Lams e Junooniyat by Areesha Khan NovelR50533 Lams e Junooniyat (Episode 40)
Rate this Novel
Lams e Junooniyat (Episode 40)
Lams e Junooniyat by Areesha Khan
جب اس کی آنکھ کھلی تو خود کو اپنے آرام دہ بیڈ پر پایا وہ چکراتے سر کے ساتھ بامشکل اپنی آنکھیں کھولتے ہوئے بیڈ سے ٹیک لگا کر اٹھ بیٹھا ایک نظر پورے کمرے پر ماری جب نگاہ بیڈ کے دوسری جانب زمین پر جائے نماز بچھا کر اپنے رب کے حضور ہاتھ اٹھائے بیٹھی لڑکی پر گئی
وہ بڑی غور سے اس کے بےتاثر سے چہرے کو دیکھنے لگا جہاں اطمینان کے لئے اور کچھ نہ تھا آتش کی نظریں اس پر مرکوز تھیں وہ کس طرح پرسکون انداز میں آنکھیں بند کئے اپنے اللہ سے دعا کر رہی تھی کیا واقعی سچے دل سے کی گئی دعا قبول ہوجاتی ہے وہ سوچنے لگا تھا
تعبیر نے اٹھے ہوئے دونوں ہاتھوں کو چہرے کے گرد پھیرا اور ایک نظر آتش پر ڈالی جو اسے ہی دیکھ رہا تھا یعنی وہ ہوش میں آ چکا تھا تعبیر نے جائے نماز اٹھا کر سائڈ میں رکھی اور بیڈ کے پاس آ کھڑی ہوئی وہ اسے ہی دیکھ رہا تھا
“کیسا محسوس کر رہے ہیں اب آپ؟؟”
تعبیر نے نرمی سے سوال کیا آتش اس کے انتہائی نرم لہجے پر حیران تھا وہ جو آخری بار کس طرح اسے ٹھکرا کر وہاں سے چلی گئی تھی ایسا کیا ہوا تھا جو وہ اب اس سے ٹھیک سے پیش آرہی تھی
خود کو اپنی جانب متوجہ دیکھ کر وہ تھوڑی گھبرائی تھی اس کی گہری نگاہوں سے بار بار تعبیر کی نظریں جھک رہی تھیں شاید آتش نے اس کا سوال سنا ہی نہ تھا یا پھر وہ اب تک ٹھیک سے ہوش میں نہیں آیا تھا
“ڈاکٹر کہہ رہے تھے آپ کو یہ میڈیسن ایک ہفتے تک لینی ہے تبھی آپ کی طبیعت بہتر ہوگی۔۔۔”
وہ اس کی نظروں کے حصار سے بچنے کے لئے برابر میں رکھی دوائیوں کو ہاتھ میں لئے دیکھنے لگی آتش اب سوالیہ نظروں سے کبھی اسے تو کبھی ان میڈیسنز کو دیکھ رہا تھا
“یہ کیسی میڈیسن ہیں؟؟”
آتش کے سوال پر وہ اسے دیکھنے لگی اس سے کچھ فاصلے پر بیٹھ کر وہ اسے ایک ایک میڈیسن دکھانے لگی
“یہ صبح لینی ہے یہ شام اور یہ رات۔۔۔ یہ والی ہارٹ ہے تو یہ ملک کے ساتھ لینی ہے باقی یہ تینوں سمپل بھی لے سکتے ہیں بعد میں جوس پی لیے گا، ان میں سے کوئی ایک بھی ٹیبلیٹ مس نہیں کرنی۔۔۔”
تعبیر کی بات پر وہ اسے دیکھنے لگا جو اسے کسی ڈاکٹر کی طرح ہدایت کر رہی تھی
“بٹ مجھے ہوا کیا تھا؟؟ م۔۔۔ میں یہاں کیسے آیا میں تو۔۔۔”
اسے یاد آیا جب وہ اچانک سے بیہوش ہوگیا تھا اس طوفانی بارش کی رات نجانے اس کا سر کیوں اچانک سے چکرایا جیسے کوئی کرنٹ اس کے دماغ کو چھو کر گزرا ہو
“آپ ہے ہوش ہوگئے تھے۔۔۔ اس لئے آپ کو یہاں لایا گیا تھا اور ڈاکٹر نے کہا تھا جب بھی آپ کو ہوش آجائے یہ میڈیسنز اسٹارٹ کرنی ہوں گی۔۔۔”
تعبیر کی بات پر وہ اسے حیرت سے دیکھنے لگا کیا مطلب تھا جب بھی کا؟؟ کیا وہ کافی ٹائم سے بے ہوش تھا؟؟ وہ سوچنے لگا
“کتنے وقت بے ہوش رہا میں؟؟”
آتش کے سوال پر وہ سنجیدگی سے اسے دیکھنے لگی جو اب اس ہی کے جواب کا منتظر تھا
“دو دن۔۔۔”
“واٹ؟؟ دو دن؟؟ ایسا۔۔۔ ایسا کیسے ہو سکتا ہے۔۔۔”
وہ کشمکش کی کیفیت میں اپنے دونوں ہاتھوں سے بالوں کو جکڑنے لگا اس کی اچانک والی حالت پر تعبیر پہلی تو سوچتی رہی کہ کیا کرے پھر ہمت کر کے آگے بڑھی اور اس کے ہاتھوں کو قابو کیا
“کیا کر رہے ہیں آپ؟؟ پہلے ہی آپ کی طبیعت اتنی خراب ہے آپ جانتے ہیں ڈاکٹر نے کہا ہے آپ کو ریلیکس رہنا چاہئے۔۔۔ اگر دوبارہ آپ ایسے بیہیو کریں گے تو طبیعت مزید خراب ہو جائے گی۔۔۔”
تعبیر کے چھونے پر وہ پہلے تو اسے بڑی حیرت سے دیکھنے لگا پھر ایک دم سے اس سے دور ہوکر بیٹھا جس پر تعبیر بھی دور ہوئی
“آپ۔۔۔ فریش ہو جائیں میں آپ کے لئے کھانا یہیں بھجوا دیتی ہوں۔۔۔”
وہ نظریں جھکائے کہتی ہوئی اسے مزید اپنی جانب متوجہ کر چکی تھی آتش بنا کچھ کہے اسے دیکھتا رہا وہ وہاں سے جا چکی تھی آتش کی نظروں نے دروازے سے باہر جائے تک اس کا تعاقب کیا تھا
“آخر کیا ہوگیا تھا مجھے۔۔۔ مجھے کچھ یاد کیوں نہیں آرہا۔۔۔ افففف۔۔۔”
آتش نے اپنی پیشانی رگڑی وہ سمجھ نہیں پارہا تھا کہ دو دن تک وہ کیسے بے ہوش رہا تھا تبھی اسے بھوک کا احساس ہونے لگا وہ گہری سانس لے کر بیڈ سے اٹھا اور وارڈروب سے کپڑے لے کر باتھ چلا گیا
فریش ہوکر اب وہ اپنے جسم پر بوجھ کافی کم محسوس کر رہا تھا آتش نے آج بلکل سمپل سے کپڑے پہنے تھے وائٹ ٹی شرٹ جس میں اس کی مظبوط جسامت واضح ہورہی تھی بلو پینٹ اور وائٹ جوگرز۔
وہ سیڑھیاں اتر کر نیچے ڈائننگ ہال میں آیا جہاں اس کے لئے مختلف قسم کے کھانے رکھے ہوئے تھے بٹ وہ ڈائٹ پر تھا تو بس تھوڑا بہت کھانے کا ارادہ کر کے کرسی پر آ بیٹھا
اس بار نہ اس کے ہاتھ میں واچ تھی نہ ہی اس نے بالوں کا ہیئر اسٹائل بنایا ہوا تھا اور نہ ہی وہ تعبیر کی جانب دیکھ رہا تھا یقیناً وہ کب سے سامنے بیٹھی اسے ہی دیکھ رہی تھی آتش مکمل اسے نظر انداز کر رہا تھا جیسے وہ وہاں تھی ہی نہیں
تعبیر کو اس کا رؤیہ کچھ سمجھ نہیں آیا لیکن طبیعت خراب ہونے کی وجہ سمجھ کر وہ چپ رہی آتش نے اپنا کھانا ختم کیا اور اٹھ کر جانے لگا تبھی وہ بھی اٹھی آتش اب تک اسے دیکھنے سے گریز کر رہا تھا
“سر یہ میڈیسن۔۔۔ یہ کھانے کے بعد کی ہیں۔۔۔”
تعبیر نے ہاتھ میں دوائی لئے اس سے کہا مگر وہ سامنے کی جانب دیکھ رہا تھا البتہ رک تو وہ گیا تھا لیکن اب اس کے چہرے کے تاثرات کچھ عجیب سے تھے وہ بولا تو کچھ نہیں البتہ اپنی پینٹ کی جیب سے موبائل نکال کر کال ملانے لگا
“شوٹ ریڈی ہے؟؟ میں آدھے گھنٹے میں پہنچتا ہوں۔۔۔”
وہ اپنی بات مکمل کر کے فون واپس جیب میں رکھ کر وہاں سے آگے چلا گیا جبکہ تعبیر اب تک یوں ہی کھڑی اس کے اس رویے کو سمجھنے کی کوشش کر رہی تھی کچھ یاد کر کے وہ پھر سے اس کے پیچھے گئی آتش سیڑھیاں عبور کرتا ہوا اپنے کمرے میں آیا اور دوسرا ڈریس نکال کر شیشے کے سامنے آ کھڑا ہوا
“سر آپ نے اب تک یہ میڈیسن نہیں لیں اور آپ شوٹ پر کیوں جارہے ہیں میں نے آپ کی تمام شوٹس کینسل کروا دی تھیں۔۔۔”
وہ اب بھی اسے مکمل نظر انداز کر رہا تھا اب کی بار تعبیر کے چہرے پر خفگی کے تاثرات نمایاں ہوئے وہ اس کے عقب میں آ کھڑی ہوئی
“کیا آپ مجھے واقعی نظر انداز کر رہے ہیں یا پھر یہ صرف میرا وہم ہے؟؟”
تعبیر کے نرم لہجے پر مجبوراً اسکا بام بناتا ہوا ہاتھ رکا وہ ایک نظر تعبیر کو دیکھ کر واپس اپنے کام میں مصروف ہوگیا
“تمہیں میرا نظر انداز کرنا برا لگ رہا ہے؟؟”
آتش نے سپاٹ لہجے میں کہا جس پر وہ اسے غور سے دیکھنے لگی وہ ایسا تو نہ تھا پھر آخر اسے یوں اچانک ہو کیا گیا تھا وہ پلٹ کر اپنے کپڑے اٹھانے لگا
“مانا کہ آپ مجھ سے بات نہیں کرنا چاہتے لیکن دوائیوں سے کیسی ناراضگی؟؟”
تعبیر کی بات پر اس کے قدم رکے اب کی بار وہ اسے جارحانہ انداز میں دیکھنے لگا جس پر تعبیر نے نظریں جھکالیں
“نہیں لینی مجھے کوئی میڈیسن۔۔۔ تمہیں میری فکر کرنے کی کوئی ضرورت نہیں مرا نہیں زندہ ہوں میں۔۔۔!!!”
آتش کے سپاٹ لہجے پر وہ سہم کر رہ گئی تھی آتش آگے بڑھ کر وہاں سے جانے لگا مگر اسے یہیں کھڑا پا کر بنا اسے دیکھے کہنے لگا
“جاتے ہوئے دروازہ بند کردینا!!!”
وہ جا چکا تھا تعبیر کو اس کا یہ لہجہ اس کا یہ انداز واقعی بہت برا لگا تھا وہ میڈیسن وہیں ٹیبل پر رکھ کر وہاں سے چلی گئی تھی
آدھے گھنٹے بعد جب وہ عصر کی نماز سے فارغ ہوکر باہر لان میں چہل قدمی کرتے ہوئے دل ہی دل میں ذکرِ الٰہی کر رہی تھی تب اس کی نگاہ باہر جاتے آتش پر پڑی جو بنا تاخیر کئے سیدھا اپنی گاڑی میں جا بیٹھا اور دیکھتے ہی دیکھتے ڈرائیور گاڑی کو فارم ہاؤس سے بہت دور لے گیا
“اگر واقعی وہ مجھ سے اس بات کے لیے ناراض ہیں اور اسے لے کر ہی مجھے نظر انداز کر رہے ہیں یہاں تک کے مجھ سے میری ڈیوٹی بھی ٹھیک سے نبھانے نہیں دے رہے میرا یہاں جاب کرنے کا کوئی فائدہ نہیں”
وہ دل ہی دل میں سوچتی ہوئی اپنے کمرے میں چلی گئی جہاں شاویز کی بہت ساری مس کالز جمع تھیں وہ روز اسے اس ہی وقت کال کیا کرتا تھا تعبیر نے اسے کال بیک کردی
☆★☆★☆★☆
تقریباً پانچ بجے کا وقت تھا جب حریم کے نمبر پر کال آنے لگی کیونکہ وہ کچن میں موجود تھی تبھی اسے پتا نہ تھا مگر وہاں سے گزرتی ائیزل رنگ کی آواز پر کمرے کے اندر آئی
“برو؟؟ یہ کون ہے”
ائیزل موبائل اسکرین پر چمکتا نام پڑھ کر حیران ہوئی پھر کچھ سوچ کر اس نے کال ریسیو کرنا چاہی جب حریم وہاں آئی اور اسے موبائل اٹھاتا دیکھ کر باقاعدہ دوڑ کر اس کے عقب میں آئی اور موبائل ہاتھ سے لیا
“حریم یہ کون ہے؟؟”
ائیزل کے سوال پر حریم کے چہرے کا رنگ اڑ گیا
“وہ۔۔ وہ یونیورسٹی والے اصم بھائی ہیں۔۔۔ بھول گئیں کیا تم؟؟ انہوں نے کہا تھا وہ نیو کلاسز کا بتانے کے لیے مجھے کال کریں گے شاید تبھی ان کی کال آرہی ہے۔۔۔”
وہ گھبراتی ہوئی الٹا سیدھا جھوٹ بول کر موبائل لئے وہاں سے چلی گئی جبکہ ائیزل سر جھٹک کر اپنے کمرے میں آگئی آج وہ آفس نہیں گئی تھی بلکہ گھر ہی پر سارے کام نمٹا رہی تھی
“کہیں کیوں فون کیا آپ نے؟؟”
حریم نے سخت لہجے سے کہا
“جلدی سے باہر آؤ میں تمہیں پک کرنے آیا ہوں شاباش۔۔۔”
ضوریز کی بات پر اس کی آنکھیں کھلی کی کھلی رہ گئیں
“کک کیا؟؟ گھر کے باہر ہیں آپ؟؟ آپ کا دماغ ٹھیک ہے اگر آپ کو یہاں کسی نے دیکھ لیا تو؟؟”
وہ گھبرائی تھی جس پر ضوریز ہنسنے لگا
“آپ ہنس رہے ہیں؟؟”
حریم نے دانت بینچے جس پر ضوریز نے ہنسی دبائی
“نہیں بھلہ میں کیوں ہنسوں گا۔۔۔ تم آرہی ہو باہر یا میں اندر آؤں؟؟”
ضوریز کی بات پر حریم کو لگا وہ پاگل ہو جائے گی
“نن نہیں نہیں رکیں میں خود آرہی ہوں۔۔۔”
وہ جلدی سے فون بند کر کے اپنا بیگ اور موبائل لئے کمرے سے باہر نکلنے لگی ائیزل ونڈو سے اسے جاتا دیکھ رہی تھی ابھی وہ اسے آواز دیتی حریم مین گیٹ سے نکل چکی تھی
“عجیب ہی لڑکی ہے۔۔۔ بھلہ کوئی پڑھنے کے لئے اتنا باولہ کیسے ہو سکتا ہے؟؟ کیسے؟؟”
وہ اکتا کر کہتی ہوئی واپس اپنے کام میں مصروف ہو چکی تھی اس بات سے انجان کے اس کا موبائل جو اس وقت سائلنٹ پر تھا تقریباً سو سے زائد میسجز جمع ہو چکے تھے
“آپ یوں اچانک یہاں کیوں آئے ہیں؟؟ سوچ سمجھ کر قدم اٹھایا کریں نہ۔۔۔ اگر کوئی دیکھ لیتا تو؟؟”
وہ عجلت میں گاڑی کی فرنٹ سیٹ پر آ بیٹھی جب ضوریز اس کی بات پر اسے دیکھنے لگا
“مجھے اپنی سسٹر سے ملنے کے لئے کچھ سوچنے سمجھنے کی ضرورت نہیں۔۔۔ اور اگر کوئی دیکھتا ہے تو دیکھتا رہے مجھے کوئی فرق نہیں پڑتا۔۔۔”
ضوریز کی بات پر اس نے ماتھا پیٹا جبکہ ضوریز اب تک اسے ہی دیکھ رہا تھا اپنی چھوٹی سی ناک پر اتنی ساری ٹینشن لیے وہ کوئی چھوٹی سی ڈول ہی لگ رہی تھی
“اب دیکھ کیا رہے ہیں؟؟ چلیں یہاں سے۔۔۔”
مسلسل اپنے بھائی کو دیکھتا پا کر وہ چینخی تھی جس پر ضوریز نے آئبرو اچکائے گاڑی بھگادی
“کیوں آئے ہیں آپ مجھ سے ملنے؟؟ مجھے آپ سے کوئی بھی بات نہیں کرنی۔۔۔”
حریم ہاتھ لپیٹے دوسری جانب رخ کر گئی جس پر ضوریز کے لب مسکرائے
“میری ڈول مجھ سے ناراض تھی بھلہ ایسے ہی اسے ناراض چھوڑ دیتا کیا؟؟”
ضوریز نے نرمی سے کہا مگر وہ رخ موڑے بیٹھی شاید ناراضگی کا اظہار کر رہی تھی
“اچھا بس نہ سوری نہ میری لاڈو۔۔۔ پکا آج کے بعد جو تم کہو گی وہ سب مجھے منظور ہے سب کچھ مانوں گا میں۔۔۔ اور تمہیں شاویز پسند ہے نہ؟؟ میں خود تمہاری اس سے شادی کرواؤں گا پکا پرومس۔۔۔”
ضوریز نے بہت پیار سے کہا جس پر ایک پل کے لیے حریم کے لبوں پر مسکراہٹ آئی مگر جلدی چھپا گئی جبکہ ضوریز اس کی مسکراہٹ دیکھ چکا تھا
“ہممم لگتا ہے میری ڈول بہت سخت ناراض ہے۔۔۔ کچھ تو کرنا پڑے گا۔۔۔”
ضوریز نے اسے دیکھتے ہوئے کہا اور گاڑی مال کی جانب گھمادی کچھ ہی دیر میں وہ لوگ اس مال کے باہر موجود تھے
“ہونہہ مجھے منانے کے لئے شوپنگ پر لے کر آئے ہیں اب دیکھئے گا ٹھیک ٹھاک خرچہ نا کروا دیا تو میرا نام بھی حریم درانی نہیں۔۔۔”
وہ زیرِ لب کہتی ہوئی مسکرائی جبکہ ضوریز اس کی بات سن چکا تھا وہ اپنی مسکراہٹ دبائے اسے گاڑی سے اترنے کا کہہ کر خود بھی اتر گیا
تقریباً آدھے گھنٹے سے زیادہ ہوچکا تھا حریم کوئی پچاس ساٹھ ہزار کی شاپنگ تو کر ہی چکی تھی مگر حیران ہی بات پر تھی کہ ضوریز نے اسے افف تک نہ کیا تھا نہ ہی وہ پریشان ہوا تھا بلکہ وہ بلکل پرسکون تھا
پہلے تو حریم نے اسے پورے مال میں خوب گھمایا پھر بھرپور شاپنگ کر کے جب وہ تھک گئی تو سامنے کافی شاپ پر آبیٹھی ساتھ ضوریز بھی بیٹھ گیا اب وہ سر پکڑے یہ سوچ رہی تھی کہ ضوریز کو تنگ کرنے کے لیے اتنی شاپنگ تو کر چکی تھی لیکن اب یہ شاپنگ چھپا کر رکھے گی کہاں جبکہ ضوریز تو اب تک پرسکون تھا
“کچھ اور لینا ہے؟؟”
اسے گہری سوچ میں دیکھ کر وہ مخاطب ہوا جس پر وہ چونکی
“جی؟؟ کیا؟؟”
“میں پوچھ رہا ہوں کچھ لینا ہے؟؟ کچھ رہ تو نہیں گیا؟؟”
ضوریز کی بات پر اس نے جلدی سے نفی میں سر ہلایا ابھی بھی کتنا پرسکون تھا وہ جیسے کوئی چھوٹی بات تھی اتنی شاپنگ کرنا وہ سوچنے لگی
“خیر مجھے نہ بہت تیز بھوک لگ رہی ہے۔۔۔”
حریم نے بچوں والے منہ بنا کر کہا جس پر ضوریز کے چہرے پر ایک حسین مسکراہٹ نمایاں ہوئی
“تو چلو کافی کے بجائے ساتھ لنچ کر لیتے ہیں۔۔۔ ویسے کافی لیٹ ہوگیا ہے بٹ اٹس اوکے۔۔۔”
ضوریز تمام شاپنگ بیگز لئے سامنے بنے فاسٹ فوڈ کی جانب جانے کا اشارہ کرنے لگا پہلے اس نے اپنے اور حریم کے ہاتھ میں پکڑے تمام بیگز گاڑی میں رکھے اور پھر وہ لوگ سامنے فاسٹ فوڈ پر چلے گئے
اب وہ آرڈر دے کر کب سے بیٹھا انتظار کر رہا تھا جبکہ حریم بھی ادھر اُدھر نظریں دوڑائے اس بڑے سے کشادہ ریسٹورنٹ کا جائزہ لے رہی تھی تبھی اچانک وہ اٹھا
“حریم تم یہیں رہنا اوکے نہ۔۔۔ میں بس ابھی آیا۔۔۔”
وہ اسے کہتا ہوا بنا اس کی بات سنے وہاں سے چلا گیا کچھ ہی دیر بعد آرڈر بھی آ چکا تھا لیکن ضوریز اب تک غائب تھا حریم سوچ میں پڑ گئی کہ کہاں گیا تھا سوچا فون کرلے مگر موبائل بھی گاڑی میں تھا
“اففف ریز بھائی کہاں چلے گئے آپ۔۔۔” سامنے والی ٹیبل پر بیٹھے دو لڑکے کب سے حریم کو گھورے جارہے تھے حریم کو ان کی نظریں خود پر محسوس ہوئی تھیں وہ کافی گھبرا رہی تھی تبھی ضوریز وہاں آیا
“ریز بھائی کہاں تھے آپ؟؟”
وہ خفگی سے کہنے لگی
“سوری مائے ڈول ایک کام یاد آگیا تھا۔۔۔ چلو اسٹارٹ کرتے ہیں بہت تیز بھوک لگی ہے”
ضوریز کھانے میں مصروف ہوگیا جبکہ وہ اب تک ٹھیک سے کچھ بھی کھا نہیں پارہی تھی وہ لڑکے مسلسل اسے ہی دیکھے جارہے تھے
“ڈول کیا ہوا؟؟ کھا کیوں نہیں رہیں۔۔۔”
ضوریز کے پوچھنے پر اس نے بچوں والا منہ بنا کر اس کے پیچھے اشارہ کیا جب ضوریز پلٹ کر پیچھے دیکھنے لگا تو ان لڑکوں نے اپنی نظریں موبائل پر مرکوز کرلیں۔۔۔
“کیا ہوا؟؟ کیا کچھ کہا ہے ان لوگوں نے؟؟”
ضوریز کے سوال پر اس نے معصومیت سے اسے دیکھ کر نفی میں سر ہلایا
“پھر؟؟”
“ریز بھائی یہ لفنگے کب سے میرے کھانے کو نیت لگائے جارہے ہیں نیتے کہیں کے۔۔۔”
حریم نے انتہائی معصومانہ انداز میں کہا جس پر نا چاہتے ہوئے بھی ضوریز کے لبوں پر مسکراہٹ نمایاں ہوئی وہ ایک جھٹکے سے اپنی جگہ سے اٹھا اتنا تو وہ جان چکا تھا حریم نے اسے بات کو کوئی اور رخ دے کر اشارے سے کیا بتایا ہے
“بھائی کہاں جارہے ہیں اب آپ؟؟”
اس نے اسے اٹھتا دیکھ کر پوچھا
“ان نیتوں کو نو دو گیارہ کرنے۔۔۔”
وہ آنکھ ونک کرتا ہوا سامنے ٹیبل پر بیٹھے لڑکوں کی جانب بڑھا وہ لڑکے سوالیہ نظروں سے اسے دیکھنے لگے
حریم حیران تو تب ہوئی جب وہ لڑکے کچھ دیر ضوریز کو دیکھنے کے بعد خود ہی اٹھ کر وہاں سے جانے لگے جبکہ ضوریز وہاں کھڑے صرف انہیں دیکھ رہا تھا کہا اس نے کچھ بھی نہیں تھا
“کیسا دیا پھر؟؟”
وہ واپس آبیٹھا اور مزے سے کہنے لگا
“مزہ نہیں آیا بلکل بھی۔۔۔ مجھے فائٹ دیکھنی تھی آپ کی۔۔۔”
حریم نے منہ بنا کر کہا جس پر اس نے ایبرو اچکائیں
“اففف نیکسٹ ٹائم پکا پرومس۔۔۔”
ضوریز نے اس کے بالوں کو بکھراتے ہوئے کہا جس پر وہ قہقہہ لگا کر اثبات میں سر ہلاتے ہوئے کھانے میں مصروف ہوگئی
☆★☆★☆★☆
رات کا وقت تھا جب وہ اپنے کمرے میں بیڈ کراؤن سے لگ کر بیٹھا اپنی حالت پر غور کر رہا تھا آج وہ شوٹ کے دوران اچانک سے چکرا کر گرنے لگا تھا یہ تو شکر کہ وہاں میڈیا موجود نہ تھا ورنہ اس خبر کو مرچ مصالحہ لگا کر کب کا وائرل کر دیا جاتا
گارڈز کی مدد سے وہ واپس اپنے فارم ہاؤس پر آچکا تھا تعبیر عشاء کی نماز ادا کر کے ملازم کے ہاتھ اس کے لئے کھانا بھجوا چکی تھی جو کہ اس نے الٹا ملازم پر غصہ کر کے واپس بھیج دیا تھا اب وہ ہاتھ میں ٹرے لئے اس کے کمرے کی جانب بڑھ رہی تھی
دروازہ کھلا اور تعبیر دھیمے قدموں سے چلتی ہوئی اندر آئی جہاں وہ کھڑکی کی طرف نظریں کئے کہیں گم سا تھا تعبیر کی آہٹ پر اس کی جانب دیکھنے لگا
“آپ نے کھانا واپس کیوں بھیج دیا؟؟ اگر آپ آج یہ میڈیسن لے لیتے تو شاید آپ کی طبیعت مزید خراب نہ ہوتی۔۔۔ چلیں اٹھیں پلیزز یہ کھانا کھا لیں۔۔۔”
وہ بڑی نرمی سے اسے سمجھاتی ہوئی اس کے سامنے کھانے کی ٹرے رکھ کر بیٹھی گئی
“کیوں کر رہی ہو یہ سب؟؟”
وہ آنکھیں چھوٹی کئے سخت لہجے میں پوچھنے لگا جس پر تعبیر نا سمجھی سے اسے دیکھنے لگی
“مم مطلب۔۔۔ کیا کیا میں نے۔۔۔”
وہ بوکھلائی تھی شاید اس نے انجانے میں کچھ کردیا ہو
“یہ سب کر کے کیا دکھانا چاہتی ہو؟؟ کہ بہت فکر ہے تمہیں میری؟؟”
آتش ایبرو اچکائے مخاطب ہوا تعبیر کو سمجھ نہیں آرہا تھا وہ ایسا کیوں کہہ رہا ہے
“میں بھلہ کیوں آپ کو کچھ دکھانے لگی؟؟ میں بس یہ کہہ رہی تھی کہ آپ اپنی میڈیسن۔۔۔”
ابھی وہ آگے کچھ کہتی جب آتش کی تلخ کلامی نے اس کی بات کاٹی تھی
“بھاڑ میں گئی میڈیسن۔۔۔ تم مجھے بس اتنا بتاؤ تم چاہتی کیا ہو مجھ سے ہاں؟؟ جب اتنا برا اتنا گھٹیا سمجھ کر مجھے ٹھکرا ہی دیا ہے تو اب یہ فکر کیوں؟؟”
آتش اس کے جواب کا منتظر تھا جب وہ اسے سنجیدگی سے دیکھنے لگی
“اس دن جو کچھ بھی ہوا اسے وجہ بنا کر آپ اپنا خیال نہیں رکھیں گے؟؟ آخر یہ کیسی وجہ ہے؟؟”
تعبیر کے سوال پر اس نے نظریں چرائیں وہ اب نظریں جھکائے بیٹھا شاید اس دن والی تکلیف میں تھا
“آتش پلیززز اپنا غصہ کھانے پر نہ نکالیں۔۔۔ پلیززز کچھ کھالیں اور یہ میڈیسن لے لیں۔۔۔ پھر میں یہاں سے چلی جاؤں گی۔۔۔ نہیں آؤں گی آپ کے سامنے۔۔۔”
وہ اسے منانے والے انداز میں کہہ کر ٹرے آگے کرنے لگی جب وہ ایک بار پھر اسے نظر انداز کر کے برابر رکھے ٹیبل پر سے وائن کی بوتل اٹھا کر گلاس میں نکال کر پینے لگا
اور یہ عمل اس نے سپاٹ نظریں لئے تعبیر کو جتاتے ہوئے کیا تھا جس پر تعبیر تاسف سے اسے دیکھتی رہ گئی تھی مطلب وہ اب ضد پر آ چکا تھا اور اپنے فیصلے سے ایک انچ بھی پیچھے ہٹنے والا نہیں تھا
وہ بولی تو کچھ بھی نہیں مگر میڈیسن اور کھانے کی ٹرے لئے وہاں سے اٹھ کر چپ چاپ باہر چلی گئی آتش کی نظروں نے اس کا تعاقب کیا تھا تعبیر سیڑھیاں اتر کر نیچے آئی اور ملازمہ کو ٹرے کچن میں رکھنے کا کہہ کر اپنے کمرے میں چلی گئی
کافی دیر وہ یوں ہی وائن پیتا رہا شاید اس دن کا غصہ آج پھر اس کے سر پر سوار ہورہا تھا وہ کچھ دیر یوں ہی اس رات کے بارے میں سوچتا رہا پھر بیڈ پر آ لیٹا ایسا نہیں تھا اسے بھوک نہیں لگ رہی تھی مسلسل خالی پیٹ رہنے سے اس کی حالت عجیب ہوگئی تھی کیونکہ اس وقت وہ اندر سے تھوڑا سا ویک تھا
“کیوں نہیں سمجھتی ہو۔۔۔ تم مجھے۔۔۔ تت تعبیر۔۔۔”
شراب کا نشہ دماغ پر اثر کر رہا تھا وہ اوندھے منہ لیٹا منہ میں بڑبڑا رہا تھا آنکھوں میں نشے کے ساتھ آنسوں بھی تھے شاید وہ اپنے دل کی باتیں تعبیر کے عکس سے کہہ رہا تھا
آتش کچھ دیر یوں ہی بڑبڑاتا رہا پھر اچانک اس کی آنکھ لگ گئی اور جب آنکھ کھلی تو صبح فجر کی اذان کی آواز سے۔۔۔ وہ آنکھیں مسلتا ہوا اٹھ بیٹھا مسجد سے آتی اذان کی مدھم سی آواز اس کے کانوں میں رس گھول رہی تھی
وہ بیڈ کراؤن سے لگے بڑی غور سے آج پہلی بار فجر کی اذان سن رہا تھا اسے جیسے سکون سا مل رہا تھا یہ اذان اس کی روح تک کو سکون بخش رہی تھی پہلے تو وہ یوں ہی سر جھکائے بیٹھا اذان سنتا رہا پھر اذان کے بعد کی دعا سن کر ایک گہری سانس لیتے ہوئے بامشکل بیڈ سے اٹھا اسے اب واقعی بھوک کا احساس ہورہا تھا
واش بیسن کے پاس جا کر پہلے اس نے منہ پر پانی مارا عارضی سا منہ دھو کر وہ واپس باہر آیا شیشے کے سامنے کھڑا وہ اپنے حلیے کو دیکھ رہا تھا اسے اپنے کپڑوں میں سے شراب کی بو آرہی تھی پہلے تو وہ بڑی غور سے اپنی سرخ آنکھیں دیکھتا رہا پھر کپڑے چینج کر کے کمرے سے باہر نکلا
اس وقت گھر کے سارے ملازم سرونٹ کوارٹر میں تھے گھر میں پورا سناٹا ہورہا تھا باہر آسمان پر ہلکی سی روشنی پھیل رہی تھی آتش کچن کی جانب بڑھنے لگا تب اس کی نظر تعبیر کے کمرے کے کھلے دروازے پر گئی نا چاہتے ہوئے بھی اس کے قدم تعبیر کے کمرے کی جانب بڑھتے چلے گئے
جب وہ اندر کی جانب دیکھنے لگا تو ساکت سا رہ گیا وہ جائے نماز پر بیٹھی ہاتھ اٹھا کر آنکھیں بند کئے مسلسل روئی جارہی تھی مگر بنا آواز کے۔۔۔ آتش نے غور سے اس کی آنکھوں کو دیکھا جن میں سے آنسوں بہتے ہوئے اس کے پورے چہرے کو تر کر چکے تھے
“وہ کیوں رو رہی ہے۔۔۔؟؟”
وہ سوچنے لگا کافی دیر تک وہ اسے یوں ہی ہاتھ اٹھائے روتا دیکھتا رہا مگر جب وہ دعا مکمل کر کے جائے نماز سے اٹھی تو نظر دروازے پر گئی جہاں وہ کھڑا ہوا اسے دیکھ رہا تھا ابھی وہ اس سے کچھ پوچھتی آتش وہاں سے کچن کی جانب چلا گیا
تعبیر نے اپنے آنسوؤں کو صاف کیا اور بیڈ پر آ بیٹھی ایک تسبیح ہاتھ میں لئے وہ مسلسل درودشریف کا ورد کرنے لگی ابھی پانچ منٹ بھی نہیں گزرے تھے جب کچن سے کچھ گرنے کی آواز آئی وہ تسبیح چوم کر رکھتی ہوئی جلدی سے وہاں بھاگی جب کچن میں آئی تو سامنے کا منظر دیکھنے والا تھا
آتش شیلف سے تھوڑا فاصلے پر کھڑا زمین پر نظریں جمائے سر کھجا رہا تھا جیسے کشمکش کی حالت میں ہو تب تعبیر کی نظر زمین پر گئی جہاں نیچے کانچ کا باؤل ٹوٹا ہوا تھا سارا پاستا نیچے گر چکا تھا تعبیر آگے بڑھ کر آنے لگی جس آتش نے اسے اشارے سے روکا کیونکہ وہ بے دھیانی میں کانچ کے ٹکڑے پر پیر رکھنے والی تھی
“آپ کو بھوک لگی تھی تو مجھے بتا دیتے۔۔۔ خود کیا ضرورت تھی یہاں آنے کی۔۔۔ اگر پیر پر گر جاتا تو؟؟”
تعبیر فکر مندی سے کہتی ہوئی آون اوف کرنے لگی جو کہ اب تک آن تھا آتش خاموش سے اس کی بات سن رہا تھا
“آپ مجھے بتا دیں آپ کو کیا کھانا ہے۔۔۔؟؟ کک تو ابھی ہے ہی نہیں میں بنا دیتیں ہوں۔۔۔”
تعبیر سنجیدگی سے کہنے لگی تبھی اس کی نظر آتش کے ہاتھ پر گئی جو وہ بار بار دیکھ رہا تھا جہاں سرخ رنگ کا نشان نمایاں تھا وہ آگے بڑھ کر اس کا ہاتھ تھامے فکرمندی سے دیکھنے لگی وہ بڑی غور سے اسے خود کے لئے پریشان ہوتا دیکھ رہا تھا
“نہیں وہ۔۔۔ میں۔۔۔ بے دھیانی میں آون سے گرم باؤل اٹھانے لگا تھا۔۔۔ تبھی۔۔۔ یہ ہوگیا۔۔۔ شاید۔۔۔”
آتش اسے پریشان دیکھ کر نرم لہجے میں کہنے لگا تعبیر نے کبڈ سے فرسٹ ایڈ باکس نکالا اور اسے وہیں رکھے ٹیبل کے پاس کرسی پر بیٹھنے کا اشارہ کیا
اس کے اشارے پر وہ خاموشی سے کرسی پر جا بیٹھا تعبیر سامنے والی کرسی پر بیٹھ کر اس کا ہاتھ ٹیبل پر رکھ کر اس پر اسپرے کرنے لگی پھر ایک ٹیوپ نکال کر اس کی ہتھیلی پر لگایا
“اس پر بینڈج نہیں کر سکتے ورنہ یہ ٹھیک ہونے میں ٹائم لے گا۔۔۔ آپ اپنے ہاتھ کو دھیان سے رکھیں۔۔۔”
وہ اس کے زخم پر متوجہ تھی اس بات سے انجان کے آتش اس کی قربت سے دو چار ہو رہا تھا آتش کی تپتی سانسوں کو چہرے پر محسوس کر کے وہ اچانک پیچھے ہوئی اس بار آتش اس کے نہیں بلکہ وہ آتش کے قریب آئی تھی
پہلے تعبیر نے زمین پر گرا سارا پاستا صاف کیا پھر جو ہی وہ کانچ کے ٹکڑے اٹھانے لگی اچانک سے ایک ٹکڑا اس کے الٹے ہاتھ کی انگلی پر جا لگا وہ جو بڑی غور سے وہیں بیٹھا اسے ہی دیکھ رہا تھا اس کی انگلی سے نکلتی خون کی بوند دیکھ کر جلدی سے اس کے پاس آیا
“کیا کر رہی ہو؟؟ تھوڑا ویٹ کر لیتیں سرونٹ کو بلا لیتا میں۔۔۔ ہاتھ سے کون کانچ سمیٹتا ہے؟؟”
آتش ایک ہاتھ سے اس کا ہاتھ تھامے ٹیبل کہ طرف لایا
“آتش یہ ایک چھوٹی سی چوٹ ہے۔۔۔”
تعبیر اسے پریشان دیکھ کہنے لگی
“تمہارے لئے ہوگی چھوٹی سی۔۔۔ میرے لئے نہیں۔۔۔”
آتش سخت لہجے سے کہتا ہوا اس کی انگلی سے نکلتے خون کو صاف کرنے لگا اور جلد ہی اس نے اس زخم پر چھوٹی سی بینڈج کردی جبکہ تعبیر اسے بڑی غور سے دیکھ رہی تھی
“تم یہاں بیٹھو میں سرونٹ کو بلا لاتا ہوں۔۔۔پتا نہیں کہاں مر گئے سب کے سب”
وہ اچانک سے مڑ کر جانے لگا مگر پھر رکا اسے لگا اس کا سر دوبارہ سے چکرا رہا ہے۔۔۔ تعبیر نے اس کا ہاتھ پکڑ کر اسے واپس کرسی پر بٹھایا
“میرا یقین کریں آتش یہ چھوٹی سی چوٹ ہے۔۔۔ میں کر دیتی ہوں صاف پھر آپ کے لئے بریک فاسٹ بنا دوں گی۔۔۔”
آتش نے اثبات میں سر ہلایا اب وہ وہیں بیٹھا ہوا تھا تعبیر نے جلدی سے سارے ٹکڑے سمیٹے سامنے رکھا پین واش کیا اور چولہہ جلا کر فریج سے انڈا نکالنے لگی
“تعبیر تم کرلو گی؟؟ تمہیں چوٹ آئی ہے۔۔۔”
آتش نے فکرمندی سے کہا
“پریشان نہ ہوئیں میں کرلوں گی۔۔۔”
پہلے اس نے آملیٹ بنایا پھر ٹوسٹر میں بریڈ ریڈی کیں دوسرے چولہے پر چائے چڑھائی بریڈ مکھن اور آملیٹ کی پلیٹ کو اس ٹرے میں رکھ کر ڈائننگ ہال کی جانب بڑھی آتش خاموشی سے اسے دیکھ رہا تھا
“آجائیں بریک فاسٹ ریڈی ہے۔۔۔”
تعبیر کے کہنے پر وہ اٹھنے لگا تب تعبیر نے ہاتھ بڑھایا جسے تھام کر وہ اٹھا وہ دونوں ڈائننگ ہال میں داخل ہوئے آتش کو کرسی پر بٹھا کر جب وہ جانے لگی تو آتش اسے دیکھنے لگا
“کہاں جارہی ہو؟؟ تم نہیں کرو گی بریک فاسٹ؟؟”
آتش کے پوچھنے پر تعبیر نے نفی میں سر ہلایا
“اچھا۔۔۔ میں کہہ رہا تھا اگر تھوڑی دیر یہاں۔۔۔ بیٹھ جاتیں تو۔۔۔”
آتش ہچکچا رہا تھا کل جو رؤیہ اس نے تعبیر کے ساتھ اختیار کیا تھا آخر آج وہ کیسے اس سے بات کرتا
تعبیر بنا کچھ کہے اس کی بات سمجھ کر وہیں کرسی پر بیٹھ گئی تبھی آتش نے پہلے اپنے سیدھے ہاتھ جو تکنے لگا جہاں کچھ دیر پہلے اس کی بے دھیانی کی وجہ سے زخم بن چکا تھا پھر الٹے ہاتھ سے کھانے کی کوشش کرنے لگا تعبیر اس کی کوششیں دیکھ رہی تھی
“آتش الٹے ہاتھ سے کھانا نہیں کھاتے۔۔۔”
تعبیر نے نرمی سے کہا تو وہ اسے سنجیدگی سے دیکھنے لگا اب بچارا کیا کرتا اس کی معصومیت پر تعبیر نے کچھ سوچتے ہوئے اس کی برابر والی کرسی کھینچی اور آ بیٹھی
“اگر آپ کہیں تو۔۔۔”
“ہاں ضرور۔۔۔”
وہ جو ابھی پورے الفاظ کہہ بھی نہیں پائی تھی آتش پوری بات سمجھتا ہوا عجلت سے بول اٹھا تو وہ خاموشی سے اسے دیکھنے لگی جس پر آتش نظریں جھکا گیا
اب منظر کچھ یوں تھا کہ تعبیر اسے اپنے ہاتھ سے کھلا رہی تھی ساتھ ہی اس کی نظروں کی تپش سے گھبرا بھی رہی تھی مگر کرتی کیا۔۔۔ کچھ ہی دیر میں آتش کا ناشتہ مکمل ہو چکا تھا تعبیر ٹرے لئے واپس کچن میں چلی گئی اور ایک کپ چائے نکال کر لائی
آتش چائے کے کپ کو ایسے دیکھ رہا تھا جیسے کسی مشکل عمل سے گزرنے والا ہو۔۔۔ اس کی نظروں کو سمجھتے ہی تعبیر کو یاد آیا وہ تو چائے پیتا ہی نہیں تھا
“اوہ میں بھول گئی۔۔۔ آپ کے لئے ملک لاتی ہوں آپ کی میڈیسن بہت ہارٹ ہیں۔۔۔ “
چائے وہیں رکھ کر چلی گئی ابھی وہ چائے کو ہی گھور رہا تھا جب تعبیر اس کی میڈیسن اور ایک گلاس میں دودھ لے کر آئی پہلے اسے میڈیسن دی پھر گلاس آگے کیا
اب وہ خود چائے کے سپ لے رہی تھی جبکہ آتش دودھ کا گلاس بامشکل ختم کر رہا تھا ساتھ ہی تعبیر کو بھی تک رہا تھا
“اب کیسا محسوس کر رہے ہیں آپ؟؟”
تعبیر کے سوال پر وہ ہوش میں آیا
“بہتر ہے۔۔۔ بس چکر سب تک آرہے ہیں۔۔۔”
آتش نے مختصر سا کہا
“جب آپ جانتے تھے آپ کی طبیعت ٹھیک نہیں تو کیوں گئے آپ شوٹ پر؟؟ اورپ پھر کھانے کے بجائے حرام مشروب پی کر آپ کو کیا لگا آپ پہلے جیسے ہوجائیں گے؟؟”
تعبیر نے سنجیدگی سے کہا تو وہ اسے نظر بھر کر دیکھنے لگا
“تمہیں اس سے کیا فرق پڑتا ہے کہ میں شراب پیتا ہوں۔۔۔ اور یہ میرے دکھوں کی دوا ہے۔۔۔ میری تنہائی کی ساتھی ہے یہ۔۔۔”
آتش کے تاثرات تھوڑے بدل گئے تھے تعبیر اسے دیکھنے لگی
“تنہائی کی ساتھی؟؟ آپ پہلے یہ سوچیں آپ تنہا کیوں ہیں؟؟”
تعبیر نے بھی تھوڑے سخت لہجے میں کہا
“کیونکہ مجھے تنہائی پسند ہے۔۔۔”
“جب آپکو تنہائی پسند ہے تو تنہائی کو فیس کرنا سیکھیں۔۔۔ شراب کے نشے میں تو آپ کو یہ بھی نہیں پتا چلتا ہوگا کہ آپ اکیلے ہیں یا کسی کے ساتھ۔۔”
وہ خاموشی سے اس کی باتیں سن رہا تھا
“آپ کو کیا لگتا ہے آپ اکیلے ہوتے ہیں؟؟ اللّٰہ پاک سب کے ساتھ ہے وہ ہر جگہ موجود ہے۔۔۔ آپ کو کوفت نہیں ہوتی شراب کی بو سے؟؟”
تعبیر کے سوال پر ایک پل کے لیے اس کی گردن جھکی تھی پھر وہ اسے دیکھنے لگا
“میں چینج کر چکا ہوں۔۔۔”
وہ دھیمے لہجے میں کہنے لگا
“لباس تبدیل کرنے سے حرام مشروب کی بو ختم ہوجاتی ہے یہ آپ کا وہم ہے غور کریں اپنی حالت پر محسوس کریں خود کو آپ کو اپنے ہی اندر سے وہ اسمیل آئے گی جسے دور رکھنے کے لئے آپ لباس تبدیل کرتے ہیں۔۔۔”
تعبیر نے ایک نظر اسے سر تا پیر دیکھ کر کہا
“کک کیا مطلب ہے تمہارا؟؟”
وہ حیرت سے اسے دیکھنے لگا
“جب آپ خود کو محسوس کریں گے خود ہی آپ کو سارے مطلب سمجھ آجائے گے۔۔۔”
وہ کپ اور گلاس اٹھا کر وہاں سے چلی گئی جبکہ وہ اب تک بیٹھا اس کی باتوں پر غور کر رہا تھا
☆★☆★☆★☆
آج فرست سے دروازہ لاک کر کے بیٹھی وہ اپنے بھائی کے ساتھ کی ہوئی تمام شوپنگ دیکھ رہی تھی بہت سارے بیگز میں اسے ایک بیگ تھوڑا بھرا ہوا اور بھاری لگا تو سب سے پہلے اسے دیکھنے کا ارادہ کیا
وہ جب واپس آئی تھی سب کی نظروں سے بچ بچا کر کمرے میں پہنچی تھی تب سے اب تک سارے بیگز ایسے ہی الماری میں رکھے ہوئے تھے مگر آج وہ ائیزل کے آفس جانے کے بعد ہی اپنی شوپنگ دیکھنے لگی
جب اس نے وہ بیگ کھولا تو اندر سے ایک بہت پیارا سا ٹیڈی بیئر نکلا جسے دیکھ کر وہ حیران ہوئی اسے وہ ٹیڈی بیئر بہت پسند آیا وہ پنک کلر کا ٹیڈی بیئر اس کے بٹن ان کرنے پر بار بار اسے آئی لو یو کہا جارہا تھا
“اففف اچھا تو اب مجھے سمجھ آئی اس دن ریز بھائی اچانک ریسٹورنٹ سے کیوں غائب ہوئے تھے”
حریم نے اس ٹیڈی بیئر کو سینے سے لگایا اور بلش کرنے لگی تبھی کچھ سوچتے ہوئے اپنا موبائل اٹھا کر برو کا نمبر ڈائیل کرنے لگی پہلی ہی بیل پر کال ریڈیو ہو چکی تھی
ضوریز میٹینگ سے فارغ ہوکر اپنے روم میں آبیٹھا تھا
“پتا نہیں آئیز نے میرے اس دن والے گفٹ کھولے ہوں گے بھی یا نہیں۔۔۔”
ابھی وہ یہی سوچ رہا تھا جب حریم کی کال آنے لگی اس نے جیسے ہی کان پر لگائی ایک باریک سے آواز بار بار کانوں میں ایک ہی جملہ سنائی جارہی تھی
“ہیئی کیوٹی۔۔۔ آئی لو یو۔۔۔”
ضوریز مسکراتا ہوا کرسی سے اٹھ کر گلاس وال کے سامنے آکھڑا ہوا جہاں سے نیچے کا منتظر واضح دکھائی دے رہا تھا
“میری ڈول کو ٹیڈی بیئر پسند آیا؟؟”
ضوریز کے سوال پر وہ مسکرانے لگی
“جی ہاں ریز بھائی۔۔۔ بہت بہت بہت سارا والا پسند آیا۔۔۔ سچ میں آئی لو یو سو مچ۔۔۔ اینڈ السو تھینکس”
حریم نے خوشی سے چور لہجے میں کہا تو وہ پھر سے مسکرایا
“لو یو ٹو میری کیوٹ سی ڈول۔۔۔ مگر صرف تھینکس سے کام نہیں چلے گا”
ضوریز نے ہاتھ میں لیا ہوا پین اچھال کر صوفے پر پھینکتے ہوئے کہا
“تو پھر؟؟”
وہ معصومیت سی شکل بنائے پوچھنے پر مجبور ہوگئی
“پھر یہ کہ میری کیوٹ سی ڈول اپنے بھائی کو اپنے ہاتھوں سے کوئی بھی اسپائسی ڈش بنا کر کھلائے گی۔۔۔ تب میں مانوں گا تمہارا تھینکس۔۔۔”
ضوریز کی بات پر وہ مسکرانے لگی
“اور اچھا ایسا ہے کیا؟؟ چلیں پھر میں تیار ہوں بتائیں کب اور کیا کھان پسند کریں گے آپ؟؟”
اس نے پرجوش انداز میں کہا
“میں آج شام آفس سے فری ہوکر تمہیں پک کرنے آؤں گا پلیززز کوئی بہانا نہیں چلے گا اوکے نہ۔۔۔ تم یہاں اپنے گھر میں آکر اپنے بھائی کے لئے کھانا بناؤ گی۔۔۔ بوکو قبول ہے؟؟”
ضوریز کی بات وہ بڑی غور سے سن رہی تھی آخری میں مسکرا دی
“جی ہاں قبول ہے۔۔۔ بس آپ آنے سے آدھے گھنٹے پہلے بتا دیئے گا پلیززز تاکہ۔۔۔”
ابھی آگے وہ کچھ کہتی جب ضوریز بول پڑا
“تاکہ میک اپ کر کے پیاری سی ڈول بن جاؤ؟؟”
ضوریز نے شرارتی انداز میں کہا جس پر حریم نے منہ بسورا
“ایسی کوئی بات نہیں ہے اوکے نہ آپ کی ڈول بنا میک اپ کے بھی کیوٹ لگتی ہے۔۔۔ اگر یقین نہیں آتا تو خود دیکھ لیے گا آج شام میں بنا میک اپ کے آنے والی ہوں اوکے۔۔۔”
وہ تپ کر کہتی ہوئی اسے ہنسنے پر مجبور کر گئی تھی
“اچھا اچھا ٹھیک ہے مان لیتا ہوں مگر دھیان سے۔۔۔ ایسا نہ ہو بنا میک اپ کے بھائی تو بعد میں ڈرے تم خود ہی نہ ڈر جاؤ کہیں۔۔۔”
“ریززززز بھائی۔۔۔۔؟؟”
ابھی وہ شاکڈ کی کیفیت میں مبتلا آگے کچھ کہتی جب ضوریز قہقہہ لگاتا ہوا فون بند کر گیا
“بڑے آئے خود نہ ڈر جاو۔۔۔ اب دیکھنا کیسے ڈراتی ہوں ان کو میں۔۔۔”
وہ کچھ سوچتی ہوئی اپنی مخصوص مسکراہٹ لئے اپنی باقی کی شوپنگ دیکھنے لگ گئی
☆★☆★☆★☆
“لباس تبدیل کرنے سے حرام مشروب کی بو ختم ہوجاتی ہے یہ آپ کا وہم ہے”
آج اب تک اپنے کمرے میں ادھر سے اُدھر ٹہل رہا تھا بار بار اس کے کانوں میں تعبیر کے جملے بازگشت ہورہے تھے وہ آج کل ایک ایک بات کو بہت سوچنے لگا تھا ورنہ وہ وہی تھا جسے کسی کی ذرا برابر بھی پرواہ نہیں تھی
“غور کریں اپنی حالت پر محسوس کریں خود کو آپ کو اپنے ہی اندر سے وہ اسمیل آئے گی جسے دور رکھنے کے لئے آپ لباس تبدیل کرتے ہیں۔۔۔”
وہ ٹھہر کر اپنے وجود کے اندر سے آتی گھٹن نماں بو کو محسوس کرتا ہوا اچانک سے آنکھیں کھول گیا
“تو کیا۔۔۔ میں واقعی۔۔۔ اب تک نا پاک ہوں۔۔۔”
وہ دونوں ہاتھوں سے سر دبوچے زیرِ لب کہنے لگا
“تو آخر کیسے میں اس۔۔۔ اس اسمیل کو خود سے دور کروں۔۔۔ کیا کرنا چاہئے مجھے؟؟”
وہ کشمکش میں اپنے سر کے بالوں کو مٹھیوں سے دبوچنے لگا
“شش شاور۔۔۔ ہاں۔۔۔”
آتش الٹے پاؤں بھاگتا ہوا باتھ آیا اور شاور کھول کر گرتے ہوئے پانی کے نیچے کھڑا ہوا وہ دونوں ہاتھوں سے اپنے جسم کو بے دردی سے رگڑ کر اس بو کو خود سے دور کرنے کی کوشش کر رہا تھا اسے اب اس بو سے کوفت ہورہی تھی
کافی دیر تک وہ یہ عمل کرتا رہا پھر باہر آکھڑا ہوا وارڈروب سے کپڑے نکال کر اپنے گیلے کپڑوں کو تبدیل کیا اور شیشے کے سامنے آکھڑا ہوا وہ خود کے چہرے کو بغور دیکھنے لگا جیسے کچھ تلاش کر رہا ہو آنکھیں بند کر کے وہ اپنے وجود کو محسوس کرنے لگا
“نہیں۔۔۔ اب ایسا کچھ بھی نہیں ہوگا۔۔۔ میں پاک ہوگیا ہوں۔۔۔ ہاں میں پاک ہو گیا ہوں۔۔۔”
وہ مسلسل ایک ہی جملہ دہرا رہا تھا مگر اسے پھر سے اپنے پاس سے عجیب سی بو آنے لگی اس نے عجلت سے سامنے ڈریسنگ پر رکھے پرفیوم میں سے ایک بوتل اٹھا کر خود پر لگانا شروع کیا
“اب۔۔۔ اب کچھ ایسا نہیں ہوگا۔۔۔ اب کچھ بھی محسوس نہیں ہوگا۔۔۔”
وہ خود کو جیسے تسلی دے رہا تھا مگر اب لمحہ بہ لمحہ اس کے جسم سے اٹھتی بو بڑھتی جارہی تھی
“نہیں ہے ایسا۔۔۔ میں پاک ہوں سنا سب نے۔۔۔!!! میرے پاس سے کسی شراب کی بو نہیں آرہی۔۔۔!!!”
وہ باقاعدہ چینخ رہا تھا
“نہیں ہوں میں ناپاک۔۔۔ نہیں ہوں۔۔۔!!!”
پورے کمرے کا حال منٹوں میں وہ بلکل خراب کر چکا تھا آنسوؤں نے شدت پکڑی ہوئی تھی کمرے میں موجود تمام چیزیں توڑ دینے کے بعد جب وہ تھک گیا تو زمین پر بیٹھ کر گٹھنوں میں منہ دیئے رونے لگا باہر تعبیر مسلسل دروازہ بجا رہی تھی مگر وہ ہوش میں ہی کہاں تھا
“نہیں ہوں میں ناپاک میرے خدا۔۔۔ میں نے کچھ نہیں کیا۔۔۔ میں کسی کے ساتھ نہیں سویا۔۔۔ میرا کردار پاک ہے۔۔۔ میں نہیں ہوں برا۔۔۔”
جسم کے ساتھ ساتھ اسے اپنے کردار تک کے گناہگار ہونے کا شک ہورہا تھا
اور یہ بات سچ تھی ہاں ماضی میں اس کے تعلقات ہر ایک سے تھے مگر وہ اپنی کامیابی کے لیے اتنا نہیں گرا تھا کہ کسی کو بھی اپنے جسم تک رسائی حاصل کرنے دے ہاں یہ بھی سچ تھا اکثر چھوٹی موٹی قربتوں سے دو چار ہوکر اس سے گناہ ہوجاتے تھے مگر صرف تب تک جب تک سامنے والا وجود ہوش میں ہوتا تھا
ورنہ وہ جس آرٹس کے ساتھ بھی کام کرتا تھا تنہائی میں اس سے ملتے وقت ہمیشہ اس کی ڈرنک میں نشہ آور دوائی ملا دیا کرتا تھا اور اپنی حالت وہ خود جان کر ایسی بنا رکھتا تھا جس سے سامنے والی اگلے روز یہی سمجھتی تھی کہ کل رات وہ آتش درانی کے ساتھ گزارنے میں کامیاب ہوچکی ہے
وہ جان کر کچھ بھی نہیں کرتا تھا مگر بڑی بڑی ایکٹریس کو اپنی طرف مائل کرنے کا ہنر اسے بخوبی آتا تھا اور اسی دوران اکثر چھوٹے گناہ ہوجاتے تھے جنہیں یاد کر کے وہ آج بے حد تکلیف میں تھا اسے گھن آرہی تھی اپنے ان لبوں سے جنہیں ناچاہتے ہوئے بھی سامنے والے کو ایٹریکٹ کرنے کے لئے وہ کئی بار گناہ گار کر چکا تھا
“آپ کو کوفت نہیں ہوتی شراب کی بو سے؟؟”
ایک اور آواز اس کی سماعت سے جا ٹکرائی وہ سر اٹھا کر پورے کمرے میں نظریں دوڑانے لگا اچانک سے تعبیر کے تمام جملے اسے سنائی دینے لگے وہ آنکھیں مینچے کانوں پر ہاتھ رکھے ان جملوں کی چبن سے گھبرا رہا تھا
“ہاں ہاں نہیں ہوتی تھی مجھے کوفت۔۔۔ پیتا ہوں میں شراب۔۔۔ گناہ گار ہوں میں۔۔۔ حرام پیٹ میں اتار چکا ہوں میں۔۔۔”
تعبیر کے مسلسل گونجنے والے جملوں سے تنگ آکر وہ ایک بار پھر چینخا تھا
“مگر۔۔۔ مگر اب مجھے گھٹن ہونے لگی ہے۔۔۔ ہاں مجھے کوفت ہونے لگی ہے۔۔۔ مم ۔۔۔ میرا دم گھٹ رہا ہے یہاں۔۔۔”
وہ ایک جھٹکے سے اٹھا ٹیبل پر رکھی شراب کی بوتل کو گھورنے لگا جسے وہ کل خالی کر چکا تھا
“نن نہیں۔۔۔ دور رہو۔۔۔”
اسے لگا جیسے کوئی دھواں سا اس بوتل سے اٹھ رہا ہو جو اس کی جانب بڑھ رہا ہو وہ دور ہونے لگا اس کے قدم دروازے کی جانب بڑھ رہے تھے فرش پر ٹوٹی پڑھیں پرفیوم کی بوتلوں میں سے ایک بوتل اٹھا کر اس نے شراب کی بوتل پر دے ماری جس سے وہ گر کر ٹوٹ گئی
“میں نے کہا دور رہو مجھ سے گھن آرہی ہے مجھے تم سے۔۔۔”
وہ عجیب کیفیت میں چینخا جارہا تھا کمرے کا دروازہ کھول کر جیسے ہی وہ باہر آیا تعبیر اس کی حالت پر گھبراتی ہوئی اسے دیکھنے لگی نیچے کھڑے سارے ملازم اپنے صاحب کی حالت پر پریشان تھے
“آاتش۔۔۔ کیا ہوا ہے آپ کو۔۔۔ یہ کیا کر رہے ہیں آپ؟؟”
تعبیر نے اس کے قریب جانے کے لئے قدم اٹھائے آتش کی حالت اس کی سمجھ سے باہر تھی وہ اس وقت اپنے ہوش و حواس سے بیگانہ معلوم ہورہا تھا
“دد۔۔۔ دور رہو تعبیر۔۔۔ مم میں ناپاک ہوں۔۔۔ دور رہو۔۔۔”
آتش بھاگتا ہوا سیڑھیاں اترنے لگا تعبیر اسے روکنے کی کوشش کر رہی تھی وہ اس وقت بے قابو ہو چکا تھا
“آتش۔۔۔ پلیززز رک جائیں۔۔۔”
تعبیر نے اس کے قریب جانا چاہا
“نن نہیں تعبیر۔۔۔ دور رہو۔۔۔ وہ وہ دیکھو۔۔۔ وہ میرے پاس آرہا ہے۔۔۔ مجھے اس دھوئیں سے گھن آرہی ہے۔۔۔”
آتش دونوں ہاتھوں سے بالوں کو جکڑتے ہوئے چینخنے لگا ملازم ایک دوسرے کو دیکھ کر پریشان ہو رہے تھے
“آتش کچھ بھی نہیں ہے یہاں کوئی دھواں نہیں ہے۔۔۔”
تعبیر نے اسے بہر آرام سے ہینڈل کرنا چاہا
“وہ وہ دیکھو۔۔۔۔ ہے۔۔۔ یہاں بہت سارا دھواں ہے۔۔۔”
وہ اسے ہاتھ سے اپنے کمرے کی جانب اشارہ کرتے ہوئے بتانے لگا
“آتش میرا یقین کریں یہاں ایسا کچھ بھی نہیں ہے۔۔۔ پلیززز ادھر آئیں۔۔۔”
تعبیر نے اسے پیار سے کہا جس پر وہ رک کر اسے دیکھنے لگا تعبیر آرام سے قدم اٹھاتی ہوئی اس کی جانب بڑھ رہی تھی
“آتش پلیززز کام ڈاؤن۔۔۔ میرے پاس آئیں۔۔۔”
تعبیر نے انتہائی نرم لہجے میں کہا تو وہ اس کے بڑھتے ہوئے ہاتھ کو تھام کر اس کے پیچھے آکھڑا ہوا اس کے اچانک پیچھے آنے پر وہ تھوڑا گھبرائی
“آتش دیکھیں کچھ بھی نہیں ہے۔۔۔ کوئی دھواں نہیں ہے۔۔۔”
وہ تعبیر کا دوپٹہ مظبوطی سے دبوچے کھڑا تھا آنکھیں لال سرخ ہوچکی تھیں جسم پسینے سے شرابور ہوچکا تھا چہرے پر بکھرے بالوں کے ساتھ ڈر اور تکلیف کے تاثرات بھی نمایاں تھے
“تم۔۔۔ تم نماز پڑھتی ہوں نہ۔۔۔ تبھی تمہیں وہ دھواں نظر نہیں آرہا۔۔۔ وہ تمہارے قریب بھی نہیں آ سکتا۔۔۔ کک۔۔۔ کیونکہ تم پاک ہو نہ۔۔۔”
آتش نے ہچکیوں سے کہا تھا جیسے واقعی وہ بہت ڈر چکا تھا تعبیر اس کی بات سن کر اسے دیکھنے لگی
“آتش آپ ادھر آئیں پلیززز۔۔۔”
تعبیر اسے بامشکل سنبھالتے ہوئے سامنے روم میں لے گئی بامشکل اسے بیڈ پر بٹھایا اور ملازم کو کہہ کر ڈاکٹر کو کال کروائی وہ اب تک اپنے دونوں ہاتھوں کو مسل رہا تھا وہ بار بار ایک ہی جملہ کہے جارہا تھا
“مم میں ناپاک ہوں؟؟ نہیں میں ناپاک نہیں ہوں۔۔۔”
تعبیر اس کے عقب میں آبیٹھی وہ اسے التجائی نظروں سے دیکھنے لگا
“تعبیر۔۔۔ میں ناپاک نہیں ہوں نہ۔۔۔ نہیں ہوں میں ناپاک۔۔۔”
وہ اس سے سوال کر کے خود ہی جواب دے رہا تھا تعبیر نے اس کے دونوں ہاتھوں پر اپنی گرفت مضبوط کی
“آتش آپ ناپاک نہیں ہیں۔۔۔”
تعبیر نے اس کی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے پورے استحقاق سے کہا تو وہ اسے بڑی حیرت سے دیکھنے لگا کچھ ہی دیر بعد ڈاکٹر وہاں آیا اور اس کی حالت دیکھ کر پہلے تو اسے انجیکٹ کیا پھر کچھ دوائیاں لکھ کر وہاں سے چلا گیا
“پپ پلیززز تم۔۔۔ تم میرے ساتھ رہو ورنہ وہ پھر۔۔۔ پھر سے میرے پاس آ جائے گا۔۔۔ پلیززز مجھے اکیلا مت چھوڑو۔۔۔”
وہ اس کا ہاتھ مظبوطی سے تھامے مسلسل ایک ہی بات کہے جارہا تھا مگر اب اس پر انجیکشن کا اثر ہورہا تھا اس کی آنکھیں بند ہونے لگی تھی
“آتش میں یہیں ہوں۔۔۔ آپ کے پاس۔۔۔ کہیں بھی نہیں جارہی میں۔۔۔”
تعبیر نے اسے یقین دلایا اسے بیڈ پر لٹا کر اس کے سرہانے بیٹھ کر وہ اس کے بالوں میں ہاتھ پھیرنے لگی جبکہ آتش نے اس کا دوسرا ہاتھ اور ڈوپٹہ پکڑا ہوا تھا
“کیا ہوگیا ہے آتش کو۔۔۔ کیا واقعی میری باتوں کا ان پر ایسا اثر ہوا ہے کہ۔۔۔ وہ اس حال میں آ چکے ہیں ۔۔۔”
وہ اس کی حالت دیکھ کر سوچنے لگی اسے بہت دکھ ہورہا تھا آتش اب سو چکا تھا تعبیر کے ہاتھ اور ڈوپٹے پر اس کی گرفت اب بھی مظبوط تھی وہ یوں ہی اس کے سرہانے بیٹھی اسے دیکھ رہی تھی کہیں نہ کہیں اسے تڑپا دیکھ کر وہ بھی تکلیف میں تھی
کس طرح وہ کچھ دیر پہلے اپنے جلے ہوئے ہاتھ کی پرواہ کئے انہیں تیز تیز رگڑ رہا تھا تعبیر نے اس کے ہاتھ کا زخم دیکھا جو مزید سرخ ہو چکا تھا
جاری ہے
