ کر اس کی گردن کو چھوا جس پر ائیزل اسے کھا جانے والی نظروں سے دیکھنے لگی
“تم چھچھورے پن سے باز نہیں آؤ گے؟؟ نکلو یہاں سے” ائیزل نے غصے سے کہتے ہوئے اسے خود سے دور دھکیلا جس پر ضوریز نے ایک جھٹکے سے اسے کھینچ کر اپنے اوپر گرایا وہ بچاری اچانک سے اس کے سینے سے جا لگی
“آاہ!!!”
ائیزل نے اپنا ماتھا سہلاتے ہوئے اسے شکوہ کن نظروں سے دیکھا جس پر ضوریز نے اسے آنکھ ماری
“ہٹو دور۔۔۔ سینہ ہے یا ہتھوڑا۔۔۔ اتنی تیز لگ گئی میرے”
ائیزل نے غصے سے کہتے ہوئے اسے خود سے دور کیا اور اٹھ بیٹھی جس پر ضوریز بھی جلدی سے اٹھ بیٹھا
“ائیز۔۔۔ کیا زیادہ لگ گئی؟؟ دکھاؤ۔۔۔”
ضوریز نے نرم لہجے میں کہا وہ اب واقعی اس کی فکر کر رہا تھا جسے دیکھ کر ائیزل نے اسے چھونے سے نہ روکا
“اوہ ہو۔۔۔ یہ تو ریڈ ہوگیا!!”
ضوریز نے فکرمندی سے کہتے ہوئے اس کی پیشانی پر انگلی پھیرتے ہوئے چیک کیا
“کیا واقعی؟؟” ائیزل پریشان ہونے لگی تھی
“ہاں ہاں بلکل تم ہلو مت۔۔۔”
ضوریز نے اسے چپ کروا کر اپنا چہرہ اس کے بے انتہا قریب کیا وہ اس کی قربت پر آنکھیں مینچ گئی مگر دل ہی دل میں خود کو تسلی دینے لگی کہ وہ صرف اس کی پیشانی پر آیا لال نشان دیکھ رہا تھا
مگر مخالف وجود کو تو جیسے موقع مل گیا تھا ضوریز اس کی پیشانی سہلاتے سہلاتے انگلیوں کو اس کے نرم ملائم رخساروں تک لے آیا ائیزل کا دل کانپ رہا تھا جب ضوریز نے ہلکے سے ایک انگلی اس کے نچلے ہونٹ کنارے پھیری تھی وہ اس کے چہرے کے ایک ایک نقش کو اپنے دل میں اتار رہا تھا
“ائیززز۔۔۔ آئی لو یو۔۔۔”
ضوریز نے اس کے کان میں سرگوشی کی مگر وہ بچاری تو آنکھیں مینچے بیٹھی تھی اس میں اتنی ہمت کہاں تھی کہ اسے جواب دے سکے
“ڈو یو لوو میں؟؟”
ایک معصومانہ سوال کر کے جیسے وہ اسے حیران کر گیا تھا ائیزل نے جلدی جلدی ہاں میں سر ہلایا جس پر وہ بہم سا مسکرایا
“وائے آر یو سو ہاٹ؟؟”
ضوریز کے سوال پر وہ آنکھیں پھاڑے اب اسے دیکھ رہی تھی جس پر ضوریز نے بامشکل اپنی ہنسی دبائی
“کین آئی کس یو؟؟”
اب کی بار وہ ائیزل کو غصہ دلا چکا تھا ائیزل نے کشن اٹھا کر اسے نظروں سے وارن کیا ضوریز ایبرو اچکائے اسے دیکھنے لگا
“ہبی کو مارو گی؟؟”
ضوریز نے سخت تاثرات لئے تھوڑے قریب آکر پوچھا
“جی ہاں!!!”
ائیزل نے بھی تھوڑے نزدیک آکر اس ہی کے انداز میں استفسار کیا
“واقعی مارو گی؟؟”
ضوریز نے انتہائی سخت لہجے میں مزید نزدیک آکر پوچھا
“ہاں!!”
ائیزل نے اس سے زیادہ اونچی آواز کی
“کیا تم واقعی مجھے مارو گی؟؟”
اس دفعہ ضوریز نے دونوں ہاتھوں سے اس کے ہاتھ میں پکڑے کشن کو مظبوطی سے دبوچا اب ان کے درمیان تھوڑا ہی فاصلہ تھا ائیزل کے الفاظ اس کے منہ میں ہی دم توڑ چکے تھے کیونکہ وہ اب لب ہلا بھی نہیں سکتی تھی۔۔۔
“مار ہی نہیں سکتیں”
جھٹکا تو اسے تب لگا جب ضوریز نے ایک دم سے کہتے ہوئے اس کے لبوں پر مہر ثبت کر کے کھڑکی کی جانب دوڑ لگائی اور جاتے جاتے فاتحانہ مسکراہٹ اچھال کر اسے دیکھنا نہ بھولا تھا ائیزل نے ہاتھ میں پکڑے کشن سے اس کا نشانہ بنایا جسے وہ کیچ کر کے واپس ائیزل کہ جانب اچھال کر کھڑکی پھلانگ چکا تھا
“لوو یو ڈارلنگ۔۔۔”
ضوریز نے ائیزل کو چڑاتے ہوئے اظہارِ محبت کیا جس پر وہ دانت بیچے اسے گھورنے لگی
“اممممممہ”
ایک فلائنگ کس اچھالتے ہوئے وہ جلتی پر تیل ڈال کر غائب ہو چکا تھا جبکہ وہ اب واپس اپنی پوزیشن پر جا بیٹھی بے ساختہ اس کی انگلی ہونٹ پر گئی جہاں کچھ دیر پہلے وہ دو نمبر آدمی دو نمبری کر گیا تھا نہ چاہتے ہوئے بھی ائیزل کے چہرے پر ایک حسین مسکراہٹ نمایاں ہوئی تھی
جاری ہے۔۔۔
