Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Lams e Junooniyat (Episode 06)

Lams e Junooniyat by Areesha Khan

“آااہ…”

وہ ابھی ہاتھ بڑھا کر لائٹ ان کرنے ہی لگی تھی جب ضوریز نے اس کا ہاتھ پکڑ کر اسے اپنی طرف کھینچا وہ یکدم اس سے ٹکرائی اس ہی دوران دونوں کی بیٹ مس ہوئیں ضوریز کا ایک ہاتھ اس کی کمر پر جبکہ دوسرا ہاتھ بورڈ پر رکھ کر لائٹ آن کی تب ائیزل کو احساس ہوا وہ اس کے کس حد تک قریب تھی

“میں مر جاؤں گا؟؟ تمہارا احسان اتارے بنا؟؟ ڈونٹ وری ایسا کبھی نہیں ہوگا”

ضوریز نے اس کی ہلکی براؤن آنکھوں میں دیکھتے ہوئے کہا جہاں ہلکی نمی تھی جو شاید بانو آنٹی کی باتوں کی وجہ سے تھی ضوریز سمجھ چکا تھا جب ائیزل ہوش میں آئی اور اسے دور دھکیلتے ہوئے وہاں سے باہر نکل کر کمرے میں آئی جبکہ وہ ابھی اس ہی کے پیچھے پیچھے چل دیا

“تم یہاں سے جا رہے ہو یا زبردستی تمہیں اس کھڑکی سے نیچے دھکا دوں؟؟”

ائیزل نے اپنی کتابیں جو بیڈ پر پھیلی ہوئی تھیں انہیں مزید پھیلاتے ہوئے کہا

“ہمت ہے تو ٹرائے کرو، لیکن میں تمہارا احسان اتارے بنا یہاں سے کہیں نہیں جانے والا اوکے”

وہ ڈھٹائی کی آخری حد کو چھو رہا تھا جس پر ائیزل دانت بیچتے ہوئے اس کی طرف تیزی سے بڑھی اب منظر کچھ ایسا تھا کہ وہ دیوار سے لگا ہوا تھا اور ائیزل اس کے بے حد قریب تھی

“نمبر دو اپنا…”

ائیزل نے جیب سے فون نکال کر اس کی طرف بڑھایا اور خونخوار نظروں سے اسے دیکھنے لگی جس پر بے ساختہ ضوریز کے لب مسکرائے

“اوہ تو میڈم کو میرا نمبر چاہیے تھا تو سیدھا بول دیتیں یہ کونسا طریقہ ہے نمبر مانگنے کا؟؟”

اس نے شوخ لہجے سے کہا جس پر ائیزل نے مزید اسے گھورا

“بکواس بند کرو اور نمبر ڈائیل کرو “

“اوکے اوکے…”

وہ دھیمے لہجے میں کہتا ہوا اس کے موبائل میں اپنا نمبر ڈائیل کرنے لگا

“اب جاؤ یہاں سے مجھے جب تمہاری ضرورت پڑی بلا لوں گی تاکہ تم پر کیا ہوا احسان اتر سکے”

ائیزل دو قدم دور ہوئی اور اس کا نمبر سیو کرنے لگی

“یہ بہتر ہوگا کہ تم مجھے صبح بارہ کے بعد کال کرو کیونکہ میں دیر سے اٹھتا ہوں، البتہ اگر تم چاہو تو…… رات کے بارہ بجے بھی کر سکتی ہو میں رات دیر تک جاگتا ہوں “

ائیزل نے اسے مزید گھوری سے نوازا تو وہ نچلا ہونٹ دانت تلے دبا گیا جبکہ ائیزل اس کا نام نہیں جانتی تھی اس لیے سوچ رہی تھی کس نام سے سیو کرے تب ہی ضوریز نے موبائل چھینا

“میرا نام ضوریز دورانی ہے، پیار سے سب دونمبر آدمی کہتے ہیں، لیکن اگر تم چاہو تو پیار سے ائی مین نفرت سے میرا نیا نام بھی رکھ سکتی ہو… جیسے چرسی موالی ہیرونچی شرابی وغیرہ وغیرہ “

وہ اپنا نام سیو کر کے اسے موبائل تھمانے لگا جبکہ وہ عجیب نظروں سے اسے دیکھ رہی تھی

“ایسے نہ دیکھ پگلی…پیار…اوہ آئی مین تم جیسی کو تو پیار ہو ہی نہیں سکتا البتہ بخار ضرور ہو جائے گا”

وہ اپنی بات مکمل کرتا ہوا کھڑکی کی طرف بڑھا

“سمجھ سے باہر ہے”

وہ منہ میں ہی منمنائی مگر وہ سن چکا تھا

“سمجھ میں آؤں گا بھی نہیں البتہ دل میں ضرور آجاؤں گا…ایک دن…”

ضوریز نے یک طرفہ مسکراہٹ لئے اسے آنکھ مارتے ہوئے کہا جس پر ائیزل غصے سے لال پیلی ہوگئی تھی ابھی وہ اسے کچھ کہتی جب وہ کھڑکی سے نیچے چھلانگ لگا چکا تھا

“کوئی اتنا بے شرم کیسے ہو سکتا ہے”

“کہا تو تھا بچپن سے ہوں”

وہ بے یقینی سے بلند آواز میں کہنے لگی مگر تب ہی نیچے سے اس کی آواز آئی ائیزل پیر پٹختی ہوئی کھڑکی کی طرف بڑھی مگر وہ اپنی بائیک پر بیٹھ کر جا چکا تھا

جب اس کی نظر موبائل پر پڑھی تو نمبر کا نام دیکھ کر حیران رہ گئی جس پر نام سیو تھا اور ساتھ مسڈ کال بھی گئی ہوئی تھی

“احسان چکانے والا”

وہ سر جھٹکتی ہوئی واپس بیڈ پر آ بیٹھی اور پھر سے اپنی کتابوں کا عجیب وغریب منہ بناتے ہوئے جائزہ لینے لگی

☆★☆★☆★☆

وہ اس کو دیکھنے میں اتنا مگن ہوگیا تھا کہ اسے پتا ہی نہیں چلا کہ اس کے موبائل پر بار بار کسی کی کال آرہی تھی جبکہ تعبیر معصوم سی شکل لے کر اب تک وہیں کھڑی ہوئی تھی

“آر یو اوکے؟؟”

وہ دھیمے لہجے میں پوچھتا ہوا ایک قدم قریب آیا جب تعبیر گھبراتی ہوئی دو قدم دور ہوئی جس پر آتش ناسمجھی سے اسے دیکھنے لگا وہ بنا کچھ کہے اپنے راستے بڑھ گئی مگر وہ اب تک وہیں کھڑا اس کے فیس کے ری ایکشن کا سوچ رہا تھا مگر تب ہی اس کی دوبارا کال آئی

“اوففف میں تمہیں کب سے کال کر رہا تھا…ہاں مجھے اس سے ملنا ہے اباؤٹ شوٹ کچھ کام تھا”

وہ کال پک کرتا ہوا وہاں سے باہر چلا گیا جبکہ تعبیر اپنا ڈریس سنبھالتی ہوئی ایک روم میں آئی جو بہت زیادہ خوبصورت سا بنا ہوا تھا وہ یقیناً کسی آرٹسٹ کے استعمال میں ہوگا ایک بہت بڑا شیشا جس کے اطراف بڑے بڑے بلب لگے ہوئے تھے جن سے پورا کمرہ روشنی میں نہایا ہوا تھا

تعبیر نے اپنے ہاتھ میں پکڑا شاپر ایک سائڈ پر رکھا اور دروازہ لاک کر کے کپڑے چینج کرنے لگی

“نہیں میں پہنچ کر لوکیشن بھیجتا ہوں تم اس ہی ریسٹورنٹ آجانا”

وہ گاڑی کی طرف آکر پینٹ کی پوکٹ تلاش کرنے لگا مگر یہ کیا گاڑی کی چابی تو وہ وہیں پر بھول گیا تھا

“شٹ”

وہ بڑے بڑے ڈگ بھرتا ہوا اندر کی طرف بھاگا وہ اپنے روم کی طرف بڑھا اور ہینڈل گھمانے لگا مگر وہ لاک تھا شاید اندر سے

وہ ڈریس چینج کر چکی تھی اب وہ گھر کے سادہ کپڑوں میں ملبوس تھی وہ اپنا میک اپ صاف کر کے فیس واش کر کے روم میں آئی ہی تھی جب دروازے کی آواز پر چونکی

“کک کون ہوگا…”

وہ ڈرتی ہوئی سوچنے لگی

“کھولوں یا نہیں”

وہ خود سے سوال کرتے ہوئے دروازے کی طرف بڑھنے لگی جب اسکی نظر شیشے پر گئی جس سے اس کے بڑھتے قدم رک گئے وہ اس وقت بنا دوپٹے کے تھی

وہ جلدی سے اپنی شاپر میں ڈوپٹہ ڈھونڈنے لگی جبکہ باہر آتش مسلسل دروازہ کھولنے کی کوششوں میں تھا تعبیر نے پورا شاپر چھان مارا لیکن اسے ڈوپٹہ کہیں بھی نظر نہیں آیا

“اوففف رائمہ تم نے میرا ڈوپٹہ تو رکھا ہے نہیں”

وہ پریشانی سے ادھر ادھر دیکھنے لگی پھر کچھ سوچتے ہوئے وہ کچھ دیر پہلے پہنے ہوئے برائڈل ڈریس کا دوپٹہ نکال کر خود کو کوور کرنے لگی مگر اچانک سے دروازہ کھلا اور وہ جو غصے سے اندر آرہا تھا اسے اندر پا کر ساکت سا ہوگا

وہ اسے سرتا پیر دیکھنے لگا آف وائٹ کلر کی سادی سی شلوار کمیض جس پر ہلکے گرے پھول بنے ہوئے تھے وہ کسی مڈل کلاس گھرانے کی معلوم ہورہی تھی جبکہ لال رنگ نا برائڈل ڈوپٹہ جسے اس نے سر پر اوڑھا ہوا تھا بے

وہ اس شخص کو یوں اچانک اندر آتا دیکھ کر چونکی تھی وہ صورتحال کو سمجھنے کی کوشش کر رہی تھی جبکہ سامنے کھڑا شخص اپنے اندر طاری ہونے والی عجیب کیفیت کو سمجھنے کی کوششوں میں تھا

دھیانی میں تعبیر کا ڈوپٹہ سر و سینے سے کھسک کر زمین بوس ہوا وہ اسے دیکھتا ہی رہ گیا وہ آخر کیا تھی وہ اگر مڈل کلاس گھرانے کی تھی تو وہ اتنی زیادہ خوبصورت اور اسمارٹ کیسے ہو سکتی تھی آتش اسے نظر بھر کر دیکھنے لگا لیکن اس کے اچانک سے جھکنے پر ہوش میں آیا

تعبیر نے جھک کر اپنا دوپٹہ اٹھایا اور پھر سے سر اور سینے پر سیٹ کرنے لگی جبکہ وہ اسے سوالیہ نظروں سے گھور رہی تھی آتش بنا کچھ کہے چلتا ہوا اندر کی طرف آیا

“کک کون ہیں آپ…اور یہاں…کیوں آئے ہیں؟؟”

تعبیر کو اس خوبصورت شہزادے خوف آرہا تھا جبکہ اس کے سوال پر آتش ایبرو کا زاویہ بنائے اسے دیکھنے لگا جو اس ہی کی وینٹی میں کھڑی اس پر ہی سوال کر رہی تھی

“یہ تو مجھے آپ سے پوچھنا چاہئے مس کون ہیں آپ؟؟”

آتش کے قدم اس کی طرف بڑھے جنہیں دیکھتے ہوئے وہ پیچھے ہوئی آتش کو یہ جان کر بہت حیرانگی ہورہی تھی کہ وہ اتنا مشہور اسٹار تھا جسے دیکھنے کے لیے لاکھوں لڑکیاں مرتی تھیں اور جب آج وہ ایک لڑکی سے ٹکرایا تھا تو بجائے وہ اس پر فدا ہونے کے وہ اس سے ہی دور بھاگ رہی تھی آخر ایسا بھی ہوتا ہے کہ کوئی آتش کو نہ جانتا ہو

“مم میں کیوں بتاؤں…؟؟ کہ کون ہوں میں…”

تعبیر نے آنکھیں چھوٹی کرتے ہوئے کہا جبکہ آتش اس کے چہرے پر بکھری معصومیت کو دیکھ رہا تھا آتش کے بڑھتے قدم پر وہ پیچھے ہوئی تھی جس سے اس کا بھاری ڈوپٹہ پھر سے کھسکا تھا جسے آگے بڑھتے ہوئے اس نے تھام لیا تھا

وہ ڈوپٹہ تعبیر کی طرف بڑھانے لگا

“اوکے نہ بتاؤ…”

وہ مختصر سی بات کہتا ہوا ڈریسنگ کی طرف آیا ڈریسنگ پر اس کی کار کی کیز رکھیں ہوئی تھیں جنہیں تھام کر وہ واپس جانے لگا مگر پلٹ کر ایک نظر اسے دیکھنا نہ بھولا جو اسے ہی دیکھ رہی تھی تعبیر کے چہرے کا اڑتا ہوا رنگ دیکھ کر وہ بنا کچھ کہے وہاں سے چلا گیا جبکہ اس کے جاتے ہی وہ لمبی لمبی سانسیں بھرنے لگی

تب ہی رائمہ اسے ڈھونڈتی ہوئی اس کی طرف بڑھی

“تعبیر تم یہاں کیا کر رہی ہو؟؟”

“تم نے مجھے کہاں پھنسا دیا ہاں؟؟ تمہیں پتا ہے تمہاری وجہ سے میں کن کن رومز میں چلی گئی تھیں جہاں…”

اس کے منہ کو بریک لگا جس پر رائمہ اسے سوالیہ نظروں سے دیکھنے لگی

“خیر تم میرا ڈوپٹہ پالر بھول آئیں اب میں کیسے جاؤں گی؟؟”

تعبیر نے بات پلٹتے ہوئے بولا

“ارے نہیں پاگل ڈوپٹہ میرے بیگ میں تھا یہ لو، اور تمہیں میں نے کسی اور روم میں بھیجا تھا تم اس وینٹی میں کیا کر رہی ہو؟؟ یہ عام ماڈلز کے لیے نہیں، اب چلو یہاں سے جلدی”

رائمہ کی بات پر وہ ساکت ہوگئی یعنی یہ واقعی اس ہینڈسم نوجوان کا روم تھا وہ جلدی جلدی سے اپنا ڈوپٹہ اوڑھ کر وہاں سے چلی گئی جبکہ رائمہ بھی اس کے ساتھ ساتھ چلی گئی

☆★☆★☆★☆

“ہائے کیسے ہو شاویز…”

وہ آج یونی آتے ہی اپنی کلاس میں بیٹھ گیا تھا جبکہ حریم اسے ڈھونڈتے ہوئے یہاں آئی تھی کیونکہ وہ پہلے ہی اپنی ڈانسنگ کلاسز کی وجہ سے لیکچر مسڈ کر چکی تھی

“میں ٹھیک اور آپ حریم؟؟”

شاویز کے اس ادبی لہجے پر حریم کے لبوں پر مسکراہٹ بکھرنے لگی حریم بنا کچھ کہے اپنا بیگ لئے اس کی سیٹ پر بیٹھ گئی جبکہ شاویز کو اب اس کے پاس بیٹھنے سے کوئی پرابلم نہ تھی

“کیسا رہا آج کا لیکچر؟؟”

“ہمم بلکل اچھا”

شاویز نے مختصر سا جواب دیا وہ زیادہ کسی سے بات نہیں کرتا تھا مگر حریم نے بھی آج ٹھان لیا تھا وہ اس سے فرینڈ شپ کر کے رہے گی کچھ دیر خاموش رہنے کے بعد حریم نے پھر سے کچھ کہنا چاہا

“شاویز…”

“جی حریم جی…”

“شاویز تمہیں تین دن ہوگئے مگر تم نے اب تک کوئی دوست نہیں بنائے؟؟ کیوں؟؟”

“میں بلا وجہ کسی سے بات نہیں کرتا”

“یہ تو میں بھی جانتی ہوں شاویز لیکن تم کیا اپنے چار سال اس یونی میں بنا دوست بنائے گزار لوگے؟؟”

حریم کی بات پر شاویز تھوڑا مسکرایا

“حریم جی دوست بنانے اور دوست ماننے میں بہت فرق ہوتا ہے، آج اگر میں دوست بنا بھی لوں تو کونسا سامنے والے شخص نے مجھے دل سے دوست مان لینا ہے، یہ سب تو ٹائم پاس کے لئے ہوتا ہے اور میں اپنا قیمتی وقت ضائع نہیں کرنا چاہتا”

شاویز کی بات پر حریم نے اثبات میں سر ہلایا جبکہ شویز پھر سے اپنی کتابوں میں مصروف ہوگیا لیکن وہ بھی حریم تھی

“اچھا اگر میں کہوں کہ میں تم سے فرینڈشپ کرنا چاہتی ہوں تو؟؟”

حریم نے آج ہمت کر کے یہ کہہ ہی دیا تھا جب شاویز سنجیدگی سے اس کی طرف دیکھنے لگا

“مگر میں آپ سے فرینڈ شپ کیوں کروں گا؟؟ آپ تو لڑکی ہیں میں لڑکا ہوں…”

وہ بڑی معصومیت سے کہنے لگا

“ہاں تو کیا لڑکا لڑکی فرینڈ نہیں ہو سکتے؟؟”

“نہیں…”

وہ ابھی مزید کچھ کہتی جب شاویز نے جلدی سے کہا جس پر وہ شاویز کو دیکھنے لگی

“آا آئے مین شاید ہو سکتے ہوں لیکن میری ڈکشنری کے مطابق تو لڑکا لڑکی کبھی دوست نہیں بن سکتے…”

وہ اطراف میں نظریں دوڑاتا ہوا کہنے لگا جہاں آس پاس بہت سے کپلز بیٹھے ہوئے تھے

“اگر آپ چاہیں تو سب کچھ ہو سکتا ہے…”

حریم نے سنجیدگی سے کہا جس پر شاویز نے بنا کچھ کہے نظریں جھکالیں

“فرینڈز؟؟”

حریم نے اس کی طرف ہاتھ بڑھایا جسے وہ پہلے بھی تھام چکا تھا لیکن فرینڈ شپ کے لیے نہیں، وہ کچھ دیر یوں ہی کبھی اس کے نازک سے ہاتھ تو کبھی اس کے معصوم سے چہرے کو دیکھتا رہا مگر جب حریم نے اسے یوں اپنی طرف متوجہ پایا تو اپنا ہاتھ پیچھے کھینچ لیا

☆★☆★☆★☆

وہ آج یونیورسٹی نہیں گئی تھی رات جب حریم اپنی دوست کے گھر سے واپس آئی تھی تو پہلی بار اس نے ائیزل کو پڑھائی کرتا پایا تھا اور وہ تنا تھک گئی تھی کہ اس نے رات ہی حریم کو کہہ دیا تھا کہ وہ اسے صبح یونی کے لئے نہ اٹھائے

وہ اب تک سورہی تھی جب اس کا فون بجنے لگا جو اس کی نیند میں خلل پیدا کر رہا تھا ائیزل نے دو تین بار تو اگنور کیا پھر غصے سے موبائل اٹھا کر بنا نمبر دیکھے کان پر لگا گئی

“کون ہو تم ہاں اور کیوں صبح صبح تنگ کر رہے ہو”

وہ غصے سے بولنے لگی جبکہ نیند اب بھی اس کی آنکھوں میں تھی

“ایکسکیوز می میڈم… پہلی بات تو یہ کہ میں کون ہوں یہ آپ کو نمبر دیکھ کر سمجھ جانا چاہیے تھا اور دوسری بات یہ کہ صبح نہیں ہورہی دوپہر کے دو بج چکے ہیں”

ضوریز کی آواز کانوں میں پڑھتے ہی وہ جھٹ سے اٹھ بیٹھی اور سامنے لگی گھڑی میں ٹائم دیکھنے لگی تو واقعی دو بج رہے تھے

“کک کیا… اتنا ٹائم ہوگیا… اور میں اتنا کیسے سو گئی…مائے گوڈ…”

وہ سر پکڑے خود کلامی کرنے لگی جبکہ دوسری طرف اس شخص کے لبوں پر ہلکی سی مسکراہٹ آئی تھی

“اور تم نے مجھے کیوں فون کیا؟؟”

ابھی وہ اس ہی صدمہ میں تھی جب اسے یاد آیا

“آپ کو جگانے کے لئے…”

ضوریز نے شرارتی لہجے میں کہا جس پر ائیزل نے دانت بیچے

“بات سنو مسٹر… میں نے تمہیں اپنا نمبر اس لئے نہیں دیا کہ صبح صبح مجھے فون کر کے جگاؤ…اور تمہیں مجھے جگانے کی کوشش ضرورت نہیں مجھے یونیورسٹی جانا بھی نہیں تھا تو میں دیر سے ہی اٹھنے والی تھی”

وہ اپنی بات کو توڑ موڑ کر الٹا جوڑ کر جھوٹ بولنے لگی کیونکہ بھلے سے اسے یونی نہیں جانا تھا لیکن وہ جلدی اٹھنے والی تھی کیونکہ اسے کچھ نوٹس لینے جانا تھا

“اوہ اچھا ریلی…کاش یونی چلی جاتیں تو آج کی اناؤسمنٹ کے بارے میں عمل ہوتا”

ضوریز نے افسوس سے بھرپور لہجے میں کہا جس پر ائیزل کی آنکھیں کھلی کی کھلی رہ گئیں

“کک کیا مطلب اناؤسمنٹ؟؟”

“ہاں اناؤسمنٹ… میڈم دو دن بعد تمہارے ایکزیمز ہیں، انفیک آج تو یونی میں تمام اسٹوڈینٹس ہی گئے ہوں گے کیوں کہ آج سب نے فورم سبمنٹ کروانا تھا”

وہ جتنا پرسکون لہجے میں بتا رہا تھا اتنا اس کی ٹینشن بڑھتی جارہی تھی

“وو واٹ؟؟ کل تک تو ایسا کچھ بھی نہ تھا…تو پھر آج…”

وہ سر پکڑتے ہوئے بے یقینی سے بولی

“تم یونی میں رکو گی تو تمہیں کچھ پتا چلے گا نہ، کل تم میرے اوپر کود کر یونی سے بھاگی تھیں شاید تمہیں یاد ہو…”

ضوریز نے تنزیہ انداز میں کہا جبکہ وہ سارا غصہ بھلائے اب آگے کا سوچ رہی تھی

“مم مجھے جانا ہوگا یونی… ورنہ میرا نام…”

وہ جلدی سے بیڈ سے اٹھ کر واش روم بھاگی جلدی جلدی سے اس نے فیس واش کیا اور کپڑے چینج کرنے لگی بیچ بیچ میں اپنے آپ کو نجانے کتنا کچھ کہہ چکی تھی اس بات سے انجان کے وہ کال ڈسکنیکٹ کرنا بھول گئی تھی اور ضوریز جس کے پیٹ میں اب ہنس ہنس کر درد ہونے لگا تھا

وہ جب موبائل اٹھانے آئی تو کال لگی ہوئی تو وہ بے یقینی سے اسکرین پر دیکھنے لگی

“تت تم… تم نے اب تک کال نہیں کاٹی؟؟”

ائیزل نے بھڑکنے والے انداز میں کہا کیونکہ وہ اس کے قہقہوں کی آواز سن چکی تھی

“اوہ اوہ سوری میں نے سوچا تم خود کاٹ دو گی اس لئے…”

“اب بند کرو فون مجھے گاڑی بھی نکالنی ہے…”

“رکو… گاڑی کی کیا ضرورت؟؟ میں نیچے کھڑا ہوں نیچے آجاؤں… ویسے بھی اب تم گاڑی نکالو گی پھر صاف کرو گی چیک کرو گی وقت لگے گا…”

وہ کچھ دیر سوچنے کے بعد کھڑکی کی طرف بڑھی وہ واقعی نیچے اپنی کار کے ساتھ کھڑا ہوا اسے ہاتھ ہلا رہا تھا اس وقت اسے سب سے زیادہ فکر اپنے کام کی تھی

“وقت پر تو گدھے کو بھی باپ بنانا پڑھتا ہے”

وہ خود کلامی کرتی ہوئی اپنا بیگ لیکر نیچے بھاگی

“چلو جلدی چلو…”

وہ بھاگتی ہوئی فرنٹ سیٹ پر آ بیٹھی جبکہ وہ ڈرائیونگ سیٹ پر بیٹھ گیا اس نے نوٹ کیا تھا کہ اس کی کار پہلے سے اب کافی بہتر معلوم ہورہی تھی

“نہ سلام نہ دعا بس جلدی چلو؟؟”

وہ تنزیہ انداز میں کہتا ہوا گاڑی اسٹارٹ کر کے ڈرائیور کرنے لگا

☆★☆★☆★☆

“نہیں یار میں یہ دوبارہ نہیں کر سکتی…”

رائمہ اسے پھر سے فورس کر رہی تھی مگر وہ بار بار انکار کر رہی تھی جہاں ان کا کومپٹیشن ہوا تھا وہیں پر دو تین ہوسٹ موجود تھیں جنہوں نے انہیں اپنے شوو میں بلانے کی اور تعبیر کو ماڈلنگ کی آفر کی تھی لیکن وہ ٹہری دنیا سے الگ تھلگ لڑکی اسے ان کاموں میں اب انٹرسٹ نہ تھا یہ پھر یہ بھی کہہ سکتے ہیں کہ وہ اپنے شوق ختم کر چکی تھی

“تعبیر میں نے کہہ دیا نہ بس تم جارہی ہو تو جارہی ہو شوو کل شام ہوگا یار آپی نے اتنا بڑا کومپٹیشن ون کیا ہے اور پھر چیننل والوں نے اسپیشلی تمہیں انوائیٹ کیا ہے کچھ تو سوچا ہوگا نہ انہوں نے”

رائمہ کی بات پر تعبیر نے پھر سے اسے گھوری سے نوازا

“چھوڑو تعبیر تم ایک کام کرو مجھے ایک میک اپ آرٹسٹ کی کال آئی ہے اس نے تمہیں اپنے ساتھ کام کرنے کی بھی آفر دی ہے”

منہاس نے رائمہ کو چپ کروایا کیونکہ اسے پتا تھا تعبیر رائمہ کی کبھی بھی نہیں مانے گی

“کیسے آفر آپی؟؟ لیکن میں تو یہاں بہت خوش ہوں نہ مجھے اس ہی پالر میں کام کرنا ہے مجھے نہیں جانا کسی اور پالر”

تعبیر نے انتہائی معصومیت سے کہا جس پر رائمہ اس کے گلے لگ گئی

“ہائے میری دوست میری بہن کی پوری بات تو سن لے”

رائمہ کی بات پر منہاس ہنسنے لگی

“پوری بات؟؟”

“ہاں تعبیر میں نے انہیں تمہارے بارے میں بتایا تھا کہ تم مہندی بہت اچھی لگاتی ہو اور جو تم نے ڈیزائن بنائے تھے نہ میں نے وہ بھی انہیں سینڈ کئے تھے انہوں نے تمہیں اپنی ٹیم میں آنے کی آفر کی ہے وہ چاہتی ہیں تم ان کے لئے کام کرو”

“اوففف آپی مجھے کچھ سمجھ نہیں آرہا”

“دیکھو… تم ان کے پاس جاؤ ان سے ملو وہ تمہیں ٹیٹو بنانا سکھائیں گے اور پھر دو تین دن کی پریکٹس کے بعد تم کسٹمرز کو ٹیٹو بنایا کرنا سمپل… بہت کمائی ہے اس کام میں اور پھر تم تو اپنے ڈیزائن بناتی ہو تمہیں تو بہت کامیابی ملے گی”

ٹیٹو کا نام سن کر اس کی آنکھوں میں چمک آئی کیونکہ وہ مہندی کے ساتھ ساتھ ٹیٹو بھی بنانے کا شوق رکھتی تھی اور اس کام کے لئے وہ کبھی انکار کر ہی نہیں سکتی تھی

“جج جی ضرور میں آج ہی بابا جانی سے پوچھ کر آپکو…”

“اسکی کوئی ضرورت نہیں میں نے افتخار انکل سے بات کرلی ہے”

ابھی تعبیر کچھ کہتی جب منہاس کی بات پر چونکی

“منہاس آپی لیکن میں نے فلحال اس کے بارے میں کچھ سوچا نہیں تھا”

“سوچنا کیا ہے؟؟ تم بس ان کے ساتھ کام کرو کسٹمرز آئیں گے انہیں ان کی پسند کے مطابق ٹیٹو ڈیزائن کرو بس…”

“مم مگر میں یہ کام صرف فی میلز کے لئے کروں گی وہ بھی تب جب وہ خود وہاں آئیں گی”

وہ ہچکچاہٹ کا شکار ہوئی کیونکہ اکثر ایسا ہوتا تھا کہ کچھ لوگ ٹیٹو بنوانے والوں کو گھر پر ہی بلا لیتے تھے

“تم بلکل پریشان نہ ہو تعبیر ہم ہیں نہ ہم ان سے بات کرلیں گے”

منہاس کی بات پر اسے تھوڑی ہمت ملی تو وہ مسکرانے لگی جبکہ رائمہ پھر سے اس کے گلے لگ گئی

“میری سینوریٹا بہت آگے جائے گی…”

“اچھا تعبیر میں کہہ رہی تھی تم لوگ آج شام شاپنگ کر آؤں کیونکہ ہمیں شوو میں جانا ہے کل شام تو تمہارا اچھی ڈریسنگ کرنا ضروری ہوگا، کریڈٹ کارڈ میرا لے جانا”

منہاس کی بات پر تعبیر نے اثبات میں سر ہلایا جبکہ رائمہ تو اب تک اسے گلے لگائے بیٹھی تھی جس پر پالر میں کام کرنے والی ساری لڑکیاں ہی ہنس رہی تھیں

☆★☆★☆★☆

“اوفففف بند کرو اسے، الریڈی اتنی پریشان ہوں میں”

وہ سلو اسپیڈ میں گاڑی چلاتے ہوئے فل میوزک میں گانے لگائے گنگنا رہا تھا جبکہ ائیزل کے اب برداشت سے باہر ہو چکا تھا وہ غصے سے سامنے لگی یو ایس بی ڈیوائسز کے بٹن کو تقریباً مکا مارنے سے انداز میں بند کر گئی جبکہ وہ اچانک سے چونک کر اسے دیکھنے لگا

“اوہ میڈم غصہ کس بات کا دکھا رہی ہو؟؟ خود ہی سوئی پڑی ہوئی تھیں میں نے ہی آ کر جگایا ہے، اور اب مجھ ہی پر غصہ دکھا رہی ہو؟؟”

ضوریز نے گاڑی سڑک کے کنارے روکی جس پر گاڑی ایک جھٹکے سے رکی

“تو احسان نہیں کیا ہے تم نے مجھ پر سمجھے اور تم جو اتنی تیز میوزک چلا رہے ہو دماغ پھٹ رہا ہے میرا، ایک تو پہلے ہی بہت دیر ہو چکی ہے اوپر سے تم اتنا مر مر کے گاڑی چلا رہے ہو اگر اتنی ہی کھٹارا گاڑی تھی تو لائے ہی کیوں؟؟ تم رہنے دو، میں خود ٹیکسی کر کے جاری ہوں مجھے نہیں جانا تمہاری کھٹارا گاڑی میں”

وہ بنا اسے موقع دیئے بولی جارہی تھی جبکہ ضوریز کے چہرے پر سخت تاثرات نمایاں ہو چکے تھے اپنی گاڑی کو کھٹارا کا لفظ استعمال کرنے پر اس کا خون کھولنے لگا تھا ابھی وہ کار کا دروازہ کھولتی جب ضوریز نے اسے ایک جھٹکے سے پیچھے کیا اور سیٹ بیلٹ باندھنے لگا

ابھی وہ نا سمجھی سے اسے دیکھ رہی تھی جب دونوں کی نظریں ملی تھیں اسے اپنے اتنا قریب پا کر ائیزل کی دھڑکنیں تیز ہونے لگی تھیں جبکہ وہ اب تک سخت تاثرات لئے اسے گھور رہا تھا ایک جھٹکے سے اسے پیچھے کر کے وہ خود ڈرائیونگ سیٹ پر ایڈجسٹ ہوا

“تو تمہیں لگتا ہے میری گاڑی کھٹارا ہے رائٹ… تو یعنی تمہیں اپنی گاڑی کی پاوور دکھانی پڑے گی”

ضوریز نے سخت لہجے میں کہتے ہوئے ہاتھ اسٹیرنگ پر جمائے اور کلٹخ دباتے ہوئے ایک جھٹکے سے گاڑی بھگائی

اب حال کچھ یوں تھا کہ وہ اپنے اڑھتے ہوئے بالوں کو سنبھالنے میں مصروف تھی اور ساتھ ہی ساتھ اسے گھورنے سے بھی نواز رہی تھی جو فل اسپیڈ کے گاڑی بھگا رہا تھا جیسے کوئی کار رائڈر رہ چکا ہو

“میڈم…؟؟ ہم پہنچ گئے”

وہ جو اب آنکھیں مینچے بیٹھی تھی اس کا لمس اپنے کندھے پر محسوس کر کے جھٹ سے آنکھیں کھول گئی

“مہربانی… اور اب تم جا سکتے ہو میں ٹیکسی کرلوں گی”

وہ پیر پٹختی ہوئی اس کی گاڑی سے نکلی اور یونی کے گیٹ سے اندر چلی گئی جبکہ ضوریز اس کی اسپیڈ پر یک طرفہ مسکراہٹ لئے وہیں بیٹھا رہ گیا

☆★☆★☆★☆

“اے ڈی بازیگر اے ڈی بازیگر اے ڈی بازیگر اے ڈی بازیگر…”

وہ آج پہلی بار کسی عام سے مال میں گیا تھا ابھی وہ گاڑی سے نکالا ہی تھا جب سب نے شور مچانا شروع کردیا ہر طرف لوگوں نے اسے گھیر لیا دور دور سے لوگ اس کی پکچرز بنانے لگے

“سر پلیززز ایک پکچر، سر آٹوگراف پلیز…سر پلیززز آئی ایم یوور ڈائے ہارٹ فین پلیززز ایک پکچر بنوالیں”

نجانے کتنے لوگ اس کے آس پاس کھڑے ہوئے تھے جبکہ وہ چہرے پر ایک خاص اٹیٹیوڈ لئے سب کو ہاتھ سے ہیلو کہہ رہا تھا جبکہ اس کے گارڈز اس کے گرد مجموعہ کنٹرول کرنے کی کوشش میں تھے

وہ لوگ رکشے سے اتری ہی تھیں جب تعبیر کی نظر مال کے گیٹ پر گئی جبکہ رائمہ رکشے کا کرایا دینے لگی اتنا رش دیکھ کر تعبیر کا دل دھڑکنے لگا جبکے چہرے پر اس کے تاثرات ایسے تھے جیسے واقعی کچھ بہت برا ہوا ہو

“رر رائمہ…دد دیکھو… مجھے لگ رہا ہے… وہاں کچھ ہوگیا ہے…”

رائمہ نے اپنی چادر ٹھیک کی اور اس کی انگلی کے اشارے پر سامنے دیکھنے لگی

“ہیں یہاں کیا ہو سکتا ہے؟؟”

“شاید کسی کا ایکسیڈنٹ… یی یا پھر کچھ اور…”

تعبیر نے اپنے سینے پر ہاتھ رکھا جبکہ رائمہ اسے بور انداز میں دیکھ رہی تھی

“اوہ کم آن پاگل لڑکی ڈرو مت چلو چل کر دیکھتے ہیں کہ کیا ہوا ہے…”

رائمہ نے اس کا ہاتھ پکڑا اور اس مجموعہ کی طرف بڑھی مگر وہاں اتنے لوگ تھے کہ کوئی انہیں راستہ دینے کو تیار ہی نہ تھا جبکہ تعبیر کو اتنے لوگوں میں گھٹن محسوس ہورہی تھی اس لئے وہ اس کا ہاتھ چھڑا کر دور کھڑی ہوگئی جبکہ رائمہ کو جگہ نہ ملنے پر وہ خود بھی تعبیر کے ساتھ کھڑی ہوگئی

رائمہ اوچھل اوچھل کر دیکھنے لگی آخر ہوا کیا ہے تب اسے لگا شاید کوئی کھڑا ہوا ہے کوئی بہت ہی حسین سا

“یار لگتا ہے کوئی اسٹار آیا ہوا ہے تم تو ایویں ڈر رہی تھیں”

“کیا مطلب اسٹار؟؟”

“ہاں نہ کوئی سیلیبریٹی آیا ہوا ہے بدھو تن تو ایویں پریشان ہو گئی تھیں.”

رائمہ کی بات پر تعبیر نے آنکھیں گھمائی تب ہی رائمہ یک دم چینخی جس سے تعبیر یک دم ڈری

“یاہوووووو…بازیگر…”

وہ پاگلوں کی طرح اچھل رہی تھی جب تعبیر اسے نا سمجھی سے دیکھنے لگی تقریباً وہاں کھڑے سب لوگ ہی اس وقت پاگل لگ رہے تھے سوائے تعبیر کے

“کیا ہوگیا رائمہ ؟؟ سب دیکھ رہے ہیں”

تعبیر نے اسے آنکھیں دکھائیں

“کوئی نہیں دیکھ رہا یار سب اس ہی کو دیکھ رہے ہیں. دیکھو سامنے کون ہے…”

“کون؟؟”

“فلم انڈسٹری کا شہزادہ…بلکہ بادشاہ بازیگر…”

“وہ کون ہے؟؟”

تعبیر کے سوال پر رائمہ منہ کھولے اسے دیکھنے لگی

“تمہیں یہی نہیں پتا؟؟ یار آتش دورانی…پاکستانی لڑکیوں کا پرمننٹ کرش…اور میرا بھی”

رائمہ کی بات پر تعبیر نے سامنے دیکھنے کی کوشش کی کیونکہ اسے کچھ نظر نہیں آرہا تھا نہ ہی وہ آتش دورانی کو جانتی تھی

“رائمہ یہ کیا کر رہی ہو؟؟”

“تم چپ کرو اور یہ میرا پرس پکڑو میں ابھی آئی…”

رائمہ نے تعبیر کا ہاتھ پکڑا اور اسے مال کے اندر چھوڑ آئی جبکہ تعبیر کی نظر اب اس پر پڑی تو وہ دیکھتی ہی رہ گئی

“یہ تو وہ…”

وہ پہلی نظر میں ہی اس پہچان گئی تھی جبکہ آتش اب تک اپنے فینز کی طرف متوجہ تھا آتش نے یک طرفہ مسکراہٹ اچھالی تو جیسے وہاں اُدھم مچ گیا اس کے مسکرانے کی دیر تھی ہر طرف آتش آتش کا شور ہوگیا نجانے کتنی لڑکیاں اس سے ملنے کے لئے مر رہی تھیں

ایک سرسری نظر آتش نے مال کے گیٹ کی طرف دوڑائی تو ایک بار پھر اس کی نظر تعبیر کی نظروں سے ملی تھی تعبیر کو یقین نہیں آرہا تھا یہ اس کا وہم تھا یا پھر حقیقت

بلیک تھری پیس سوٹ میں وہ کسی بڑی سی سلطنت کا شہزادہ لگ رہا تھا ساتھ ہی اس کی آنکھوں پر کالا چشمہ جو اس نے تعبیر کو دیکھنے کے لیے اب اتارنا ہی شروع کیا تھا اس کی بلیو ائیز تعبیر کی براؤن آئیز سے ٹکرائی تھیں

نجانے کیوں تعبیر اس کی نظروں کی تپش سے گھبرائی تھی اس کا دل دھڑکنے لگا تھا جب اسنے اپنے سینے پر ہاتھ رکھا تھا نا چاہتے ہوئے بھی آتش کا ہاتھ اپنے دل کے مقام پر گیا تھا اسے آج پہلی بار اپنا دل دھڑکتا ہوا محسوس ہوا تھا

ہر طرف اس کا نام لیا جارہا تھا لوگ اس کی ایک ایک جھلک پر مر مٹ رہے تھے وہ ہر اک کی نظروں کا مرکز بنا ہوا تھا لیکن اس کی نظریں صرف اس معصوم سی لڑکی کے نازک سے وجود پر تھیں

جاری ہے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *