Lams e Junooniyat by Areesha Khan NovelR50533 Lams e Junooniyat (Episode 33)
Rate this Novel
Lams e Junooniyat (Episode 33)
Lams e Junooniyat by Areesha Khan
“میں کتنی بار کہوں میرا پیچھا کرنا چھوڑ دو پچھلے دو دنوں سے تم نے میری زندگی حرام بنائی ہوئی ہے جینے کیوں نہیں دیتیں مجھے سکون سے؟؟”
وہ دو دنوں سے اسے ڈھونڈ رہی تھی مگر وہ گھر کے بجائے سڑکوں پر گھومتا ہوا نظر آتا تھا جس وجہ سے ائیزل اس سے ملنے کے لئے اپنی گاڑی اس کی گاڑی کے پیچھے لگا دیا کرتی تھی
اور آج بھی ایسا ہی ہوا تھا جس پر ضوریز نے غصے سے گاڑی روک کر اسے گاڑی سے باہر نکالا اور وجہ جاننی چاہی وہ اس کا بدلہ ہوا لاپرواہ سا روپ دیکھ کر ہرٹ ہوئی تھی
“ریز کیوں کر رہے ہو میرے ساتھ ایسا؟؟ کیا تمہیں ذرا بھی احساس نہیں میرا؟؟”
ضوریز نے غصے سے اس کا بازوں جھٹکا جس پر وہ آنکھوں میں نمی لئے اسے تکنے لگی ضوریز اس کی آنکھوں میں دیکھنے سے کترا رہا تھا
“کیا تمہیں احساس ہوا میرا؟؟ تم ایک ہی چھت کے نیچے رہ رہی ہو اس شخص کے ساتھ ائیزل اور اب جبکہ تم اس کے نکاح میں ہو تمہیں یوں اس طرح میرے پیچھے آنا غلط نہیں لگتا ؟؟”
وہ اسے چبا چبا کر کہنے لگا جس پر وہ حیرت سے اسے دیکھنے لگی
“مطلب جس رشتے کو میں ماننا ہی نہیں چاہتی تم اسے تسلیم کر چکے ہو؟؟”
ائیزل اسے دیکھ کر کہنے لگی جس پر اس نے ایک نظر ائیزل کو دیکھا
“تمہارے ماننے نہ ماننے سے کچھ نہیں ہوتا، جو ہونا تھا ہوگیا اب تمہارا یوں اس طرح میرے پیچھے آنا میرے تلاش کرنا مجھے سے ملنا ان سب کا کوئی جواز نہیں بنتا سنا تم نے!!!”
وہ غصے سے کہتا ہوا پلٹنے لگا جب ائیزل نے اس کا ہاتھ پکڑا
“ضوریز مت کرو میرے ساتھ ایسا میں مر جاؤں گی تمہارے بنا!!!”
ایک پل کے لیے اس کا دل دھڑکا تھا مگر جلد ہی وہ اپنی کیفیت پر قابو پانے میں کامیاب ہوگیا تھا
“ہاتھ چھوڑو میرا اور آئیندہ کے بعد میرے قریب بھی مت آنا مجھے میری تنہائی اور تمہیں تمہاری شادی شدہ زندگی مبارک ہو!!!”
وہ اس کا ہاتھ جھٹکتا ہوا وہاں سے چلا گیا جبکہ وہ پیچھے نم آنکھیں لئے وہیں کھڑی رہ گئی
“ڈیڈ یہ کیا کیا آپ نے!!! میں آپ کو کبھی معاف نہیں کروں گی”
اس نے دل ہی دل میں کچھ ارادہ کیا اور واپس گاڑی میں آ بیٹھی
“مجھے ملنا ہے تم سے کہاں ہو ابھی تم”
اس نے فون کان پر لگا کر کہا
“ایک ضروری میٹنگ میں ہوں۔۔۔ شام میں گھر آتا ہوں تو بات ہوگی۔۔۔”
ارتضیٰ نے جواب دیا اور فون بند کردیا
☆★☆★☆★☆
“یہیں پر تو رکھا تھا کہاں چلے گیا؟؟”
وہ پورے کمرے میں اپنے ڈھونڈ ڈھونڈ کر تھک گئی تھی مگر اس کا وہ پینڈینٹ کہیں بھی نہیں ملا تھا وہ جو وہاں سے گزر رہا تھا اس کی آواز سن کر اندر کی جانب آیا وہ اسے آتا دیکھ کر جلدی سے اپنا دوپٹہ ٹھیک کرنے لگی
“کیا ہوا؟؟ کیا ڈھونڈ رہی ہو؟؟”
آتش نے مختصر سا سوال کیا جس پر وہ اسے دیکھنے لگی
“ایک چیز گم ہوگئی تھی۔۔۔”
تعبیر نے انگلیوں کو مروڑتے ہوئے کہا
“کونسی چیز؟؟”
آتش نے بغور اس کا جائزہ لیتے ہوئے سوال کیا تھا وہ آسمانی رنگ کے سادہ شلوار قمیض میں ملبوس تھی جبکہ چہرے پر کوئی میک اپ نہ تھا
“اتنی کوئی اہم چیز نہیں تھی۔۔۔ آپ باہر چلیں میں بس چینج کر کے آتی ہوں۔۔۔!!!”
وہ کہتی ہوئی اس کے سوالوں سے بچنے کے لئے چینجنگ روم چلی گئی جبکہ وہ بنا کچھ کہے وہاں سے باہر چلا گیا تھا
شام کا وقت تھا جب وہ لوگ شوٹنگ کے لئے سیٹ پر پہنچے تھے تقریباً آج پانچ دن ہوچکے تھے مگر آتش نے حاشر کی تعبیر سے بات کرنے کی تمام کوششیں ناکام بنا دی تھیں یہاں تک تعبیر کے گھر کے پاس اپنے بندے لگا دیئے تھے تاکہ وہ وہاں سے اس تک رسائی نہ حاصل کر سکے
“لائٹس کیمرہ ایکشن!!!”
پروڈیوسر اور ڈائریکٹر کے اشارے پر شوٹنگ اسٹارٹ ہوچکی تھی آتش کرن کے بہت قریب تھا جبکہ حاشر ان سے تھوڑا فاصلے پر تھا
“سالار تم غلط سمجھ رہے ہو دانش بس میرا کزن ہے وہ میرے بھائیوں جیسا ہے”
کرن نے آتش کا ہاتھ پکڑ کر اسے التجائی نظروں سے دیکھا جس پر آتش نے اس کا ہاتھ جھٹکا
“دور رہو مجھ سے میں سب جانتا ہوں تم دونوں کے بارے میں۔۔۔ ارے میں تو تمہیں ایک پاک دامن لڑکی سمجھتا تھا مگر تم تو میری محبت کے لائق ہو ہی نہیں”
آتش نے سرد لہجے میں کہا جس پر وہ اسے افسوس بھری نگاہوں سے دیکھنے لگی
“کٹ کٹ!!! بریک ٹائم!!!”
کافی دیر کے بعد پروڈیوسر کے کہنے پر سب ایزی ہوکر اپنی جگہوں پر آ بیٹھے
“سر دوسرا شوٹ آپ کو اس ڈریس میں کرنا ہوگا”
وہ اثبات میں سر ہلائے تعبیر کو اپنے ساتھ آنے کا کہہ کر چینجنگ روم کی جانب بڑھ گیا
ہر بار کی طرح اس بار بھی وہ باہر کھڑی اس کا انتظار کر رہی تھی جب حاشر خانزادہ اس کے بلکل پاس آ رکا
“تعبیر کیسی ہو تم اور میری کالز کیوں ریڈیو نہیں کر رہیں؟؟ کیا ناراض ہو مجھ سے؟؟”
تعبیر اسے اچانک سے اپنے قریب آتا دیکھ کر بوکھلائی تھی
“آااپ۔۔۔یہاں میرا مطلب۔۔۔”
وہ ٹھیک سے کچھ بول بھی نہیں پارہی تھی شاید اسے آتش کا ڈر تھا حاشر اس کی ایسی کیفیت پر تھوڑا حیران تھا
“تم نے بتایا نہیں کہ تم آتش درانی کے ہاں جاب کر رہی ہو۔۔۔”
حاشر نے مختصر سا پوچھا جس پر وہ اسے دیکھنے لگی
“جی۔۔۔ مجھے جاب کی ضرورت تھی اس لئے۔۔۔”
اس نے اپنے بالوں کو کان کے پیچھے کرتے ہوئے جواب دیا حاشر کو وہ بہت پیاری لگ رہی تھی
“تعبیر تم جانتی بھی ہو وہ کیسا انسان ہے۔۔۔ تم آخر کس طرح اس جیسے شخص کے پاس جاب کر سکتی ہو؟؟ میرے کہنے کا مطلب ہے وہ ٹھیک انسان نہیں ہے میں نے تمہیں بتایا تو تھا”
حاشر اسے سمجھانے لگا جس پر وہ اسے بڑی حیرت سے دیکھنے لگی ایک تو وہ اتنی مشکلوں سے اس شخص کے پاس جاب پر راضی ہوئی تھی اب ایک اور بار اسے آتش سے ڈر لگنے لگا تھا
ابھی وہ کوئی جواب دیتی جب ایک جھٹکے سے کمرے کا دروازہ کھلا اور آتش اپنا کوٹ ٹھیک کرتا ہوا اپنے مخصوص اسٹائل سے چلتے ہوئے باہر آیا جسے دیکھ کر حاشر خانزادہ کے چہرے کا رنگ اڑ گیا جبکہ آتش اسے تعبیر کے پاس کھڑا دیکھ کر مٹھیاں بھینچ کر رہ گیا
“تم ادھر کیا کر رہے ہو؟؟ کیا اپنی وینٹی کا راستہ بھول گئے؟؟”
آتش نے ایک نظر تعبیر کو دیکھ کر حاشر خانزادہ سے سرد آواز میں سوال کیا
“نہیں میں اپنی وینٹی کا راستہ نہیں بھولا بس یہاں سے گزر رہا تھا تو تعبیر نظر آئی۔۔۔ اس لئے سوچا۔۔۔”
وہ اپنے تاثرات درست کرتا ہوا مخاطب ہوا
“بھاڑ میں جائے تمہاری سوچ آج کے بعد میری اسسٹنٹ کے آس پاس بھی نظر مت آنا ورنہ بہت برا ہوگا!!!”
اس کے آدھے الفاظ منہ میں ہی رہ گئے تھے آتش درانی نے اس کی بات کاٹ کر بڑے ہی سرد لہجے میں اپنے الفاظ کہے تھے جبکہ تعبیر خاموش کھڑی ہوئی ان کی باتیں سن رہی تھی
“یہ کس لہجے میں تم مجھ سے بات کر رہے ہو آتش؟؟ تعبیر اور میں دوست ہیں۔۔۔”
حاشر نے ایک نظر تعبیر کو دیکھ کر کہا شاید وہ تعبیر کے سامنے اپنا آپ اچھا ظاہر کرنا چاہ رہا تھا آتش کو وہ اس وقت زہر لگ رہا تھا
“میں ایسے ہی لہجے میں بات کرتا ہوں!!! اور رہی بات دوستی کی تو آج سے یہ دوستی نہیں رہے گی بہتر ہوگا تم اس سے دور رہو ورنہ۔۔۔”
آتش گمبھیر لہجے میں کہتا ہوا اپنی بات ادھوری چھوڑ کر اپنا کوٹ ٹھیک کرتے ہوئے تعبیر کا ہاتھ تھام پر وہاں سے چلا گیا جبکہ حاشر انہیں جاتا دیکھ رہا تھا
“آخر میں کس طرح اس لڑکی تک رسائی حاصل کروں!!! میرے پاس بہت کم وقت ہے مجھے ہر حال میں تعبیر کو راضی کرنا ہوگا۔۔۔”
وہ زیرِ لب کہتا ہوا موبائل پر کسی کو کال ملا کر اپنی وینٹی کی جانب بڑھ گیا
“سر پلیززز ہاتھ چھوڑیں میرا!!!”
وہ مسلسل ہلکی پھلکی مزاحمت کر رہی تھی مگر آتش کی گرفت اتنا زیادہ مظبوط تھی کہ تعبیر کو اپنا ہاتھ دکھتا ہوا محسوس ہورہا تھا آتش نے کونے میں لاکر ایک جھٹکے سے اس کا ہاتھ چھوڑا اور اسے گھورنے لگا
“میں نے منع کیا تھا نہ!!!”
وہ چلایا تھا جس پر وہ ڈری تھی
“میں نے کچھ بھی نہیں کیا وہ وہاں خود آئے تھے۔۔۔”
تعبیر اپنے دکھتے ہاتھ کو دیکھتے ہوئے دھیمے لہجے میں بولی جس پر آتش اسے دیکھنے لگا
“میری ایک بات اپنے دماغ میں بٹھالو تم اس سے دور رہوگی چاہے میں آس پاس ہوؤں یا نہیں۔۔۔آج کے بعد اگر یہ تمہارے قریب بھی نظر آیا تو شاید تمہیں میں معاف کردوں لیکن اسے میں جہنم رسید کرنے میں ذرا دیر نہیں لگاؤں گا۔۔۔”
وہ اسے انگلی سے وارن کرتا ہوا کہنے لگا جس پر وہ اسے ٹکٹکی باندھے دیکھ رہی تھی
“سر آپ کا شوٹ ریڈی ہے!!!”
لڑکے کی آواز پر وہ دونوں اس کی جانب متوجہ ہوئے ایک نظر تعبیر کو دیکھ کر وہ سیٹ کی جانب چلا گیا جبکہ وہ اس کی نظروں کا مطلب سمجھنے کی کوشش میں تھی
“لائٹس کیمرہ ایکشن!!!”
اس وقت کرن اور آتش اپنے اپنے ڈائیلاگ ادا کر رہے تھے پھر سین چینج ہونے پر معلوم ہوا کہ اگلے سین میں آتش اور حاشر کی لڑائی دکھانی تھی اس کا سن کر آتش کے چہرے پر ایک شیطانی مسکراہٹ نمودار ہوئی تھی
“سالار کیا کر رہے ہو پیچھے ہٹو!!!”
حاشر نے اسے قریب آتا دیکھ کر اپنا ڈائلاگ کہا جبکہ آتش نے ہاتھ کا زور دار مکا بنا کر حاشر خانزادہ کے گال پر رسید کیا جس پر اس سمیت سب کے سب چونک کر رہ گئے تھے کیونکہ یہ صرف شوٹنگ تھی اور شوٹنگ میں اتنی تیز ایکشن کرنے کی پرمیشن نہیں ہوتی
“کٹ کٹ کٹ!!!”
ڈائریکٹر بھاگتا ہوا ان دونوں کے درمیان آیا جبکہ آتش کے ایک مکے سے ہی اس کا گال خون سے رسنے لگا تھا تعبیر ششدر سی اسے دیکھ رہی تھی یہ تو سب کو ہی نظر آرہا تھا یہ کوئی ایکٹنگ نہ تھی
“سر آپ ٹھیک تو ہیں نہ؟؟”
حاشر خانزادہ جو اب تک زمین پر گرا ہوا تھا اب سر اٹھا کر آتش کو دیکھنے لگا ڈائریکٹر نے اسے سہارا دے کر کھڑا کیا
“جلدی فرسٹ ایڈ لے کر آؤ!!!”
حاشر کے گال پر لال نشان نمایاں تھا حاشر نے آگ ابلتی نگاہوں سے آتش کو دیکھا تھا جس فاتحانہ انداز میں ہاتھ باندھے کھڑا اب بھی غرور دکھا رہا تھا
“سر آپ نے انہیں ہلکا سا ہٹ کرنا تھا۔۔۔ یہ تو کافی گہرا زخم لگ رہا ہے۔۔۔”
ڈائریکٹر نے پریشان کن انداز میں آتش سے کہا جو یک طرفہ مسکراہٹ لئے اس منظر سے لطف اندوز ہورہا تھا اب اسے گہری نگاہوں سے اسے گھورنے لگا
“شاید تم جانتے نہیں ہو میں کون ہوں۔۔۔ میں تم سے بہتر جانتا ہوں کہ کس کو کس طرح ہٹ کیا جاتا ہے!!!”
آتش نے دھیمے مگر سخت لہجے میں کہا جس پر وہ دو قدم دور ہوا کیونکہ یہ تو سب کو ہی پتا تھا کہ وہ آتش درانی کیا تھا اور وہ کیا کر سکتا تھا
“سس سوری سر۔۔۔”
ڈائریکٹر جلدی سے معذرت کرتا ہوا واپس کیمرے کی جانب بڑھ گیا جبکہ حاشر کو اس کی وینٹی کی جانب لے گئے تھے آتش نے ایک نظر تعبیر کی جانب دیکھا جو اسے ہی دیکھ رہی تھی وہ اسے سنجیدگی سے آنکھ مارتا ہوا اپنی وینٹی کی جانب بڑھ گیا جبکہ تعبیر اس کی اس حرکت پر اس کی پشت کو گھورتی رہی گئی
☆★☆★☆★☆
وہ جب گھر میں آئی تو ارتضیٰ ڈرائنگ روم میں موجود لیپ ٹاپ میں مصروف تھا ائیزل بنا کچھ کہے خاموشی سے سامنے صوفے پر آ بیٹھی وہ ارتضیٰ کو دیکھنے لگی ویسے تو وہ دکھنے میں بلکل ٹھیک تھا لیکن اس کی حرکتیں باؤلا پن ائیزل کبھی بھی اسے شوہر کی نظر سے دیکھ ہی نہیں سکتی تھی
مسلسل اس کی نظریں خود پر محسوس کر کے وہ لیپ ٹاپ کو آف کرکے اس کی جانب متوجہ ہوا جبکہ ائیزل کچھ کہنا چاہ رہی تھی مگر کہہ نہیں پارہی تھی
“کچھ کہنا چاہتی ہو؟؟”
اس نے مختصر سا کہا جس پر ائیزل نے اثبات میں سر ہلایا
“کہو کیا کہنا ہے؟؟”
ارتضیٰ نے سنجیدگی سے پوچھا جس پر وہ کچھ سوچتے ہوئے بات کا آغاز کرنے لگی
“ارتضیٰ تمہیں نہیں لگتا ہم ایک دوسرے کے لئے بلکل بھی پرفیکٹ نہیں ہیں؟؟”
ائیزل کے سوال پر وہ ایبرو اچکائے اسے دیکھنے لگا
“مطلب کیا ہے تمہارا؟؟”
ارتضیٰ نے ناسمجھی والے انداز میں پوچھا
“مطلب صاف ہے ہم دونوں ایک دوسرے کے ساتھ زندگی نہیں گزار سکتے تم اتنے اچھے خاصے ہو تمہیں کوئی بھی اچھی لڑکی مل جائے گی تم مجھے ڈیورز کیوں نہیں کر دیتے؟؟”
ائیزل کی بات پر وہ اسے حیرت سے دیکھنے لگا جس پر آئیزل نے کندھے اچکائے
“ابھی تو ہمارا رشتہ ٹھیک سے بنا بھی نہیں اور تم ابھی سے ڈیورز کی بات کر رہی ہو۔۔۔ اسٹرینج”
اس نے اپنے عینک کو اتارتے ہوئے تعجب سے کہا جس پر وہ ایک نظر اسے دیکھ کر نظروں کا زاویہ بدل گئی
“کیا تم اب بھی اس فٹیچر انسان سے ملتی ہو؟؟ ہے کیا آخر اس میں ایسا کہ تم جیسی حسین خوبصورت لڑکی اس جیسے لفنگے۔۔۔”
آگے وہ مزید کچھ کہتا جب ائیزل اسے کھا جانے والی نظروں سے گھورنے لگی
“حد میں رہو اپنی۔۔۔”
وہ غصے سے چینخی تھی تبھی کاظم صاحب ڈرائنگ روم میں آئے وہ ساری باتیں سن چکے تھے
“دیکھ رہے ہیں آپ انکل۔۔۔ یہ میرے نکاح میں ہو کر کیسے اس آوارہ انسان کی حمایت کر رہی ہے۔۔۔”
ارتضیٰ کی بات پر کاظم صاحب ائیزل کو غصے سے گھورنے لگے
“ائیزل تم آخر چاہتی کیا ہو؟؟”
کاظم صاحب نے اونچی آواز میں سوال کیا جس پر وہ دونوں ہی اٹھ کھڑے ہوئے
“ڈیڈ میں ضوریز کو چاہتی ہوں!!!”
ائیزل نے فخر سے کہا جس پر کاظم صاحب اسے خونخوار نظروں سے گھورنے لگے جبکہ اس کی بات سن کر ارتضیٰ کا قہقہہ فضا میں بلند ہوا
“سیریسلی؟؟ چلو مان لیا تم اسے چاہتی ہو میں اگر تمہیں چھوڑ دوں تو کیا وہ تمہیں اپنائے گا؟؟”
ارتضیٰ نے چیلنج والے انداز میں اسے دیکھا جس پر وہ اس کی جانب متوجہ ہوئی
“وہ ضوریز درانی ہے۔۔۔ وہ اپنی چیز تو کیا اپنا بخار بھی کسی کو نہیں دے سکتا۔۔۔ میں تو پھر اس کی محبت ہوں!!!”
ائیزل نے بھرم سے یہ الفاظ کہے تھے جس پر کاظم صاحب آگے بڑھ کر اسے کچھ کہتے تبھی ارتضیٰ نے انہیں اشارے سے روکا اور دو قدم چلتا ہوا اس کے سامنے آ کھڑا ہوا
“اگر واقعی ایسی بات ہے تو ٹھیک ہے۔۔۔ میں بہت جلد تمہیں چھوڑ دوں گا مگر میری ایک بات یاد رکھنا وہ تمہیں کبھی بھی نہیں اپنائے گا اور جس دن اس نے تمہیں اپنا لیا میں اپنا نام بدل دوں گا!!!”
وہ اسے چیلنج کرتا ہوا اپنا لیپ ٹاپ لئے وہاں سے چلا گیا جبکہ کاظم صاحب ایک افسوس بھری نگاہ اس پر ڈالتے ہوئے اپنے کمرے میں چلے گئے اب ائیزل کو کچھ بھی کر کے ضوریز کو منانا تھا
☆★☆★☆★☆
وہ لڑکھڑاتے قدموں کے ساتھ اس کے کندھے کا سہارا لئے اپارٹمنٹ کے اندر داخل ہوا نجانے آج پورے اپارٹمنٹ میں اتنا اندھیرا کیوں تھا نہ وہاں کوئی گارڈ موجود تھا اور نہ ہی گھر کے ملازم کہیں دکھائی دے رہے تھے
تعبیر نے بامشکل اسے سامنے رکھی چیئر پر بٹھایا اور خود ملازموں کو آوازیں دیتی ہوئی وہاں سے باہر آئی مگر اب تک وہاں کوئی نہ تھا تبھی ڈرائیور نے بتایا کہ آج کے دن آتش کسی کو بھی اپارٹمنٹ پر رکنے کی اجازت نہیں دیتا اس لئے وہ لوگ پاس ایک چھوٹے سے اپارٹمنٹ پر موجود ہوں گے
“کیا کروں۔۔۔ انہیں کیسے اکیلا چھوڑوں۔۔۔”
آج شام شوٹنگ کے بعد وہ اپنے کچھ دوستوں سے ملنے چلا گیا تھا جبکہ تعبیر کو گاڑی میں ی چھوڑ کر گیا تھا مگر جب واپس آیا تو ڈرائیور اسے سہارا دے کر لا رہا تھا یقیناً اس نے کچھ زیادہ ہی ڈرنک کر رکھی تھی ابھی وہ پریشانی کی کیفیت میں ادھر اُدھر ٹہل رہی تھی جب اپارٹمنٹ کی ساری لائٹس آن ہوئیں
“سر چلیں میں آپ کو آپ کے روم میں چھوڑ دوں۔۔۔”
تعبیر نے اس کا ہاتھ پکڑ کر اسے اٹھانا چاہا اور وہ اٹھ بھی گیا وہ بامشکل اسے سہارا دیتی ہوئی سیڑھیاں عبور کر کے اسے روم میں لے آئی اور بیڈ پر بٹھا کر باہر جانے لگی
“تت تم کہاں جج جا رہی ہو تت تعبیر۔۔۔”
تعبیر جیسے ہی پلٹی آتش نے اس کا ہاتھ پکڑا اپنی بوجھل آنکھوں سے وہ اسے ہی تک رہا تھا تعبیر نے جلدی سے اپنا ہاتھ چھڑایا
“سر مجھے چینج کرنا ہے اور رات کافی ہوگئی ہے مجھے گھر جانا ہے۔۔۔”
تعبیر نے دھیمے لہجے میں کہا جس پر وہ اسے دیکھنے لگا
“پلیززز مت جاؤ۔۔۔”
وہ اپنی کھلتی بند ہوتی نیلی آنکھوں میں خماری لائے اسے دیکھنے لگا تعبیر اسے اس حالت میں دیکھ کر بہت زیادہ پریشان تھی
“سر آپ پلیززز ہوش میں رہیں آج تو کوئی ملازم بھی گھر پر نہیں آپ ایسے کیسے رات گزاریں گے۔۔۔”
اس کا مطلب وہ نہ تھا جو وہ سمجھا تھا وہ تو بس اس کی فکر کر کے یہ کہہ رہی تھی جس پر وہ مسکرایا تھا
“میں اکیلا کب ہوں۔۔۔ تم ہو نہ میرے پاس میرے ساتھ۔۔۔”
تعبیر دو قدم دور ہوئی تھی جب وہ اٹھ کر اس کے بلکل قریب آیا تھا
“سر مجھے۔۔۔ مجھے جانا چاہئے۔۔۔”
آتش کی نظر تعبیر کی خالی گردن پر تھی وہ مسکراتے ہوئے اس سے ایک قدم دور ہوا اور جیب سے ایک خوبصورت سا پینڈینٹ نکال کر اس کی جانب بڑھایا
“یہ کیا ہے ؟؟”
وہ سوالیہ نظروں سے اس پینڈینٹ کو دیکھنے لگی جو بہت خوبصورت دکھائی دے رہا تھا باریک سے ڈیزائن کے ساتھ اس میں ایک دل بنا ہوا تھا تعبیر نے اسے چھوتے ہوئے پوچھا آتش نے اس کا ہاتھ پکڑ کر اسے ڈریسنگ کے سامنے کھڑا کیا اور خود اس کی پشت پر آکھڑا ہوا
“آج صبح تت تمہارا پینڈینٹ کھو گیا تھا۔۔۔ اب سے تت تم یہی پینڈینٹ پہ پہنو گی۔۔۔”
کیا اس نے واقعی پی رکھی تھی تعبیر کو وہ شخص اب کافی بہتر لگ رہا تھا آتش نے وہ پینڈینٹ اس کے گلے میں پہنایا وہ حیرت سے اسے دیکھ رہی تھی
“اب سے یہ تمہاری نیک میں چمکتا نظر آئے ورنہ۔۔۔”
وہ اس کا رخ اپنی جانب کئے اس سے مخاطب ہوا وہ بغور اس کی نازک سی گردن کا جائزہ لے رہا تھا جبکہ لفظ ‘ورنہ’ پر اس نے زور دیا تھا جس پر وہ اس سے دور ہوئی تھی
“سر پلیززز آپ اپنا خیال رکھئے گا مجھے جانا چاہئے خدا حافظ۔۔۔”
وہ جلدی سے وہاں سے باہر نکل گئی تھی تعبیر کی دل کی دھڑکنیں بے ترتیب ہونے لگی تھیں آخر وہ اس شخص کے قریب آتی ہی کیوں تھی وہ جلدی سے اپنے کمرے چینج کر کے ڈرائیور کے ساتھ گھر آگئی تھی
وہ اپنے کمرے میں موجود شیشے کے سامنے کھڑی اپنی سانسیں بحال کر رہی تھی نجانے وہ کیوں آتش کی فکر کرنے لگی تھی وہ جو کبھی کسی کے قریب بھی نہ گئی تھی نا چاہتے ہوئے بھی وہ آتش کو خود کے قریب آنے پر روک نہیں سکتی تھی
“مت سوچو ایسی الٹی سیدھی باتیں تعبیر۔۔۔ مت بھولو یہ وہی شخص ہے جو تمہیں نیچا دکھانا چاہتا ہے۔۔۔ یقیناً یہ بھی اس ہی کے پلان کا کوئی حصہ ہوگا”
تعبیر اپنی حالت درست کرتی ہوئی بیڈ پر آ بیٹھی تب ہی شاویز کمرے میں آیا
“آپی جان مجھے آپ سے ضروری بات کرنی ہے۔۔۔”
اس کے آتے ہی وہ نارمل ہو کر بیٹھی شاویز اس کے پاس آ بیٹھا
“کہو شاویز کیا ہوا ہے؟؟”
شاویز نے تعبیر کے دونوں ہاتھوں کو تھام کر التجائی نظروں سے اسے دیکھا
“آپی آپ بابا جان سے بات کریں نہ میں مزید حریم کو اس کی دوست کے ساتھ رہنے نہیں دے سکتا یار آپی اس کی دوست کے ڈیڈ اور اس کا کزن بھی وہاں رہتا ہے مجھے یہ سب عجیب لگ رہا ہے”
اس نے منہ بناتے ہوئے کہا جس پر نا چاہتے ہوئے بھی تعبیر کی ہنسی نکل گئی
“آپ ہنس رہی ہو؟؟ یار کیا مسئلہ ہے بندا اپنی فیلنگز بھی شیئر نہیں کر سکتا۔۔۔”
وہ منہ بناتا ہوا دور ہوکر بیٹھا جس پر تعبیر نے اپنی ہنسی دبائی اور اس کے بالوں کو بکھرایا
“کیوں نہیں کر سکتے بھلہ ایک ہی تو بہن ہے تمہاری۔۔۔ اور ویسے یہ آج کل تمہارا حریم کے بنا گزارا کافی مشکل نہیں ہوتا جارہا۔۔۔”
تعبیر نے اس کی چوری پکڑتے ہوئے کہا جس پر وہ نیچے نظریں کئے مسکرانے لگا
“لگتا ہے اب ہمارا چھوٹا سا شاویز چھوٹا نہیں رہا اب تو بابا جان سے بات کرنی ہی پڑے گی۔۔۔”
تعبیر نے اس کے گالوں کو کھینچتے ہوئے کہا جس پر وہ ہنس دیا
“شکر کسی کو تو خیال آیا میرا اچھا یہ بتائیں پھر کب بات کر رہی ہیں آپ بابا جان سے؟؟”
اس نے بے صبری سے پوچھا
“کل صبح ہی کرلوں گی تم پریشان مت ہو۔۔۔”
تعبیر کی بات پر اس نے گہری سانس لی اور وہاں سے چلا گیا جبکہ تعبیر اب چینج کر کے بیڈ پر آ لیٹی اس کے ہاتھ میں آتش کا دیا ہوا پینڈینٹ تھا وہ بڑی غور سے اس پینڈینٹ کو دیکھ رہی تھی
“کتنا خوبصورت ہے۔۔۔”
بے ساختہ اس کے منہ سے یہ الفاظ نکلے وہ اس میں بنے چھوٹے سے دل کو دیکھنے لگی مگر جیسے ہی اس نے اسے ٹچ کیا وہ چھوٹا سا دل کسی جادوئی شے کی مانند کھلتا چلا گیا وہ تھا تو بہت چھوٹا لیکن بہت زیادہ قیمتی
“یہ کیا ہے؟؟”
تعبیر نے بڑی غور سے اس کے اندر لکھے الفاظ پر غور کیا جس میں چھوٹا سا ‘A’ لکھا ہوا تھا وہ حیرانگی سے اس لاکٹ کو دیکھ رہی تھی
“اس کا کیا مطلب ہوا؟؟ وہ کیوں مجھے اپنے نام کا پینڈینٹ دے رہے ہیں؟؟ وہ کیوں چاہتے ہیں کہ میں ان کا پینڈینٹ پہنوں؟؟”
تعبیر سوچوں میں گم ہوگئی تھی مگر جواب اسے کوئی نہ ملا تو اس پینڈینٹ کو بیگ میں رکھ کر آنکھیں موند گئی
☆★☆★☆★☆
وہ آج بہت خوش تھی آج اس کی زبردستی کے رشتے سے جان چھوٹنے والی تھی وہ اپنے پرجوش موڈ کے ساتھ کار ڈرائیور کرتی ضوریز کے گھر کے باہر رکی
“ضوریز آج تو میں تمہیں منا کر رہوں گی۔۔۔ اور مجھے یقین ہے تم مجھ سے راضی ہو جاؤ گے۔۔۔”
وہ گاڑی کو سائٹ پر کھڑا کر کے خود اندر کی جانب بڑھی مگر دروازہ کھلا ہوا تھا جبکہ اندر سے قہقہوں کی آوازیں آرہی تھیں
“ابے دے نہ یار۔۔۔”
ضوریز نے باضل کے ہاتھ سے ریڈ بل چھینی اور اپنے لبوں سے لگا گیا ایک لڑکی باضل کے عقب میں بیٹھی تھی جبکہ دوسری لڑکی ضوریز کے بلکل قریب بیٹھی اس کی گردن پر ہاتھ پھیر رہی تھی
“یار کیا کہتا ہے چلیں آج کلب؟؟”
باضل نے سگریٹ کے دھوئیں کو ہوا میں چھوڑتے ہوئے سوال کیا جس پر ضوریز اس کی جانب دیکھنے لگا
“کلب جا کر کیا کرنا ہے؟؟ جب مال یہاں خود چل کر آیا ہے”
ضوریز نے اپنے برابر بیٹھی لڑکی کو بالوں سے پکڑ کر خود کے بے انتہا قریب کیا جبکہ اس کی بات پر باضل کا قہقہہ نکلا
“ویسے یار تو ہے کیا چیز ہر لڑکی تیرے پیچھے پاگل پر جاتی ہے یاد ہے کل رات وہ کلب والی یاد ہے جو تیرے ساتھ یہاں تک آگئی تھی”
باضل نے تعجب سے کہا جس پر وہ یک طرفہ مسکرایا
“بہت کتی چیز ہے تیرا بھائی۔۔۔”
ضوریز کی بات پر باضل کا قہقہہ نکلا جبکہ کمرے کے باہر کھڑے وجود کی آنکھیں نم ہو چکی تھیں
“ویسے ایک بات تو بتا یار۔۔۔ اس ائیزل کا کیا کرنا ہے؟؟ میرا مطلب وہ تو تجھ سے شادی کرنا چاہتی ہے نہ۔۔۔ اب جبکہ وہ خود شادی شدہ نکلی آگے کا کیا سوچا تو نے”
باضل کے سوال پر ضوریز نے ریڈ بل کا گھونٹ بھرا اور اسے دیکھنے لگا
“کرنا کیا ہے؟؟ چھوڑ دیا اسے میں نے بھلہ ایک شادی شدہ لڑکی سے تعلق رکھ کر مجھے کیا مل جائے گا؟؟ اور ویسے بھی اگر میں مزید اس سے تعلق قائم رکھوں گا تو مزید میرے گلے پڑھ جائے گی۔۔۔ اس سے اب دل بھر گیا جان چھوٹ گئی اس سے میری کوئی اور بات کر تو”
ضوریز نے لاپرواہی سے کہا جس پر باضل اثبات میں سر ہلانے لگا جبکہ باہر کھڑی ائیزل جس کا چہرہ آنسوؤں سے بھیگ چکا تھا وہ بے یقینی سے سامنے بیٹھے ضوریز کو دیکھ رہی تھی جو کہیں سے بھی اس کا ضوریز نہیں لگ رہا تھا
“شرم نہیں آتی تمہیں ایسی بات کرتے ہوئے؟؟”
وہ اپنے رخساروں کو رگڑتے ہوئے اندر کی جانب آئی اس کی آواز پر سب چونک کر کھڑے ہوئے ضوریز نے اپنے برابر سے لڑکی کو دور کیا اور حیرانی سے ائیزل کو دیکھنے لگا
“میں سمجھتی تھی تم مجھ سے محبت کرنے لگے ہو تم ویسے نہیں ہو جیسے نظر آتے ہو مگر تم تو اس سے بھی زیادہ گھٹیا انسان نکلے ضوریز۔۔۔”
ائیزل چینخی تھی جس پر ضوریز نے نظریں جھکائیں تھیں
“یہ تھی تمہاری محبت؟؟ مجھ سے رشتہ ختم کرتے ہی تم نے اپنا دل کہیں اور بہلانا شروع کردیا؟؟ گریٹ”
ائیزل نے ایک نظر اس کے برابر کھڑی لڑکی کو دیکھا جو اسے ہی دیکھ رہی تھی
“تم ہو ہی گھٹیا انسان تم میری محبت کے بھی لائق نہیں”
اس کی بات پر ضوریز غصے سے اس کی جانب بڑھا اشارے سے اس نے سب کو باہر جانے کا کہا تو وہ لوگ وہاں سے چلے گئے
“یہ سب تم اکیلے میں بھی کہہ سکتی تھیں کیا ضرورت تھی سب کے سامنے تماشا لگانے کی؟؟”
ضوریز نے پرسکون انداز میں کہا
“تم اب بھی اپنی غلطی پر نادم نہیں ہو؟؟”
اس نے بے یقینی سے دیکھتے ہوئے پوچھا
“کیسی غلطی؟؟ یہ سب تو میرے روز کا کام ہے اب وہ الگ بات ہے تمہیں آج ہی میرے اصل روپ کا پتا چلا”
وہ پر سکون انداز میں چلتا ہوا واپس صوفے پر آ بیٹھا
“ضوریز تم جیسا گھٹیا انسان میرے اپنی پوری زندگی میں نہیں دیکھا”
“دیکھو گی بھی نہیں”
وہ آنکھ دباتا ہوا ریڈ بل کا گھونٹ بھرنے لگا
“مجھے شرم آرہی ہے خود پر کہ تم جیسے انسان کے لیے میں نے اپنے ڈیڈ کو غلط سمجھا وہ صحیح کہہ رہے تھے تم جیسے آوارہ۔۔۔”
“بس!!!”
وہ ابھی مزید اسے کچھ کہتی جب وہ چینخا تھا وہ اچانک چونکی تھی
“بہت ہوا!!! میں یہاں تمہاری بکواس باتیں سننے نہیں بیٹھا بہتر ہوگا اپنی یہ منحوس شکل لو اور نکلو یہاں سے میں کوئی تمہارے باپ کا نوکر نہیں ہوں سمجھیں نہ تم ضوریز درانی ہوں میں۔۔۔”
وہ اسے باہر کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہنے لگا تھا جس پر ائیزل نے اپنی سرخ آنکھوں کو رگڑ کر صاف کیا
“مس ائیزل کاظم تمہیں اگر یہ لگتا ہے کہ میں تم جیسی شادی شدہ عورت سے مزید تعلق قائم رکھوں گا تو یہ تمہاری غلط فہمی ہے بھلہ میں کیوں کسی اور کے مال پر نظر رکھوں۔۔۔”
وہ کمینگی سے کہتا ہوا اسے زہر لگ رہا تھا
“ریز درانی کو لڑکیوں کی کمی نہیں ہے ایسی خوبصورت لڑکیاں تو دن رات بدلتا ہوں میں”
ضوریز نے اس کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا جس پر وہ اسے دیکھنے لگی اس کے لئے اب وہاں کھڑا رہنا مزید مشکل ہوگیا تھا
“تمہیں کیا لگا؟؟ میں تمہارے عشق میں گرفتار ہوکر تمہارے باپ اور اس کزن سے لڑوں گا؟؟ بھلہ کیوں کروں گا میں ایسا؟؟ مجھے کیا ضرورت پڑھی یہ سب کرنے کی؟؟ ایک جائے گی دو آئیں گی۔۔۔ بھلہ میں کیوں تم جیسی لڑکی کے پیچھے اپنا ٹائم ویسٹ کروں”
ضوریز نے ائبرو اچکائے ڈھٹائی سے کہا ائیزل کو اب خود پر بے حد غصہ آرہا تھا
“اگر اتنے ہی پریشان تھے تو کیوں آئے میرے اتنے قریب تم؟؟ کیوں تم نے مجھ سے میری بری عادتیں چھڑوائی تھیں؟؟ رہنے دینا تھا نہ مجھے ایسے ہی جیسے میں تھی”
وہ چینخی تھی جس پر وہ ایک نظر اسے دیکھ کر دوسری جانب رخ کر گیا تھا
“یہ تو میں بھی نہیں جانتا کہ مذاق مذاق میں مجھ سے کیا کیا ہوگیا خیر تم اسے میری مہربانی سمجھ کر قبول کرو”
وہ آنکھ دباتے ہوئے کہہ کر پلٹا تھا
“اب تم جا سکتی ہو اور آئیندہ اس طرف کا رخ نہ کرنا مجھے اور بھی بہت سے اہم کام ہوتے ہیں۔۔۔”
ضوریز نے اسے باہر اشارہ کرتے ہوئے لاپرواہی سے کہا
“جارہی ہوں میں۔۔۔ تم اپنے یہ گھٹیا دھندے جاری رکھو اور بہت بہت شکریہ تمہارا مجھے اصلیت بتانے کا شاید اگر آج تم نہ ہوتے تو مجھے لوگوں کی حقیقت نہ پتا چلتی۔۔۔ خدا حافظ”
وہ واپسی کے لیے پلٹی تھی اس کا دل تیز تیز دھڑک رہا تھا اسے یہ سب ڈراؤنا خواب لگ رہا تھا مگر یہ سب حقیقت تھی
“سارا مزہ خراب کردیا۔۔۔”
وہ منہ بناتا ہوا واپس اپنی جگہ پر آ بیٹھا تھا
وہ تیز اسپیڈ میں گاڑی دوڑاتی نجانے کس سمت کی جانب بڑھ رہی تھی یہ وہ خود بھی نہیں جانتی تھی لیکن اس وقت اس کے دماغ پر جو غصہ سوار تھا شاید کچھ غلط ہونے والا تھا
وہ سامنے سے آتی گاڑی کو بچانے کے لیے گاڑی کا ٹریگر گھمانے لگی فل اسپیڈ کی وجہ سے گاڑی بے قابو ہو چکی تھی جو عقب میں واقع جنگل کی جانب بڑھی اور درخت سے ٹکرائی
جاری ہے
