Lams e Junooniyat by Areesha Khan NovelR50533 Lams e Junooniyat (Episode 11)
Rate this Novel
Lams e Junooniyat (Episode 11)
Lams e Junooniyat by Areesha Khan
“ہاہاہاہا پاگل شکل دیکھو اپنی بلکل معصوم سینوریٹا لگ رہی ہو ایسا نہ ہو وہ لوگ ایکٹریس کو ریجیکٹ کر کے تمہیں ہی کاسٹ کرلیں”
وہ لوگ بلکل ریڈی تھے کچھ ہی دیر میں وہ لوگ ٹیم کے ساتھ اسلام آباد کے لئے نکلنے ہی والے تھے تعبیر نے بلکل سمپل سا میک اپ کیا تھا جبکہ حسبِ عادت رائمہ آج بھی اسے چھیڑنے سے باز نہ تھی
“توبہ ہے رائمہ سوچ سمجھ کر تو بولا کرو، وہ بھلہ مجھے کیوں کاسٹ کرنے لگے؟؟ میں تو ایک عام سی لڑکی ہوں میں بھلہ اس کام کے لیے تھوڑی بنی ہوں”
تعبیر نے معصومیت سے بھرپور لہجے میں کہا اور اپنے بالوں کو ٹھیک کرنے لگی اس نے آج آف وائٹ فراک پہنی تھیں ساتھ چوڑی دار پاجامہ پہنا تھا رائمہ کے کہنے پر بال کھولے ہوئے تھے ساتھ ہی آف وائٹ کلر کا خوبصورت سا ڈوپٹہ پہنا ہوا تھا وہ آج بلکل پری لگ رہی تھی
“کیا پتا کبھی سچ مچ چانس لگ جائے”
“جی نہیں ایسا کچھ نہیں ہوگا”
“پھر بھی سوچ اگر اچانک چانس لگ گیا تو؟؟”
اس بار تعبیر نے رائمہ کو آنکھیں دکھائیں جس پر رائمہ دانت دکھاتے ہوئے خاموش ہوگئی
“میم سب ریڈی ہے؟؟”
“جی ہاں سب ریڈی ہے”
“ٹھیک ہے آپ آجائیں ہنی میم نیچے آپ کا ویٹ کر رہی ہیں”
تعبیر نے اپنا پرس اٹھایا جبکہ رائمہ بیگ لئے اس کے پیچھے پیچھے چل دی
“تعبیر کیا ہم لوگوں کے ساتھ کوئی اور بھی جا رہا ہے؟؟”
رائمہ نے دیکھا تھا چار لینڈ کروزر بلکل ریڈی کھڑی تھیں اور ساتھ گارڈز بھی تھے
“پتا نہیں رائمہ، مجھے اس بارے میں کچھ نہیں پتا”
تعبیر نے بھی نوٹ کیا تھا ابھی رائمہ مزید کچھ پوچھتی جب ہنی آگے والی گاڑی سے نکل کر ان کی طرف آئی
“واؤ تعبیر یو لُکنگ سو پریٹی”
ہنی نے تعبیر کو دیکھ کر مسکراتے ہوئے کہا جس پر تعبیر نے جواباً مسکرایا
“خیر چلیں؟؟ بارہ بج چکے ہیں”
“جج جی ہنی میم، بٹ ایک بات پوچھنی تھی”
“شر”
“وہ… کیا ہمارے ساتھ کوئی اور بھی جارہا ہے؟؟”
تعبیر نے ایک نظر سامنے کھڑی گاڑیوں پر دوڑائی
“ہاں بلکل فرسٹ والی میں ہم تینوں جائیں گے سیکنڈ میں ہمارے ڈیزائنرز جائیں گے، تھرڈ میں کچھ امپورٹینڈ سامان اور لاسٹ والی میں صرف گارڈز”
ہنی نے اسے تفصیل سے بتاتے ہوئے کہا
“اوہ اوکے میم…”
“کوئی… پرابلم ہے آپ کو؟؟”
“نہیں نہیں میم بس ایسے ہی پوچھا کوز اتنی سیکورٹی ہے سو مجھے لگا کوئی خاص شخصیت ہمارے ساتھ جارہی ہے”
تعبیر کی بات پر ہنی مسکرانے لگی
“ابسلوٹلی، آپ ہیں نہ خاص، چار ہزار ٹیٹو میکرز میں ہمارے ایکٹر کو صرف آپ ہی کا ڈیزائن پسند آیا ہے تو ہوئیں نہ آپ خاص شخصیت… ہمارے سر حاشر خانزادہ نے آپ کے لئے سخت سیکیورٹی فراہم کرنے کا حکم دیا ہے اور یہ سب ان ہی کے لوگ ہیں”
ہنی نے مسکراتے ہوئے کہا جس پر رائمہ کا منہ کھلا کا کھلا رہ گیا
“کیا؟؟ کیا کہا آپ نے؟؟ میرا مطلب حاشر خانزادہ؟؟ یعنی جنہوں نے آپ سے ڈیل کی ہے وہ اتنے بڑے اسٹار حاشر خانزادہ ہیں؟؟”
رائمہ نے بے یقینی سے کہا جس پر ہنی نے اثبات میں سر ہلایا
“مائے گوڈ… کیا بات ہے کیا قسمت پائی ہے تعبیر نے کہ اتنے بڑے ایکٹر نے اس کا ڈیزائن نہ صرف پسند کیا، بلکہ پرسنلی سیکیورٹی بھی فراہم کی”
رائمہ نے مسکراتے ہوئے کہا جس پر ہنی بھی مسکرائی لیکن تعبیر خاموش کھڑی ہوئی ان کی باتیں سن رہی تھی
“بلکل ٹھیک کہا آپ نے تعبیر ہمارے لئے بہت لکی ثابت ہوئی ہے، ان ہی کی وجہ سے سر حاشر سے ہم سے بہت اچھی ڈیل کی ہے اور ان ہی کی سپورٹ کی وجہ سے دو دن کے اندر اندر ہمارے ٹیٹو سینٹر کا نام پاکستان میں نمبر ون پر آنے کے امکانات ہیں”
ہنی نے خوشی ظاہر کی جس پر رائمہ نے جواباً مسکرایا
“اچھا اب چلیں؟؟”
“جی چلیں”
ہنی گاڑی کی طرف بڑھ گئی جبکہ تعبیر نا سمجھی والے تاثرات لئے آگے بڑھنے لگی جبکہ رائمہ نوٹ کر چکی تھی
“تمہیں خوشی نہیں ہوئی حاشر خانزادہ نے تمہیں سلیکٹ کیا ہے؟؟”
رائمہ نے اس کا بازو پکڑتے ہوئے سرگوشی کی جس پر تعبیر اسے دیکھنے لگی
“اب یہ مت کہنا کہ تم حاشر خانزادہ کو بھی نہیں جانتیں”
رائمہ نے اسے آنکھیں دکھاتے ہوئے کہا جس پر تعبیر نے نظریں جھکائیں کیونکہ وہ واقعی میں اتنے زیادہ ایکٹرز سے ناواقف تھی
☆★☆★☆★☆
وہ آج یونیورسٹی نہیں گئی تھی مگر وہ اس کے انتظار میں بیٹھا تھا مگر اب اسے یقین ہوگیا تھا حریم نہیں آنے والی ابھی وہ سیڑھیوں پر بیٹھا حریم کے بارے میں سوچ رہا تھا جب حوریا اس کے قریب آکر بیٹھی
شاویز ایک انجان لڑکی کو اپنے پاس بیٹھتے ہوئے دیکھ کر اچانک چونکا
“ہائے…”
“آپ کون؟؟”
“حوریا نام ہے میرا حریم کی فرینڈ ہوں… یاد ہے اس دن لیکچر میں حریم اور میں باتیں کر رہے تھے اس لئے حریم کو آپ کے ساتھ بٹھا دیا گیا تھا…”
حوریا کی بات پر شاویز کو یاد آیا مگر اس نے کبھی کسی پر اتنا غور نہیں کیا تھا کہ وہ کسی کو کہیں اچانک دیکھ کر پہچان لے لیکن اس واقعے کا اسے پتا تھا اس لیے وہ سمجھ گیا
“اچھا”
“جی ہاں، بائے دا وے مجھے نہیں لگتا وہ آج آنے والی ہے”
“کون؟؟”
شاویز چونکا
“حریم اور کون… آپ اس ہی کا ویٹ کر رہے ہیں نہ؟؟”
“نن نہیں ایسا تو کچھ بھی نہیں ہے”
شاویز حیران ہوا تھا آخر اس لڑکی کو کیسے پتا تھا کہ وہ حریم کا ویٹ کر رہا تھا
“بس بس مجھے سب پتا ہے میں نے کل ٹیرز سے دیکھا تھا آپ دونوں میں شاید کوئی لڑائی ہوئی تھی”
اس لڑکی نے اپنے بالوں کو سنوارنے ہوئے کہا جبکہ شاویز کو اس کا یوں قریب بیٹھنا بلکل مناسب نہیں لگ رہا تھا
“خیر میں آپ کو بتاتی چلوں وہ ہمیشہ سے ایسی ہی ہے، ہر چھوٹی چھوٹی بات کا بتنگڑ بنا لیتی ہے، میرے ساتھ بھی یہی کرتی ہے، کیا کریں بس اکیلی ہے نہ بچاری یتیم ہے اس لئے برداشت کر لیتے ہیں ہم”
وہ لڑکی جس طرح کے کپڑے پہنی ہوئی تھی جیسا میک اپ کی ہوئی تھی جیسا اس کا لہجہ تھا وہ کوئی چلاک ہی لگ رہی تھی شاویز نے اس کی بات پر سوالیہ نظروں سے اسے دیکھا
“کیا ہوا؟؟ کچھ پوچھنا چاہ رہے ہیں آپ؟؟”
“نن نہیں کچھ نہیں”
شاویز نے اپنا بیگ اٹھایا اور سیڑھیوں سے اترتا ہوا نیچے جانے لگا
“ارے سنیں تو”
حوریا بھگاتی ہوئی اس کے پیچھے آئی جس کو شاویز پلٹا
“مجھے پتا ہے آپ اس کے بارے میں نہیں جانتے اگر آپ چاہیں تو میں بتا سکتی ہوں”
حوریا نے آنکھیں گھماتے ہوئے کہا جس پر شاویز نے ایبرو کا زاویہ بناتے ہوئے اسے دیکھا
“وہاں چل کے بیٹھیں؟؟”
حوریا نے سامنے کی جانب اشارہ کیا جہاں بینچ رکھی ہوئی تھی اب شاویز کو بھی اس کے بارے میں جاننا ہی تھا نہ تو کیوں نہ اس لڑکی کی زبانی صحیح
وہ دونوں اس بینچ پر آ بیٹھے جبکہ شاویز اس سے تھوڑے فاصلے پر بیٹھا
“حریم بہت چھوٹی تھیں جب اس کے پیرنٹس گزر گئے تھے تو اس کی گرینڈ مدر نے اسے یتیم خانے میں بھجوا دیا تھا کوز انہیں اپنی زندگی کا بھروسہ نہیں تھا اور پھر ان کی کچھ ٹائم میں ڈیتھ بھی ہوگئی”
حوریا نے اپنے بالوں کی لٹوں کو سلجھاتے ہوئے بتایا جبکہ شاویز کو بہت دکھ ہوا حریم کے بارے میں یہ جان کر
“تو پھر وہ اس یونی میں؟؟ آئی مین…”
“ہاں میں سمجھ گئی آپ کیا کہنا چاہ رہے ہو کہ ایک قریب یتیم لڑکی اتنی بڑی یونیورسٹی میں کیسے پڑھ رہی ہے جہاں پڑھنے کے لائق صرف ہم امیر لوگ ہیں، وہ دراصل یتیم خانے میں ایک ٹیچر سب بچوں کو پڑھاتی تھی اسے حریم پر ترس آگیا سو حریم کے بالخ ہونے کے بعد وہ حریم کو ہوسٹل میں ایڈمیشن کروا گئی تھیں”
اس کے بتانے کا انداز شاویز کچھ بہت عجیب لگا تھا آخر وہ اس کی دوست تھی بھی یا نہیں
“اور پھر وہاں اسے ایک امیر دولتمند باپ کی اکلوتی بیٹی بھی مل گئی اس کی روم میٹ کی شکل میں، تو بس اب سار خرچا وہ بچاری اٹھاتی ہے، ائیزل کاظمی نام ہے اس کا، اس ہی یونی میں پڑھتی ہے”
حوریا نے بور سے انداز میں کہا جبکہ اس کے منہ کے عجیب وغریب زاویے دیکھ کر شاویز کو یہ معلوم ہورہا تھا کہ جیسے وہ بہت بیزار ہورہی ہو
“اچھا…”
شاویز نے مختصر سا کہا جس پر اس نے اثبات میں سر ہلایا
“ویسے حد ہوگئی اب آپ کی اور اس کی لڑائی کی وجہ سے وہ یونیورسٹی ہی نہیں آرہی، کل آئی تھی لیکن ایویں گھوم پھر کر واپس چلی گئی، عجیب لڑکی ہے”
“خیر سب مجھے چلنا چاہئے میری کلاس کا ٹائم ہوگیا”
شاویز نے کہا اور اٹھ کر وہاں سے چلا گیا جبکہ حوریا اسے جاتے دیکھ رہی تھی
“عجیب ہی لڑکا ہے، اتنی ادائیں دکھائی ہیں مجال ہے جو ایک بھی بار میری طرف دیکھا ہو، شرافت کی دکان”
وہ عجیب و غریب منہ بناتی ہوئی اپنے موبائل میں مصروف ہوگئی
☆★☆★☆★☆
“آتش چلو نہ اس ہی بہانے تھوڑی آوٹنگ بھی ہوجائے گی، اور ویسے بھی شوٹ میں یہ سب تو ہوتا رہتا ہے ضروری تھوڑی ہے شوٹ کے لئے آئے ہیں تو صرف شوٹ ہی کریں”
کرن کی بات کو نظر انداز کرتے ہوئے وہ کش لگانے میں مصروف تھا جب کرن اٹھ کر اس کے پاس آ بیٹھی
“پلیززز آتش کبھی تو مان لیا کرو میری بات، کم آن آتش چلو نہ”
کرن نے اس کا ہاتھ تھامتے ہوئے کہا جس پر آتش نے اس کی طرف دیکھا
“کرن یہ بات تم بھی جانتی ہو، کہ مجھے رش اور شور نہیں پسند، ایک سیکنڈ نہیں لگے گا لوگوں کو وہاں جمع ہونے میں”
آتش نے بیزار لہجے میں کہا جس پر کرن نے سر جھکا لیا
“اوکے تو میں جارہی ہوں”
کرن نے اپنا بیگ اٹھایا اور جانے لگی مگر آتش بنا کچھ کہے سگریٹ پینے میں مصروف ہوگیا
ابھی کچھ ہی دیر گزری تھی جب اس کا موبائل رنگ ہوا اس نے بنا دیکھے کال پک کر کے موبائل کان پر لگایا
“ہیلو سر آتش”
“ہممم”
“سر اس بندے کا پتا چل گیا جس نے کامی شاہ اور نظیر احمد کے ساتھ مل کر آپ کو ان کی نئی پروڈکشن کا حصہ بننے سے روکا تھا 2017 میں اپکی کامیابی سے پہلے ان لوگوں نے مل کر کچھ پلاننگ بھی کی تھی تاکہ آپکی نئی فلم فلاپ ہو سکے اور اس ہی کی ٹکر پر ایک نئی فلم بھی بنائی تھی، مگر بد قسمتی تھی انہیں نقصان اٹھانا پڑا”
دوسری جانب سے آتی آواز سن کر آتش کی نیلی آنکھوں میں خون اترنے لگا ایک جھٹکے سے وہ صوفے کی پشت سے ہٹا جبکہ سگریٹ کو وہ بری طرح سے انگلیوں میں بیچ چکا تھا
“کون ہے وہ؟؟”
“سر…”
“میں نے پوچھا کون ہے وہ؟؟”
“حاشر خانزادہ”
وہ بے یقینی کی کیفیت میں مبتلا زمین کو تک رہا تھا اسنے کال ڈسکنیکٹ کر کے سگریٹ کو ایش ٹرے میں مسل دیا
“حاشر خانزادہ”
اسے یقین نہیں آرہا تھا ان کی نئی فلم میں جو ان کے ساتھ کام کرنے والا تھا وہ آتش کے شریکوں میں سے ایک تھا آتش نے ہاتھ مار کر ایش ٹرے کو زمین پر گرایا جو اب چورا چورا ہوچکی تھی
“میں تمہیں نہیں چھوڑوں گا، یقیناً ہر دفعہ میرا فیک اسکینڈل بنانے کی کوشش بھی تم نے ہی کی ہوگی”
آتش نے آنکھوں میں آگ لئے دانت بیچے جبکہ اس کی گلے اور ہاتھوں کی نسیں اُبھرنے لگی تھیں
وہ غصے سے اٹھا اور اپنے روم کی طرف دوڑا اپنے کبڈ میں رکھی پستول نکال کر وہ ایک جھٹکے سے لوڈ کرنے لگا وہ اس وقت انتہائی جذباتی ہو چکا تھا اپنے نام کی طرح خود بھی وہ کسی آتش فشاں پہاڑ کی مانند ہی تھا
“حاشر خانزادہ… آئی ایم کمنگ…تیار ہو جاؤ…”
وہ کمرے سے دوڑتا ہوا باہر کی جانب بھاگا مگر تب ہی ڈرائنگ روم میں موجود اس کے موبائل کے بجنے کی آواز آنے لگی آتش نے سخت تاثرات لئے ڈرائنگ روم کی جانب دیکھا
جب اس نے اندر آکر فون پر نظر ماری تو اس ہی شخص کی کال تھی
“سر آپ فلحال کچھ نہ کریں ان سے حساب ہم بعد میں لیں گے”
“تم نے یہ کہنے کے لیے فون کیا ہے؟؟”
آتش دھاڑا جس پر دوسری طرف والا شخص کانپا
“سر آئی ایم سوری بٹ ٹرائے ٹو انڈرسٹینڈ، ابھی شوٹنگ چلنے دیں، اور ویسے بھی اس کی ٹانگ ٹوٹ چکی ہے کچھ دنوں بعد ہی وہ شوٹ پر آئے گا تب تک ہم اس کے خلاف مزید معلومات حاصل کریں گے، اگر ابھی جزبات میں آکر آپ نے اسے نقصان پہنچایا تو پریس اور میڈیا والوں کو ہم کیا جواب دیں گے؟؟ انہیں ویسے بھی موقع چاہئے کوئی بھی خبر کو اچھال کر اپنا نام بنانے کا”
اس شخص کی بات پر آتش نے آنکھیں میچیں
“سر ہمیشہ ہی آپ جزبات میں آکر انتقام لے لیتے ہیں لیکن اس بار آپ ایسا نہ کریں، اس بار ہمیں صرف حاشر خانزادہ کو ہی نقصان نہیں پہنچانا بلکہ ہمیں مزید اس کے بارے میں جاننے کی ضرورت ہے”
دوسری جانب سے آتی آواز بلکل نرم تھی جبکہ آتش نے پستول صوفے پر پھینک دی تھی اور خود بھی صوفے پر آ بیٹھا تھا
“سر ایسا تو ممکن ہی نہیں کہ اس نے یہ سب اکیلے کیا ہوگا، یقیناً اس کا بھی کوئی ساتھی ہوگا وہ یہ سب اکیلے کر ہی نہیں سکتا، سر آپ جب اس انڈسٹری میں ہٹ تھے تب جاکر اسے پہلی بار فلم میں کاسٹ کیا تھا وہ ایک عام سا ماڈل تھا لیکن اپنی پہلی فلم کے بعد وہ خود کو بہت مشہور شخصیت سمجھنے لگا تھا”
آتش نے دو انگلیوں سے پیشانی رگڑی
“سر اس کا آپ سے کوئی مقابلہ ہی نہیں، نہ ہی کبھی آپ کی اس سے کوئی بھی بحث ہوئی ہو تو وہ ایسا کیوں کرے گا؟؟، یقیناً یہ کوئی اور کروا رہا ہے، ایسا بھی تو ہو سکتا ہے ماضی میں جس نے آپ کا نام خراب کرنا چاہا یہ سب اس ہی کے ساتھی ہوں؟؟”
“تو میں کیا کروں؟؟ اپنے دشمن کے ساتھ پر سکون رہ کر کام کروں ہاں؟؟”
وہ چینخا تھا
“نہیں سر آپ فلحال ایسا ہی ظاہر کریں جیسے آپ کو کچھ پتا ہی نہیں آپ کچھ بھی نہیں جانتے تب تک ہمیں ان کے بارے میں مزید معلومات مل جائے گی، شوٹنگ کے اینڈ ہوتے ہی ہم ان سب سے بدلہ لیں گے یہ میرا وعدہ ہے آپ سے”
آتش نے اس کی بات پر غور کیا تھا
“ہممم اوکے تم کب آ رہے ہو؟؟”
“بس یوں سمجھیں ہم آج شام تک اکھٹے ہوں گے”
“ہمم ٹھیک ہے”
آتش نے کال ڈسکنیکٹ کردی اور ٹھنڈی سانس لینے لگا ایک نظر اس نے برابر پڑی پستول پر ماری
“آئی سوویر مین… آئی ول کِل یو…”
اس نے اپنی بئرڈ مسلتے ہوئے کہا اور آنکھیں بند کر گیا
☆★☆★☆★☆
وہ اب تک گھوڑے بیچ کر سورہی تھی جب حریم نے اسے جگانا چاہا مگر وہ تب بھی نہ اٹھی تو حریم جو کمر پر ہاتھ رکھے اسے گھور رہی تھی اب ایک جھٹکے سے اس کے اوپر سے کمفرڈ کھینچنے لگی جس سے ائیزل اٹھ بیٹھی
“یار کیا مسئلہ ہے؟؟ سکون سے سو بھی نہیں سکتی کیا اب…”
ائیزل منہ کا عجیب وغریب زاویہ بناتے ہوئے بولنے لگی جس پر حریم نے مزید اسے گھورا
“مس ائیزل شاید آپ بھول رہی ہیں کل آپ کا پیپر ہے”
ائیزل جو اب تک آنکھیں مسلنے میں مصروف تھی اس کی بات پر اسے بے یقینی سے دیکھنے لگی
“کیا؟؟ مائے گاڈ… پریپریشن”
وہ بیڈ سے باقاعدہ کودتے ہوئے اتری اور باتھ چلی گئی جبکہ حریم تیڑی نظروں سے اسے جاتے دیکھ رہی تھی
“اللّٰہ جانے کب سدھرے گی یہ لڑکی…”
حریم بالوں کا جوڑا کرتی ہوئی اپنے بیڈ پر آ بیٹھی اور پڑھائی میں مصروف ہوگئی
وہ الٹا سیدھا برش کرتی ہوئی کوئی پاگل ہی لگ رہی تھی جلدی جلدی اس نے فیس واش کیا اور باتھ سے باہر آئی جلدی جلدی اپنے بالوں کو سنوارتے ہوئے وہ بیڈ پر آ بیٹھی اور کتاب کھول کر پڑھنے لگی جبکہ حریم اس کی اسپیڈ پر حیران تھی
“ائیزل بریک فاسٹ تو کرلو…”
“نہیں بھوک نہیں”
ائیزل نے مصروف انداز میں کہا اور کتابوں میں مصروف ہوگئی جبکہ حریم افسوس بھری نگاہوں سے اسے دیکھ کر اپنی کتابوں میں مصروف ہوگئی
ابھی وہ سر کھجاتے ہوئے پڑھنے میں مصروف تھی جب اس کا موبائل بجنے لگا ایک نظر اس نے موبائل پر ماری تو چرسی نام چمکنے لگا ائیزل کو یاد آیا کل جو واقعہ ہوا تھا وہ کتنا ڈر گئی تھی اگر ضوریز نہ ہوتا تو نجانے پھر کیا ہوتا
وہ چور نظروں سے موبائل اسکرین پر دیکھتی ہوئی والیم کم کرنے لگی جبکہ حریم اس کی مشکوک سی حرکت پر اس کی طرف متوجہ ہوئی
“ہاں کہو…”
ائیزل نے حریم کو ایک نظر دیکھا اور کال پک کی جبکہ اس کا لہجہ پہلے کی طرح تیز ترار سا بلکل بھی نہ تھا
“مورننگ میڈم… کیا آپ بتانا پسند کریں گی کہ آپ نے کل پیپر دینا ہے یا نہیں؟؟”
ضوریز نے تھیکے لہجے میں کہا جس پر ائیزل نے آنکھیں گھمائیں جبکہ حریم سامنے بیٹھی اس کی ایک ایک حرکت نوٹ کر رہی تھی
“آف کورز دینا ہے…”
“گڈ تو پھر سوپہر چار بجے وہیں آکر ملو جہاں ہم پہلی بار ملے تھے”
ضوریز نے حکم دینے والے انداز میں کہا جس پر ائیزل نے آنکھیں چھوٹی کیں
“وہاں کیوں؟؟ کیا ہم وہاں تیاری کریں گے؟؟”
“ظاہر سی بات ہے تیاری کرنے کے لیے وہی ایک جگہ ہی تو مناسب ہے”
“ٹھیک ہے میں آتی ہوں…ویسے تمہیں بتاتی چلوں کہ کل میتھ…”
“جانتا ہوں… اب زیادہ باتیں نہ کرو تیاری پکڑو آنے کی”
ضوریز کی بات سن کر اس کے لبوں پر تالہ لگا
“اوکے جلدی آجانا دیر نہ کرنا بائے”
وہ اپنی بات مکمل کرتا ہوا فون بند کر گیا جبکہ ائیزل منہ بناتی ہوئی واپس اپنی کتابوں پر جھک گئی
“کس کا فون تھا؟؟”
حریم نے ترچی نظروں سے اسے دیکھا جس پر ائیزل نے چور نظروں سے اسے دیکھا
“کک کس کا ہونا ہے؟؟ کلاس فیلو کا تھا”
“کون سا کلاس فیلو؟؟”
“تمہیں کیا پتا تم تھوڑی جاتنی کو ان سب کو”
ائیزل نے سر جھٹکتے ہوئے بات گھمائی
“اوہ واؤ تو تم اپنے کلاس فیلو کو کل کونسا پیپر تھا یہ بتا رہی تھیں؟؟ یعنی اسے نہیں پتا؟؟”
حریم کے سوال پر ائیزل نے اسے گھورا
“حریم اماں نہ بنو پڑھائی کرو چپ کر کے…”
حسبِ عادت وہ پھنپھناتی ہوئی اپنی پڑھائی میں مصروف ہوگئی جبکہ حریم بھی منہ بناتی ہوئی اسے اس کے حال پر چھوڑ کر تیاری میں مصروف ہوگئی
☆★☆★☆★☆
“اففف وہ والی بک تو جیسے مارکیٹ میں شارٹ ہی ہوگئی ہو، مطلب اتنی انمول ہوگئی کہ مل ہی نہیں رہی ہے اففف”
وہ اس وقت لائبریری میں موجود تھی وہ کسی خاص کتاب کی تلاش میں تھی وہ ایک ایک کتاب کو نکال کر دیکھ رہی تھی مگر اسے اب تک وہ کتاب ملی ہی نہیں تھی جس کی اسے چاہ تھی
حریم نے دوسری رو میں چیک کرنے کا سوچا اور دوسری طرف چلی گئی وہاں لائن سے بہت سی کتابیں رکھیں تھیں جو اس ہی کتاب سے ریلیٹڈ تھیں حریم کو امید ہونے لگی جیسے اس رو میں وہ کتاب اسے بآسانی مل جائے گی
اتفاق سے اس رو کے مخالف شاویز بھی کوئی کتاب ڈھونڈ رہا تھا حریم کی نظر ایک کتاب پر گئی ایک خوبصورت مسکراہٹ اس کے بھرے بھرے گالوں کو مسکرا گئی وہ جلدی سے اس جانب بڑی جیسے ہی اس نے کتاب کو چھوا دوسری طرف سے وہ کتاب کوئی اور نکال چکا تھا
ایک دم سے حریم کا چہرہ اداس ہوگیا لیکن جب کتاب نکالنے والے کی شکل نظر آئی تو حیران رہ گئی جبکہ دوسری طرف شاویز کا بھی کچھ ایسا ہی حال تھا
“حریم جی آپ؟؟”
حریم نے جلدی سے نظریں جھکائیں اور وہاں سے جانے لگی جبکہ شاویز جلدی سے اس رو سے نکل کر اس کی طرف بڑھا
“حریم جی پلیزز بات سنیں”
شاویز نے بڑی نرمی سے کہا مگر وہ چلتی گئی مجبور آکر شاویز نے اس کا ہاتھ پکڑ کر اسے روکنا چاہا جس سے وہ اچانک سے اس کے سینے سے لگی
وہ معصوم سا لڑکا جس کے سینے سے لگی لڑکی اس وقت ڈول لگ رہی تھی حریم نے اس کی آنکھوں میں دیکھا جو اپنی ہلکی براؤن آنکھوں سے اسے دیکھ رہا تھا
“حریم جی کیوں بھاگتی ہیں آپ مجھ سے؟؟ کیا آپ وہی حریم ہیں جن سے میں پہلی بار ملا تھا؟؟”
شاویز کی بات پر حریم نے اپنے ہاتھ کی طرف دیکھا جو اب بھی شاویز کی گرفت میں تھا شاویز نے جلدی سے اس کا ہاتھ چھوڑا
“جب چھوڑنا ہی ہو تو ہاتھ تھاما نہیں کرتے”
حریم نے زومعنی الفاظ میں کہا جس پر شاویز نا سمجھی سے اسے دیکھنے لگا وہ واپس مڑنے لگی
“حریم جی پلیز ایک بار بات تو سن لیں میری”
“کیا کہنا چاہتے ہو؟؟”
حریم نے سخت لہجے سے پوچھا ابھی شاویز کچھ کہتا جب وہاں کا گارڈ انہیں خاموش رہنے کا اشارہ کرنے لگا
“حریم جی ہم کہیں بیٹھ کر بات کریں پلیز؟؟”
شاویز کی بات پر حریم خاموش ہوگئی جس پر شاویز سمجھ گیا وہ رضامند ہے شاویز نے اسے باہر چلنے کا اشارہ کیا لائبریری کے سامنے ہی ایک کیفے تھا جہاں وہ دونوں جا کر بیٹھے تھے
“حریم جی کیا آپ ناراض ہیں؟؟”
“میں کیوں ناراض ہوؤں گی تم سے؟؟ تم کون لگتے ہو میرے؟؟”
اس نے سپاٹ لہجے میں کہا جس پر شاویز نے نظریں جھکائیں واقعی وہ اس کا کچھ بھی تو نہیں تھا
“لیکن پھر آپ مجھ سے خفا ہیں اس کی وجہ کیا ہے؟؟ آپ نے کل جو کچھ کہا تھا وہ…”
“وہ سچ ہی تو تھا…کیوں؟؟ برداشت نہیں ہوا تم سے؟؟”
اس کے آدھے الفاظ منہ میں رہ گئے جب وہ تلخ کلامی پر آئی شاویز نہ سمجھی سے اسے دیکھنے لگا وہ آج کتنا غصہ کر رہی تھی
“آپ نے مجھ سے ایسا کیوں کہا تھا کہ میں آپ کے یتیم خانے والی بات پر آپ سے دور رہتا ہوں دوستی نہیں کرتا؟؟”
“ہاں تو اور کیا بات ہو سکتی ہے پھر؟؟ یونی میں اس لئے ہی تو میرا ایمیج گرا ہوا ہے کہ میں ایک یتیم لڑکی ہوں”
حریم کی آنکھوں میں وہ نمی دیکھ چکا تھا حریم نے آنکھیں میچیں تو آنسوں اس کے رخسار پر بہنے لگے شاویز حیران تھا اس کے رونے سے آخر کیوں شاویز کو تکلیف محسوس ہورہی تھی
“آنسوں صاف کریں اور دھیان سے میری بات سنیں”
شاویز نے اپنی جیب سے ٹیشو نکال کر اس کی طرف بڑھایا جسے تھام کر وہ اپنے رخسار صاف کرنے لگی اس کی چھوٹی سی ناک سرخ ہوگئی تھی شاویز کو وہ اس وقت ایک چھوٹی سی بچی ہی لگ رہی تھی
“حریم جی میرا یقین کریں میں آپ کے بارے میں کچھ بھی نہیں جانتا، آپ کون ہیں کہاں رہتی ہیں کہاں سے آئی ہیں آپ کا ماضی کیا ہے، کچھ بھی نہیں”
شاویز کا لہجہ انتہائی نرم تھا جس پر حریم اس کی جانب دیکھنے لگی
“انفیکٹ مجھے تو یہ بات آپ ہی کے منہ سے پتا چلی تھی کہ آپ پہلے یتیم خانے میں رہتی تھیں آئی ایم سوری مجھے بار بار کہنا پڑ رہا ہے لیکن واقعی میں اس بارے میں کچھ بھی نہیں جانتا تھا”
وہ خاموش رہی
“مجھے تو آپ کی دوست نے آج آپ کے بارے میں سب کچھ بتادیا ہے”
شاویز کی بات پر وہ اسے حیرت سے دیکھنے لگی
“کک کونسی دوست؟؟”
“نام نہیں یاد لیکن وہ جو اس دن لیکچر میں آپ سے باتیں کر رہی تھیں وہ، انہوں نے آج خود بہت انسس کر کے آپ کا ماضی بتایا اور مجھے سن کر بہت دکھ ہوا، بٹ ٹرسٹ می میرا ایسا کوئی ارادہ نہیں جیسا آپ سمجھ رہی تھیں”
شاویز کی بات سن کر ایک دکھ بھری مسکراہٹ اس کے لبوں پر آئی
“اوہ تو میرا ماضی سب کو بتانے والی میری اپنی ہی دوست نکلی”
حریم کی بات پر وہ خاموش ہوا
“تو کیا اب میں یہ پوچھ سکتی ہوں آپ مجھ سے دوستی کیوں نہیں کرنا چاہتے؟؟”
حریم نے سوالیہ نظروں سے اسے دیکھا جس پر شاویز نے نظروں کا رخ بدلہ
“دیکھیں حریم آپ ایک بہت اچھی لڑکی ہیں اور میرا نہیں خیال کہ کوئی بھی شخص آپ سے دوستی کے لئے انکار کرے گا لیکن مجھے لڑکا لڑکی کا دوست بننا مناسب نہیں لگتا، اس لئے میں سب سے دور رہتا ہوں خاص کر لڑکیوں سے”
“آئی نو، تو میں آج بھی نہ سمجھوں”
حریم کی بات پر اس نے نظریں جھکائیں جس پر حریم نے اپنا بیگ اٹھایا اور وہاں سے چلی گئی جبکہ شاویز اسے روکنے کے بجائے جاتا دیکھ رہا تھا اس نے اسے جانے دینا ہی مناسب سمجھا تھا کیونکہ جو وہ چاہتی تھی ویسا کبھی بھی نہیں ہو سکتا تھا
☆★☆★☆★☆
جب اس نے وہاں گاڑی روکی تو بائیں جانب ضوریز کی کھٹارا گاڑی اور بائیک کھڑی ہوئی تھیں ائیزل نے اپنی جیکٹ ٹھیک کی اور چشمہ لگاتے ہوئے اسے کال کرنے لگی جو کہ فرسٹ رنگ پر ہی اٹینڈ کرلیا گیا
“گاڑی کو میری گاڑی کے پاس پارک کر کے ساتھ بنے لکڑی کے دروازے سے اندر آجاؤ”
ابھی وہ کچھ کہتی جب ضوریز نے اپنی بات مکمل کر کے فون بند کردیا ائیزل کی نظر اس کی گاڑی کے پیچھے بن بڑے لکڑی کے دروازے پر گئی جس کا باقی کا حصہ پیچھے درختوں میں چھپا ہوا تھا
وہ گاڑی پارک کر کے بیگ ٹنگائے اس لکڑی کے دروازے کو کھول کر اندر چلی گئی جب اندر گئی تو سامنے دو راستے تھے ایک سیدھا جارہا تھا اور دوسرس نیچے کی جانب سیڑھیوں سے جارہا تھا ائیزل کو سامنے سے آوازیں آنے لگیں اس لئے وہ سامنے چلی گئی
ایک کمرہ تھا جہاں سے کسی کے پڑھنے کی آوازیں سنائی دے رہی تھیں جیسے وہاں کوئی ٹیوشن پڑھایا جارہا ہو ائیزل اس کمرے کی جانب بڑھی مگر جب اندر کی طرف نظر گئی تو جیسے حیران رہ گئی
اس کے کلاس فیلوز وہاں بیٹھے تیز تیز آواز میں پڑھ رہے تھے جبکہ سامنے دیوار پر بلیک بورڈ لگا ہوا تھا جس کی طرف رخ کئے کھڑا وہ میتھ کے سوال سولف کرنے میں مصروف تھا
“کم ہیئر ائیز”
اس نے ایک نظر پیچھے دیکھا جہاں وہ کھڑی بے یقینی سے اسے ہی دیکھ رہی تھی اب اس کی بات پر اندر آئی بہت ساری سیٹیں لگیں ہوئی تھیں جس پر ائیزل سب سے آگے والی سیٹ پر آ بیٹھی
“سو اگر اس کا لوگ نکالا جائے تو آنسر کیا آئے گا؟؟”
ضوریز نے سب کی طرف متوجہ ہوکر سوال کیا جس پر سب ضوریز کی طرف سوالیہ نظروں سے دیکھنے لگے
“26.07”
ضوریز نے ہاتھ میں موجود بورڈ مارکر سے آنسر لکھا جس پر سب تالیاں بجانے لگے مگر ائیزل اب تک بے یقینی سے یہ سب دیکھ رہی تھی وہ صورتحال کو سمجھنے کی کوشش کر رہی تھی
“سو گائیز جلدی اس والے سوال کو سمجھ لو تاکہ نیکسٹ سوال کی باری آئے اوکے”
“اوکے سر”
سب نے یک زبان ہوکر کہا جس پر ضوریز یک طرفہ مسکراہٹ پاس کرتا ہوا اب ائیزل کی طرف متوجہ ہوا اور اس کے مخالف آ بیٹھا
“یہ سب کیا ہورہا ہے؟؟ کیا تم نے اسٹوڈینٹس کو لوٹنا شروع کردیا؟؟”
ائیزل کی بات پر وہ ہنسنے لگا جس پر ائیزل سوالیہ نظروں سے اسے دیکھنے لگی
“میڈم میں صرف تاش کھیلتے وقت لوٹا ماری کرتا ہوں، جہاں بات اسٹڈی کی آئے نو دو نمبری…انڈرسٹینڈ…!!!”
وہ اسے سمجھاتا ہوا اس کے ہاتھ سے بیگ لیکر کھولنے لگا
جس میں سے کتاب نکالتے وقت سگریٹ کی ڈبی ضوریز کی گود میں گری
“واؤ انتظام کر کے آئی ہو”
ضوریز نے ڈبی کو اچھالتے ہوئے واپس اس کے بیگ میں رکھا اور بک کھولنے لگا
“یہ تم واقعی بچوں کو ٹیوشن پڑھانے لگ گئے ہو؟؟ جسے خود کچھ نہیں آتا وہ کیسے کسی کو پڑھا سکتا ہے؟؟”
“ایکس کیوزمی ماسٹرز کیا ہوا ہے میں نے میڈم…”
ضوریز نے ایک اسٹائل سے کہا جس پر وہ پھٹی پھٹی آنکھوں سے اسے دیکھنے لگی
“کیا تم مذاق کر رہے ہو ؟؟”
“نہیں.”
بڑی آہستگی سے جواب دیتا ہوا وہ اس کی بک کی طرف متوجہ تھا
“اگر واقعی ماسٹرز ہو تو ایسے غنڈے موالی والے حلیے میں کیوں گھومتے ہو؟؟”
“البتہ غنڈا تو نہیں لیکن چرسی موالی تو ہوں نہ”
“آئی مین جاب نہیں کرتے کہیں؟؟”
ائیزل نے اسے سرتا پیر دیکھا اس کے چہرے پر ایک طرف کل والی چوٹ کے نشان تھے اور نچلے ہونٹ پر بھی ہلکا سا نشان نمایا تھا ہلکے سنہرے بکھرے ہوئے بال ساتھ گلے میں اس کا وہ مخصوص لاکٹ انگلیوں میں انگوٹھیاں، بلیو شرٹ جس پر بلیک اپر بلیک ہی پینٹ وائٹ جوگرز وہ خود کسی اسٹوڈینٹ سے کم نہ لگ رہا تھا
“جاب واب نہیں کرتا میں کہیں”
“یہ کہو نہ کہ ایسے حلیے کی وجہ سے تمہیں کوئی جوب نہیں دیتا”
وہ تنزیہ مسکراتی ہوئی اس کا دھیان اپنی طرف کرنے پر مجبور کر گئی وہ اسے ائیبرو اچکائے گھورنے لگا
“لسن میڈم، تمہارے سامنے ریز درانی ہے، جس نے کبھی ری جیکٹ ہونا نہیں سیکھا سمجھیں نہ، اور ویسے بھی جاب میں خود نہیں کرتا اپنی مرضی سے، کیونکہ مجھے کسی کے انڈر میں کام کرنا نہیں پسند، سخت نفرت ہوتی ہے مجھے لوگوں کا حکم سن کر”
ضوریز کی بات پر وہ بہت حیران ہوئی ویسے تو وہ واقعی دو نمبر آدمی بنا پھرتا تھا لیکن باتیں اس کی کسی سلطنت کے شہزادے جیسی ہوتی تھیں بس یہی وجہ تھی جو وہ سب سے الگ ہی لگتا تھا اس کا ایک اپنا انداز تھا جو اسے کہیں نہ کہیں خاص ظاہر کرتا تھا
جاری ہے
