Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Lams e Junooniyat (Episode 39)

Lams e Junooniyat by Areesha Khan

“ناظرین آپ کو تازہ ترین خبر سے آگاہ کیا جاتا ہے کہ ردا ریاض کا جھوٹ پکڑا گیا۔۔۔ جی ہاں ناظرین جیسا کہ ہم آپ کو بتاتے چلیں گزشتہ دنوں پہلے اداکارہ ردا ریاض نے مشہور اداکار آتش درانی پر زیادتی کا الزام لگایا تھا وہ اب جھوٹ ثابت ہوا۔۔”

وہ ٹانگ پر ٹانگ رکھے بیٹھا موبائل پر مصروف تھا جب سامنے لگے ایل ای ڈی پر ردا ریاض کی تصویر دکھائی جانے لگی آتش درانی کے کانوں میں پڑتی خبر اس کے لبوں پر یک طرفہ مسکراہٹ لے آئی وہ اپنی مخصوص مغرورانہ مسکراہٹ لئے اب ایل ای ڈی کو تک رہا تھا

“ان کی وائس ریکارڈنگ لیک ہو چکی ہے جس میں انہوں نے اس بات کا اطراف کیا ہے کہ گزشتہ دنوں پہلے انہوں نے جو الزام آتش درانی پر لگایا تھا وہ جھوٹ ہے۔۔۔ جی ہاں ناظرین آپ کو تازہ ترین خبر سے آگاہ کرتے چلیں اداکارہ ردا ریاض کا اصلی چہرہ سب کے سامنے آگیا جس کے بعد ان کے اپنے فینز ان کے مخالفین بن گئے۔۔۔”

آتش درانی نے ایک گہری سانس لی اور برابر رکھے شراب کے گلاس کو تکنے لگا باضل کے چھوڑے ہوئے جاسوس نے نہ صرف ردا ریاض کی وائس ریکارڈ کی بلکہ اسے ایسے ایڈٹ بھی کیا تھا جس سے ردا کے علاؤہ اور کوئی آواز سنائی نہ دے رہی تھی

کیونکہ آتش نے اسے کہیں بھی تعبیر کا نام لانے منع کیا تھا وہ نہیں چاہتا تھا تعبیر کا نام کسی طرح سے بھی منظرِ عام پر آئے ورنہ باضل کے پاس اس بات کا ٹھوس ثبوت تھا کہ ردا اور حاشر مل کر ایک معصوم لڑکی کا سودا کر چکے تھے اگر یہ بات میڈیا پر آ جاتی تو نہ صرف حاشر اور ردا پر سب تھو تھو کرتے بلکہ ان کا بنا بنایا گیا نام بآسانی مٹی میں مل چکا ہوتا

مگر آتش نہیں چاہتا تھا کہ تعبیر کی عزت پر کسی بھی طرح سے حرف آئے اس لئے اس کے حکم پر باضل نے ابھی صرف ردا کا جھوٹ سامنے لانے کی کوشش کی جس میں اب وہ کامیاب بھی ہو چکا تھا آتش اب سکون میں تھا شاید تعبیر اب اس پر بھروسہ کرنے لگ جائے

“کیا وہ اٹھ گئی ہے؟؟”

“جی صاحب جی۔۔۔”

آتش کے پوچھنے پر ملازم نے سر جھکا کر جواب دیا

دوپہر کا وقت تھا تعبیر کبھی بھی اتنا نہ سوتی تھی یہ تو وہ بھی جانتا تھا کہ وہ اس کے سامنے آنے سے اب بھی کترا رہی ہے مگر وہ اب مزید تاخیر نہیں کرنا چاہتا تھا وہ اثبات میں سر ہلاتے ہوئے اٹھ کر باہر آیا

مگر وہ اب تک اپنے کمرے میں موجود تھی آتش نے باہر سے ہی دروازہ نوک کیا جس پر اس نے بڑی آہستگی سے آجانے کا کہا جب وہ اندر آیا تو وہ اپنے بیڈ پر چادر اوڑھے بیڈ کراؤن سے ٹیک لگائے بیٹھی ہوئی تھی

“اب کیسی طبیعت ہے تمہاری؟؟ کیسا فیل کر رہی ہو تم؟؟”

وہ جو نوک کرنے پر ملازمہ سمجھ رہی تھی اب آتش کو اندر آتا دیکھ کر اٹھ بیٹھی وہ ایک نظر سامنے لگے ایل ای ڈی پر چلتی نیوز پر ڈال کر بیڈ پر تعبیر کے سامنے آ بیٹھا تعبیر نے جلدی سے ایل ای ڈی بند کیا

“جی اللّٰہ پاک کا شکر ہے اب کافی بہتر ہے”

تعبیر نے نظریں جھکا کر جواب دیا وہ تو اس سے نظریں ملانے سے بھی کترا رہی تھی آتش اس کا ری ایکٹ نوٹ کر چکا تھا

تعبیر نے اپنا دوپٹہ ٹھیک کیا تبھی آتش کی نظر اس کے گلے میں موجود لاکٹ پر گئی جو اس کے نام کا تھا آتش کے دل میں اندر تک ایک سکون کی لہر دوڑی کہ اتنا کچھ ہوجانے کے بعد بھی وہ اسے اپنے گلے سے اتار نہ پائی تھی

“تم نے بریک فاسٹ کیا؟؟”

آتش نے سنجیدگی سے نرم لہجے میں سوال کیا

“جی ابھی کچھ دیر پہلے کیا ہے۔۔۔”

وہ نظریں جھکائے جواب دینے لگی

“تو روم سے باہر کیوں نہیں آرہیں؟؟ میرا مطلب ہے کہ اگر تمہیں طبیعت میں کچھ عجیب محسوس ہورہا ہے تو کیا میں ڈاکٹر کو بلاؤں؟؟”

وہ بغور اسے دیکھتے ہوئے پوچھنے لگا جس پر وہ یک دم اسے دیکھنے لگی

“نن نہیں۔۔۔ میں بلکل ٹھیک ہوں میڈیسن لے رہی ہوں انشاللہ کچھ ہی ٹائم میں ٹھیک ہو جاؤں گی۔۔۔”

وہ دھیمے لہجے میں کہنے لگی آتش نے اس کے چہرے کو بھرپور انداز میں دیکھنا چاہا جہاں حیا کے رنگ نمایاں تھے

“تعبیر۔۔۔ کیا کوئی پریشانی ہے؟؟ تم کن سوچوں میں الجھی ہوئی ہو؟؟”

نجانے وہ کیا سننا چاہ رہا تھا تعبیر نے ایک نظر اسے دیکھ کر پھر سے نظریں جھکالیں

“نہیں ایسی تو۔۔۔ کوئی بات نہیں۔۔۔”

“ہمم پھر اتنی چپ چپ کیوں ہو؟؟”

وہ بھی آتش تھا نجانے وہ کیا اغلوانا چاہ رہا تھا تعبیر کے چہرے پر گھبراہٹ نمایاں تھی

“میں نے نیوز دیکھی تھی۔۔۔”

ابھی وہ آگے کچھ کہتا جب تعبیر نے کہنا شروع کیا شاید وہ اس کے ارادے پھانپ چکی تھی

“ردا نے جو کچھ کیا وہ سب جان کر کیا تھا۔۔۔ مجھے معاف کردیں میں آپ کو بہت غلط سمجھ بیٹھی تھی۔۔۔”

وہ شرمندہ سی نظریں جھکائے کہنے لگی جس پر آتش اسے دیکھنے لگا

“کوئی بات نہیں۔۔۔ اس وقت حالات ہی کچھ ایسے تھے تمہارا مجھے غلط سمجھنا جائز تھا لیکن اب تو سچ سامنے آ چکا ہے نہ۔۔۔”

آتش کی بات پر وہ اسے دیکھنے لگی جیسے آتش کو کوئی فرق ہی نہ پڑا ہو ان سب سے

“لیکن میں ایک نہیں تھی آتش۔۔۔ نجانے کتنے لوگ آپ کے بارے میں غلط سوچ۔۔۔”

وہ سنجیدگی سے بات مکمل کرنے لگی تھی جب وہ بول پڑا

“مجھے لوگوں کی پرواہ نہیں کون میرے بارے میں کیا سوچتا ہے۔۔۔ مجھے صرف تمہاری پرواہ ہے کہ تم میرے لئے کیسا محسوس کرتی ہو۔۔۔”

آتش نے دھیمے مگر سخت لہجے میں یہ الفاظ کہے تھے وہ ٹکٹکی باندھے اس کی نیلی آنکھوں میں دیکھی جارہی تھی جو اس کے الفاظوں کے سچ ہونے کا ثبوت دے رہی تھی

“جانتا ہوں۔۔۔ ایک مشہور شخص کے لئے اس کی شہرت زندگی کی طرح ضروری اور اہم ہوتی ہے۔۔۔ یہ بھی جانتا ہوں کہ مجھے بہت لوگوں نے غلط کہا ہوگا میرے کردار پر انگلیاں اٹھائی ہوں گی۔۔۔ لیکن مجھے کوئی فرق نہیں پڑتا کوئی میرے بارے میں کیا سوچتا ہے۔۔۔ ہاں لیکن مجھے دکھ ہوا تھا۔۔۔ جب تم میرے بارے میں غلط سوچ رہی تھی۔۔۔”

کچھ پل کے لیے آتش کے لہجے میں عجیب سی اداسی محسوس ہوئی تھی جیسے واقعی کچھ بہت برا ہوا ہو اسے کچھ برا لگا ہو اس کی پر کشش نیلی آنکھوں میں جہاں تعبیر نے اپنے لئے چمک دیکھی تھی وہیں ڈر کے ساتھ ساتھ بہت اداسی بھی دیکھی تھی

“مم میں بہت بری طرح سے ہارا تھا۔۔۔ جب تم نے مجھے انجان نظروں سے دیکھا تھا۔۔۔ تعبیر میں پوری دنیا کے لوگوں کے ہاتھوں میں اپنے لئے پتھر تو برداشت کر سکتا ہوں لیکن۔۔۔ لیکن میں تمہاری ان خوبصورت آنکھوں میں اپنے لئے بے اعتباری برداشت نہیں کر سکتا۔۔۔ پپ پتا نہیں کیوں۔۔۔ مجھے بہت ڈر لگتا ہے۔۔۔ جب تم مجھے یوں انجانوں کی طرح دیکھتی ہو”

وہ بغور اسے دیکھتے ہوئے اس کی آنکھوں میں کہیں کھو سا گیا تھا وہ اس کے قریب آکر ایک عجیب سے جنون اور درد کے ملے جلے تاثرات لئے یہ الفاظ ادا کر رہا تھا جہاں تعبیر کی آنکھوں میں نمی تیرنے لگی تھی وہی آتش کی آنکھیں سرخ سی ہونے لگیں تھی

آتش نے آگے بڑھ کر تعبیر کا ہاتھ تھاما اس اچانک والے انداز پر وہ چونک کر پیچھے ہونے لگی مگر آتش کی گرفت بہت مضبوط تھی وہ مسلسل سرخ آنکھیں لئے اسے تک رہا تھا اچانک سے اس کی آنکھوں میں پانی جمع ہونے لگا ایک اشک ٹوٹ کر چہرے پر بہنے لگا وہ بڑی غور سے اسے دیکھ رہی تھی

“تعبیر۔۔۔ اپنے دل پر ہاتھ رکھ کر سوال کرو اس سے۔۔۔ کیا میں تمہیں اب بھی غلط لگتا ہوں؟؟ کیا میں تمہارے بھروسے کے بھی لائق نہیں ہوں؟؟ تعبیر مت دیکھو مجھے ایسی نظروں سے مجھے دکھ ہوتا ہے۔۔۔”

نجانے وہ یوں اچانک کیسے اپنے حواس کھو بیٹھا تھا وہ نہیں جانتا تھا وہ کیا بولا جارہا تھا اچانک دروازے پر دستک ہوئی جس سے وہ دونوں ہی ہوش کی دنیا میں واپس آئے اچانک سے تعبیر نے اپنا ہاتھ پیچھے کھینچا تو آتش نے بھی فاصلہ قائم کیا

“آجاؤ۔۔۔”

وہ فرض اور شہادت کی انگلی سے آنکھوں کو مسلتے ہوئے ہمیشہ کی طرح سخت لہجے میں کہنے لگا جس پر تعبیر نے بھی جلدی سے اپنی آنکھوں کی نمی پوچی ملازم اجازت طلب کر کے اندر آیا

“صاحب جی وہ۔۔۔ آپ کا موبائل بج رہا ہے۔۔۔”

ملازم نے آتش کا موبائل اس کی جانب بڑھاتے ہوئے کہا اور اسے ہاتھ کے اشارے سے جانے کا کہا تو وہ چلا گیا ایک نظر تعبیر کو دیکھ کر وہ موبائل کال پر لگائے مخاطب ہوا

“کیوں فون کیا ہے؟؟”

آتش نے سخت لہجے میں کہا جبکہ تعبیر اسے ہی دیکھ رہی تھی کیسے پل بھر میں اپنے جذباتوں پر قابو پا کر وہ سخت تاثرات لئے بیٹھا تھا وہ شخص تعبیر کی سوچ سے بھی زیادہ مشکل تھا

“جانتا ہوں آج شوٹنگ ہے۔۔۔ بٹ میرا موڈ نہیں آنے کا”

آتش نے سخت ناگواری سے جواب دیا جبکہ شوٹ کا سن کر تعبیر کو یاد آیا آج کی تاریخ کو تو اس کی شوٹنگ تھی مگر وہ کیسے حاشر کے سامنے جاتی وہ کتنا بڑا دھوکے باز تھا

“میں نے کہا نہ شوٹ کینسل کرو۔۔۔ مجھے آج بہت امپورٹینڈ کام ہے۔۔۔ ہر چیز سے بھی زیادہ امپورٹینڈ۔۔۔ اور میں مزید کوئی بحث نہیں کرنا چاہتا میرا موڈ نہیں آنے کا بات ختم۔۔۔”

وہ اپنی بات مکمل کرتا ہوا ایک جھٹکے سے فون بند کر گیا تعبیر اسے بڑی حیرت سے دیکھ رہی تھی ایسا کونسا ضروری کام تھا کہ اس نے اپنی شوٹنگ کینسل کردی اور پھر دوسری بات اس کا موڈ بھی تو نہ تھا شوٹ پر جانے کا۔۔۔

“تم آرام کرو۔۔۔ اور آج رات ڈنر ہم ساتھ کریں گے میں کہیں بھی نہیں جارہا۔۔۔”

وہ اسے سنجیدہ انداز میں کہتا ہوا وہاں سے جانے لگا

“مگر سر آپکی شوٹنگ۔۔۔”

وہ یک دم بولی جس پر وہ رکا

“تم صرف مجھے آتش بھی بلا سکتی ہو۔۔۔ مجھے اچھا لگے گا۔۔۔ اور رہی شوٹنگ کی بات تو آج بہت ضروری کام کی وجہ سے میرا موڈ نہیں وہاں جانے کا۔۔۔”

آتش نے گمبھیر لہجے میں کہا اور آنکھوں کی آنکھوں میں اسے آج شام کی ملاقات کا جتا کر وہاں سے چلا گیا جبکہ وہ اس کے جانے کے بعد اپنے دل کے مقام پر ہاتھ رکھے بیٹھی خود سے سوال کر رہی تھی

“کیا ارادے ہیں اس کے؟؟ کیا مجھے اس پر بھروسہ کرنا چاہئے؟؟”

وہ خود کلامی کرنے لگی جب اس کا دل آتش کے نام پر زوروں سے دھڑکنے لگا تعبیر نے جلدی سے ہاتھ ہٹایا

“نن نہیں۔۔۔ تعبیر تم یہاں صرف جاب کرنے آئی ہو۔۔۔ نہ کہ یہ سب سوچنے۔۔۔ تم آتش کے بارے میں ایسا کچھ بھی نہیں سوچو گی۔۔۔ جس سے تم اپنے ارادوں سے بھٹک جاؤ۔۔۔”

وہ زیرِ لب گویا ہوئی پیشانی پر پسینے کی بوندیں ابھرنے لگیں

“مانا کہ آتش ویسا نہیں ہے جیسا سب اسے سمجھتے ہیں۔۔۔ مگر اس سے دور رہنے میں ہی تمہاری بہتری ہے۔۔۔ تمہیں خود کو مضبوط کرنا ہوگا۔۔۔ تم نہیں سوچ سکتیں اس کے بارے میں کچھ بھی ایسا۔۔۔”

وہ اب خود سے خودی کو سمجھائی جارہی تھی جبکہ اس کی یہ باتیں باہر کھڑا شخص بآسانی سن چکا تھا

“نہ صرف سوچنے پر۔۔۔ بلکہ خود سے محبت کرنے پر مجبور کردوں گا میں تمہیں تعبیر۔۔۔ بس آج شام کا انتظار ہے مجھے۔۔۔ مجھے یقین ہے تم پر۔۔۔ میرا حالِ دل جاننے کے بعد تمہیں خود مجھ سے محبت ہو جائے گی۔۔۔”

وہ مسکراتے ہوئے کہتا ہوا وہاں سے چلا گیا نجانے آج شام وہ کیا کرنے کے ارادے رکھتا تھا

☆★☆★☆★☆

“افففو یار ریز بھائی آپ بھی نہ۔۔۔ بہت بڑے ڈرامے باز ہیں آپ۔۔۔”

حریم جو پچھلے آدھے گھنٹے سے مسلسل ضوریز کی اوٹ پٹانگ باتوں پر ہنسی جارہی تھی اب تھک کر بیڈ کراؤن سے جا لگی جبکہ اس کی بات پر ضوریز نے بھی قہقہہ لگایا

“ڈیئر سسٹر، میں ڈرامے باز نہیں پوری کی پوری فلم ہوں انڈرسٹینڈ۔۔۔”

ضوریز نے ایک انداز سے کہا جس پر حریم نے ایبرو اچکائیں

“خیر یہ بتاؤ کب مل رہی ہو اپنے بھائی سے؟؟”

ضوریز نے خواہش ظاہر کی

“کیا؟؟ ملنا تھا کیا؟؟”

وہ سوچنے لگی جس پر ضوریز نے ماتھا پیٹا

“ظاہر سی بات ہے میں بھائی ہوں تمہارا اتنے دن ہوگئے اپنی گڑیا کو دیکھے ہوئے۔۔۔ مجھے ملنا ہے تم سے حریم۔۔۔ کہو تو آج شام ڈنر ساتھ کریں؟؟”

ضوریز نے اسے آفر کرتے ہوئے جواب جاننا چاہا

“کیا؟؟ آج شام؟؟ اففف نہیں ریز بھائی آج شام تو مجھے افتخار انکل سے ملنے جانا تھا شاویز بتا رہا تھا ان کی طبیعت ٹھیک نہیں ہے۔۔۔”

حریم کے منہ سے شاویز کا ذکر سن کر اس کا خون کھولنے لگا وہ جو کچھ دیر پہلے ہنسی مذاق کے موڈ میں تھا اب اس کی گہری کالی آنکھوں میں سرخی آنے لگی تھی وہ سخت تاثرات لئے اپنی بہن کی اچھی خاصی کلاس لینے کا موڈ بنانے لگا

“کون ہے یہ شاویز؟؟ کیوں ملتی ہو اس سے تم ہاں؟؟”

جانتا تو وہ سب کچھ تھا مگر اسکی بہن نے اب تک اسے اپنے اور شاویز کے بارے میں کچھ بھی نہیں بتایا تھا اس کی اچانک غصے والی آواز پر حریم کے چہرے پر سے مسکراہٹ غائب ہوگئی

“وہ۔۔۔ ریز بھائی میں آپکو بتانا بھول گئی کہ۔۔۔ شاویز منگیتر ہے میرا۔۔۔ وہ کلاس فیلو تھا میرا پھر کاظم انکل نے میری رضامندی کو مدنظر رکھتے ہوئے ہماری انگیجمینٹ کروادی”

وہ تھوڑی گھبرا رہی تھی آخر وہ اس کا بھائی تھی بھلہ وہ کیسے اب سب کچھ اسے بے دھڑک بتا سکتی تھی

“کیسی انگیجمینٹ؟؟ میں کسی انگیجمینٹ کو نہیں مانتا۔۔۔ تم میری بہن ہو میری ذمہ داری ہو تم پر حق ہے میرا میں جو چاہے جیسا چاہے تمہارے ساتھ کر سکتا ہوں بھلہ کاظم کون ہوتا ہے تمہاری زندگی کے فیصلے کرنے والا؟؟ اسے میں نے صرف کچھ اختیارات دیئے تھے وہ بھی اس مجبوری کی بناء پر کہ تم نا سمجھ تھیں ایسے میں کیسے میں تمہیں اچانک سے آکر خود کو تمہارا بھائی بتا دیتا۔۔۔”

ضوریز کا لہجہ توقع سے زیادہ سخت تھا وہ تھوڑی ڈر گئی تھی

“تم آج کے بعد اس سے نہیں ملو گی ٹھیک ہے کہ وہ سیدھا سادہ لڑکا ہے لیکن جب تک میں تمہیں اپنی بہن کے طور پر سب سے انٹرو ڈیوز نہ کروا دوں تم اس سے نہیں ملو گی کوئی انگیجمینٹ نہیں ہوئی تمہاری سمجھیں تم!!!”

وہ اپنا حکم سنا کر اسے ہرٹ کر گیا تھا حریم خاموشی سے بیٹھی اپنی بھائی کے حکم پر غور کر رہی تھی کافی دیر وہ یوں ہی چپ رہا مگر حریم کی اداسی محسوس کر کے وہ پھر سے اس سے مخاطب ہوا

“حریم میں یہ سب تمہارے بہتر مستقبل کے لیے کر رہا ہوں۔۔۔”

اس نے سنجیدگی سے کہا

“اچھا۔۔۔ کیا واقعی؟؟ کافی جلدی خیال نہیں آیا آپ کو میرے بہتر مستقبل کا ہاں؟؟ اور بھی تو بہت فیصلے کئے تھے نہ کاظم انکل نے پھر آخر آپ اس ہی فیصلے کے خلاف کیوں ہیں؟؟ “

وہ خفگی سے کہنے لگی جس پر ضوریز بڑی غور سے اسے سن رہا تھا

“کیا تمہیں میرا فیصلہ غلط لگ رہا ہے حریم؟؟ کیا تمہیں نہیں لگتا میں جو کچھ کروں گا تمہاری بہتری کے لیے کروں گا ۔۔۔ اور پھر تمہارے لئے ہی تو تم سے دور رہا میں یار۔۔۔ ورنہ اپنی جان سے پیاری بہن کو کیوں دور رکھتا بھلہ ۔۔۔”

ضوریز نے اسے مناتے ہوئے کہا

“کیا ایک بھی بار آپ نے مجھ سے یہ پوچھا کہ میں شاویز کے ساتھ انگیجمینٹ پر راضی کیوں ہوئی تھی؟؟”

حریم کی بات پر وہ رکا وہ سوچنے لگا غور کرنے لگا جب جب وہ حریم اور شاویز کو ملتے ہوئے دیکھتا تھا تب اس نے حریم کی آنکھوں میں شاویز کے لئے پسندیدگی دیکھی تھی

“تو کیا تم۔۔۔ شاویز کو پسند کرتی ہو؟؟”

وہ تجسس میں مبتلا اس سے کھوجنے والے انداز میں پوچھنے لگا جس پر وہ خاموش ہوئی یعنی جواب ہاں تھا وہ کچھ سوچتے ہوئے پیشانی رگڑنے لگا جبکہ دوسری طرف وہ اب تک خاموش تھی

“ٹھیک ہے۔۔۔ تمہاری خاموشی مجھے جواب دے چکی ہے مجھے کوئی اعتراض نہیں لیکن جب تک میں نہ کہوں تم اس سے نہیں ملو گی سمجھ آئی ؟؟”

ضوریز کی بات پر اس نے سکھ کا سانس لیا

“جی بھائی۔۔۔”

وہ اب تک اداس تھی شاید ضوریز نے پہلی بار میں ہی بہت زیادہ سختی دکھا دی تھی

“لگتا ہے میری گڑیا ناراض ہوگئی؟؟”

ضوریز نے بڑی نرمی سے کہا

“آپ کو اپنی گڑیا کی فکر ہی کب ہے، کرلیں آپ بھی مجھ پر غصہ، اتنے سالوں تک اس ہی موقع کی تلاش میں تھے نہ کب بہن ملے کب غصہ اتاروں۔۔۔ جائیں مجھے نہیں کرنی آپ سے بات۔۔۔”

وہ اب واقعی اچھا خاصا ناراض ہوچکی تھی

“ارے۔۔۔ حریم سنو تو۔۔۔ مائے ڈول لسن ٹو می۔۔۔”

وہ سر پر ہاتھ مار کر اسے عجلت میں منانے لگا مگر وہ فون بند کر چکی تھی تب ضوریز نے موبائل ایک اسٹائل سے برابر صوفے پر اچھالا اور پیشانی رگڑتے ہوئے کچھ سوچنے لگا

“بیوی الگ ناراض ہے۔۔۔ بہن بھی ناراض ہوگئی۔۔۔ بندا کرے تو کیا کرے آخر۔۔۔ سارے تپوڑے مجھے ہی ملے ہیں یار۔۔۔”

ضوریز نے نفی میں سر ہلاتے ہوئے کہا اور خود ایل ای ڈی پر چلتی نیوز میں مصروف ہوگیا

“بڑے بھیا نے تو کمال کردیا۔۔۔ ہم سے بھی آگے نکل پڑے۔۔۔ ادھر سالا کوئی دیکھتا بھی نہیں ٹھیک سے اور بڑے بھیا نے درجنوں حساب سے بچیاں پیچھے لگائی ہوئی ہیں۔۔۔ صحیح جارہے ہو بڑے بھیا”

وہ زیرِ لب کہہ کر بالوں میں ہاتھ پھیرتے ہوئے یک طرفہ مسکراہٹ اچھالنے لگا

☆★☆★☆★☆

“مے آئے کم ان میم؟؟”

وہ اس وقت اپنے روم میں بیٹھی بڑے اہم کام میں مصروف تھی سامنے رکھے لیپ ٹاپ پر نظریں جمائے وہ وقفے وقفے سے کافی کا سپ لے رہی تھی تبھی اس کے ڈیڈ کی سیکریٹری وہاں آئی جسے اس نے اشارے سے اجازت دی

“میم یہ کچھ سامان ہے جو کسی نے آپ کے لئے بھیجا ہے۔۔۔”

اس لڑکی نے پھولوں کا خوبصورت بکے ائیزل کے سامنے ٹیبل پر رکھتے ہوئے کہا جس کے ساتھ ایک گفٹ باکس بھی تھا ائیزل حیرت سے پہلے اسے پھر اس گفٹس کو دیکھنے لگی

“یہ کس نے بھیجا ہے؟؟”

اس نے نا سمجھی سے سوال کیا

“پتا نہیں میم۔۔۔”

وہ اپنی بات کہہ کر ائیزل کے اشارے پر وہاں سے چلی گئی جبکہ ائیزل سر جھٹک کر لیپ ٹاپ میں مصروف ہوگئی

تقریباً ابھی اسے پندرہ منٹ ہی گزرے تھے جب اس کا موبائل رنگ ہونے لگا شاید کسی کا میسج تھا ائیزل سب کچھ اگنور کر کے اپنے کام پر توجہ دینا چاہی مگر تبھی کسی ان نان نمبر سے آتی کال نے اسے غصہ دلایا پہلے وہ وہ خاموش رہی مگر مسلسل آنے والی کال پر وہ پریشان ہوکر کال اٹینڈ کر گئی

“کیا مسئلہ ہے؟؟ نظر نہیں آرہا میں اتنے امپورٹینڈ کام میں مصروف ہوں۔۔۔ کالز پر کالز، کالز پر کالز۔۔۔ عجیب دماغ خراب کر کے رکھا ہے۔۔۔”

اپنی پرانی عادت سے مجبور طیش میں آکر وہ سامنے والے کو جانے بنا غررائی جس پر دوسری جانب مکمل خاموشی چھائی ہوئی تھی

“اوہ ہیلو؟؟ اب بتانا پسند کروگے کون ہو تم کیوں فون کیا ہے؟؟

دوسری طرف خاموشی پا کر وہ پھر سے چینخی جس پر کال ڈسکنیکٹ کردی گئی ایک نظر اسکرین کو دیکھ کر وہ منہ کے عجیب و غریب زاویئے بنانے لگی

“عجیب ہی سدا کا فارغ شخص ہے کوئی۔۔۔ ٹائم ویسٹ کردیا سارا۔۔۔ اب کال کرے منہ توڑ دوں گی اس کا۔۔۔”

وہ اپنے موتی جیسے سفید دانت بیچتے ہوئے موبائل اسکرین کو مکا دکھانے لگی اور ایک جھٹکے سے موبائل کو سائڈ میں رکھ کر واپس اپنے کام میں مصروف ہوگئی

تبھی اس کے موبائل پر ایک اور بار کسی کا میسج آیا جسے وہ بڑے غصے سے چیک کرنے لگی مگر جب چیک کیا تو ہوائیاں اڑ گئیں

” میں جانتا ہوں آپ کس قدر مصروف ہیں۔۔۔ آپ کے پاس تو کسی کے بہت دل سے بھیجے گئے تحفے کو کھول کر دیکھنے کا بھی وقت نہیں ہے۔۔۔”

وہ بڑی حیرت سے سامنے پڑے گفٹس کو دیکھ رہی تھی

“یعنی یہ جس کسی نے بھی بھیجا ہے اس کے پاس میرا نمبر بھی ہے؟؟”

وہ خود کلامی کرتے ہوئے کچھ سوچنے لگی سامنے رکھے کافی کے کپ سے سپ لینے لگی تبھی ایک اور میسج ریسیو ہوا

“میڈم کو کافی پینے کے علاؤہ کچھ آتا ہی نہیں۔۔۔ ویسے ایک بات تو بتائیں محترمہ ایک دن میں کافی کے کتنے کپ ختم کرلیتی ہیں آپ؟؟”

کسی انجان کا یہ میسج پڑھ کر اس کا سر گھومنے لگا وہ پاگلوں کی طرح اطراف میں نظریں دوڑانے لگی وہ چور نظروں سے سامنے بنی کھڑکی کو دیکھنے لگی مگر یہ کیسے ممکن تھا کہ کوئی اسے کھڑکی سے واچ کر رہا ہوتا کیونکہ وہ اس وقت ففتھ فلور پر تھی

“محترم پہلے مجھے آپ یہ بتائیں آپ ہیں کون؟؟ اور آپ کو کیسے پتا کہ میں اس وقت کافی ہی رہی ہوں؟؟”

وہ صاف الفاظوں میں پوچھنے لگی اس کا یہ میسج پڑھ کر مخالف وجود کے لبوں پر پرکشش مسکراہٹ بکھرنے لگی

“میں تو آپ کی رگ رگ سے واقف ہوں۔۔۔ یہ تو پھر ایک عام سی بات ہے۔۔۔ چلیں آپ یہ سمجھ لیں کہ میں نے آپ کو محسوس کیا ہے۔۔۔”

یہ میسج پڑھ کر ائیزل نے ضبط سے مٹھیاں بھینچیں اور دانت بیچتے ہوئے ٹائپنگ کرنے لگی

“سیدھی شرافت سے بتادو ہو کون تم۔۔۔ ورنہ اب جو میں تمہارا حال کروں گی نہ تم مجھے کیا خود کو بھی محسوس نہیں کر پاؤ گے سمجھے تم۔۔۔”

ائیزل کے میسج پر ایک زور دار قہقہہ لگاتے ہوئے اس شخص نے دوبارا ٹائپنگ اسٹارٹ کی

“ارے۔۔۔ آپ تو یوں ہی غصہ کر رہی ہیں میں تو بس اتنا کہنا چاہ رہا تھا کہ اگر کوئی چاہنے والا آپ کو دل سے کوئی تحفہ بھیجے تو مصروفیات کا بہانا بنا کر اسے یوں اگنور نہیں کرتے۔۔۔”

وہ غصے سے اس شخص کے میسج کو گھورنے لگی آخر کون تھا وہ اور کیوں اس سے فری ہونا چاہ رہا تھا

“مجھے نہیں دیکھنا کوئی تحفہ بھاڑ میں جاؤ تم اور تمہاری یہ بکواس باتیں بائے۔۔۔”

وہ تنک کر میسج سینڈ کر کے موبائل کو باقاعدہ پٹختے ہوئے دونوں ہاتھوں سے اپنا سر دبوچے بیٹھ گئی

“ریلیکس آئیز۔۔۔ کول۔۔۔ تم ان باتوں پر دھیان نہ دو۔۔۔ ویسے بھی ایک دو نمبر آدمی کے ہاتھوں تم کھلونا بن چکی ہو مزید کسی کو خود سے کھیلنے کا شرف نہیں بخش سکتیں۔۔۔ سمجھیں تم۔۔۔!!!”

وہ خودی کو تنبیہ کرتے ہوئے لیپ ٹاپ میں مصروف ہونے کی کوشش کرنے لگی مگر نظریں بار بار بھٹک کر سامنے رکھے پھولوں کے بکے اور گفٹ ہر جا رہی تھی

“افففف فو۔۔۔ یہ کیا ہوگیا ہے تمہیں ائیز۔۔۔ تم نکاح میں ہو کسی کے۔۔۔ مت سوچو کسی اور کے بارے میں۔۔۔ اتنے وقت بعد بھلہ وہ دھوکے باز کیوں بھیجنے لگا مجھے پھول۔۔۔”

ایک پل کے لیے اس کا دھیان ضوریز کی جانب گیا تھا جس پر وہ سر جھٹکتے ہوئے کام میں مصروف ہوگئی

“مانا کہ بہت مشکل ہے۔۔۔ لیکن ناممکن بھی نہیں۔۔۔ تمہیں منانا مائے ڈار۔۔۔”

وہ اپنی گہری کالی آنکھوں سے چاہتوں کی چمک لئے یک طرفہ مسکرانے لگا اپنے بڑھتے ہوئے بالوں کو مزید بکھراتے ہوئے کانوں میں ائیرپوٹ لگائے وہ اس کی یادوں میں گم سا ہوگیا تھا

☆★☆★☆★☆

“یہ۔۔۔ باہر اتنا اندھیرا کیوں ہیں؟؟”

وہ سر پر ڈوپٹہ اوڑھے سیڑھیاں اترتی ہوئی نیچے کی جانب آئی جہاں ہال کے اندر گھپ اندھیرا چھایا ہوا تھا وہ چھوٹے چھوٹے قدم اٹھائے اندھیرے ہال کی جانب بڑھی

“ملازمہ تو کہہ رہی تھی کہ سر آتش میرا انتظار کر رہے ہیں۔۔۔ مگر یہاں تو کچھ بھی نظر نہیں آرہا۔۔۔”

وہ بڑے ہال کے اندر داخل ہوئی باہر کا موسم پہلے ہی عبر آلود تھا بادلوں کی گرج اس اندھیرے ہال کو مزید خوف ناک بنا رہی تھی

“اففف اللّٰہ۔۔۔ کیا ہے یہ سب۔۔۔”

ایک لائٹ آن ہوئی جو سامنے سجھے کھانے کے ٹیبل کی جانب مرکوز تھی وہ اچانک جلتی روشنی پر گھبرائی تھی تبھی آتش نے اسے مزید خوف زدہ کرنے کا ارادہ ترک کر کے ہال کی تمام لائٹس آن کیں

“ویلکم سینوریٹا۔۔۔ کم ہیئر پلیززز۔۔۔”

وہ اپنی مخصوص مسکراہٹ لئے کھڑا اس کی جانب متوجہ تھا تعبیر نے ایک نظر اس کے پہنے ہوئے کپڑوں پر ڈالی بلیک پینٹ وائٹ شرٹ جس کے دو بٹن کھلے ہوئے اندر سینے کے بالوں کی نمائش کر رہے تھے وہ شرمسار سی نظریں جھکائے کھانے کی میز کے قریب آئی

آتش نے کرسی کھینچ کر اسے بیٹھنے کا اشارہ کیا جس پر وہ خاموشی سے بیٹھ گئی وہ مسلسل نظریں جھکائے انگلیاں چٹخانے میں مصروف تھی چہرے پر شرم و حیا نمایاں تھی پیشانی پر پسینے کی ننھی سی بوندیں نمایاں تھی

برسات کی اس ٹھنڈی رات میں بھی اسے گھٹن سی محسوس ہورہی تھی آتش اس کے خیالات سے اس کے ڈر سے واقف تھا وہ آج اسے سب کچھ بتا دینا چاہتا تھا آتش نے ایک نظر اس کی جھکی ہوئی گھنی پلکوں پر ڈالی اور سامنے والی کرسی پر آ بیٹھا

“امید ہے تمہیں یہ سب پسند آیا ہوگا۔۔۔”

آتش کی بات پر تعبیر نے ایک نظر اسے دیکھا واقعی یہ سب بہت خوبصورت دکھائی دے رہا تھا باہر بادلوں کی گرج جہاں اسے خوف زدہ کر رہی تھی وہیں اب وہ اندر کے اس خوبصورت منظر کو دیکھ کر کہیں نہ کہیں چہک رہی تھی

“لگتا ہے برسات ہونے والی ہے۔۔۔”

آتش نے ایک نظر برابر لگے گلاس وال پر ڈالتے ہوئے کہا جہاں سے باہر کا منظر صاف دکھائی دے رہا تھا تیز ہوائیں رقص کر رہی تھیں بجلی کڑک رہی تھی شاید آج کی رات طوفانی ہونے والی تھی

“یہ تمہارے لئے۔۔۔”

آتش نے اسے خاموش پا کر اطراف میں رکھے بڑے بڑے خوبصورت گلاب کے بکے سے گلاب کا ایک پھول اٹھا کر اس کی جانب بڑھایا جس پر تعبیر اسے سنجیدگی سے دیکھنے لگی آتش کے ایبرو اچکانے پر تعبیر نے وہ پھول قبول کیا اور اس کی خوشبو محسوس کرنے لگی

“بہت خوبصورت ہے۔۔۔”

وہ زیرِ لب ہلکی سی مسکراہٹ کے ساتھ گویا ہوئی جس پر وہ بغور اس کے معصوم سے چہرے کو دیکھتے ہوئے مسکرایا آتش نے ایک نظر اس کے سر پر اوڑھے ڈوپٹے کو دیکھا پھر نظر بھر کر اسے دیکھنے لگا وہ بلکل لائٹ سے پرپل کلر کے سادے سے شلوار قمیض میں ملبوس تھی وہ سادگی میں اور بھی زیادہ خوبصورت لگ رہی تھی

“تم سے زیادہ نہیں۔۔۔”

آتش کے دھیمے مگر چاہت بھرے لہجے پر تعبیر نے ایک نظر اس کی نیلی آنکھوں میں دیکھا جو مکمل اسے اپنے سحر میں جکڑنے کی کوششوں میں مصروف تھی تعبیر زیادہ دیر تک اس کی پرکشش آنکھوں میں نہ دیکھ سکی اور نظریں جھکا گئی

“آاپ نے مجھے۔۔۔ کیوں بلایا تھا۔۔۔؟؟”

مسلسل آتش کی نظریں خود پر محسوس کر کے وہ گھبرا رہی تھی مجبوراً اس کا دھیان خود سے ہٹا کر باتوں میں لگانے کے لیے سوال کرنے لگی جس پر آتش دونوں ہاتھوں کی کُہنی ٹیبل پر ٹکائے اپنی بیئرڈ پر انگلیاں پھیرنے لگا

“پہلے ڈنر کرلیا جائے؟؟ پھر آرام سے بات کریں گے۔۔۔”

آتش کی بات پر اس نے اثبات میں سر ہلایا آتش نے کباب کی بھری ہوئی پلیٹ اس کے سامنے بڑھائی تعبیر نے ایک پیس اپنی پلیٹ میں نکالا اور فورک سے کھانے لگی

آتش نے بھی میز پر رکھے انواع و اقسام کے کھانوں کو نظر انداز کر کے سیخ کباب پلیٹ میں نکالا اور انصاف کرنے لگا اسی دوران تعبیر کو ٹھسکا لگنے لگا جس پر آتش نے جلدی سے سامنے رکھے پانی کے جگ سے پانی گلاس میں نکال کر اس کی جانب بڑھایا جسے تھام کر تعبیر گھونٹ بھرنے لگی

“تم ٹھیک ہو نہ تعبیر؟؟”

آتش نے فکر مندی سے کہا جس پر اس نے ہاں میں سر ہلایا تعبیر ایک ہاتھ اپنے سینے پر رکھ کر سانس لینے لگی تبھی اس کا ڈوپٹہ گردن سے کھسکا اچانک آتش کی نظر اس کی نازک سی گردن پر گئی جہاں اس کے نام کا پینڈینٹ موجود تھا

تعبیر اس کی نظریں محسوس نہ کر سکی اور مزید پانی کے گھونٹ بھرنے لگی آتش خود کے جذباتوں پر قابو پانے کی کوشش کرنے لگا وہ اپنی پوری توجہ اپنے کھانے پر مرکوز کرنے لگا مگر بھٹک بھٹک کر اس کی نظریں تعبیر کی صراحی دار گردن پر ٹہر رہی تھیں

وہ مسلسل اسے اپنی جانب متوجہ دیکھتے ہوئے اپنا دوپٹہ ٹھیک کرنے لگی جس پر آتش بھی یک دم پلیٹ میں سر جھکا کھانے میں مصروف ہوگیا جبکہ اب وہ بامشکل ایک ہی پیس کھا سکی تھی

کھانے سے فارغ ہوکر وہ ملازم کو حکم دے کر ٹیبل پر سے پھولوں کے بکے کے علاؤہ تمام کھانے کی ڈشز وغیرہ ہٹوانے لگا اب ٹیبل پر صرف خوبصورت پھول رکھے تھے آتش اب پوری طرح سے اس کی جانب متوجہ تھا اس کی نظروں کی تپش محسوس کرتے ہوئے وہ اب بھی گھبرا رہی تھی

“میرے خیال سے اب بات کا آغاز کر لینا چاہیے”

ایک نظر گلاس وال سے باہر چلتی تیز ہواؤں سے ہلتے پھولوں پر ڈال کر وہ کچھ سوچتے ہوئے گویا ہوا اسی دوران تعبیر کے دل نے اسپیڈ پکڑی تھی

“تعبیر۔۔۔ میں جو کچھ بھی آج تم سے کہنا چاہتا ہوں وہ میں نے کبھی کسی سے نہیں کہا بلکہ یوں کہاں جائے تو ٹھیک رہے گا کبھی مجھے کسی کے لئے ایسا محسوس ہوا ہی نہیں۔۔۔ مگر تمہارے لئے محسوس کرتا ہوں۔۔۔ روز کرتا ہوں۔۔۔ میں آج جو کچھ تم سے کہنے والا ہوں وہ سب میں دل سے کہوں گا میرا کہا گیا ایک ایک لفظ سچا ہوگا۔۔۔ امید ہے تم مجھ پر یقین کرو گی۔۔۔ مجھے بھروسہ ہے تم مجھے سمجھنے کی کوشش کرو گی۔۔۔”

آتش نے سنجیدگی سے کہا تعبیر بڑے غور سے اس کے چہرے کے تاثرات کو تک رہی تھی جو سچے لگ رہے تھے تعبیر سمجھ چکی تھی وہ کیا کہنا چاہتا تھا مگر وہ اسے روک نہیں سکتی تھی ایک نا ایک دن تو اسے یہ سب سننا تھا وہ بڑی ہمت کر کے اثبات میں سر ہلائے اس کے اگلے جملے کی منتظر تھی

“تعبیر۔۔۔ میں ٹوٹ کر چاہنے لگا ہوں تمہیں۔۔۔”

آتش نے آنکھیں میں چاہتوں کے رنگ دل میں کئی حسرتیں لئے یہ الفاظ کہے تھے تعبیر تعجب سے اسے دیکھ رہی تھی دونوں کے دل بے ترتیب دھڑک رہے تھے

“ہاں یہ تمہیں بہت عجیب لگے گا اور میری اس بات کو لے کر تمہارے دماغ میں کئی سوالات آئیں گے اور میں سب سوالوں کے جواب دینے کے لئے تیار ہوں۔۔۔”

آتش نے سنجیدہ انداز میں کہا تعبیر نے نظریں جھکائیں

“پلیززز تعبیر ایسے نظریں نہ جھکاؤ۔۔۔ یہ لمحات میری زندگی کے سب سے اہم لمحات ہیں جن میں میرے مستقبل کا فیصلہ کیا جائے گا۔۔۔ اب یہ تمہارے ہاتھ میں ہے کہ تم میرے مستقبل کو روشن کرنا چاہتی ہو یا پھر تاریخ۔۔۔”

آتش نے اس کی آنکھوں سے آنکھیں ملنے کی کوشش کی اور وہ کامیاب بھی ہوگیا کیونکہ وہ اب اسے دیکھ رہی تھی اس کے چہرے پر بکھری معصومیت آتش کو پاگل کئے جارہی تھی

“تعبیر۔۔۔ میں دیوانوں کی طرح چاہنے لگا ہوں تمہیں۔۔۔ میں۔۔۔ میں جانتا ہوں کہ شروع میں جو کچھ میں نے تمہارے ساتھ کیا وہ بہت غلط تھا اور میں اب اپنے کئے پر شرمندہ بھی ہوں۔۔۔ لیکن نجانے کب کیسے کر طرح مجھے تم سے اتنی محنت ہوگئی کہ مجھے پتا ہی نہیں چلا کہ تم میرے لئے کتنی ضروری ہوگئی۔۔۔ ایک پل بھی میرا تمہارے بغیر گزارنا انتہائی مشکل عمل ہے۔۔۔”

آتش کے چہرے کے نرم تاثرات اس بات کی وضاحت دے رہے تھے وہ جو کچھ بھی کہہ رہا تھا وہ سب سچے دل سے کہہ رہا تھا آتش کی بات پر وہ غور سے اسے دیکھنے لگی کیا واقعی وہ اس سے اتنی محبت کرنے لگا تھا

“مگر یہ کیسے ممکن ہے آتش۔۔۔ آپ مجھے کیسے چاہ سکتے ہیں؟؟ یہ ناممکن ہے۔۔۔”

بے ساختہ اس کے لبوں سے یہ الفاظ ادا ہوئے جس پر آتش اسے دیکھنے لگا تعبیر خود نہیں جانتی تھی اس نے اپنے دل میں آیا سوال کیسے کہہ ڈالا تھا

“آخر کیوں ممکن نہیں ہو سکتا ؟؟ بلکل ہو سکتا ہے۔۔۔ کیا تمہیں میرے جزبات احساسات غلط یا جھوٹے لگ رہے ہیں تعبیر؟؟”

آتش نے جانچتی نظروں سے اس سے سوال کیا جس پر وہ نفی میں سر ہلانے لگی

“میں نے ایسا کچھ بھی نہیں کہا آتش۔۔۔ لیکن یہ ممکن نہیں ہے بلکل بھی ممکن نہیں ہے۔۔۔ آپ کہاں اور میں کہاں۔۔۔ بھلہ کیسے آپ ایسا سوچ سکتے ہیں؟؟”

تعبیر نے دل میں کئی تجسس لئے کہا وہ جانتی تھی وہ کتنا بڑا اسٹارٹ تھا وہ کوئی عام شخص تو نہ تھا کہ اچانک سے کسی سے محبت کرنے لگا اس کے آگے پیچھے لڑکیوں کی کمی نہ تھی پھر وہ کیسے اس سے یہ سب کہہ رہا تھا

“کیا مجھ میں کوئی کمی ہے تعبیر؟؟ کیا میں واقعی اتنا برا ہوں کہ میں کسی سے محبت بھی نہیں کر سکتا؟؟ یار میں نہیں جانتا کہ یہ سب کب اور کیسے ہوا۔۔۔”

وہ ایک ہاتھ سے بال جکڑے دوسرا ہاتھ بیئرڈ پر پھیرتے ہوئے کہنے لگا تعبیر اس کے ردعمل کو سمجھ نہ پائی

“میں نے بار بار اپنے دل سے سوال کیا کہ آخر کیوں میں تمہیں محسوس کرنا چاہتا ہوں، کیوں تمہیں اپنے آس پاس دیکھنا چاہتا ہوں، کیوں مجھے تمہاری کمی محسوس ہوتی ہے، کیوں تمہاری مدھم سی سانسیں میری روح کو سکون بخشتی ہیں کیوں آخر کیوں میں تمہیں کسی اور کی نظروں میں برداشت نہیں کر سکتا۔۔۔ جانتی ہو میرے دل میں مجھے ہر بار کیا جواب دیا ہے۔۔۔؟؟”

آتش کشمکش کی حالت میں بولتا چلا جارہا تھا جیسے وہ خود سے سوال کر رہا ہو اور سامنے بیٹھی تعبیر کو اپنے جذبات اپنے احساسات کا احساس اس کا یقین دلانا چاہ رہا ہو آخری والے جملے پر تعبیر مجتسس انداز میں اسے دیکھنے لگی شاید اسے انتظار تھا اور کیوں نہ ہوتا آخر یہ سب اس کے لئے جاننا ضروری سا تھا

“میرے دل نے کہا ہے کہ۔۔۔ مجھے محبت ہوگئی ہے تعبیر سے ۔۔۔”

آتش نے ہلکی سی مسکراہٹ لئے اسکی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر کہا جس پر ایک پل کے لیے تعبیر کی نظریں جھکیں آتش کی آنکھوں میں تھوڑی سی نمی تھی نجانے کیوں مگر تھی

اسے لگا دھڑکنیں تھم سی گئیں ہوں وقت وہیں رک سا گیا ہو آتش دیوانہ وار اس کے چہرے پر گزرتے رنگوں کو دیکھ رہا تھا شاید وہ ان رنگوں میں اپنے لئے پسندیدگی، چاہت یا پھر محبت ڈھونڈ رہا تھا

“کیا تم بھی میرے لئے ایسا کچھ محسوس کرتی ہو۔۔۔ کیا تمہارا دل بھی چاہتا ہے کہ میں تمہارے آس پاس رہوں”

آتش کے سوال پر تعبیر آنکھوں میں نمی لئے اسے دیکھنے لگی آتش اس کے جواب کا منتظر تھا مگر وہ خاموش تھی

“کیا تم میری کی گئیں تمام غلطیوں کو معاف کر کے مجھے قبول نہیں کر سکتیں؟؟ مجھے یقین ہے تم مجھے ٹھکراؤ گی نہیں تم سمجھو گی مجھے۔۔۔ چپ کیوں ہو تعبیر کچھ تو کہو۔۔۔ تمہاری یہ خاموشی مجھے ڈرا رہی ہے”

آتش نے تعبیر کے دونوں ہاتھوں پر اپنے ہاتھ رکھ کر کہا یک دم تعبیر نے اپنے ہاتھ پیچھے کھینچے جس پر وہ اسے خوف کے تاثرات لئے دیکھنے لگا ایک ایسا خوف جو اس کے دل میں پہلے سے گھر کر چکا تھا تعبیر کو کھونے کا خوف۔۔۔

“ایسا نہیں ہو سکتا۔۔۔ کبھی بھی نہیں ہو سکتا آتش۔۔۔ میں آپ کو قبول نہیں کر سکتی میں آپ کے بارے میں ایسا کچھ سوچ بھی نہیں سکتی میں نہیں جانتی مجھے یہاں لانے کے پیچھے آپ کا کیا مقصد تھا لیکن میرے یہاں آنے کا مقصد صرف میری جاب تھی۔۔۔ اور کچھ بھی نہیں۔۔۔”

آتش نا سمجھی سے اسے دیکھنے لگا کیا وہ اسے انکار کر چکی تھی کیا وہ یہ سب محسوس نہیں کر رہی تھی یا پھر وہ جان کر جھٹلا رہی تھی تعبیر نے نظریں چرائیں یہ الفاظ کہے تھے

“اگر آپ کو لگتا ہے میں آپ کے متعلق ایسے کوئی جزبات رکھتی ہوں تو آپ غلط ہیں۔۔۔ پلیززز مجھ سے ایسی کوئی امید نہ رکھیں کیونکہ جب یہ امید ٹوٹتی ہے تو بہت درد ہوتا ہے۔۔۔”

باہر کہیں دور ایک زور دار بجلی گرنے کی آواز سنائی تھی جہاں تعبیر نے ڈر سے آنکھیں مینچیں وہیں آتش کے اندر کچھ چھن سے ٹوٹا تھا شاید اس کا وہ بھروسہ جو بنا جانے اپنے دل میں آئے خیالات کی بناء پر وہ تعبیر پر کر چکا تھا

“تت تم۔۔۔ یہ کیا کہہ رہی ہو؟؟ تم ایسا کیسے کہہ سکتی ہو۔۔۔ میں نے ٹوٹ کر چاہا ہے تمہیں تعبیر میں محبت کرتا ہوں تم سے۔۔۔ بے انتہا محبت۔۔۔ تم۔۔۔ تم جانتی بھی ہو میں جھوٹ نہیں بول رہا میرے جزبات بلکل سچے ہیں تعبیر۔۔۔”

وہ التجائی نظروں سے اسے دیکھتا ہوا کہنے لگا

“میں جانتی ہوں آپ سچ کہہ رہے ہیں لیکن یہ محبت نہیں ہے۔۔۔ یہ صرف ایک اٹیچمینٹ ہے یہ بات آپ کو بہت جلد سمجھ آجائے گی یوں اچانک کسی بھی بات کا فیصلہ کرلیا حماقت ہے”

تعبیر نے نظریں چرائیں یہ الفاظ کہے جس پر وہ بھوویں اکھٹی کئے اسے دیکھنے لگا

“میں پاگل ہو رہا ہوں تمہاری محبت میں اور تم کہہ رہی ہو یہ صرف ایک اٹیچمینٹ ہے؟؟ تم میری محبت کو اٹیچمنٹ کا نام کیسے دے سکتی ہو تعبیر؟؟”

آتش کو اس کا یوں کہنا برا لگا تھا وہ نہیں جانتا تھا آخر وہ اسے سمجھنے کے بجائے الٹا اسے کیوں سمجھا رہی تھی

“آپ یہ کیسے کہہ سکتے ہیں کہ یہ اٹیچمینٹ نہیں آپ کی محبت ہے؟؟ صرف کچھ ہی ہفتوں میں آپ کو مجھ سے محبت ہوگئی؟؟ یہ جان کر بھی کہ ہمارے اسٹیٹس میں ہماری سوچوں میں ہمارے مزاج میں کتنا فرق ہے۔۔۔”

تعبیر نے تھوڑے سخت لہجے میں یہ الفاظ کہے اور وہ اٹھ کھڑی ہوئی جس پر آتش بھی کھڑا ہو کر اس کی جانب بڑھا

“تعبیر محبت اسٹیٹس دیکھ کر نہیں کی جاتی۔۔۔ محبت دل سے ہوتی ہے۔۔۔ اور۔۔۔ اگر تمہیں لگتا ہے کہ ہمارے مزاج میں اسٹیٹس میں فرق ہے تو میں اپنا اسٹیٹس تمہارے اسٹیٹس کے برابر کرنے کو تیار ہوں۔۔۔ میں اپنی سوچوں کو تمہاری سوچوں میں تبدیل کرنے کے لیے بھی تیار ہوں تم حامی تو بھرو میں راتوں رات خود کو مکمل تمہارے رنگ میں رنگ دوں گا۔۔۔”

وہ اسے تعجب سے دیکھی جارہی تھی سامنے کھڑا شخص کس طرح سب کچھ بھلائے اپنے جنون میں اتنا کچھ کہتا چلا جارہا تھا کیا وہ نہیں جانتا تھا کہ یہ سب اتنا آسان نہ تھا جتنا وہ سمجھ رہا تھا

“تعبیر۔۔۔ تم مجھے قبول تو کرو۔۔۔ میں بلکل ویسا بن جاؤں گا جیسا تم چاہتی ہو مگر اب مزید میں تم سے دور نہیں رہ سکتا۔۔۔ میں اب صرف خود کو پوری طرح سے تمہارا کردینا چاہتا ہوں۔۔۔ صرف تمہارا آتش بن جانا چاہتا ہوں۔۔۔ ان چند ہفتوں میں تمہیں لے کر میں نے کتنے خواب دیکھے ہیں۔۔۔ کیا تم بنو گی میرے خوابوں کی تعبیر؟؟”

آتش اس کا ہاتھ تھامے اس کے بلکل قریب آچکا تھا اتنا کہ وہ اس کی گرم جھلستی سانسوں کو اپنے چہرے پر محسوس کر رہی تھی آتش کی آنکھیں مکمل بھیگ چکی تھی وہ کس جنون میں مبتلا تھا یہ تو وہ خود بھی نہیں جانتا تھا

“کہو تعبیر۔۔۔ میں بہت ادھورا ہوں کیا تم اس ادھورے شخص کو اپنا کر مکمل کر سکتی ہو۔۔۔ میرا وعدہ ہے تم سے میں تمہیں بہت پیار دوں گا۔۔۔ تمہارے لئے سب کچھ چھوڑ دوں گا۔۔۔ میں جان سے بھی زیادہ خیال رکھوں گا تمہارا۔۔۔ کبھی تمہاری ان خوبصورت جھیل جیسی آنکھوں میں آنسوں نہیں آنے دوں گا۔۔۔”

وہ پل بھر میں ہچکیوں پر آ چکا تھا ہاں وہ رو رہا تھا تعبیر کا یوں نظریں پھیرنا اسے تکلیف دے رہا تھا شاید آج تک اس نے اتنی تکلیف کبھی برداشت نہ کی ہو جو وہ آج سہہ رہا تھا آتش کے اشکوں کی برسات دیکھ کر ایک پل کے لئے اس کا دل تڑپنے لگا تھا

“آتش یہ ممکن نہیں ہے۔۔۔ اور نہ ہی ایسا کبھی ہو سکتا ہے۔۔۔ میں آپ کے لائق نہیں ہوں۔۔۔ ہم کبھی ایک نہیں ہو سکتے۔۔۔ کبھی بھی نہیں۔۔۔”

آتش کی تشنگی اس کے آنسؤوں کو دیکھنا برداشت کرنا اب اس کے لئے انتہائی مشکل ہو چکا تھا وہ سپاٹ لہجے میں کہتی ہوئی اپنا ہاتھ چھڑائے باقاعدہ دوڑتے ہوئے وہاں سے جا چکی تھی وہ خالی سی نظروں سے اسے جاتا دیکھ رہا تھا ایک نظر اپنے خالی ہاتھوں پر ڈال کر وہ نفی میں سر ہلانے لگا

“نن نہیں۔۔۔ ایسا نہیں ہو سکتا۔۔۔ نہیں ہو سکتا ایسا۔۔۔”

جہاں باہر طوفانی بارش شروع ہوئی تھی وہیں آتش کا دل تڑپ رہا تھا اس کی اشکوں کی برسات بھی جاری تھی وہ چینختا ہوا سامنے پھولوں سے سجے ٹیبل کو گھور کر غصے سے دیکھنے لگا

“ایسا نہیں ہوسکتا۔۔۔ تم مجھے ٹھکرا نہیں سکتیں تعبیر!!!”

وہ غصے جنون اور درد کے ملے جلے تاثرات لئے پل بھر میں وہاں سجے سارے پھول نوچ کر زمین پر پھینک چکا تھا پل بھر میں اس خوبصورت سے ہال کو وہ مکمل تباہ کر چکا تھا

جیسے جیسے باہر بارش نے تیزی پکڑی تھی ویسے ہی اس کے اندر دکھ تکلیف اور درد بڑھتا چلا جارہا تھا بارش کا ایک ایک قطرہ اسے اپنے زخم پر نمک کے برابر معلوم ہورہا تھا وہ غصے سے باہر گارڈن میں آکھڑا ہوا جہاں بادلوں کا راج عروج پر تھا بجلیوں نے کی کڑک فضاء میں گھل کر منظر خوفناک بنا رہی تھی

“ایسا نہیں کر سکتیں تم میرے ساتھ۔۔۔ میں محبت کرتا ہوں تم سے تعبیر۔۔۔ نہیں کر سکتیں ایسا تم۔۔۔”

آتش گھٹنوں کے بل بیٹھا اس تیز بارش میں چینخ چینخ کر رو رہا تھا ایک طوفان تھا اس کے اندر ایک غبار تھا جسے وہ چینخ چینخ کر اس طوفانی بارش کی تیز آوازوں کے سپرد کر چکا تھا

وہ دروازہ بند کئے دروازے سے لگ کر گھٹنوں میں سر دیئے مسلسل روئی جارہی تھی وہ کیوں رو رہی تھی یہ تو وہ بھی نہیں جانتی تھی کہ اس نے غلط کیا تھا یا پھر صحیح مگر آتش کو تکلیف میں دیکھ کر اس کے دہکتے اشکوں کو دیکھ کر وہ اندر ہی اندر تڑپ رہی تھی

“میں پاگل ہو جاؤں گا تعبیر۔۔۔ اگر تم مجھے نہ ملیں میں سب کچھ برباد کروں گا۔۔۔”

وہ آخری بار پورے زوروں سے چینخا تھا اس کے گلے کی نسیں اُبھرنے لگی تھی آنسوں بارش کی بوندوں میں مل کر بہہ رہے تھے اسے لگا اس کا سر چکرا رہا ہے ایک تیز رفتار کرنٹ اس کے دماغ کو چھو کر گزرا تھا وہ اچانک زمین پر گرا اور ہوش سے بیگانہ ہوگیا

جاری ہے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *