Lams e Junooniyat by Areesha Khan NovelR50533 Lams e Junooniyat (Episode 03)
Rate this Novel
Lams e Junooniyat (Episode 03)
Lams e Junooniyat by Areesha Khan
“ارے لائٹ وہاں نہیں یہاں سیٹ کرو، اور تم؟؟ تمہیں کب سے کہہ رہا ہوں یہ فریم ادھر نہیں ادھر لگے گا، پتا نہیں کہاں کہاں سے اٹھ کر آجاتے ہیں سمجھ ہی نہیں آتا انہیں کچھ”
وہ آدمی باقاعدہ چینخنے کے انداز سے کہتا ہوا سر پکڑ کر ایک طرف بیٹھ گیا جب باہر سے شور کی آواز آنے لگی
“بازیگر بازیگر بازیگر”
وہ بلیک برانڈڈ شووز پہنے گاڑی سے پہلا قدم نکالے باہر آنے لگا جب سب لوگوں نے اسے دیکھتے ہی شور مچانا شروع کردیا وہ ایک اسٹائل سے اپنا کوٹ ٹھیک کرتے ہوئے اپنے ہاتھوں کی انگلیوں سے بالوں کو سیٹ کرتے ہوئے قدم بڑھاتے ہوئے سب کو اگنور کرتے اندر کی جانب بڑھا
وہ جس مغرورانہ انداز سے گاڑی سے نکل کر سب کی نظروں کو نظر انداز کرتے ہوئے اندر گیا تھا قیامت سے کم نہ لگ رہا تھا
فوٹوگرافر سمیت سب لوگ سامنے کھڑے ہوئے اسے آتے دیکھ رہے تھے وہ بنا کچھ کہے سیدھا کرسی پر آ بیٹھا جب میک اپ آرٹسٹ نے بورش لئے اپنا کام شروع کردیا
“سر جی آپ کو آنے میں کوئی تکلیف تو نہیں ہوئی؟؟”
اس آدمی نے سوال کیا جس پر آتش دورانی نے اپنی پر کشش نیلی آنکھوں سے چشمہ ہٹایا اور اسے گھورنے لگا
“تمہیں کہا بھی تھا کسی ایسی جگہ سیٹ رکھو جہاں یہ چھوٹے موٹے لوگ آس پاس نظر نہ آئیں، تمہیں پتا ہے نہ مجھے شور نہیں پسند”
وہ سخت لہجے میں کہتا ہوا سامنے والے کی جان نکال گیا تھا
“سر آپ اتنے بڑے ماڈل اور اتنے مشہور ایکٹر ہیں بھلہ مجموعہ کیسے نہیں ہوگا؟؟ لیکن آپ فکر ہی نہ کریں نیکسٹ ٹائم ہم کسی اچھی اور کم آبادی والی لوکیشن پر فوٹو شوٹ رکھیں گے”
اس آدمی نے آتش کو اپنی باتوں سے بہلانا چاہا مگر وہ ناکام رہا کیونکہ آتش کے چہرے پر اب بھی سخت تاثرات نمایاں تھے
“بوس سب ہوگیا…”
میک اپ آرٹسٹ نے بورش کا آخری ٹچ مارتے ہوئے کہا جس پر فوٹوگرافر نے اسے اشارے سے جانے کا کہا
“ہاں سب تو ٹھیک ہے لیکن آتش سر اگر آپ اجازت دیں تو آپ کے بال…”
وہ ابھی آگے کچھ کہتا جب آتش نے اپنی گہری نیلی آنکھوں سے اسے گھورا
“نن نہیں… مطلب ضرورت نہیں ایسے ہی ٹھیک ہے”
وہ آدمی جلدی سے فوٹوگرافر کو اشارہ کرتے ہوئے وہاں سے دوسری طرف جا بیٹھا جبکہ آتش اپنا کوٹ اتار کر لائٹس اور کیمراس کے بیچ آگیا
“سائیڈ پوس”
اس آدمی کے کہنے پر فوٹوگرافر نے شوٹ اسٹارٹ کی جبکہ وہ آدمی دل ہی دل میں شوٹ کمپلیٹ ہونے کی دعائیں کر رہا تھا
وہ آتش دورانی تھا، فلم انڈسٹری پر راج کرنے والا بادشاہ، جس کا فلمی نام بازیگر تھا، وہ اپنی سلیکشن کے بعد ڈائرکٹ فلم میں پہنچ چکا تھا اسے ڈائرکٹ فلم ملی تھی جس کا ہیرو وہ خود تھا، اور اپنی پہلی فلم میں وہ اتنا ہٹ ہو چکا تھا کہ باقی کے تمام پروڈیوسر اپنے اگلے پروجیکٹ کے لئے اسے ایک نظر میں ہی سلیکٹ کر چکے تھے
وہ شروع سے ہی اپنے اصولوں پر چلتا تھا اس کا اپنا ایک اسٹائل تھا اس کے اپنے کچھ اہم اصول تھے جس پر وہ کہ صرف خود چلتا تھا بلکہ باقی کے تمام لوگوں کو بھی مجبوراً اس کے ساتھ کام کرنے پر اس کے اصولوں کو ماننا پڑھتا تھا اور اس ہی وجہ سے اکثر کسی نہ کسی ڈائرکٹر وغیرہ سے اس کی منہ ماری ہوتی رہتی تھی
مگر سب مجبور تھے کیونکہ آتش دورانی نے فلم انڈسٹری میں پہلا قدم رکھتے ہی اپنی جگہ بنالی تھی جس وجہ سے اس کے اربوں فینز اسے ہی اسکرین پر دیکھنا چاہتے تھے ہر ایک پروڈیوسر اپنی پروڈکشن کی کامیابی کے لیے آتش کو کاسٹ کرنا چاہتا تھا بس یہی وجہ تھی جو آتش کی لاکھ بدتمیزی بد مزاجی کو برداشت کرتے ہوئے وہ لوگ آتش کے آگے پیچھے رہتے تھا
☆★☆★☆★☆
“کیا واقعی؟؟”
“جی ہاں آپی اتنے بدتمیز لڑکے تھے کہ ان کا بس نہیں چل رہا تھا یونیورسٹی کو کلب میں بدل دیں”
شاویز ہمیشہ کی طرح آج بھی ایک ایک بات تفصیل سے اسے بتا رہا تھا جبکہ وہ موبائل پر رائمہ کے آتے میسجز بھی پڑھ رہی تھی
“خیر تم اپنی حفاظت کرنا تمہیں پتا ہے نہ کتنی مشکلوں سے بابا کو ایگری کیا ہے میں نے، پلیززز شیزی اپنی آپی کو مایوس نہ کرنا، وہ جو کرتے ہیں انہیں کرنے دو تم بس اپنا دھیان رکھنا پڑھائی کے علاوہ کسی فالتو کاموں میں انٹرسٹ نہ لینا”
تعبیر نے اسے سمجھاتے ہوئے کہا جس پر شاویز نے اثبات میں سر ہلایا
“اچھا نہ آپی اب سوجائیں دیکھیں کتنی تھک گئیں ہوں گی آپ…ہاتھ پاؤں دباؤں گا؟؟
شاویز کی بات پر تعبیر ہنسنے لگی
“آپی کیوں ہنس رہی ہیں آپ ؟؟ ایسا کیا کہہ دیا میں نے”
شیزی نے معصوم سی شکل بناتے ہوئے پوچھا جس پر تعبیر نے اس کے بالوں کا ترتیب سے بنا ہوا ہیئر اسٹائل ایک منٹ میں بگاڑ دیا
“تمہاری باتوں پر ہنس رہی ہوں، پاگل، بہن کے کون ہاتھ پاؤں دباتا ہے؟؟ اور یہ کیا کیا ہوا ہے بالوں کا حشر”
“اوففف آپی اتنی مشکل سے سیٹ کئے تھے آپ نے سب خراب کردیا”
وہ منہ بناتا ہوا اٹھ کر برابر والے کمرے میں چلا گیا جبکہ تعبیر اس کی بچکانہ شکل پر اب تک ہنس رہی تھی
یہ دو کمرے کا مکان تھا جس کی چھت پر کوئی کمرہ کہ تھا نیچے کے دو کمرے جن میں سے ایک تعبیر کے استعمال میں تھا جبکہ دوسرے کمرے میں افتخار صاحب اور شاویز سویا کرتے تھے بیچ میں ایک سحن تھا جہاں چار پائی بچھی ہوئی تھی ساتھ ہی کچن اور باتھ روم بھی بنا ہوا تھا
تعبیر کے کمرے میں ایک الماری، ایک بیڈ اور ایک چار پائی تھی جبکہ شاویز والے کمرے میں ایک الماری اور ایک بڑا صوفا تھا کیونکہ افتخار صاحب تو کبھی اپنی چار پائی سحن سے کمرے میں اور کبھی کمرے سے صحن میں رکھوا لیا کرتے تھے لیکن شاویز اپنے ہی صوفے پر سویا کرتا تھا
“سینوریٹا…”
وہ اب موبائل رکھ کر بچوں کی کاپیاں چیک کر رہی تھی جب رائمہ کو دوبارہ میسج آیا جسے دیکھ کر اس کے چہرے پر مسکراہٹ بکھرنے لگی
“کہو رائمہ… تم اب تک سوئیں نہیں؟؟”
تعبیر نے جواب دے کر موبائل واپس بیڈ پر رکھ دیا لیکن سیکنڈ کے اندر رپلائی آگیا
“مجھے تو خوشی سے نیند ہی نہیں آرہی…”
تعبیر چونکی…
“خوشی؟؟ کیسی خوشی “
ابھی اس کا میسج سینڈ ہی ہوا تھا جب رائمہ کی کال آنے لگی
“اوففف اس لڑکی کو نہ، اتنا سا بھی سکون نہیں ہے”
تعبیر نے کال ریسیو کی
“ہائے… کیسی ہو میری سینوریٹا”
رائمہ کی بات پر وہ پھر سے مسکرائی
“میں ٹھیک ہوں تم بتاؤ کیوں نہیں سوئیں اب تک”
“یار تمہیں کیا بتاؤں میں اتنی زیادہ خوش ہوں نہ، یوں سمجھو میں اسٹار بننے والی ہوں”
رائمہ کی بات پر وہ ہلکہ سا مسکرائی
“اسٹار؟؟ کیا مطلب ہے تمہارا؟؟”
“یار بڑی باجی کو میک اپ آرٹسٹ نے کال کی تھی انہیں ایک ماڈل تیار کروانے کے لیے بلایا گیا ہے اور تمہیں پتا ہے وہ میک اپ آرٹسٹ کہہ رہی تھی کہ ایک چانس سے کافی چانس لگ سکتے ہیں”
وہ ایکسائٹمنٹ سے تعبیر کو ساری تفصیل بتانے لگی
کیونکہ تعبیر کو اس پالر میں کام کرتے ہوئے کوئی تین چار سال تو ہو ہی گئے تھے اور یہ پالر رائمہ کی بڑی بہن کا تھا جس میں وہ اپنی غیر موجودگی میں اکثر رائمہ کو پالر میں بھیج دیتی تھی تب سے ان دونوں کی بہت اچھی دوستی ہوچکی تھی اور رائمہ اپنی ہر بات تعبیر سے شیئر کیا کرتی تھی
“بہت سارے چانس؟؟ میں سمجھی نہیں…”
تعبیر نے نا سمجھی سے کہا جس پر رائمہ نے ماتھا پیٹا
“اففف یار بہت سارے چانس کا مطلب ہے اگر میں بھی آپی کے ساتھ جاؤں تو ہو سکتا ہے مجھے وہاں کوئی جاب مل جائے اور کیا پتا ایک دن مجھے ماڈلنگ بھی کرنی پڑے اور پھر میں بہت بڑی سوپر اسٹار بن جاؤں”
وہ اسے اپنے دل کی بات بتاتے بتاتے خوابوں کی دنیا میں چلی گئی وہ ہمیشہ سے ایسا ہی کرتی تھی پھر تعبیر اسے حقیقت کی دنیا میں اتارا کرتی تھی
“اوففف رائمہ پاگل لڑکی، اتنی آگے تک کا سوچ لیا تم نے؟؟ میں نے تمہیں پہلے بھی سمجھایا تھا کہ اتنی امیدیں وابستہ نہ کیا کرو جب امید ٹوٹتی ہے تو پھر انسان اندر سے ویران ہوجاتا ہے”
تعبیر اسے سمجھانے لگی جس پر اس نے منہ بنایا
“جاؤ یار تم سے تو بات کرنا ہی فضول، بندا کبھی ابھی بات بھی منہ سے نکال لیتا ہے”
رائمہ نے اپنی بات مکمل کر کے فون بند کردیا جبکہ وہ اب پچھتا رہی تھی
“اوفف اللّٰہ اس لڑکی کو تھوڑی عقل دے، پتا نہیں کب سمجھ آئے گی اسے”
وہ خود کلامی کرتے ہوئے دوبارا سے کاپیاں چیک کرنے میں مصروف ہوگئی
☆★☆★☆★☆
شام کا وقت تھا جب ہوسٹل پورا ویران پڑا ہوا تھا وہ جاسوس نظروں سے باہر کا جائزہ لیتی ہوئی واپس دروازہ بند کر گئی پاؤں میں جوگرز چڑھانے سے انداز میں پہن کر کھڑکی سے باہر جھانکنے لگی جبکہ حریم ہر بار کی طرح اس بار بھی ہاتھ باندھے اس اڑتی چڑیا کو دیکھ رہی تھی
“لگتا ہے وہ لوگ آگئے”
ہؤا کے گھوڑے پر سوار وہ اپنا موبائل اور وائلٹ لئے کھڑکی کی طرف بڑھی مگر دوسری طرف کھڑی حرمین پر نظر گئی جو اسے ہی گھور رہی تھی
“اچھا نہ جانی آج سمبھال لے بہن ہوگی، کل سے پکا پرومس کہیں بھی نہیں جاؤں گی”
وہ اس کے گالوں کو چومتی ہوئی دور ہوئی جبکہ حریم اب تک بے تاثراتی چہرہ لیے کھڑی تھی
“ہر سنڈے تم یہی کہتی ہو آئیز…”
حریم نے ایک افسوس بھری نگاہ اس کے کپڑوں پر ڈالی ٹائٹ سی بلیک پینٹ بلو ٹی شرٹ جس کے اوپر چیک والی شرٹ (جس کے بٹن کھول رکھے تھے) پہنے وہ عجیب فنٹر ہی معلوم ہورہی تھی
“یار جانی سمجھا کر نہ، آپ پرام نائٹ ہے سب فرینڈز آئے ہوئے ہوں گے بہت مزہ آنے والا ہے”
وہ ایکسائٹڈ ہوتے ہوئے کہنے لگی جس پر حریم نے نظریں اس پر سے ہٹائیں
“یار آئیزل تم اپنی انجوائمنٹ کے چکر میں اپنی لائف کا پریشیز ٹائم ویسٹ کر رہی ہو، اگر یہ سب تمہارے ڈیڈ کو پتا چلا پھر؟؟ سوچا ہے کیا کریں گے وہ تمہارے ساتھ؟؟”
حریم کی بات پر وہ سر کھجاتے ہوئے منہ بنانے لگی
“یار کہہ تو رہی ہوں آج پرام نائٹ ہے کونسا روز روز آتی ہے اور ویسے بھی ڈیڈ نے کونسا میرے پیچھے جاسوس لگایا ہوا ہے”
“کیا پتا…”
آئیزل نے بیزاری سے کہا جس پر حریم نے خود کلامی کی
“کیا؟؟”
“کچھ نہیں… بتاؤ کب تک آجاؤ گی؟؟ تمہیں پتا ہے نہ بانو آنٹی رات میں کوئی دو تین بار تو سب لڑکیوں کے کمرے چیک کرتی ہیں اگر انہیں شک ہوگیا تو پھر؟؟ پہلے ہی وہ تمہاری بہت شکایتیں کرتی رہتی ہیں”
“ارے کچھ بھی نہیں ہوگا نہ ڈارلنگ، اچھا میں جلدی واپس آجاؤں گی تب تک تم…یہ… یہ سب سیٹ رکھنا”
وہ اپنے بیڈ پر دو تین تکیئے رکھ کر چادر سے کوور کرنے لگی یہ اس کا کوئی نیا کام نہیں تھا وہ ہمیشہ سے ایسا ہی کرتی تھی جب بھی اسے نائٹ کلب جانا ہوتا تھا تو وہ اپنے بیڈ پر دو تین تکیے رکھ کر چادر سے ایسے کوور کرتی تھی کہ جب کوئی دیکھے تو اسے لگے یہاں وہ سو رہی ہے
مقصد تو اس کا کچھ غلط نہیں ہوتا تھا ہاں لیکن وہ اپنی لائف کو اپنی مرضی سے جینا چاہتی تھی ڈیڈ تو اس کے آؤٹ آف کنٹری تھے وہ کافی چھوٹی تھی جب اس کی ماں کی ایک جان لیوا بیماری سے موت ہوگئی تھی تب سے اب تک اس کے باپ نے اسے اس ہی ہوسٹل میں ڈال دیا تھا اور جب سے اب تک وہ صرف دو بار ہی ملنے آئے تھے
وہ اپنے بزنس میں اتنے مصروف رہتے تھے کہ ان کے پاس اپنی بیٹی سے بات کرنے کے لیے دو گھڑی وقت بھی نہیں ہوتا تھا وہ ہر مہینے ٹائم پر اچھی خاصی پاکٹ منی اسے بھیجوا دیا کرتے تھے جس سے وہ اپنی لائف کے تمام اخراجات پورے کرتی تھی اور ساتھ ہی ساتھ اپنی زندگی کو اپنی مرضی سے خراب کرنے کی عادی ہوچکی تھی
“لوو یو ٹیک کیئر”
وہ اسے فلائنگ کس دیتی ہوئی کھڑکی سے نیچے اترنے لگی
“دھیان سے”
حریم اس کے پیچھے پیچھے اسے دیکھنے گئی جس طرح وہ پائپ کو پکڑ کر نیچے چھلانگ لگا رہی تھی اگر کوئی اور لڑکی ہوتی تو سب سے پہلے تو وہ نیچے گرتی پھر اس کا منہ ٹوٹتا اور ساتھ ہی دانت بھی اور پھر کئی چوٹیں بھی آتیں مگر اس لڑکی کو تو اب عادت ہوچکی تھی اُچھل کود کرنے کی
“بائے”
وہ آخری بار ایک سرسری سی نظر مارتے ہوئے سیدھا بائیک پر جا بیٹھی یہ اس کا کلاس فیلو تھا جو اسے پک کرنے آیا تھا کیونکہ رات کے اس پہر وہ اپنی کار تو نکالنے سے رہی تھی اس لئے جب بھی اسے رات کے وقت کسی پارٹی یا کلب میں جانا ہوتا تھا تو وہ اپنے کلاس فیلوز کو بلایا کرتی تھی
“پتا نہیں کب یہ اپنی لائف کو سیریز لے گی…”
حریم خود کلامی کرتی ہوئی اپنے بیڈ پر آبیٹھی اور کتابوں میں مصروف ہوگئی
حریم ویسے تو اس سے چار پانچ سال چھوٹی تھی لیکن وہ ہمیشہ سے یہیں پر رہا کرتی تھی کیونکہ اس کے والدین کا ایک ایکسڈنٹ میں انتقال ہوگیا تھا جس وجہ سے اس کی دادی نے اپنی عمر کو دیکھتے ہوئے اسے یتیم خانے بھیج دیا تھا اور پھر کچھ ہی مہینوں بعد پتا چلا کہ اس کی دادی بھی وفات پا گئیں
وہ دس سال کی تھی جب اس کی ٹیچر نے اسے یتیم خانے سے آزاد کروا کر اس ہاسٹل میں داخل کروا دیا تھا تب سے اب تک وہ یہیں پر رہتی تھی اور آئیزل اور اس کا کمرہ ایک ہی تھا اور آئیزل نہ چاہتے ہوئے اس کی عمر کو دیکھ کر اسے اپنے ساتھ رکھنے پر راضی ہوگئی تھی لیکن وقت گزرنے کے ساتھ ہی حریم آئیزل کی بیسٹ فرینڈ بن گئی تھی بس یہی وجہ تھی جو وہ دونوں ایک دوسرے کی بے انتہا فکر کرتی تھیں
☆★☆★☆★☆
مینیجر سے میٹنگ کے بعد وہ ڈنر کر کے اپنے روم میں آ چکا تھا آج وہ جلد ہی فارغ ہوگیا تھا ورنہ شوٹنگ کی وجہ سے وہ رات گئے دیر سے گھر پر آیا کرتا تھا
ٹی وی آن کر کے وہ بیڈ پر آ لیٹا جبکہ ساتھ ہی ساتھ وہ موبائل بھی چیک کر رہا تھا جب اس کی نظر ایک پوسٹ پر گئی جہاں مخالفین نے کچھ الٹے سیدھے کومنٹس کئے ہوئے تھے ایک جھٹکے سے اس نے موبائل کو سائڈ ٹیبل پر رکھا اور اپنے غصے کو کم کرنے کی کوشش کرنے لگا سائٹ ٹیبل پر پڑی وائن کی بوتل کو گلاس میں انڈھلتے ہوئے اس نے اپنے لبوں پہ لگایا
یہ روز کا تھا وہ ہمیشہ سے اپنے غصے کو قابو کرنے کے لیے وائن پیا کرتا تھا جہاں اس کے اربوں فینز بن چکے تھے وہیں اس کے کچھ مخالفین بھی تھے جن کی تعداد میں آئے دن اضافہ ہوتا رہتا تھا جہاں بازیگر کے چرچے عام تھے وہیں مخالفین بھی اس کے بارے میں گھٹیا سے گھٹیا باتیں کرتے تھے
ابھی وہ وائن پیتے ہوئے ٹی وی دیکھنے میں مصروف تھا جب اسکا موبائل رنگ ہوا
“ردا ریاض؟؟”
اسکرین پر چمکتا ہوا نمبر دیکھ کر ایک بار پھر وہ اپنے غصے کو ضبط کرنے لگا کال ریسیو کر کے کان پر لگائے وہ وائن کا گھونٹ بھرنے لگا
“ہائے ہینڈسم ڈسٹرب تو نہیں کیا؟؟”
ہمیشہ کی طرح آج بھی وہ اسے اچھا خاصا تپا کر بڑے آرام سے سوال کر رہی تھی
“کہو… کیوں فون کیا؟؟”
آتش نے بیزاری سے کہا جس پر دوسری طرف قہقہہ نمایا ہوا
“یاد آرہی تھی تمہاری… وہ میں نے کہنا یہ تھا کہ اگر تم فری ہو تو میں آجاؤں؟؟”
“میں اس وقت کسی بھی بحث کے موڈ میں نہیں ہوں بہتر یہی ہوگا کہ آئیندہ مجھ سے ملنے کی یا مجھے کال کرنے کی کوشش بھی مت کرنا”
وہ دھاڑنے سے انداز میں کہتا ہوا فون بند کرنے لگا مگر پھر رکا
“اور ہاں اِک اور بات… یہاں آنے کی جرات بھی مت کرنا ورنہ بہت برا ہوگا… میں تمہارا وہ حشر کروں گا کہ تم ساری زندگی کسی کو منہ دکھانے کے لائق نہیں رہو گی”
وہ اسے دھمکاتے ہوئے کال ڈسکنیکٹ کر گیا جبکہ دوسری طرف ردا ریاض جس کی آنکھیں خون کے آنسوں رو رہی تھیں
“اپنی کامیابی کے لیے تم نے مجھے استعمال کیا تھا آتش دورانی… لیکن میرا نام بھی ردا ریاض ہے، جو کھیل تم نے شروع کیا تھا میں تمہیں اس ہی کھیل میں الجھا کر رکھ دوں گی”
بے دردی سے ہاتھوں کی انگلیوں سے آنسوں کو رگڑتے ہوئے وہ لب بیچ گئی
“میں بھی دیکھتی ہوں کیسے بھاگتے ہو تم مجھ سے، اب تمہیں میرا ہونے سے کوئی بھی نہیں روک سکتا… تم خود بھی نہیں…”
سامنے دیوار پر لگی آتش کی تصویر کو دیکھتے ہوئے وہ جنون سے کہنے لگی جبکہ چہرے پر عجیب ویرانی چھائی ہوئی تھی
یہی حقیقت تھی جب اس نے فلم انڈسٹری میں قدم رکھا تھا تب وہ ہٹ ہوا تھا لیکن وقت کے ساتھ ساتھ اس میں شہرت کی لالچ بڑھتی چلی جارہی تھی اور اس وقت ردا ریاض پوری انڈسٹری پر چھائی ہوئی تھی اور اس لئے آتش نے ردا سے تعلقات بنا کر اسے اپنی طرف مائل کیا جبکہ ردا نے خود اس کے ساتھ کام کرنے کی خواہش پورے میڈیا پر ظاہر کی تھی
اس ہی طرح کافی پروجیکٹ انہوں نے ساتھ کئے تھے اور اس ہی دوران ردا کو آتش دورانی سے اتنی زیادہ اٹیچمنٹ ہوگئی تھی کہ وہ ہر دو دن بعد اپنے سوشل میڈیا اکاؤنٹس پر آتش دورانی کی پکس لگا کر مس یو کے کیپشن ڈالا کرتی تھی جس سے ان کے فینز کو لگا تھا ان کے بیچ کچھ چل رہا ہے
مگر جب آتش کا نام اس کے نام سے اُونچا ہونے لگا تو آتش کا اس سے دل بھرتا گیا اس ہی دوران ردا ریاض کے بہت سے بولڈ ایکٹرز کے ساتھ نائٹ کلب اور ہوٹلز میں اکھٹے ہونے کی وجہ سے کافی اسکینڈلز سامنے آئے تھے آتش کو جب یہ بات پتا چلی تو وہ اپنی ساخ اور نام کو بچانے کے لیے اس سے دوری اختیار کر گیا
مگر ایک بار جب وہ ڈرنک تھا تب ردا نے اس کے ساتھ اپنی پکس وائرل کی تھیں جن میں آتش اسے ریڈ روز دے رہا ہے تب سب کو لگا آتش اسے پرپوز کرنے والا ہے آتش نے دوسرے دن جب یہ خبر میڈیا پر پھیلتے دیکھتی تو اسے وارن کرنے کے لیے اس سے ملنے اس کے فلیٹ گیا اور تب ہی میڈیا پر ان کا اسکینڈل بن گیا اس نے بڑی مشکل سے یہ سب ہینڈل کیا تھا تب سے وہ اس سے دور رہتا تھا مگر وہ اب تک اس کے پیچھے ہی پڑی ہوئی تھی
آتش نے ایک ٹھنڈی سانس لے کر اس کا نمبر بلاک لسٹ کیا بیڈ پر آکر وہ آنکھیں بند کرتا ہوا نیند کی وادیوں میں چلا گیا
☆★☆★☆★☆
“یاہوووووو…”
ہر طرف شور برپا تھا تیز میزک کی آواز سے پورا کلب مانو جیسے ہل رہا تھا سب لوگ اپنے گروپ کے ساتھ انجوائے کر رہے تھے یہ پرامپ نائٹ تھی جہاں سب کے سب اپنی تمام ٹینشوں سے بھاگ کر یہاں آکر اپنی ہی دنیا میں مگن سے ہوگئے تھے
وہ اپنے دوستوں کے ساتھ ڈانس کرنے میں مصروف تھی جوس کے گلاس کو وہ ایسے پکڑی ہوئی تھی جیسے شراب کی بوتل ہو ویسے اس نے دو تین بار تو ڈرنک کی تھی جس پر حریم نے اسے سنبھالا تھا اور ہاسٹل میں سب سے چھپا کر وہ کمرے میں واپس لائی تھی
“آئیزز چلو ڈانس فلور پر چلیں”
اس کے ایک دوست نے اسے اشارے سے اپنی طرف بلاتے ہوئے کہا جس پر وہ اس کے ساتھ ڈانس فلور پر چلی گئی بہت سارے لوگ جن میں سے کچھ تو ہوش میں تھے ہی نہیں سب ڈانس کرنے میں مصروف تھی
اس نے بھی اپنے مخصوص اسٹائل میں جھومنا شروع کردیا
“یاہووو…”
وہ فل انجوائے کر رہی تھی لائٹس آف ان ہونے کی وجہ سے کسی کا چہرہ واضح طور پر دکھائی نہیں دے رہا تھا
ابھی وہ مزید جھومتی جب اچانک سے وہ کسی سے ٹکرائی اور جس سے وہ ٹکرائی اس کے ہاتھ میں پکڑا ہوا گلاس زمین پر جا گرا جبکہ اس کی جیکٹ بھی تقریباً خراب ہو چکی تھی
“آئے…ایم سس سوری”
ابھی وہ نظر اٹھا کر سامنے دیکھنے ہی لگی تھی جب سامنے کھڑے وجود کو دیکھ کر مانو جیسے فریز ہی ہوگئی ہو
وہی پرکشش گہری کالی آنکھیں، چہرے پر بکھرے ہوئے بال گلے میں مخصوص لاکٹ جبکہ ہاتھوں میں شیر کے سانچے کی مانند بنی انگوٹھیاں وہ اس شخص کو کیسے بھول سکتی تھی جبکہ وہ اسے ہی گھور رہا تھا
“تم؟؟”
وہ انگلی اگلے بڑھاتے ہوئے اسے کہنے لگی مگر وہ چہرے پر سخت تاثرات لئے اسے ہی گھور رہا تھا آئیزل کو کل صبح والا سین یاد آنے لگا وہ آخر کس طرح اس کے منہ پر نوٹ اچھال کر گیا تھا
“اندھی ہو؟؟”
وہ لب بیچتے ہوئے سخت لہجے میں کہنے لگا جس پر آئیزل نے اسے گھوری سے نوازا وہ پہلے ہی اس جیسے بدتمیز انسان سے اچھا خاصہ تپی ہوئی مگر اور آج وہ پھر سے اس کے سامنے کھڑا تھا
“اوہ ہیلو… سامنے سے تم آرہے تھے میں نہیں”
وہ ایک اسٹائل سے کہتی ہوئی پلٹنے لگی مگر تب ہی اس نے اسے ایک جھٹکے سے اپنی طرف کھینچا جس سے وہ اس کے سینے سے ٹکرائی
“ٹکرائیں تم تھیں، میں نہیں”
وہ اب کافی ضبط کرتا ہوا کہہ رہا تھا جبکہ وہ اب تک اس کے سینے سے لگی ہوئی تھی اس کی اچانک والی حرکت پر ائیزل اسے غصے سے گھورنے لگی اور اس سے اپنا آپ آزاد کروانے لگی مگر اس کی گرفت میں مضبوطی تھی
“یہ کیا بدتمیزی ہے…؟؟”
وہ کھا جانے والی نظروں سے اسے گھور رہی تھی
“ابھی تم نے میری بدتمیزی دیکھی ہی کہاں”
وہ زومعنی الفاظ کہتا ہوا اسے اس وقت زہر لگ رہا تھا جبکہ یہ الفاظ اس نے آئیزل کے لبوں پر نگاہ دوڑاتے ہوئے کہے تھے
“چھوڑو مجھے”
ائیزل نے مزاحمت کرنا چاہی مگر ناکام رہی وہ اب تک اسے اپنے قریب کیے کھڑا تھا
“اگر نہ چھوڑوں تو”
ایبرو کا زاویہ بناتے ہوئے اس نے یہ الفاظ ادا کئے جس پر ائیزل نے آگ اُغلتی ہوئی نظروں سے اسے دیکھا جس پر وہ یک طرفہ مسکرانے لگا مگر تب ہی ایک پل کے لیے ائیزل اس کی اس حسین مسکراہٹ میں کھو سی گئی تھی مگر اگلے ہی لمحے وہ سنبھل گئی
“کیا چاہتے ہو مجھ سے…؟؟”
اسے پتا تھا یہ ڈھیڈ انسان ایسے اس کی جان نہیں چھوڑے گا اس لیے اس نے کام کی بات کی
“حساب”
جبکہ وہ مختصر سا کہتا ہوا اس کے چہرے کے ایک ایک نقش کو غور سے دیکھنے لگا
“کیسا حساب؟؟”
وہ سوالیہ نظروں سے اسے دیکھنے لگی
“جو جیکٹ تم نے ابھی ابھی خراب کی ہے اس کی قیمت ڈھائی ہزار روپے ہے”
وہ اس کی ہلکی براؤن آنکھوں میں دیکھتے ہوئے کہنے لگا جس پر ائیزل نے بامشکل دوسرے ہاتھ کو اپنی پینٹ کی جیب تک بڑھایا اور وائلٹ نکال کر دو ہزار کے اور ایک پانچ سو کا نوٹ نکال کر اس کی طرف بڑھانے لگی جبکہ پانچ ہزار کا نوٹ جو اس کے وائلٹ سے جھانک رہا تھا اس نے واپس وائلٹ میں رکھا تبھی اس کی گرفت ڈھیلی پڑی
اس نے پہلے ان نوٹوں کا بغور جائزہ لیا پھر ائیزل کو دیکھنے لگا
“ہوگیا؟؟”
وہ اپنے کالر ٹھیک کرتی ہوئی اسٹائل مار کر مڑنے لگی مگر تب ہی اس نے ہجر سے اس کا ہاتھ مروڑا جبکہ اس بار وہ اس کے پیچھے تھا
“ابھی حساب باقی ہے”
اس کے پشت پر اپنی تھوڑی جمائے وہ سرگوشی نما انداز میں مخاطب ہوئی اس کی گرم جھلستی ہوئیں سانسیں اپنی نازک سی گردن پر پڑتی ہوئی محسوس کر کے ائیزل کی ریڑھ کی ہڈی میں عجیب سی سنسناہٹ محسوس ہونے لگی جبکہ وہ اس کی کلون کی خوشبو دھیرے سے اپنی سانسوں میں اتارنے لگا
“کک کیا مطلب.”
وہ بامشکل کب ہلاتی ہوئی یہ الفاظ ادا کر گئی
“جو گلاس تم نے توڑا ہے اس کی قیمت پتا ہے کیا تھی؟؟”
وہ ایک عجیب سی بات کہتا ہوا اسے پیچھے مڑ کر دیکھنے پر مجبور کر گیا
“گلاس تھا، ٹوٹ گیا، پھر کیا فرق پڑتا ہے کتنی بھی قیمت ہو”
وہ اس کی طرف پلٹ کر اپنے آپ کو سنبھالتی ہوئی اسے کہنے لگی
“اور اگر میں کہوں یہ گلاس میں اپنے ساتھ لایا تھا اپنے گھر سے… تو پھر؟؟”
ضوریز کی بات پر وہ عجیب کیفیت میں مبتلا ہوئی آخر کیا تھا وہ ایک ایک بات کا ایک عجیب سا جواب ہمیشہ تیار رکھتا تھا
“واؤ نائس، تو پھر بتاؤ کیا قیمت ہے اس گلاس کی؟؟”
وہ ہاتھوں سے تالی بجاتے ہوئے کہنے لگی جس پر سامنے کھڑے شخص نے لب ہلاتے ہوئے کچھ کہا لیکن میوزک کی آواز اتنی تیز تھی کہ آئیزل کے کچھ سمجھ نہیں آیا وہ سوالیہ نظروں سے اسے گھورنے لگی
ضوریز نے ایک جھٹکے سے اس کا ہاتھ پکڑا اور اپنے ساتھ کھینچا ہوا دوسری طرف لے گیا جہاں میوزک کی آواز اب کافی کب سنائی دے رہی تھی
“دو گلاسوں کا سیٹ تھا پورے ڈیڑھ سو کا، جس میں سے ایک گلاس آج صبح میں نے شیشے پر مار کر توڑا تھا، اور دوسرا ابھی تم نے دھکا مار کر توڑا ہے، ڈیڑھ سو کے دو گلاس، یعنی پچتر روپے کا ایک گلاس ہوا”
وہ پوری بات تفصیل سے بتاتا ہوا اسے اس وقت میتھ کا ایکسپرٹ ہی لگ رہا تھا آئیزل نے اسے گھوری سے نوازتے ہوئے جیب سے ایک پچاس کا اور دو دس کے نوٹ نکالے جبکہ اب وہ دوسری جیب سے سکّہ نکال رہی تھی پانچ کا سکہ نکال کر اس نے سارے پیسے سامنے کھڑے شخص کو تھمائے
“یہ رکھو اس کی ضرورت نہیں…”
وہ پانچ کا سکہ اسے واپس دیتا ہوا ایک نئے تجسس میں ڈال چکا تھا اس بار ائیزل کو لگا وہ پھر سے کچھ نہ کچھ کہے گا وہ چپ چاپ سکہ تھامے قدم بڑھانے لگی
“پوچھو گی نہیں کہ پانچ روپے کیوں معاف کئے میں نے”
وہ خود ہی سوال کرتا ہوا اس کے بڑھتے قدموں کو روک گیا
“چلو میں خود ہی بتا دیتا ہوں، وہ کیا ہے نہ…”
وہ ابھی سوالیہ نظروں سے اسے دیکھ رہی تھی جب وہ دو قدم اس کی طرف بڑھاتا ہوا بلکل اس کے قریب آکھڑا ہوا جبکہ وہ پیچھے ہونے لگی مگر پیچھے تو دیوار تھی
“وہ کیا ہے نہ… تمہارے کلون کی خوشبو مجھے پسند آئی… اس لئے یہ پانچ روپے تم پر معاف…”
وہ اپنی گہری کالی آنکھوں کو اس کی بڑی بڑی آنکھوں میں گاڑتے ہوئے مدھم سے لہجے میں کہنے لگا اس ہی دوران ائیزل کو لگا اس کی ایک بیٹ مس ہوئی ہے
وہ اس کے لبوں کے مزید قریب آنے لگا ائیزل کو اپنا دل بند ہوتا محسوس ہورہا تھا نجانے وہ آج کچھ کیوں نہیں کر پارہی تھی ضوریز کے مزید قریب آنے پر آئیزل نے آنکھیں میچ لیں تبھی وہ ایک مدھم سی پھونک مارتے ہوئے اس کے ہوش اڑا کر پل بھر میں وہاں سے غائب ہوگیا
ائیزل نے اس کی غیر موجودگی محسوس کرتے ہوئے دھیرے سے اپنی آنکھیں کھولیں تو وہ وہاں نہ تھا آئیزل نے ہر طرف نظریں دوڑائیں مگر وہ ایسے غائب ہوا تھا جیسے وہ وہاں تھا ہی نہیں
“یہ مجھے کیا ہورہا ہے”
وہ اپنے دل کے مقام پر ہاتھ رکھ کر اپنی تیز ہوتی دھڑکنیں محسوس کر رہی تھی
“آئیززز کہاں ہوں تم؟؟”
دوستوں کی آواز پر وہ ہوش میں آئی تھی
