Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Lams e Junooniyat (Episode 04)

Lams e Junooniyat by Areesha Khan

“یار پلیززز مان جاؤ پلیززز دیکھو تمہاری اسکن بھی کتنی اچھی ہے فیس کٹ بھی اوکے ہے اور پھر تمہاری یہ اسمارٹنیس اوففف”

تعبیر اسے کوئی پچاس بار تو منع کر ہی چکی تھی لیکن بقول تعبیر کے کہ رائمہ بھی ایک ہی تھی رائمہ نے بھی ٹھان لی تھی کہ آج تعبیر کو منا کر رہے گی

“یار رائمہ تم کیوں نہیں سمجھتیں میں وہاں ایز آ ماڈل نہیں جا سکتی، تمہیں پتا ہے نہ جب کوئی میک اپ آرٹسٹ اپنی ماڈل تیار کرتا ہے تو اس ماڈل کے فوٹوشوٹ بھی کیئے جاتے ہیں اور پھر نجانے کہاں کہاں وہ فوٹو شوٹ آؤٹ ہو جائیں گے، میں ایسا کچھ نہیں چاہتی”

تعبیر نے ایک اور بار اسے سمجھایا جس پر رائمہ بیچارگی سے اسے دیکھنے لگی

“یار مگر تم ہی نے تو کہا تھا کہ تمہیں بچپن سے ماڈلنگ کا شوق تھا، اور اب جب تمہیں ایک چھوٹا سا چانس مل رہا ہے تو تم اسے اتنی بری طرح سے ریجیکٹ کر رہی ہو”

رائمہ کا بس نہیں چل رہا تھا وہ عجیب و غریب قسم کے منہ بنا بنا کر پوری ہوجائے

“ہاں کہا تھا لیکن وہ شوق بچپن کا تھا جو اب قسم ہو چکا ہے، مجھ پر بہت ذمہ داریاں ہیں میں یہ سب نہیں کر سکتی، اور پھر بابا جان کو اگر پتا چلا نہ تو وہ کتنے خفا ہوں گے مجھ سے”

تعبیر نے چیئر پر بیٹھی لڑکی کی ایبرو بناتے ہوئے کہا جس پر رائمہ نے منہ بنایا اور اٹھ کر دور جا بیٹھی تب ہی اس کی بہن وہاں آئیں

“ہاں بھئی رائمہ… کہاں ہے تمہاری وہ ماڈل بتاؤ مجھے تاکہ آج شام سے پہلے پہلے تک میں اسے پورا ریڈی کردوں… تمہیں پتا ہے وہ لوگ شام ساتھ بجے ہی آنے والے ہوں گے”

منہاس اپنے بالوں کا جوڑا بناتے ہوئے کہنے لگی جس پر رائمہ نے نظریں جھکائیں

“کیا ہوا رائمہ؟؟ کچھ پوچھ رہی ہوں تم سے میں…”

“آپی جس ماڈل کو میں نے سلیکٹ کیا تھا وہ آپکی لاڈلی تعبیر ہے، جو کہ اس کام کے لئے صاف انکار کر چکی ہے اور پھر اس کے علاوہ میری نظر میں کوئی خوبصورت اسمارٹ سی لڑکی نہیں ہے”

رائمہ تقریبآ رونے والا منہ بناتے ہوئے کہنے لگی جس پر منہاس نے پہلے اپنی ڈرامے باز بہن کو پھر سامنے کھڑی تعبیر کو دیکھا جو انہیں ہی دیکھ رہی تھی

“واؤ پرفیکٹ، تعبیر اس کے لئے بلکل پرفیکٹ ہے، پھر مسئلہ کیا ہے؟؟”

منہاس کے سوال پر تعبیر نے نفی میں سر ہلایا

“منہاس آپی میں یہ نہیں کر سکتی آپ کو پتا ہے نہ ماڈل کی فوٹو شوٹ کی جاتی ہے پتا نہیں کہاں کہاں تک میری تصویریں پہنچ جائیں گی اور بابا جان ان سب کے لیے بلکل بھی رضامند نہیں ہوں گے”

تعبیر نے اپنی پریشانی ظاہر کی جس پر منہاس کچھ سوچنے لگی

“اور اگر میں تمہارے بابا سے بات کروں تو؟؟”

“آا ارے نن نہیں نہیں پلیزز”

تعبیر ایک دم سے گھبرائی

“تعبیر آپی ٹھیک کہہ رہی ہیں انہیں بات کرنے دو کیا پتا اس ہی بہانے تمہاری سچ مچ والی سلیکشن ہوجائے اور سوچو اگر واقعی ایسا ہوگیا تو تمہیں اتنی جابز بھی نہیں کرنی پڑھیں گی بس ایک فوٹو شوٹ میں تم اتنا زیادہ کما لوگی کہ اپنے بابا اور بھائی اور گھر کے اخراجات سمیت اپنی پڑھائی بھی مکمل کر سکتی ہو”

رائمہ اسے سمجھانے لگی مگر اس کا سر اب تک نفی میں ہل رہا تھا جس پر منہاس نے رائمہ کو اشارہ کر کے چپ کرایا جس پر رائمہ خاموش ہوگئی

☆★☆★☆★☆

وہ اس وقت اپنے ڈیڈ سے باتوں میں مصروف تھا جب اس کے مینیجر کی کال آنے لگی

“ٹھیک ہے ڈیڈ میں بعد میں بات کرتا ہوں”

وہ بنا کچھ سنے فون بند کر گیا اور مینیجر کی کال ریسیو کرنے لگا

“میں نے کہا تھا نہ مجھے تب تک کال نہ کرنا جب تک وہ راضی نہیں ہو جاتی… کیا میں نے تمہیں پہلے نہیں بتایا کہ یہ پروجیکٹ مجھے اس ہی کے ساتھ کرنا ہے، کوئی نئی ایکٹریس جو ابھی فریش ہے جس کے آگے تک ہٹ ہونے کے کوئی چانسز نہیں میں اس ایکٹریس کے ساتھ ہرگز پروجیکٹ سائن نہیں کروں گا”

ہر بار کی طرح وہ بنا کچھ سنے سخت لہجے میں کہنے لگا جبکہ دوسری طرف اس کا مینیجر جو بار بار رومال سے ماتھے پر آئے پسینے صاف کر رہا تھا اس کے چپ ہونے کا انتظار کرنے لگا

“آتش سر آپ بے فکر رہیں بہت اچھی خوشخبری ہے، کرن جابر اس پروجیکٹ کو کرنے کے لیے تیار ہوگئی ہیں، انہوں نے سائن بھی کر دیا ہے بس اب آپ کے رسپانس کا انتظار ہے”

مینیجر کی بات پر آتش کے چہرے پر نمایاں سخت تاثرات بلکل ڈھیلے پڑنے لگی ایک فاتحانہ مسکراہٹ اس کے لبوں پر آئی

“کیا سچ میں؟؟ ٹھیک ہے ملتے ہیں پھر ایک ہفتے بعد…”

آتش ابھی کال ڈسکنیکٹ کرتا لیکن مینیجر کی بات پر رکا

“سر جی جب وہ راضی ہو چکی تھیں تو پھر… آپ کس بات کا انتظار کر رہے ہیں؟؟ پلیززز فلم سائن کریں ایڈوانس ریسیو کریں تاکہ جلد سے جلد کام شروع ہو سکے”

اپنے ہاتھ میں پکڑا گلاس جسے ایک جھٹکے سے اس نے زمین پر پھینکا تھا جو ٹوٹ کر کرچی ہوچکا تھا جبکہ مینیجر آواز سن چکا تھا

“تمہاری جرت کیسے ہوئی آتش دورانی سے اس طرح کی بات کرنے کی؟؟ کیا تمہیں نہیں پتا سامنے کون ہے؟؟”

ایک لمحے کے اندر اس کے مسکراتے لب بیچ گئے تھے اس کی پرکشش نیلی آنکھوں میں خون اترنے لگا تھا یوں معلوم ہورہا تھا جیسے اس کی شان میں کوئی گستاخی ہوگئی ہو

“سس سر جی…وہ”

“جسٹ شٹ اپ ایڈیٹ… تم نے یہ سوچ بھی کیسے لیا کہ آتش دورانی کی مرضی کے بنا یہ پروجیکٹ آگے بڑھے گا؟؟ جب تک میں نہ چاہوں کوئی کچھ نہیں کر سکتا… آج کے بعد اگر کوئی بھی بات میرے سامنے بنا سوچے سمجھی کی… تو بہت برا ہوا… اینڈ اب تو میں ایک منتھ بعد یہ پروجیکٹ سائن کروں گا کرلو جو کرنا ہے… مائے فٹ…اسٹوپٹ”

وہ غصے سے سے کہتا ہوا کال ڈسکنیکٹ کر گیا جبکہ اب مینجر پچھتا رہا تھا کہ آخر اس نے آتش کے سامنے اپنی زبان کو لگام کیوں نہیں دیا اب اسے اس پروڈکشن کے لئے پورے ایک مہینے انتظار کرنا پڑے گا کیونکہ وہ آتش دورانی تھا وہ جو کہتا تھا جو ڈھان لیتا تھا وہی کرتا تھا

☆★☆★☆★☆

آج اس کا یونی میں فرسٹ ڈے تھا وہ اپنا فرسٹ لیکچر اٹینڈ کرچکا تھا اب وہ کینٹین میں بیٹھا برگر سے انصاف کر رہا تھا ساتھ ساتھ کتاب بھی پڑھ کر رہا تھا مگر تب ہی وہ وہاں آئی

“ہیلو…”

وہ اس کے سامنے ہاتھ بڑھائے کھڑی تھی جبکہ وہ ناسمجھی سے اسے دیکھتا ہوا کرسی سے اٹھ گیا

“آپ…؟؟”

وہ اب تک ہاتھ بڑھائے کھڑی تھی جب شاویز نے اپنا ہاتھ بڑھا کر ہینڈ شیک کیا

“ویلکم ٹو یونی…مائے سیلف حریم شاہ…”

وہ مسکراتے ہوئے کہنے لگی جبکہ شاویز تو اسے پہلی نظر میں پہچان چکا تھا وہ وہی لڑکی تھی جس نے اسے پانی کی بوتل دی تھی

“تھینکس… آئی ایم شاویز علی”

شاویز نے بھی اسے مسکراتے ہوئے جواب دیا جس پر حریم کی مسکراہٹ مزید گہری ہوئی

“کیا میں یہاں بیٹھ سکتی ہوں؟؟”

حریم کی میٹھی سی آواز پر وہ اثبات میں سر ہلانے لگا اور پھر دونوں آمنے سامنے بیٹھ گئے

“تو کیسا رہا آپ کا فرسٹ ڈے؟؟”

حریم نے مغور اس کا جائزہ لیتے ہوئے کہا بلیو پینٹ ریڈ ٹی شرٹ ترتیب سے بنائے گئے بال پرکشش ہلکی براؤن آنکھیں شاداب چہرہ جس پر ہلکی سی بریڈ وہ کوئی معصوم سیدھا سادہ سا مگر ہینڈسم نوجوان ہی لگ رہا تھا

“جی بہت اچھا…”

شاویز نے اسے سرتا پیر دیکھا بلیک ٹائیٹس چیک والی لانگ شرٹ کھلے بال ہاتھوں میں بریسلٹ چہرے پر ہلکا سا میکپ وہ بہت پریٹی لگ رہی تھی

“اوہ اچھا… ویسے آپ نے کس سبجیکٹ میں ایڈمیشن لیا ہے؟؟”

“میں ایف ایس سی کا اسٹوڈینٹ… فرسٹ سمسٹر اسٹارٹ الحمدللہ”

شاویز کے نرم لہجے میں کہے گئے الفاظوں پر حریم نے جواباً مسکرایا

“آا آپ کچھ آرڈر نہیں کریں گی؟؟”

“نہیں میں ڈائٹ پر ہوں”

شاویز کے سوال پر حریم نے اپنے چہرے پر آتے بالوں کو ہٹاتے ہوئے کہا

“اوہ اچھا…صحیح…”

شاویز نے اثبات میں سر ہلاتے ہوئے اپنی بک پڑھنے میں مصروف ہوگیا

حریم اب سامنے بیٹھی اپنا سیل فون یوز کر رہی تھی جب شاویز کا موبائل بجنے لگا شاویز نے جیب سے موبائل نکال کر کال اٹینڈ کی کیونکہ حریم اس ہی کی طرف متوجہ تھی تبھی وہ ایکسکیوز کرتا ہوا اپنا بیگ اٹھا کر وہاں سے چلا گیا جبکہ حریم بھی اپنی کلاس میں چلی گئی

☆★☆★☆★☆

“یار نیکسٹ ویک ہمارے ایگزیمس ہیں ڈو یو نو گائیزز؟؟”

وہ آج پھر سے بنک مارنے کے چکر میں تھی جب ایک لڑکے نے اس کے سر پر بم پھوڑا وہ جو بیگ اٹھا کر کلاس کی کھڑکی سے گودنے کی تیاری میں تھی وہ وہیں کی وہیں کھڑی اب سب کی شکلیں دیکھ رہی تھی

“کک کیا کہا تم نے؟؟ ایگزیم؟؟ ایسا کیسے ہو سکتا ہے ابھی کچھ مہینے پہلے تو ہوئے ہیں”

وہ بے یقینی کی کیفیت میں کہتی ہوئی اس وقت سب کو باؤلی معلوم ہورہی تھی

“آئیزل کس دنیا میں جی رہی ہو یار؟؟ کیا تمہیں نہیں پتا ہم یونج میں ہیں، کالج میں نہیں، اس بات کو پانچ مہینے گزر چکے ہیں اب اگلے سمسٹر کی پریپریشن اسٹارٹ ہونے لگی ہے”

ائیزل کو لگا اس کا دماغ گھومنے لگا ہو جیسے وہ واپس اپنی چیئر پر آ بیٹھی

“اب کیا ہوگا؟؟ میں نے تو ایک لفظ بھی نہیں پڑھا “

وہ دونوں ہاتھوں سے سر پکڑے پریشانی سے کہنے لگی

“ہونا کیا ہے؟؟ ایک ویک باقی ہے تیاری کرنی پڑے گی”

اس کی کلاس فیلو نے پھر سے کہا

“کیوں بھئی کیوں کرنی پڑے گی تیاری؟؟ ہم کسی طرح سے پیپرز لیک کروائیں گے”

اس بار سب کا قہقہہ نکلا تھا اس کی بچکانہ بات پر جس پر وہ غصے سے سب کو دیکھنے لگی

“امپاسبل یار اب ایسا ممکن نہیں”

لڑکے نے اپنے موبائل پر نظریں جمائے کہا تھا جبکہ ائیزل نے سوچ لیا تھا وہ کچھ بھی کرے گی لیکن کبھی بھی ایگزیمس کی تیاری نہیں کرے گی

☆★☆★☆★☆

شام کا وقت تھا جب وہ پالر سے تھک ہار کر گھر آئی تھی اور سب کے لئے کھانا نکال رہی تھی جب شاویز اپنے بابا کو ویل چیئر سے کرسی پر بٹھانے لگا تعبیر بھی ٹیبل پر کھانا رکھ کر خود کرسی پر بیٹھی

ویسے تو یہ کوئی ڈائننگ ٹیبل نہ تھا لیکن چار پلاسٹک کی کرسیوں کو ایک ٹیبل کے آس پاس لگا کر شاویز نے اسے ڈائننگ ٹیبل کا نام دیا ہوا تھا

“شیزی کیسا رہا یونی کا پہلا دن؟؟”

تعبیر نے لقمہ لیتے ہوئے کہا

“اوففف آپی نہ پوچھیں بہت مزہ آیا اور آپ کو پتا ہے جب میں وہاں سب اسٹوڈینٹس کے ساتھ بیٹھ کر لیکچر سن رہا تھا سچ میں ایسا فیل ہورہا تھا جیسے مجھ سے زیادہ پڑھا لکھا انسان اور کوئی بھی نہیں”

شاویز جس ایکسائٹ منٹ سے بتا رہا تھا تعبیر مسکرانے پر مجبور ہوگئی تھی جبکہ اس بار افتخار صاحب بھی ہنسنے لگے تھے

“اچھا گڈ تم تو بہت جلدی ایڈجسٹ ہوگئے چلو یہ تو بہت اچھی بات ہے”

تعبیر نے دوسرا لقمہ بناتے ہوئے کہا جبکہ افتخار صاحب اب تک تعبیر کو دیکھ رہے تھے

“بابا جان کچھ چاہئے آپ کو؟؟”

تعبیر نے جب انہیں اپنی طرف متوجہ پایا تو مخاطب ہوئی

“ایک ضروری بات کرنی ہے، کھانے کے بعد کریں گے”

تعبیر کو تجسس میں ڈال کر وہ کھانے میں مصروف ہوگئے جبکہ تعبیر اور شاویز ایک دوسرے کو دیکھ رہے تھے

☆★☆★☆★☆

“پڑھائی پڑھائی پڑھائی عجیب دماغ خراب کر رکھا ہے ان ظالموں نے، ڈیڈ کو بھی پتا نہیں کس نے مشورہ دیا تھا کہ مجھے پڑھائیں، مجھے کونسا کچھ بن جانا ہے”

وہ آج پھر سے یونی کی دیوار سے کود رہی تھی وہ تقریباً دیوار پر چڑھ تو گئی ہی تھی لیکن خود کلامی کرتے ہوئے اس نے بنا دیکھے دوسری طرف چھلانگ لگائی

“آااہ…”

وہ سیدھا اس کی گود میں آ گری جو یونی کی دیوار سے پشت لگائے پیر پھیلائے بیٹھا سگریٹ نوشی کرنے میں مصروف تھا اچانک سے اپنی گود بھاری دیکھ کر چونکا جبکہ ائیزل جو اب تک اس کی گود میں الٹے منہ گری پڑی تھی اس شخص کو دیکھ کر ہکا بکا رہ گئی جبکہ وہ اسے آنکھیں چھوٹی کرتے ہوئے گھور رہا تھا

“تت تم یہاں؟؟”

وہ جو اس کی گود میں اوندھے منہ پڑی ہوئی تھی اسے دیکھ کے اچانک اٹھ بیٹھی جبکہ جو ائیزل کے اچانک والے دھکے سے اپنا سگریٹ زمین بوس ہوتا دیکھ رہا تھا اب اسے گھورنے لگا جبکہ وہ اب تک اس کی گود میں ہی تھی

“تمہارا پرابلم کیا ہے؟؟ سکون سے نہیں رہ سکتیں تم ایک جگہ؟؟”

وہ اپنی گہری کالی آنکھوں کو اس کی ہلکی براؤن آنکھوں میں گاڑتے ہوئے دھاڑا جس پر وہ آنکھیں نکال کر اسے گھورنے لگا وہ جس تلب سے سامنے گری سگریٹ کو دیکھ رہا تھا وہ سمجھ چکی تھی یہ پھر سے اس سے حساب مانگے گا

“تمہارے ساتھ کیا پرابلم ہے ہاں؟؟ یونیورسٹی کی دیوار کے ساتھ لگے بیٹھ کر کون سگریٹ پھونکتا ہے؟؟ برے کام خود کرتے ہیں کہتے ہمیں ہیں”

وہ اس ہی کی گود میں بیٹھی اسے ہی آنکھیں دیکھا رہی تھی ضوریز نے ہاتھ باندھ کر اسے گھورا

“اوہ اچھا اور تم جو روز یونی سے بنک مارتی ہو اس میں کتنے نفلوں کا ثواب ملتا ہے تمہیں زرا بتانا مجھے”

ضوریز نے اس ہی کے انداز میں کہا جس پر ائیزل نے نظروں کا رخ بدلہ

“جو بھی کم از کم تمہاری طرح تو ایسی حرکت نہیں کرتی میں”

وہ اسے پھر سے آنکھیں دکھانے لگی جبکہ اس بار ضوریز اسے الگ نظروں سے دیکھنے لگا بہت غور سے جیسے اس نے کچھ نوٹ کیا ہو

“کیا ہوا؟؟ ایسے کیوں گھور رہے ہو؟؟ آنکھیں نیچے کرو”

وہ اسے انگلی دکھاتے ہوئے کہنے لگی مگر وہ اب تک اسے دیکھ رہا تھا اس بار ائیزل کو کچھ عجیب سا محسوس ہونے لگا ایک تو اتنی ہمت کر کے وہ اسے بھرم دکھا رہی تھی مگر سامنے بیٹھا شخص اپنی نگاہوں سے اسے نظریں جھکانے پر مجبور کر رہا تھا

“تم مجھے ایسے کیوں دیکھ…”

ابھی وہ مزید کچھ کہتی جب ضوریز نے اسے کمرے سے پکڑ کر اپنی طرف کھینچا جس سے ان کا چہرہ تقریباً ٹکرایا ہی تھا وہ اس کی گھنی زلفوں تلے چھپ سا گیا تھا ان کی نظریں ٹکرائیں تھی ضوریز کی گرم جھلستی سانسیں اس کے صاف شفاف چاند جیسے چہرے کو مزید جھلسا رہی تھیں

“اگر کوئی لڑکی اس طرح سے کسی کی باہوں میں بیٹھی آنکھیں لڑا رہی ہو تو کوئی پاگل ہی ہوگا جو اسے دیکھنے سے گریز کرے گا”

ضوریز کا لہجہ شدت کی آخری حد کو چھو رہا تھا جبکہ ائیزل اب تک اسے ہی دیکھ رہی تھی اگر اس کا حلیہ کچھ ڈھنگ کا ہوتا تو شاید وہ کوئی ہیرو ہی معلوم ہوتا

ائیزل کو خود میں کھویا ہوا دیکھ کر ضوریز کے لب مسکرائے تھے اور اس ہی لمحے آئیزل کی نگاہ اس کے ہلکے سیاہ لبو پر گئی تھی وہ اس کی مسکراہٹ میں اتنی کھو گئی تھی کہ اسے دنیا جہاں کی کوئی پرواہ ہی نہ تھی سے تو یہ بھی پروا نہیں تھی کہ وہ اب تک اس غیر شخص کی باہوں میں تھی

“اوہ میڈم… لگتا ہے تمہیں میری باہوں میں رہنا کچھ زیادہ ہی پسند ہے…”

وہ اس کے کان کے قریب سرگوشی کرنے لگا جبکہ اس کے تپتے لبوں نے آئیزل کے کان کی لو کو چھوا تھا جس سے ائیزل تھوری سہمی تھی مگر اس کے الفاظوں پر ہوش میں آئی اور کے چوڑے سینے پر ہاتھ مار کر دور ہونے لگی

“ویسے…اگر چاہوں تو رہ سکتی ہو مجھے کوئی عتراض نہیں ہے…مس…”

ضوریز نے اسے جتانے والے انداز سے کہا جبکہ ائیزل دانت بیچتے ہوئے اس کی گود سے اٹھ کھڑی ہوئی اور ساتھ ہی ضوریز بھی اپنے انتہا کے فقیر حلیے کو سنوارتے ہوئے اٹھا

“میڈم حساب؟؟”

وہ پہلے ہی اسے اپنے آخری الفاظ پر تپا چکا تھا اب مزید وہ اس کی شکل دیکھنے کی برداشت نہیں رکھتی تھی ائیزل نے خون خوار نظروں سے اسے گھورا اور اپنی جیب سے گولڈ لیف کا پیک نکال کر اس کی طرف اچھالا جسے وہ تھام گیا

ائیزل بنا کچھ کہے اپنی گاڑی کی طرف بڑھنے لگی جب اس کی آواز پر اس کے قدم رکے

“میڈم یہ تو فل ہے… جبکہ کچھ دیر پہلے گزرے ہوئے واقعے کے مطابق آپ نے میرا ایک سگریٹ ضائع کیا ہے…تو میں اس میں سے ایک ہی سگریٹ لوں گا”

وہ نجانے کیوں اس کے سامنے اتنا انصاف پسند بنتا تھا مگر اس بار ائیزل نے بھی قسم کھا لی تھی کہ وہ پیچھے پلٹ کر دیکھے گی بھی نہیں

“آئی تھنک آپ نے سنا نہیں… میں نے کچھ کہا ہے”

وہ اس کے بڑھتے قدموں کو دیکھتا ہوا اس کے پیچھے آیا مگر وہ تیزی سے گاڑی میں بیٹھ کر گاڑی اسٹارٹ کر گئی جبکہ وہ اس کے شیشے کی طرف آیا

“اتنی مہربانی کا کیا مطلب سمجھوں؟؟”

ضوریز نے سوالیہ نظروں سے اسے دیکھا جس کے چہرے پر اب سخت تاثرات تھے

“احسان سمجھو احسان…بس آج کے بعد اپنی شکل نہ دکھانا بہت مہربانی ہوگی”

وہ سخت لہجے میں کہتی ہوئی گاڑی اسٹارٹ کر کے وہاں سے چلی گئی جبکہ وہ سر کھجاتا اسے جاتے دیکھتا رہ گیا

“احسان؟؟ اور ضوریز؟؟ نو وے ضوریز دورانی صرف احسان کرنا جانتا ہے لینا نہیں…”

وہ اس کے دیئے ہوئے سگریٹ کی ڈبی کو دیکھنے لگا

“حساب تو برابر کرنا ہی پڑے گا چاہے کیسے بھی کروں”

اس نے ڈبی سے ایک سگریٹ نکال کر لبوں میں دبائی اور جیب سے لائٹر نکال کر سگریٹ سلگایا

“ہمم تو میڈم دوبارا میری شکل دیکھنا نہیں چاہتیں…لیکن…ملنا تو پڑے گا… احسان جھکانے کے لئے ہی صحیح”

وہ یک طرفہ مسکراہٹ لئے واپس اپنی جگہ پر آ بیٹھا تھا

☆★☆★☆★☆

“بابا یہ آپ کیا کہہ رہے ہیں؟؟ ایسا ممکن نہیں میں کیسے وہاں…”

وہ تقریبا پندرہ منٹ سے انکار کئے جارہی تھی لیکن افتخار صاحب اب تک اپنی بات پر اڑے ہوئے تھے جبکہ شاویز ہاتھ میں بک لئے ان دونوں کی گفتگو سن رہا تھا

“تعبیر بس… تم کل جارہی ہو میں نے منہاس بیٹی سے بات کرلی ہے اور مجھے کوئی عتراض نہیں کیونکہ مجھے اپنی لاڈلی پر پورا بھروسہ ہے اور پھر تمہاری بھی تو بچپن سے خواہش تھی نہ کہ تم ماڈلنگ کرو تو اب کیا مسئلہ ہے؟؟”

افتخار صاحب کی بات پر تعبیر نے نظریں جھکائیں واقعی اسے ماڈلنگ کا بہت شوق تھا لیکن اب جب اس کے پاس موقع خود چل کر آیا تھا تو وہ پیچھے ہٹ رہی تھی

“بابا جان اس وقت مجھ میں اتنی سمجھ نہیں تھی لیکن آپ کو پتا ہے نہ اگر میں اس فیلڈ میں چلی گئی تو رشتے دار کتنا کچھ کہیں گے ہمیں اور پھر میں نہیں چاہتی کے میری وجہ سے میرے بابا کا نام خراب ہو، میری خواہش سے زیادہ مجھے میرے بابا عزیز ہیں”

تعبیر نے افتخار صاحب کے شانے پر سر ٹکائے کہا جبکہ شاویز اب تک منہ بنائے دونوں کو دیکھ رہا تھا

“تعبیر تم بہت چھوٹی تھیں جب سے تم نے گھر کی ذمہ دار اٹھائی ہوئی ہے شاید یہ ہر کسی کے بس کی بات نہیں، جب تم سب کے لئے اتنا سوچ رہی ہو تو تمہارا بھی حق بنتا ہے اپنے خواب پورے کرنے کا، اور کیا پتا آگے جاگے تمہارے پاس اتنا سب کچھ کو کہ تم اپنی پڑھائی بھی مکمل کرلو ، اور میرا بچہ تم کیوں پریشان ہورہی ہو؟؟ کوئی کچھ کہےگا تو تمہارے بابا ہیں نا… وہ سنبھال لیں گے”

افتخار صاحب نے اسے پیار سے سمجھاتے ہوئے کہا وہ ہمیشہ سے ایسی تھے ان کا سارا غصہ صرف شاویز سے شروع ہوکر شاویز ہی پر ختم ہوتا تھا جہاں بات تعبیر کی آتی تھی تو وہ پگھل جاتے تھے

اور پھر انہوں نے اتنا بڑا فیصلہ ایسی تھوڑی کیا تھا بہت سوچ سمجھ کر کیا تھا انہیں ڈر تھا کہیں ان کے گزر جانے کے بعد وہ لوگ تعبیر کو اپنے ساتھ نہ لے جائیں اس کی زندگی مشکل نہ ہو جائے اس لئے وہ تعبیر کو اس کے پیروں پر کھڑا دیکھنا چاہتے تھے تاکہ وہ آگے کے فیصلے خود اپنی مرضی سے کر سکے اور ہر مشکل کا ڈٹ کر مقابلہ کر سکے

“بابا مگر…”

“مگر وگر کچھ نہیں میں اب کچھ نہیں سنوں گا مجھے نہیں پتا میری زندگی کتنی ہے، میرے مر جانے کے بعد کوئی نہیں آئے گا تم دونوں کو سہارا دینے کے لئے البتہ اس مکان کو ہڑپنے کے لیے سب آجائیں گے اس لئے تم اپنے پیروں پر کھڑی ہوجاؤ کچھ بن جاؤ تاکہ تمہارے پاس ہر طرح کی پاؤر ہو”

افتخار صاحب کی بات پر تعبیر خاموش ہوگئی جبکہ شاویز اب تک چہرے کے عجیب و غریب زاوئیے بنائے انہیں گھور رہا تھا

“تم آج رات سلائی کر کے سارے جوڑے ان کے حوالے کرلو اور مزید کوئی جوڑا سینے کے لیے حامی نہ بھرنا… کل دوپہر تم پالر جاوگی وہاں منہاس تمہارا انتظار کر رہی ہوگی”

“جی بابا جیسے آپ کہیں”

“میری لاڈلی بیٹی”

افتخار صاحب نے پیار سے اس کا ماتھا چوما اور اپنے سینے سے لگایا جبکہ اب شاویز کی برداشت سے باہر ہو چکا تھا

“اوففف بس بھی کردیں آپ دونوں، مجھے تو کوئی پوچھتا ہی نہیں، یہاں اگر کوئی بڑی شخصیت ہے تو وہ ہیں ریٹائر سرکاری ملازم افتخار علی صاحب اور ان کی گریجویٹڈ لاڈلی بیٹی تعبیر علی، بس باقی تو میں بچارا پتا نہیں کدھر سے آیا ہوا غریب آدمی ہوں کوئی پوچھتا ہی نہیں”

شاویز کے بچکانہ انداز پر تعبیر اور افتخار صاحب ہنسنے لگے جبکہ شاویز نے مزید منہ بنایا

“تم کہیں سے نہیں آئے تم بھی اس ریٹائر سرکاری ملازم کی ہی اولاد ہو ادھر آؤ میرے پاس”

شاویز کی آنکھوں میں ایک چمک سی آئی کیونکہ آج کافی وقت بعد اس کے بابا اسے پیار سے بلا رہے تھے وہ کتاب چارپائی پر رکھتا ہوا بیڈ پر آیا جبکہ افتخار صاحب نے اسے بھی گلے سے لگایا

“ہائے کتنا مزا آرہا ہے آج پہلی بار عزت مل رہی ہے”

شاویز کی بات پر تعبیر نے ہنسی دبائی جبکہ افتخار صاحب نے اسے دور کیا

“نکل یہاں سے… آیا بڑا عزت دار کہیں گا… باؤلا لڑکا”

یہ ان کا پیار تھا جس پر شاویز نے جلدی سے ان کے میٹھے غصے پر ان کے ماتھے پر بوسہ دیا اور اپنی کتابیں اٹھائے باہر کو بھاگ گیا

☆★☆★☆★☆

وہ اس وقت اپنے مینشن میں موجود بڑے سے ہال میں بیٹھا ہوا تھا اس کا موبائل مسلسل بجا جارہا تھا لیکن وہ بے تاثر چہرہ لئے آنکھیں بند کیے بیٹھا تھا جبکہ حسبِ عادت سگریٹ اس کے ہاتھ میں تھا نجانے کتنے مشہور ڈائرکٹرز اور پروڈیوسرز کی دن بھر کال آتی رہتی تھیں مگر وہ اپنی موڈ پر چلنے والا انتہا کا موڈی انسان تھا

وہ ہمیشہ سے ہی ایسا تھا لیکن مزید شہرت حاصل ہونے کے بعد وہ انتہا کا گھمنڈی انسان بن چکا تھا اس کے پاس دولت کی کوئی کمی نہیں تھی جائداد میں سب کے بنسبت اس کا حصہ زیادہ تھا کیونکہ وہ اس کے باپ کی محنت تھی ساتھ ہی وہ خود بھی پڑھائی مکمل کرنے کے بعد ڈیڈ کا آفس جوائن کر چکا تھا اور ایک ہی سال میں اس نے اپنی کمپنی کو اتنی ترقی دلائی تھی کہ ہر ایک کی زبان پر بس وجاہت دورانی کے بیٹے آتش دورانی کا نام ہوتا تھا

مگر ایک دن اس کے حسن و اندازِ شخصیت کو دیکھ کر پروڈیوسر نے نئی پروڈکشن کے لئے اسے سلیکٹ کیا تھا مگر آتش کو اس بات کی کوئی خاص خوشی نہیں ہوئی تھی کیونکہ وہ اپنی شخصیت اور کردار سے واقف تھا

کبھی نہ کبھی تو کسی نہ کسی فیلڈ میں اسے آنا ہی تھا جبکہ وہ کرتا کچھ نہیں تھا لیکن اس کے حسن کردار اور رعب دار شخصیت کو دیکھ کر گولڈن چانس خود اس کے قدموں میں آتے تھے تب سے اب تک وہ ہٹ چل رہا تھا اسے کسی بھی چیز کی کمی نہیں تھی

اربوں کی تعداد میں اس کے فینز بن چکے تھے جو اس کے حسن و شخصیت کے دیوانے ہو چکے تھے نجانے کتنے چینل والوں نے اسے اپنے شوو میں بلایا تھا جہاں اس کی شخصیت اور حسن کے کافی چرچے بھی ہوئے تھے ساتھ ہی بہت سے فینز بامشکل اس کا آٹوگراف لینے میں کامیاب ہوتے تھے جو خود کو اس دنیا کا سب سے زیادہ خوشنصیب انسان سمجھتے تھے

“سر جی باہر آپ سے کوئی ملنے آیا ہے…”

“کون؟؟”

“سر جی کوئی کامی شاہ ہے”

ملازم کی بات پر اس کے لبوں پر ایک فاتحانہ مسکراہٹ آئی اس نے آنکھیں کھول کر ایک مغرور نگاہ ملازم پر ڈالی تو وہ سر جھکا گیا

“اسے کہو آتش دورانی مصروف ہے پھر کبھی آنا”

وہ لاپرواہی سے کہتا ہوا سامنے لگے ایش ٹرے سے سگریٹ بجھا گیا

“جی میں نے یہی کہا تھا لیکن وہ جانے کو تیار ہی نہیں ہیں اب تک دروازے پر کھڑے آپ سے ملنے کی راہ دیکھ رہے ہیں وہ پہلے بھی کافی بار آچکے تھے جب آپ شوٹ پر تھے”

ملازم نے جیسے جیسے باہر کا حال بیان کیا ویسے ویسے ایک سکون آتش کے دل میں اترا تھا

“ٹھیک ہے اسے کہو انتظار کرے…آدھے گھنٹے بعد اسے ڈرائنگ روم میں بٹھا دینا”

سخت لہجے میں کہتا ہوا وہ ملازم کو کانپنے پر مجبور کر گیا ملازم حکم کی تعمیل کرتے ہوئے وہاں سے چلا گیا جبکہ آتش کے لب اب بھی مسکرا رہے تھے

“کامی شاہ……فائنلی تمہیں اپنے پروجیکٹ کے لئے میری ضرورت درکار ہے……مجھے پتا تھا ایک دن تک گٹھنے ضرورت ٹیکوگے اور دیکھو، وہ دن آج آ ہی گیا… جب تم بے بس لاچار جیسے میرے در پر آ کھڑے ہو”

ایک زور دار قہقہہ پورے ہال میں سنائی دیا تھا جبکہ اب وہ دوسری سگریٹ جلا رہا تھا

جاری ہے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *