Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Lams e Junooniyat (Episode 32)

Lams e Junooniyat by Areesha Khan

وہ لوگ شوٹ پر پہنچ چکے تھے ہر ایک کی نظر آتش پر تھی مگر ان میں جو وجود سب سے زیادہ شاکڈ ہوا تھا وہ تھا حاشر خانزادہ کیونکہ وہ تعبیر کو اچانک سے وہ بھی آتش درانی کے ساتھ دیکھ کر انتہا کا حیران ہوا تھا

“سر۔۔۔”

ابھی پروڈیوسر میک اپ آرٹسٹ کو لے کر آہی رہا تھا جب آتش نے اسے ہاتھ کے اشارے سے وہیں روکا

“پہلے میں چینج کرنا چاہتا ہوں۔۔۔”

وہ سنجیدگی سے کہنے لگا جس پر پروڈیوسر نے ایک لڑکے کو کہہ کر آتش درانی کے روم میں ڈریس بھجوا دیا جبکہ تعبیر وہیں انجانوں کی طرح کھڑی سامنے لگے سیٹ اپ کو دیکھ رہی تھی

یہ بہت خوبصورت جگہ تھی اس لیے بھی کیونکہ سیٹ اپ سمندر کے بلکل پاس لگایا گیا تھا تعبیر کی نظر دوڑتے ہوئے سامنے سمندر پر گئی جس کی لہریں شور مچاتے ہوئے اسے بہت اچھی لگ رہی تھیں

اسے شروع سے ہی سمندر پسند تھا لیکن وہ اکثر کم ہی جایا کرتی تھی سالوں میں کبھی ایک بار۔۔۔ کیونکہ سمندر کی لہروں کی ٹھنڈی ہوائیں جب اس کے وجود سے ٹکراتی تھیں جہاں اسے بے انتہا سکون سا ملتا تھا وہیں اس کے اندر کا انسان پھٹ پڑنے لگتا تھا اس سے اپنے آنسوں ضبط نہیں کیے جاتے تھے

“تم بھی چلو میرے ساتھ۔۔۔”

وہ جو سمندر کو گہری نگاہوں سے مسلسل دیکھی جارہی تھی آتش کی آواز پر اس کی جانب متوجہ ہوئی آتش تعبیر پر حاشر کی نظریں محسوس کر چکا تھا حاشر اسے پہچان چکا تھا مگر تعبیر نے اب تک اسے دیکھا بھی نہ تھا کیونکہ وہ جہاں میک اپ کروا رہا تھا وہ اس سے کافی دور تھی

“جی سر۔۔۔!!!”

آتش مظبوط قدموں سے چلتا ہوا اس بڑے سے بنگلے کے اندر گیا جبکہ تعبیر بھی اس ہی کے پیچھے پیچھے تھی آتش اس لڑکے کے بتائے گئے روم کے اندر جانے لگا جبکہ تعبیر وہیں باہر کھڑی ہوگئی

“تم میری اجازت کے بنا کہیں نہیں جاؤ گی جب تک میں واپس نہیں آجاتا تم یہی رہوگی۔۔۔!!!”

آتش نے تعبیر کو سنجیدگی سے کہا جس پر وہ اثبات میں سر ہلانے لگی ایک نظر تعبیر کے پینڈینٹ پر ڈال کر وہ روم کے اندر چینج کرنے کے غرض سے چلا گیا

تعبیر وہیں کھڑی کھڑی ادھر اُدھر ٹہلنے لگی جب اس کی نظر سامنے بڑی سی گیلری پر گئی جہاں سے باہر کا خوبصورت منظر صاف واضح دکھائی دے رہا تھا تعبیر دھیمے قدموں سے چلتی ہوئی اس بالکنی کی جانب آئی

اب اس کا سارا دھیان سمندر کی لہروں پر تھا تیز ہوائیں اس کے بالوں کو بکھرا چکی تھیں کافی دیر سے وہ یہاں آنکھیں بند کئے کھڑی تھی یہ ٹھنڈی ہوائیں اس کے جسم سے اتر کر اس کی روح تک کو سکون بخش رہی تھیں اسے پتا ہی نہ چلا کہ یہاں کھڑے ہوئے اسے کتنا وقت ہو چکا تھا

آتش جب چینج کر کے باہر آیا تو وہ وہاں نہ تھی نجانے آتش کو اس کا یوں حکم نہ ماننا بہت بڑا لگا تھا وہ غصے سے ادھر اُدھر دیکھنے لگا جب اس کی نظر سامنے بالکنی پر گئی وہ تیز قدموں سے چلتا ہوا اس کی جانب بڑھا

ابھی وہ اس سے تلخ کلامی کا مظاہرہ کرتا جب اس کی نظر تعبیر کے صاف شفاف ہر گناہ سے پاک چہرے پر گئی اس کا غصہ ایک دم تھم سا گیا وہ آنکھیں بند کئے چہرے پر سکون بھری مسکراہٹ لئے کھڑی اب تک اپنی دنیا میں مگن تھی

جبکہ وہ اس کے بلکل قریب کھڑا اس کے چہرے کے نقوش کو دیکھ رہا تھا اس کی بند آنکھیں، اس کے گلابی ہونٹ اور پھر اس کے اڑتے ہوئے اسکاف میں سے اس کی وہ نازک سی گردن وہ جو کبھی شراب کے نشے میں بھی اتنا نہ بہکتا تھا وہ شخص یہاں آکر بہک سا جاتا تھا

وہ اپنی دنیا میں اتنی زیادہ مگن تھی کہ پاس کھڑے آتش کی موجودگی محسوس نہ کر سکی جبکہ وہ اس کی قربت سے مزید بہکتا ہوا اس کے قریب آنے لگا تعبیر کے اڑتے ہوئے بال آتش کے چہرے کو چھونے لگے

آتش نے اس کے بکھرے ہوئے بالوں کو اپنی شہادت کی انگلی سے اس کے چہرے پر سے ہٹانا چاہا جس پر وہ اچانک چونک کر دو قدم دور ہوئی تو آتش بھی تھوڑا سا چونکا شاید اس کی توجہ کا مرکز ٹوٹا چکا تھا

“آاپ۔۔۔”

وہ جلدی سے اپنا اسکاف ٹھیک کرنے لگی اور بالوں کو کان کے پیچھے کرتی ہوئی کڑبڑائی

“میں نے تم سے کہا تھا نہ وہاں سے مت جانا اور تم بنا بتائے یہاں آکر کھڑی ہو۔۔۔!!!”

آتش نے اپنا بھرم رکھنا کے لیے اسے بلیم کیا جس پر وہ اسے دیکھنے لگی

“سوری سر۔۔۔ میں نے آپ کا کافی ویٹ کیا مگر آپ۔۔۔!!!”

وہ مزید اس کی نظروں کی تپش برداشت نہ کر پائی اور نظریں جھکا گئی جس وجہ سے اس کے آدھے الفاظ منہ میں ہی رہ گئے

“خیر چلو میرے ساتھ!!!”

وہ اسے حکم دیتا ہوا ایک نظر اس کے ٹھیک ہوئے اسکاف پر ڈال کر آگے چل پڑا جبکہ وہ بھی اس کے پیچھے چل دی آتش کو اس کا یوں اپنے پیچھے پیچھے آنا تھوڑا اچھا سا لگ رہا تھا یا شاید یہ سب حاشر خانزادہ کو دیکھانے کے لیے ایسا کر رہا تھا

جیسے ہی وہ لوگ باہر آئے ایک خوبصورت سی لڑکی آتش کی جانب بڑھی اور بڑی بے باکی سے اس کے گلے لگ گئی جس پر تعبیر سٹپٹے انداز میں اسے دیکھنے لگی جبکہ آتش کو خود بھی کرن جابر کا یہ انداز بلکل پسند نہ آیا

“کیسے ہو آتش۔۔۔ اور اس دن تمہارا موڈ اتنا خراب کیوں تھا تم پوری شوٹنگ میں ڈائیلاگ کے علاوہ مزید کچھ نہ بولے بلکہ بلکل خاموش رہے تھے۔۔۔”

کرن نے اس کے بلکل قریب آکر یہ الفاظ ادا کئے تھے

“تم جانتی ہو میں ایسا ہی ہوں۔۔۔ خیر تمہیں چلنا نہیں ہے؟؟”

آتش نے سنجیدگی سے کہا

“اففف اللّٰہ میں یہاں آئی تھی ڈریس چینج کرنے تمہیں دیکھ کر وہ بھی بھول گئی تم جاؤ میں بس یوں گئی اور یوں آئی۔۔۔”

وہ عجلت میں کہتی ہوئی اندر کو بھاگی جبکہ آتش نے ایک نظر تعبیر کو دیکھا جو اسے ہی دیکھ رہی تھی اب نظریں جھکا گئی

“سب ریڈی ہیں؟؟ اوکے لائٹ کیمرہ ایکشن۔۔۔!!!”

کچھ ہی دیر میں ان کی شوٹنگ اسٹارٹ ہو چکی تھی سمندر پر خوبصورت پھولوں سے سجے لمبے سے پل پر وہ دونوں کھڑے ایکٹنگ کر رہے تھے آتش دونوں ہاتھوں کو پینٹ کی جیب میں کئے پل کے کنارے کھڑا سمندر کو دیکھ رہا تھا جب کرن جابر اس کی پشت پر جا لگی

“سالار مجھے پتا تھا تم ضرور آؤ گے۔۔۔ میں جانتی تھی جتنی محبت مجھے تم سے ہے اتنی ہی تمہیں بھی مجھ سے ہے۔۔۔”

کرن نے اپنا ڈائیلاگ کہا اور اپنے آنسؤں کو صاف کرنے لگی جب آتش نے اسے خود سے دور کیا

“ہے نہیں تھی۔۔۔ اب میں صرف اور صرف اپنی میرب کا ہوں۔۔۔ بتاؤ کیوں بلایا مجھے؟؟”

وہ سخت لہجے میں کہتا ہوا اپنے الفاظوں سے اسے دکھ پہنچا گیا تھا جس پر وہ تنزیہ انداز میں مسکرائی

“اچھا۔۔۔ چند دن کے رشتے کے لئے تم سالوں کی محبت چھوڑ کر جارہے ہو!!! تو پھر میری ایک بات کان کھول کر سن لو!!! تم کبھی اس کے ساتھ خوش نہیں رہ پاؤ گے تم واپس میرے پاس آؤگے مگر تب بہت دیر ہو چکی ہوگی”

کرن نے ایک انداز سے اپنے ڈائلاگز کہے تھے ان کی شوٹنگ یوں ہی جاری تھی جبکہ تعبیر پوری دلچسپی سے ان کی شوٹنگ دیکھ رہی تھی

☆★☆★☆★☆

“فور گاڈ سیک آئیزل۔۔۔ ایک گھنٹہ ہوچکا ہے تمہیں یہاں بیٹھے بیٹھے۔۔۔ آخر اس قدر بھیانک خاموشی کا میں کیا مطلب سمجھوں؟؟ تم مجھے مزید تجسس میں مبتلا کر رہی ہو!!!”

وہ جو کب سے اس کے سامنے خاموش بیٹھی زمین کو گھوری جارہی تھی اب اس کی جانب سنجیدگی سے دیکھنے لگی ضوریز اس کی خاموشی پر بے انتہا کا حیران تھا آخر وہ وہ تھی جو اگر کسی میت میں بھی چلے جائے تو وہاں شور مچ جائے پھر وہ آج کیسے خاموش تھی

“ضوریز تمہیں میری قسم کھانی ہوگی کہ یہ بات سننے کے بعد تم مجھے قصوروار ہرگز نہیں سمجھو گے!!!”

وہ اسے سنجیدگی سے کہتی ہوئی مزید تجسس میں ڈال گئی ضوریز نے اپنے لمبے بالوں کو جس اس وقت کھلے تھے واپس سیٹ کر کے باندھا اور اس کے سامنے اس کا ہاتھ تھامتے ہوئے بیٹھا

“آئیز دیکھو۔۔۔ جو بھی بات ہے مجھے بتادو تم جانتی ہو میں تم پر غصہ نہیں کروں گا۔۔۔ پھر چاہے اس کے لئے مجھے خود کو آج پوری رات نشے میں ہی کیوں نہ رکھنا پڑے۔۔۔”

ضوریز نے گمبھیر لہجے میں کہا ائیزل نے ایک نظر اسے پھر اس کے ہاتھ میں اپنے ہاتھ کو دیکھا اس کی آنکھ سے ایک آنسوں چھلک کر چہرے پر آ ٹھہرا ضوریز کو کا دل دھڑکا تھا

“ریز وہ ارتضیٰ۔۔۔”

وہ کچھ بتانے لگی لیکن رکی ائیزل کے منہ سے ارتضیٰ کا نام سن کر وہ سخت تاثرات لئے اسے دیکھنے لگا مگر پھر نظریں جھکا گیا جیسے مزید سننا چاہ رہا ہو

“ریز میں اس کے نکاح میں ہوں!!!”

وہ جو اپنا غصہ ضبط کئے بیٹھا تھا ائیزل کے منہ سے ایسے الفاظ سن کر وہ بے یقینی سے اسے دیکھنے لگا وہ ایک جھٹکے سے کھڑا ہوا ساتھ ہی ائیزل بھی کھڑی ہوئی اسے جس بات کا ڈر تھا شاید وہی ہونے والا تھا

“تمہیں واسطہ ہے یہ مت کہنا کہ تم نے مجھے دھوکا دیا ہے۔۔۔ کہہ دو یہ جھوٹ ہے۔۔۔”

وہ گھمبیر لہجے کہنے لگا جبکہ ائیزل کے آنسوں ٹپ ٹپ بہہ رہے تھے

“ریز میں نے کچھ بھی جان بوجھ کر نہیں کیا یہ سب کب ہوا مجھے یہ بھی نہیں پتا میں اس وقت بہت چھوٹی تھی اور پھر۔۔۔”

وہ اسے ساری کہانی بتانے لگی تھی وہ کھڑا ساکت سا سر جھکائے اس کی باتیں سن رہا تھا اس کے چہرے کا رنگ پھیکا پڑ چکا تھا وہ پہلے تو ایسا نہ تھا جیسا آج وہ لگ رہا تھا

“ریز تم میری مدد کرو گے نہ تم مجھ سے دور تو نہیں جاؤ گے نہ۔۔۔ ریز میں تمہارے بنا نہیں رہ سکتی۔۔۔”

وہ التجائی نظروں سے دیکھتے ہوئے کہنے لگی جبکہ وہ خالی نظروں سے اسے دیکھ رہا تھا جیسے اس کے اندر بہت کچھ ٹوٹ گیا ہو

“ریز میں جانتی ہوں یہ سب بہت برا ہوا ہے لیکن ہم مل کر سب کچھ ٹھیک کردیں گے بہت جلد سب پہلے جیسا ہو جائے گا اور ہم۔۔۔ ہم پھر سے ایک ہوجائیں گے۔۔۔”

ائیزل نے اسے یقین دلاتے ہوئے کہا جس پر وہ پہلے تو اسے دیکھنے لگا پھر اس کا ہاتھ پکڑ کر گھسیٹتا ہوا اپنے گھر سے باہر لایا

“ریز چھوڑو مجھے یہ کیا کر رہے ہو تم؟؟”

ائیزل کی مزاحمت پر اس کی گرفت ڈھیلی پڑھی ضوریز نے اس کا ہاتھ جھٹکا اور دروازہ بند کرنے لگا جب وہ اس کے قریب آئی

“ریز پلیززز ایسا نہ کرو میں کہہ رہی ہوں نہ ہم مل کر سب کچھ ٹھیک کرلیں گے۔۔۔”

اس نے اپنے بہتے آنسوؤں کی پرواہ کیے بنا اسے روکنا چاہا جس پر وہ اسے دیکھنے لگا

“مجھے اکیلے رہنا ہے۔۔۔”

ضوریز نے مختصر سا کہا اور پھر سے دروازہ بند کرنے لگا مگر وہ دروازے کے بیچ آ رکی

“ریز تم مجھے تکلیف دے رہے ہو۔۔۔”

آئیزل نے سرخ آنکھیں لئے تڑپ کر کہا

“ائیزل میں نہیں چاہتا اس وقت میں تمہارے ساتھ غلط طریقے سے پیش آؤں۔۔۔ بہتر یہی ہوگا تم یہاں سے چلے جاؤ اور میں نے تم سے کہا تھا نہ کہ میں تم پر غصہ نہیں کر سکتا البتہ اس کے بجائے میں اپنے ساتھ جو چاہے کروں تمہیں اس سے کوئی غرض نہیں ہونا چاہیے!!!”

ضوریز نے سنجیدگی سے کہا اور ایک جھٹکے سے اسے دور کرتا ہوا دروازہ بند کر گیا جبکہ وہ وہیں ساکت سی کھڑی اس بند دروازے کو تک رہی تھی جو شاید اسکے لئے اب کبھی نہ کھلتا

☆★☆★☆★☆

شام ساڑھے پانچ کا وقت تھا جب وہ لوگ واپس مینشن پر آرہے تھے کالے رنگ کی چمکتی ہوئی بی این ڈبلیو مینشن کے قریب پہنچی تھی آتش تعبیر کو اپنے ساتھ ہی بٹھائے ہوئے تھا جبکہ تعبیر اس کی موجودگی سے زیادہ نہیں لیکن تھوڑی سی ڈسٹرب تھی وہ اس پر کسی مالک کی طرح اپنے تمام حکم صادر کر رہا تھا

شوٹنگ کے دوران کئی بار حاشر خانزادہ نے تعبیر سے ملنے اور اسے آتش کے ساتھ آنے کی وجہ جاننے کی کوشش کی مگر آتش نے ایک لمحے کے لیے بھی تعبیر کو حاشر کے قریب بھی نہ جانے دیا وہ اسے اپنے کاموں میں مصروف رکھ رہا تھا جبکہ اس کی اس حرکت کا مطلب تعبیر اور حاشر دونوں ہی سمجھ چکے تھے

ابھی وہ لوگ اترے ہی تھی جب آتش نے کسی کو کال کی اور وہیں باہر کھڑا ہوا باتوں میں مصروف ہوگیا جبکہ تعبیر اس چینجنگ روم میں جا کر اپنا پہلا والا سوٹ پہننے لگی

جب وہ مینشن کے اندر آیا تو تعبیر کو واپس اس ہی حلیے میں دیکھ کر حیران ہوا وہ اپنے ارادے کی بہت پکی ثابت ہوئی تھی مگر ابھی وہ آتش درانی کو ٹھیک سے جانتی نہیں تھی

“کیا تمہاری جاب شوٹنگ تک ہی محدود تھی؟؟”

آتش نے سنجیدگی سے سوال کیا جس پر وہ اپنا ڈوپٹہ گلے میں ڈال کر ٹھیک کرتی ہوئی اسے دیکھنے لگی

“سر وہ۔۔۔ مجھے گھر جانا ہوگا۔۔۔ ویسے بھی اب تو شوٹنگ مکمل ہو چکی ہے اور آج رات آپ کی کوئی میٹنگ بھی نہیں ہے تو۔۔۔ ویسے میں کل سے وقت پر آجاؤں گی۔۔۔ پرومس۔۔۔”

تعبیر اس کے چہرے کے سخت تاثرات کو بھانپتی ہوئی تھوڑا کنفیوز ہوئی تھی کیونکہ اس کی نظریں مسلسل تعبیر پر ہی مرکوز تھیں

تعبیر کی بات پر وہ اپنے مخصوص انداز میں چلتا ہوا اس کے بلکل قریب آ کھڑا ہوا اور اسے گہری نظروں سے دیکھنے لگا جس پر تعبیر نے ایک نظر اسے دیکھ کر نظریں جھکالیں

“میں نے تم سے کل بھی کہا تھا کہ تم وہی کرو گی جو میں کہوں گا تمہیں آج پھر سے کل کی طرح گھر جلدی جانے کا دورا پڑنے لگ گیا؟؟”

وہ سخت لہجے میں کہتا ہوا اسے اچھا خاصا زہر ہی لگ رہا تھا

“آخر مسئلہ کیا ہے تمہارے ساتھ؟؟ نہیں کرنا چاہتیں ملازمت میرے پاس تو صاف بولو!!! ان بہانوں کا کیا مطلب سمجھوں میں۔۔۔؟؟”

آتش اس وقت پوری طرح سے اس پر متوجہ تھا تعبیر کو اس کا یوں کہنا بلکل بھی پسند نہ آیا تھا جیسے وہ اسے دیکھ رہا تھا اس ہی انداز میں اب تعبیر بھی اسے دیکھ رہی تھی

“اگر میں آپ کو صاف صاف بول دوں کہ مجھے یہ جاب نہیں کرنی تو کیا آپ میرا پیچھا چھوڑ دیں گے؟؟”

اس نے آتش کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر یہ سوال کیا تھا جس پر وہ تعجب سے اس کی ہمت کو دیکھنے لگا

“گڈ کوؤسچن۔۔۔”

وہ پرسکون انداز میں کہتا ہوا اسے نظر انداز کر گیا اور چلتا ہوا اپنے کمرے کی جانب جانے کے لیے سیڑھیاں عبور کرنے لگا

“آپ نے میرے سوال کا جواب نہیں دیا!!!”

تعبیر بھی تعبیر تھی اس کے پوچھنے پر وہ پلٹا اور اسے دیکھنے لگا

“ڈرائیور سے کہہ دو وہ تمہیں گھر چھوڑ دے گا!!! آج شام پارٹی ہے تیار رہنا وہ تمہیں پک کرنے بھی آئے گا!!!”

وہ اسے ایک بار پھر اپنا حکم سنانے لگا

“آپ کو میرے سوال کا جواب دینا ہوگا آپ مجھے ایسے نظر انداز کیسے کر سکتے ہیں؟؟”

اس بار تعبیر نے آگے بڑھ کر تھوڑی اونچی آواز میں کہا تھا جس پر وہ ایبرو کا زاویہ بنائے اسے دیکھنے لگا اور اتر کر اس کے بلکل سامنے آ کھڑا ہوا

“میں تمہیں چاہ کر بھی نظر انداز نہیں کر سکتا تعبیر۔۔۔ اور رہی بات سوال کے جواب کی تو وہ جواب تمہیں آج شام پارٹی ختم ہوتے ہی مل جائے گا!!!”

وہ سرگوشی نما انداز میں کہتا ہوا اس کی آنکھوں میں جھانکنے لگا جبکہ لہجہ تھوڑا سخت تھا جس پر تعبیر ٹکٹکی باندھے اس کی نیلی آنکھوں میں دیکھنے لگی

“ڈریس ایسا پہننا جو تم پر سوٹ کرے!!!”

آتش نے سنجیدگی سے کہا جبکہ وہ اب تک اسے ہی دیکھی جارہی تھی وہ پلٹا کر اوپر کی جانب چلا گیا مگر کمرے کا دروازہ کھولتے وقت دل کے ہاتھوں مجبور ایک نظر اسے دیکھنا نہ بھولا

“مجھے کالا رنگ پسند ہے!!!”

وہ خمار بھرے لہجے میں کہتا ہوا اپنی مخصوص یک طرفہ مسکراہٹ لئے کمرے میں چلا گیا تھا مگر جاتے جاتے اپنی پرکشش نیلی آنکھوں سے بہت کچھ جتا کر گیا تھا وہ اس کی معنی خیزی کا مفہوم سمجھنے کی کوشش میں تھی

☆★☆★☆★☆

رات کا وقت تھا وہ اپنے ویران کمرے میں بیٹھا سگریٹ کی کش لگانے میں مصروف تھا جبکہ آنکھیں سرخ ہونے کے ساتھ ہی اشکوں سے لبریز تھیں دل میں صرف ایک شخص کی جدائی کا غم تھا ۔۔۔

وہ تڑپ رہا تھا وہ چاہ رہا تھا کہ وہ ابھی اس ہی وقت تمام تر فاصلے مٹا کر اس کے پاس چلا جائے مگر۔۔۔ مگر وہ مجبور تھا۔۔۔ وہ چاہ کر بھی اس کے قریب نہیں جاسکتا تھا

“آئی سوویر اگر تم مجھ سے دور ہوگئیں تو میں پاگل ہوجاؤں گا آئیززز۔۔۔”

ضوریز کی آنکھوں کے گرد اب بھی اس کا چہرہ گردش کر رہا تھا چہرے پر عجیب اداسی چھائی ہوئی تھی

“بس۔۔۔ بہت ہوا۔۔۔ اب مزید اور انتظار نہیں۔۔۔”

وہ لب بیچتے ہوئے سگریٹ کو ہتھیلی پر رگڑ کر پھینک چکا تھا کچھ سوچتے ہوئے اس نے کسی کو کال ملائی تھی دوسری طرف سے کوئی جواب نہ پا کر ایک جھٹکے سے موبائل دیوار پر دے مارا تھا

“بس۔۔۔ بس بہت ہوا۔۔۔ اب اور نہیں۔۔۔ نہیں سہہ سکتا میں یہ سب!!!”

سامنے رکھی بیئر کی بوتل کو منہ میں الٹتے ہوئے اس کی گہری کالی آنکھوں میں ایک چمک آئی تھی شاید اس کی بے چینی کا کوئی حل اسے مل چکا تھا

☆★☆★☆★☆

جب وہ مینشن کے دوسری جانب بنے بہت بڑے سے گارڈن کے اندر داخل ہوئی تو وہاں تیز میوزک کا شور تھا ہر طرف نئے چہرے تھے جن میں سے کچھ پروڈیوسرز، ڈائریکٹرز، سیلبریٹیز اور باقی آتش درانی کے کچھ دوست موجود تھے

تعبیر ہچکچاہٹ کا شکار تھی اسے اتنے سارے لوگوں میں آتش کہیں بھی نظر نہیں آرہا تھا مگر آتش کو وہ دور ہی سے آتی دکھائی دے چکی تھی وہ گیسٹ کو ایکسکیوز کرتا ہوا اس کی جانب بڑھا مگر وہ اب تک ادھر اُدھر نظریں دوڑائے دھیمے قدموں سے اندر کی جانب بڑھ رہی تھی

“ویلکم۔۔۔ تمہارا ہی ویٹ تھا۔۔۔”

وہ اچانک رکی جب آتش بلکل سامنے آ کھڑا ہوا آتش نے نظر بھر کر اسے سرتا پیر دیکھا وہ بلیک کلر کی خوبصورت سی پیروں سے تھوڑی اونچی فراک زیب تن کی ہوئی تھی جبکہ کھلے بالوں پر آج بھی ڈوپٹہ تھا

آتش کچھ پل کے لیے تو اسے دیکھتا ہی چلا گیا البتہ اس نے میک اپ کے نام پر تھوڑا سا آئی شیڈ، لائنر اور ہونٹوں پر ہلکی سی سرخ رنگ کی لپ اسٹک لگائی ہوئی تھی وہ اس پارٹی میں موجود تمام حسیناؤں سے بھی کئی زیادہ خوبصورت لگ رہی تھی آتش کو واقعی وہ ضرور سے زیادہ پیاری لگ رہی تھی

“کافی زیادہ خوبصورت لگ رہی ہو تم۔۔۔”

آتش نے سرگوشی نما انداز میں کہا جبکہ تعبیر کی نظر آتش کے آؤٹ فٹس پر گئی جو ڈارک بلیو تھری پیس میں ملوث تھا خیر اسے بھی وہ برا نہ لگا تھا

آس پاس کے سبھی لوگ ان دونوں کی جانب متوجہ تھے تعبیر سب کی نظریں خود پر مرکوز کر کے آتش سے تھوڑی دور ہوئی اور اپنا دوپٹہ ٹھیک کرنے لگی

“ہائے آتش۔۔۔ ہو از شی؟؟ اوہ مائے گاڈ۔۔۔ شی از لکنگ سو پریٹی گرل۔۔۔”

ان میں سے ایک لڑکی جو شاید ان ہی میں سے ایک چھوٹی موٹی اسٹار تھی آگے بڑھ کر آتش سے تعبیر کے بارے میں پوچھنے لگی جس پر تعبیر نے آتش کو دیکھا جو پہلے سے ہی اس کی جانب متوجہ تھا

“میٹ ہر۔۔۔ شی از تعبیر علی۔۔۔ ایک بہت اچھی بیوٹیشن کے ساتھ ساتھ میری سیکریٹری بھی ہے اینڈ آفٹر آل شی از مائے فیو ون۔۔۔”

آتش نے تعبیر کو دیکھتے ہوئے آخری کے الفاظوں پر زور دیتے ہوئے کہا جس پر کافی لوگ ان کی جانب دیکھ کر مسکرائے تو اس لڑکی نے خود بڑھ کر ہاتھ بڑھایا جس پر تعبیر نے ہینڈ شیک کیا

اس ہی دوران کافی پروڈیوسرز نے آتش کے سامنے تعبیر کو انڈسٹری جوئن کرنے کی آفس دی جس پر وہ تو خاموش ہوگئی مگر آتش نے انہیں صاف منع کردیا تھا کہ اسے ان سب میں کوئی خاص انٹرسٹ نہیں تھا

کیونکہ اسے اس طرح کی پارٹیوں کی بلکل بھی عادت نہیں تھی اس لئے وہ سب سے الگ ہی ٹیبل پر جا بیٹھی تھی کیونکہ کافی پروڈیوسرز اس ہی کی جانب متوجہ تھے جو اسے بلکل اچھا نہیں لگا تھا جبکہ آتش درانی اپنے برینڈز اور باقی کے لوگوں میں بزی ہوگیا تھا

کچھ ہی دیر میں اس پارٹی کا ماحول ہی بدل گیا لوگ چلتے پھرتے شراب نوشی کرنے میں مصروف تھے جبکہ کچھ لوگ تو اپنی جگہ کھڑے ہوئے ہی جھوم رہے تھے میوزک کا شور، ایسا عجیب ماحول، اور پھر لوگوں کی عجیب و غریب نظروں کو خود پر مرکوز کرتے ہوئے وہ بیزار ہوتی ہوئی وہاں سے اٹھ کر مینشن کی جانب چل دی

جب اس کی نظر پورے گارڈن میں گئی تو تعبیر کو کہیں بھی نہ پاکر وہ اسے ہر جگہ ڈھونڈتا ہوا مینشن کی جانب آیا پہلے اسے نے اندر ہر طرف دیکھا مگر پھر اس کا دھیان اس کمرے کی جانب گیا جہاں تعبیر اکثر چینج وغیرہ کرنے جاتی تھی

جب وہ اندر آیا تو دروازہ آدھا بند تھا اس نے ہاتھ سے دروازے کو کھولنا چاہا مگر جب اندر کے منظر پر نظر گئی تو وہ بہت حیرت سے اسے دیکھنے لگا وہ اپنے اس ہی خوبصورت سے لباس میں ملبوس چہرے پر نماز کا ڈوپٹہ باندھے آخری رکعت ادا کرنے میں مصروف تھی یقیناً وہ عشاء پڑھ رہی تھی

آتش بنا کچھ کہے وہاں موجود صوفے پر آ بیٹھا جبکہ تعبیر اب ہاتھ اٹھائے دعاؤں میں مصروف تھی آتش بڑے غور سے اسے دیکھ رہا تھا تعبیر کہیں سے بھی اسے کوئی عام سی لڑکی نہیں لگتی تھی کچھ تھا اس میں جو آتش درانی اس کی جانب کھنچتا چلا جاتا تھا کچھ تھا تعبیر میں جسے محسوس کر کے آتش بامشکل خود کو اس پر فدا کرنے سے روکتا تھا

“آپ؟؟”

وہ جیسے ہی دعا کر کے فارغ ہوئی اور جائے نماز سے اٹھنے لگی اس کی نظر دروازے کے برابر رکھے صوفے پر گئی آتش اچانک سے کھڑا ہوا تعبیر نے جائے نماز بستر پر رکھی اور اس کے پاس آئی

“کوئی کام تھا آپ کو؟؟”

تعبیر نے سنجیدگی سے سوال کیا جبکہ تعبیر کی نظر اس کے ہاتھ میں پکڑے گلاس ہر تھی جو شراب سے بھرا ہوا تھا اس کی نظروں کا مطلب وہ سمجھ چکا تھا

“میں تمہیں ڈھونڈتے ہوئے یہاں آیا تھا مجھے لگا تم میرا جواب سنے بنا ہی چلی گئی ہو۔۔۔”

آتش تعبیر کی نظریں اپنے ہاتھ میں موجود گلاس پر دیکھ کر اس کی توجہ اپنی جانب کرنے لگا جس پر وہ اسے دیکھنے لگی

“میں بھلہ آپ کو بنا بتائے کیوں جاؤں گی؟؟”

تعبیر نے سنجیدگی سے کہا

“بنا پوچھے”

آتش نے اس کے کہے گئے جملے کو جتاتی نظروں سے درست کیا جس پر وہ نظریں جھکا گئی

“خیر مجھے تم سے بات کرنی ہے۔۔۔ آج دوپہر میں تمہیں جواب چاہیے تھا نہ!!!”

آتش نے سنجیدہ سے انداز میں کہا تعبیر نے ایک نظر اسے پھر اس کے ہاتھ میں موجود گلاس کو دیکھا تعبیر کو اس کے پاس سے عجیب سی بو آرہی تھی یقیناً وہ شراب ہی چکا تھا

“جی کہیں۔۔۔”

تعبیر نے بامشکل اپنی ناک پر ہاتھ رکھتے ہوئے کہا جس پر وہ اسے بڑے غور سے دیکھنے لگا وہ کتنی زیادہ معصوم تھی اس کا یہ بے داغ چہرہ اس کا یہ نازک سا صاف شفاف وجود آتش کے دل میں کہیں بہت اندر اپنے لئے پسندیدگی پیدا کرنے کی کوشش میں تھا

آتش نے وہ گلاس جھک کر ٹیبل پر رکھا اور اس کی جانب متوجہ ہوتا ہوا سیدھا کھڑا ہوا

“اگر تم چاہو تو یہ جاب چھوڑ سکتی ہو لیکن پھر اس کے بعد مجھ سے پیچھا چھوڑانا تمہارے لئے بہت مشکل ہو جائے گا کیونکہ میں ایک حد تک برداشت کرسکتا ہوں”

وہ گھمبیر لہجے میں کہتا ہوا کیا اسے دھمکی دے رہا تھا وہ اسے غور سے دیکھنے لگی

“آپ مجھے ڈرا رہے ہیں؟؟”

اس نے سنجیدگی سے سوال کیا

“نہیں۔۔۔ صرف سچ بتا رہا ہوں!!!”

آتش نے مختصر سا کہا جس پر وہ اسے خفگی سے دیکھنے لگی

“تعبیر ایسا نہیں ہو سکتا کہ ہم ایک ساتھ رہ کر سکون سے کام کریں؟؟”

آتش کی بات پر وہ سوالیہ نظروں سے اسے دیکھنے لگی

“میرا مطلب ایسا بھی تو ممکن ہے کہ ہم جو وقت ساتھ گزار رہے ہیں اس وقت میں ایک دوسرے سے اپنا رؤیہ درست رکھیں۔۔۔ دیکھو اب تمہیں جاب کی ضرورت ہے اور مجھے تم۔۔۔”

وہ اچانک سے چپ ہوا وہ باقاعدہ اسے گھورنے لگی تھی جس پر اس کے آدھے الفاظ منہ میں ہی رہ گئے تھے وہ ہلکا سا مسکرایا

“آئی میں سیکریٹری کی۔۔۔ تو پھر ہم ساتھ مل کر کام کیوں نہیں کر سکتے دیکھو اسے تم میرے غضب سے بھی محفوظ رہو گی اور تمہارے گھر کے حالات بھی ٹھیک رہیں گے۔۔۔”

اس نے سنجیدگی سے کہا

“دیکھو میں تمہیں فورس نہیں کر رہا اور نہ ہی دھمکا رہا ہوں مگر صاف بتا رہا ہوں اگر تم یہ جاب چھوڑنا چاہتی ہو تو مجبوراً مجھے تمہاری لائف مشکل بنانی پڑے گی۔۔۔ لیکن اگر تم چپ چاپ خاموشی سے یہیں جاں کرتی رہیں تو آئی سوویر میں تمہیں زیادہ تنگ نہیں کروں گا”

وہ معنی خیزی سے اسے دیکھنے لگا

“آئی ہوپ تم سمجھ گئی ہوں گی”

تعبیر نے نماز کا ڈوپٹہ کھولتے ہوئے الگ طرح سے سر پر اوڑھا جس پر وہ اسے دیکھنے لگا

“تو کیا اب میں گھر جا سکتی ہوں؟؟”

تعبیر نے اسے اپنی طرف متوجہ پا کر سوال کیا تب ہی آتش کا موبائل رنگ ہوا وہ اسے ہاتھ سے اشارے سے انتظار کا کہہ کر کمرے سے باہر گیا

ابھی وہ واپس آیا ہی تھا جب تعبیر کا موبائل بجنے لگا تعبیر ڈریسنگ پر رکھے اپنے ہینڈ بیگ میں سے موبائل نکالنے لگی مگر جب اسکرین پر نظر گئی تو وہ آتش کو دیکھنے لگی

شاید اسے ڈر تھا اگر آتش کو یہ پتا لگا تو وہ پھر سے بے وجہ غصہ کرے گا تعبیر نے کال ڈسکنیکٹ کر کے موبائل واپس بیگ میں رکھا جبکہ آتش اس کے انداز پر غور کر رہا تھا

“ہاں تو کیا کہہ رہی تھیں تم؟؟”

آتش نے سنجیدگی سے سوال کیا جس پر تعبیر کچھ کہنے لگی مگر تب ہی دوبارہ سے اس کا موبائل رنگ ہوا اسے لگا شاید اس بار گھر سے کال آئی ہوگی اس نے پھر سے بیگ میں سے موبائل نکالا مگر پھر سے اسکرین پر حاشر کا نام چمک رہا تھا

ابھی وہ اسکرین ہی پر دیکھ رہی تھی جب آتش نے ایک جھٹکے سے اس کے ہاتھ سے موبائل لیا اور اسکرین پر دیکھا مگر جب دیکھا تو دیکھتے ہی دیکھتے اس کی نیلی آنکھوں میں خون اتر آیا کچھ دیر پہلے کی بانسبت اس کے تاثرات الگ ہی تھے

“کیا یہ تمہیں اس ہی طرح کالز کا کرتا ہے؟؟”

آتش نے سخت لہجے سے پوچھا جس پر وہ اسے دیکھنے لگی

“میں کچھ پوچھ رہا ہوں تعبیر!!!”

وہ اونچی آواز میں گویا ہوا جس پر ایک پل کے لیے وہ چونکی

“نہیں!!! انہوں نے اس دن ڈنر انویٹیشن کے بعد دوبارہ کوئی کال نہیں کی!!!”

تعبیر نے خوف پر قابو پاتے ہوئے جواب دیا جس پر آتش نے ایک نظر دوبارہ آتی کال پر ڈال کر کال پک کی

“تعبیر کیسی ہو تم؟؟ اس دن کے لئے سوری یار میں مصروف تھا۔۔کیا ہم مل سکتے ہیں؟؟”

حاشر اپنی بات مکمل کر کے تعبیر کے جواب کا منتظر تھا مگر دوسری جانب سے آتی رعب دار مردانہ آواز پر وہ چونک اٹھا

“کیوں ملنا ہے تعبیر سے؟؟”

اس نے غرراتے ہوئے سوال کیا جبکہ حاشر کو سانپ سونگھ گیا ہو جیسے تعبیر مسلسل آتش کو دیکھی جارہی تھی اسے سمجھ نہیں آرہا تھا آخر وہ کیوں حاشر سے اتنا چڑتا تھا کہ تعبیر کو بھی اس سے دور رکھنا چاہتا تھا

“جواب دو منہ میں زبان نہیں؟؟”

وہ دوبارا دھاڑا مگر اب کی بار کال کٹ ہو چکی تھی وہ موبائل تعبیر کی طرف بڑھاتا ہوا اسے غصے سے دیکھنے لگا تعبیر خاموشی سے موبائل بیگ میں رکھنے لگی

“آج کے بعد اس کا نمبر میں تمہارے پاس نہ دیکھوں!!!”

اس نے تنبیہ کرتے ہوئے کہا

“لیکن آپ کو اتنا برا کیوں لگ رہا ہے؟؟ کیا بگاڑا ہے انہوں نے آپ کا جو آپ اس قدر نفرت کرتے ہیں ان سے؟؟”

تعبیر سنجیدگی سے پوچھنے لگی جس پر وہ تنزیہ مسکرایا

“نفرت؟؟ وہ بیکار شخص میری نفرت کے بھی لائق نہیں لیکن میں جو تم سے کہہ رہا ہوں تم اس بات پر غور کرو، ورنہ مجھے اپنے طریقے سے سمجھانا پڑے گا!!!”

آتش نے آخری الفاظ اس کے بے حد قریب آ کر کہے تھے جس پر وہ اچانک سے دیوار سے لگی تھی

“اب۔۔۔ مجھے چلنا۔۔۔ چاہیے۔۔۔”

اس کی قربت سے گھبراتے ہوئے وہ نظریں جھکائے کہنے لگی اس کی اس ادا پر وہ یک طرفہ مسکرایا

“کیوں؟؟ ڈر لگ رہا ہے مجھ سے؟؟”

وہ معنی خیزی سے اسے دیکھنے لگا تعبیر نے ایک نظر اسے دیکھا جو پوری طرح سے اس کی طرف متوجہ تھا

“مجھے کیوں ڈر لگتا گا۔۔۔ آپ سے بھلہ۔۔۔ وقت کافی ہوچکا ہے۔۔۔ میرے بابا پریشان ہو رہے ہوں گے۔۔۔”

اس نے دھیمے لہجے میں کہا جبکہ وہ کتنی بہادر تھی یہ اندازہ وہ اس کے ماتھے پر آئے پسینے کی بوندوں سے لگا چکا تھا

“ایک تم ہی نہیں ڈرتیں مجھ سے۔۔۔ ورنہ ڈرنے والے ڈر ڈر کر مر گئے!!!”

وہ ذومعنی الفاظ کہتا ہوا اسے جانے کی جگہ دے چکا تھا جس پر وہ جلدی سے کمرے سے باہر بھاگی تھی وہ اس کی اسپیڈ چیک کر کے مسکرا کر رہ گیا تھا

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *