Lams e Junooniyat by Areesha Khan NovelR50533 Lams e Junooniyat (Episode 41)
Rate this Novel
Lams e Junooniyat (Episode 41)
Lams e Junooniyat by Areesha Khan
صبح کا وقت تھا جب کھڑکی سے آتی سورج کی کرنیں اس کی بند آنکھوں پر پڑھیں تھیں اسے بیدار کر گئی تھیں وہ کچھ دیر تو یوں ہی لیٹ کر چھپ کو گھورتا رہا پھر کچھ سوچتے ہوئے اٹھ بیٹھا مگر جب جلن کا احساس ہوا تو نظر ہاتھ پر گئی جو کل جل گیا تھا اب اس پر پٹی بندھی ہوئی تھی
“جی ہاں اگلے ایک ہفتے تک سر آتش کسی بھی شوٹ پر نہیں آئیں گے۔۔۔”
وہ کل ہونے والے واقعے کے بارے میں سوچ رہا تھا تبھی تعبیر کی آواز سنائی دی جو کان پر موبائل لگائے اندر آرہی تھی اسے بیٹھا دیکھ کر کال ڈسکنیکٹ کرکے اس کی جانب بڑھی
“آپ کب جاگے۔۔۔ طبیعت کیسی ہے آپ کی۔۔۔”
تعبیر نے نرمی سے سوال کیا جس پر وہ اسے دیکھنے لگا
“بس ابھی۔۔۔ میں۔۔۔ ہاں ٹھیک ہوں۔۔۔”
اپنی ایسی طبیعت کو لے کر وہ تھوڑا پریشان تھا مگر تعبیر اب اس کی حالت سے باخبر ہو چکی تھی
“آپ تھوڑی دیر بعد فیس واش کرلیے گا میں بریک فاسٹ ریڈی کرواتی ہوں۔۔۔”
تعبیر جیسے ہی جانے لگی آتش نے اس کا ہاتھ پکڑا وہ بوکھلا کر پلٹی تھی آتش مسلسل اسے ہی دیکھا جارہا تھا
“تعبیر۔۔۔ وقت کیا ہوا ہے؟؟”
“بارہ بج رہے ہیں۔۔۔”
تعبیر کے جواب پر وہ کچھ دیر زمین کو گھورتا رہا مگر ہاتھ اب تک پکڑ رکھا تھا
“تعبیر مجھے نماز پڑھنی ہے میری ہیلپ کردوگی؟؟”
آتش نے التجائی نظروں سے اسے دیکھا جس پر وہ بہت حیران ہوئی
“سر مگر ابھی تو اذان میں کافی وقت باقی ہے۔۔۔”
تعبیر نے ایک نظر اپنے ہاتھ پر ڈال کر کہا جیسے ہاتھ چھڑانا چاہ رہی ہو تعبیر کے دیکھنے پر آتش نے اس کا ہاتھ چھوڑا
“ہاں تب تک میں فریش ہوجاؤں گا۔۔۔”
آتش جیسے ہی اٹھنے لگا اس کا سر گھومتا محسوس ہورہا تھا آگے بڑھ کر تعبیر نے اسے سہارا دیا
“سر پلیززز آرام سے۔۔۔”
“میں ٹھیک ہوں تعبیر۔۔۔ مجھے فریش ہونا ہے کیا تم مجھے میرے کپڑے لادو گی روم سے؟؟ میں وہاں نہیں جانا چاہتا۔۔۔”
آتش نے سنجیدگی سے کہا جس پر تعبیر اسے دیکھنے لگی
“جی میں لا دیتی ہوں لیکن پلیززز آپ اپنے زخم پر کوئی پلاسٹک لپیٹ لیں ورنہ یہ زخم خراب ہو جائے گا۔۔۔”
تعبیر کی بات پر اس نے اثبات میں سر ہلایا تعبیر اسے باتھ کے باہر چھوڑ کر روم سے چلی گئی تھی
پہلے تو اس نے شاور لیا پھر بُرش کیا اب اسے اپنا وجود کافی ہلکا محسوس ہورہا تھا شاور لینے کے بعد اس نے بریک فاسٹ کیا تعبیر نے اسے ڈاکٹر کی لکھی ہوئی دوائیاں دیں اب وہ اپنے روم میں آرام کر رہا تھا جب اسے پھر سے اپنے پاس وہی شراب کی بو محسوس ہوئی
وہ ہڑبڑا کر اٹھ بیٹھا ظہر کی آواز کا وقت ہوچکا تھا وہ وضو کر کے جائے نماز پر آکھڑا ہوا تعبیر جب اس کے روم میں آئی تو اسے نماز پڑھتا دیکھ کر کافی خوش ہوئی تھی اور خود بھی نماز ادا کرنے کی نیت سے اپنے کمرے میں چلی گئی تھی
آتش نماز کے دوران اپنے اندر ایک عجیب قسم کا سکون اترتا محسوس کر رہا تھا جیسے اس کے جسم کے ساتھ ساتھ اس کی روح بھی پاک ہورہی ہو اب اس نے دعا کے لئے ہاتھ اٹھائے تھے
“اے میرے رب۔۔۔ میں بہت گناہگار ہو۔۔۔ میں نجانے کتنے سالوں سے حرام اپنے جسم میں اتارتا آرہا ہوں۔۔۔ مجھے نفرت ہورہی ہے اپنے وجود سے۔۔۔ اب تک جتنا حرام میں اپنے پیٹ میں بھرتا آرہا ہوں وہ اب میرے سینے میں ایک بھاری بوجھ کی طرح محسوس ہورہا ہے۔۔۔ کیا مجھے اس بوجھ سے آزادی نہیں مل سکتی؟؟”
وہ اپنے رب کے حضور ہاتھ اٹھائے دعا کرنے لگا اسے واقعی اپنے سینے پر ایک عجیب سا بوجھ محسوس ہورہا تھا جسے دور کرنے کے لیے نماز پڑھنا ضروری ہوگئی تھی
“کیا میری دعا قبول ہو سکتی ہے؟؟ مانا کہ میں تعبیر جتنا پاک نہیں ہوں لیکن۔۔۔ میں نادم ہوں۔۔۔ اپنے کئے پر میں نادم ہوں۔۔۔ میری غلطی عادتوں نے مجھے قید کر رکھا ہے۔۔۔ مجھے اس قید سے رہائی چاہئے۔۔۔ کیا مجھے اس قید سے آزادی مل سکتی ہے؟؟ میں نے اب تک صرف سکون چاہا ہے مگر آج آزادی مان رہا ہوں۔۔۔ کیا میری یہ دعا قبول ہو جائے گی؟؟”
پر کشش نیلی آنکھوں سے بہتے آنسوں چہرے کو تر کر چکے تھے وجود کپکپاہٹ کا شکار تھا وہ اپنے لرزتے لبوں کے ساتھ فریاد کر رہا تھا آج وہ پوری طرح سے اپنے رب سے رابطے کی کوشش کر رہا تھا شاید اسے جواب مل جائے۔۔۔ شاید اسے سکون مل جائے۔۔۔ شاید اسے اپنے گناہوں سے آزادی مل جائے۔۔۔
تمام دعائیں کرنے کے بعد وہ بیڈ پر نیم دراز ہوا کیونکہ حالت اب بھی ناساز تھی تبھی چکراتے سر کے ساتھ وہ آنکھیں موند گیا
☆★☆★☆★☆
“ڈیڈ؟؟ آپ آفس نہیں گئے؟؟ خیریت؟؟”
وہ جو آج آفس نا جانے کا ارادہ رکھتی تھی کاظم صاحب کو مزے سے صوفے پر براجمان دیکھ کر ان کے پاس آ بیٹھی وہ ٹی وی سے نظریں ہٹائے اسے دیکھنے لگے
“نہیں آج میں آفس نہیں جارہا۔۔۔”
ان کا موڈ کافی خوشگوار لگ رہا تھا جس پر ائیزل نے انہیں انہیں چھوٹی کرتے ہوئے دیکھا
“کیوں خیریت۔۔۔ کیا آج کوئی خاص بات ہے؟؟”
ائیزل کے پوچھنے پر انہوں نے ٹی وی آف کیا اور اس کی جانب متوجہ ہوئے
“ہاں بھئی ارتضیٰ کی کال آئی تھی کہہ رہا تھا شادی کی تیاری شروع کریں۔۔۔ دو مہینے سے بھی کم وقت رہ گیا ہے۔۔۔ اور اتنے سارے کام باقی ہیں۔۔۔”
وہ پرجوش انداز میں کہتے ہوئے مسکرانے لگے مگر کچھ پل کے لیے ائیزل کا چہرہ مرجھا سا گیا تھا اسے اپنا آپ کسی گہرے سمندر میں ڈوبتا ہوا محسوس ہورہا تھا
“ائیزل میں کہہ رہا تھا تم آفس کے کام چھوڑو اور شادی کی تیاری شروع کردو۔۔۔ دیکھو بیٹا ابھی بھی کافی وقت پڑا ہے ابھی سے تیاری کرنا شروع کروگی تو ان دو مہینوں میں کافی کچھ مکمل ہوجائے گا۔۔۔ پھر ارتضی جیسے ہی پاکستان آئے گا ہم شادی کر دیں گے ۔۔۔”
کاظم صاحب نے اسے خاموش دیکھ کر کہا تو وہ ہوش میں آئی اور اثبات میں سر ہلانے لگی تبھی حریم بھی وہاں آئی
“ارے آؤ حریم۔۔۔ ابھی میں یہی سوچ رہا تھا تم دونوں مل کر شادی کی تیاری شروع کردو۔۔۔”
کاظم صاحب کی بات پر حریم ائیزل کو دیکھنے لگی جو سر جھکائے بیٹھی تھی بظاہر وہ نارمل دکھ رہی تھی مگر دل میں آج بھی اس کے بہت درد تھا
“جی انکل آپ بے فکر رہیں میں سب کر دوں گی۔۔۔”
حریم نے مسکراتے ہوئے کہا جس پر وہ بھی مسکرائے تبھی اس کا موبائل بجنے لگا
“لو بھئی بڑی لمبی عمر ہے میرے داماد کی۔۔۔ ابھی سوچ ہی رہا تھا کال آگئی۔۔۔ اچھا میں بات کر کے آتا ہوں تم دونوں بیٹھ کر شاپنگ کے بارے میں تھوڑا ڈسکس کرلو۔۔۔”
کاظم صاحب اپنی بات مکمل کر کے وہاں سے چلے گئے
“کیا ہوگیا ائیزل کیوں منہ لٹکائے بیٹھی ہو؟؟”
ائیزل کو چپ دیکھ کر حریم نے اسے مخاطب کیا جس پر وہ سنجیدگی سے اسے دیکھنے لگی
“کچھ نہیں ہوا یار۔۔۔ کیا ہوگا۔۔۔ بس سوچ رہی تھی کتنی جلدی شادی قریب آگئی۔۔۔ پتا بھی نہیں چلا نہ۔۔۔”
ائیزل نے بیزاری سے کشن اٹھا کر گود میں رکھتے ہوئے کہا
“اففف اللّٰہ لڑکی شکر کرو ابھی بھی دو مہینے باقی ہیں۔۔۔ خیر یہ بتاؤ کیا سوچا تم نے کیسا ڈریس بنواؤ گی؟؟ دیکھو ہمیشہ تم نے یہ بوئز والے کوسٹیم پہنے ہیں مگر اس بار ایسا نہیں چلے گا۔۔۔ برائڈ ہو یار تم۔۔۔ بھاری بھرکم لہنگا بنوانا پڑے گا اس بار۔۔۔”
حریم کی باتیں وہ خاموشی سے سن رہی تھی مگر دل میں تو کچھ اور ہی تھا حریم سمجھ چکی تھی وہ کیا سوچ رہی تھی
“ائیزل کیا تم اب بھی انہیں۔۔۔ میرا مطلب۔۔۔ انہیں یاد کرتی ہو؟؟”
حریم نے نرمی سے سوال کیا ائیزل خالی نظروں سے اسے دیکھنے لگی
“میرا تو پتا نہیں لیکن وہ ضرور بھول چکا ہوگا۔۔۔ اس کے آگے پیچھے نجانے کتنے ایسے لوگ ہوں گے جن سے اس کا دل لگا ہوا ہوگا۔۔۔ بھلہ اسے میری یاد بھی کیوں آئے گی۔۔۔ کوئی معن نہیں رکھتی تھی میں اس کی زندگی میں۔۔۔ میرا کوئی کردار نہ تھا۔۔۔ نہ کوئی اہمیت۔۔۔”
ائیزل کا لہجہ انتہائی اداس تھا حریم اس کا دکھ محسوس کر کے خود بھی اداس ہو چکی تھی مگر اس وقت اسے ائیزل کو سنبھالنا تھا نہ کہ خود منہ لٹکا لینا تھا
“ائیزل میرا دل کہتا ہے آگے سب کچھ ٹھیک ہو جائے گا تم اللّٰہ پر بھروسہ رکھو یار۔۔۔ اور اب یہ موڈ ٹھیک کرو اپنا چلو اباوٹ شاپنگ کچھ ڈسکشن کرنی ہے ۔۔۔”
حریم نے اس کا دھیان باتوں میں لگانا چاہا اور وہ کامیاب بھی ہو چکی تھی
☆★☆★☆★☆
“سلام سسر جی کیا حال ہے”
ضوریز کی رعب دار آواز پر انہوں نے ایبرو اچکائیں
“تم سے تو تمیز سے سلام دعا کی توقع کوئی رکھے ہی نہ”
کاظم صاحب کی بات پر ضوریز نے ایک زور دار قہقہہ لگایا جس پر کاظم صاحب کے چہرے کے تاثرات مزید سخت ہوئے
“ارے سسر جی۔۔۔ بھلہ اتنی بےجہ توقع کیوں لگائے بیٹھے ہیں آپ اپنے داماد سے۔۔۔ کتنی بار کہا ہے یہ ناچیز آپ کی توقعات پر کبھی نہیں اترنے والا”
ضوریز نے اپنے مخصوص انداز میں کہا جس پر کاظم صاحب کے چہرے کے تاثرات مزید بگڑے
“خیر بتاؤ کیسے یاد کیا؟؟”
کاظم صاحب نے سر جھٹکتے ہوئے پوچھا تو ضوریز بھی سنجیدہ ہوا
“کہنا یہ تھا کچھ وقت کے لیے آپ کا داماد آؤٹ آف کنٹری جارہا ہے۔۔۔ ہو سکتا ہے میرے جانے کے بعد وجاہت درانی صاحب پاکستان آجائیں۔۔۔ تو یاد رہے انہیں اس بارے میں کچھ بھی پتا نہیں چلنا چاہئے۔۔۔ میں نہیں چاہتا کہ وہ بےجہ اپنا حق جتانے آجائیں”
ضوریز کی بات پر کاظم صاحب نے ایبرو کا زاویہ بنایا
“تو کیا مطلب؟؟ تم چاہتے ہو اتنا کچھ ہونے کہ بعد بھی میں وجہی کو اس کی بیٹی سے دور رکھوں؟؟ ضوریز کس بات کی سزا دے رہے ہو اپنے باپ کو؟؟ باپ ہے وہ تمہارا۔۔۔ کوئی ہم عمر دوست یار نہیں ہے۔۔۔ سمجھے نہ تم۔۔۔”
کاظم صاحب نے اسے سخت لہجے میں کہا تو بجائے وہ غصہ ہونے کے پھر سے قہقہہ لگانے لگا جس پر انہوں نے اپنا سر پکڑلیا
“یہ لڑکا کبھی نہیں سدھرے گا۔۔۔”
وہ تاسف سے کہہ کر لان میں رکھی کرسی پر بیٹھ گئے جبکہ دوسری طرف اب تک قہقہہ سنائی دے رہے تھے
“ویسے تمہارے آؤٹ آف کنٹری جانے کا حریم جو علم ہے؟؟ یا اسے بھی نہیں پتا؟؟”
کاظم صاحب کے پوچھنے پر اس کا قہقہہ بند ہوا
“اسے فلحال نہیں پتا مگر میں جانے سے پہلے ملوں گا اس سے بھی اور۔۔۔”
وہ کہتے کہتے رکا
“دماغ ٹھیک ہے تمہارا؟؟ وہ جان سے مار دے گی تمہیں۔۔۔ اگر اس کے سامنے بھی آئے تم۔۔۔”
کاظم صاحب نے ضوریز کو وارن کیا تو پھر سے وہ ہنسنے لگا
“ارے سسر جی مزاق کر رہا تھا ڈونٹ ٹیک آن یوور برین جو کہ آپ کے پاس ہے ہی نہیں۔۔۔”
اپنی بات مکمل کر کے ایک زور دار قہقہہ لگاتے ہوئے وہ فون بند کر گیا تھا جبکہ کاظم صاحب اب اپنا سر پیٹ رہے تھے
“کیا بنے گا میری بیٹی کا۔۔۔”
وہ سر جھٹک کر واپس اندر کی جانب بڑھ گئے
☆★☆★☆★☆
“تعبیر بی بی۔۔۔ آتش صاحب کیسے ہیں۔۔۔”
ایک پرانے ملازم کے پوچھنے ہو وہ اسے دیکھنے لگی
“اب کافی بہتر ہیں شکر اللّٰہ پاک کا۔۔۔ شاید آرام کر رہے ہوں گے۔۔۔”
تعبیر نے نرمی سے جواب دیا جس پر وہ اثبات میں سر ہلانے لگے
“ویسے تعبیر بی بی۔۔۔ مانا کہ آتش صاحب کی طبیعت کافی خراب ہوگئی تھی لیکن وہ بدل رہے ہیں۔۔۔”
ملازم کی ذومعنی بات پر وہ نا سمجھی سے انہیں دیکھنے لگی
“بدل رہے ہیں مطلب؟؟”
تعبیر کے سوال پر وہ گردن جھکا کر مسکرائے جس کا مطلب وہ نا سمجھ سکی
“جب سے آپ آئی ہیں نہ تعبیر بی بی۔۔۔ ہمارے آتش صاحب دھیرے دھیرے کر کے بدل رہے ہیں۔۔۔ وہ اب نماز بھی پڑھنے لگے ہیں۔۔۔ اور آپ جانتی ہیں انہوں نے نہ صرف اپنے کمرے سے بلکہ اس پورے گھر سے شراب کی بوتلیں نکال کر کوڑے میں پھینک دینے کا حکم دیا ہے۔۔۔ وہ بہتری کی جانب آرہے ہیں۔۔۔”
جس پرجوش انداز میں وہ یہ بات بتا رہے تھے ان کے چہرے پر بکھری مسکراہٹ تعبیر سمجھ چکی تھی واقعی تمام ملازمین آتش کی اس بات پر بہت خوش تھے وہ بہتر ہورہا تھا شراب چھوڑ دینا نماز کی طرف آجانا یہ کوئی عام بات نہیں تھی
“بس آپ دعا کریں وہ بلکل ٹھیک ہو جائیں۔۔۔”
“انشاللہ بی بی۔۔۔ انشا اللہ ویسے آپ جانتی ہیں آتش صاحب کی یہ حالت پہلی بار نہیں ہوئی۔۔۔ پہلے بھی ہو چکی ہے۔۔۔”
ملازم نے بڑے دھیرے سے یہ بات کہی تھی جس پر وہ آنکھوں میں تجسس لئے انہیں دیکھنے لگی
“پہلے بھی ہو چکی ہے؟؟ کیا مطلب اس بات کا؟؟ کیا ان کے ساتھ کوئی مینٹلی ایشو۔۔۔ میرا مطلب ہے کہ۔۔۔”
وہ سمجھ نہیں پارہی تھی کہ اسے کیا کہنا چاہئے اس لئے خاموش ہوگئی
“نہیں تعبیر بی بی۔۔۔ بہت پہلے کی بات ہے جب آتش صاحب کے والد صاحب نے بتایا تھا کہ آتش صاحب اگر بہت زیادہ سوچتے ہیں کسی بات پر زیادہ پریشان ہوتے ہیں تو ایسا تبھی ہوتا ہے۔۔۔ شاید پہلے بھی ہو چکا تھا۔۔۔”
ملازم کی بات پر وہ سوچ میں گم ہوگئی واقعی اگر ایسا تھا تو یہ کوئی عام مسئلہ نہ تھا
“وہ جی آتش صاحب کی دوائیاں بھی چل رہی تھیں بہت پہلے کی بات ہے جب وہ ایک بار بلکل اکیلے رہنے لگ گئے تھے مگر تب وہ بہت چھوٹے تھے۔۔۔”
ابھی آگے وہ مزید کچھ بتاتا جب آتش روم سے باہر آنے لگا تو ملازم نظریں جھکائے بوکھلا کر وہاں سے چلا گیا
“تعبیر مجھے تم سے کچھ ضروری بات کرنی ہے۔۔۔”
آتش کی بات پر تعبیر نے اثبات میں سر ہلایا
“کیا ہم باہر لان میں چلیں۔۔۔ مجھے گھٹن محسوس ہورہی ہے۔۔۔”
آتش نے اپنے گلے پر ہاتھ رکھتے ہوئے کہا تو تعبیر اٹھ کر اس کے ساتھ چل دی
وہ دونوں باہر لان میں آ چکے تھے جہاں کچھ فاصلے پر بوڈ کھڑی تھی اس مصنوعی سمندر کے دوسرے کنارے کسی کی شوٹ چل رہی تھی وہ دونوں سامنے رکھی کرسی پر آ بیٹھے کچھ دیر یوں ہی خاموشی سے وہ لوگ دور سے نظر آتا شوٹ کا منظر دیکھتے رہے پھر کچھ سوچتے ہوئے آتش نے اس خاموشی کو توڑا
“تعبیر کیا تم اب بھی اپنے فیصلے پر قائم ہو؟؟”
آتش نے سنجیدگی سے کہا جس پر تعبیر نے اسے دیکھا لہجہ بے حد اداس تھا چہرے سے اداسی جھلک رہی تھی تعبیر کو اب اس کی حالت پر بے حد افسوس ہورہا تھا
“فیصلہ؟؟ میں سمجھی نہیں۔۔۔”
تعبیر نے نا سمجھی والے انداز میں کہا جس پر آتش نے گردن جھکالی شاید وہ یہ بات تعبیر کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر ادا نہیں کر سکتا تھا
“تعبیر۔۔۔ میں۔۔۔ میں تم سے پاک رشتہ بنانا چاہتا ہوں۔۔۔ میں تمہارے لیے ہر طرح سے بدلنے کو تیار ہوں۔۔۔ میں نکاح کرنا چاہتا ہوں۔۔۔ کیا تمہیں اب بھی میری نیت پر شک ہے؟؟”
آتش کی نظریں تعبیر کے جواب کی منتظر تھیں کب وہ لب ہلاتی کب وہ اپنا فیصلہ سناتی مگر دوسری جانب وہ یوں ہی اسے ٹکٹکی باندھ کر دیکھے جارہی تھی
“آتش میں نے اگر آپ کی نیت پر شک کیا ہوتا۔۔۔ تو آج میں یہاں آپ کے ساتھ نہ ہوتی۔۔۔ میں جانتی ہوں آپ جتنا برا خود کو سب کے سامنے ظاہر کرتے ہیں آپ ویسے بلکل بھی نہیں ہیں۔۔۔ میں دل سے عزت کرتی ہوں آپ کی۔۔۔”
تعبیر نے آخری والے الفاظوں پر نظریں جھکالیں تھیں تب آتش نے نظر بھر کر اسے دیکھا تھا
“تو جب تم میری دل سے عزت کرتی ہو تو۔۔۔ کہو نہ اپنے اس دل سے۔۔۔ اپنا لے مجھے۔۔۔ تھوڑی جگہ دے مجھے۔۔۔ میں بدلنا چاہتا ہوں تعبیر۔۔۔ مجھے تمہاری قربتیں سکون دیتی ہیں۔۔۔ جس سکون کی تلاش میں میں کئی سالوں سے مارا مارا پھر رہا تھا وہ سکون مجھے تمہارے پاس محسوس ہوا ہے۔۔۔ اور میں بلکل بھی نہیں چاہوں گا کہ میں اپنی محبت اور اپنے سکون کو مزید خود سے دور رکھوں۔۔۔”
آتش کے الفاظ سچے تھے آنکھوں میں نمی تھی وہ ایسا تو نہ تھا وہ تو وہ تھا جو جب کسی سے بات کرتا تھا تو سامنے والا سر جھکا کر اس کی رعب دار آواز کو نہ صرف برداشت کرتا تھا بلکہ اس کا احترام بھی کرتا تھا
مگر آج وہ کہیں سے بھی پہلے والا آتش درانی نہیں لگ رہا تھا وہ تو کوئی نیا آتش لگ رہا تھا جو صرف اور صرف تعبیر کا تھا جو تعبیر کے لئے سب کچھ کرنے کو تیار تھا جو تعبیر کی صحبت میں رہ کر سدھرنے لگا تھا
“آتش۔۔۔”
“تعبیر پلیز۔۔۔ مجھے بار بار نہ ٹھکراؤ۔۔۔ مجھے تکلیف ہورہی ہے۔۔۔ میں نہیں جانتا کہ کیوں ایک پل بھی میں تمہیں خود سے دور نہیں پاتا کیوں تمہاری بے رخی میں ایک لمحہ بھی برداشت نہیں کر پاتا، نجانے ساری زندگی تمہارے بنا کیسے گزاروں گا۔۔۔”
وہ تعبیر کی بات کاٹ کر کہنے لگا تعبیر کو ڈاکٹر کی بات یاد آئی تھی اگر اس کی خواہشات کا احترام نہ کیا گیا اگر آتش کی کوئی بھی چھوٹی سے چھوٹی بات نہ مانی گئی تو ممکن تھا وہ دوبارا اپنے اس ہی حال میں آ سکتا تھا اور ایسے اس کی ذہنی حالت مزید بگڑنے کے امکانات تھے
اسے کچھ بھی ہو سکتا تھا وہ بچپن ہی سے بے حد جنونی تھی تبھی تو اس کی کسی سے نہیں بنتی تھی مگر اب بات انا، گھمنڈ، غرور، ضد اور شہرت کی نہیں بلکہ اس کی محبت، اس کے دل، اس کے جذبات اور زندگی کی تھی جس کے لئے وہ کسی بھی حد تک پاگل پن کا شکار ہو سکتا تھا
عشق کا جنون اس کی روح میں اتر کر اس کے دل و دماغ کو اپنے قابو میں کر چکا تھا اور جب دل و دماغ ہی ہاتھ سے نکل کر جذباتوں کی لپیٹ میں آجائیں تو پھر انسان کبھی بھی کچھ بھی کر گزرتا ہے
“آتش مجھے۔۔۔ مجھے کل تک کا وقت دیں پلیز۔۔۔ میں نے ایسا کچھ بھی کبھی بھی نہیں سوچا تھا۔۔۔ مجھے یہ سب سمجھنے کے لیے کچھ وقت درکار ہے۔۔۔”
تعبیر نے کچھ سوچتے ہوئے جواب دیا جس پر آتش نے اثبات میں سر ہلایا
“تمہیں جتنا وقت چاہئے لے سکتی ہو۔۔۔ بس یاد رہے۔۔۔ زیادہ دیر نہ ہو جائے۔۔۔ میں نے پہلے بھی کہا تھا اب پھر کہہ رہا ہوں۔۔۔ میرا ماضی جو بھی تھا وہ گزر گیا میرا حال تمہارے سامنے ہے۔۔۔ اور میرا مستقبل تمہارے ہاتھ میں ہے۔۔۔ تمہارا صرف ایک فیصلہ میری زندگی اور موت میں سے کسی ایک کو چنے گا۔۔۔ آگے تم سمجھ جاؤ۔۔۔”
آتش انتہائی سنجیدگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے وہاں سے چلا گیا تھا جبکہ تعبیر اس سوچ میں پڑھ چکی تھی اگر وہ اسے نہ ملی یا اسے ٹھکرا گئی تو کیا وہ اس کی جان لے لے گا؟؟ اسے پھر اپنی جان دے دے گا؟؟ تعبیر نے اپنے ہاتھ پر پیشانی ٹکائی
“یہ کس مشکل میں ڈال دیا ہے میرے مالک۔۔۔ میرا ایک فیصلہ کیسے کسی کی زندگی اور موت کی وجہ بن سکتا ہے؟؟ جبکہ زندگی اور موت تو تیرے ہاتھ میں ہے۔۔۔ مجھے صحیح فیصلہ کرنے کی سمجھ دے۔۔۔”
تعبیر اب عجیب کشمکش کی کیفیت میں مبتلا تھی
☆★☆★☆★☆
رات کا وقت تھا جب وہ اپنے آفس کے تمام کاموں کو نمٹا کر بستر پر سکون کی نیند سورہی تھی مگر تبھی کوئی دروازہ کھول کر اندر کی جانب بڑھا ایک نظر صوفے پر خیر حالت میں پڑے اپنے بھیجے گئے تحفے پر ڈال کر تاسف سے سر ہلاتا ہوا وہ بیڈ کی جانب بڑھا
باہر کھڑکی سے آتی چاند کی چاندنی اس اندھیرے کمرے میں سوتی اس خوبصورت لڑکی کے وجود پر پڑ رہی تھی ضوریز دبے پاؤں اس کے سرہانے آ بیٹھا مگر وہ اس قدر گہری نیند سو چکی تھی کہ اپنے ماتھے پر لمس تک کو محسوس نہ کر سکی
وہ اس کی پیشانی کو چومتا ہوا رخساروں پر آ ٹھہرا مدرھم سی چاندنی میں اس اپسرا کا حسین سراپا اسے مزید گستاخیاں کرنے پر اکسا رہا تھا وہ بھلہ پیھچے بھی کیوں رہتا وہ اس پر پورا پورا حق رکھتا تھا وہ اس نازک سے وجود کو اپنی باہوں میں جکڑ کر اپنی شدتوں کا احساس دلانا چاہتا تھا
لیکن اب بھی کچھ تھا کچھ ایسا جو اسے پاس آنے کی اجازت نہ دے رہا تھا وہ تھا ‘سچ’۔۔۔ ایک ایسا سچ جس سے ائیزل کو لاعلم رکھا گیا تھا وہ چاہ کر بھی اس کے مزید قریب نہیں ہو پارہا تھا کیا وہ جھک کر اس کے لبوں کو تکنے لگا
“اور کتنا انتظار کرنا پڑے گا مجھے تم پر اپنا حق جتانے کے لیے۔۔۔ نجانے کب وہ وقت آئے گا۔۔۔ جب تم حقیقت جان کر خود میرے قریب تر قریب آنے پر رضامند ہوجاؤ گی۔۔۔”
ضوریز اپنی شہادت کی انگلی اس کی بند آنکھوں پر پھیرنے لگا وہ دل ہی دل میں اس سے مخاطب بھی تھا جس سے وہ بے خبر تھی
“بہت رلایا ہے نہ تمہیں اس دو نمبر آدمی نے۔۔۔ مگر اب مزید نہیں۔۔۔ بس کچھ وقت اور۔۔۔ اس کے بعد۔۔۔ تمہیں حقیقت میں خود بتاؤ گا۔۔۔ جسے تم ناجائز تعلق کہہ رہی تھیں وہ ہمیشہ سے جائز تھا۔۔۔ اور ہمیشہ جائز ہی رہے گا”
ضوریز اس کے بالوں میں انگلیاں پھیرتے ہوئے اسے نظر بھر کر دیکھنے لگا ائیزل اب پہلے سے تھوڑی کمزور ہو چکی تھی وہ چہرہ جس پر ہر وقت غرور انا اور ثشن واضح دکھائی دیتا تھا اب وہاں بہت اداسی تھی مایوسی تھی دکھوں کا انبار تھا
البتہ وہ کسی کے سامنے ظاہر تو نہ کرتی تھی لیکن وہ آج بھی ضوریز کو سچے دل سے چاہتی تھی وہ چاہ کر بھی اسے بھلہ نہیں پا رہی تھی اس شخص نے اسے کتنا بدل دیا تھا وہ اکیلے رہتے رہتے بری عادتوں کی عادی ہو چکی تھی مگر ضوریز کی محبت میں وہ پھر سے زندگی کی طرف لوٹ آرہی تھی
“میں ایسے ہی تمہارے قریب تو نہ آیا تھا۔۔۔ میں نے ایسے ہی تمہیں چھوا نہ تھا۔۔۔ میرے پاس پورا پورا حق تھا میرے پاس تمہارے قریب آنے کا اختیار تھا۔۔۔ تم سے ملنے سے پہلے میں نہیں جانتا تھا محبت کیسی ہوتی ہے مگر ایک مقصد کو پورا کرتے کرتے نجانے کب مجھے تم سے اس قدر محبت ہوگئی کچھ پتا ہی نہ چلا۔۔۔”
ضوریز نے اس کے جسم کی حرارت کو محسوس کیا تھا اس کی پیشانی بخار کی شدت میں تپ رہی تھی ضوریز نے ایک نظر برابر پڑے ٹیبل پر موجود سگریٹ کی ڈبی کو دیکھا جن میں سے ساری سگریٹ باہر ٹوٹی پڑھیں تھیں
وہ نجانے روز رات کو کب تک جاگ کر خود پر قابو پانے کی کوششیں کرتی تھی وہ چاہ کر بھی ضوریز کی چھڑائی گئی سگریٹ پینے کی عادت کو اپنا نہیں پا رہی تھی وہ روز رات جاگ کر خود سے جنگ کرتی تھی
وہ اپنے اس بند کمرے میں بنا آواز کے نجانے کب تک چینخ چینخ کر روتی تھی وہ اندر سے بلکل ختم ہو چکی تھی ضوریز کے ایک مقصد نے اسے کیا سے کیا بنا دیا تھا ضوریز ان سب باتوں سے بے خبر نہ تھا وہ بھی تو رات بھر اس کے لئے تڑپا تھا وہ بھی تو اپنے کمرے میں رات کے اندھیرے میں خود سے جنگ کیا کرتا تھا
“یہ میرا وعدہ ہے تم سے۔۔۔ آج کے بعد سے میں تمہیں کبھی بھی رونے نہیں دوں گا۔۔۔”
وہ چاہ کر بھی اس کے بخار کی شدت کو کم نہیں کر سکتا تھا کیا ہو جاتا اگر وہ جاگ جاتی۔۔۔ وہ ایک آخری نظر اس کے ہر احساس سے عاری چہرے پر ڈال کر وہاں سے باہر چلا گیا تھا شاید وہ اسے اب مزید اس حالت میں نہیں دیکھ سکتا تھا یقیناً وہ آج کی رات خود سے کوئی اہم فیصلہ کر چکا تھا
☆★☆★☆★☆
“نہیں۔۔۔ نہیں۔۔۔ بچاؤ مجھے”
سرخ آسماں تھا زمین خون کی مانند سرخ اور جلتے انگاروں کی مانند گرم تھی آس پاس لوگوں کی بھگدڑ مچی ہوئی تھی سب ایک دوسروں کی پرواہ کئے بنا اپنی جان بچانے کے لیے ادھر سے اُدھر بھاگ رہے تھے
“رکو سنو۔۔۔ یہ کیا ہورہا ہے۔۔۔ کوئی بتائے گا۔۔۔”
وہ ہر بھاگتے ہوئے کو روک کر پوچھنے کی کوشش کر رہا تھا مگر کوئی اس کی نہیں سن رہا تھا آتش نے ایک نظر اطراف میں دیکھا جہاں بڑا سا پہاڑ تھا جہاں سے آگ کا دریا بہہ رہا تھا وہ پھٹی پھٹی نظروں سے اس لاوے کو دیکھ رہا تھا جو بہتا ہوا اس کی جانب آرہا تھا
“نہیں۔۔۔ دور رہو۔۔۔ بچاؤ۔۔۔ کوئی بچاؤ مجھے۔۔۔”
وہ اس گرم آگ سے بچنے کے لئے ننگے پاؤں جھسلتی ہوئی زمین پر دوڑتا ہوا بہت دور نکل چکا تھا مگر آگے آ کر اسے کچھ لوگ نظر آئے جو دھیرے دھیرے کنارے پر کھڑے ہوکر نیچے کرتے جارہے تھے
“کون ہیں یہ لوگ؟؟ اور میرے اپنے۔۔۔؟؟ وہ سب کہاں ہیں۔۔۔”
آتش بہت شدت سے اپنے پیاروں کو یاد کر رہا تھا مگر ان انجان چہروں میں اسے کوئی ایک بھی اپنا نظر نہیں آیا تھا وہ ان کے قریب جا کر صورتحال سمجھنے کی کوشش میں تھا کون تھے وہ لوگ اور وہ نیچے کیوں گر رہے تھے
آتش نے ایک نظر پیچھے دیکھا جہاں سے وہ آگ اب اس کے بے حد قریب آ چکی تھی وہ ان لوگوں کی جانب ادب بڑھانے لگا وہاں سب چینخ چینخ کر رو رہے تھے تڑپ رہے تھے آتش اس آگ سے بچنے کے لیے جیسے ہی کنارے پر آیا اس کی نظر نیچے آگ کے اٹھتے شعلوں پر گئی
وہ حیرانگی اور خوف سے اس آگ کے سمندر کو دیکھ رہا تھا جہاں سب لوگ وقفے وقفے سے گرتے جارہے تھے وہ چاہ کر بھی اپنا بچاؤ نہیں کر پایا ایک طرف بہتا ہوا آگ کا لاوا اس کی طرف بڑھ رہا تھا دوسری طرف آگ کا ٹھاٹھیں مارتا ہوا سمندر۔۔۔ وہ اپنا بچاؤ نہ کر سکا اور پیچھے سے آتی آگ اسے اپنی لپیٹ میں لے کر آگ کے سمندر میں ڈبو چکی تھی
جاری ہے۔۔۔
