Lams e Junooniyat by Areesha Khan NovelR50533 Lams e Junooniyat (Episode 07)
Rate this Novel
Lams e Junooniyat (Episode 07)
Lams e Junooniyat by Areesha Khan
وہ ناجانے کیوں اسے دیکھ رہا تھا یہ وہ بھی نہیں جانتا تھا لیکن اتنا ضرور جانتا تھا کہ دل ابھی بھرا نہیں تھا مگر اچانک سے اس کا دھیان کہیں اور گیا
“سر کیا آپ اپنے نیو پروجیکٹ کے بارے میں کچھ بتانا چاہیں گے؟؟”
“سر کیا آپ اس بار بھی کرن جابر کے ساتھ اسکرین پر آئیں گے”
وہاں میڈیا پہنچ چکا تھا جن کے سوالوں کی وجہ سے آتش کا دھیان اور نظر تعبیر سے ہٹ چکا تھا جبکہ تعبیر کو لگا تھا شاید وہ اس کا وہم ہو وہ کیوں اسے دیکھے گا وہ تو اسٹار تھا
آتش نے ایک نظر پھر مال کے گیٹ پر دیکھا جہاں وہ موجود نہیں تھی اسے لگا جیسے یہ اس کا وہم تھا وہ گردن نیچے کئے واپس اپنی نیلی آنکھوں پر چشمہ لگا گیا
“ایکسکیوز می پیچھے ہٹیں…”
اس کے گارڈز نے مال میں آنے کے لئے اس کی جگہ بنائی تھی تب وہ چلتا ہوا آگے بڑھا تھا
“ہائے اللّٰہ جی آتش سر ریئل میں تو اسکرین سے بھی زیادہ ہینڈسم ہیں”
رائمہ کی بات پر تعبیر نے اسے دیکھا جس پاگلوں کی طرح مسکرا رہی تھی
“اچھا اب چلو بھی ہمیں شاپنگ کرنی ہے”
تعبیر نے اس کا ہاتھ پکڑا اور لفٹ کی طرف بڑھ گئی جبکہ پورا مال اب ایک طرف ہو چکا تھا جہاں آتش تھا
وہ لوگ اوپر والے فلور پر شاپنگ کرنے میں مصروف ہوگئی تھیں جبکہ وہ نیچے کچھ دیر اپنے فینز کے ساتھ پکچر بنوا کر آٹو گراف دے کر وہاں دے چلا گیا تھا
☆★☆★☆★☆
رات کا وقت تھا جب وہ اپنے کمرے میں صوفے پر بیٹھا پڑھائی کر رہا تھا مگر اچانک سے اسے حریم کا خیال آیا اس نے جو رویہ اختیار کیا تھا اس کے بعد سے حریم یونیورسٹی میں چھٹی کے وقت بھی نہیں ملی تھی
“شاید اسے برا لگا ہوگا… لیکن میں نے کچھ غلط تو نہیں کہا… آخر یہی تو سچ ہے کہ ایک لڑکا اور ایک لڑکی کبھی آپس میں دوست نہیں رہ سکتے…”
وہ اب میچیور ہو چکا تھا باہر کی دنیا کو بہت اچھی طرح سمجھ چکا تھا اسے پتا تھا کیا صحیح ہے اور کیا غلط اس لئے وہ بے مقصد کسی سے کوئی تعلق نہیں رکھنا چاہتا تھا
“مگر میں پھر بھی ایک بار ہی صحیح لیکن اس سے سوری کروں گا… لیکن میں اپنے فیصلے سے قطعاً نہیں ہٹوں گا…”
وہ دل ہی دل میں عہد کرتا ہوا اپنی پڑھائی میں مصروف ہوگیا کیونکہ ایک منتھ بعد ان کے بھی ایگزیمس اسٹارٹ تھے
☆★☆★☆★☆
“سر جی نے آج کوئی ہنگامہ برپا نہیں کیا… بڑی بات ہے آج پہلی بار آتش دورانی پبلک پلیس پر کوئی بحث ومباحثہ کئے بغیر آج سب سے بہت اچھی طرح سے پیش آئے…”
اس نے جیسے ہی موبائل اٹھایا سوشل میڈیا پر نئی خبر پھیل گئی تھی اس نے ویڈیو کو بیج میں چھوڑ کر موبائل واپس ٹیبل پر رکھ دیا اور آج گزرے ہوئے کے بارے میں سوچنے لگا
وہ ایسا ہی تھا جہاں جاتا تھا اس کے مخالفین اسے جان بوجھ کر جزباتی کرنے کی کوشش کرتے تھے اور اکثر اس کا پبلک پلیس پر کسی نا کسی کے ساتھ جھگڑا ہو جایا کرتا تھا
اس کے سر پھر دماغ، انتہا کے غصے اور بدتمیزی کے باوجود بھی لوگ اس پر مرتے تھے بس اس ہی بات کا اسے غرور تھا اس کے ڈیڈ نے اسے پہلے بھی کہا کہ واپس لندن آجائے لیکن وہ اپنے اس گھر کو چھوڑ کر کہیں زیادہ وقت نہیں رکتا تھا
“آتش دورانی…”
خود کلامی کرتے ہوئے وہ مسکرانے لگا اپنی اوپر اسے مزید غرور ہونے لگا مگر تب ہی اس کی آنکھوں کے سامنے کسی کا چہرہ آیا
“وہ لڑکی…”
وہ جو صوفے کی پشت پر سر ٹکائے بیٹھا تھا اب اچانک سے سیدھا ہوا بے ساختہ اس کا ہاتھ اپنے دل کے مقام پر گیا
“آخر کون تھی وہ لڑکی… اور… آج جو کچھ ہوا وہ میرا وہم تھا؟؟ یا پھر…”
دو انگلیوں سے پیشانی رگڑتے ہوئے وہ خود سے سوال کرنے لگا
“مجھے کیوں ایسا لگا تھا جیسے…وہ مجھے دیکھ رہی تھی…”
وہ جانتا بھی تھا وہ کون ہے سب کی نظریں اس پر تھیں پھر آخر اسے اس کی نظریں خود پر محسوس کر کے کیوں اتنی حیرت ہورہی تھی
اس کی کیفیت اس کی سمجھ سے باہر تھی وہ دونوں ہاتھوں سے سر کو جکڑے ہوئے خود سے سوال کر رہا تھا اس نے سائڈ ٹیبل پر رکھی سگریٹ کی ڈبی سے ایک سگریٹ نکالا اور اسے سلگاتے ہوئے لبوں سے لگا لیا
“ڈونٹ تھنک ٹو مچ اے ڈی…”
وہ اب پرسکون ہونا چاہتا تھا
☆★☆★☆★☆
“ارے سچی یار بہت زبردست قسم کے ڈیزائن تھے…تمہیں سینڈ کروں گی تم بھی دیکھنا”
“اچھا اچھا بس نہ مجھے اب سونے دو صبح اسکول بھی جانا ہے”
رائمہ کی باتیں نہ ختم ہونے والی تھیں جس پر تعبیر کا دل کر رہا تھا اسے بس کسی طرح چپ کروا دے
“اوکے اوکے سوجانا ویسے مجھے تو آج بلکل بھی نیند نہیں آنے والی”
“اور وہ کیوں؟؟”
تعبیر کو تجسس ہوا
“یار آتش دورانی کو پہلی بار جو دیکھ لیا ریئل میں”
اس کی سوئیں اب تک یہیں پر اٹکی ہوئی تھی جس پر تعبیر نے سر پیٹا
“افففف اللّٰہ بس کردو تم، کچھ زیادہ ہی ایکسائٹڈ نہیں ہورہیں”
“یار تم اتنے بڑے اسٹار کو دیکھ کر بھی اتنی مطمئن کیسے ہو سکتی ہو؟؟”
رائمہ نے بے یقینی سے اس سے سوال کیا پر تعبیر کی آنکھوں کے سامنے اس کا چہرہ آیا
“میں پہلے بھی اسے دیکھ چکی ہوں”
تعبیر نے کھوئے ہوئے انداز میں کہا جس پر رائمہ نے آنکھیں چھوٹی کیں
“ہیں؟؟ مگر تم تو کہہ رہی تھیں تم اسے جانتی تک نہیں ہو پھر؟؟”
“یار وہ وہی تھا کل جس کے روم میں میں غلطی سے چلی گئی تھی… اور میں اس سے ٹکرائی بھی تھی”
تعبیر جیسے جیسے اسے بتاتی گئی رائمہ کا دل بے قابو ہوتا گیا
“یااااار تعبیر… یار تم سچ کہہ رہی ہو؟؟ وہ وہاں بھی تھے؟؟ مائے گوڈ… اور وہ تم سے ٹکرائے تھے افففف اگر تمہاری جگہ میں ہوتی نہ تو وہیں پر بے ہوش ہو چکی ہوتی ہائے بازیگر”
رائمہ نے نان اسٹاپ بولنا شروع کیا جس پر تعبیر اچانک ہوش میں آئی
“اچھا بس بس زیادہ اوور ایکٹنگ کرنے کی ضرورت نہیں… میں سو رہی ہوں اور تم بھی سوجاؤ اوکے نہ”
تعبیر بنا اس کی بات سنے فون بند کر گئی جبکہ رائمہ منہ بنائے رہ گئی
“کک کیا وہ واقعی… اتنا بڑا اسٹار تھا… جج جس سے میں نے اتنے برے انداز سے بات کی تکیا سوچ رہے ہوں گے وہ میرے بارے میں تبھی شاید آج ایسے دیکھ رہے تھے…”
وہ دانت تلے انگلی رکھے خود کلامی کرنے لگی
“خیر مجھے کیا…جو بھی سوچیں…میں تھوڑی نہ ان کی فین ہوں”
تعبیر نے سر جھٹکا اور کمفرڈ اوڑھ گئی
☆★☆★☆★☆
(دو دن بعد)
“سر آپ کا بہت بہت شکریہ آپ نے میری عزت رکھ لی”
مینیجر کی بات پر آتش نے یک طرفہ مسکراہٹ اچھالی فائینلی اس نے ایک مہینے سے پہلے ہی وہ پروجیکٹ سائن کر لیا تھا کچھ ہی دن میں ان کی شوٹنگ شروع ہونے والی تھی
“یہ سب میں نے اپنے لئے کیا ہے نہ کہ تمہاری عزت کے لئے یہ تم جانتے ہو”
وہ سپاٹ لہجے میں کہتا ہوا اپنے مینجر کو اس کی اوقات یاد دلا گیا
“جج جی سر… لیکن وہ کامی شاہ؟؟ اس کا کیا ؟؟”
“اسے فلحال میرے گھر کے چکر کاٹنے دو… جس دن پروڈک کا اونر خود آیا اس دن میں اس سے بات کرو گا باقی کی ڈیل تم کرنا”
“جج جی سر”
اچھی وہ لوگ آفس میں بیٹھے آپس میں گفتگو کر رہے تھے جب مینجر کو کسی کی کال آئی
“سر پلیززز فیو منٹس”
“شور”
وہ اجازت لیتا ہوا وہاں سے باہر چلا گیا جبکہ آتش کی نظریں اب سامنے دیوار پر لگے ایل ای ڈی پر تھیں جہاں ایک دن پہلے کا پروگرام ریپیٹ ہورہا تھا
اس نے اپنی کافی ایک ایک سپ لیا ہی تھا جب اس اسکرین پر وہ لڑکی نظر آئی آتش نے کافی کا کپ ٹیبل پر رکھا اسے سوالیہ نظروں سے اسکرین کو دیکھنے لگا
“یہ تو…”
اسے صرف اتنا پتا تھا کہ وہ کوئی عام سی ماڈل ہوگی لیکن وہ ون کر گئی ہے اس بات کا اسے بھی نہیں پتا تھا
“جی سر…”
مینیجر واپس اپنی کرسی پر آکر بیٹھا لیکن آتش اب تک اسکرین پر دیکھ رہا تھا
“سر آتش؟؟”
“یہ لڑکی کون ہے؟؟
رعب دار آواز میں کہتا ہوا وہ صوفے کی پشت سے لگا جس پر مینیجر نے ایک نظر ایل ای ڈی پر دوڑائی
“اوہ… یہ… سر یاد ہوگا آپ کو کچھ دنوں پہلے میک اپ آرٹسٹ کا کومپٹیشن تھا… ان میں سے ایک آرٹسٹ کی ماڈل یہ تھیں یہ ونر ہیں اور ان کی آرٹسٹ اب ہماری شوٹ پر ایکٹرز کا میک اپ کیا کریں گی…”
آتش نے ایک ایبرو اچکائی جبکہ انگلی لبوں پر تھی
“نام کیا ہے اسکا؟؟”
“تعبیر علی”
مینیجر نے نا سمجھی سے اسے دیکھا وہ آتش دورانی تھا جسے عام لوگ کچرا لگتے تھے تو پھر آج وہ بھلا کیوں کسی کا نام پوچھ رہا تھا
“سر کافی تو پیتے جائیں؟؟”
وہ بنا پیچھے مڑا وہاں سے اٹھتا ہوا باہر کو چلا گیا جبکہ مینیجر اب تک نا سمجھی سے بیٹھا اس کے جانے کی وجہ سوچ رہا تھا
☆★☆★☆★☆
“ہاہاہا نہیں نہیں آپ اتنا کیوں گھبرا رہی ہیں آپ نے تو ایک دن میں ہی مشین پکڑنا سیکھ لی اور ماشاءاللہ سے آپ نے اپنا فرسٹ ٹیٹو بھی بہت اچھا بنایا ہے آپ کا کام بہت صفائی سے ہوا ہوا ہے… کسٹمرز کو آپ سے کوئی شکایت نہیں ہوگی”
ہنی نے تعبیر کے کندھوں پر ہاتھ رکھ کر اسے پیار سے کہا جس پر تعبیر نے جواباً مسکرایا
“چلیں تو آج سے یہ روم آپ کے یوز میں ہوگا، یہاں صرف کسٹمرز آیا کریں گے، لیکن اگر آپ نے ایسے ہی دل لگا کر کام کیا تو انشاء اللہ ایک دن بڑے بڑے اسٹارز بھی آپ ہی کے پاس آیا کریں گے”
ہنی بلش کرتی ہوئی وہاں سے باہر چلی گئی یہ دو فلور پر مشتمل ایک خوبصورت سی بلڈنگ تھی جس کی چار دیواری گلاس ول سے بنائے گئے تھیں یہاں صرف ٹیٹوز میکرز کا آنا جانا ہوتا تھا
آج اس کی جاب کا پہلا دن تھا اس نے اسکول کے ساتھ ساتھ اب ٹیٹوز بنانا بھی جوائن کرلیے تھے اب وہ ہر ایک کسٹمر کی منشا کے مطابق ٹیٹو بنایا کرتی تھی کیونکہ اس کا کام بہت اچھا تھا اس لئے اسے اس کام میں کافی منافع مل رہا تھا
“ہیلو…”
“آئے آپ کونسا ڈیزائن بنوانا پسند کریں گی؟؟”
وہ ہر ایک سے انتہائی نرم لہجے سے مخاطب ہوتی تھی اتنا کہ کسٹمرز جاتے جاتے اس کی تعریف کرنا نہیں بھولتے تھے
☆★☆★☆★☆
آج پورے دو دن ہوچکے تھے لیکن ائیزل یونیورسٹی نہیں جارہی تھی ضوریز اکثر اس کے ہوسٹل کے باہر سے گزرا کرتا تھا لیکن اس نے دوبارا وہاں جانے کا نہیں سوچا تھا لیکن آج جب اس نے ائیزل کو کال کی تھی تو نمبر بند جارہا تھا وہ آج پہلی بار پریشان ہوا تھا کسی کے لئے
وہ اس وقت ایک کسینو میں بیٹھا تاش کھیل رہا تھا مگر اس کا سارا دھیان کہیں اور ہی تھا
“یار ریز کیا کر رہا ہے یار ہم ہار جائیں گے”
باذل کی بات پر ضوریز نے تاش کے پتے اسے تھمائے اور خود باہر نکل گیا جبکہ پیچھے باذل جسے لگ رہا تھا آج سارا کمایا ہوا وہ گوا دے گا اب بیٹھا جیتنے کی کوشش میں تھا
وہ کسینو سے باہر آ چکا تھا نجانے کیوں اس اسے اس سر پھری لڑکی کی فکر شدت سے محسوس ہورہی تھی
“کہاں ہے یہ لڑکی… اب تک کیوں نہیں ٹکرائی مجھ سے”
وہ خود کلامی کرتا ہوا اپنی گاڑی کے پاس آیا اور اسے کال کرنے لگا جبکہ نمبر اب بھی آف جارہا تھا
“بس بہت ہوا… اب تم سے ملنا پڑے گا”
وہ دل ہی دل میں پکا ارادہ کرتا ہوا ڈرائیونگ سیٹ سنبھالتا ہوا گاڑی اسٹار کرنے لگا ایک جھٹکے سے گاڑی کو اڑانے سے انداز میں وہ ائیزل کے ہوسٹل کے راستے نکل گیا
وہ سر پکڑے اپنے بیڈ پر بیٹھے پڑھائی کر رہی تھی جبکہ دوسری طرف حریم اپنے بیڈ پر پرسکون انداز میں سو رہی تھی
“اوففف کاش پڑھ لیتی تو آج میں بھی اس کی طرح سکون سے سو رہی ہوتی”
اس نے اپنی سرخ آنکھوں کو انگلیوں سے رگڑتے ہوئے کہا تبھی اسے باہر سے کھر کھر کی آواز آنے لگی
“یہ کس چیز کی آواز ہے؟؟”
اس نے گھڑی میں ٹائم دیکھا تو رات کے بارہ سے اوپر ٹائم ہورہا تھا
“شاید میرا وہم ہوگا”
ائیزل نے دماغ جھٹک کر نظر کتابوں پر کرلی تب ہی ضوریز نے کھڑکی سے اندر جھانک کر دیکھنا چاہا مگر جب نظر ائیزل پر گئی تو یک طرفہ مسکراہٹ اچھالنے لگا
“امپاسبل”
اس کی دھیمی آواز پر یک دم ائیزل کی نظر کھڑکی کی طرف گئی جہاں سے وہ اندر جھانک کر مسکرا رہا تھا
جاری ہے
