Lams e Junooniyat by Areesha Khan NovelR50533 Lams e Junooniyat (Episode 25)
Rate this Novel
Lams e Junooniyat (Episode 25)
Lams e Junooniyat by Areesha Khan
وہ فل اسپیڈ میں بائیک اڑاتا ہوا ہوسپٹل پہنچا ریسیپشن سے انفارمیشن لے کر جیسے ہی وہ اندر آیا تعبیر بھاگتی ہوئی آ کر اس کے گلے لگی وہ مسلسل روئی جارہی تھی جبکہ دوسری طرف شاویز کی بھی آنکھوں سے آنسوں جاری ہونے لگے تھے
“آپی جان کچھ تو بتائیں اچانک ہوا کیا ہے بابا جان کو؟؟”
شاویز کی بات پر اس نے بامشکل اپنی سسکیاں روکیں اور آنسوؤں کو صاف کرنے لگی
“وہ…شاویز میں جب کمرے سے باہر آئی تو بابا اس حالت میں ملے تھے…”
وہ ایک بار پھر سے رونے لگی تھی تب ہی ڈاکٹر وہاں آیا
“آپ کے فادر کو ایڈمٹ کرنا پڑے گا آپ فارم فل کردیں اور فی پے کردیں تاکہ جلد سے جلد ان کا ٹریٹمنٹ شروع ہو سکے”
ڈاکٹر کی بات پر شاویز نے اثبات میں سر ہلایا وہ تعبیر کو وہیں چیئر پر بٹھا کر خود ریسیپشن پر گیا وہاں بیٹھے لڑکے نے اسے فارم دیا اور پیسے بتائے مگر اس کے پاس تو اتنے پیسے نہ تھے
“کیا آپ اس میں کوئی رعایت نہیں کر سکتے؟؟ پلیززز اٹس ارجنٹ… پلیززز “
“سوری سر اس ہوسٹل میں ایسے وارڈ میں کوئی رعایت نہیں کی جاتی آپ پیسے لے آئیں پھر فارم فل کردیئے گا”
وہ واپس چلتا ہوا تعبیر کے پاس آیا
“شاویز کیا کہا انہوں نے؟؟”
“آپی جان…جو پیمنٹ وہ مانگ رہے ہیں اس وقت میرے پاس اس کی آدھی بھی نہیں ہے”
شاویز مایوسی سے کہتا ہوا سر جھکا گیا جبکہ تعبیر سوالیہ نظروں سے اسے دیکھنے لگی
“شاویز… کتنے پیسوں کی ضرورت ہے؟؟”
تعبیر کی بات پر اس نے نظر اٹھا کر سامنے کھڑی بہن کو دیکھا اس کی آنکھوں سے آنسوں جاری ہونے لگے تھے
“ایک لاکھ پچاس ہزار”
“اتنی بڑی رقم…”
اس کے پیروں تلے زمین نکل گئی تھی مگر اس نے ہمت نہیں ہاری تھی
“شاویز ایک کام کرو تم اپنے باس سے فون کر کے معلوم کرو شاید وہ سیلری ایڈوانس میں دے دیں میں بھی اپنے باس کو کال کرتی ہوں اور تھوڑے بہت جو میرے پاس ہیں ان پیسوں کو بھی ملا کر دیکھتے ہیں انشاء اللہ جلد بابا جان ٹھیک ہو جائیں گے…”
تعبیر نے اسے حوصلہ دلایا
“انشا اللہ آپی جی ٹھیک ہے میں ابھی آتا ہوں…”
وہ جلدی سے اپنا موبائل اور بائیک کی چابی لئے باہر چلا گیا جبکہ تعبیر اپنے باس کو کال کرنے لگی
“ہیلو سر…”
“مس تعبیر علی آپ کہاں ہیں؟؟ آپ آج کیوں نہیں آئیں؟؟”
تعبیر کو کچھ عجیب لگا اپنے باس کی سرد آواز سن کر اسے کچھ غلط ہونے کا احساس ہوا
“سر وہ میرے بابا جان کی طبیعت…”
ابھی آگے وہ کچھ کہتی جب اس کا باس چلانے لگا
“بس کردیں مس تعبیر علی آپ ہمیشہ ایسے ہی بہانے بنا کر میٹنگز مس کردیتی ہیں آپ کی وجہ سے اتنا بڑا پراجیکٹ ہمارے ہاتھ سے نکل گیا کیا جانتی ہیں آپ؟؟”
تعبیر کو اس وقت کچھ سمجھ نہیں آرہا تھا کہ وہ کیا بات کرے
“سر آئی ایم سوری مگر ایمرجنسی تھی… سر مجھے آپ سے ایک ریکوئسٹ کرنی ہے پلیززز ہو سکے تو مجھے میری سیلری ایڈوانس میں کر کے دے دیں مجھے پیسوں کی بہت ضرورت ہے”
تعبیر کی آواز سے پتا چل رہا تھا کہ وہ اس وقت واقعی مشکل میں ہے
“ریکوئسٹ تو میں آپ سے کرتا ہوں آئیندہ یہاں کال مت کیجیے گا اور یہاں قدم رکھنے کی کوشش بھی مت کیجئے گا کیونکہ آپ ہی کی وجہ سے ہمیں اتنا بڑا نقصان اٹھانا پڑا ہے اب مزید ہم آپ کو یہاں نہیں رکھ سکتے آپ کو جاب سے نکال دیا گیا ہے خدا حافظ”
اس کے باس نے غصے سے کہتے ہوئے فون بند کردیا جبکہ تعبیر کو لگا اس کا سر چکرا جائے گا
☆★☆★☆★☆
“میں نہیں جانتا کہ تمہیں مجھ سے محبت ہے بھی یا نہیں لیکن اتنے عرصے میں میں یہ ضرور جان گیا ہوں کہ مجھے تم سے محبت ہونے لگی ہے، تم میری زندگی میں بہت اہمیت رکھتی ہو حریم…”
وہ تقریباً دو گھنٹے سے ایک ہی لائن کو بار بار ریپیٹ کئے جارہی تھی اس کا بس نہیں چل رہا تھا کہ وہ پورے گھر میں ڈانس کرتی پھرے
“اففف میں کیا کروں کیا کروں… مجھے تو یقین ہی نہیں آرہا جو بات میں نے دل میں رکھی تھی وہ شاویز نے آج خود مجھے کہہ دی… اوہ آئی مین لکھ کر دے دی”
وہ جو خوشی سے جھومے جارہی تھی اچانک سے کچھ یاد آنے پر رکی
“شاویز نے اپنا نمبر لکھا ہوا تھا…”
وہ اس جٹ کے بیک سائیڈ پر دیکھنے لگی جہاں شاویز کا نمبر لکھا ہوا تھا اور آگے لکھا ہوا تھا تمہارے جواب کا منتظر رہوں گا
“کیا کال کروں اسے…”
وہ شیشے میں خود کو دیکھتے ہوئے کہنے لگی
“اففف نہیں اگر میں نے اسے کال کردی تو میں اس سے کہوں گی کیا…”
کچھ یاد آنے پر وہ پھر سے شرمانے لگی
“میں اس سے کہوں گی…شاویز یہ تم نے کیا کہا ہے؟؟”
وہ خود ہی ایکٹنگ کر کے شیشے میں خود ہی کو دیکھنے لگی
“ارے نہیں نہیں ورنہ وہ عجیب ہی سمجھے گا مجھے…سوچنا پڑے گا…ہاں میں اس سے کہوں گی کہ…تمہارے بابا کی طبیعت کیسی ہے…”
خود ہی کہتی ہوئی وہ ہنسنے لگی
“آف اگر واقعی اسے ڈائریکٹ لوو یو ٹو کہہ دیا تو…کہیں وہ مجھے بے شرم نہ سمجھے…”
اس نے اپنا سر کھجایا
“اففف نہیں حریم اگر تم نے آج اسے یہ جواب نہ دیا تو کہیں کل کو وہ تم سے دور نہ ہو جائے…میں اسے سب کچھ بتا دوں گی… ہاں یہ ٹھیک ہے چلو ڈن کال کرتی ہوں…”
وہ ارادہ کرتے ہوئے شاویز کا نمبر ڈائیل کرنے لگی
☆★☆★☆★☆
“سر آپ بات سمجھنے کی کوشش کریں مجھے آنے میں لیٹ ہوگیا اس کا ہرگز یہ مطلب نہیں کے میں غیر ذمہدار ہوں…”
شاویز کو سمجھ نہیں آرہا تھا اچانک سے اس کے باس کو ہو کیا گیا تھا
“بس مسٹر شاویز… اب آپ یہاں سے جا سکتے ہیں آپ کو نوکری سے فارغ کردیا گیا ہے ابھی ہماری کمپنی کا اتنا برا وقت نہیں آیا کہ یہاں بیٹھ کر آپ جیسے شخص کا انتظار کریں…کہ شاویز میاں آئیں گے تو فائلز مینج کر کے پریذیڈنٹ کریں گے…”
سامنے کھڑے شخص نے پورے آفس کے سامنے اس کی انسلٹ کی تھی جس پر وہ مٹھیاں بھینچیں وہاں سے نکل آیا تھا مگر تب ہی اس کا موبائل بچنے لگا کسی ان نان نمبر کی کال تھی اس نے کال ریسیو کر کے فون کان پر لگایا
“اسلام و علیکم شاویز میں حریم…”
اسے آواز پہنچاننے میں زیادہ وقت نہ لگا تھا
“وعلیکم السلام جی حریم جی میں پہچان گیا”
اس کا لہجہ اداس تھا حریم کو لگا یہ اسکا وہم ہوگا
“کیسے ہو اور بابا کیسے ہیں تمہارے اب…”
اس کے کہنے کی دیر تھی جب دوسری طرف خاموشی چھا گئی
“ہیلو…شاویز…کیا تمہیں میری آواز آرہی ہے…”
“حریم جی بابا جان کے لئے دعا کریں پلیزز ان کی طبیعت سیریس ہے…”
اس کے آنسوں اب رکنے کا نام نہیں لے رہے تھے جبکہ حریم جو کچھ سیکنڈز پہلے ناچ گا رہی تھی اس کی آواز سنتے ہی اس کا دل دھڑکا تھا
“کک کیا ہوا انہیں… شاویز پلیززز مجھے ہوسپٹل کا نام بتاؤ میں آتی ہوؤں گی…”
شاویز نے اسے نام بتا کر خدا حافظ کردیا جبکہ حریم جلدی سے اپنا بیگ اور موبائل لئے ہوسپٹل کے راستے نکل گئی اور اس کے جاتے ہی ائیزل واپس گھر کی طرف اگئی
وہ پریشان سا سڑک کنارے بیٹھا رو رہا تھا اسے سمجھ نہیں آرہا تھا کہ وہ کس طرح کس سے پیسے مانگے اسے نہیں پتا تھا اچانک سے یہ کیسا وقت آن پڑھا تھا مگر اسے اتنا ضرور پتا تھا اگر اس کے بابا کو کچھ بھی ہو جاتا ہے تو اس کا زمہ دار وہ ہوگا
☆★☆★☆★☆
“ہیلو بوس کام ہوگیا…”
فون بند کرتے ہی اس کے چہرے پر ایک شیطانی مسکراہٹ نمودار ہوئی تھی وہ الگ بات تھی وہ اس طرح مسکراتے ہوئے بھی حسن کا پیالہ ہی لگ رہا تھا کہ کوئی بھی لڑکی بآسانی اس پر دل ہار سکتی تھی
“افف تعبیر علی افف…اور کتنا بھاگو گی مجھ سے آخر آنا تمہیں میرے ہی پاس ہے میں نے کہا تھا نہ میں تمہیں اتنا مجبور کردوں گا کہ تم میرے علاوہ کہیں بھی نہیں جاؤ گی…”
اپنی نیلی آنکھوں کے سامنے گردش کرتے ہوئے چہرے کو دیکھتا ہوا وہ مسکرانے لگا
“لگتا ہے کل شام مجھ سے کچھ زیادہ ہی خوفزدہ ہوگئیں ہوں گی…شاید تبھی تو آج اپنے آفس نہیں گئیں…خیر تمہارا نہ جانا میرے لئے بہت اچھا ثابت ہوا”
وہ موبائل کو کسی فالتو شے کی طرح اچھالتا ہوا کہنے لگا
مگر تب ہی اس کے موبائل پر کسی کی کال آنے لگی جب نظر اسکرین پر گئی تو باذل لکھا آرہا تھا اس نے کال ریسیو کر کے اسپیکر ان کیا
“سر وہ تعبیر علی…”
“بہت جلدی یاد آیا ہے تمہیں…”
آتش کے سخت لہجے پر اس کے آدھے الفاظ منہ میں ہی رہ گئے
“نہیں نہیں باس آپ غلط سمجھ رہے ہیں…”
“اچھا؟؟ پھر صحیح کیا ہے؟؟”
آتش نے ایبرو کا زاویہ بنایا جس پر باذل نے سوکھے ہونٹوں پر زبان پھیری
“وہ سر دراصل بات یہ ہے کہ تعبیر علی کے فادر…”
باذل نے آتش کو پوری بات تفصیل سے بتائی جسے سن کر وہ اچانک سے اٹھ کھڑا ہوا
“واٹ؟؟ یہ کیا بکواس ہے؟؟ اچانک سے کیا ہوگیا اس کے فادر کو؟؟”
“سر پتا نہیں لیکن مجھے بھی ابھی خبر ملی ہے…”
“تب سے تم کہاں مرے ہوئے تھے ہاں؟؟ گوڈ ڈیم اٹ…”
وہ اس پر بھڑکتا ہوا کال ڈسکنیکٹ کر کے فون کوٹ کی جیب میں رکھتا ہوا اپنے کمرے سے باہر نکلا
“ڈرائیور کو کہو گاڑی نکالے ابھی!!!”
☆★☆★☆★☆
“آپی پلیززز مت روئیں شاویز آتا ہی ہوگا انشاللہ سب ٹھیک ہو جائے گا”
اس نے اپنا تعارف تو کروا ہی دیا تھا کیونکہ افتخار صاحب نے تعبیر سے حریم کی بہت باتیں کی تھیں اس وجہ سے اسے حریم کو پہچاننے میں زیادہ دیر نہیں لگی تھی حریم کو یہاں آئے ہوئے تقریباً آدھے گھنٹے سے زیادہ ہوچکا تھا
“حریم آپ نہیں جانتی میرے بابا جان کے علاوہ ہمارا کوئی نہیں ہے!!!”
تعبیر کی بات پر حریم نے نظریں جھکالیں تھیں کیونکہ اس کے تو بابا بھی اس دنیا میں نہ تھے ابھی وہ وہیں بیٹھی تعبیر کو چپ کروا رہی تھی جب شاویز وہاں آتا ہوا نظر آیا
“آپی شاویز…”
حریم کی بات پر وہ جلدی سے اٹھ کھڑی ہوئی شاویز سر جھکائے کھڑا مسلسل اپنے آنسوؤں کو روکنے کی کوشش کر رہا تھا
“شاویز مجھے جاب سے نکال دیا ہے”
بچی کچی جو آس تھی اب وہ بھی دم توڑ گئی تھی وہ بے یقینی سے اپنی بہن کو دیکھا جارہا تھا
“مگر تم پریشان مت ہو مجھے گھر لے چلو میں کوشش کرتی ہوں کچھ پیسے مل جائیں گے جو میں نے تمہاری یونیورسٹی کے لئے رکھے تھے باقی کا انتظام ہم کسی طرح سے کرلیں گے اور پھر تمہاری سیلری بھی تو ہے نہ”
تعبیر نے اسے سمجھاتے ہوئے کہا وہ اس بات سے بلکل انجان تھی کہ سامنے کھڑا اس کا بھائی بلکل ٹوٹ چکا ہے شاویز نے جیب سے کچھ رقم نکال کر تعبیر کے ہاتھ میں رکھی
“بیس ہزار؟؟”
وہ حیرانی سے اسے دیکھنے لگی
“مجھے بھی جاب سے نکال دیا گیا ہے آپی… میرے پاس فلحال صرف چار ہزار تھے…”
اس نے مایوسی سے نظریں جھکائیں جس پر وہ مزید حیران ہوئی
“تو یہ باقی کے پیسے؟؟ یہ کہاں سے آئے…؟؟”
“آپی میں نے بائیک بیچ دی کیونکہ وہ قسطوں پر لی تھی اس لئے جسے بیچی ہے باقی کی قسطیں وہ خود ادا کرے گا”
ایک اور جھٹکا لگا تھا اسے جب اس کے چھوٹے بھائی نے اپنی پسندیدہ چیز کو بابا کے علاج کے لیے بیچ دیا تھا
“کیا…”
سکتے کی حالت میں اچانک سے اس کے قدم لڑکھڑائے تھے جس پر حریم نے اسے تھاما تھا
“آپی آپ یہاں بیٹھ جائیں اور پلیزز شاویز تم ایسے تو نہ روؤ مجھے بتاؤ کتنی رقم چاہیے شاید میں کچھ کام آ سکوں…”
حریم کی بات پر شاویز بڑی حیرانی سے اس کی طرف دیکھنے لگا جس کا دل شاویز کے آنسوں دیکھ کر کب سے تڑپا جارہا تھا
“نہیں حریم… میں آپ سے پیسے نہیں لے سکتا…”
“مگر شاویز…”
“حریم پلیززز اگر آپ ہمارے لئے کچھ کرنا چاہتی ہیں تو بس میری آپی کو سنبھال لیں باقی میں کوشش کرتا ہوں”
وہ اپنی بات مکمل کرتا ہوا سامنے لائن سے لگی کرسی پر آ بیٹھا
☆★☆★☆★☆
“افتخار علی… ان کا جلد سے جلد ٹریٹمنٹ اسٹارٹ کردو پیمنٹ میرا بندہ کرتا ہی ہوگا…”
آتش فون پر حکم سناتا ہوا کال ڈسکنیکٹ کر گیا جبکہ وہ اب واقعی ٹینشن میں تھا کیونکہ اس نے ایسا کبھی سوچا بھی نہ تھا کہ وہ آج جو کرنے جارہا تھا اس کی وجہ سے تعبیر نجانے کتنی مشکلات کا شکار ہوچکی تھی
وہ بیٹھے ہوئے رونے میں مصروف تھی جب ڈاکٹر ان کے پاس آیا
“ڈاکٹر پلیززز آپ تھوڑا اور وقت دیں میں کوشش…”
“اس کی کوئی ضرورت نہیں آپکے بابا کا علاج شروع ہوچکا ہے”
وہ حیرانی و تعجب کے ملے جلے تاثرات لئے انہیں دیکھ رہا تھا جبکہ تعبیر حیرت سے حریم کو دیکھنے لگی جس کا بھی یہی حال تھا
“شروع ہوچکا ہے…؟؟ مگر کیسے؟؟ میں نے تو ابھی پیمنٹ…”
“یہ دنیا ایسی ہی نہیں چل رہی … اس دنیا میں بہت سے اچھے لوگ بھی ہیں…”
ڈاکٹر کے الفاظوں کا مطلب وہ سمجھ چکا تھا مگر یوں اچانک سے یہ سب کسی معجزے سے کم نہ تھا
“ڈاکٹر لسن کیا میں جان سکتا ہوں کون ہیں جنہوں نے ہم پر اتنا بڑا احسان کیا ہے؟؟”
شاویز کی بات پر تعبیر متفق تھی
“ضرور…وہ تھوڑی ہی دیر میں یہاں آتے ہوں گے آپ خود مل لیجئے گا…”
ڈاکٹر انہیں کہتا ہوا واپس اندر چلا گیا جبکہ شاویز اور تعبیر کی تو خوشی کی کوئی انتہا ہی نہ تھی
☆★☆★☆★☆
“سر پلیززز آٹو گراف…پلیزز”
“سر ایک سیلفی پلیزز…”
“سر آٹو گراف پلیززز”
وہ تمام نظروں کو نظر انداز کرتا ہوا اپنے گارڈز کے درمیان میں چلتا ہوا ہوسپٹل کے اندر آ پہنچا
“انہیں اندر آنے نہ دینا یاد رہے مجھے کراؤڈ نہیں پسند”
وہ گارڈ کر تنبیہ کرتے ہوئے اپنی مظبوط رعب دار شخصیت کے ساتھ چلتا ہوا اندر کی جانب آیا جب نظر سامنے بیٹھی تعبیر پر گئی
“یہ شور کیسا ہے شاویز؟؟”
تعبیر کے سوال پر شاویز نے کندھے اچکائے جب بہت سے ڈاکٹرز سامنے کی طرف جانے لگے
“وہ ہیں جنہوں نے آپ کے بابا کا علاج شروع کروایا ہے”
ڈاکٹر نے شاویز کے کاندھے پر ہاتھ رکھتے ہوئے سامنے کو اشارہ کیا
تعبیر کو اب تجسّس ہونے لگا تھا آخر کون تھا وہ شخص جس کے آس پاس تمام لوگ موجود تھے جس وجہ سے وہ بلکل دکھائی نہیں دے رہا تھا
“کون ہیں آخر وہ…”
حریم بھی غور سے دیکھنے لگی
“یہ اکثر یہاں آتے رہتے ہیں کیونکہ ہمارے یہاں بہت سارے بچے ان کا بے صبری سے انتظار کرتے ہیں”
ڈاکٹر کی بات پر شاویز سمیت تعبیر اور حریم بہت حیرانی سے انہیں دیکھنے لگے
“بچے؟؟”
“جی ہاں ہمارے یہاں جتنے بھی معذور بچے ہیں ان سب کا علاج یہی سر کروا رہے ہیں اس کے علاوہ بھی ان کے بہت احسانات ہیں ہمارے ہوسپٹل پر”
اب تعبیر کا بس نہیں چل رہا تھا وہ کسی بھی طرح اس کی شکل دیکھ لے
“جی ضرور… ایکسکیوز می “
وہ سب سے ایکسکیوز کرتا ہوا اس بڑے مجمعے سے نکل کر باہر آیا مگر جب تعبیر کی نظر سامنے سے آتے آتش درانی پر گئی تو بے یقینی سے نفی میں سر ہلاتے ہوئے اسے آتا دیکھنے لگی
لائٹ گرے تھری پیس، برینڈڈ بلیک شوز، برینڈڈ واچ ود گلاسز وہ اپنے ہیئر اسٹائل کو سنوارتا ہوا اس ہی کی طرف تو آرہا تھا تعبیر بڑی حیرانی سے اسے دیکھ رہی تھی جبکہ باقی کا بھی یہی حال تھا
وہ ان کے سامنے آ کھڑا ہوا شاویز نے جلدی سے آگے بڑھ کر ہینڈ شیک کیا
“اسلام و علیکم سر…”
“وعلیکم السلام.”
وہ سلام کا جواب دیتا ہوا تعبیر کی جانب رخ کئے کھڑا ہوا اپنی پر کشش بلو آئیز پر سے گلاسز ہٹا کر جب اس نے تعبیر کو دیکھا تو ان کی نظریں ٹکرائی تھیں
مسلسل رونے کی وجہ سے اس کا پورا چہرہ ساتھ چھوٹی سی ناک بھی سرخ دکھائی دے رہی تھی وہ وائٹ کلر کے جوڑی دار پاجامہ فراک میں کوئی اپسرا ہی لگ رہی تھی آتش نظر بھر کر اسے دیکھ رہا تھا جو اسے آنکھیں چھوٹی کرتے ہوئے گھور رہی تھی
وہ مسلسل اپنی بلو اوشین آئیز سے اسے دیکھا جارہا تھا جو اپنی سرخ ناک لئے اسے مسلسل گھورے جارہی تھی آتش کا دل ماننے کو تیار نہ تھا کہ وہ اس کی تھیکی نگاہوں سے نظریں ہٹائے
جاری ہے
